17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 17:59–60

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور آیات بھیجنے سے ہمیں صرف یہی بات مانع ہے کہ پہلے لوگ اس کی تکذیب کرچکے ہیں اور ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی دی تھی جو بصیرت کا ذریعہ تھی سو انہوں نے اس کے ساتھ ظلم کا معاملہ کیا اور ہم آیات کو صرف ڈرانے کے لئے بھیجا کرتے ہیں۔

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

اور جب ہم نے آپ سے کہا بلاشبہ آپ کا رب سب لوگوں کو محیط ہے اور ہم نے جو دکھلاوا آپ کو دکھلایا اور وہ درخت جسے قرآن میں ملعون بتایا یہ دونوں چیزیں صرف اس لئے تھیں کہ لوگوں کو آزمائش میں ڈالا جائے اور ہم انہیں ڈراتے ہیں یہ ڈرانا ان کی سرکشی میں اضافہ ہی کرتا ہے۔

1:۔ احمد، نسائی، بزار، ابن جریر، ابن منذر، طبرانی، حاکم، ابن مردویہ، بیہقی نے دلائل اور ضیاء نے مختارہ میں (حاکم نے تصیحح بھی فرمائی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ والوں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ ان کے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دیجئے اور یہ کہ ان سے پہاڑ ہٹ جائیں تو وہ کھیتی باڑی کریں اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی بھیجی اگر آپ چاہیں تو میں ان کو مہلت دے دوں اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کا سوال پورا کردوں لیکن اگر یہ ایمان نہ لائے تو میں ان کو ہلاک کردوں گا جیسے ان سے پہلی امتیں ہلاک ہوئیں آپ نے فرمایا نہیں (ان کا مطالبہ پورا نہ کریں) بلکہ ان کو مہلت دیجئے تو اس پر (یہ آیت نازل ہوئی) ” وما منعنا ان نرسل بالایت الا ان کذب بہا الاولون “۔ 2:۔ احمد اور بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش نے نبی کریم ﷺ سے کہا ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہمارے لئے صفا پہاڑی کو سونے کا بنا دے تو ہم تیرے اوپر ایمان لے آئیں گے آپ نے فرمایا واقعی تم ایسا کرو گے (یعنی ایمان لے آوگے) انہوں نے کہا ہاں آپ ﷺ نے دعا فرمائی تو جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا آپ کے رب آپ کو سلام فرماتے ہیں اور آپ سے فرماتے ہیں اگر آپ چاہیں کہ میں صفا پہاڑ کو سونے کا بنادوں لیکن پھر جس نے اس کے بعد انکار کیا تو میں اس کو ایسا عذاب دوں گا جو میں تمام جہاں میں سے کسی کو ایسا عذاب نہ دیا ہوگا اور اگرچہ میں ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دوں آپ نے فرمایا توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دیں۔ 3:۔ بیہقی نے دلائل میں ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا اگر آپ ہمارے پاس کوئی نشانی لے آئیں جیسے صالح اور دوسرے نبی لائے تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں تو وہ تم پر نشانی نازل فرما دے اگر پھر تم نے نافرمانی کی تو تم ہلاک ہوجاؤ گے ان لوگوں نے کہا ہم نشانی نہیں چاہتے۔ 4:۔ ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ مکہ والوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا اگر یہ بات سچی ہے جو تو کہتا ہے اور یہ بات تجھ کو خوش (اچھی) لگے کہ ہم ایمان لے آئیں تو تو ہمارے لئے صفا پہاڑی کو سونے کا بنا دیجئے جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا آپ اگر چاہیں تو میں تیری قوم کے سوال کو پورا کردوں لیکن اگر یہ ایمان نہ لائے تو مہلت نہیں دیئے جائیں گے اور اگر آپ چاہیں تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے میں تیری قوم کو مہلت دے دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا میری قوم کو مہلت دیجئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” وما منعنا ان نرسل بالایت الا ان کذب بہا الاولون “۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی نازل فرمایا (آیت) ” ما امنت قبلہم من قریۃ اھلکنھا افھم یومنون “ 5:۔ ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما منعنا ان نرسل بالایت الا ان کذب بہا الاولون “۔ سے مراد ہے کہ اے امت ! تمہارے لئے نشانیوں کا نہ اترنا رحمت ہے اگر ہم نشانیوں کو بھیجتے اور تم اس کو جھٹلاتے تو تم کو وہی عذاب پہنچ جاتا جو تم سے پہلے لوگوں کو پہنچا تھا۔ خاص معجزہ کے جھٹلانے پر عذاب آتا ہے : 6:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ کسی بستی والوں پر کوئی نشانی نہیں اتری مگر پھر جب انہوں نے اس کو جھٹلادیا تو ان کو عذاب دیا گیا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” واتینا ثمود الناقۃ مبصرۃ “ (یعنی ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی واضح نشانی دی تھی مگر پھر بھی وہ ایمان نہ لائے) 7:۔ ابن منذر اور ابوالشیخ نے عظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نرسل بالایت الا تخویفا “ میں تخویفا سے مراد ہے موت۔ 8:۔ سعید بن منصور، احمد نے زہد میں، ابن ابی الدنیا نے ذکر الموت میں، ابن جریر اور ابن منذر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نرسل بالایت الا تخویفا “ میں تخویفا سے مراد ہے پھیلنے والی موت۔ 9:۔ ابن ابی داود نے بعث میں قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نرسل بالایت الا تخویفا “ کہ اس سے موت مراد ہے۔ 10:۔ ابن جریر نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” وما نرسل بالایت الا تخویفا “ کے بارے میں فرمایا کہا اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اپنی آیات سے ڈرایا تاکہ وہ اس کی رضا چاہیں یا اس کا ذکر کریں یا رجوع کریں ہم کو یہ بھی ذکر کیا گیا کہ کوفہ میں ایک مرتبہ زلزلہ آیا ابن مسعود ؓ کے زمانے میں تو انہوں نے فرمایا اے لوگو ! تمہارا رب تم سے رضا مندی کو طلب فرما رہے ہیں سو تم ان کو راضی کرلو۔ 11:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس “ سے مراد ہے کہ (اللہ تعالیٰ ) آپ لوگوں کو بچائیں گے۔ 12:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس “ سے مراد ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں (ان سے بھاگ نہیں سکتے) 13:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ ان ربک احاط بالناس “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو گھیر رکھا ہے اور وہ تجھ کو ان سے بچائے اور محفوظ کرنے والا ہے یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیں۔ 14:۔ عبدالرزاق، سعید بن منصور، احمد، بخاری، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم، ابن مردویہ، اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ وما جعلنا الرءیا التی ارینک الا فتنۃ اللناس “ میں اس رویا سے مراد ہے آنکھ کا دیکھنا رسول اللہ ﷺ کو معراج کی رات میں بیت المقدس دکھایا اور یہ خواب نہیں تھا اور (آیت) ” الشجرۃ الملعونۃ ‘ سے زقوم کا درخت مراد ہے۔ 15:۔ سعید بن منصور نے ابومالک (رح) سے (آیت ) ’ ’ وما جعلنا الرءیا التی ارینک “ کے بارے میں فرمایا کہ الرویا سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو بیت المقدس کے راستے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو دکھائیں۔ 16:۔ ابن سعد، ابویعلی، اور ابن عساکر نے ام ہانی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو جب رات کو معراج کرائی گئی تو آپ نے صبح کو قریش کی ایک جماعت کو ( یہ واقعہ) بیان فرمایا تو انہوں نے مذاق اڑایا اور انہوں نے آپ سے کوئی نشانی طلب کی آپ نے ان کو بیت المقدس کی (پوری) کیفیت بیان فرمادی اور ان کو قافلہ کا واقعہ بھی بتایا ولید بن مغیرہ کہنے لگا یہ جادوگر ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ آیت اتاری (آیت ) ’ ’ وما جعلنا الرءیا التی ارینک الا فتنۃ اللناس “ 17:۔ ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن منذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے صبح کو ان کے سامنے معراج کا سفر بیان کیا تو لوگوں نے اس کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جو مرتد ہوگئے تھے کہ (آیت ) ’ ’ وما جعلنا الرءیا التی ارینک الا فتنۃ اللناس “۔ 18۔ ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ سب کچھ ہے جو آپ نے معراج کی رات بیت المقدس میں دیکھا۔ 19:۔ ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ وما جعلنا الرءیا التی ارینک الا فتنۃ اللناس “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو بیت المقدس کے سفر میں مختلف نشانیاں اور عبرت انگیز چیزیں دکھائیں ہم کو یہ بھی ذکر کیا گیا کچھ لوگوں نے اس کا انکار کیا اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہوگئے جب ان کو رسول اللہ ﷺ نے معراج کے حالات سنائے تو انہوں نے آپ کو جھٹلایا اور اس واقعہ سے تعجب کیا اور کہنے لگے کیا تو ہم کو بیان کرتا ہے کہ تو رات کو چلا اور دو ماہ کی مسافت ایک ہی رات میں طے کرلی۔ 20:۔ ابن جریر نے سہل بن سعد (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فلاں کے بیٹوں کو دیکھا کہ وہ آپ کے منبر پر بندر کے کودنے کی طرح کود رہے ہیں آپ نے اس کو برا جانا آپ مرتے دم تک (کبھی) نہیں ہنسے اور اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) اتاری ’ ’ وما جعلنا الرءیا التی ارینک الا فتنۃ اللناس “ 21:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے بنوامیہ کو زمین کے منبروں پر بندروں کی طرح کودتے دیکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی (آیت ) ’ ’ وما جعلنا الرءیا التی ارینک الا فتنۃ اللناس والشجرۃ الملعونۃ “ سے مراد حکم اور اس کی اولاد ہے۔ 