Ayahs 16:116–1171:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تقولولما تصف السنتکم الکذب ھذا حلل وھذا حرام “ سے مراد ہے بحیرہ اور سائبہ جانورجن کو مشرکین اپنی خواہش پر حرام قرار دیتے تھے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو نضرہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے یہ آیت سورة نحل میں پڑھی (آیت) ” ولا تقولولما تصف السنتکم الکذب ھذا حلل وھذا حرام “ آیت کے آخر تک تو میں آج تک فتوی دینے سے ڈرتا ہوں۔
3:۔ طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آدمی یوں کہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم فرمایا ہے اور اس سے روکا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے لئے فرماتے ہیں کہ تو نے جھوٹ بولا اور وہ کہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام کیا ہے اور اس کو حلال کیا ہے اور اللہ عزوجل اس کے لئے فرماتے ہیں کہ تو نے جھوٹ بولا۔
Ayahs 16:118–1191:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے (آیت) ” وعلی الذین ھادوا حرمنا ما قصصنا علیک من قبل “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ سورة انعام ہیں ہے۔
2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” وعلی الذین ھادوا حرمنا ما قصصنا علیک من قبل “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیان فرمایا اس کا ذکر سورة انعام میں ہے جیسے کہ فرماتے ہیں (آیت) ” وعلی الذین ھادوا حرمناکل ذی ظفر “ سے لے کر ” وانا لصدقون “ تک۔
Ayahs 16:120–1231:۔ عبدالرزاق، فریابی، سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ اور حاکم نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ (آیت) ” امۃ “ کیا چیز ہے ؟ فرمایا جو لوگوں کو خیر سکھاتا ہے۔ اور عرض کیا ” القانت “ کیا چیز ہے ؟ فرمایا جو اطاعت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان براہیم کان امۃ قانتا “ کے بارے میں فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) اسلام پر تھے اور ان کے زمانہ میں ان کی قوم میں سے کوئی ایک بھی اسلام پر نہیں تھا ان کے علاوہ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” کان امۃ قانتا “۔
3:۔ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان براہیم کان امۃ قانتا “ سے مراد ہے کہ وہ خیر کے امام تھے ” قانتا “ یعنی وہ فرمانبردار تھے۔
4:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان براہیم کان امۃ قانتا “ سے مراد ہے کہ وہ اکیلے مومن تھے اور باقی سب لوگ کافر تھے۔
5:۔ ابن جریر نے شہر بن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ ہر دور میں زمین پر چودہ افراد ایسے باقی ہوتے ہیں کہ ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ زمین والوں سے (مصیبتیں) دور کرتے ہیں اور زمین کی برکات کا نکالتے ہیں مگر ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے میں صرف آپ مسلمان تھے۔
ابراہیم (علیہ السلام) کی امت کی تعداد :
6:۔ ابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی بندہ ایسا نہیں ہے کہ اس کے لئے اس کی امت گواہی دیتی ہے مگر اللہ تعالیٰ ان کی گواہی کو قبول فرماتے ہیں اور امت میں ایک آدمی اور اس سے زائد ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو بھی امت فرمایا ہے جیسے فرمایا (آیت) ” ان براہیم کان امۃ قانتا للہ حنیفا، ولم یک من المشرکین “۔
7:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان براہیم کان امۃ قانتا “ سے مراد ہے ہدایت کا امام جس کی اقتداء کی جائے اور اس کے طریقے کی پیروی کی جائے۔
8:۔ ابن ابی شیبہ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واتینہ فی الدنیا حسنۃ “ سے مراد ہے سچی زبان۔
9:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” واتینہ فی الدنیا حسنۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ ہر دین والا ابراہیم (علیہ السلام) کو پسند کرتا ہے اور محبت کا اظہار کرتا ہے۔
10:۔ عبدالرزاق اور ابن ابی شیبہ دونوں نے مصنف میں، ابن منذر ابن مردویہ، اور بیہقی نے شعب میں ابن عمر وؓ سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے ظہر اور عصر عرفات میں پڑھی پھر وہاں ٹھہر گئے یہاں تک کہ جب سورج چھپ گیا تو وہاں سے چلے اور مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں پڑھیں (یعنی اکٹھے پڑھیں) پھر مزدلفہ میں آپ نے فجر کی نماز اسی طرح جلدی پڑھی جس طرح مسلمان نماز پڑھتا ہے پھر آپ رہے یہاں تک کہ آپ اتنی دیر ٹھہرے رہے جیسے مسلمانوں میں سے کوئی ایک آرام سے نماز پڑھتا ہے پھر آپ وہاں سے چلے اور رمی میں جاکر شیطان کو کنکریاں ماریں پھر جانور ذبح کیا پر حلق کرایا پھر آپ بیت اللہ کی طرف چلے اس کا طواف کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا (آیت) ” ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا “ (واللہ تعالیٰ اعلم )
