Ayahs 17:6–8بنی اسرائیل کا زمین میں دو مرتبہ فساد پھیلانا :
160:۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے تو رات میں یہ عہد لیا کہ (آیت) ” لتفسدن فی الارض مرتین ولتعلن علوا کبیر “ (کہ تم ضرور فساد کروگے زمین میں دو مرتبہ) ان کا پہلا فساد یہ تھا کہ انہوں نے زکریا (علیہ السلام) کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نبط بادشادہ کو مسلط کردیا پھر اس نے لشکر بھیجے اور اس کے ایک ہزار شہسوار تیر انداز تھے فرمایا (آیت) ” فھم اولی باس ‘ یعنی بنی اسرائیل قلعہ بند ہوگئے اور ان میں بخت نصر یتیم بن کر نکلا اور وہ کھانا مانگنے نکلا اور اس نے نرم گفتگو کی یہاں تک کہ وہ شہر میں داخل ہوگیا وہ ان کی مجلسوں آیا اور وہ لوگ کہہ رہے تھے اگر ہمارا دشمن جان لے کہ ہمارے دلوں میں کتنا خوف ڈال دیا گیا ہے ہمارے گناہوں کی وجہ سے تو ہمارا دشمن ہم سے جنگ کا ارادہ ترک کردیں بخت نصر باہر نکلا جب اس نے یہ بات سنی تو اس نے سخت لشکر تیار کئے پس وہ لوٹ آئے اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت) ” فاذا جآء وعد اولھما بعثنا علیکم عبادا لنا اولی باس شدید “ (الآیۃ) پھر بنی اسرائیل نے تیاری کی اور نبط لوگوں سے جنگ کی کچھ ان میں سے مارے گئے اور جو کچھ سامان ان کے پاس تھا بنواسرائیل نے ان سے چھین لیا اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت) ” ثم رددنا لکم الکرۃ علیہم ”(الآیۃ)
161:۔ ابن عساکر نے تاریخ میں علی بن ابی طالب ؓ سے سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” لتفسدن فی الارض مرتین “ کے بارے میں روایت کیا کہ پہلا فساد ذکریا (علیہ السلام) کا قتل تھا اور دوسرا فساد یحی (علیہ السلام) کا قتل تھا۔
162:۔ ابن ابی حاتم نے عطیہ عوفی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لتفسدن فی الارض مرتین “ سے مراد ہے کہ انہوں نے پہلی مرتبہ فساد کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر جالوت کو مسلط کردیا جس نے ان کو قتل کیا اور دوسری مرتبہ انہوں نے فساد کیا جبکہ انہوں نے یحی بن زکریا (علیہما السلام) کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بخت نصر کو مسلط کیا۔
163:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی مرتبہ ان پر جالوت کو مسلط کیا وہ ان کے شہر میں داخل ہوگیا اور ان پر خراج اور ذلت کو لازم کیا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف ایک بادشاہ بھیج دیں کہ وہ اس کے ساتھ مل کر اللہ کے راستے میں جہاد کریں تو اللہ تعالیٰ نے طالوت کو ان کا بادشاہ بنایا اس نے جالوت کو قتل کیا اور بنی اسرائیل کی مدد کی اور جالوت داود (علیہ السلام) کے ہاتھوں قتل ہوا اور وہ بنی اسرائیل کی طرف لوٹا اور ان کا بادشاہ بنا پھر جب بنی اسرائیل نے فساد کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر دوسری مرتبہ بخت نصر کو بھیج دیا اس نے مساجد کو ویران کیا اور جس پر قابوپایا اسے برباد کردیا اسی کو فرمایا (آیت) ” ما علوا تتبیرا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کی پہلی اور دوسری تباہی کے بعد (آیت) ” عسی ربکم ان یرحمکم، وان عدتم عدنا “ فرمایا پھر وہ (دوبارہ فساد کی طرف) لوٹے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایمان والوں کو مسلط کردیا۔
164:۔ ابن ابی حاتم نے ابو ہاشم العبدی کے طریق سے ابن عباس ؓ نے فرمایا مشرق اور مغرب کے چار بادشاہ گزرے ہیں دو مومن تھے اور دو کافر تھے دو کافر بادشاہ فرخان اور بخت نصر تھے ابوھاشم بیان کرتے تھے کہ شام کا ایک نیک آدمی تھا پھر یہ آیت پڑھی (آیت) ” وقضینا الی بنی اسرآئیل “ سے لے کر ” علوا کبیرا “ تک اس شخص نے عرض کیا اے میرے رب پہلی مرتبہ کا تسلط تو مجھ سے فوت ہوگیا (میں اس کو نہ دیکھ سکا) اب مجھے دوسرا تسلط دکھائیے وہ اپنی نماز پڑھنے کی جگہ پر بیٹھا ہوا تھا کہ اونگھ سے اپنے سر کو ہلایا اس سے کہا گیا جس کے بارے میں تو نے سوال کیا ہے وہ بابل شہر میں ہے اور اس کا بخت نصر ہے آدمی نے پہچان لیا کہ میری دعا قبول ہوگئی ہے اس نے دنانیر کا ایک تھیلا اٹھایا اور چل پڑا یہاں تک کہ بابل پہنچ گیا فرخان کے پاس گیا اور اس کو کہا میں اس کو مال لے کر آیا ہوں اس کو مساکین کے درمیان تقسیم کردو بادشاہ نے سب کو جمع کیا پھر اس نے ان کو دینا شروع کیا اور ان سے ان کے نام بھی پوچھتا جاتا تھا یہاں تک کہ جب ان لوگوں میں سے فارغ ہوگیا جو حاضر تھے تو اس کو بتایا گیا کہ ان میں سے کچھ لوگ رسا تیق شہر میں باقی ہیں اس نے ایک نوجوان کو وہاں بھیجا یہاں تک کہ جب رات ہوئی تو وہ نوجوان لوٹ آیا اور ایک ایک آدمی کا نام اس کے سامنے پڑھا جب وہ بخت نصر کے نام پر آیا تو اس نے کہا ٹھہر جا تو نے کیسے کہا اس نے کہا بخت نصر پوچھا یہ بخت نصر کیسا ہے نوجوان نے کہا سب سے زیادہ غریب اور نادار اور بھوکا ہے وہ بیٹھا رہتا ہے اس کے پاس سے مسافر گذرتے ہیں کوئی ان میں سے اس کی طرف ٹکڑا پھینک دیتا ہے وہ اس کو اٹھا لیتا ہے شامی آدمی نے کہا مجھے اس کے پاس جانا ہے ایک دوسرے شخص نے کہا وہ اپنے خیمے میں ہے وہاں ہی باتیں کرتا ہے میں اس کے پاس جاوں گا اسے بوسہ دوں گا اور اسے غسل دوں گا اس نے کہا یہ دنانیر لے لو اس کو جا کردیے دنیا اس نے اس کو دنیردے دیے پھر وہ اپنے ساتھی کی طرف لوٹا اور شامی آدمی کے ساتھ آیا خیمہ میں داخل ہو کر پوچھا تیرا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا بخت نصر اس نے کہا کس نے تیرا نام بخت نصر رکھا کہا میری ماں نے میرا نام رکھا پوچھا کیا تیرا کوئی ہے اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم میں رات کو یہاں ڈرتا ہوں کہ مجھے بھیڑیا نہ کھاجائے پوچھا لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخت مصیبت کون ہے ؟ اس نے کہا میں شامی نے کہا تو بتا اگر تو کسی دن بادشاہ بن گیا تو مجھے ایسا بنا دے گا میری نافرمانی نہ کرے بخت نصر نے کہا تو میرا مذاق نہ بنا پھر اس نے کہا کیا تو ایسا کرے گا بخت نصر نے کہا میں ایسا نہیں کروں گا لیکن میں عنقریب تیرا ایسا اکرام کروں گا کہ کسی نے ایسا اکرام نہیں کیا ہوگا اس نے کہا تو اپنے دنانیر لے جا اور اپنے شہر چلا جا دوسرا اپنے پاوں پر سیدھا کھڑا ہوا پھر وہ چلا اور اس نے گدھا اور گلے میں ڈالنے والی رسیاں خریدی پھر عجم کے علاقوں میں خریدو فروخت کرتا رہا پھر اس نے کہا کب تک یہ تکلیف رہے گی پھر اس نے اس گدھے اور اس رسی کو بیچ دیا اور ایک اچھا لباس پہن لیا پھر وہ بادشاہ کے دروازہ پر آیا اور ان کو اپنی رائے کے ساتھ مشورہ دینا شروع کیا بادشاہ نے اس کی بڑی قدرو منزلت کی یہاں تک کہ وہ فرخان کے دربان تک پہنچ گئے فرخان نے اس سے کہا میرے لئے ایک آدمی کا ذکر کیا گیا جو تیرے پاس ہے وہ کیسا ہے ؟ بادشاہ نے کہا میں نے اس کی مثل کوئی نہیں دیکھ فرخان نے کہا اس کو مجھے دے دو اس نے اس بات کی تو بہت خوش ہوا فرخان نے کہا کہ بیت المقدس اور یہ شہر ہم پر فتح کرنا مشکل ہوگئے ہیں اور ہم ان پر کئی لشکر بھیج چکے ہیں اب میں ان شہروں کی طرف کچھ ایسے لوگ بھیجنے والا ہوں جو ان کا معاملہ پہنچائیں گے۔ اس وقت نے چالاک لوگوں کی طرف دیکھا اور ان کو جاسوس بنا کر بھیجا۔ جب وہ لوگ جدا ہوئے تو اچانک بخت نصر اپنے خچر پر تھیلے لاد رہا تھا پوچھا تو کہاں کا ارادہ رکھتا ہے اس نے کہا ان لوگوں کے ساتھ بادشاہ نے کیا کہ مجھے تکلیف نہیں دے گا تو میں تجھ کو ان پر لشکر کشی کے لئے بھیجوں گا اس نے کہا نہیں (میں تکلیف نہ دوں گا) یہاں تک کہ جب وہ اس زمین میں داخل ہوگئے تو اس نے کہا جدا جدا ہوجاؤ اور بخت نصر نے شہر والوں سے افضل آدمی کے بارے میں پوچھا اس کو بتایا گیا تو اس نے اپنی تھیلی اپنی جگہ رکھ دی مالک مکان سے کہا گیا تو مجھے خبر نہیں دے گا اپنے شہر کے رہنے والوں کے بارے میں وہ لوگ ایسی قوم ہے کہ ان میں (اللہ کی) کتاب موجود ہے جس پر وہ عمل نہیں کرتے ان میں انبیاء ہیں کہ ان کی اطاعت نہیں کرتے اور وہ فرقوں میں بٹے ہیں بخت نصر نے اس سے موجود ہے جس پر وہ عمل نہیں کرتے ان میں انبیاء ہیں کہ ان کی اطاعت نہیں کرتے اور وہ فرقوں میں بٹے ہیں بخت نصر نے اس سے تعجب کرتے ہوئے پوچھا کہ ان کے پاس کتاب ہے جس پر عمل نہیں کرتے ان کے پاس انبیاء آئے کہ جن کی وہ اطاعت نہیں کرتے اور وہ آپس میں متفرق ہیں اس نے ان باتوں کو لکھ کر اپنے تھیلے میں ڈال لیا اور ساتھیوں سے کہا چلو وہ سب چل پڑے یہاں تک کہ فرخان کے پاس آگئے اس نے ان میں سے ہر آدمی سے پوچھنا شروع کیا ہر ایک نے بتایا ہم فلاں شہر میں گئے اس کے ا تنے قلعے ہیں اور ان کی اتنی نہریں فرخان نے کہا اے بخت نصر تو کیا کہتا ہے اس نے کہا ہم ایسی قوم کی زمین پر آئے ان کے لئے کتاب ہے جس پر وہ عمل نہیں کرتے اور انبیاء ہیں جن کی وہ اطاعت نہیں کرتے اور وہ آپس میں فرقہ بندی کا شکار ہیں اب آپ کا حکم ہے بادشاہ نے لوگوں کو بلایا گیا اور ان کی طرف ستر ہزار کا (لشکر) بھیجا اور ان پر بخت نصر کو امیر بنایا یہ لوگ رات کو چلے یہاں تک کہ وہ بنی اسرائیل کے علاقہ پر غالب آگئے پیچھے سے ان کو خط ملا کہ فرخان مرگیا ہے اور اس کا کوئی خلیفہ نہیں بنا بخت نصر نے لوگوں سے کہا کہ یہاں ٹھہرجاؤ پھر وہ قاصد پر متوجہ ہوا یہاں تک کہ بخت نصر لوگوں کے پاس آیا تم کیسے کرو گے ؟ انہوں نے کہا ہم کو یہ بات نہ پسند ہے کہ ہم آپ کے پیچھے اپنے معاملے کو طے کریں اس نے کہا کہ لوگ میری بیعت کرلیں تو سب نے اس کی بیعت کرلی۔ پھر وہ ان کو لے کر جلدی چلا یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچ گیا ان کو خط دکھایا تو لوگوں نے اس سے بیعت کرلی۔ پھر وہ ان کو لے کر جلدی چلا یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچ گیا ان کو خط دکھایا تو لوگوں نے اس سے بیعت کرلی اور ان لوگوں نے کہا ہم کو آپ سے کوئی انحراف نہیں پس یہ لوگ بھی بخت نصر کے ساتھ چل پڑے جب بیت المقدس کے لوگوں نے بخت نصر کی بیعت کے متعلق سنا تو وہ متفرق ہوگئے اور اپنا اپنا لیڈر بنا لیا وہاں جو کچھ تھا تباہ و برباد ہوگیا کچھ لوگ قتل ہوگئے اور بیت المقدس تباہ ہوگیا اور انبیاء کے بیٹوں کو غلام بنالیا گیا ان میں دانیال (علیہ السلام) بھی تھے جب وہ دنانیر والے کو بخت نصر کی بیت المقدس پر قبضہ کی خبر ملی تو وہ اس کے پاس آیا اور کہا کیا تو نے مجھے پہچانا ہے اس نے کہا ہاں اس نے اسے اپنے قریب کرلیا مگر کسی چیز کے بارے میں اس کی سفارش قبول نہیں کی یہاں تک کہ جب بابل کے میدان میں اترا تو اپنی حکمرانی کا جھنڈا لہراتا رہا جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا۔
پھر اس نے ایک خواب دیکھا اور وہ اس سے ڈر گیا اور صبح کو بھول گیا کہ اس نے کیا خواب دیکھا تھا کہنے لگا اس نے کہا کہ جادوگروں اور کاہنوں کو میرے پاس لاؤ اس نے کہا مجھے تعبیر بتاؤ اس خواب کی جس کو میں نے رات کو دیکھا تھا اللہ کی قسم تم ضرور مجھے تعبیر بتاو ورنہ میں ضرور تم کو قتل کردوں گا انہوں نے کہا خواب کیا ہے ؟ اس نے کہا میں اس کو بھول گیا انہوں نے ہمیں اس چیز کا علم نہیں مگر یہ کہ تو انبیاء کے بیٹوں کو آزاد کردے تو اس نے کہا ان کو آزاد کردیا اور ان سے کہا مجھے بتاؤ اس خواب کے بارے میں جو میں نے آج رات کو دیکھا ہے اللہ کی قسم تم مجھے ضرور بتاؤ مگر میں تم کو قتل کر دوں گا انہوں نے کہا وہ کیا (خواب) ہے اس نے کہا میں اس کو بھول گیا انہوں نے کہا یہ غیب کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا اس نے کہا اللہ کی قسم تم مجھ کو ضرور بتاؤ ورنہ تمہاری گردنیں مار دوں گا انہوں نے کہا ہم کو چھوڑ دے یہاں تک کہ ہم وضو کریں گے اور نماز پڑھیں گے اور ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے اس نے کہا ایسا کرلو وہ لوگ گئے انہوں نے اچھی طرح وضو کیا اور ایک پاک جگہ پر آئے اور اللہ تعالیٰ سے (خوب) دعا مانگی اللہ تعالیٰ نے اس خواب پر ان کو مطلع کردیا پھر یہ لوگ بادشاہ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا تو نے دیکھا گویا تیرا سر سونے کا ہے اور تیرا سینہ مٹی کا ہے اور تیرا درمیانی حصہ تانبے کا ہے اور تیرے پاوں لوہے کے ہیں اس نے کہا ہاں (یہی خواب تھا) اس نے کہا مجھے اس کی تعبیر کے بارے میں بتاؤ یا میں تم کو ضرور قتل کردوں گا انہوں نے کہا ہم کو چھوڑ دے ہم اپنے رب سے دعا کریں گے اس نے کہا چلے جاؤ انہوں نے اپنے رب سے دعا کی اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور وہ لوگ اس کی طرف واپس آئے تو نے جو دیکھا ہے کہ گویا تیرا سر سونے میں سے ہے یہ تیری بادشاہی ہے جو اس سال کے مکمل ہونے تک اس رات سے چلی جائے گی بخت نصر نے کہا پھر کیا ہوگا پھر انہوں نے کہا پھر تیرے بعد ایسا بادشاہ ہوگا جو لوگوں پر فخر کرے گا پھر ایسا بادشاہ ہوگا کہ لوگ اس کی سختی کی وجہ سے ڈریں گے پھر ایسا بادشاہ ہوگا جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکیں گے بلاشبہ وہ لوہے کی مثل ہے اس سے مراد اسلام ہے پھر بخت نصر نے ایک محل تیار کرنے کا حکم دیا کہ جو زمین اور آسمان کے درمیان ہو اس نے اپنے نگہبانوں اور چوکیداروں سے کہا آج کی رات کوئی شخص تم سے آگے گزر کر نہ جائے اگرچہ بخت نصر بھی اجازت دے مگر یہ کہ اس کی جگہ پر اس کو قتل کردو لوگوں میں سے جو بھی ہو ہر آدمی اپنی جگہ پر بیٹھ گیا جو اس کے لئے مقرر کی گئی تھی اس کے پیٹ میں رات کو درد ہوا اس نے اپنی یہاں موجودگی کو ظاہر کرنا ناپسند کیا اس نے قوم کے کانوں کے سوراخوں پر مارا تو وہ نیند میں بیخبر سوگئے پھر وہ ان کے پاس اس حال میں آیا کہ وہ سور ہے تھے پھر وہ ان کے پاس آیا تو ان میں سے بعض جاگ رہے تھے اس نے پوچھا یہ کون ہے ؟ اس نے کہا بخت نصر کہا یہ وہی ہے جو اس رات ہم سے پوشیدہ ہوگیا تھا اس چوکیدار نے اس کو مارا اور اس کو قتل کردیا تو صبح کے و قت یہ خبیث مقتول ہوچکا تھا۔
