Ayahs 17:90–96قریش کا اجتماعی طور پر آپ ﷺ سے گفتگو :
1:۔ ابن جریر، ابن اسحاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوسفیان بن حرب اور قبیلہ عبدالدار کا ایک آدمی (بقول بغوی نضر بن حارث) اور ابو البختری جو بنو اسد کے بھائی ہیں۔ اسود بن المطلب، زمعہ بن اسود، ولید بن مغیرہ، ابوجہل بن ہشام، عبداللہ بن ابی امیہ، امیہ بن خلف، عاص بن وائل، نبیہ بن حجاج، منبہ بن حجاج اور ان کے ساتھ کچھ لوگ سب کے سب غروب آفتاب کے بعد کعبہ کی پشت کے پاس جمع ہوئے اور باہم مشورہ کیا کہ کسی کو محمد ﷺ کے پاس بھیج کر ان کو بلواؤ اور ان سے بات چیت کرو اور جھگڑا طے کرلو تاکہ اتمام حجت ہوجائے اور (پھر تم جو کچھ کرو) تم کو معذور سمجھا جائے چناچہ ایک شخص کو بھیج کر یہ پیغام کہلایا کہ تمہاری قوم کے سردار تم سے گفتگو کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں آکر بات چیت کرلو رسول اللہ ﷺ کو خیال ہوا کہ لوگوں کی رائے میں کوئی نئ تبدیلی ہوگئی آپ تو دل وجان سے چاہتے تھے کہ کسی طرح ان کو ہدایت ہوجائے پیام ملتے ہی فورا چلے آئے جب آکر بیٹھ گئے تو حاضرین نے کہا محمد ﷺ ہم نے آدمی بھیج کر تم کو اس غرض سے بلوایا ہے کہ تمہارے متعلق ہم حجت تمام کردیں کوئی عربی شخص آج تک اپنی قوم پر وہ مشکلات نہیں لایا جو تم اپنی قوم پر لائے ہو تم نے اسلاف کو گالیاں دیں ان کے مذہب کو برا بھلا کہا جماعت میں پھوٹ ڈال دی کوئی ایسی قبیح بات باقی نہیں جو تم نے اپنے اور ہمارے درمیان پیدا نہ کردی ہو اگر اس چیز (قرآن اور اسلام) کو پیدا کرنے سے تمہارا مقصد حصول زر ہے تو ہم آپس میں چندہ کرکے تم کو اتنا مال دینے کو تیار ہیں کہ تم سب سے زیادہ دولت مند ہوجاؤ اور اگر تم عزت کے طلبگار ہو تو ہم تم کو اپنا سردار بنالیں گے اور اگر حکومت چاہتے ہو تو اپنا حاکم بھی تم کو قرار دے سکتے ہیں اور اگر کوئی جن تم پر مسلط ہوگیا ہے جو یہ کلام تم کو بتاتا ہے اور تم اس کو نہیں لوٹا سکتے تو ہم تمہارے علاج کے لئے اپنا مال خرچ کرنے کے لئے تیار ہیں (کسی کاہن یا عامل کو روپیہ دے کر اس کا اتارا کرا دیں گے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جتنی باتیں تم نے کہیں ان میں سے کوئی بات بھی صحیح نہیں ہے۔ میں یہ قرآن پیش کرکے نہ زر کا طبگار ہوں نہ عزت وسیادت کا نہ حکومت واقتدار کا مجھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے پاس پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور مجھے ایک کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھے حکم دیا کہ (ماننے والوں کو جنت کی) خوشخبری دے دوں اور (نہ ماننے والوں کو دوزخ سے) ڈراوں اب میں اللہ کا پیام پہنچا چکا اور تم کو نصیحت کرچکا اگر مان لوگے تو یہ دنیا اور آخرت میں تمہاری خوشی نصیبی ہوگی رد کردوگے تو میں اللہ کے حکم پر صبر کروں گا اور منتظر رہوں گا کہ اللہ میرا اور تمہارا کیا فیصلہ کرتا ہے کہنے لگے محمد جو کچھ ہم نے پیش کیا اگر تم کو وہ قبول نہیں تو (اپنی پیغمبری کا ثبوت پیش کرو) تم واقف ہو ہماری یہ بستی بہت تنگ ہے (ہر طرف سے پہاڑ گھیرے ہوئے ہیں ہم اس کو کسی طرف نہیں بڑھا سکتے) اور ہمارے پاس مال بھی سب (یعنی اہل شام ویمن) سے کم ہے اور ہماری زندگی بھی بہت زیادہ دکھی ہے پس تم اپنے رب سے درخواست کرکے ان پہاڑوں کو جنہوں نے ہماری بستی کو تنگ کر رکھا ہے یہاں سے ہٹوا دو کہ ہمارا یہ شہر پھیل جائے اور شام و عراق کی طرح (ہمارے ملک میں بھی) ہمارے لئے دریا بہادو اور یہ بھی اپنے رب سے کرا دو کہ ہمارے آباؤ و اجداد اور زندہ ہوجائیں جن میں قصی بن کلاب (قریش کا مورث اعلی) بھی ضرور ہو وہ بڑا سچا آدمی تھا پھر ان سب سے دریافت کریں کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو وہ سچ ہے یا جھوٹ اگر وہ تمہاری تصدیق کردیں گے تو ہم بھی تم کو سچا مان لیں گے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے اس لئے نہیں بھیجا گیا جو پیام مجھے دے بھیجا گیا تھا وہ میں نے تم کو پہنچا دیا ہے اگر مان لوگے تو دنیاوآخرت میں یہ تمہاری خوش نصیبی ہوگی قبول نہ کروگے تو میں اللہ کے حکم کے انتظار میں صبر کروں گا کہنے لگے اچھا اگر تم یہ نہیں کرسکتے تو اپنے رب سے کہہ کر اتنا ہی کرادو کہ وہ تمہاری تصدیق کرنے کے لئے ایک فرشتے کو بھیج دے اور تم کو کچھ باغ اور سونے چاندی کے خزانے دے دے کہ جس تکلیف (اور افلاس) میں ہم تم کو دیکھ رہے ہیں اس سے تم بےغم ہوجاؤ تم بازاروں میں کھڑے ہو کر ہماری طرح روزی کی جستجو میں لگے رہتے ہو پھر اس کی فکر تم کو نہ رہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ نے مجھے اس لئے نہیں بھیجا مجھے بشیر ونذیر بنا کر بھیجا ہے کہنے لگے اچھا تو ہمارے لئے آسمان کو ہی گرا دو کیونکہ تمہارا یہ دعوی ہے کہ تمہارا رب اگر چاہے تو ایسا کرسکتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا یہ اختیار اللہ کو ہے اگر وہ تمہارے ساتھ ایسا کرنا چاہے گا تو کردے گا ایک شخص بولا ہم تو تمہاری بات اس وقت تک نہ مانیں گے جب تک اللہ کو اور فرشتوں کو تم ہمارے سامنے لا کر شہادت نہ دلوا دو یہ بات سن کر رسول اللہ ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ آپ کی پھوپھی عاتکہ بنت عبدالمطلب کا لڑکا عبداللہ بن ابی امیہ بھی اٹھ کھڑا ہوا اور (راستہ) میں کہنے لگا محمد تمہاری قوم نے چند باتیں تمہارے سامنے رکھیں اور تم نے کسی بات کو قبول نہیں کیا پھر انہوں نے چند باتیں طلب کیں جن سے معلوم ہوجاتا کہ اللہ کے ہاں تمہارا خصوصی مرتبہ ہے آپ نے ان کو بھی نہ مانا پھر انہوں نے آپ سے کہا کہ جس