Ayahs 17:26–281:۔ بخاری نے تاریخ میں ابن منذر نے اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے (آیت) ” وات ذا القربی “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا اور اس بار کی تعلیم دی ہے کہ کس طرح کرے جب انسان کے پاس مال ہو اور کس طرح کرنا چاہئے جب مال نہ ہو اور فرمایا۔ (آیت) ” واما تعرضن عنہم البتغاء رحمۃ من ربک ترجوھا “ یعنی رشتہ دار واعزہ اگر تجھ سے سوال کریں اور تیرے پاس کوئی چیز نہ ہو تو اگر تجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق ملنے کا انتظار ہو۔ (آیت) ” فقل لہم قولا میسورا “ تو انشاء اللہ کہہ کر ان سے وعدہ کرلو سفیان نے فرمایا اور نبی کریم ﷺ سے وعدہ بھی ایک قرضہ ہے۔
2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وات ذا القربی “ سے مراد ہے کہ آپ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کریں اور مسکینوں کو کھانا کھلائیں اور مسافروں کے ساتھ احسان کریں۔
3:۔ ابن جریر نے حسین بن علی ؓ سے روایت کیا کہ شام والوں میں سے ایکآدمی کو فرمایا کیا تو نے قرآن پڑھا اس نے کہاں ہاں پھر فرمایا کیا تو نے بنی اسرائیل کے بارے میں نہیں پڑھا (آیت) ” وات ذا القربی “ کیا قرابت سے مراد تم اہل بیت ہو جن کے حق کی ادائیگی کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا علی بن حسین نے کہا ہاں۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ بنوعبدالمطلب کے لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آتے تھے اور آپ سے سوال کرتے تھے جب اتفاقیہ آپ کے پاس کوئی چیز ہوتی تو آپ ان کو عطا فرما دیتے اور اگر آپ کے پاس کوئی چیز نہ ہوتی تو آپ خاموش ہوجاتے اور ان کو ہاں یا نہ کچھ نہ فرماتے اور قریبی رشتہ داروں سے مراد ہے بنومطلب کے قریبی رشتہ دار۔
5:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے حسن (رح) سے راویت کیا کہ (آیت) ” وات ذا القربی حقہ والمسکین وابن السبیل “ سے مراد ہے کہ تم ان کے حق کو پورا کرو اگرچہ تھوڑا ہو اگر آپ کے پاس نہ ہو تو فرمایا۔ (آیت) ” فقل لہم قولا میسورا “ یعنی ان سے خیر کی بات کہو۔
6:۔ بخاری نے الادب المفرد میں اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وات ذا القربی “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے حقوق میں سے جو اہم ترین حق تھا اس کا حکم فرمایا اور انسان کے افضل اعمال کے بارے میں بتایا کہ جب اس کے پاس مال موجود ہو (آیت) ” وات ذا القربی حقہ والمسکین وابن السبیل “ (یعنی راشتہ داروں اور مسکینوں کو اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو) اور آپ کو یہ بھی سکھایا کہ جب آپ کے پاس کوئی چیز نہ ہو تو کیا کہے اسی کو فرمایا (آیت) ” واما تعرضن عنہم البتغاء رحمۃ من ربک ترجوھافقل لہم قولا میسورا “ یعنی ان سے اچھے انداز میں وعدہ کرے گویا کہ اس نے اس کو عطاہی کردیا اور شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو پورا ہوجائے گا (آیت) ” ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقل “ (یعنی نہ تو اپنا ہاتھ گردن ہی سے باندھ لو) کہ کوئی چیز ہی نہ دو (آیت) ” ولا تبسطھا کل البسط “ اور نہ ہی بالکل کھول دے کہ کچھ ہی دے دو جو آپ کے پاس ہو (آیت) ” فتقعد ملوما “ کہ پھر آپ ملامت کرے گا جو بعد میں آپ کے پاس آئے گا (جب) آپ کے پاس کسی چیز کو نہ پائے گا (آیت) ” محسورا “ اور جس کو تو عطا کرے گا وہ بھی تجھ سے اصرار کرے گا۔
7:۔ بخاری نے ادب المفرد میں کلیب بن منفعہ (رح) سے روایت کیا کہ میرے دادا نے عرض کیا یارسول اللہ کس کے ساتھ میں حسن سلوک کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اپنی ماں، اپنے باپ، اپنی بہن، اپنے بھائی اور اپنے دوست جو تیرے قریب ہے سے حسن سلوک کر یہ حق واجب ہے اور رشتہ ہے جس کو جوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔
8:۔ احمد بخاری نے ادب میں ابن ماجہ، حاکم طبرانی اور بیہقی نے شعب میں مقدام بن معدیک کرب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ تم وصیت فرماتے ہیں تمہاری ماوں کے بارے میں پھر تمہارے باپوں کے بارے میں پھر تم کو وصیت فرماتے ہیں پھر جو قریبی رشتہ دار ہیں پھر جو اس کے بعد قریبی ہیں۔
اہل و عیال پر خرچ کرنے اجر :
9:۔ بخاری نے ادب میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جو آدمی اپنی جان پر اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے ثواب کی امید رکھتے ہوئے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس (خرچ کرنے) میں اجر دیں گے اور ان لوگوں سے خرچ کرنا شروع کر جو تیری کفالت میں ہیں اگر بچ جائے تو قریبی رشتہ داروں اور پھر جو اس کے بعد قریبی ہو اگر مزید بچے تو اس کو بھی دے دو ۔
10:۔ بخاری نے ادب میں اور بیہقی نے شعب میں (اور الفاظ بیہقی کے ہیں) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے نسبوں کی حفاظت کرو اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ تعلق قائم کرو اس لئے کہ رشتہ کے لئے کوئی دوری نہیں جب اسے قریب کیا جائے اگرچہ وہ بہت دور کا رشتہ بھی وہ اور رشتہ کے لئے کوئی قریب نہیں ہوتا جو دور کردیا گیا ہوا اگرچہ وہ قریبی رشتہ ہی کیوں نہ ہو اور قیامت کے دن ہر شخص کے سامنے اس کا رشتہ آئے گا اور اس کے لئے صلہ رحمی (یعنی تعلق جوڑنے) کی گواہی دے گا اگر اس نے رشتہ دار سے صلہ رحمی کی ہوگی اور قطع رحمی کی گواہی دے گا اگر اس نے قطع رحمی کی ہوگی۔
11:۔ بیہقی نے شعب میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ایک دیہاتی نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ ! میں ایک خوشخال آدمی ہوں بلاشبہ میری ماں ہے، باپ ہے، بہن ہے، بھائی ہے چچا ہے اور چچی ہے، خالو ہے اور خالہ ہے، ان میں سے کون میری صلہ رحمی کا حقدار ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیری ماں، تیرا باپ، تیری بہن، تیری بھائی، پھر جو تیرا زیادہ قریبی ہے اسکے جو زیادہ قریبی ہے۔
