Ayahs 17:76–791:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین نے نبی کریم ﷺ کے کہا انبیاء (علیہم السلام) شام میں ٹھہرا کرتے تھے آپ مدینہ میں کیوں رہتے ہیں اور آپ ﷺ مدینہ منورہ سے روانگی کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات (آیت) ” وان کادوا لیستفزونک “ نازل فرمائیں۔
2:۔ ابن جریر نے حضرمی (رح) سے روایت کیا کہ ان کو یہ خبر پہنچی کہ بعض یہودیوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ کہا کہ انبیاء (علیہم السلام) سرزمین شام کی سرزمین ہے اور یہ (یعنی مدینہ) انبیاء کی سرزمین نہیں ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” وان کادوا لیستفزونک “۔
فتنہ میں مبتلا کرنے کی کوشش سے متعلق ایک روایت :
3:۔ ابن ابی حاتم بیہقی نے دلائل میں اور ابن عساکر نے عبدالرحمن بن غنم (رح) سے روایت کیا کہ یہودی نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو شام چلے جاؤ کیونکہ شام محشر کی زمین ہے اور انبیاء (علیہم السلام) کی زمین ہے رسول اللہ ﷺ نے انکی بات مان لی جو انہوں نے کہا اور آپ ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقعہ پر شام جانے کا ارادہ فرمایا جب تبوک پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر سورة بنی اسرائیل کی یہ آیات نازل فرمائیں۔ (آیت) ” وان کادوا لیستفزونک من الارض “ سے لے کر ” تحویلا “ تک اور آپ کو مدینہ منورہ لوٹنے کا حکم فرمایا اور فرمایا اس میں تیرے لئے زندگی ہے اور اس میں تیرا مرنا ہے اور اس میں تیرا دوبارہ اٹھنا ہے جبرئیل (علیہ السلام) نے آپ سے فرمایا اپنے رب سے سوال کیجئے کیونکہ ہر نبی مانگنے والا ہوتا ہے پوچھا گیا مجھ کو کیا حکم دیا گیا کہ میں اپنے رب سے سوال کروں ؟ جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا یہ دعا مانگئے۔ (آیت ) ’ وقل رب ادخلنی مدخل صدق واخرجنی مخرج صدق واجعل لی من لدنک سلطنا نصیرا “ اور یہ آیتیں آپ پر نازل ہوئیں تبوک سے واپسی پر۔
4:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کادوا لیستفزونک من الارض “ سے مراد ہے کہ مکہ والوں نے نبی کریم ﷺ کو مکہ سے نکالنے کا ارادہ کیا اور انہوں نے اس کے بعد ایسا ہی کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بدر کے دن ہلاک کردیا اور وہ اس کے بعد تھوڑے (دنوں) ہی رہ سکے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بدر کے دن ہلاک کردیا اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہے کہ رسولوں کے ساتھ جب بھی انکی قوموں نے اس قسم کی حرکتیں کیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔
5:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذا لایلبثون خلف الاقلیلا “ میں قلیل سے مراد ہے ان کا جنگ بدر میں پکڑا جانا اور یہ تھوڑا عرصہ تھا اور اس بعد کا عرصہ کثیر تھا۔
6:۔ ابن ابی حاتم نے سدی ؓ سے روایت کیا کہ قلیل سے مراد اٹھارہ مہینے کا عرصہ ہے۔
7:۔ عبدالرزاق، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم اور ابن مردویہ نے کئی طرق سے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ” دلوک الشمس “ سے مراد ہے سورج کا غروب ہونا ہے عرب کہتے ہیں جب سورج غروب ہوجائے (آیت) ” لدلوک الشمس “ (کہ سورج غروب ہوگیا)
8:۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی ؓ سے روایت کیا کہ اس کے دلوک سے مراد ہے اس کا غروب۔
9:۔ ابن مردویہ نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ (آیت) ” اقم الصلوۃ لدلوک الشمس “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے زوال شمس مراد ہے۔
10:۔ بزار، ابوالشیخ، ابن مردویہ اور دیلمی نے سند ضعیف کے ساتھ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لدلوک الشمس “ سے اس کا زوال مراد ہے۔
11:۔ عبدالرزاق نے ابن عمر سے روایت کیا کہ (آیت) ” لدلوک الشمس “ سے مراد ہے کہ سورج کا جھکنا آدھے دن کے بعد۔ س
12:۔ سعید بن منصور اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” دلوکھا “ سے مراد ہے اس کا زوال ہونا۔
13:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے۔۔ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لدلوک الشمس “ سے مراد ہے جب سایہ ہٹ جائے۔
14:۔ ابن جریرنے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) (آیت) ” لدلوک الشمس “ یعنی جب سورج ڈھل گیا تشریف لائے اور مجھ کو ظہر کی نماز پڑھائی۔
15:۔ ابن جریر نے ابوبرزہ اسلمی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا پھر یہ آیت پڑھی (آیت) ” اقم الصلوۃ لدلوک الشمس “
16:۔ ابن سعد ابن ابی شیبہ اور ابن مردویہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ میں اپنے سردار قیس بن سائب کی قیادت اور راہنمائی کرتا تھا وہ مجھ سے پوچھتے تھے کیا سورج ڈھل چکا ہے جب میں کہتا ہوں تو وہ ظہر کی نماز پڑھتے۔
17:۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سورج ڈھلنے کے وقت ظہر کی نماز پڑھتے تھے۔
18۔ طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الی غسق الیل “ سے مراد ہے عشاء کی نماز۔
19:۔ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الی غسق الیل “ سے مراد ہے رات اور اس کے اندھیرے کا اکٹھا ہونا۔
20:۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” غسق الیل “ سے مراد ہے رات کا ظاہر ہونا۔
21:۔ ابن انباری نے وقف میں حضرت ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” الی غسق الیل “ کے بارے میں کہ مجھے بتائیے کہ غسق کیا ہے ؟ فرمایا رات کا داخل ہونا اپنی تاریکی کے ساتھ زھیر بن ابی سلمہ نے اس کے بارے میں فرمایا :
ظلت تجوب یداھا وھی لا ھبۃ حتی اذا جنح الاضلام فی الغسق۔
ترجمہ : اس نے اپنے ہاتھوں کو کاٹا جبکہ وہ پیاسی نہ تھی حتی کہ رات کی تاریکی میں داخل ہوگئی۔
22:۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لدلوک الشمس “ سے مراد ہے مائل ہونا (آیت) ” الی الغسق الیل “ سے مراد ہے سورج کا غروب ہونا۔