عذاب سے تو ڈرا رہے ہو وہ جلدلے آؤ آپ نے ایسا بھی نہ کیا اب بخدا میں تمہاری اس بات کا صرف اس وقت ہی یقین کرسکوں گا کہ تم میری نظر کے سامنے سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ جاؤ پھر میرے سامنے وہاں سے ایک کھلی ہوئی کتاب لے کر آجاؤ اور تمہارے ساتھ چار فرشتے بھی آئیں جو تمہاری تصدیق کریں اور میرا تو خیال ہے کہ اگر تم ایسا کر بھی گذرو گے تب بھی میں تمہاری تصدیق نہ کرسکوں پھر وہ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر واپس چلا گیا اور رسول اللہ ﷺ غمگین ہو کر اپنے گھر کو لوٹ آئے اس امید کے ختم ہونے پر جو اپنی قوم سے ان کو تھی جب ان کو دعوت دی اور جب دیکھا خاص کر ان کی تابعداری کرنے والوں کو (تو ان کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے) اور اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں قرآن نازل فرمادیا جو عبداللہ بن ابی امیہ نے آپ کو کہا تھا (آیت) ” وقالولن نومن لک “ سے لے کر ” بشرارسولا “ تک اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول (آیت) ” لن نومن بالرحمن “ کے متعلق بھی یہ نازل فرما دیا (آیت) ” کذلک ارسلنک فی امۃ قدخلت “ (الآیۃ) (الرعد آیت : 30) اور اس کے متعلق بھی قرآن اتارا جو آپ سے آپ کی قوم نے اپنے لئے مطالبات کئے تھے کہ پہاڑ چلائے جائیں اور پہاڑ یہاں سے ہٹائے جائیں انہوں نے اپنے مردوں کو زندہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا اس کے متعلق بھی قرآن نازک فرمایا (آیت) ” ولوان قرانا سیرت بہ الجبال “ الایۃ (الرعد آیت 31)
2:۔ سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقالولن نومن لک “ (یہ آیت) ام سلمہ کے بھائی کے بارے میں نازل ہوئی (جن کا نام تھا) عبداللہ بن ابی امیہ ؓ ۔
3:۔ ابن جریر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” حتی تفجرلنا “ میں تفجر کو تخفیف کے ساتھ پڑھا۔
4:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” تفجرلنا من الارض ینبوعا “ یعنی ہمارے اس شہر میں (چشمے جاری ہوجائیں)
5:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ینبوعا “ سے مراد ہے چشمے۔
6:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الینبوع “ سے مراد ہے وہ پانی جو چشمے سے جاری ہو۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اوتکون لک جنۃ من نخیل وعنب “ سے مراد ہے زمین اور جائداد۔
8:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اوتسقط السمآء کما زعمت علینا کسفا “ میں کسفا سے مراد ہے ٹکڑا (آسمان سے ) ۔
9:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اوتاتی باللہ والملئکۃ قبیلا “ میں قبیلا سے مراد ہے عیانا یعنی سامنے۔
10:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویکون لک بیت من زخرف “ سے مراد ہے سونا۔
11:۔ ابوعبید نے فضائل میں عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن انباری نے مصاحف میں اور ابونعیم نے حلیہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا کہ زخرف کیا ہے یہاں تک کہ میں نے اس کو سنا عبداللہ کی قرأت میں (آیت) ” اویکون لک بیت من زخرف “ پھر انہوں نے فرمایا اس سے مراد سونا ہے۔
12:۔ عبدبن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الزخرف “ سے مراد ہے سونا۔
13:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” حتی تنزل علینا کتبا نقروہ “ کا مطلب یہ ہے کہ رب العالمین کی طرف سے صحیفہ آئے کہ فلاں بن فلاں کی طرف یعنی ہم میں سے ہر شخص کے پاس صبح کو ایک (لکھا ہوا) صحیفہ رکھا ہو جس کو وہ پڑھ لے۔
Ayahs 17:97–99لوگوں کو چہرے کے بل چلایا جائے گا :
1:۔ احمد، بخاری، مسلم، نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، حاکم، ابونعیم نے معرفہ میں ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں انس ؓ سے روایت کیا کہ پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ لوگوں کو کس طرح ان کے چہروں کے بل اٹھایا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا جس ذات نے ان کو ان کی ٹانگوں کے بل چلایا وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان کو ان کے چہروں کے بل چلائے۔
2:۔ ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت ” الذین یحشرون علی وجوھہم “ پڑھی تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اپنے چہروں کے بل کیسے چلیں گے ؟ آپ نے فرمایا تم بتاؤ کہ جس ذات نے ان کو ان کے قدموں کے بل چلایا ہے کیا وہ اس پر بات پر قادر نہیں ہے کہ ان کو ان کے چہروں کے بل چلائے۔
3:۔ ابوداود، ترمذی، ابن جریر، ابن مردویہ اور بیہقی نے بعث میں (ترمذی نے تحسین بھی کی ہے) ۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کو تین قسموں میں اٹھایا جائے گا کچھ لوگ سوار ہوں گے کچھ پیدل اور کچھ منہ کے بل گھسٹتے ہوں گے پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ منہ کے بل کیسے چلیں گے ؟ فرمایا جس ذات نے ان کو ٹانگوں کے بل چلایا وہ ان کو ان کے مونہوں کے بل چلانے پر بھی قادر ہے ہاں وہ اپنے مونہوں کو ہر پست مقام اور کانٹے سے بچائیں گے۔
4:۔ احمد نسائی حاکم ابن مردویہ اور بیہقی نے بعث میں (حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت (آیت) ” ونحشرہم یوم القیمۃ علی وجوہہم عمیا وبکماوصما “ تلاوت فرمائی اور فرمایا مجھے صادق اور مصدوق ذات ﷺ نے بیان فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں کو تین جماعتوں میں اٹھایا جائے گا ایک جماعت کپڑے پہنے ہوئے کھائے پئے اور سواریوں پر سوار ہوگی اور ایک جماعت پیدل چلے گی اور دوڑے گی اور ایک جماعت کو فرشتے منہ کے بل گھسیٹیں گے۔