165:۔ ابن جریر (رح) نے اس روایت کو سعید بن جبیر ؓ سے سدی سے اور وہب بن منبہ رحمہم اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔
66ـ1:۔ ابن جریر نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ بخت نصر شام پر غالب آیا اس نے بیت المقدس کر برباد کردیا اور لوگوں کو قتل کردیا پھر وہ دمشق آیا وہاں اس نے ایک خون کو دیکھا جو انگیٹھی پر جوش مار رہا تھا اس نے ان سے پوچھا یہ خون کیسا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے آبواجداد کو اسی پر پایا اور جب ان پر یہ دھونی دینے کی لکڑی غالب آتی ہے تو غلبہ پایا جاتا ہے پس اس نے اس خون پر ستر ہزار مسلمانوں وغیرہ کو قتل کیا پھر وہ خون ٹھنڈا ہوگیا۔
167ـ:۔ ابن عساکر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (جب) بخت نصر نے بنی اسرائیل کو قتل کیا اور بیت المقدس کو گرا دیا اور بنی اسرائیل کو قیدی بنا کر رات کے وقت بابل کی زمین کی طرف لے گیا ان کو بہت بڑا عذاب دیا پھر اس نے ارادہ کیا کہ وہ آسمان کو پہنچ جائے اس نے آسمان پر چڑھنے کی ایک تدبیر سوچی کہ جس کے ذریعے وہ اوپر چڑھ جائے اللہ تعالیٰ نے اس پر ایک مچھر کو مسلط کردیا وہ اس کے ناک کے نتھنے میں داخل ہو کر اس کے دماغ میں واقع ہوگیا وہ برابر اس کا دماغ کاٹتا رہا اور اس کے سر کو پتھر سے مارا جاتا تھا یہاں تک کہ وہ مرگیا۔
نبی کی کثرت نافرمانی کی وجہ سے بخت نصر بادشاہ کا مسلط ہونا :
168:۔ ابن جریر نے حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب بنی اسرائیل نے ہفتہ کے دن میں زیادتی کی اور حد سے بڑھ گئے اور انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر فارس کا بادشاہ بخت نصر کو ان پر مسلط کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی بادشاہی کو سات سو سال تک قائم رکھاوہ بنی اسرائیل کی طرف چلا یہاں تک کہ بیت المقدس میں داخل ہوگیا اس نے اس کا محاصرہ کیا اور اس کو فتح کرلیا اور زکریا (علیہ السلام) کے خون پر ستر ہزار آدمیوں کو قتل کیا پھر ان کے رہنے والوں کو اور انبیاء کی اولاد کو قیدی بنالیا اور بیت المقدس کے زیورات بھی چھین لئے اور اس نے بیت المقدس سے ایک لاکھ ستر ہزار ریڑھیاں زیورات کی نکالیں یہاں تک کہ اس کو بابل لے آیا حذیفہ ؓ نے کہا کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! کیا اللہ تعالیٰ نے نزدیک بیت المقدس عظیم نہیں تھا ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں اس کو سلیمان بن داود (علیہما السلام) نے بنایا سونے سے موتی سے یاقوت سے اور زبرجد سے اس کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی تھی۔ اور اس کے ستون بھی سونے کے تھے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کو عطاء فرما دیا تھا اور شیاطین ان کے تابع کردئے تھے وہ سب کچھ پلک جھپکتے ہی ان کے اپس لادئے تھے۔ بخت نصر ان چیزوں کو لے کر بابل آگیا اس نے سو سال تک بنی اسرائیل پر حکومت کی اور مجوسیوں نے ان کو عذاب دئے تھے ان میں انبیاء اور انبیاء کے بیٹے بھی تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور فارس کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ کی طرف وحی بھیجی۔ جس کو کو دس کہاں جاتا تھا اور وہ مومن تھا کہ وہ بنی اسرائیل کے پاس باقی ماندہ لوگوں کی طرف جائے یہاں تک کہ اس کو نجات دلا کو دس بنی اسرائیل کے پاس چلا اور بیت المقدس میں داخل ہوا ! یہاں تک کہ بیت المقدس واپس لے آیا بنو اسرائیل سو سال تک اللہ کی فرمانبردار رہے پھر گناہوں کی طرف لوٹ گئے پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر ابطنا نحوس کو مسلط کردیا اس نے دوبارہ ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی جو بخت نصر کے ساتھ لڑے تھے پس بنی اسرائیل لڑتے رہے یہاں تک کے وہ بادشاہ بیت المقدس پہنچ گیا اس نے پھر بیت المقدس کے لوگوں کو قید کرلیا اور بیت المقدس کو جلا ڈالا اور اس نے ان سے کہا اے بنی اسرائیل ! اگر تم پھر گناہوں میں لوٹے گے تو ہم بھی تمہیں قیدی بنا لیں گے وہ دوبارہ گناہوں میں پڑگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تیسری مرتبہ قید کرنے کا ارادہ فرمایا رومیہ کے بادشاہ تھا جس کو فاقس بن اسبایوس کہا جاتا تھا اس نے ان کے ساتھ خشکی اور سمندر میں جنگ کی اور انکو قیدی بنالیا اور وہ بیت المقدس کے زیورات لے گیا اور بیت المقدس کو آگ سے جلا دیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ بیت المقدس کے زیورات کی صفت ہے کہ ان زیورات کو مھدی (علیہ السلام) بیت المقدس کی طرف لائیں گے اور وہ ایک ہزار اور سات سو کشتیاں ہیں جو یہاں لنگر انداز ہیں۔ یہاں تک کہ وہ منتقل کریں گے (ان زیورات کو) بیت المقدس کی طرف اور ان کشتیوں کے ذریعے پہلے اور پچھلے لوگ اس کی طرف جمع ہوں گے۔
169:۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل کا فساد جو انہوں نے زمین میں دو مرتبہ کیا اور وہ زکریا (علیہ السلام) اور یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) دونوں حضرات کو قتل کرنا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سابورذوالا کتاف کو مسلط کردیا جو فارس کے بادشاہوں کے میں سے ایک بادشاہ تھا یہ زکریا (علیہ السلام) (کے قتل) کی وجہ سے ہوا اور یحی (علیہ السلام) (کے قتل) کی وجہ سے ان پر بخت نصر کو مسلط کردیا۔
170:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” فاذا جاء وعد اولھما “ کے بارے میں فرمایا کہ جب پہلا وعدہ آگیا ان دونوں وعدوں میں سے جن سے بنی اسرائیل کو آگاہ کردیا تھا کہ تم ضرور فساد کروگے زمین میں دو مرتبہ۔
171:۔ ابن جریر، ابن شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا قول : (آیت) ” بعثنا علیکم عبادالنا اولی باس شدید “ سے مراد ہے کہ فارس سے لشکر آیا تھا جو ان کی خبروں کی جاسوسی کرتے تھے اور ان کی باتوں کو سنتے تھے ان کے ساتھ بخت نصر تھا وہ ان کی باتوں کو یاد رکھتا تھا اپنے ساتھیوں کے درمیان پھر وہ فارس کے لشکر لوٹا اور زیادہ جنگ نہ ہوئی اور بنی اسرائیل کے خلاف مدد کی گئی یہ پہلا وعدہ تھا (اور فرمایا) (آیت) ” فاذا جاء وعد الاخرۃ “ اور دوسرا وعدہ اس وقت پورا ہوا جب فارس کے بادشاہ بابل میں ایک لشکر بھیجا اور اس پر بخت نصر کو امیر بنایا تو اس لشکر نے ان کو تباہ و برباد کردیا اور یہ دوسرا وعدہ تھا۔
172:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فجاسوا “ کا معنی ہے ” مشوا “ یعنی وہ چلے۔
173:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی مرتبہ ان پر جاروت کو مسلط کردیا یہاں تک کہ طالوت کو بھیجا گیا اور ان کے ساتھ داود (علیہ السلام) تھے تو داود (علیہ السلام) نے طالوت کو قتل کردیا پھر اللہ تعالیٰ نے گردش زمانہ کو بنی اسرائیل کے حق میں پلٹا دیا اور فرمایا (آیت) ” وجعلنکم اکثرنفیرا “ یعنی ہم نے تم کو تعداد کے لحاظ سے کثرت میں بنادیا اور یہ داود (علیہ السلام) کے زمانہ میں ہوا (پھر فرمایا) (آیت) ” فاذا جاء وعد الاخرۃ “ یعنی جب دوسرا وعدہ آگیا (آیت) ” لیسوٓء وجوھکم “ تاکہ وہ تمہارے چہروں کو بدصورت کردے (آیت) ” ولیدخلوا المسجد کما دخلوہ اول مرۃ “ جیسے کہ ان کو دشمن اس سے پہلے داخل ہوا (آیت) ” ما علواتتبیرا “ تاکہ وہ تباہ و برباد کرکے رکھ دی جس پر قابو پائیں تو اللہ تعالیٰ نے ان پر دوسری مرتبہ میں بخت نصر الباہل مجوسی کو مسلط کیا جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ شخص تھا پس اس نے بنی اسرائیل کو قیدی بنایا اور قتل کیا اور بیت المقدس کو خراب کیا اور ان کو برا عذاب پہنچایا۔
174:۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ دوسرا وعدہ (یعنی سزا کا) زیادہ سخت تھا پہلے کی نسبت (دشمن کے) کثیر ہونے کی وجہ سے کیونکہ پہلی سزا میں صرف شکست تھی اور دوسری سزا میں تباہی تھی بخت نصر نے تو رات کو جلادیا تھا یہاں تک کہ اس میں ایک حرف بھی نہ چھوڑا اور بیت المقدس کو ویران کیا۔
175:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” تتبیرا “ سے مراد تباہ و برباد کرنا۔
176:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ ” تبرنا “ یعنی ہم نے نبطیہ کو تباہ و برباد کردیا۔
177۔ ابن حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” عسی ربکم ان یرحمکم “ سے مراد ہے کہ جس رحمت کا اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا وہ محمد ﷺ کی بعثت ہے۔
178ـ:۔ عبدالرزاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” وان عدتم عدنا “ جب وہ پھر نافرمانی کی طرف لوٹے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر محمد ﷺ کو مسلط کردیا اور وہ جزیہ یعنی ٹیکس ادا کرتے ہیں اسی کو فرمایا (آیت) ’ ’ الجزیۃ عن ید وھم صغرون “۔
179:۔ عبدالرزاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنا جھنم للکفرین حصیرا “ یعنی قید خانہ بنا دیا (کافروں کے لئے)
180:۔ ابن نجار نے تاریخ میں ابوعمران الجونی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنا جھنم للکفرین حصیرا “ سے مراد ہے قید خانہ یعنی جیل۔
181:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنا جھنم للکفرین حصیرا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہنم میں کافروں کے لئے پناہ گاہ بنائی۔
182:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” حصیرا “ سے مراد ہے کہ وہ جن ہم میں محصور ہوں گئے۔
183:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” حصیرا “ سے مراد ہے کہ ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے بچھونا بنا دیا۔
Ayahs 17:9–101:۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ھذا القران یھدی للتیھی اقوم “ میں اقوم کا معنی اصواب (یعنی جو زیادہ درست ہے)
برائیوں کا علاج استغفار ہے :
2:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ قرآن تم کو تمہاری برائیوں اور تمہاری دوائیوں کے بارے میں بتاتا ہے تمہاری برائیاں بڑے اور جھوٹے گناہ ہیں اور تمہاری دوائیں استغفا رہے یعنی اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگنا۔
3:۔ حاکم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس (آیت) ” ان ھذا القران یھدی للتیھی اقوم ویبشر المومنین “ میں یبشر “ کو اکثر تخفیف کے ساتھ پڑھتے تھے۔
4:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان لہم اجرا کبیرا “ سے مراد ہے جنت ہے اور ہر وہ چیز قرآن مجید میں (آیت) ” اجرکبیرا “ اور رزق کریم سے جنت مراد ہے۔
Ayah 17:111:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویدع الانسان بالشر دعآء بالخیر “ سے مراد ہے انسان کا یہ کہنا (جیسے وہ بدعا کرتے ہوئے کہتا ہے) اے اللہ اس پر لعنت فرما اور اس پر غضب فرما۔
2:۔ عبدبن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے الحسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویدع الانسان بالشر دعآء بالخیر “ سے مراد ہے انسان کی بدعا اپنی اولاد پر اپنی بیوی پر کہ جب ان میں سے کوئی غصہ ہوتا ہے تو اس پر بددعا کرتا ہے اپنے آپ کو گالیاں دیتا ہے اپنی بیوی کو اپنے مال کو اور اپنی اولاد کو گالیاں دیتا ہے اگر اللہ تعالیٰ (اس کی بددعا کے مطابق) عطاء فرما دیں تو اس پر شاق گزرتا ہے اسی لئے اس سے منع کیا گیا پھر وہ (جب) خیر کی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کو عطاء فرمادیتے ہیں۔
3:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویدع الانسان بالشر دعآء بالخیر “ سے مراد ہے انسان کی بددعا مراد ہے کہ وہ اپنی اولاد پر اپنی بیوی پر بددعا کرنے میں جلدی کرتا ہے اور نہ بھی نہیں چاہتا کہ ان کو یہ مصیبت پہنچ جائے۔
4:۔ ابوذر اور بزار نے جابر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے اوپر اپنی اولاد پر اپنے مالوں پر بددعا نہ کرو اللہ تعالیٰ سے کسی ایسی گھڑی میں موافقت نہ کرو جس میں قبولیت ہو ورنہ وہ تمہاری اس بدعا کو بھی قبول فرمائے گا۔
5:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ( آیت) ” وکان الانسان عجولا “ سے مراد ہے کہ انسان بہت جلد اکتانے والا ہے نہ اسے خوشحالی پر صبر ہے اور نہ اسے تنگدستی پر صبر ہے۔
6:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن منذر اور ابن عساکر نے سلیمان فارسی ؓ سے روایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) کے سر کو اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے پیدا فرمایا تو وہ پیدا ہونے کے بعد دیکھنے لگے جبکہ ان کی ٹانگیں (تیار ہونا) باقی تھیں جب عصر کے بعد کا وقت ہوا تو عرض کیا اے میرے رب رات سے پہلے جلدی جلدی میری ٹانگیں بھی بنا دیجئے اسی کو فرمایا ( آیت) ” وکان الانسان عجولا “
7:۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کا باقی جسم پیدا کرنے سے پہلے ان کی آنکھوں کو پیدا فرمایا تو عرض کیا اے میرے رب سورج غروب سے پہلے میری پیدائش کو پورا فرما دیجئے تو اسی پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( آیت) ” وکان الانسان عجولا “۔
Ayahs 17:12–141:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے سند ہی کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کے عرش سے دو سورج پیدا فرمائے اور اللہ تعالیٰ کے سابق علم میں تھا کہ ایک سورج کو باقی رکھنا ہے پس اس نے اس دنیا اور جو کچھ اس کے مغرب اور مشرق کے درمیان ہے اس کی مثل پیدا فرمایا اور جو کچھ اس کے علم سابق میں تھا کہ اسے مٹانا ہے اور جلد بنانا ہے تو اس نے اس کو سورج سے کم پیدا فرمایا لیکن آسمان میں انتہائی بلند ہونے اور زمین سے زیادہ دور ہونے کی وجہ سے چھوٹا دیکھائی دیتا ہے اگر سورج کو اسی طرح رکھا جاتا جیسے کہ اسکو پیلی مرتبہ پیدا فرمایا تھا تو رات کو دن میں سے نہ پہچانا جاتا اور نہ دن کو رات میں سے پہچانا جاتا اور روزہ دار نہ جانتا کہ کب وہ رو وزہ رکھے گا اور کب افطار کرے گا اور مسلمان اپنے حج کے وقت کو نہ جانتے اور ان کو پتہ نہ چلتا کہ دنوں مہینوں اور سالوں اور (دیگر) حساب کی تعداد کیا ہے جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا گیا اور اس کو حکم دیا گیا کہ اپنے پر کو چاند کے چہرے پر تین مرتبہ ماردے اور وہ (چاند) اس دن سورج تھا تو اس میں سے سورج کی روشنی ختم ہوگئی اور نور باقی رہ گیا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وجعلنا الیل والنہار ایتین “۔
2:۔ بیہقی نے دلائل میں اور ابن عساکر نے سعید المقبری (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن سلام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس سیاہی کے بارے میں پوچھا جو چاند میں ہے آپ نے فرمایا یہ دونوں سورج تھے پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وجعلنا الیل والنہار ایتین “۔ وہ سیاہی جو تو دیکھ رہا ہے وہ محو ہے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن انباری نے المصاحف میں علی ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فمحونا ایۃ الیل “ سے وہ سیاہی مراد ہے جو چاند میں ہے۔
4:۔ ابن مردویہ نے علی ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ رات اور دن برابر تھے تو اللہ تعالیٰ نے رات کی نشانی کو مٹا دیا اور اس کو اندھیرا بنا دیا اور دن کی نشانی کو باقی رکھا جیسے وہ پہلے تھی ،
5:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فمحونا ایۃ الیل “ سے رات کی تاریکی مراد ہے۔
6:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” والنہار ایتین فمحونا ایۃ الیل “ کے بارے میں فرمایا کہ چاند ایسے چمکتا تھا جیسے سورج چمکتا ہے اور چاند رات کی نشانی ہے اور سورج دن کی نشانی ہے (پھر فرمایا) (آیت) ” فمحونا ایۃ الیل “ یعنی وہ سیاہی جو چاند میں ہے وہ محو کا اثر ہے۔
ہرقل بادشاہ کے تین سوالات :
7:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہرقل بادشاہ نے معاویہ ؓ کی طرف تین سوال لکھے وہ کون سی جگہ ہے جہاں تو نماز پڑھے تو یہ گمان کرے کہ تو نے قبلہ کی طرف نمازیں نہیں پڑھی ؟ اور وہ کون سی جگہ ہے کہ جس میں سورج ایک مرتبہ طلوع ہوا اور اس جگہ میں اس سے پہلے اور اس کے بعد طلوع نہیں ہوا اور اس سیاہی کے بارے میں جو چاند میں ہے ؟ معاویہ ؓ نے ابن عباس ؓ سے (ان سوالات کے بارے میں) پوچھا تو انہوں نے ان کی طرف دیکھا کہ وہ پہلی جگہ کعبہ کی چھت سے اور دوسری جگہ وہ سمندر ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے اللہ تعالیٰ نے سمندر کو پھاڑ دیا تھا (اور خشک جگہ نکل آئی تھی) اور چاند کی تاریکی محو کا اثر ہے۔
8:۔ عبدبن حمید اور ابن منذر نے عکرمہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کے نور کے ستر جزء پیدا فرمائے اور چاند کے نور کے بھی ستر جزء پیدا فرمائے پھر چاند کے نور سے انہتر جزء کو مٹا دیا اور ان کو سورج کے نور کے ساتھ ملا دیا پس سورج کے ایک سو انتالیس جزء ہوگئے اور چاند کا ایک جزء رہ گیا۔
9:۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب القرظی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ایک سورج رات کا تھا اور ایک سورج دن کا تھا تو اللہ تعالیٰ نے رات کے سورج کو محو کردیا اور یہ وہی محو (یعنی سیاہی) ہے جو چاند میں ہے۔
10:۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر ؓ سے (آیت) ” فمحونا ایۃ الیل “ کے بارے میں روایت کیا کہ تیرھویں یا چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھو تو اس میں تو ایک مرد کی شکل کو دیکھے گا کہ وہ دوسرے آدمی کے سر کو پکڑے ہوئے ہے۔
11:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فمحونا ایۃ الیل وجعلنا ایۃ النھار مبصرۃ “ سے مراد ہے رات کو اندھیرا اور دن کی روشنی (فرمایا) (آیت) ” لتبتغوا فضلا من ربکم “ کہ تمہارے لئے بنادیا گیا لمبامشغول ہونا۔
12:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فضلنہ “ سے مراد ہے بینہ یعنی ہم نے بیان کردیا۔
13:۔ ان ابی شیبہ نے عطاء بن سائب (رح) سے روایت کیا مجھے ایک سے زیادہ لوگوں نے خبر دی کہ شام کے قاضیوں میں سے ایک قاضی حضرت عمر ؓ سے پاس آئے اور عرض کیا اے امیر المومنین میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس نے مجھے پریشان کر رکھا ہے انہوں نے فرمایا تو نے کیا دیکھا ہے ؟ اس نے کہا میں نے دیکھا کہ سورج اور چاند ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں اور ستارے آدھے سورج کے ساتھ ہیں اور آدھے چاند کے ساتھ ہیں پوچھا ان دونوں میں سے تو کس کے ساتھ تھا ؟ اور اس نے کہا چاند کے ساتھ اور سورج کے مخالف تھا عمر ؓ نے فرمایا (آیت) ” وجعلنا الیل والنہار ایتین فمحونا ایۃ الیل وجعلنا ایۃ النھار مبصرۃ “ (اب) تو چلا جا اللہ کی قسم اور کبھی میرے لئے کام نہ کر۔
14:۔ ابن عساکر نے علی بن زید (رح) سے روایت کیا کہ ابن الکواء نے علی ؓ سے اس سیاہی کے بارے میں پوچھا جو چاند میں ہے فرمایا یہ محوکا اثر ہے وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت) ” فمحونا ایۃ الیل “
15:۔ احمد، عبد بن حمید اور ابن جریر نے سند حسن نے ساتھ جابر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہر انسان کا عمل اس کی گردن میں ہے۔