23:۔ عبدالرزاق نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لدلوک الشمس “ سے مراد ہے سورج کا زائل ہونا آسمان کے بطن سے (آیت) ” الی الغسق الیل “ سے مراد ہے سورج کا غروب ہونا۔ (واللہ اعلم)
24:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقران الفجر “ سے مراد ہے صبح کی نماز۔
25:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقران الفجر “ سے مراد ہے فجر کی نماز۔
26:۔ عبدالرزاق اور ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان قرآن الفجر کان مشہودا “ کہ اس (وقت) میں فرشتے اور جن حاضر ہوتے ہیں۔
27:۔ احمد ترمذی نسائی، ابن ماجہ ابن جریر، ابن منذر ابن ابی حاتم حاکم ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں (ترمذی اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان قرآن الفجر کان مشہودا “ سے مراد ہے کہ صبح کی نماز کے وقت میں رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے نماز میں جمع ہوتے ہیں۔
28:۔ عبدالرزاق، بخاری، مسلم، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے فجر کی نماز میں اکٹھے ہوتے ہیں پھر ابوہریرہ ؓ اگر تم چاہو تو پڑھ لو (آیت) ” وقران الفجر ان قرآن الفجر کان مشہودا “
29:۔ سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر اور طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رات اور دن کی نگہبانی کرنے والے فرشتے صبح کی نماز میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو (آیت) ” وقران الفجر ان قرآن الفجر کان مشہودا “ یعنی رات کے فرشتے اور ان کے فرشتے نازل ہوتے ہیں۔
فجر کی نماز میں محافظ فرشتے جمع ہوتے ہیں :
30:۔ حکیم ترمذی نے نوادر میں ابن جریر، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت) ” ان قرآن الفجر کان مشہودا “ پڑھی اور فرمایا اس وقت رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
31:۔ عبدالرزاق نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان قرآن الفجر کان مشہودا “ کہ صبح کی نماز کے وقت دن کے فرشتے اور رات کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
32:۔ ابن ابی شیبہ نے قاسم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ فجر کی نماز کے لئے مسجد میں حاضر ہوئے جب کہ لوگ اپنے پیٹھوں سے سہارا لے کر بیٹھے قبلہ کی طرف پشت کرکے انہوں نے فرمایا قبلہ کی طرف ہوجاؤ فرشتوں اور نماز کے درمیان حائل نہ ہوجاؤ کیونکہ یہ دونوں رکعتیں فرشتوں کی نماز ہیں۔
33:۔ ابن جریر ابن منذر محمد بن نصر نے کتاب الصلوۃ میں علقمہ واسود رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ نیند کے بعد تہجد کی نماز ہوتی ہے۔
34:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ رات کا قیام باقی لوگوں سے منسوخ ہوگیا سوائے نبی کریم ﷺ کے (کہ ان پر منسوخ نہیں ہوا)
35:۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” نافلۃ لک “ یعنی نبی کریم ﷺ کو خاص طور پر رات کے قیام کا حکم دیا گیا اور ان پر فرض کردیا گیا۔
36:۔ طبرانی نے الاوسط میں بیہقی نے سنن میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تین چیزین ایسی ہیں جو مجھ پر فرض ہیں اور وہ تمہارے لئے سنت ہیں وتر کی نماز، مسواک کرنا اور رات کا قیام کرنا۔
37:۔ ابن جریر، ابن منذر اور محمد بن نصر اور بیہقی نے دلائل میں مجاہد (رح) سے (آیت) ” نافلۃ لک “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ نبی کریم ﷺ کے لئے زائد نماز تھی اس وجہ سے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردئیے گئے پس آپ ﷺ نے فرض نمازوں کے ساتھ جو کوئی نفل نماز پڑھی وہ آپ کے لئے نفل تھی فرض نمازوں کے علاوہ کیونکہ فرض نمازوں کے علاوہ تمام اعمال گناہوں کے کفارہ کے لئے ہوتے ہیں آپ کے لئے یہ اعمال نوافل اور زیادتی کے طور پر تھے اور جو لوگ فرض نمازوں کے علاوہ (زائد) عمل کرتے ہیں وہ گناہوں کے کفارہ کے لئے ہوتے ہیں یہ لوگوں کے لئے زائد نہیں ہوتے کیونکہ یہ نبی کریم ﷺ کے لئے خاص ہیں۔
ابن ابی حاتم نے قتادہ ظؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
ابن منذر نے حسن (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
38:۔ محمد بن نصر نے حسن (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ومن الیل فتھجد بہ نافلۃ لک “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ رات کے نوافل نبی اکرم ﷺ کے ساتھ خاص تھے۔
39:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر ابن ابی حاتم اور محمد بن نصر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” نافلۃ لک “ سے مراد ہے کہ آپ کے لئے نفل اور فضیلت ہے۔
40:۔ احمد، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابوامامہ ؓ سے (آیت) ” نافلۃ لک “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ نبی ﷺ کے لئے نفل ہے اور تمہارے لئے فضیلت ہے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ یہ نفل خاص ہے رسول اللہ ﷺ کے لئے۔
نفل نماز بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے کھڑا ہونا افضل ہے :
41:۔ طیالسی، ابن نصر، طبرانی ابن مردویہ بیہقی نے شعب میں اور خطیب نے تاریخ میں ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ جب مسلمان آدمی اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر بیٹھتا ہے تو اس حالت میں بیٹھتا ہے کہ اس کی مغفرت ہوچکی ہوتی ہے اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو یہ اس کے لئے فضیلت ہوتی ہے اس سے پوچھا گیا (یہ نماز) نفل ہے ؟ فرمایا یہ نبی کریم ﷺ کے لئے نفل تھی عام آدمی کے لئے کیسے نفل ہوسکتی ہے۔ وہ تو خطاوں اور گناہوں میں لگارہتا ہے لیکن یہ فضیلت ہے (انکے لئے)