5:۔ ابن ابی شیبہ، احمد، ترمذی، نسائی، ابن مردویہ اور حاکم نے (ترمذی نے تحسین بھی کی ہے) معاویہ بن حیدہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ تم کو اٹھایا جائے گا سوار ہونے کی حالت میں پیدل ہونے کی حالت میں اور تم کو گھسیٹا جائے گا منہ کے بل اور آپ نے اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ فرمایا۔
6:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عمیا “ سے مراد ہے کہ وہ کسی ایسی چیز کو نہ دیکھیں گے جو ان کو خوش کردے (آیت) ” وبکما “ یعنی وہ کسی دلیل کے ساتھ نہ بولیں گے (آیت) ” وصما “ یعنی وہ ایسی چیز کو نہ سنیں گے جو ان کو خوش کردے۔
7:۔ بخاری نے تاریخ میں ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہرگز تم کسی فاجر کی نعمت پر رشک نہ کرو کیونکہ اس کے پیچھے ایک تیز طلب کرنے والا موجود ہے اور رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت ” ماوھم جھنم کلما خبت زدنہم سعیرا “ تلاوت فرمائی۔
8:۔ بیہقی نے شعب میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دنیا ہری بھری اور میٹھی ہے جو شخص اس میں حرام طریقہ سے مال کو کمائے گا اور اس کو غلط راستے میں خرچ کرے گا تو (اللہ تعالیٰ ) اس کو ذات والے گہڑے میں اتارے گے اور بہت سے لوگ اللہ اور اس کے رسول کے مال میں تصرف کرتے ہیں (یعنی فضول کاموں میں خرچ کرتے ہیں) ان کے لئے قیامت کے دن آگ ہوگی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” کلما خبت زدنہم سعیرا “
9:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماوہم جہنم “ یعنی وہ (کافر) جہنم کا ایندھن ہوں گے۔
10:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کلما خبت “ یعنی جب بھی (آگ) بجھنے لگے گی (تو پھر اس کو بھڑکادیا جائے گا)
11:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کلما خبت زدنہم سعیرا “ یعنی جب بھی آگ بجھ جائے گی تو اس کو بھڑکادیا جائے گا۔
12:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور ابن انباری نے کتاب الاضداد میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کلما خبت زدنہم سعیرا “ سے مراد ہے کہ جب آگ ان کو جلادے گی تو پھر ان کو بطور ایندھن جلایا جائے گا آگ جب ان کو پوری طرح جلا دے گی اور ان میں کوئی چیز باقی نہیں رہے گی تو آگ سرخ اور چمکدار ہوجائے گی اور یہی آگ کی حرارت ہے پھر جب ان کے جسم دوبارہ تیار ہوجائیں گے تو آگ پھر سے ان کو جلانا شروع کردے گی۔
13:۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن انباری نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کلما خبت زدنہم سعیرا “ سے مراد ہے کہ جب بھی ان کی کھالیں جل جائیں گی تو کھالوں کو تبدیل کردیا جائے گا اس کے علاوہ دوسرے کھالوں کے ساتھ تاکہ وہ عذاب کو چکھتے رہیں۔
14:۔ طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” کلما خبت زدنہم “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ خبت سے مراد ہے کہ جب ایک مرتبہ آگ بجھے گی تو دوبارہ بھڑکادی جائے گی پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
وتخبوا النار علی ادنی اذاھم واضرمھا اذا ابتردوا سعیرا :
ترجمہ : اور آگ بجھتی و بھڑکتی ہے ان کو اذیت دینے کے لئے اور جب وہ ٹھنڈی ہوجاتی ہے تو دوبارہ بھڑکائی جاتی ہے۔
15:۔ ابن انباری نے ابوصالح (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” کلما خبت “ سے مراد ہے ” (آیت) ” کلما خبت “ (یعنی جب وہ گرم ہوگئی )
Ayah 17:1001:۔ ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” خزآئن رحمۃ ربی “ سے مراد ہے رزق۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذا لا مسکتم خشیۃ الانفاق “ (یعنی اگر تم اللہ کی رزق کے خزانوں کے مالک ہوجاتے) تب تو تم کسی کو کچھ بھی نہ کھلاتے۔
3:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” خشیۃ الانفاق “ سے مراد ہے فقر (اور فرمایا) (آیت) ” وکان الانسان قتورا “ میں قتورا کا معنی ہے بخیلا (یعنی انسان بخیل ہے)
4:۔ عبدالرزاق ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” خشیۃ الانفاق “ سے مراد ہے فاقہ کے ڈر سے (وکان الانسان قتورا “ یعنی (انسان) بخیل ہے اور (مال کو) روکنے والا ہے۔
Ayahs 17:101–1051:۔ عبدالرزاق، سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم کے طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت بینت “ سے مراد یہ نشانیاں ہیں یدبیضاء، عصا، طوفان، مکڑی، چیچڑی، مینڈک، خون قحط سالی اور پھلوں میں نقصان (یہ نومعجزات موسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے)
2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” تسع ایت بینت “ سے مراد ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کا ہاتھ انکی لاٹھی انکی زبان، سمندری، مکڑی، جوئیں، مینڈک اور خون (یہ ان کے معجزات تھے)