22:۔ ابن ابی حاتم نے یعلی بن مرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے بنو امیہ کو زمین کے منبروں پر دیکھا ہے اور عنقریب وہ تمہارے مالک ہوں گے اور تو ان کو ارباب سوء پاؤ گے اور اس سے رسول اللہ ﷺ غمگین ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت ) ’ ’ وما جعلنا الرءیا التی ارینک الا فتنۃ اللناس۔ 23:۔ ابن مردویہ نے حسن بن علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ صبح کو غمگین تھے پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ کیا بات ہوئی (آپ غمگین ہیں ؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا میں نے نیند میں دیکھا ہے گویا بنوامیہ میرے اس منبر تک باری باری آرہے ہیں کہا گیا یا رسول اللہ ! آپ غمگین مت ہوں بلاشبہ یہ دنیا ہے جو ان کو پہنچے گی تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت ) ’ ’ وما جعلنا الرءیا التی ارینک الا فتنۃ اللناس۔ بنوامیہ کا خواب میں آنا : 24:۔ ابن ابی حاتم ابن مردویہ بیہقی نے دلائل میں اور ابن عساکر نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ (خواب میں) بنو امیہ کو منبروں پر دیکھا تو آپ کو اس پر بہت پریشانی ہوئی اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ بلاشبہ وہ دنیا ہے جو میں نے ان کو عطا کروں گا اور اللہ تعالیٰ کے اس قول سے آپ کی آنکھوں کو سکون مل گیا یعنی (آیت ) ’ ’ وما جعلنا الرءیا التی ارینک الا فتنۃ اللناس۔ یعنی یہ آزمائش لوگوں کے لئے۔ 25:۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے مروان بن الحکم سے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اور تیرے باپ کو اور تیرے دادا کو کہتے ہوئے سنا کہ تم قرآن میں شجرہ ملعونہ ہو ” (آیت) ” انکم والشجرۃ الملعونۃ فی القران “۔ 26:۔ ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ نے (آیت ) ’ ’ وما جعلنا الرءیا التی ارینک الا فتنۃ اللناس کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے (خواب میں) دیکھا کہ وہ اور ان کے صحابہ ؓ مکہ میں داخل ہورہے ہیں اور اس دن آپ مدینہ منورہ میں (رہتے) تھے (یہ خواب دیکھ کر) وقت مقرر سے پہلے آپ مکہ مکرمہ کی طرف چل دیئے مشرکین نے آپ کو لوٹا دیا تو لوگوں نے کہا آپ کو لوٹا دیا گیا تو لوگوں نے کہا آپ کو لوٹا دیا گیا حالانکہ آپ نے ہم کو بتایا تھا کہ وہ عنقریب اس میں داخل ہوں گے اور آپ کا لوٹنا (مکہ میں داخل ہوئے بغیر) لوگوں کے لئے فتنہ تھا۔ 27:۔ ابن اسحاق ابن ابی حاتم ابن مردویہ اور بیہقی نے بعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے زقوم کے درخت کا ذکر فرمایا ان کو ڈارتے ہوئے تو ابوجہل نے کہا قریش کی جماعت کیا تم جانتے ہو کہ زقوم کیا ہے ؟ جس سے تم کو محمد ﷺ ڈراتے ہیں قریش نے کہا نہیں (ہم نہیں جانتے) وہ کھجور ہے، عجوہ جو مکھن کے ساتھ کھائی جاتی ہے اللہ کی قسم اگر ہم کو زقوم مل جائے تو ہم اسے ضرور کھائیں گے تو اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت) ” ان شجرۃ الزقوم “ (الدخان : آیت 44) اتاری اور یہ بھی اتارا (آیت) ” والشجرۃ الملعونۃ فی القران “ (الآیۃ) 28:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے (آیت) ” والشجرۃ الملعونۃ فی القران “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ زقوم کا درخت ہے جس سے ڈرایا گیا ابوجہل نے کہا کیا ابن ابی کبثہ مجھے زقوم کے درخت سے ڈرتا ہے ؟ پھر اس نے کجھور اور مکھن منگوایا اور وہ کہہ رہا تھا مجھے زقوم کھلاؤ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” طلعھا کانہ رءوس الشیطین “ (الصافات : 65) اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی نازل فرمایا (آیت) ” ونخوفہم فما یزیدھم الا طغیانا کبیرا “۔ 29:۔ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والشجرۃ الملعونۃ “ سے مراد ہے کہ (وہ درخت) لعنت کیا ہوا ہے کیونکہ ” (آیت) ” طلعھا کانہ رءوس الشیطین “ کہ اس کے گابھے شیطان کے سروں کی طرح ہیں۔ 30:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” ونخوفہم “ یعنی شجرہ ملعونہ سے مراد ابوجہل ہے (آیت) ” فما یزیدھم “ یعنی ابوجہل کو نہ بڑھایا اس ڈرانے نے مگر (آیت) ” الا طغیانا کبیرا “ مگر یہ کہ زیادہ سرکشی کرنے لگا۔
Ayahs 17:61–65