12:۔ احمد، حاکم اور بیہقی نے ابو رمثہ التیمی تیم الرباب ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ خطبہ دیتے ہوئے فرمایا رہے تھے دینے والا ہاتھ بلند ہے وہ تیری ماں کے لئے باپ کے لئے تیری بہن کے لئے اور تیرے بھائی کے لئے ہے پھر جو قریبی ہے پھر جو اسکے قریب ہو۔
13:۔ طبرانی حاکم شیرازی نے القاب میں اور بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ البتہ آباد کرتے ہیں ایک قوم کے گھروں کو اور ان کے مالوں کی کثرت کردیتا ہے اور ان کی طرف کبھی غضب کی نظر نہیں دیکھا جب سے انکو پیدا فرمایا پوچھا گیا یا رسول اللہ یہ کس وجہ سے ہے ؟ فرمایا ان کی ایک دوسرے سے صلہ رحمی کرنے کی وجہ سے۔
14:۔ بیہقی، ابن عدی، ابن لال نے مکارم الاخلاق میں اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ گھر والے جب آپس میں صلہ رحمی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر رزق کو جاری کردیتے ہیں اور وہ رحمن عزوجل کے سایہ میں ہوتے ہیں۔
15:۔ بیہقی، ابن جریر اور خرائطی نے مکارم الا اخلاق میں ابو سلمہ بن عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا سب سے زیادہ جلدی ثواب جس اطاعت پر ملتا ہے وہ صلہ رحمی ہے یہاں تک کہ کوئی گھر والے البتہ بدکار اور گنہگار ہوتے ہیں پھر بھی انکے مال بڑھتے رہتے ہیں اور ان کی تعداد کثیر ہوتی ہے جب وہ صلہ رحمی کرتے ہیں اور جس پر جلدی سزا ملتی ہے ہو ظلم و زیادتی اور جھوٹی قسم ہے اس سے مال چلا جاتا ہے رحم بانجھ ہوجاتے ہیں۔ (یعنی رحم دلی ختم ہوجاتی ہے) اور گھروں کو نظر بد کے ساتھ چھوڑتی ہے۔
16:۔ ابن ابی شیبہ نے ثعلبہ بن زھدم (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ دینے والا ہاتھ اونچا ہے اور مانگنے والا ہاتھ نیچا ہے اور ان لوگوں پر خرچ کرنا شروع کر جو تیری کفالت میں ہیں یعنی تیری ماں تیرا باپ تیری بہن تیرا بھائی پھر جو قریبی ہو پھر جو اس کے بعد قریب ہو۔
17:۔ بزار، ابویعلی، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت (آیت) ” وات ذا القربی “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فاطمہ ؓ کو بلایا اور اس کو فدک (کا باغ) عطا فرمایا۔
18۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت) ” وات ذا القربی “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فاطمہ ؓ کو فدک کی زمین عطا فرمائی۔
19:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عطا کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ کیسے عطا کرے تو (اس بارے میں) اللہ نے یہ حکم نازل فرمایا (آیت) ” وات ذا القربی حقہ والمسکین وابن السبیل “ یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں سے (خرچ کرنا) شروع کرے پھر مسکینوں پر اور مسافروں پر اور اس کے بعد دوسروں کو اور فرمایا (آیت) ولا تبذر تبذیرا “ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اپنا سارا مال بھی نہ دے دے ورنہ تم خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ جاوگے اور فرمایا (آیت) ” ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک “ یعنی تو (مال کو) نہ روک دے اس طرح کہ جو کچھ تیرے پاس ہے (اس میں سے) کسی کو بالکل ہی نہ دو (اور فرمایا) ولا تبسطھا کل البسط “ کہ ہاتھ بالکل ہی کشادہ مت کرو مگر وہ عطا کرو جو تم کو بتایا گیا (آیت) ” واما تعرضن عنہم “ اگر (تنگدستی کی وجہ سے) ان کو دینے سے رک جاؤ (آیت) ” فقل لہم قولا میسورا “ تو ان کو بھلائی کی بات کہو (مثلا) شاید کہ تم کو مل جائے گا امید ہے کہ تم کو مل جائے گا۔
20:۔ احمد اور حاکم نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) انس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں بہت مال والا اور اہل و عیال والا اور اولاد والا ہوں مجھے بتائیے کہ میں کیسے خرچ کروں اور کیسے کروں ؟ آپ نے فرمایا پہلے تو فرض زکوٰۃ ادا کر کیونکہ وہ پاک کرنے والی ہے (تیرے مال کو) اور تجھے بھی پاک کردے گی اور اپنے قریبی رشتہ داروں سے صلہ رحمی کر اور تو پہچان سائل کے حق کو اور پڑوسی اور مسکین کے حق کو اور کہا یا رسول اللہ ! میرے لئے مختصر انداز میں یہ احکام بیان فرمائیں تو آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (آیت) ” وات ذا القربی حقہ والمسکین وابن السبیل “
21:۔ فریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، بخاری نے ادب میں ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم اور بیہقی نے شعب میں (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تبذر تبذیرا سے ” التبذیر “ مراد ہے کہ ناحق جگہ میں مال خرچ کرنا۔
اسراف وتبذیر ناحق جگہ مال خرچ کرنا ـ:
22:۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہم اصحاب محمد ﷺ کہا کرتے تھے کہ (آیت) ” تبذیرا “ سے مراد ہے ناحق جگہ میں مال خرچ کرنا۔
23:۔ سعید بن منصور، بخاری نے ادب میں ابن جریر، ابن منذر اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان المبذرین “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو مال کو ناحق جگہ میں خرچ کرتے ہیں۔
24:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تبذر تبذیرا “ سے مراد ہے کہ اپنا سارا مال مت دو ۔
25:۔ ابن ابی حاتم نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ فضول خرچی میں یہ ہے کہ انسان ان چیزوں میں سے کھائے پئے اور پہنے جو اس کے پاس نہ ہوں اور جو (خرچہ) کفایت شعاری سے آگے بڑھ جائے تو وہ فضول خرچی ہے۔
26:۔ بیہقی نے شعب میں روایت کی کہ علی بن ابی طالب ؓ عنہنے فرمایا کہ جو تو نے اپنی جان پر اور اپنے گھر والوں پر خرچ کیا بغیر فضول خرچی کے اور جو تو نے صدقہ کیا سب تیرے لئے باعث اجر ہے اور جو تو نے ریاکاری اور شہرت کے لئے خرچ کیا تو یہ شیطان کا حصہ ہے۔