Ayah 16:1241:۔ عبدالرزاق، ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما جعل السبت علی الذین اختلفوا فیہ “ سے مراد ہے کہ جس دن میں انہوں نے اختلاف کیا تھا وہ جمعہ کا دن تھا لیکن ان لوگوں نے اس کے بجائے ہفتہ (کے دن) کو عبادت کا دن بنایا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” انما جعل السبت علی الذین اختلفوا فیہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر جمعہ کے دن عبادت فرض کی تھی انہوں نے انکار کیا اور کہا اے موسیٰ اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے دن کچھ بھی پیدا نہیں فرمایا اس لئے ہمارے لئے ہفتہ کے دن کو مقرر کردیجئے جب ان پر ہفتہ کا دن مقرر کردیا گیا تو انہوں نے اس دن میں اس چیزوں کو حلال کرلیا جو ان پر حرام کی گئی تھیں۔
3:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سدی کے طریق سے ابو مالک اور سعید بن جبیر ؓ سے (آیت) ” انما جعل السبت علی الذین اختلفوا فیہ “ روایت کیا کہ انہوں نے خاص طور پر (ہفتہ کے دن کاروبار وغیرہ کو) حلال کرلیا موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ ہفتہ کے دن لکڑیاں اٹھائے ہوئے تھا آپ نے اس کی گردن مار دی۔
4:۔ شافعی نے کتاب الام میں بخاری، مسلم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم آخر میں آنے والے قیامت کے دن آگے بڑھنے والے ہوں گے وہ لوگ ہم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور ہم کو ان کے بعد عطا کی گئی پھر ان کا یہ دن جو ان پر فرض کیا گیا تھا وہ جمعہ کا دن تھا مگر انہوں نے اختلاف کیا پھر ہم کو اللہ تعالیٰ نے اس دن کے لئے (یعنی جمعہ کے دن کے لئے) ہدایت دی پس لوگ اس میں ہمارے تابع ہوں گے یہودی دوسرے دن اور نصاری تیسرے دن عبادت کرتے ہیں۔
احمد اور مسلم نے ابوہریرہ ؓ اور حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے گمراہ کردیا جمعہ کے دن سے ہم سے پہلے لوگوں کو یہود کے لئے ہفتہ کے دن ہے اور نصاری کے لئے اتوار کا دن ہے پھر اللہ تعالیٰ ہم کو لے آئے اور اللہ تعالیٰ نے ہم کو ہدایت دی جمعہ ہفتہ اور اتوار کے دن کی اسی طرح وہ لوگ ہماری تابعداری کریں گے قیامت کے دن ہم اہل دنیا میں آخر میں ہیں اور قیامت کے دن ہم سب سے پہلے ہوں گے۔
Ayah 16:1251:۔ ابن مردویہ نے ابو لیلی اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے آئمہ کی اطاعت کو لازم پکڑو اور ان کی مخالفت نہ کرو کیونکہ ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور ان کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے میں اس کے راست کی طرف بلاتا رہوں اور اچھی نصیحت کے ساتھ سو جو شخص اس کام میں میری مخالفت کرے گا تو وہ ہلاک ہونے والوں میں سے ہوگا اور اس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ اور اس کے رسول کا ذمہ بری ہوجائے گا اور جو آدمی تمہارے کسی امر کا والی بنا اور اس کے خلاف عمل کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی اور سارے لوگوں کی لعنت ہے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجادلہم بالتیھی احسن “ سے مراد ہے کہ خاص کر ان کو اذیت دینے سے اعراض کیجئے۔
Ayahs 16:126–1281:۔ ترمذی (ترمذی نے تحسین بھی کی ہے) عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں نسائی ابن منذر ابن ابی حاتم ابن حبان ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے دلائل میں (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ احد کی جنگ میں 64 انصار اور چھ مہاجر شہید ہوئے مہاجرین شہداء میں حضرت حمزہ بھی شامل تھے ان سب کو کافروں نے مثلہ کردیا تھا (یعنی شہیدوں کے ناک کان بھی کاٹ لئے تھے) انصار نے کہا اگر اللہ تعالیٰ نے ان پر ہم کو غلبہ دیا تو ہم بھی ان سے بڑھ کر مثلہ کریں گے کچھ مدت کے بعد جب مکہ فتح ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ ولئن صبرتم لھو خیرللصبرین “ (اس آیت کے نازل ہونے کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم سزا نہیں دیں گے بلکہ صبر کریں گے فرمایا چار آدمیوں کے علاوہ باقی سب سے ہاتھ لو کسی کو قتل نہ کرو)
حضرت حمزہ ؓ کی شہادت :