3:۔ طیالسی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابویعلی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن قانع، حاکم، ابن مردویہ، اور ابونعیم، اور بیہقی دونوں نے دلائل میں (ترمذی اور حاکم نے تصحیح بھی کی) صفوان بن عسال (رح) سے روایت کیا کہ دو یہودیوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا ہم اس نبی کے پاس چل کر سوال کریں وہ دونوں خدمت عالی میں آئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت بینت “ کے بارے میں پوچھا (یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی نوآیات بینات کے بارے میں پوچھا) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نوآیات یہ ہیں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ زنا نہ کرو، اور اس جان کو قتل نہ کرو جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا مگر حق کے ساتھ چوری نہ کرو، جادو نہ کرو اور بےگناہ آدمی کو بادشاہ پاس نہ لے جاؤ تاکہ وہ اس کو قتل کردے سود نہ کھاؤ اور پاک دامن عورتوں پر تہمت نہ لگاؤ فرمایا لڑیائی سے نہ بھاگو (شعبہ نے شک کیا) اور اے یہودیو خاص کر تم پر لازم ہے کہ تم ہفتہ کے دن زیادتی نہ کرو (یہ باتیں سن کر) ان دونوں نے آپ کے ہاتھ اور پیروں کو بوسہ دیا اور کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں آپ نے فرمایا اسلام لانے سے تمہیں کس نے روکا ہے ؟ دونوں نے کہا داود (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ اس کی اولاد میں برابر نبی ہوتے رہیں اور ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم مسلمان ہوگئے تو یہودی ہم کو قتل کردیں گے۔
4:۔ ابن ابی الدنیا نے ذم الغضب میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وانی لاظنک یفرعون مثبورا “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے مخالفت کرنے والا اور فرمایا انبیاء بہت بلند ہوتے ہیں اس بات سے کہ انہوں لعنت کی جائے یا ان کو گالیاں دی جائیں۔
5:۔ احمدنے زہد میں ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے (آیت) ” فسئل بنی اسرآئیل “ فرماتے تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے بنی اسرائیل کا مطالبہ کیا کہ ان کو میرے ساتھ بھیج دے مالک بن دینار (رح) نے فرمایا انہوں نے (آیت) ” فسئل “ بغیر الف کے لکھا جیسے انہوں نے قال کو قل لکھا۔
6:۔ سعید بن منصور، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی ؓ یوں پڑھتے تھے (آیت) ” لقد علمت “ رفع کے ساتھ علی ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم اللہ کے دشمن نے نہیں جانا تھا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) نے جان لیا۔
7:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے یوں پڑھا (آیت) ” لقد علمت “ نصب کے ساتھ یعنی فرعون پھر (یہ آیت) پڑھی ” وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسہم “ (النمل 14)
8:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” مبثورا “ سے مراد ہے لعنت کیا ہوا۔
9:۔ ابن جریر نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے اسی طرح بیان فرمایا۔
10:۔ شیرازی نے القاب میں اور ابن مردویہ نے میمون بن مہران کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” مثبورا “ سے مراد ہے تھوڑے عقل والا۔
11:۔ طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” مثبورا “ کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا اس سے مراد ہے لعنت کیا ہوا جو خیر سے روکا ہوا پوچھا گیا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے عبداللہ بن زبعری کو نہیں سنا۔
اذا اتانی الشیطان فی سنۃ النوم ومن مال میلۃ مثبورا۔
ترجمہ : جب اونگھ میں شیطان میرے پاس آیا اور جو مائل ہوگیا لعنت کیا گیا۔
12:۔ ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لفیفا “ سے مراد ہے جمیعا (سارے کا سارا)
Ayahs 17:106–1091:۔ نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ (آیت) ” وقرانا فرقنہ “ میں فرقنہ کو شد کے ساتھ پڑھتے تھے فرمایا قرآن نازل کیا گیا آسمان دنیا پر رمضان کی لیلۃ القدر میں ایک ہی مرتبہ (یعنی اکٹھا) اور مشرکین جب کوئی نیا سوال کرتے تو اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں آیات فرماتے تھے پس اللہ نے قرآن مجید کو جدا جدا کرکے اتارا بیس سال میں۔
قرآن کریم کا نزول لوح محفوظ سے یکبارگی ہوا۔
2:۔ ابن ابی حاتم محمد بن نصر اور ابن انباری نے مصاحف میں ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قرآن یکبارگی نازل ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوح محفوظ سے کراما کاتبین سفیروں کے ذریعہ آسمان دنیا میں پھر ان فرشتوں نے تھوڑا کرکے نازل کیا جبرائیل (علیہ السلام) پر بیس راتوں میں پھر جبرائیل (علیہ السلام) نے اس کو نبی کریم ﷺ پر بیس سالوں میں اتارا مشرکین نے کہا ان پر قرآن ایک مرتبہ کیوں نازل نہیں ہوا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” کذلک لنثبت بہ فوادک “ (الفرقان آیت 32) تجھ پر اس لئے جدا جدا کرکے نازل کیا گیا تاکہ آپ ان کے سوالوں کا جواب دے سکیں اگر ہم اس کو تجھ پر ایک ہی مرتبہ نازل کیا دیتے پھر وہ آپ سے سوال کرتے تو تیرے پاس جواب نہ ہوتا جو وہ تجھ سے سوال کرتے۔
3:۔ بزار اور طبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قرآن ایک مرتبہ نازل کیا گیا یہاں تک کہ آسمان دنیا کے بیت العزۃ میں رکھ دیا گیا پھر جبرائیل (علیہ السلام) نے اس کو محمد ﷺ پر بندوں کے کلام اور ان کے اعمال کے جواب کے مطابق نازل کیا۔
4:۔ ابن شیبہ، ابن جریر اور ابن منذر نے ابوالعالیہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اسے (یعنی فرقنا) کو شد (تشدید) کے ساتھ پڑھتے تھے یعنی ایک ایک کرکے نازل ہوا۔
5:۔ بیہقی نے شعب میں حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ قرآن سیکھو پانچ پانچ آیتیں کرکے کیونکہ جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے پاس ہر پانچ پانچ آیتیں لے کر نازل ہوتے تھے۔