42:۔ سعید بن منصور، بخاری، ابن جریر، اور ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ لوگ قیامت کے دن گھٹنوں کے بل چلیں گے ہر امت اپنے نبی کے پیچھے جائے گی لوگ اپنے اپنے نبی سے کہیں گے فلاں ہماری سفارش کر یہاں تک کہ لوگ سفارش کے لئے نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوں گے یہ وہ دن ہوگا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر بھیجیں گے۔
43:۔ احمد، ترمذی، ابن جریر، ابی حاتم، ابن مردویہ، اور بیہقی نے دلائل میں (ترمذی نے تحسین بھی کی) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” عسی ان یبعثک ربک مقام محمودا “ کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا یہ وہ مقام ہے کہ جس میں میں اپنی امت کے لئے شفاعت کروں گا۔
44:۔ ابن جریر اور بیہقی نے شعب میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مقام محمود سے مراد ہے مقام شفاعت۔
45:۔ ابن جریر، طبرانی اور ابن مردویہ نے طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عسی ان یبعثک ربک مقام محمودا “ سے مراد ہے مقام شفاعت۔
46:۔ ابن مردویہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے مقام محمود کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا وہ شفاعت ہے۔
47:۔ احمد، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، حاکم، اور ابن مردویہ نے (حاکم نے تصحیح بھی کی) کعب بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور میں اور میری امت ایک ٹیلہ پر ہوگی میرا رب مجھے سبز جوڑا پہنائے گا پھر مجھے وہ کلمات کہنے کی اجازت دے گا جو اللہ تعالیٰ چاہیں گے کہ میں کہوں اور وہ مقام محمود ہے۔
48:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، حاکم ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں (حاکم نے تصحیح بھی کی) علی بن حسین ؓ سے روایت کیا کہ مجھے اہل علم میں سے ایک آدمی نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن زمین چمڑے کی طرح پھیلائی جائے گی اور ہر انسان کے لئے صرف باقی رکھنے کی جگہ ہوگی۔ سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا تو میں سجدہ میں گر پڑوں گا پھر مجھے اجازت دی جائے گی اور میں کہوں گا اے میرے رب مجھے اس جبرائیل (علیہ السلام) نے بتایا اور جبرائیل (علیہ السلام) رحمان کے دائیں طرف ہوگا اللہ کی قسم کہ بلاشبہ آپ نے میری طرف ان کو بھیجا اور جبرائیل (علیہ السلام) خاموش ہوں گے کوئی بات نہیں کریں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو نے سچ کہا پھر مجھے شفاعت کرنے کی اجازت دی جائے گی میں کہوں گا اے میرے رب تیرے بندوں نے تیری عبادت کی زمین کے اطراف میں اور یہ مقام محمود ہے۔
49:۔ ابن ابی شیبہ، نسائی، بزار، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، حاکم، ابونعیم نے حلیہ میں ابن مردویہ اور بیہقی نے بعث میں اور خطیب نے المتفق والمفترق میں (حاکم نے تصحیح بھی کی) حذیفہ عمر ؓ نے فرمایا کہ لوگوں کو ایک زمین میں جمع کیا جائے گا کہ ان کو ایک پکارنے والا آواز سنائے گا اور سب کی نظر گذر جائے گی ننگے بدن ننگے پاوں ہوں گے جیسے پیدا کئے گئے تھے سب کھڑے ہوں گے کوئی آدم بات نہیں کرسکے گا مگر اس کی اجازت سے آواز دی جائے گی اے محمد تو وہ جواب دیں گے ( اے اللہ) میں حاضر ہوں اور تیری عبادت کے ساتھ موافقت کرتا ہوں اور خیر آپ کے ہاتھوں میں ہے اور شر آپ کی طرف نہیں ہے اور ہدایت پانے والا وہ ہے جس کو آپ نے ہدایت دی اور آپ کا بندہ آپ کے سامنے ہے کوئی پناہ کی جگہ اور جائے نجات نہیں مگر تیری طرف تو بڑی برکت والا ہے تو بڑی بلند ذات ہے تیری ذات پاک ہے جو رب ہے گھر کا یہ مقام محمود ہے۔
50:۔ بخاری، ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سورج البتہ قریب ہوجائے گا یہاں تک کہ آدھے کان کے رگ کے قریب پہنچ جائے گا لوگ اسی کیفیت میں ہوں گے لوگ آدم (علیہ السلام) سے مدد مانگیں گے تو وہ کہیں گے تو وہ کہیں گے میں اس لائق نہیں ہوں پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے تو وہ بھی معذرت کریں گے پھر محمد ﷺ شفاعت فرمائیں گے تو اللہ تعالیٰ مخلوق کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے پھر آپ چلیں گے یہاں تک کہ جنت کے دروازے کے حلقہ کو پکڑیں گے اس دن اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود عطا فرمائیں گے تمام لوگ اس دن آپ کی تعریف کررہے ہوں گے۔
51:۔ احمد، ابن جریر، ابن منذر، حاکم اور ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں ضرور کھڑا ہوں گا مقام محمود پر پوچھا گیا مقام محمود کیا ہے ؟ فرمایا جب تم کو بلایا جائے گا ننگے پاوں ننگے بدن بغیر ختنہ کے سب سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے خلیل کو لباس پہنادو دو سفید چادریں لائیں جائیں گی اور ان کو پہنائی جائیں گئی پھر وہ عرش کے مقابل بیٹھ جائیں گے پھر ایک لباس لایا جائے گا تو میں اس کو پہنوں گا اور میں عرش کے داہنی طرف ایک ایسے مقام پر کھڑا ہوں گا کہ کوئی بھی اس جگہ کھڑا نہ ہوگا اور پہلے لوگ اور آخری لوگ مجھ پر رشک کریں گے پھر نہر کوثر حوض کی طرف کھول دی جائے گی۔
مقام محمود کی تعین :
52:۔ ابن مردویہ نے عمرو بن شعیب (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ مقام محمود کیا ہے ؟ جس کو آپ کے رب نے آپ کو لئے ذکر کیا آپ نے فرمایا قیامت کے دن لوگ ننگے بدن اور بغیر ختنہ کئے ہوئے اکٹھے کئے جائیں گے اس حالت کی طرح جس دن تم (ماں کے پیٹ سے) پیدا ہوئے یہاں ان کے لئے بڑی گھبراہٹ ہوگی اور بڑی مصیبت انکو انتہائی پریشان کرے گی اور پسینہ انکے مونہوں کو پہنچے گا انتہائی شدت اور تکلیف میں ہوں گے مجھے ہی سب سے پہلے بلایا جائے گا اور مجھے ہی سب سے پہلے لباس عطا کیا جائے گا پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو بلایا جائے گا اور ان کو جنت کے کپڑوں میں سے دو سفید کپڑے پہنائے جائیں گے پھر حکم دیا جائے گا اور ان کو کرسی کے سامنے بٹھایا جائے گا پھر میں عرش کے داہنی جانب کھڑا ہوں گا میرے علاوہ ساری مخلوق میں سے وہاں کوئی کھڑا نہ ہوگا میں بات کروں گا اور سب سنیں گے اور میں گواہی دوں گا تو سب لوگ تصدیق کریں۔
53:۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” عسی ان یبعثک ربک مقام محمودا “ کی تلاوت کی اور فرمایا (پھر اللہ تعالیٰ ) ان کو تخت پر بٹھائیں گے۔
آپ ﷺ اولاد آدم کے سردار ہیں :ـ
54:۔ ترمذی، ابن جریر، اور ابن مردویہ نے (ترمذی نے تحسین بھی کی) ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں آدم (علیہ السلام) کی اولاد کا سردار ہوں گا اور کوئی فخر نہیں اور میرے ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا اور (مجھے) کوئی فخر نہیں اور اس دن آدم (علیہ السلام) اور آپ کی ساری اولاد میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور میں پہلا شخص ہوں گا جس کے لئے زمین پھٹے گی اور (مجھے) کوئی فخر نہیں اور لوگوں کو تین مرتبہ گھبراہٹیں لاحق ہوں گی لوگ آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ ہمارے باپ ہیں اپنے رب کی طرف ہماری سفارش کیجئے وہ فرمائیں گے مجھ سے ایک غلطی ہوئی تھی جس کی وجہ سے میں زمین کی طرف اتارا گیا لیکن تم نوح (علیہ السلام) کے پاس جاؤ تو وہ لوگ نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے وہ فرمائیں گے میں نے زمین والوں کے لئے بدعا کی تھی وہ سب ہلاک ہوگئے تھے تم ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جاؤ لوگو ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے وہ فرمائیں گے موسیٰ کے پاس جاؤ تو لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے وہ بھی فرمائیں گے میں نے ایک جان کو قتل کیا تھا لیکن تم عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ وہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے میں اللہ کو چھوڑ کر میری عبادت کی گئی لیکن تم محمد ﷺ کے پاس جاؤ وہ لوگ میرے پاس آئیں گے میں ان کے ساتھ چلوں گا اور میں جنت کے دروازہ کے حلقہ کو پکڑوں گا اور اس کو کھٹکھٹاوں گا پوچھا جائے گا یہ کون ہے ؟ میں کہوں گا محمد ﷺ ہوں تو فرشتے میرے لئے کھول دیں گے اور کہیں گے مرحبا میں سجدہ میں گر جاوں گا تو اللہ تعالیٰ مجھے حمد وثناء اور بزرگی بیان کرنے کے لئے میرے دل میں الفاظ ڈالیں گے پھر حکم ہوگا اپنے سر کو اٹھائیے سوال کریں آپ کو عطا کیا جائے گا سفارش کیجئے آپ کی سفارش قبول ہوگئی اور کہئے آپ کی بات سنی جائے گی اور یہ مقام محمود ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” عسی ان یبعثک ربک مقام محمودا “
55:۔ ابن مردویہ نے ابوسعید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” عسی ان یبعثک ربک مقام محمودا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں اور قبلہ والوں میں سے ایک قوم کو آگ میں سے نکالیں گے محمد ﷺ کی سفارش سے اور یہ مقام محمود ہے۔
56ـ:۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے جہنمیین کی حدیث کا ذکر فرمایا تو ان سے کہا گیا یہ کیا ہے جو آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” انک من تدخل النار فقد اخزیتہ “ (آل عمران آیت : 192) اور فرمایا (آیت) ” کلما ارادو ان یخرجوا منھا اعیدوا فیھا “ (السجدہ آیت 20) انہوں نے کہا کیا تم قرآن پڑھتے ہو ؟ اس نے کہا ہاں فرمایا کیا تو نے اس میں مقام محمود کے بارے میں نہیں سنا ہے ؟ اس نے کہا ہاں فرمایا بلاشبہ وہ محمد ﷺ کا مقام ہے کہ ان کے ذریعہ اور وسیلہ سے اللہ تعالیٰ (دوزخ کی آگ سے) نکالیں گے جس کو چاہیں گے۔
57ـ:۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ شفاعت کے بارے میں اجازت دیں گے تو روح القدس جبرائیل (علیہ السلام) کھڑے ہوں گے پھر ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کھڑے ہوں گے پھر عیسیٰ (علیہ السلام) یا موسیٰ (علیہ السلام) کھڑے ہوں گے پھر تمہارے نبی کریم ﷺ سفارش کرنے کے لئے کھڑے ہوں گے آپ کے بعد آپ سے زیادہ کسی کی سفارش قبول نہیں گی جائے گی اور یہی مقام محمود ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” عسی ان یبعثک ربک مقام محمودا “۔
58:۔ ابن مردویہ نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم اللہ سے سوال کرو تو اس سے میرے لئے اس مقام محمود کا سوال کرو جس کا انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔
59:۔ بخاری نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اذان سننے کے بعد یہ دعا پڑھے۔
اللہم رب ھذہ الدعوۃ التامۃ والصلوۃ القائمۃ ات محمد الوسیلۃ والفضیلۃ وابعثہ مقاما محمودا الذی وعدتہ انک لا تخلف المیعاد :
ترجمہ : اے اللہ اس پوری پکار کے مالک اور قائم ہونے والی نماز کے بعد محمد ﷺ کو وسیلہ عطا فرما ان کو فضیلت عطا فرما اور ان کو مقام محمود پر پنچا جس کو تو ان سے وعدہ فرمایا ہے تو اس کے لئے قیامت کے دن میری شفاعت حلال (یعنی واجب) ہوجائے گی۔
60:۔ ابن ابی شیبہ نے سلمان ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے کہا جائے گا آپ سوال فرمائیں آپ کو عطا کیا جائے گا آپ سفارش کریں آپ کی سفارش قبول ہوگی آپ دعا فرمائیں آپ کی دعا قبول ہوگی آپ اپنے سر مبارک کو اوپر اٹھائیں گے اور فرمائیں گے میری امت دو مرتبہ ایسا فرمائیں گے سلمان ؓ نے فرمایا آپ کی سفارش قبول کی جائے گی ہر اس شخص کے لئے جس کے دل میں گیہوں کے دانہ کے برابر ایمان ہے یا جو کے برابر ایمان ہے یا رائی کے دانے کے ایمان ہے سلمان ؓ نے فرمایا کہ یہی تمہارا مقام محمود ہے۔
61:۔ دیلمی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مقام محمود کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ وہ دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ اپنے عرش سے نیچے اتریں گے تو وہ چڑچڑائے گا جیسے کہ نیا کجاوہ اپنی تنگی کی وجہ سے چڑچڑاتا ہے۔
62:۔ طبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عسی ان یبعثک ربک مقام محمودا “۔ یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو بٹھائیں گے درمیان اپنے اور درمیان جبرائیل (علیہ السلام) کے اور آپ اپنی امت کے لئے سفارش کریں گے یہی مقام محمود ہے۔