27:۔ سعید بن منصور اور ابن منذر نے عطاء خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ کچھ لوگ قبیلہ مزینہ میں سے رسول اللہ ﷺ کے پاس سواریاں لینے کے لئے آئے آپ نے فرمایا میرے پاس کوئی سواری کا جانور نہیں ہے کہ جس پر میں تم کو سوار کروں (فرمایا) (آیت) ” تولوا واعینہم تفیض من الدمع حزنا “ (التوبہ : 92) یعنی وہ لوگ لوٹ گئے غمگین ہو کر اور انہوں نے اس بات کو رسول اللہ ﷺ کے غصہ میں گمان کیا (کہ شاید آپ ﷺ نے غصہ کی وجہ سے ہم کو سواریاں نہیں دیں) تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” واما تعرضن عنہم البتغاء رحمۃ من ربک “۔ (اور اگر آپ کو (بوجہ تنگدستی کے) منہ پھیرنا پڑے اور آپ اللہ کے رزق کے انتظار میں ہوں جس کی آپ کو توقع ہے) اور اس میں رحمت سے مراد مال فے ہے۔
28:۔ ابن جریر نے عطاء خراسانی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ابتغآء “ سے مراد ہے رزق۔
29:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واما تعرضن عنہم البتغاء رحمۃ من ربک ترجوھا “ سے مراد ہے اللہ کے رزق کا انتظار۔
30:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واما تعرضن عنہم “ سے مراد ہے کہ اگر آپ ان کو دینے کے لئے کوئی چیز نہ پائیں (آیت) ” البتغاء رحمۃ من ربک “ تو اپنے رب کے رزق کا انتظار کریں یہ (آیت) ” ان مسکینوں کے بارے میں نازل ہوئی جو نبی کریم ﷺ سے سوال کرتے تھے۔
31:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فقل لہم قولا میسورا “ کہ ان کو نرم لہجہ میں نرم بات کہو مثلا یوں کہو کہ عنقریب اگر اللہ نے چاہا مال آئے گا (یعنی مجھے مال ملے گا) تو میں ضرور تم کو دوں گا ہم انشاء اللہ مال حاصل کریں گے تو ضرور تم کو دیں گے۔
32:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فقل لہم قولا میسورا “ یعنی تم ان کو کہو کہ آج کے دن ہمارے پاس کچھ نہیں ہے اگر ہمارے پاس مال آئے گا تو ہم تمہارے حق پہچان لیں گے (اور تم کو پیش کردیں گے)
33:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فقل لہم قولا میسورا “ سے مراد ہے کہ اچھی بات کہو کہ اللہ تعالیٰ ہم کو اور تم کو (اپنے پاس سے) رزق عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ تجھ میں برکت عطا فرمائے۔
34:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فقل لہم قولا میسورا “ سے مراد ہے کہ تم ان سے وعدہ کرو، سفیان (رح) نے فرمایا اور رسول اللہ ﷺ سے وعدہ دین ہے۔
Ayahs 17:29–301:۔ سعید بن منصور اور ابن منذر نے یسار بن حکم (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عراق سے کپڑا لایا گیا اور آپ ﷺ بہت عطا فرمانے والے اور شریف تھے آپ نے وہ کپڑا لوگوں کے درمیان تقسیم فرما دیا یہ بات عرب کی ایک قوم کے پاس پہنچی تو انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس جاکر سوال کریں گے (جب یہ لوگ آئے) تو انہوں نے آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ کپڑا تقسیم کرنے سے فارغ ہوچکے تھے اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی (آیت) ” ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک “ یعنی بندھا ہوا (آیت) ” ولا تبسطھا کل البسط فتقعد ملوما “ اور نہ بالکل کشادہ کردو ورنہ لوگ ملامت کریں گئے ” محسورا “ یعنی آپ کے ہاتھ میں کوئی چیز بھی نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے میں اعتدال :
2:۔ ابن ابی حاتم نے منھال ابن عمر وؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت نے اپنے بیٹے کو نبی کریم ﷺ کے پاس بھیجا اور کہا کہ آپ سے عرض کردوں کہ مجھے کپڑا پہناؤ آپ ﷺ نے فرمایا اب میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے ؟ عورت نے کہا واپس جاؤ اور ان سے کہو مجھے اپنی قیمص ہی پہنا دو آپ ﷺ لوٹ کر آئے اور اپنی قمیص کو اتار کر اس کو دے دی اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ولا تجعل یدک مغلولۃ “۔
3:۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ایک لڑکا نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ میری ماں نے آپ سے فلاں فلاں چیز کا سوال کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا آج کے دن تو ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ہے اس نے کہا میری ماں آپ سے کہہ رہی ہے کہ اپنی قیمص ہی مجھے پہنا دیجئے آپ ﷺ نے اپنی قمیص اتار کر اس کو دے دی اور آپ گھر میں ننگے بند بیٹھ گئے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ولا تجعل یدک مغلولۃ “۔
4:۔ ابن مردویہ نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے عائشہ ؓ سے فرمایا جو کچھ میرے ہاتھ میں ہو اسے خرچ کردیا کرو اور اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا عائشہ ؓ نے فرمایا تب تو کچھ باقی نہیں رہے گا آپ ﷺ نے اس کو تین مرتبہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” ولا تجعل یدک مغلولۃ “
5:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تجعل یدک مغلولۃ “ سے یعنی اس سے بخل مراد ہے۔
6:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک “ یہ آیت نفقہ کے بارے میں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو خرچ میں تنگی اور کنجوسی کرو اور نہ بالکل کشادہ کرو یعنی فضول خرچی سے کام نہ لو (آیت) ” ولا تبسطھا کل البسط “ یعنی فضول خرچی نہ کرو (آیت) ” فتقعدملوما “ یعنی ایک دن تم خود اپنے مال کے ختم ہونے پر اپنے آپ کو ملامت کرو گے (آیت) ” محسورا “ یعنی جس کا سارا مال ختم ہوگیا ہو۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولا تبسطھا کل البسط “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسراف سے اور بخل سے ہم کو منع فرمایا ہے۔