6:۔ ابن عساکر نے ابو نصرہ کے طریق سے روایت کیا کہ ابو سعید خدری ؓ کو ہم کو پانچ آیتیں صبح کو اور پانچ آیتیں شام کو سکھاتے تھے اور انہوں نے ہم کو بتایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) بھی قرآن کی پانچ پانچ آیتیں لے کر نازل ہوتے تھے۔
7:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر اور ابن منذر نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ وہ (آیت) ” وقرانا فرقنہ “ کو تخفیف کے ساتھ پڑھتے تھے یعنی ہم نے اس کو بیان کردیا۔
8:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقرانا فرقنہ “ کا معنی فصلنہ ہے یعنی ہم نے اس کو جداجدا کردیا ” علی مکث “ یعنی مدت ” یخرون للاذقان “ سے مراد ہے چیزوں کے لئے۔
9:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” علی مکث “ یعنی ٹھہر ٹھہر کر۔
10:۔ ابن ضریس نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقرانا فرقنہ “ یعنی (قرآن) نازل نہیں ہوا ایک رات میں یا دوراتوں میں نہ ایک ماہ میں نہ دو ماہ میں نہ ایک سال میں نہ دو سالوں میں بلکہ اس کی ابتداء اور انتہاء کے درمیان بیس سال کا فاصلہ ہے یا جتنا اللہ نے چاہا۔
11:۔ ابن ضریس نے قتادہ کے طریق سے حسن (رح) سے روایت کیا کہ کہا جاتا تھا کہ قرآن اللہ کے نبی محمد ﷺ پر آٹھ سال مکہ مکرمہ میں اور دس سال ہجرت کے بعد نازل ہوا قتادہ ؓ فرمایا کرتے تھے دس سال مکہ میں اور دس سال مدینہ میں نازل ہوتا رہا۔
12:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان الذین اوتوا العلم من قبلہ “ سے اہل کتاب میں سے وہ لوگ مراد ہیں جب انہوں نے وہ کلام سنا جو اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ پر نازل فرمایا۔
13:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” من قبلہ “ یعنی نبی کریم ﷺ سے پہلے (آیت) ” اذا یتلی “ یعنی جو ان پر نازل ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔
14:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذا یتلی علیہم “ سے مراد ہے انکی اپنی کتاب “
15:۔ ابن مبارک، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عبدالاعلی تیمی (رح) سے روایت کیا کہ جس کو ایسا علم دیا گیا جو نہیں رلاتا ہے خالق کی (یاد اور خوف) کے لئے یا اسے ایسا علم دیا گیا جو اس کو نفع نہیں دیتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل علم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” ویخرون للاذقان یبکون ویزیدھم خشوعا “ (کہ وہ گریہ زاری کرتے ہوئے ٹھوڑیوں کے بل گرپڑتے ہیں)
16:۔ احمد نے زہد میں ابوالجراح سے اور انہوں نے ابوحازم (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور آپ کے پاس ایک آدمی رو رہا تھا جبرائیل (علیہ السلام) نے پوچھا یہ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ فلاں آدمی ہے جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہم بنو آدم کے سارے اعمال کا وزن کرتے ہیں سوائے رونے کے بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایک آنسو کے ساتھ جن ہم کی آگ کی نہروں کو بجھا دیتے ہیں۔
17:۔ حکیم ترمذی نے نضر بن سعد (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا امتوں میں کسی امت میں ایک بندہ رودے تو اللہ تعالیٰ اس امت کو آگ سے نجات دے دیتے ہیں اس بندہ کے رونے کی وجہ سے کوئی عمل نہیں ہوتا مگر اس کے لئے وزن اور ثواب ہوتا ہے سوائے آنسو کے ایک آنسو کے سمندروں کو بجھا دیتا ہے جو آنکھ خشیت الہی کی وجہ سے اپنے آنسووں سے ڈبڈباگئی تو اللہ تعالیٰ (اس کی وجہ سے) اس کے جسم کو آگ پر حرام فرمادیتے ہیں اگر وہ آنسو اس کے رخسار پڑا رہے تو اس کے چہرے پر نہیں چھائے گی کالک اور نہ ذلت۔
18۔ ابن ابی شیبہ نے جعد ابوعثمان (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ داود (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے خدا کیا بدلہ ہے جس کی آنکھیں بہہ پڑیں تیرے خوف سے فرمایا اس کا بدلہ یہ ہے کہ میں اس کو امن میں رکھوں گا بڑی گھبراہٹ والے دن سے۔
Ayah 17:1101:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ بلند آواز سے دعا مانگا کرتے تھے اور یہ فرماتے ہیں یا اللہ یا رحمان مکہ والوں نے اس کو سن لیا اور آپ کی طرف متوجہ ہوئے (کہ خود خدا وں کو پکارتے ہو اور ہم کو منع کرتے ہو) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” قل ادعوا اللہ اوادعوا الرحمن “ (الآیۃ)
اللہ تعالیٰ کو رحمن کہہ کر پکارنا :
2:۔ ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن مکہ میں نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی اور دعا میں یوں فرمایا یا اللہ یا رحمان مشرکوں نے کہا اس بےدین آدمی کی طرف دیکھو ہم کو دو خدا پکارنے سے منع کرتا ہے اور وہ خود دو خدا وں کا پکارتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” قل ادعوا اللہ اوادعوا الرحمن “ (الآیۃ)
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن کھیت میں اپنے ہاتھ میں کھجور کی چھڑی لئے ہوئے تھے یہودیوں نے رحمان کے بارے میں پوچھا اور ان کا یمامہ میں ایک کا ھن تھا جس کا نام رحمان تھا تو یہ آیت (آیت) ” قل ادعوا اللہ اوادعوا الرحمن “ نازل ہوئی۔
4:۔ ابن جریر نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ ایک رات مکہ میں تہجد پڑھ رہے تھے اور آپ نے اپنے سجدہ میں کہا یارحمان یا رحیم مشرکین میں سے ایک آدمی نے اس کو سن لیا جب صبح ہوئی تو اپنے ساتھیوں سے کہا دیکھوابن ابی کبثہ (یعنی محمد ﷺ اس رحمان کو پکار رہا تھا جو یمن میں ہے اور یمن میں ایک آدمی تھا جس کو رحمان کہا جاتا تھا تو یہ (آیت) ” قل ادعوا اللہ اوادعوا الرحمن “ (الآیۃ) نازل ہوئی۔