63:۔ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت) ” عسی ان یبعثک ربک مقام محمودا “۔ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ مجھ کو بٹھائیں گے اپنے ساتھ تخت پر۔
64:۔ ابن جریر نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” عسی ان یبعثک ربک مقام محمودا “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ آپ بندے اور نبی بن جائیں یا نبی اور بادشاہ بن جائیں جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ کی طرف تواضع اختیار کرنے کا اشارہ دیا تو آپ نے اختیار فرمایا کہ میں بندہ اور نبی بن جاوں تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو دو چیزیں عطا فرمائیں گئیں سب سے پہلے آپ کی زمین کھلے گی (یعنی آپ کی قبر مبارک سب سے پہلے کھلے گی) اور آپ سب سے پہلے سفارش کرنے والے ہوں گے اور اہل علم اسے مقام محمود خیال کرتے ہیں۔
65:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” عسی ان یبعثک ربک مقام محمودا “۔ سے مراد ہے کہ (اللہ تعالیٰ ) آپ کو (یعنی محمد ﷺ کو) بٹھائیں گے اپنے ساتھ عرش پر۔
Ayah 17:801:۔ احمد، ترمذی، ابن جریر، ابن منذر، طبرانی، حاکم، ابن مردویہ، ابونعیم، اور بیہقی دونوں نے دلائل میں اور ضیاء نے مختارہ میں (ترمذی اور حاکم دونوں نے تصحیح بھی کی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ مکہ میں تھے پھر آپ کو ہجرت کا حکم دیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” وقل رب ادخلنی مدخل صدق واخرجنی مخرج صدق واجعل لی من لدنک سلطنا نصیرا “
2:۔ حاکم اور بیہقی نے دلائل میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقل رب ادخلنی مدخل صدق “ یعنی اللہ نے آپ کو مکہ سے نکالا (آیت) ” مخرج صدق “ اور آپ کو مدینہ میں داخل فرمایا (آیت) ” مدخل صدق “ فرمایا اللہ کے نبی ﷺ نے جان لیا کہ اس کے لئے کوئی طاقت نہیں اس کام کی مگر غلبہ کے ساتھ اس لئے آپ سے ایسے غلبہ کا سوال کیا جس کے ساتھ مدد بھی ہو اللہ کی کتاب کے لئے اور اس کی حدود (کے نافذ کرنے) کے لئے اور اس کے فرائض کے لئے اور اللہ کی کتاب کو قائم کرنے کے لئے کیونکہ غلبہ عزت ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان رکھ دیا اگر ایسا نہ ہو تو لوگ ایک دوسرے پر غارت گری کرتے اور ان کا طاقت والا ان کے کمزور کو کھا جاتا۔
3:۔ خطیب نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ جتنا قرآن کے ذریعہ روکتا ہے اس سے کہیں زیادہ سلطان (یعنی عزت اور غلبہ) کے ذریعہ روکتا ہے۔
4:۔ زیبر بن بکار نے اخبار مدینہ میں زید بن اسلم (رح) سے اس کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے (آیت) ” مدخل صدق “ مدینہ منورہ کو بنایا اور (آیت) ” مخرج صدق “ مکہ مکرمہ کو ’‘’ سلطنا نصیرا “ انصار کر بنایا۔
5:۔ حاکم نے ابن عباس ؓ نے یوں پڑھا (آیت) ” ادخلنی مدخل صدق واخرجنی مخرج صدق “ مدخل کو میم کے فتحہ کے ساتھ۔
6:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ادخلنی مدخل صدق “ سے مراد ہے موت (آیت) ” واخرجنی مخرج صدق “ سے مراد ہے موت کے بعد والی زندگی۔
Ayahs 17:81–821:۔ ابن ابی شیبہ بخاری مسلم ترمذی نسائی ابن جریر ابن منذر اور ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کے اردگرد ساٹھ بت تھے آپ نے ان کو ایک لکڑی کے ساتھ چبھونا شروع کیا جو آپ کے ہاتھ میں تھی اور فرماتے جاتے تھے (آیت) وقل جآء الحق وزھق الباطل، ان الباطل کان زھوقا “ (الاسراء : 81) (آیت) ” جآء الحق وما یبدئ الباطل وما یعید “ (سبا آیت 29)
2:۔ ابن ابی شیبہ، ابویعلی، ابن منذر نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت تھے رسول اللہ ﷺ نے ان کو حکم فرمایا تو چہروں کے بل اوندھے منہ گرپڑے آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت) وقل جآء الحق وزھق الباطل، ان الباطل کان زھوقا “
3:۔ طبرانی نے صغیر میں ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ فتح کے دن مکہ میں داخل ہوئے اور کعب میں تین سو ساٹھ بت تھے ابلیس نے ان کے پاوں کو تانبے کی زنجیروں سے باندھ رکھے تھے آپ کے ہاتھ میں چھڑی تھی آپ ہر بت کی طرف اشارہ فرماتے تو وہ اپنے چہرے کے بل گرپڑتا اور آپ ﷺ یہ آیت پڑھ رہے تھے (آیت) وقل جآء الحق وزھق الباطل، ان الباطل کان زھوقا “۔
4:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان الباطل کان زھوقا “ میں زھوقا سے مراد جانے والا۔
جاء الحق کی تفسیر :
عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقل جآء الحق “ یعنی قرآن (آیت) ” وزھق الباطل “ یعنی وہ ہلاک ہوگیا اور وہ شیطان ہے اور فرمایا (آیت) ” وننزل من القرآن ما ھو شفآء ورحمۃ “ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن بنا دیا (آیت) ” شفآء ورحمۃ للمومنین “ مومنین کے لئے شفاء اور رحمت جب مومن اس کو سنتا ہے تو اس سے نفع حاصل کرتا ہے اسے یاد کرتا ہے اور دل میں محفوظ کرتا ہے (آیت) ” ولا یزید الظلمین الا خسارا “ (یعنی کافر لوگ) نہ اس سے نفع حاصل کرتے ہیں اور نہ اس کو یاد کرتے ہیں اور نہ دل میں جگہ دیتے ہیں۔
6:۔ ابن عساکر اویس قرنی (رح) سے روایت کیا کہ جو اس قرآن کے ساتھ بیٹھتا ہے اور پھر کھڑا ہوتا ہے تو اس میں کچھ زیادتی یا کمی ہوتی ہے یہ فیصلہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو ہوچکا ہے اور فرمایا (آیت) ” شفآء ورحمۃ للمومنین ‘ ولا یزید الظلمین الا خسارا “۔
Ayahs 17:83–841:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونابجانبہ “ سے مراد ہے وہ ہم سے دور ہوگیا۔
2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” کان یوسا “ سے مراد ہے ناامید ہونا مایوس ہونا ” کل یعمل علی شاکلتہ “ یعنی ہر شخص اپنے ارادہ کے مطابق عمل کرتا ہے۔
3:۔ ھناد اور ابن منذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” علی شاکلتہ “ یعنی اپنی نیت کے مطابق ہر شخص عمل کرتا ہے۔
Ayahs 17:85–861:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویسئلونک عن الروح “ (کہ روح کے بارے میں) یہودیوں نے آپ سے سوال کیا تھا۔