8:۔ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فتقعد ملوما محسورا “ سے مراد ہے کہ لوگوں کے نزدیک ملامت کیا ہوا اور مال سے خالی ہاتھ ہوگا۔
9:۔ طستی سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ملوما محسورا “ کے بارے میں پوچھا کہ اس کے بارے میں مجھے بتائیے انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے نادم اور شرمندہ ہونے والا پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو شاعر کا یہ قول نہیں سنا :
مافادمن منی یموت جو ادھم الا ترکت جو ادہم محسورا :
ترجمہ : وہ خواہشات کو حاصل نہیں کرپاتے جن کے گھوڑے مرجاتے ہیں یہ ان کے گھوڑے انہیں شرمندہ کرکے چھوڑ تے ہیں۔
10:۔ بیہقی نے الشعب میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا معیشت میں نرمی (یعنی میانہ روی) بہتر ہے تجارت کے سکون سے۔
11:۔ ابن عدی اور بیہقی نے عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی کی سمجھداری میں سے یہ ہے کہ اپنی معیشت کی اصلاح کرے اور فرمایا یہ تمہاری دنیا سے محبت شمار نہیں ہوگی کہ تم وہ چیز طلب کرو جو تمہاری اصلاح کا ذریعہ بنے۔
12:۔ ابن عدی اور بیہقی نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرا زندگی گذارنے میں نرمی اختیار کرنا تیری سمجھداری میں سے ہے۔
13:۔ بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کرنا آدھی زندگی ہے۔
14:۔ ابن ابی شیبہ احمد اور بیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص کبھی محتاج نہیں ہوا جس نے میانہ روی اختیار کی۔
15:۔ ابن عدی اور بیہقی نے ابن عبا سؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میانہ روری اختیار کرنے والا کبھی محتاج نہیں ہوتا۔
16:۔ بیہقی نے عبداللہ بن شبیب (رح) سے روایت کیا کہ یہ بات کہی جاتی ہے کہ کم آمدنی کے ساتھ حسن تدبیر بہتر ہے ایسی مالداری سے جو فضول خرچی کے ساتھ ہو۔
17:۔ بیہقی نے مطرف (رح) سے روایت کیا کہ کاموں میں سے بہتر درمیانی کام ہے۔
18۔ دیلمی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تدبیر آدھی زندگی ہے اور لوگوں سے دوستی لگانا آدھی عقل ہے اور رنج وغم آدھا بوڑھاپا ہے اور اہل و عیال کا تھوڑا ہونا دو آسانیوں میں سے ایک آسانی ہے۔
19:۔ احمد نے زہد میں یونس بن عبید (رح) سے روایت کیا کہ یہ بات کہی جاتی ہے کہ لوگوں سے دوستی لگانا آدھی عقل ہے اور اچھا سوال کرنا آدھا علم ہے اور معیشت میں میانہ روی اختیار کرنا تجھ سے آدھی مشقت کو دور کردے گی۔
20:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے فرمایا کہ پھر ہم کو خبر دی گئی کہ وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) ہمارے ساتھ کیا کرتا ہے (فرمایا) (آیت) ” ان ربک یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر “ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو خبر دی اگر وہ اپنے بندوں پر رزق کے دروازے کھول دے تب بھی اس پر کوئی بوجھ نہیں ہے لیکن اس نے ان کو دیکھتے ہوئے فرمایا (آیت) ” وبسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض ولکن ینزل بقدر ما یشاء انہ بعبادہ خبیر بصیر “ (الشوری 27) ابن زید فرماتے ہیں کہ جب عرب کے لوگوں کو شادابی نصیب ہوتی اور خوشحالی کا دور آتا تو ایک دوسرے کو قید کرتے اور بعض بعض کو قتل کرتا اور فساد مچاتے اور جب قحط سالی شروع ہوتی تو پھر اس (قتل و غارت سے) باز رہتے۔
21:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے (آیت) ” ان ربک یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کی کیفیت کو دیکھتا ہے اگر اس کے لئے مالداری بہتر ہوتی ہے تو اس کو مالدار بنادیتے ہیں اور اگر اس کے لئے فقیری بہتر ہوتی ہے تو اس کو فقیر بنادیتے ہیں۔
22:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے (آیت) ” ان ربک یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ایک کے لئے روزی کشادہ فرماتا ہے اس کے لئے خفیہ تدبیر کرنے کے لئے اور دوسرے کے لئے روزی تنگ کرتا ہے اس کو دیکھنے کے لئے صبر کرتا ہے یا نہیں۔
23:۔ ابن ابی حاتم نے زید (رح) سے روایت کیا کہ قرآن میں جہاں بھی یقدر استعمال ہوا ہے اس کا معنی (آیت) ” یقلل “ (یعنی کم کرتا ہے )
Ayah 17:311:۔ ابن ابی جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تقتلوا اولادکم خشیۃ املاق “ (یعنی اولاد کو قتل نہ کرو فاقہ کے خوف سے) زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنی لڑکیوں کو فاقہ کے ڈر سے قتل کردیتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو نصیحت فرمائی اور ان کو بتایا کہ ان کا رزق اور ان کی اولاد کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے، اسی کو فرمایا (آیت) ” نحن نرزقہم وایاکم “ یعنی بڑا گناہ ہے (ان کا قتل کرنا)
2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” خشیۃ املاق “ سے مراد ہے فاقہ اور غربت کا خوف۔
افلاس کے خوف سے اولاد کو قتل کرنا حرام ہے :
3:۔ طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق (رح) نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” خشیۃ املاق “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے افلاس کا خوف پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
وانی علی الاملاق یا قوم ماجذ اعد لاضیافی الشواء المطھیا۔
ترجمہ : بلاشبہ میں مفلسی کے باوجود اے میری قوم عزت دار ہوں میں اپنے مہمانوں کے لئے بھنا اور پکا ہوا گوشت تیار کرتا ہوں۔
4:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” خطا “ سے مراد ہے گناہ۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو (آیت) ” خطاکبیرا “ پڑھا یعنی خطا کو ہمزہ کے ساتھ پڑھا اور یہی ٹھیک ہے۔