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کرلیا مگر ابلیس نے نہیں کیا، وہ کہنے لگا کہ میں اسے سجدہ کروں جسے آپ نے کیچڑ سے بنایا ہے

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

اس سے کہا کہ آپ ہی بتائیے یہ جسے آپ نے مجھ پر فوقیت دی ہے اگر آپ نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دی تو میں تھوڑے سے افراد کے علاوہ اس کی پوری ذریت کو اپنے قابو میں کرلوں گا۔

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

فرمایا جا ان میں سے جو کوئی شخص تیرے پیچھے چلے گا تو تم سب کی جزا جہنم ہے جو پوری سزا ہوگی

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

اور ان میں سے جس پر تیرا قابوا چلے اپنی پکار سے ان کے قدم اکھاڑ دینا اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھالانا اور ان کے اموال اور اولاد میں اپنا ساجھا کرلینا اور ان سے وعدے کرنا، اور شیطان ان سے جو وعدہ کرتا ہے وہ صرف دھوکہ ہی ہوتے ہیں۔

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

بلاشبہ میرے بندوں پر تیرا زور نہ چلے گا اور آپ کا رب کار ساز ہونے کے لئے کافی ہے۔

1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ابلیس نے آدم (علیہ السلام) پر حسد کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت عطا فرمائی تھی اور اس نے کہا میں آگ میں سے ہوں اور یہ مٹی میں سے ہیں پس گناہوں کا آغاز تکبر سے ہوا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس نے کہا آد م (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا اور مٹی سے کمزور پیدا کیا گیا اور میں آگ سے پیدا کیا گیا اور آگ ہر چیز کو جلا دیتی ہے (پھر کہنے لگا) (آیت) ” لاحتنکن ذریتہ الا قلیلا “ یعنی میں اس کی اولاد کو جڑ سے اکھیڑ پھینکوں گا اور اس کا گمان ان پر سچا نکلا۔ 3:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لاحتنکن ذریتہ “ سے مراد ہے کہ میں ان پر مکمل غلبہ کروں گا۔ 4۔ ابن جریر، ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لاحتنکن ذریتہ “ سے مراد ہے کہ میں ضرور ان کو مکمل طور پر پر گھیر لوں گا۔ 5:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لاحتنکن ذریتہ الا قلیلا “ یعنی میں ان کو ضرور گمراہ کروں گا۔ 6:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” جزآء موفورا “ سے مراد ہے مکمل (پوری کی پوری) 7:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فان جھنم جزآوکم جزآء موفورا “ سے مراد ہے کہ اس کا عذاب پورا پورا کافر کو دیا جائے گا اس (عذاب) میں سے کچھ بھی ذخیرہ (بچا) بنا کر نہیں رکھا جائے گا۔ 8:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستفزز من استطعت منہم بصوتک “ یعنی ہر بلانے والے کی آواز جو اللہ کی نافرمانی کی طرف بلاتا ہے ” واجلب علیہم “ یعنی اللہ کی نافرمانی میں ہر سواری کرنے والا شیطان کا سپاہی ہے (آیت) ” وشارکہم فی الاموال “ یعنی ہر وہ مال جو اللہ کی نافرمانی میں خرچ ہو وہ شیطان کا مال ہے ’(آیت) ” والاولاد “ سے مراد ہے جو انہوں نے اپنی اولاد میں سے قتل کیا اور ان میں حرام کو لے آئے (یعنی زنا کی اولاد) یہ سب شیطان کی کارگزاری ہے۔ 9:۔ فریابی، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واجلب علیہم بخیلک ورجلک وشارکہم فی الاموال والاواد وعدہم “ سے مراد ہے ہر وہ گھوڑا جو اللہ نافرمانی میں چلتا ہے اور ہر وہ آدمی جو اللہ کی نافرمانی میں چلتا ہے اور ہر وہ مال جو ناحق حاصل کیا جاتا ہے اور ہر زنا کی اولاد یہ سب شیطان کے کام ہے۔ 10:۔ سعید بن منصور، ابن ابی الدنیا نے ذم الملاہی میں ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستفزز من استطعت منہم بصوتک “ سے مراد ہے غناء مزامیر (آلات موسیقی) اور باطل کے ذریعہ تو ان کو راہ راست سے ہٹانے اور ہدایت کے راستے سے اتارنے کی کوشش کرے (آیت) ” واجلب علیہم بخیلک ورجلک “ یعنی اللہ کی نافرمانی میں ہر سوار اور پیدل چلنے والا (آیت) ” وشارکہم فی الاموال والاولاد “ یعنی ہر مال جو اللہ کی اطاعت کے بغیر لیا جائے اور غیر حق میں خرچ کیا جائے اور اولاد سے مراد ہے زنا کی اولاد۔ 11:۔ ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وشارکہم فی الاموال والاولاد “ سے مراد ہے وہ اموال جو وہ اپنے جانوروں میں سے حرام کرتے تھے اور اولاد سے زنا کی اولاد مراد ہے۔ 12:۔ ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں میں روایت کیا کہ ان کا شریک بنانا مالوں میں یہ ہے کہ انہوں نے بحیرہ سائبہ اور وصیلہ اونٹنیاں غیر اللہ کے نام پر چھوڑ دی تھیں اور ان کا شریک بنانا اولاد میں یہ ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کے نام عبدالحارث عبد شمس رکھ دیئے۔ انسان پر شیطان کا تسلط : 13:۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے مرفوع حدیث میں روایت کیا کہ ابلیس نے کہا اے میرے رب ! تو نے مجھ پر لعنت کی ہے اور مجھے جنت سے نکالا آدم کی وجہ سے اور میں اس کی طاقت نہیں رکھتا مگر تیری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو (انسانوں پر) مسلط کیا گیا ہے ابلیس نے کہا اے میرے رب ! اور زیادہ کیجئے فرمایا (آیت) ” واجلب علیہم بخیلک ورجلک وشارکہم فی الاموال والاولاد “ 14:۔ بیہقی نے شعب میں اور ابن عساکر نے ثابت (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ ابلیس نے کہا کہ اے میرے رب آپ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور میرے اور اس کے درمیان دشمنی بنادی مجھے ان پر مسلط فرما اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کے سینے تیرے رہنے کی جگہیں ہیں ابلیس نے کہا اے میرے رب اور زیادہ دیجئے فرمایا آدمی کا ایک بچہ پیدا ہوگا اور تیرے دس بچے (پیدا) ہوں گے عرض کیا اے میرے رب ! اور زیادہ دیجئے فرمایا تو ان میں خون کے چلنے کی طرف چلے گا عرض کیا اے میرے رب اور زیادہ دیجئے فرمایا (آیت) ” واجلب علیہم بخیلک ورجلک وشارکہم فی الاموال والاولاد “ آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے ابلیس کے بارے میں شکایت کی اور عرض کیا اے میرے رب آپ نے ابلیس کو پیدا فرمایا اور میرے اور اس کے درمیان میں دشمنی رکھ دی اور بغض رکھ دیا اور مجھ پر اس کو مسلط کردیا اور میں کچھ بھی طاقت نہیں رکھتا مگر آپ کی مدد کے ساتھ فرمایا جو اولاد تیری پیدا ہوگی اس کی برے ساتھیوں سے حفاظت کے لئے اس پر دو فرشتوں کو مقرر کردوں گا عرض کیا اے میرے رب اور زیادہ کیجئے فرمایا تیری اولاد میں کسی کو توبہ سے محروم نہیں کروں گا جب تک اس کا سانس حلق تک نہیں پہنچتا۔ (واللہ اعلم )
Ayahs 17:66–69