انسانی تخلیق کے مختلف ادوار :
16:۔ ابن مردویہ نے حذیفہ بن اسید ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ نطفہ جس میں سے کسی انسان کو پیدا کیا جاتا ہے اڑتا رہتا ہے عورت کے بدن میں چالیس دن اور چالیس رات اور اس میں سے باقی نہیں رہتا کوئی بال کوئی کھال نہ کوئی پسینہ اور نہ ہڈی مگر یہ کہ وہ اس میں داخل ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ ناخن اور گوشت کے درمیان بھی داخل ہوجاتا ہے پھر جب وہ چالیس دن اور چالیس راتیں گزرجاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو رحم کی طرف اڑا دیتے ہیں پھر وہ چالیس اور چالیس رات جماہو اخون رہتا ہے پھر وہ چالیس دن اور چالیس رات ایک گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے جب اس کے چار ماہ پورے ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف رحموں والا فرشتہ بھیج دیتے ہیں تو وہ اس کے ہاتھوں پر اس کا گوشت اور اس کا خون اور اس کے بال اور اس کی کھال کو پیدا کردیتا ہے پھر وہ فرماتے ہیں کہ اس کی صورت بنا دو وہ عرض کرتا ہے کہ اے میرے رب میں کیسی صورت بناوں زائد بناؤ یا ناقص ! مذکر بناؤ یا مونث خوبصورت بناؤ یا بدصورت گھنگھریالے بالوں والا یا سیدھے بالوں والا، لمبے قد والا یا چھوٹے قد والا، سفید رنگت والا یا گندم گون رنگ والا، ٹھیک اعضاء والا یا ناقص اعضاء والا تو ان سب کاموں کے بارے میں لکھ دیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں حکم فرماتے ہیں پھر وہ فرشتہ فرماتا ہے اے میرے رب ! یہ بدبخت ہے یا نیک بخت ہے اگر وہ نیک بخت لکھنے کا حکم ہوتا ہے فرشتہ اس کی آخری عمر میں سعادت کی روح پھونک دیتا ہے اگر وہ بدبخت ہوتا ہے فرشتہ اس کی آخری عمر میں بدبختی کی روح پھونک دیتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اسکی عمر کو اس کی رزق کو اس کی مصبیت کو اس کی اطاعت اور اس کی معصیت عمل کو لکھ دی پس اس کے بارے میں یہ سب لکھ دیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے پھر فرشتہ کہتا ہے اے میرے رب ! اس لکھے ہوئے کو کہاں کرو ؟ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس کی گردن میں اس کو لٹکا دو اس کے متعلق میرے فیصلے تک اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ’ ’ وکل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ “۔
17:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ’ ’ الزمنہ طئرہ فی عنقہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ انسان جہاں بھی ہوتا ہے اس کی سعادت مندی اور اس کی بدبختی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے خیر اور شر کو لکھا ہوتا ہے سب اس کے ساتھ رہتا ہے۔
18۔ ابن ابی حاتم نے جویبر کے طریق سے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ نے (آیت) ’ ’ الزمنہ طئرہ فی عنقہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے بدبختی، نیک بختی، رزق اور موت۔
19:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ’ ’ طئرہ فی عنقہ “ سے مراد ہے اس کا اعمال نامہ۔
20:۔ بیہقی نے شعب میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ’ ’ وکل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ “ سے مراد ہے اس کا عمل۔
21:۔ ابوداود نے کتاب القدر میں، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ’ ’ وکل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ “ سے مراد ہے کہ جو بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی گردن میں ایک کاغذ لکھا ہوا ہوتا ہے جس میں بدبخت یا نیک بخت لکھا ہوتا ہے۔
22:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ’ ’ وکل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ “ سے مراد ہے اس کا عمل سے (آیت) ” و نخرج لہ یوم القیمۃ کتبا یلقہ منشورا “ مراد ہے جو انسان نے عمل کیا ہوگا وہ اس پر شمار کیا جائے گا پھر قیامت کے دن اس کے لئے وہ اعمال نامہ نکالا جائے گا جس پر اس کا عمل لکھا ہوا ہوگا اور وہ اس کو کھلا ہوا پڑھا لے گا۔
23:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ کافر کے لئے قیامت کے دن ایک کتاب نکالی جائے گی وہ کہے گا اے میرے رب بلاشبہ آپ نے فرما دیا ہے اور بلاشبہ آپ بندوں پر ظلم کرنے والے نہیں ہیں مجھے ایسا بنادیجئے کہ میں اپنی جان کا (خود ہی) حساب کروں اس سے کہا جائے گا (آیت) ” اقرا کتبک، کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا “
24:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن کعب ؓ کی قرأت میں یوں تھا (آیت) ’ ’ وکل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ “ وہ اس کو قیامت کے دن پڑھے گا (آیت) ” کتبا یلقہ منشورا “
25:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا۔ (آیت) ” ونخرج لہ یوم القیمۃ کتبایلقہ منشورا “ یا کی فتح کے ساتھ یعنی اس کا عمل لکھا ہوا نکالا جائے گا۔
26:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اقرا کتبک “ سے مراد ہے کہ عنقریب وہ اس دن پڑھ لے گا اگرچہ وہ دنیا میں پڑھا ہوا نہیں تھا۔
27:۔ ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ اے آدم کے بیٹے تیرے لئے اعمال نامہ کھولا گیا اور تیرے ساتھ مقرر کئے گئے ہیں دو عزت والے فرشتے ان میں سے ایک تیرے داہنی طرف ہے اور دوسرا تیرے بائیں طرف ہے یہاں تک کہ جب تو مرے گا تو تیرے اعمال نامہ لپیٹ دیا جائے گا اور تیرے ساتھ تیری گردن میں لٹکا دیا جائے گا تیری قبر میں یہاں تک کہ تو قیامت کے دن (قبر سے) نکلے گا اس وقت ارشاد ہوگا (آیت) ’ ’ وکل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ “۔
مشرکین کی اولاد کا معاملہ :
28:۔ ابن عبد البر نے تمہید میں سند ضعیف کے ساتھ عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدیجہ سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا تو فرمایا وہ اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ ہوں گے پھر اس کے بعد میں نے ان سے پوچھا تو فرمایا اللہ تعالیٰ خوب جاننے والے ہیں جو وہ (بچے) عمل کرنے والے تھے پھر میں نے ان سے پوچھا اسلام کے مستحکم ہونے کے بعد تو (یہ آیت) ” ولا تزر وازرۃ وزر اخری “ اور فرمایا وہ دین فطرت (یعنی دین اسلام) پر ہوں گے یا فرمایا جنت میں ہوں گے۔
29:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں، ابن ابی شیبہ، بخاری، مسلم، ابوداود، ترمذی، نسائی، اور ابن ماجہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہ مجھے صعب بن جثامہ ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا فیصلہ کیا گیا ہے ان لڑکیوں کے بارے میں جو میری مشرکین کی اولاد میں سے ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ لڑکیاں ان (مشرکین) میں سے ہیں۔
30:۔ ابن سعد، احمد، قاسم بن اصبح اور ابن عبدالبر نے خنساء بنت معاویہ ضمیرہ ؓ اپنے چچا سے روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی جنت میں ہے شہید جنت میں ہے پیدا ہونے والا بچہ جنت میں ہے اور زندہ درگور کی ہوئی لڑکی جنت میں ہے۔
31:۔ قاسم بن اصبغ اور ابن عبدالبر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا وہ اہل جنت کے خادم ہوں گے۔
32:۔ قاسم بن اصبغ اور ابن عبدالبر نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین کے بچے اہل جنت کے خادم ہوں گے۔
33:۔ حکیم ترمذی نے نوادرالاصول میں اور ابن عبدالبر نے (ابن عبدالبر نے ضعیف بھی ہے کہا) عائشہ ؓ سے روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسلمانوں کی اولاد کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا جنت میں اور میں نے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا آگ میں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ انہوں نے نہ اعمال کئے اور نہ ان پر قلمیں جاری ہوئیں (یعنی ان کے اعمال نہیں لکھے گئے) آپ نے فرمایا تیرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ وہ عمل کرنے والے تھے اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر تو چاہئے تو میں تجھ کو آگ میں ان کی چیخ و پکار سنادوں۔
34:۔ احمد، قاسم بن اصبغ اور ابن عبدالبر نے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مشرکین کے بچوں کے بارے میں کہا کرتا تھا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ہوں گے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی نے مجھ سے بیان فرمایا کہ انہوں نے ان کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کو ان کا رب خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے تو میں اپنی بات سے رک گیا۔
35:۔ قاسم بن اصبغ اور ابن عبدالبر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔ (واللہ اعلم )
Ayahs 17:15–171:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ ضعیف اور ناتواں لوگوں کو جمع فرمائیں گے اور احمق بہرے گونگے اور وہ بوڑھے لوگ جنہوں نے اسلام کو نہیں پایا (سب کو جمع فرمائے گے) پھر ان کی طرف ایک قاصد بھیجیں گے جو یہ احکام پہنچائے گا کہ تم دوزخ میں داخل ہوجاؤ تو وہ لوگ کہیں گے کیوں) ہم دوزخ میں جائیں) حالانکہ ہمارے پاس کوئی رسول نہیں آیا راوی نے کہا اللہ کی قسم اگر وہ اس میں داخل ہوجاتے تو ان پر آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجاتی پھر اللہ تعالیٰ ان کی طرف رسول بھیجیں گے پس اس رسول کی اطاعت کرے گا جو اس کی اطاعت کا ارادہ کرے گا ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو اس آیت (آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “ کو پڑھ لو۔
2:۔ اسحاق بن راھویہ، احمد، ابن حبان، ابونعیم نے معرفہ میں، طبرانی ابن مردویہ اور بیہقی نے کتاب الاعتقاد میں اسود بن سریع ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا چار آدمی قیامت کے دن جھگڑا کریں گے بہر ا آدمی جو کچھ بھی نہیں سنتا اور بیوقوف آدمی اور بہت بوڑھا آدمی اور وہ آدمی جو پیدائش میں ہی مرگیا تھا بہرا آدمی کہے گا اے میرے رب اسلام آیا اور میں نے کوئی چیز نہیں سنی بیوقوف کہے گا اے میرے رب : اسلام آیا اور میری حالت یہ تھی کہ بچے مجھے مینگیاں مارتے تھے (جس کی وجہ سے نہیں سمجھ سکا) اور بہت بوڑھا کہے گا اے میرے رب اسلام آیا مگر میں کسی چیز کو نہ سمجھ سکا اور وہ آدمی جو کسی نبی کے نہ ہونے کے زمانہ میں مرگیا (اور اسے اسلام نہ پہنچا) تو وہ کہے اے میرے رب میرے پاس آپ کا کوئی رسول نہیں آیا کہ وہ ان سے عہد لیتا تاکہ ہم اس کی اطاعت کرتے اور اللہ تعالیٰ ان کی طرف ایک قاصد بھیجیں گے کہ ان کو آگ میں داخل کردو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر وہ (آگ میں) داخل ہوجاتے تو ان پر آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جاتی اور جو اس میں داخل نہ ہوں گے تو ان کو گھسیٹ کر داخل کیا جائے گا۔
3:۔ ابن راھویہ، احمد، ابن مردویہ اور بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا کہ سوائے ان کے کہ انہوں نے اس کے آخر میں فرمایا جو شخص اس میں داخل ہوجائے گا تو اس پر (وہ آگ) ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجائے گی اور جو شخص اس میں داخل نہ ہوگا تو اس کو گھسیٹ کر داخل کیا جائے گا۔
چار قسم کے لوگوں کے متعلق فیصلہ :
4:۔ قاسم بن اصبغ، بزار، ابویعلی، ابن عبدالبر نے تمہید میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن چار آدمیوں کو لایا جائے گا پیدا ہونے والا بچہ (جو پیدائش میں مرگیا) اور احمق اور وہ شخص جو نبی کے نہ ہونے کے زمانے میں مرگیا اور بہت بوڑھا آدمی ان میں سے ہر ایک اپنی دلیل کے ساتھ بات کرے گا اللہ تعالیٰ تبارک وتعالیٰ فرمائیں گے جہنم کی عنق یعنی گردن سے فرمائیں گے تو ظاہر ہوجا اور ان سے فرمائیں گے بلاشبہ میں نے اپنے بندوں کی طرف رسول بھیجے تھے انہیں میں سے اور بلاشبہ میں بھی اپنی ذات کے لحاظ سے رسول ہوں تمہاری طرف اور ان کے لئے فرمائیں گے کہ ان کو اس میں (یعنی جہنم میں) داخل کردو وہ آدمی کہے گا اے میرے رب کس نے اس پر بدبختی کو لکھا ؟ کیا ہم اس میں داخل ہوجائیں حالانکہ ہم اس سے بھاگنے والے ہیں راوی نے کہا جس کے لئے نیک بختی لکھی گئی تو وہ دوڑ کر جہنم میں داخل ہوگا رب تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں نے تم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ تم نے میری نافرمانی کی ہے اور تم میرے رسولوں کی سخت تکذیب کرتے تھے اور ان کی نافرمانی کرتے تھے پھر ان کو (یعنی جہنم میں داخل ہونے والوں کو) جنت میں داخل کردے گا اور ان کو (جو جہنم میں داخل نہیں ہوں گے) جہنم میں داخل کردے گا۔