2:۔ احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن منذر، ابن حبان، ابن مردویہ، ابونعیم اور بیہقی دونوں نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا مدینہ منورہ کی ویران جگہوں میں اور آپ کھجور کی ایک ٹہنی پر سہارے چل رہے تھے یہود کی ایک قوم سے گذرے ان کے بعض نے بعض سے کہا ان سے روح کے بارے میں سوال کرو لیکن بعض نے کہا کہ ان سے تم مت سوال کرو مگر انہوں نے آپ سے پوچھا اور کہنے لگے اے محمد ﷺ روح کیا ہے ؟ آپ برابر اس کھجور کی ٹہنی پر سہارا لگائے کھڑے رہے اور میں گمان کیا کہ آپ کی طرف وحی ہورہی ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” ویسئلونک عن الروح، قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلا “
3:۔ احمد، ترمذی، نسائی، ابن منذر، ابن حبان، ابوالشیخ نے عظمہ میں، ابن مردویہ ابونعیم اور بیہقی دونوں نے دلائل میں (حاکم اور ترمذی نے تصحیح بھی کی) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش نے یہودیوں سے کہا کوئی چیز ہم کو ایسی دو (یعنی بتلاؤ) کہ ہم اس سے اس آدمی (یعنی محمد ﷺ سے سوال کریں انہوں نے کہا ان سے روح کے بارے میں سوال کرو تو انہوں نے (جب) سوال کیا تو یہ (آیت) ” ویسئلونک عن الروح، قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلا “ کہنے لگے ہم کو بہت علم دیا گیا ہم کو تورات گئی اور جس کو تورات دی گئی تو اس کو خیر کثیر دی گئی تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” قل لوکان البحر مدادا لکلمت ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمت ربی ولو جئنا بمثلہ مددا “
روح کے متعلق یہود کا سوال کے جواب :
4:۔ ابن مردویہ نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا ہم کو بتائیے روح کیا چیز ہے ؟ اور کس طرح روح کو عذاب دیا جاتا ہے جو جسم میں ہے ؟ اور بلاشبہ روح اللہ کی طرف سے ہے اور اس کے بارے میں آپ پر جو کچھ نازل ہوا ؟ اور آپ ﷺ نے ان کو کوئی جواب نہیں دیا جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور یہ حکم سنایا (آیت) ” قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلا “ نبی کریم ﷺ نے ان کو یہ ارشاد سنایا تو انہوں نے کہا یہ پیغام کون لے کر آیا ہے ؟ فرمایا جبرائیل (علیہ السلام) یہودیوں نے کہا اللہ کی قسم جس نے آپ کو یہ بات کہی ہے وہ ہمارا دشمن ہے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” قل من کان عدوالجبریل “
5:۔ ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن انباری نے کتاب الاضداد میں، ابوالشیخ نے عظمہ میں اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں علی بن ابی طالب ؓ نے (آیت) ” ویسئلونک عن الروح “ کے بارے میں فرمایا کہ روح فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے جس کے ستر ہزار چہرے ہیں، ہر منہ میں ستر ہزار زبانیں ہیں اور ہر نماز کی ستر ہزار لغت ہیں ان ساری لغات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتا ہے۔ ہر تسبیح کے ساتھ اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ پیدا فرماتے ہیں جو فرشتوں کے ساتھ اڑتا رہے گا قیامت کے دن تک۔
6:۔ ابن منذر ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے عطاء کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویسئلونک عن الروح، قل الروح “ میں روح ایک فرشتہ ہے جس کے دس ہزار پر ہیں ان میں سے دو پر مشرق اور مغرب کے درمیان ہیں اور اس کے ہزار منہ ہیں ہر میں کے لئے ایک زبان دو آنکھیں اور ہونٹ ہیں جو قیامت کے دن تک اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہیں۔
7:۔ عبد بن حمید اور ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ روح خدا تعالیٰ کے امر میں سے ایک امر ہے اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں ایک مخلوق ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی صورتیں آدم کی صورت پر بنائی اور جو فرشتہ آسمان سے نازل ہوتا ہے تو اس کے ساتھ روح میں ایک ہوتا ہے پھر یہ (آیت) ” یوم یقوم الروح والملائکۃ صفا (النباء 38) “ پڑھی۔
8:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ابن عباسؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ویسئلونک عن الروح، قل الروح من امر ربی “ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا یہ مقام اور مرتبہ پایا نہیں جاسکتا بس تم اس پر زیادتی نہ کرو پس تم اتنا کہو جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور نبی کریم ﷺ کو سکھایا (آیت) ” وما اوتیتم من العلم الا قلیلا “
9:۔ ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے عبداللہ بن بریدہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ اس دنیا سے اٹھالئے گئے اور آپ روح کے بارے میں کچھ نہ جانتے تھے۔
10:۔ ابن ابی حاتم نے یزید بن زیادرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ ان کو یہ بات پہنچی کہ دو آدمیوں نے اس آیت کے بارے میں اختلاف کیا یعنی (آیت) ” وما اوتیتم من العلم الا قلیلا “ ان میں سے ایک نے کہا کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں اور دوسرے نے کہا وہ محمد ﷺ مراد ہیں ان میں سے ایک ابن مسعود ؓ کے پاس گیا انہوں نے فرمایا کیا تو نے سورة بقرہ نہیں پڑھی اس نے کہا جی ہاں تو فرمایا سورة بقرہ میں کون ساعلم نہیں ہے بلاشبہ اس سے مراد یہود ہیں۔
11:۔ بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویسئلونک عن الروح ، “ میں روح سے مراد فرشتہ ہے۔
12:۔ ابن عساکر نے عبدالرحمان بن عبداللہ بن ام الحکم التقضی ؓ سے رویت کیا کہ اس درمیان کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ کی ایک گلی میں تھے کہ یہودی آپ کو پیش آگئے اور کہا اے محمد ﷺ روح کیا چیز ہے ؟ اور آپ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک ٹہنی تھی آپ اس پر سہارا لے رہے تھے آپ ﷺ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا پھر فرمایا (آیت) ” ویسئلونک عن الروح “ سے لے کر ” قلیلا “ تک۔