6:۔ احمد اور ابویعلی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کی تین لڑکیاں ہو یا تین بہنیں ہوں (ان کے بارے میں) اللہ سے ڈرے اور ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کرے تو وہ (قیامت کے دن) اس طرح میرے ساتھ جنت میں ہوگا اور آپ نے اپنی چاروں انگلیوں سے اشارہ فرمایا۔
7:۔ احمد اور ابن منیع نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کی تین بیٹیاں ہوں ان پر خرچ کرتا ہے ان پر رحم کرتا ہے اور ان کی کفالت کرتا ہے تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی کہا گیا یارسول اللہ ﷺ اگر دو ہوں ؟ فرمایا اگر دو ہوں (تو اس کے بھی یہی خوشخبری ہے)
8:۔ احمد اور ترمذی نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں یا دو بٹیاں یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے بارے میں اللہ سے ڈرتا ہے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے تو جنت میں داخل ہوگا۔
9:۔ احمد طبرانی اور حاکم نے سراقہ بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا اے سراقہ کیا میں تجھ کو بڑے صدقہ کے بارے میں نہ بتاوں ؟ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ضرور بتائیے فرمایا وہ تیری بیٹی جو تیری طرف واپس لوٹا دی گئی ہے اور اس کا تیرے سوا کوئی کمانے والا نہ ہوگا (تو اس پر خرچ کرنا بڑا صدقہ ہے۔ )
Ayah 17:321:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تقربوا الزنی “ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت حدود (کے احکام) نہیں تھے اس کے بعدسورۃ نور میں حدود (کے احکام) نازل ہوئے۔
2:۔ ابویعلی اور ابن مردویہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت (آیت) ” ولا تقربوا الزنی انہ کان فاحشۃ۔ ومقتا وسآء سبیلا الا من تاب فان اللہ کان غفور ارحیما “ کو اس طرح پڑھا حضرت عمر ؓ کے سامنے اس بات کا ذکرہوا تو آپ ان کے پاس تشریف لائے اور اس قرأت کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح لیا ہے اور تیرے لئے کوئی عمل نہیں ہے مگر یہ کہ بقیع کی طرف چلے جاؤ۔
زنا کے وقت ایمان دل سے نکل جاتا ہے :
3:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولا تقربوا الزنی انہ کان فاحشۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ حسنرحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کوئی بندہ مومن ہونے کی حالت میں زنا نہیں کرتا جب زنا کرتا ہے اور کسی سے مال مومن ہونے کی حالت میں نہیں چھینتا جب وہ کسی کا مال چھینتا ہے مومن ہونے حالت میں چوری نہیں کرتا جب وہ چوری کرتا ہے اور مومن ہونے کی حالت میں شراب نہیں پیتا جب وہ شراب پیتا ہے اور مومن ہونے کی حالت میں مال غنیمت میں خیانت نہیں کرتا جب وہ خیانت کرتا ہے پوچھا گیا اللہ کی قسم یا رسول اللہ ﷺ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص یہ کام ایمان کی حالت میں کرتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص ان برائیوں میں سے کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے دل میں ایمان نکل جاتا ہے اور اگر وہ توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتے ہیں۔
4:۔ ابن ابی شیبہ، بخاری اور مسلم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی زانی جب وہ زنا کرتا ہے تو وہ (زنا کرنے حالت میں) مومن نہیں ہوتا اور کوئی چور جب چوری کرتا ہے تو وہ (چوری کے وقت) مومن نہیں ہوتا اور شراب پینے والا جب وہ شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا اور وہ مومن ہونے کی حالت میں اعلانیہ طور پر مال نہیں چھینتا جبکہ ایمان والے لوگ اس کی طرف آنکھیں اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں تو وہ (اس حال میں) مومن نہیں ہوتا۔
5:۔ ابوداود، حاکم اور بیہقی نے شعب میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مومن زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان نکل جاتا ہے اور اس پر سائبان کی طرح اس کے اوپر رہتا ہے جب زنا کرچکتا ہے تو ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔
6:۔ ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایمان نور سے جب زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان جدا ہوجاتا ہے پھر جس شخص نے اپنے آپ کو ملامت کی اور (زنا سے) لوٹ آیا تو اس کا ایمان بھی لوٹ آتا ہے۔
7:۔ بیہقی اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایمان لباس میں سے ہے اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں اس کو پہناتے ہیں جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان کا لباس اتر جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو اس پر لوٹا دیا جاتا ہے۔
8:۔ بیہقی نے ابوصالح سے اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا اور ان سے رسول اللہ ﷺ کے اس قول کے بارے میں پوچھا گیا کہ جب زانی زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا تو ایمان کہاں ہوتا ہے ابوہریرہ ؓ نے اپنے سر کے اوپر ہاتھ سے اشارہ کرکے فرمایا کہ اس کے اوپر اس طرح ہوتا ہے اگر وہ توبہ کرتا ہے اور رجوع کرتا ہے تو (ایمان) اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔
9:۔ ابن سعد ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اپنے غلاموں کے نام عربوں کے ناموں کی طرح رکھتے تھے عکرمہ سمیع اور کریب وغیرہ اور ان سے فرماتے تھے نکاح کرلو کیونکہ جب کوئی بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے نور ایمان کھیچ لیا جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ اسے نور ایمان واپس کردیتا ہے یا روک لیتا ہے۔