5:۔ حکیم ترمذی نے نو ادرالاصول میں طبرانی، ابونعیم نے معاذبن جبل ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن بےعقل کسی نبی کے نہ ہونے کے زمانے میں مرنے والا اور چھوٹی عمر میں مرجانے والے کو بلایا جائے گا، بےعقل کہے گا اے میرے رب اگر آپ مجھے عقل دیتے تو وہ شخص جس کو آپ نے عقل دی ہے وہ اپنی عقل کے ذریعہ مجھ سے زیادہ سعادت مند نہ ہوتا اور کسی نبی کے نہ ہونے کے زمانے میں مرنے والا کہے گا کہ اے میرے رب اگر آپ کی طرف سے میرے پاس کوئی عبد (یعنی) نبی آجاتا تو وہ شخص جس کے پاس آپ کی طرف سے کوئی نبی آچکا ہے وہ اس تیرے عبد یعنی (نبی) کے ذریعہ مجھ سے زیادہ سعادت مند نہ ہوتا اور چھوٹی عمر میں مرنے والا کہے گا اے میرے رب اگر آپ مجھ کو عمر دیتے تو وہ شخص جس کو آپ نے عمر دی ہے وہ اس عمر کی وجہ سے مجھ سے زیادہ سعادت مند نہ ہوتا رب تعالیٰ فرمائیں گے بلاشبہ میں نے تم کو ایک حکم دیتا ہوں کیا تم میری اطاعت کرو گے ؟ تو وہ لوگ کہیں گے ہاں آپ کی عزت کی قسم (ہم اطاعت کریں گے) تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمائیں گے کہ چلے جاؤ اور جہنم میں داخل ہوجاؤ فرمایا اگر وہ اس میں داخل ہوگئے ان کو نقصان نہ دے گی اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان پر دوزخ کے کچھ اثار ظاہر فرمائیں گے اور وہ گمان کریں گے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق کو ہلاک کردیں گے اور وہ جلدی جلدی لوٹے گئے اور کہیں گے اے ہمارے رب ہم کو نکال دیجئے اور آپ کی عزت کی قسم ہم اس میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے تھے مگر ہم پر آگ کے آثار ظاہر ہوئے تو گمان کیا کہ یہ تو ہر چیز کو ہلاک کردے گی جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی پھر اس کو دوبارہ حکم فرمائیں گے تو وہ اسی طرح لوٹیں گے اسی طرح کہیں گے تو رب تعالیٰ فرمائیں گے میں نے تم کو اپنے علم کے مطابق پیدا کیا تھا اور میرے علم کی طرف تم لوٹے ہو حکم ہوں گا اے جہنم ان کو اپنے ساتھ ملا لے پھر ان کو آگ پکڑ لے گی۔
6:۔ ابن ابی شیبہ نے ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ قیامت کے دن ان لوگوں کا حساب لیا جائے گا جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل فرمائیں گے جو اطاعت کرنے والے تھے۔ اور ان کو آگ میں داخل فرمائیں گے جنہوں نے ان کی نافرمانی کی ہوگی۔ باقی رہ جائیں گے بچے۔ اور وہ لوگ جو نبی کے نہ ہونے کے زمانے میں مرگئے اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بلاشبہ میں نے تم کو حکم کیا تھا کہ تم اس آگ میں داخل ہوجاؤ جو اس میں داخل میں ہوجائے گا اس کی نجات ہوجائے گی اور جو شخص رک جائے گا اور اس میں داخل نہ ہوگا اس کے لئے ہلاکت ہوگی۔
7:۔ حکیم ترمذی میں نوادرالاصول میں عبداللہ بن شدادر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا جو چھوٹی عمر میں مرگئے آپ نے تھوڑی دیر کے لئے سر مبارک کو نیچے کرلیا پھر پوچھا سائل کہاں ہے ؟ اس نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں حاضر ہوں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تبارک وتعالیٰ جب جنت اور دوزخ کے درمیان فیصلہ فرما دے گا تو بیوقوف لوگ رہ جائیں گے وہ کہیں گے اے ہمارے رب تو نے کیوں ہمارے پاس اپنا رسول نہ بھیجا اور ہم کچھ بھی نہ جانتے تھے اللہ تعالیٰ ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجے گا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں جو وہ عمل کرنے والے تھے اس فرشتے سے کہے گا بلاشبہ میں تمہارے رب کا رسول ہوں پس چلو تم وہ اس کے پیچھے چلیں گے یہاں تک یہ کہ آگ کے پاس پہنچ جائیں گے فرشتے کہے اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتے ہیں کہ تم اس (آگ) میں گھس جاؤ تو اس میں سے کچھ لوگ آگ میں گھس جائیں گے ان کو ایسی جگہ سے نکالا جائے گا کہ ان کے ساتھیوں کو پتا نہ چلا اور سابقین مقربین میں ہوجائیں گے پھر ان کے ایک قاصد آئے گا اور کہے گا کہ اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم آگ میں گھس جاؤ پس دوسرا گروہ اس میں داخل ہوجائے گا پھر وہ اس طرح نکلیں گے کہ ان کو پتہ نہ چلے گا پس وہ داہنی طرف والوں میں سے ہوجائیں گے پھر ان کے پاس ایک رسول آئے گا اور کہے گا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم لوگ آگ میں گھس جاؤ وہ عرض کریں گے اے ہمارے رب ہم کو عذاب کی طاقت نہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں حکم دے گا کہ ان کے سر اور ٹانگیں اکٹھی کی جائیں پھر ان کو آگ میں ڈال دیا جائے گا (واللہ اعلم)
8:۔ ابن جریر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ (آیت) ” امرنا مترفیھا “ سے مراد ہے کہ ان کی اطاعت کا حکم دیا گیا تھا مگر انہوں نے نافرمانی کی۔
نافرمان لوگوں کی ہلاکت :
9:۔ ابن ابی حاتم نے شہر بن حوشب ؓ سے روایت کیا کہ میں ابن عباس ؓ کو اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” واذا اردنا ان نھلک قریۃ “ کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا کہ (ہم نے خوش عیش لوگوں کو) حق کا حاکم دیا مگر انہوں نے اس کی مخالفت کی تو اس وجہ سے ان پر تباہی کا فیصلہ کردیا۔
10:۔ ابن جریر ابن منذر ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذا اردنا ان نھلک قریۃ امرنا مترفیھا “ سے مراد ہے کہ ہم نے مسلط کیا ان کے شریر لوگوں کو۔
11:۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” امرنا مترفیھا “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے ان پر ظالم لوگوں کو مسلط کردیا جنہوں نے ان کو بڑا عذاب دیا پوچھا گیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو لبید بن ربیعہ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
ان یطبوا یبرموا وان امروا یوما یصیرو اللھلک والفقد۔
ترجمہ : ہلاک ہوگئے، پریشان ہوگئے اگر کسی دن ان پر ظالم مسلط کئے گئے تو ہلاک اور نیست ونابود ہوجائیں گے۔
12:۔ ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہے کہ (آیت) ” امرنا مترفیھا “ کو مثقلہ یعنی تشدید کے ساتھ پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس سے مراد ہے کہ ہم نے ان پر امراء یعنی مالدار بنائے۔
13:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس کو (آیت) ” امرنا مترفیھا “ میں الف کو مد کے ساتھ پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس سے مراد ہے کہ ہم فاسق لوگ زیادہ کردیئے۔
14:۔ سعید بن منصور، ابن جریر، اور ابن منذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ (آیت) ” امرنا مترفیھا “ اور اس سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو زیادہ کردیا۔
15:۔ ابن ابی حاتم نے ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” امرنا مترفیھا “ یعنی ہم نے ان کو زیادہ کردیا۔
16:۔ بخاری اور ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب زمانہ جاہلیت میں کسی قبیلہ کے لوگ زیادہ ہوجاتے تو ہم کہتے کہ فلاں قبیلہ زیادہ ہوگیا۔