13:۔ ابن انباری نے کتاب الاضداد میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ روح کو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ساتھ پیدا فرمایا ان کو فرشتے بھی نہیں دیکھتے جیسے تم فرشتوں کو نہیں دیکھتے اور فرمایا کہ روح ایک ایسی چیز ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ مخصوص رکھا ہے اور اپنی مخلوق میں سے کسی کو اس کا علم عطا نہیں فرمایا اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت) ” ویسئلونک عن الروح، قل الروح من امر ربی “۔
14:۔ ابوالشیخ نے سلمان فارسی ؓ سے روایت کیا کہ انسان اور جن دس اجزاء ہیں انسان ایک جزء ہے اور جن نوا اجزاء ہیں فرشتے اور جن دس اجزء تھے جن ان میں سے ایک جزء ہے اور فرشتے نو اجزاء ہیں فرشتے اور روح دس اجزاء ہیں اس میں سے فرشتے ایک جزء ہیں اور روح نواجزاء ہیں پھر روح اور کروبیون دس اجزاء ہیں روح ان میں سے ایک جزء ہے اور کروبیون نو اجزاء ہیں۔
15:۔ ابن اسحاق اور ابن جریر نے عطاء بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” وما اوتیتم من العلم الا قلیلا “ مکہ میں نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو یہودیوں کے بڑے علماء آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے محمد ہم کو یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ یہ فرماتے ہیں (آیت) ” وما اوتیتم من العلم الا قلیلا “ اس سے آپ نے ہماری ذات مراد لی ہے یا پنی قوم کی ؟ فرمایا ہرگز نہیں میں نے تمہاری قوم مراد لی ہے یہود نے کہا آپ تلاوت کرتے ہیں کہ ہم کو تورات دی گئی اور اس میں ہر چیز کا بیان ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ (تمہارا علم) اللہ کے علم میں تھوڑا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہم کو وہ عطاء فرمایا ہے جس پر تم نے عمل کیا اور نفع اٹھایا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ولوان ما فی الارض من شجرۃ اقلام “ سے لے کر (آیت) ” ان اللہ سمیع بصیر “ تک۔
16:۔ ابن جریر اور ابن منذر ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما اوتیتم من العلم الا قلیلا “ محمد اور سارے لوگ مراد ہیں۔
17:۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما اوتیتم من العلم الا قلیلا “ سے مراد ہے یہودی۔
Ayah 17:871:۔ حکیم ترمذی نے ابن عبا سؓ سے روایت کیا کہ یمن کا وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ ” ابیت اللعن “ یعنی آپ نے کوئی ایسا کام نہیں کیا کہ جس کی وجہ سے لوگ آپ پر لعنت کریں (یہ بادشاہوں کو سلام کرنے کا طریقہ تھا) رسول اللہ ﷺ نے کہا سبحان اللہ یہ تو بادشاہوں کے لئے کہا جاتا ہے اور میں بادشاہ نہیں ہوں میں محمد بن عبداللہ ہوں انہوں نے کہا ہم آپ کو آپ کے نام کے ساتھ نہیں پکاریں گے آپ ﷺ نے فرمایا میں ابوالقاسم ہوں انہوں نے کہا اے ابو القاسم ہم نے (اپنے دلوں میں) ایک بات چھپائی ہوئی ہے آپ ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ اس طرح کے سوالات تو کاہن سے کئے جاتے ہیں اور کاہن (غیب کی خبریں بتانے والا) اور متکہن (زبردستی کاہن بننے والا) اور کہانت کا پیشہ اختیار کرنے والا آگ میں ہوں گے۔ ان میں سے ایک نے کہا پھر کون آپ کی گواہی دے گا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں آپ ﷺ نے لپ بھر کنکریاں لی اور فرمایا یہ گواہی دیتی ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو وہ (کنکریاں) آپ کے ہاتھ میں تسبیح بیان کرنے لگی اور کہنے لگی کہ ہم گواہی دیتیں ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ان لوگوں نے آپ سے کہا کہ ہم کو بعض (آیات سنائیے جو آپ پر اتاری گئیں تو آپ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں (آیت) ” والصفت صفا “ سے لے کر (آیت) ” فاتبعہ شہاب ثاقب “ تک کیونکہ وہ آپ کی ہر حرکت کرنے والی نس ساکن ہوگئی تھی اور آپ کے آنسو داڑھی مبارک تک پہنچ گئے انہوں نے کہا ہم آپ کو روتا ہوا دیکھ رہے ہیں کیا اس ذات کے خوف کی وجہ سے جس نے آپ کو بھیجا ہے فرمایا بلکہ اس خوف کی وجہ سے میں روتا ہوں جس نے مجھے بھیجا ہے اس ذات نے مجھے ایسے راستے پر بھیجا ہے جو تلوار کی دھار کی طرح ہے اگر میں اس سے منحرف ہوگیا تو ہلاک ہوجاوں گا پھر (یہ آیت) ” ولئن شئنا لنذھبن بالذی اوحینا الیک ثم لا تجدلک بہ علینا وکیلا “
2:۔ سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم طبرانی حاکم ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں (حاکم نے تصحیح بھی ہے) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ یہ قرآن عنقریب اٹھالیا جائے گا پوچھا گیا کیسے اٹھایا جائے گا ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہمارے دلوں میں مضبوط کردیا ہے اور ہم نے اس کو مصاحف میں رکھ دیا ہے فرمایا ایک رات اس پر ایسی آئے گی کہ ایک آیت بھی دل میں نہیں چھوڑی جائے گی اور نہ مصحف میں مگر وہ اٹھالی جائے گی اور تم اس حال میں صبح کروگے کہ تمہارے اندر قرآن کا کوئی حصہ بھی موجود نہ ہوگا پھر (یہ آیت) ” ولئن شئنا لنذھبن بالذی اوحینا الیک “ پڑھی۔
3:۔ ابن ابی داود نے مصاحف میں ابن مسعودؓ سے روایت کیا کہ قرآن پر ایک رات ایسی آئے گی کہ قرآن اٹھا لیاجائے گا کہ ایک آیت بھی مصحف میں نہیں چھوڑی جائے گی مگر یہ اس کو اٹھالیا جائے گا۔
4:۔ طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ کسی رات قرآن پر (یہ حال) ضرور گذرے گا کہ لوگوں کے سینوں سے اس کو اٹھالیا جائے گا اور زمین پر اس کا کوئی حصہ باقی نہیں رہے گا۔
قرب قیامت قرآن اٹھالیا جائے گا :
5:۔ بیہقی نے شعب میں ابن مسعودؓ سے روایت کیا کہ پڑھو قرآن کو پہلے اس سے کہ اس کو اٹھالیا جائے کیونکہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ اس کو اٹھالیا جائے گا لوگوں نے کہا کیا یہ مصاحف اٹھالئے جائیں گے اور لوگوں کے سینوں سے بھی قرآن اٹھالیا جائے گا صبح کو وہ لوگ کہیں گے گویا کہ ہم کچھ جانتے تھے پھر وہ اشعار پڑھنے میں مشغول ہوجائیں گے۔