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا رب وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیوں کو چلاتا ہے۔ تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔ بلاشبہ وہ تم پر مہربان ہے۔

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

اور جب تمہیں سمندر میں کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو اس کے علاوہ جن کو تم پکارتے ہو وہ سب غائب ہوجاتے ہیں، پھر وہ جب تمہیں خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے تو روگردانی کرتے ہو۔ اور انسان بڑا ناشکرا ہے۔

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

کیا تم اس بات سے بےفکر ہو کہ وہ تمہیں خشکی کی جانب میں لا کر زمین میں دھنسا دے۔ یا تم پر کوئی سخت آندھی بھیج دے جو کنکر برسانے والی ہو پھر تم اپنے لئے کسی کو کارساز نہ پاؤ گے۔

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

یا تم اس سے بےفکر ہو کر وہ تمہیں دوبارہ سمندر میں لوٹا دے۔ پھر تم پر ہوا کا سخت طوفان بھیج دے پھر تمہیں تمہارے لئے کفر کی وجہ سے غرق کردے۔ پھر تمہیں کوئی ایسا نہ ملے جو ہمارا پیچھا کرنے والا ہو۔

1:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” یزجی “ سے مراد ہے یجری یعنی چلتا ہے۔ 2:۔ عبدالرزاق ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عطاء خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یزجی لکم الفلک “ سے مراد کشتیوں کو تمہارے لئے سمندر میں چلاتا ہے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے عطاء خراسنی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الفلک “ سے مراد ہے کشتی۔ 4:۔ اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انہ کان بکم رحیما “ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی۔ 5:۔ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویرسل علیکم حاصبا “ یعنی پتھروں کی بارش۔ 6:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویرسل علیکم حاصبا “ یعنی پتھر آسمان سے (آیت ) ’ ’ ثم لا تجدوا لکم وکیلا “ میں وکیلا کے معنی ہے حفاظت کرنے والا اور دمدد کرنے (آیت) ” ام امنتم ان یعیدکم فیہ تارۃ اخری “ یعنی دوسری مرتبہ لے جائے تم کو سمندر میں۔ 7:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فیرسل علکم قاصفا من الریح “ یعنی ایسی سخت آندھی جو کشتیوں کو غرق کردے۔ 8:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ قاصف اور عاصف سمندر میں چلنے والی ہوائیں۔ 9:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قاصفا سے مراد ہے آندھی (اور فرمایا) (آیت) ” ثم لاتجدوا لکم علینا بہ تبیعا “ یعنی مدد کرنے والا۔ 10:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے رویت کیا کہ تبیعا سے مراد ہے انتقام لینے والا۔ 11:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم لاتجدوا لکم علینا بہ تبیعا “ سے مراد ہے کہ کوئی بھی ہمارے پیچھے آنے والا نہیں۔
Ayahs 17:70–72