5:۔ بیہقی نے دلائل میں نہشل بن سعید کے طریق سے ضحاک سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” قل ادعوا اللہ اوادعوا الرحمن، ایاما تدعوا فلہ الاسمآء الحسنی “ (آخری آیت تک) کے بارے میں پوچھا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ امان ہے چوری سے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب مہاجرین میں سے ایکآدمی نے اس کی تلاوت کی جہاں وہ سویا ہوا تھا وہاں ایک چور داخل ہوگیا گھر میں جو کچھ تھا اس کو جمع کرکے اٹھالیا وہ گھر کا مالک جاگ رہا تھا یہاں تک وہ گھر کا مالک جاگ رہا تھا یہاں تک وہ چوردروازہ تک پہنچا تو اس نے دروازہ کو اندر سے بند پایا تو اس نے سامان کی گٹھڑی کو نیچے رکھا اس نے تین مرتبہ کوشش کی (لیکن دروازہ نہ کھل سکا) ہنس پڑا پھر کہا میں نے اپنے گھر کو محفوظ کر رکھا ہے۔
6:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ایاما تدعوا “ اس کے ناموں میں جس کے ساتھ پکارو (واللہ اعلم)
نامناسب جگہ جھرا قرآن نہ پڑھا جائے :
7:۔ سعید بن منصور، احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، ابن مردویہ، طبرانی اور بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک “ اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ مکہ میں چھپ کرنمازیں پڑھتے تھے جب آپ اپنے صحابہ کو نماز پڑھاتے تھے تو اونچی آواز میں قرآن پڑھتے تھے جب اس کو مشرک لوگ سنتے تھے (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک “ یعنی اپنی قرأت کو اونچا نہ کرو تاکہ مشرکین قرآن کو سن کر اس کی توہین اور گستاخی نہ کریں اور فرمایا (آیت) ” ولا تخافت بھا “ اور آواز کو اتنا بست بھی نہ کرو کہ صحابہ کو بھی نہ سنا سکیں اور فرمایا (آیت) ” وابتغ بین ذلک سبیلا “ یعنی اونچی آواز اور آہستہ آواز کے درمیان قرآن کی تلاوت کریں۔
8:۔ ابن اسحاق، ابن جریر، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز میں بلند آواز سے تلاوت کرتے تھے تو (کافر) آپ سے جدا ہوجاتے اور قرآن سننے سے انکار کردیتے اور جب ان میں سے کوئی نماز میں بلند آواز سے تلاوت کرتے تھے تو (کافر) آپ سے جدا ہوجاتے اور قرآن سننے سے انکار کردیتے اور جب ان میں سے کوئی رسول اللہ ﷺ سے نماز کی حالت میں آپ کا کلام سننا چاہتا تھا تو دوسرے مشرکین سے ڈر کی وجہ سے چوری چھپے سنتا تھا اور جب وہ دیکھتا کہ انہوں نے مجھے پہچان لیا ہے کہ وہ سن رہا ہے تو وہ ان کی طرف سے تکلیف پہنچانے کے ڈر سے بھاگ جاتا اور قرآن نہ سنتا اور اگر رسول اللہ ﷺ آہستہ آواز سے تلاوت فرماتے تو جو آپ کی قرأت کو سنتے تھے وہ بھی نہ سن سکتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک “ (کہ آپ اپنی آواز کو قرأت کے ساتھ بلند نہ کریں) تاکہ مشرکین آپ سے بھاگ جائیں گے (آیت) ” ولاتخافت بھا “ (اور بالکل آہستہ بھی نہ کریں) تو وہ آدمی بھی نہ سن سکے گا جو چوری چھپے آپ کی قرأت کو سننے کا ارادہ کرتا ہے شاید قرآن سن کر وہ اپنی جہالت سے باز آجائے اور اس سے نفع اٹھائے (آیت) ” وابتغ بین ذلک سبیلا “ (یعنی ان دونوں کے درمیان معتدل راستہ تلاش کرو)
تلاوت میں معتدل الفاظ :
9:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ مکہ میں بلند آواز سے قرأت فرمایا کرتے تھے تو آپ کو اذیت دی گئی تو اللہ تعالیٰ نے (یہ حکم) نازل فرمایا (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک “ (یعنی اپنی نماز میں بلند آواز سے قرأت نہ کیجئے)
10:۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ جب بیت اللہ کے پاس نماز پڑھتے تھے تو بلند آواز سے قرأت کرتے تھے مشرکین آپ کو تکلیف دیتے تھے تو یہ (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک “ (الآیۃ) نازل ہوئی۔
11:۔ ابوداود نے ناسخ میں اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی نماز میں بلند آواز سے تلاوت فرمایا کرتے تھے تو مشرکین کو اس سے تکلیف پہنچتی تھی تو آپ نے اور آپ کے صحابہ نے اپنی نمازوں میں قرأت کو آہستہ کردیا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک، ولا تخافت بھا “ اور سورة اعراف میں فرمایا (آیت) ” واذکر ربک فی نفسک “ (الاعراف آیت 205)
12:۔ طبرانی اور بیہقی نے سنن میں ابن عباسؓ سے (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک، ولا تخافت بھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ کوئی شخص جب نماز میں دعا کرتا تھا تو اپنی آواز کو اونچا کرتا تھا۔
13:۔ طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مسیلمہ کذاب کو رحمان کہا جاتا تھا اور نبی کریم ﷺ جب نماز پڑھتے تھے تو بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھتے تھے مشرکوں نے کہا یہ یمامہ کے خدا کو پکارتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک، ولا تخافت بھا “
14:۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے اور مسلمہ کذاب کو رحمان کہا جاتا تھا جب مشرکین نے نبی کریم ﷺ سے یہ الفاظ کو سنا تو انہوں نے کہا کہ آپ تو یمامہ کے خدا مسیلمہ کذاب کا ذکر کیا ہے پھر وہ چٹکیاں اور تالیاں بجانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک “ (الآیۃ)
15:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ جب زور سے قرآن پڑھتے تھے تو مشرکین پر بھاری گذرتا تھا تو وہ نبی کریم ﷺ کو گالیوں سے تکلیف پہنچاتے تھے اور یہ مکہ میں ہوتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اے محمد ﷺ (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک، ولا تخافت بھا “ یعنی اپنی آواز کو اتنا آہستہ نہ کرو یہاں تک کہ تیرے کان بھی نہ سنیں (آیت) ” وابتغ بین ذلک سبیلا “ (یعنی درمیانی آواز ہو) اعلان اور اخفاء کے درمیان معتدل راستہ اختیار کریں نہ زیادہ اونچی آواز ہو اور نہ اتنی آہستہ ہو کہ تیرے کان میں نہ سنیں جب نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو یہ سب کچھ ترک فرما دیا۔
16:۔ سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر اور بیہقی نے شعب میں محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ مجھے بتایا گیا کہ ابوبکر ؓ آہستہ قرأت کرتے تھے اور عمر ؓ بلند آواز سے قرأت کرتے تھے ابوبکر ؓ سے کہا گیا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا میں اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہوں اور اسے میری حاجت کا علم ہے، عمر ؓ سے کہا گیا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا میں شیطان کو بھگاتا ہوں اور سونے والوں کو جگاتا ہوں جب یہ (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک، ولا تخافت بھا “ نازل ہوئی تو ابوبکر ؓ سے کہا گیا کہ آپ کچھ (آواز کو) اونچا کریں اور عمر ؓ سے کہا گیا آپ کچھ آواز کو آہستہ کریں۔
17:۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ جب رات کو نماز پڑھتے تھے تو اپنی آواز کو بہت آہستہ کرتے تھے اور عمر ؓ جب نماز پڑھتے تھے تو بہت اونچی آواز سے پڑھتے تھے عمر ؓ نے کہا اے ابوبکر ؓ اپنی آواز کو کچھ بلند کرلیتے (تو اچھا تھا) اور ابوبکر ؓ نے فرمایا اے اپنی آواز کو تھوڑا سا پست کرلیتے (تو اچھا تھا) دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے اپنے معاملہ کو پیش کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک، ولا تخافت بھا “ نازل فرمائی تو نبی کریم ﷺ نے ان دونوں حضرات کو بلایا اور فرمایا اے ابوبکر ؓ اپنی آواز کو کچھ اونچا کر اور عمر ؓ سے فرمایا اپنی آواز کو کچھ پست کرلو۔
18۔ سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ نے مصنف میں، بخاری، مسلم، ابوداود نے ناسخ میں، نحاس، ابن نصر ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک، ولا تخافت بھا “ دعا کے بارے میں نازل ہوئی۔
19:۔ ابن جریر اور حاکم نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک، ولا تخافت بھا “ تشہد کے بارے میں نازل ہوئی۔
20:۔ ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک، سوال کرنے اور دعا کرنے کے بارے میں نازل ہوئی۔
21:۔ محمد بن نصر اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب بیت اللہ کے پاس نماز پڑھتے تھے تو دعا میں اپنی آواز کو اونچا فرماتے تھے اور مشرکین نے آپ کو تکلیف دیں تو یہ (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک، ولا تخافت بھا “ نازل ہوئی۔
22:۔ سعید بن منصور، بخاری نے تاریخ میں، ابن منذر اور ابن مردویہ نے دراج ابوالسمیع (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک، ولا تخافت بھا “ دعا کے بارے میں نازل ہوئی یعنی اپنی دعا میں اپنی آواز کو بلند نہ کرو اس لئے کہ تو اپنے گناہوں کو یاد کرو گے تو لوگ سنیں گے اور ان کی وجہ سے تم کو عار دلائی جائے گی۔
23:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منیح، ابن جریر محمد بن نصر، ابن منذر، اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک “ کے بارے میں روایت کیا کہ (یہ آیت) دعا کے بارے میں نازل ہوئی کہ وہ لوگ زور سے دعا کرتے تھے اے اللہ مجھ پر رحم فرما جب (یہ آیت) نازل ہوئی تو حکم دیا گیا کہ نہ تو آہستہ دعا کرو اور نہ بلند آواز سے کرو (بلکہ درمیانی آواز سے کرو)
24:۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں ابن جریر اور ابن منذر نے عبداللہ بن شداد (رح) سے روایت کیا کہ بنوتمیم کے اعراب جب نبی کریم ﷺ کو سلام کرتے تو اس طرح کہتے اے اللہ ! عطا فرما ہم کو اونٹ اور بیٹے تو پس یہ (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک “ نازل ہوئی۔
25:۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ دعا اور سوال کرنے کے بارے میں نازل ہوئی۔
26:۔ ابن ابی حاتم اور طبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک “ سے مراد ہے کہ لوگوں کے دکھاوے کے لئے نماز نہ پڑھو (آیت) ” ولا تخافت بھا “ یعنی اس کو نہ چھوڑ دو لوگوں کے خوف سے۔
27:۔ ابن عساکر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک، ولا تخافت بھا “ سے مراد ہے کہ ریاکاری کے طور پر نماز نہ پڑھو اور اس کو نہ چھوڑ وحیا کی وجہ سے۔
28:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک “ سے مراد ہے کہ تو اس (نماز کو) سارا کا سارا جہری نہ بناؤ (آیت) ” ولا تخافت بھا “ یعنی اس کو سارا کا سارا سری نہ بناؤ۔
29:۔ ابن ابی داود نے مصاحف میں ابورزین (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن عمر ؓ کی قرأت میں یوں تھا (آیت) ” ولا تخافت بصوتک “ یعنی ولا تعال بہ “۔
30:۔ ابن ابی شبیہ اور ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اس نے اخفاء نہیں کیا جس نے اپنے کانوں کو سنایا ؛۔
31:۔ ابن ابی شیبہ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مطرف بن عبداللہ بن شخیررحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ علم بہتر ہے عمل سے اور کاموں میں بہترین کام اس کا درمیانہ ہونا ہے اور نیکی دو برائیوں کے درمیان ہے اور یہ اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” ولا تجھر بصلاتک، ولا تخافت بھا وابتغ بین ذلک سبیلا۔