2:۔ ابن سعد، بزار، ابن منذر، ابن مردویہ، حاکم اور بیہقی نے دلائل میں (حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ (اپنے چچا) حضرت حمزہ ؓ (کی نعش) کے پاس کھڑے تھے جب ان کو شہید کردیا گیا آپ نے ایسا منظر دیکھا جو کبھی آپ نے نہیں دیکھا تھا اور آپ کے دل کو اس سے بڑی تکلیف ہوئی اور ان کی طرف دیکھا کہ ان کو مثلہ کردیا گیا تھا (یعنی ان کے ناک کان وغیرہ کاٹ لئے گئے تھے) آپ نے فرمایا اللہ کی رحمت ہو تجھ پر میں تیرے متعلق جانتا ہوں کہ آپ بڑے نیک کام کرنے والے اور صلہ رحمی کرنے والے تھے اگر تیرے بعد تجھ پر غم کئے جانے کا خیال نہ ہوتا تو مجھے اس بات سے خوشی ہوتی کہ میں تجھے ایسے ہی چھوڑ جاوں تاکہ قیامت کے دن آپ کا حشر مختلف روحوں میں سے ہو خدا کی قسم اگر مجھے اللہ تعالیٰ نے غلبہ دیا تو میں تیرے بدلے ان کے ستر آدمیوں کا مثلہ کروں گا اور نبی کریم ﷺ ابھی وہاں کھڑے ہوئے تھے کہ جبرئیل (علیہ السلام) سورة نحل کی یہ آخری آیت لئے آئے۔ (آیت) ” وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ “ (یہ سن کر) نبی کریم ﷺ نے اپنی قسم کا کفارہ ادا فرمایا اور اپنے ارادے سے باز آگئے جس کا آپ نے ارادہ کیا تھا اور آپ نے صبر کا مظاہرہ فرمایا۔
3:۔ ابن منذر، طبرانی، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حمزہ ؓ کے قتل کرنے کا دن فرمایا جبکہ ان کو مثلہ کردیا گیا تھا کہ اگر میں نے قریش پر فتح حاصل کرلی تو میں نے ان میں سے ستر آدمیوں کو ضرور مثلہ کروں گا تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی (آیت) ” وان عاقبتم “ الایۃ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے میرے رب بلکہ ہم صبر کریں گے پس آپ نے صبر کیا اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا۔
4:۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور ابن جریر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ جب احد کا دن تھا اور مشرکین (لڑائی کے بعد) چلے گئے تو مسلمانوں نے اپنے شہید بھائیوں کو مثلہ (کی حالت میں) دیکھا انہوں نے ان کانوں کو ان کی ناکوں کا کاٹ دیا تھا اور ان کے پیٹوں کو چیر دیا تھا رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ؓ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ نے ہم کو موقعہ دیا (یعنی غلبہ عطا فرمایا) ان پر تو ہم ضرور ضرور ایسا کریں گے (کہ ان کو بھی ہم مثلہ کردیں گے) تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” وان عاقبتم “ (پوری آیت) ” تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلکہ ہم صبر کریں گے۔
5:۔ ابن اسحاق اور ابن جریر نے عطا بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ سورة نحل ساری ساری مکہ میں نازل ہوئی مگر اس کے آخر میں تین آیات احد کے دن مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں جب حمزہ ؓ شہید کردیئے گئے اور ان کو مثلہ کردیا گیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر ہم کو ان پر فتح حاصل ہوئی تو ان میں سے ہم ضرور تیس آدمیوں کو مثلہ کریں گے جب مسلمانوں سے اس بات کو سنا تو کہنے لگے اللہ کی قسم اگر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائی ان پر کہ ہم ضرور ان کو ایسا مثلہ کریں گے کہ عرب میں سے کسی نے ایسا مثلہ نہیں کیا ہوگا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی (آیت) ” وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ “ سورة کے آخر تک۔
6:۔ ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ “ یہ اس وقت کا ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو حکم فرمایا کہ اس سے لڑو جو تم سے لڑے پھر سورة برأۃ نازل ہوئی اور شہر حرام کے گذرنے کا حکم نازل ہوا تو جہاد کرنے کا حکم ہوا پس یہ آیت منسوخ ہوگئی۔
7:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ مشرکین سے درگذر کا حکم کیا گیا تھا پھر جب رعب اور دبدبے والے افراد مسلمان ہوگئے تو کچھ صحابہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ اگر اللہ تعالیٰ نے ہم کو اجازت فرمائیں تو ہم ان کتوں سے ضرور بدلہ لیں گے تو یہ آیت نازل ہوئی پھر جہاد کی آیت کے ساتھ (یہ حکم) منسوخ ہوگیا۔
8:۔ عبدالرزاق، سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون “ سے مراد ہے کہ بچو تم ان چیزوں میں سے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام کی ہیں اور اچھا عمل کرو ان چیزوں میں جو ان پر فرض کی گئی ہیں۔
9:۔ سعید بن منصور، ابن سعد، ابن ابی شیبہ، ھناد، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ھرم بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ جب ان پر موت کا وقت آیا تو لوگوں نے ان سے کہا کوئی وصیت کر جنے فرمایا میں تم کو سورة نحل کی آخری تین آیات کی وصیت کرتا ہوں یعنی (آیت) ” ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ “ سورة کے آخر تک۔
10:ـ۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر اور ابن منذرنے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ “۔ سے مراد ہے کہ تم حد سے تجاوز نہ کرو۔
11:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ “۔ سے مراد ہے تم میں سے اگر کوئی آدمی کوئی چیز لے لے تو تم بھی اس سے طرح کی چیز لے لو۔
الحمد للہ سورة النحل مکمل ہوئی۔