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ ہم نے بنی آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی میں اور سمندر میں سوار کیا۔ انہیں عمدہ چیزیں عطا چیزیں عطا فرمائیں اور ہم نے انہیں اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی۔

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے سو جس کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا گیا سو وہ لوگ اپنا اعمال نامہ پڑھیں گے۔ اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ کیا جائے گا

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

جو شخص اس دنیا میں اندھا ہے اور وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ اور زیادہ راہ گم کردہ ہوگا

1:۔ طبرانی، بیہقی نے شعب میں اور خطیب نے تاریخ میں عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن بنو آدم سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ عزت والی نہ ہوگی پوچھا گیا یا رسول اللہ ! مقرب فرشتے بھی (زیادہ عزت والے نہ ہوں گے) فرمایا فرشتے تو سورج اور چاند کی طرح مجبور ہیں۔ 2:۔ بیہقی نے طریق آخر سے ابن عمر ؓ سے موقوفا روایت کیا کہ یہ روایت بھی صحیح ہے۔ 3:۔ بیہقی نے شعب میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ مومن اللہ کے نزدیک فرشتوں سے زیادہ عزت والا ہے۔ 4:۔ طبرانی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فرشتوں نے کہا اے ہمارے رب آپ نے بنو آدم کو دنیاعطا فرمائی وہ اس میں کھاتے ہیں اور پیتے ہیں اور پہنتے ہیں اور ہم صرف تیری تسبیح بیان کرتے ہیں اور نہ ہم کھاتے ہیں اور نہ پیتے ہیں اور نہ غافل ہوتے ہیں جس طرح ان کے لئے دنیا بنائی ہے تو ہمارے لئے آخرت بنا دیجئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں اس کی بیک اولاد کو میں ان کی طرح نہیں بناوں گا جس کو میں اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اس مخلوق کی طرح کہ جس کے لئے میں کہا ہوجاؤ پس وہ ہوگئی۔ 5:۔ عبدالرزاق ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 6:۔ ابن عساکر نے عروہ بن رویم کے طریق سے، انس بن مالک (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فرشتوں نے عرض کیا اے ہمارے رب آپ نے ہم کو پیدا فرمایا اور بنوآدم کو پیدا فرمایا آپ نے ان کو ایسا بنایا کہ وہ کھانا کھاتے ہیں اور پانی پیتے ہیں اور کپڑے پہنتے ہیں اور عورتوں کے پاس آتے ہیں اور جانوروں پر سواری کرتے ہیں اور نیند کرتے ہیں اور آرام کرتے ہیں اور ہمارے لئے آپ نے کوئی چیز نہیں بنائی (اس لئے) ان کے لئے دنیا بنادیجئے اور ہمارے لئے آخرت بنادیجئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے جس کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور اس میں روح کو پھونکا میں اسے اس مخلوق کی طرح نہیں بناوں گا جن کو میں کہا ہوجا پس وہ ہوگئی۔ 7:۔ بیہقی نے شعب میں عروہ بن رویم سے مرسلا نقل کی ہے۔ 8:۔ بیہقی نے الاسماء والصفات میں عروہ بن رویم انصاری کے طریق سے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور اسی طرح ذکر فرمایا کہ وہ گھوڑے پر سواری کرتے ہیں اور اس میں یہ ذکر نہیں کیا میں نے اس میں روح کو پھونکا۔ 9:۔ ابن منذر ابن ابی حاتم ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کرمنا بنی ادم “ سے مراد ہے کہ ہم نے اس طرح بنایا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے کھاتے ہیں اور ساری مخلوق اپنے منہ سے کھاتی ہے۔ 10:۔ حاکم نے تاریخ میں اور دیلمی نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت) ” ولقد کرمنا بنی ادم “ میں الکرامۃ سے مراد ہے انگلیوں سے کھانا۔ 11:۔ ابن ابی شیبہ نے عمر ؓ سے روایت کیا کہ جب کوئی آدمی کسی تکلیف میں مبتلا آدمی کو دیکھے تو یہ دعا پڑھے : الحمد للہ الذی عافانی مما ابتلاک بہ وفضلینی علی کثیر ممن خلقہ تفضیلا : ترجمہ : سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے عافیت عطا فرمائی اس تکلیف سے جس میں تجھے مبتلا کیا ہے اور تجھ پر مجھے فضیلت عطا فرمائی اور بہت سی مخلوق پر فضیلت عطا فرمائی۔ تو اللہ تعالیٰ اسکو اس تکلیف سے عافیت دیں گے خواہ وہ کوئی تکلیف ہو۔ 12:۔ ابونعیم اور بیہقی نے دلائل میں عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے سات آسمان پیدا فرمائے پھر انمیں بلند ترین جگہ کو چنا پھر اپنی مخلوق میں سے جسے چاہا اسے ٹھہرا یا پھر مخلوق کو پیدا فرمایا اس میں آدم کی اولاد کو چنا پھر آدم کی اولاد میں عرب کو چنا پھر عرب میں مضر (قبیلہ) کو چنا پھر مضر میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنوہاشم کو اور مجھے بنو ہاشم میں سے چنا اور میں سب بہتر لوگوں میں سے بہتر ہوں۔ 13:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یوم ندعوا کل اناس بامامہم “ سے مراد ہے ہم بلائیں گے تمام انسانوں کو اپنے امام کے ساتھ یعنی ہدایت کے امام گمراہی کے امام۔ 14:۔ ابن ابی حاتم ابن مردویہ اور خطیب نے تاریخ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یوم ندعوا کل اناس بامامہم “ میں امام سے مراد ان کا نبی ہے۔ 15:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) اسی طرح روایت کیا۔ 16:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یوم ندعوا کل اناس بامامہم “ یعنی ان کے اعمال کی کتاب کے ساتھ (یعنی اعمال نامے کے ساتھ) تمام لوگوں کو بلائیں گے۔ 17:۔ ابن مردویہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت) ” یوم ندعوا کل اناس بامامہم “ سے مراد ہے ہر قوم کو اپنے زمانے کے امام کے ساتھ پکارا جائے گا اور ان کے رب کی کتاب اور ان کے نبی کی سنت کے ساتھ (پکارا جائے گا) 18۔ ترمذی، بزار، ابن ابی حاتم، ابن حبان، حاکم اور ابن مردویہ، نے (ترمذی نے تحسین اور حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (آیت) ” یوم ندعوا کل اناس بامامہم “ کے بارے میں فرمایا ان میں ہر ایک کو بلایا جائے گا اور ان کا اعمال نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس کے لئے اس کے جسم میں اس کے چہرہ کی چمک ساٹھ ہاتھ بڑھا دی جائے گی اور اس کے سر پر چمکتے ہوئے نور کا تاج رکھاجائے گا وہ اپنے دوستوں کے پاس جائے گا اور وہ اس کو دور سے دیکھیں گے اور کہیں گے اے اللہ ہم کو بھی یہ عطا فرما اور ہمارے لئے اس میں برکت عطا فرما ئیے یہاں تک کہ وہ ان کے پاس پہنچ جائے گا پھر ارشاد ہوگا خوش خبری ہو تم میں ہر ایک کے لئے جو اس جیسا ہے اور کافر کا چہرہ سیاہ کردیا جائے گا اور آدم کی صورت پر اس کے جسم میں ساٹھ ہاتھ تاریکی بڑھا دی جائے گی اور اسے آگ کا تاج پہنایا جائے گا اور اس کے ساتھی اسے دیکھ کر کہیں گے ہم اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اے اللہ ہم کو یہ نہ عطا فرماوہ اپنے ساتھیوں کے پاس آئے گا تو وہ کہیں گے اے ہمارے رب اس کو ہم سے دور کردے اور وہ کہے گا اللہ تعالیٰ تم کو دور کردے کیونکہ تم میں سے ہر ایک آدمی کے لئے اسی طرح کا عذاب ہے۔ 19:۔ فریابی اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ اہل یمن میں سے ایک جماعت ابن عباس ؓ کے پاس تشریف لائی تو ایک آدمی نے ان سے سوال کیا اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ومن کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی “ کے بارے میں بتائے ابن عباس ؓ نے فرمایا تم کو اس مسئلہ کا علم نہیں ہے اس سے پہلی والی آیت پڑھ (آیت) ” ربکم الذی یزجی لکم الفلک فی البحر “ (سے لے کر یہاں تک پہنچے) (آیت) ” وفضلنہم علی کثیر ممن خلقلنا تفضیلا “ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جو شخص اندھا ہے ان نعمتوں سے جس کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تو وہ آخرت کے معاملہ میں بھی اندھا ہے جو نہیں دیکھی گئیں (آیت) ” واضل سبیلا “ یعنی جو اندھا ہے اور سیدھے راستے سے گمراہ ہے۔ 20:۔ ابن ابی حاتم نے اور ابوالشیخ نے عظمہ میں ابن عباس ؓ سے کہ (آیت) ” ومن کان “ یعنی دنیا میں (آیت) ” اعمی “ جو اندھا ہے آسمان زمین پہاڑ اور سمندر لوگ اور جانور اور اسی طرح کی اور اس کے مشابہ دوسری چیزوں کو دیکھنے سے (آیت) ” فھو “ (اور) (وہ اندھا ہے) ان چیزوں سے جو اس کے لئے بیان کردی گئیں آخرت میں اور اس نے ان کو نہیں دیکھا (آیت) ” اعمی واضل سبیلا “ (یعنی وہ اندھے ہیں اور راستے سے ہٹے ہوئے ہیں) اور وہ لوگ بہت دور ہیں دلیل کے لحاظ سے۔ 21:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص اندھا رہا دنیا میں اللہ کی قدرت (کا نظارہ) کرنے سے تو وہ آخرت میں اندھا ہوگا۔ 22:۔ ابوالشیخ نے عظمہ میں قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جو شخص اندھا رہا سورج چاند رات اور دن دیکھنے سے اور دوسری مختلف نشانیوں کے دیکھنے سے اور ان کو دیکھ کر قدرت الہیہ کی تصدیق نہیں کرتا اور جو اللہ کی نشانیاں ان سے غائب ہیں ان سے تو یہ زیادہ اندھا ہوگا۔
Ayahs 17:73–75