6:۔ حاکم اور بیہقی نے (حاکم نے تصحیح بھی ہے) حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام مٹا دیا جائے گا جیسے کپڑے کا رنگ مٹا دیا جاتا ہے یہ ان تک کہ نہ جانا جائے گا کہ روزہ کیا ہے ؟ صدقہ کیا ہے ؟ قربانی کیا ہے ؟ اور ایک رات میں اللہ کی کتاب پر یہ حال غزرے گا کہ اس میں سے ایک آیت بھی زمین پر باقی نہ رہے گی اور بہت بوڑھے کہیں گے کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس کلمہ پر پایا ” لا الہ الا اللہ “ اور ہم بھی یہی کہتے ہیں۔
7:۔ خطیب نے تاریخ میں حذیفہ ؓ نے فرمایا عنقریب اسلام مٹ جائے گی جیسے کپڑے کے نقش ونگار مٹ جاتے ہیں لوگ قرآن کو پڑھیں گے اور اس کی حلاوت کو نہیں پائیں گے وہ لوگ رات کو گذاریں گے اور صبح کو اٹھیں گے کہ قرآن رات کو اٹھا یا جائے گا اور اس لے پہلے والی کتاب بھی یہاں تک کہ بہت بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں کے دلوں سے قرآن سلب ہوجائے گا اور وہ نماز کے وقت کو اور روزے کے وقت کو اور قربانی کے وقت نہ پہچانیں گے یہاں تک یہ ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا ہم نے تو لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ” لا الہ الا اللہ “ اور ہم بھی کہتے ہیں ” لا الہ الا اللہ “
8:۔ ابن ابی داود اور ابن ابی حاتم نے شمر بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ قرآن پر ایک رات ایسے گذرے گی کہ اپنے اوقات میں تہجد پڑھنے والے اٹھیں گے تو کسی چیز پر قادر نہ ہوں گے وہ اپنے مصحفوں کی طرف جائیں گے تو وہ اس پر بھی قادر نہ ہوں گے تو وہ ایک دوسرے کے پاس جائیں گے اور ملاقات کریں گے اور ایک دوسرے کو وہ کیفیت بتائیں گے جس سے وہ دوچار ہوئے۔
9:۔ ابن عدی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک زمانہ لوگوں پر ایسا آئے گا کہ پیغام بھیجا جائے گا قرآن کی طرف اور زمین سے اٹھالیا جائے گا۔
10:۔ محمد بن نصر نے کتاب الصلاہ میں عبداللہ بن عمر وبن العاص ؓ سے روایت کیا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک قرآن وہاں واپس چلا جائے گا جہاں سے نازل ہوا تھا اس کی بھنبھناہٹ اس کے اردگرد ہوگی شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی طرف اللہ تعالیٰ پوچھیں گے تجھے کیا ہوا ؟ قرآن عرض کرے گا یا رب میری تلاوت کی جاتی تھی اور میرے پر عمل نہیں کیا جاتا تھا۔
11:۔ محمد بن نصر نے لیث بن سعد (رح) سے روایت کیا کہ بلاشبہ قرآن اٹھالیا جائے گا جب لوگ متوجہ ہوں گے دوسری کتابوں کی طرف اور دوسری کتابوں پر اوندھے گرے ہوں گے اور قرآن کو چھوڑ دیں گے۔
12:۔ دیلمی نے مسند فردوس میں معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا میری اطاعت کرو جب تک میں تمہارے درمیان ہوں جب میں چلا جاوں تو تم لازم پکڑو اللہ کی کتاب کو اس کے حلال کو حلال جانو اور اس کے حرام کو حرام جانو عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ قرآن رات کو اٹھالیا جائے گا اور دلوں اور مصحفوں سے مٹا دیا جائے گا۔
13:۔ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے (حاکم نے تصحیح بھی ہے) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ قرآن پر ایسی رات گذرے گی کہ وہ آسمان کی طرف اٹھالیا جائے گا تو زمین پر قرآن میں سے کوئی چیز باقی نہ رہے گی نہ تورات میں نہ انجیل میں سے نہ زبور میں سے سلب کرلیا جائے گا لوگوں کے دلوں سے صبح کو وہ نماز میں ہوں گے اور ان کو علم نہ ہوگا اپنی کیفیت کا۔
14:۔ ابوالشیخ ابن مردویہ اور دیلمی نے حذیفہ وابوہریرہ ؓ دنوں سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی کتاب پر ایک ایسی رات گذرے گی کہ وہ اٹھا لیا جائے گا لوگ حج کریں گے (اس حال میں) کہ زمین میں اور نہ کسی مسلمان کے دل میں کوئی آیت ہوگی۔
15:۔ ان مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک اوپر اٹھالیا جائے گا ذکر کو اور قرآن کو۔
16:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس وابن عمر ؓ دونوں حضرات سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یہ کیا کتابیں ہیں جن کے متعلق مجھے خبر پہنچی ہے کہ تم ان کو لکھتے ہو اللہ کی کتاب کے ساتھ ؟ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجائے اپنی کتاب کی وجہ سے اس پر ایک رات ایسی آئے گی کہ وہ اٹھا لیاجائے گا کسی دل اور کسی کاغذ پر کوئی ایک حرف بھی باقی نہ رہے گا۔ پوچھا یا رسول اللہ ! کیا کیفیت ہوگی مومنین اور مومنات کی ؟ فرمایا جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر کا ارادہ فرمائیں گے تو اس کے دل میں ” لا الہ الا اللہ “ کو باقی رکھیں گے۔
17:۔ ابن ابی حاتم نے قاسم بن عبدالرحمان سے روایت کیا اور وہ اپنے باپ دادا سے کرتے ہیں کہ آدھی رات میں قرآن چلا جائے گا جبرائیل (علیہ السلام) آئیں گے اور اس (قرآن) کو لے کر چلے جائیں گے پھر یہ آیت (آیت) ” ولئن شئنا لنذھبن “ پڑھی۔
Ayahs 17:88–891:۔ ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے اب عباس ؓ سے روایت کیا کہ محمود بن مسیحان اور نعیمان بن اصی اور مجزیء بن عمر اور سلام بن مشکم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے محمد یہ جو آپ لائے ہیں کیا یہ حق ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ؟ ہم اس میں تورات کی طرح نظم ونسق نہیں دیکھتے آپ نے ان سے فرمایا اللہ کی قسم تم پہنچانتے ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے کہنے لگے ہم تیرے پاس اس طرح (کا کلام) لائیں گے جو تو لایا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” قل لئن اجتمعت الانس والجن “
2:۔ ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل لئن اجتمعت الانس والجن “ (الآیہ) سے مراد ہے کہ اگر جن ظاہر ہوجائیں اور انسان ان کی مددکریں پھر ایک دوسرے کی خوب مدد کریں پھر بھی اس قرآن کی مثل نہیں لاسکتے۔