32:۔ ابن ابی شیبہ نے ابو قلابہ (رح) سے روایت کیا کہ کاموں میں بہترین کام اس کا درمیانہ ہونا ہے۔
Ayah 17:1111:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ یہود و نصاری نے کہا (آیت) ” اتخذ اللہ ولدا “ (البقرۃ : 116) ( یعنی اللہ کی اولاد ہے) اور عرب کے لوگوں نے کہا ” لبیک لا شریک لک لبیک الا شریکا ھو لک تملکہ وما ملک “ (اے اللہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں مگر جو شریک ہے وہ تیرے لئے اس کا بھی مالک ہے اور جس کا مالک ہے اس کا بھی مالک ہے) اور صابئوں اور مجوس نے کہا اگر اللہ کے اولیاء نہ ہوتے تو وہ کمزور ہوجاتا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” وقل الحمد للہ الذی لم یتخذ ولدا “ نازل فرمائی۔
2:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” ولم یکن لہ ولی من الذل “ کے بارے میں روایت کیا کہ نہ وہ کسی سے ڈرا اور نہ اس نے کسی سے مدد طلب کی۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکبرہ تکبیرا “ سے مراد ہے اے محمد ﷺ جو وہ کہتے ہیں اس سے بڑھکر تم اس کی بڑائی بیان کرو۔
4:۔ احمد اور طبرانی نے معاذ بن انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آیۃ العز یعنی عزت والی آیت ہے (آیت) ” وقل الحمد للہ الذی لم یتخذ ولدا “ (پوری آیت )
5:۔ ابویعلی اور ابن سنی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں باہر نکلا اور رسول اللہ ﷺ بھی اور میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا آپ ایک آدمی کے پاس آئے جو بوسیدہ حالت میں تھا آپ نے فرمایا اے فلانے یہ تجھے کیا ہوگیا جو میں دیکھ رہا ہوں اس نے کہا بیماری اور تکلیف سے ہوں آپ نے فرمایا میں تجھے ایسے کلمات نہ بتاوں جو تجھ سے بیماری اور تکلیف کو دور کردیں آپ نے فرمایا تو یہ پڑھ (آیت) ” وقل الحمد للہ الذی لم یتخذ ولداولم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل وکبرہ تکبیرا “ پر دوبارہ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے تو اس کی حالت بہت اچھی تھی آپ نے پوچھا کیا ہوا ؟ اس نے کہا میں نے ہمیشہ ان کلمات کو پڑھتا ہوں جو آپ نے مجھے سکھائے تھے۔
6:۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب الفرج میں اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں اسماعیل بن ابی فدیک (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے جب کبھی کوئی مصیبت پہنچی تو جبرئیل (علیہ السلام) انسانی شکل میں میرے پاس آئے اور کہا اے محمد آپ کہہ دیجئے میں نے بھروسہ کیا اس ذات پر جو زندہ ہے جس کو موت نہیں آئے گی (آیت) ” الحمد للہ الذی لم یتخذ ولداولم یکن لہ شریک فی الملک “
7:۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ ذکر کیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ اپنے گھر والوں کو یہ (آیت) ” الحمد للہ الذی لم یتخذولدا “
8:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں عبدالکریم بن ابی امیہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ بنو ہاشم میں سے بنوہاشم کا کوئی بچہ بولنے لگتا تو اس کو یہ آیت سات مرتبہ سکھاتے تھے (آیت) ” الحمد للہ الذی لم یتخذ ولداولم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل وکبرہ تکبیرا “
بچوں کی تربیت :
9:۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں عبدالکریم کے طریق سے عمروبن شعیب (رح) سے روایت کیا کہ بنو عبدالمطلب کا کوئی بچہ بولنے لگتا تو نبی کریم ﷺ اس کو یہ آیت سات مرتبہ سکھاتے تھے (آیت) ” وقل الحمد للہ الذی لم یتخذ ولدا “۔
ابن سنی نے عمل الیوم ولیلۃ من عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے اسی طرح روایت کیا۔
10:۔ ابن سنی اور دیلمی نے فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا جب تو اپنے بستر پر جائے تو یہ کہہ :
الحمد للہ الکافی، سبحان اللہ الاعلی، حسبی اللہ وکفی، ماشاء اللہ، قضی، سمع اللہ لمن دعا، لیس من اللہ ملجا ولا وراء اللہ ملتجا، توکلت علی اللہ ربی وربکم، مامن دابۃ الا ھو اخذبنا صیتھا، ان ربی علی صراط مستقیم “ الحمد للہ الذی لم یتخذ ولداولم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل وکبرہ تکبیرا “
ترجمہ : سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو کافی ہے اللہ کی ذات پاک ہے جو بلند مرتبہ ہے میرے لئے اللہ کافی ہے اور کافی ہے اللہ چاہے اور جو فیصلہ کرے اللہ تعالیٰ نے سن لیا جس نے دعا کی اللہ کے علاوہ کوئی پناہ کی جگہ نہیں اور اللہ کے سوا کوئی پناہ گزین نہیں میں نے اپنے رب اور تمہارے رب پر بھروسہ کیا ہر جاندار کو اللہ نے پیشانی کے بالوں سے پکڑے ہوئے ہیں (یعنی ہر جاندار اس کے پورے قابو میں ہے) بلاشبہ میرا رب سیدھے راستے پر ہے “ اور کہو ساری تعریفیں اسی اللہ کے لئے خاص ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے اور نہ اس کا کوئی سلطنت میں شریک ہے اور نہ کمزوری کی وجہ سے کوئی اس کا مددگار ہے اور اس کی خوب بڑائیاں بیان کرو، جو شخص پڑھے گا اس کو اپنے سونے کے وقت پھر وہ شیاطین اور شیر کے درمیان سوجائے تو اس کو تکلیف نہ دیں گے۔
11:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تورات شریف ساری کی ساری بنی اسرائیل کی پندرہ آیات میں ہے پھر (یہ آیت) ” لا تجعل مع اللہ الھا اخر “ تلاوت فرمائی۔ (واللہ اعلم)
الحمد للہ سورة الاسراء مکمل ہوئی