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا Open ayah 17:73 in the Quran reader

اور یہ لوگ آپ کو اس چیز سے ہٹانے ہی لگے تھے جس کی ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی۔ تاکہ آپ ہماری طرف اس کے علاوہ دوسری بات کی نسبت کردیں۔ اور اس صورت میں وہ آپ کو اپنا دوست بنا لیتے

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗۙ Open ayah 17:74 in the Quran reader

اور اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو قریب تھا کہ آپ ان کی طرف تھوڑے سے مائل ہوجاتے۔

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا Open ayah 17:75 in the Quran reader

اس وقت ہم آپ کی زندگی میں اور موت کے بعد دہرا عذاب چکھاتے پھر آپ ہمارے مقابلہ میں کوئی مددگار نہ پاتے۔

مشرکین کی آپ ﷺ کو فتنہ میں مبتلا کرنے کی کوشش : 1:۔ ابن اسحاق ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ امیہ بن خلف ابوجہل بن ہشام اور قریش میں سے کچھ اور لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے آپ آئے اور ہمارے معبودوں کے سامنے جھکیں اور ہم تیرے ساتھ دین میں داخل ہوجائیں گے رسول اللہ ﷺ پر اپنی قوم کی جدائی بہت بھاری گذری اور آپ ان کے اسلام لانے کو پسند فرماتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وان کادوا لیفتنونک “ سے لے کر ” نفیرا “ تک۔ 2:۔ ابن مردویہ نے کلبی کے طریق سے باذان سے اور انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے اسی طرح روایت ہے۔ 3:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ حجراسود کا بوسہ لیا کرتے تھے تو کافروں نے کہا ہم تجھ کو حجر اسود کے بوسہ کی اجازت نہ دیں گے یہاں تک کہ تو ہمارے معبودوں کا بوسہ نہ لیں رسول اللہ ﷺ نے سوچا کیا حرج ہوگا اگر میں ایسا کرلوں جب کہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں میں ان کا سخت مخالف ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” وان کادوا لیفتنونک “ سے لے کر ” نفیرا “ تک۔ 4:۔ ابنابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب طواف کرتے تھے تو مشرکین ان سے کہتے تھے ہمارے معبودوں کا بھی استلام کرو تاکہ تجھ کو تکلیف نہ دیں قریب ہے کہ آپ کرلیتے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” وان کادوا لیفتنونک “۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے جبیر بن نفیر (رح) سے روایت کیا کہ قریش نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور ان سے کہا اگر تو ہماری طرف بھیجا گیا ہے تو ان گھٹیا اور غلام لوگوں کو (غریب صحابہ کو) اپنی جماعت سے نکال دے تاکہ ہم تیرے اصحاب بن جائیں گے آپ ان کی طرف مائل ہونے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ (آیت) ” وان کادوا لیفتنونک “ (الآیہ ) ۔ 6:۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن قرظی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جب (آیت) ” والنجم اذا ھوی “ سورت نازل فرمائی اور رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت ” افرایتم اللت والعزی “ (النجم : 19) پڑھی گئی تو شیطان نے آپ کی کلام میں یہ دو کلمے داخل کرنے کی کوشش کی ” تلک الغرانیق العلی وان شفاعتھن لترتجی “ نبی کریم ﷺ نے جو سورة میں باقی تھا اس کو پڑھا اور سجدہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” وان کادوا لیفتنونک عن الذی اوحینا “ نازل فرمائی تو آپ ہمیشہ پریشان رہنے لگے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی “ (الحج 52) نازل فرمائی۔ 7:۔ ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قبیلہ ثقیف والوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا آپ ہمیں ایک سال کی مہلت دے دیں یہاں تک کہ ہمارے معبودوں کے لئے نذرانے اور ہدیے آجائیں جب ہم اپنے بتوں کے نذرانوں اور ہدیوں پر قبضہ کرلیں گے تو ہم اسلام قبول کرلیں گے اور اپنے بتوں کو توڑ دیں گے اور انہوں نے ارادہ کیا کہ ان کو مہلت دیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” وان کادوا لیفتنونک “ نازل فرمائی۔ 8:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ نے فرمایا (آیت) ” ضعف الحیوۃ وضعف الممات “ سے مراد ہے دنیا اور آخرت کا دگنا عذاب۔ 9:۔ بیہقی نے کتاب عذاب القبر میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ کہا (آیت) ” ضعف الحیوۃ “ سے مراد ہے قبر کا عذاب۔ 10:۔ بیہقی نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ضعف الممات “ سے مراد ہے قبر کا عذاب۔