10:۔ بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے قریش کے نوجوانو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو اور زنا مت کرو خبردار اللہ تعالیٰ نے جس کی شرمگاہ کی حفاظت کی تو اس کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔
11:۔ طبرانی، حاکم، اور بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کسی بستی میں زنا اور سود عام ہوجاتا ہے وہ اپنے اوپر کتاب اللہ کے موجب عذاب کو خود اتارتے ہیں۔
12:۔ طبرانی، حاکم، ابن عدی، اور بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زنا فقر و تنگدستی کا باعث بنتا ہے۔
13:۔ حاکم نے (آپ نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی قوم عہدوپیمان کو توڑتی ہے تو ان میں قتل پھیل جاتا ہے اور جس قوم میں بدکاری پھیل جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر موت مسلط کردیتے ہیں اور جو قوم زکوٰۃ نہیں دیتی تو اللہ تعالیٰ ان سے بارش کر روک لیتے ہیں۔
14:۔ احمد اور ابن ابی الدنیا نے ہیثم بن مالک طائی (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا شرک کے بعد اللہ کے نزدیک اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں کہ انسان اپنے نطفہ کو ایسے رحم میں ڈالتا ہے جو اس کے لئے حلال نہیں ہے۔
15:۔ احمد نے ابن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس قوم میں زنا پھیل جاتا ہے وہ قحط سالی میں مبتلا کئے جاتے ہیں اور جس قوم میں رشوت پھیل جاتی ہے تو ان پر رعب طاری کردیا جاتا ہے۔
16:۔ حکیم ترمذی نے نوادرالاصول میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کوئی بندہ جب زنا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے نور ایمان کھینچ لیتے ہیں اگر چاہتے ہیں تو واپس لوٹا دیتے ہیں اور اگر چاہتے ہیں تو روک لیتے ہیں۔
زنا کاری شراب نوشی کی مذمت :
17:۔ حکیم ترمذی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زانی مومن ہونے کی حالت میں زنا نہیں کرتا جب وہ زنا کرتا ہے اور شرابی مومن ہونے کی حالت میں شراب نہیں پیتا جب وہ شراب پیتا ہے اور وہ مومن ہونے کی حالت میں قتل نہیں کرتا جب کسی کو قتل کرتا ہے جب ان برائیوں میں سے کسی کا ارتکاب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے نور ایمان سلب کرلیتا ہے جیسے اس سے اس کی قمیص کو اتار لیا جاتا ہے اور اگر اس نے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمالیتے ہیں۔
18۔ احمد، مسلم، نسائی اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے قیامت کے دن بات نہیں کریں گے اور ان کو پاک نہیں فرمائیں گے اور نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھیں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا (1) بوڑھا زنا کرنے والا (2) بادشاہ جھوٹ بولنے والا اور (3) محتاج آدمی تکبر کرنے والا۔
19:۔ ابن ابی شیبہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی زانی مومن ہونے کی حالت میں شراب نہیں پیتا جب وہ شراب پیتا ہے۔
20:۔ ابن ابی شیبہ نے اسامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے بعد اپنی امت پر کوئی ایسا فتنہ نہیں چھوڑا جو مردوں پر عورتوں سے زیادہ نقصان دہ ہو۔
21:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ پہلے لوگوں کا کفر بھی عورتوں کی طرف سے تھا اور آئندہ آنے والے لوگوں کا کفر بھی عورتوں کی طرف سے ہوگا۔
22:۔ ابن ابی شیبہ نے ابان بن عثمان ؓ روایت کیا کہ قیامت کے دن زنا کرنے والے اپنی شرم گاہوں کی بدبو سے پہنچانے جائیں گے۔
23:۔ ابن ابی شیبہ نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ دوزخ والوں کے اکثر گناہ عورتوں کی وجہ سے ہوں گے۔
Ayahs 17:33–341:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ضحاک (رح) سے (آیت) ” ولا تقتلوالنفس التی حرم اللہ الا بالحق “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ فرمان مکہ مکرمہ میں نازل ہوا اور نبی کریم ﷺ وہیں تھے اور یہ پہلی چیز تھی جو قرآن مجید میں قتل کے بارے میں نازل ہوئی مشرکین مکہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب کو دھوکے سے مار ڈالتے تھے آپ نے فرمایا مشرکین میں سے جس نے تم کو قتل کیا ہے تو اس کا قتل کرنا تم اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اس کے باپ کو یا اس کے بھائی کو یا اس کے کنبے میں سے کسی ایک قتل کو دو اگرچہ وہ مشرکین ہیں لیکن تم قتل نہ کرو مگر صرف قاتل کو اور یہ حکم سورة برأۃ کے نازل ہونے سے پہلے کا تھا اور مشرکین سے قتال کرنے کے حکم ملنے سے پہلے کا ہے اس کو (آیت) ” فلایسرف فی القتل “ یعنی اپنے قاتل کے علاوہ دوسرے کو قتل نہ کرو آج بھی مسلمانوں کے لئے یہی حکم ہے کہ وہ قتل کے بدلے صرف قاتل کو ہی قتل کریں۔
قصاص لینے میں انصاف کرنا لازم ہے :
2:۔ بیہقی نے سنن میں زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کا یہ طریقہ تھا کہ جب کوئی آدمی کسی قوم میں سے ایک عام آدمی کو قتل کردیتا تھا تو وہ راضی نہ ہوتے یہاں تک کہ اس کے بدلے ایک شریف آدمی کو قتل کردیتے اگرچہ ان کا قاتل ایک غیر شریف آدمی ہوتا تھا وہ اپنے قاتل کو قتل نہ کرتے اور اس کے علاوہ دوسرے کو قتل کردیتے اس کے بارے میں ان کو اللہ تعالیٰ کے اس قول کے ساتھ نصیحت کی گئی یعنی (آیت) ” ولا تقتلوالنفس “ سے لے کر (آیت) ” فلایسرف فی القتل “ تک۔
3:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ومن قتل مظلوم فقد جعلنا لولیہ سلطنا “ کے بارے میں فرمایا کہ ” سلطنا “ سے مراد اللہ کی طرف سے دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے مقتول کا ولی طلب کرتا ہے یعنی قصاص کو دیا دیت کو اور سلطان سے یہی مراد ہے۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلایسرف فی القتل “ سے مراد ہے کہ قتل کرنے میں کثرت نہ کرو۔
5:۔ ابن منذر نے ابو صالح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلایسرف فی القتل “ سے مراد ہے کہ صرف قاتل کو ہی قتل کیا جائے گا۔
6:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور حاتم اور بیہقی نے سنن میں طلق بن حبیب (رح) سے (آیت) ” فلایسرف فی القتل “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس کے غیر قاتل کو قتل نہ کیا جائے اور اس کو مثلہ بھی نہ کیا جائے (یعنی اس کے ہاتھ پاوں نہ کاٹے جائیں)
7:۔ عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلایسرف فی القتل “ سے مراد ہے کہ ایک کے بدلے میں دو کو قتل نہ کیا جائے۔
8:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلایسرف فی القتل “ سے مراد ہے کہ اس کے قاتل کے علاوہ کسی دوسرے کو قتل نہ کیا جائے۔
قصاص لینے میں ظلم کرنا حرام ہے :
9:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلایسرف فی القتل “ سے مراد ہے کہ جس شخص نے کسی کو لوہے سے قتل کیا اس کو لوہے سے قتل کیا جائے گا اور جس شخص نے کسی لکڑی سے قتل کیا اس کو لکڑی سے قتل کیا جائے گا اور جس شخص نے کسی کو پتھر سے قتل کیا اس کو بھی پتھر سے قتل کیا جائے گا اور اس کے قاتل کے علاوہ کسی دوسرے کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
10:۔ ابن ابی شیبہ، مسلم، ابو داود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے شداد بن اوس (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان کرنا لکھ دیا ہے جب تم (دشمن کو) قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔
11:۔ ابن ابی شیبہ، ابوداود اور ابن ماجہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں میں سب سے زیادہ نافرمان لوگ اہل ایمان کو قتل کرنے والے ہیں۔
12:۔ ابن ابی شیبہ، اور ابو داود نے سمرہ بن جندب اور عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (لاش کو) مثلہ کرنے سے منع فرمایا۔
13:۔ ابن ابی شیبہ نے یعلی بن مرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندوں کو مثلہ نہ کرو۔
14:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” فلا یسرف فی القتل، انہ کان منصورا “ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ بادشاہ اس کی مدد کرے گا یہاں تک کہ ظالم سے انصاف لے کر دے اور جس نے خود بخود بادشاہ کی اجازت کے بغیر بدلہ لیا وہ مسرف ہے اس نے زمانہ جاہلیت کی حمیت کا عمل کیا اور وہ اللہ کے حکم کے ساتھ راضی نہ ہوا۔
15:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انہ کان منصورا “ سے مراد ہے کہ مقتول مدد کیا ہوا ہے۔
16:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے کسائی (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن کعب ؓ کی قرأت میں یوں ہے (آیت) ” فلا یسرف فی القتل، انہ کان منصورا “۔
17:۔ طبرانی اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب عثمان غنی ؓ کا حادثہ پیش آیا تو میں نے علی ؓ سے کہا کہ تم جدا ہوجاؤ اگر آپ کسی سوراخ میں ہوں گے آپ کو تلاش کرکے نکالا جائے گا حضرت علی ؓ نے میری بات نہ مانی اور اللہ کی قسم حضرت معاویہ ؓ کو تم پر امیر بنایا جائے گا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ (آیت) ” ومن قتل مظلوما فقد جعلنا لولیہ سلطنا فلا یسرف فی القتل، انہ کان منصورا “۔
18۔ ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتیھی احسن “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ ان (یتیموں) کا مال کھانے میں اور سواری میں شریک نہ کرتے تھے یہاں تک کہ (یہ آیت) نازل ہوئی۔ (آیت) ” وان تخالطوھم فاخوانکم “ البقرۃ 240۔
Ayah 17:351:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) نے (آیت) ” واوفوا بالعھد، ان العھد کان مسئولا (34) “ کے بارے میں فرمایا کہ جب دن یہ آیت نازل ہوئی تو یہ تصور تھا کہ انسان سے سوال ہوگا پھر جنت میں داخل کیا جائے گا (اس کے بعد یہ آیت ) ۔ ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانہم ثمنا قلیلا اولئک لا خلاق لہم فی الاخرۃ “ نازل ہوئی بیشک جو لوگ اللہ کے عہد کو اپنی قسموں کو تھوڑی سی قیمت کے عوض خریدتے ہیں (یہ وہ ہیں کہ ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں )
آپس میں عہد و معاہدہ کے متعلق قیامت میں سوال ہوگا :
2:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان العھد کان مسئولا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ عہد توڑنے والے سے اس کے عہد توڑنے کے بارے میں پوچھیں گے۔
3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان العھد کان مسئولا “ سے مراد ہے کہ جس کے ساتھ اس نے عہد کیا ہوگا وہ اس سے نہیں پوچھے گا (بلکہ اللہ تعالیٰ پوچھیں گے)
4:۔ ابن ابی حاتم نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ تین چیزیں سب کو ادا کی جائیں گی چاہے کوئی نیک ہو یا بدکار (اسی طرح) وعدہ بھی پورا کیا جائے گا نیک اور بدکار سے اور یہ (آیت) پڑھی ” واوفوا بالعھد، ان العھد کان مسئولا “۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے کعب بن احبار ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے بیعت توڑ دی تو (اس کی وجہ سے) ایک پردہ ہوگا اس کے اور جنت کے درمیان اور فرمایا کہ یہ امت ہلاک ہوگی اپنے عہد کو توڑنے کی وجہ سے۔
6:۔ ابن ابی حاتم نے سعید جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واوفوا الکیل اذا کلتم “ سے مراد ہے کہ جب تم کسی دوسرے کے لئے ناپ کرنے لگو تو پورا پورا ناپ کرو اور فرمایا (آیت) ” وزنوا بالقسطاس المستقیم “ یعنی سیدھی ترارزو سے وزن کرو اور روم والوں کی لغت میں قسطاس سے مراد میزان ہے (آیت) ” ذلک خیر “ یعنی پورا کرنا ناپ کا اور تول کا کمی کرنے سے بہتر ہے (آیت) ” واحسن تاویلا “ یعنی اچھا ہے انجام کے لحاظ سے۔
7:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” ذلک خیر واحسن تاویلا سے مراد ہے ناپ اور تول کو پورا پورا کرنا یہ اچھا ہے ثواب اور انجام کے لحاظ سے اور ہم کو خبر دی کہ ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے اے موالی کی جماعت تم دو کام سپرد کئے گئے ہو ان دونوں کے ذریعہ تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے یعنی اس ناپ اور تول (کی وجہ سے) راوی نے کہا اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ آدمی حرام پر قادر ہوتا ہے پھر اس کو چھوڑ دیتا ہے صرف اللہ کے خوف کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ دنیا میں آخرت سے پہلے اسے خیر عطا فرماتے ہیں جو اس کے لئے اس حرام سے بہتر ہوتی ہے۔
8:۔ فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بالقسطاس “ کا مطب رومی زبان میں انصاف ہے۔
9:۔ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا یہ (آیت) ” وزنوا بالقسطاس “ سے مراد ہے انصاف۔
10:۔ ابن منذر نے ضحاک (رح) روایت کیا کہ (آیت) ” وزنوا بالقسطاس “ سے مراد ہے بھاری اشیاء کے تولنے کا ترازو۔
11:۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا (آیت) ” وزنوا بالقسطاس “ سے مراد ہے لوہا (واللہ اعلم )
Ayah 17:361:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تقف “ سے مراد ہے تو مت کہہ
2:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تقف مالیس لک بی علم “ سے مراد ہے کہ تو کسی پر ایسا بہتان نہ لگا اس بات کا جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں۔
3:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن الحنفیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تقف مالیس لک بی علم “ سے مراد ہے جھوٹی گواہی۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” ولا تقف مالیس لک بی علم “ کے بارے میں روایت کیا گیا کہ یہ (حکم) جھوٹ کے بارے میں ہے جس دن یہ آیت نازل ہوئی جھوٹ کے بارے میں کوئی حد موجود نہ تھی بلاشبہ اس کے بارے میں قیامت کے دن پوچھ گچھ ہوئی تھی پھر اس کو معاف کردیا گیا یہاں تک کہ جھوٹ کی یہ آیت نازل ہوئی اسی کوڑوں کے بارے میں۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان السمع والبصر والفواد کل اولئک کان عنہ مسئولا “ سے مراد ہے کہ انسان کے اپنے کان اس کی آنکھیں اس پر گواہی دیں گے۔
6:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” ولا تقف مالیس لک بی علم “ کے بارے میں روایت کیا کہ تو یہ نہ کہے کہ میں نے سنا بلکہ تو سنا گیا اور تو مت کہہ میں نے دیکھا حالانکہ تو نہیں دیکھا بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان سب کے بارے میں تجھ سے پوچھیں گے۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے عمرو بن قیس (رح) سے (آیت) ” کل اولئک کان عنہ مسئولا “ کے بارے میں فرمایا قیامت کے دن کان سے کہا جائے گا کیا تو نے سنا ؟ اور آنکھ سے کہا جائے گا کیا تو نے دیکھا ؟ اور دل سے اسی طرح کہا جائے گا۔
8:۔ فریابی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کل اولئک کان عنہ مسئولا “ سے مراد ہے کہ قیامت کے دن کہا جائے گا کیا اسی طرح معاملہ تھا ؟ یا نہیں۔
9:۔ حاکم نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی کسی مسلمان آدمی کے بارے میں ایسی بات پھیلاتا ہے حالانکہ وہ اس سے بری ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس کو قیامت کے دن آگ میں پگھلا دے یہاں تک کہ وہ اپنی بات کا ثبوت پیش کرے جو اس نے کہی۔
10:۔ ابو داود اور ابن ابی الدنیا نے صمت میں معاذ بن انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے روکا کسی مومن کو کسی منافق سے ( یعنی اس کو بچایا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک فرشتہ کو بھیجیں گے جو اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے روکے گا (یعنی اس کو بچائے گا) اور جس شخص نے کسی مومن کو کسی چیز کے عیب لگایا کہ جس سے اس کو عیب دار کرنے کا ارادہ تھا تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کے پل پر روک دیں گے یہاں تک کہ وہ اس بات کا عذر پیش کرکے خلاصی حاصل کرے۔
Ayah 17:371:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” ولا تمش فی الارض مرحا “ کے بارے میں روایت کیا کہ فخر اور بڑائی کرتے ہوئے مت چل کیونکہ ایسی متکبرانہ چال تجھے پہاڑوں (کی بلندی) کو نہیں پہنچا سکتی اور نہ اس تیرے فخر اور بڑائی کے ساتھ تو زمین کو چیر سکتا ہے۔
2:۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب التواضع میں مجس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب میری امت کے لوگ اکڑتے ہوئے چلیں گے اور فارس اور روم کے لوگ ان کے خادم بنیں گے تو اللہ تعالیٰ بعض کو بعض پر مسلط کردے گا۔
3:۔ ابن ابی الدنیا نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک آدمی کو متکبرانہ چال چلتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے فرمایا بلاشبہ شیطان کے بھائی ہیں۔
4:۔ ابن ابی الدنیا نے خالد بن معدان (رح) سے روایت کیا کہ بچو تم اترانے سے، انسان کا ہاتھ دوسرے سارے جسم کے بغیر منافقت کرتا ہے۔
Ayah 17:381:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن کثیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ یہ آیت پڑھتے تھے (آیت) ” کل ذلک کان سئیہ عند ربک مکروھا “ اور فرماتے تھے کہ یہ وہ چیزیں ہیں کہ ان میں سے یہ برائی سے روکا گیا۔
Ayah 17:391:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تورات شریف ساری کی ساری سورة بنی اسرائیل کی پندرہ آیتوں میں ہے پھر یہ آیت پڑھی (آیت) ” ولا تجعل مع اللہ الھا اخر “
2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” مدحورا “ سے مراد ہے ” مطرودا “ یعنی دھتکارا ہوا۔