Ayahs 16:84–901:۔ عبد ابن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کہ (آیت) ” ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا “ سے مراد ہے کہ ہر امت کا نبی گواہی دے گا اس بات پر کہ اس نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وجئنا بک شھیدا علی ھولآء “ فرمایا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اللہ کے نبی ﷺ جب اس آیت کو پڑھتے تھے تو آپ کی آنکھیں بہہ پڑتی تھیں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وذا را الذین ظلموا العذاب فلا یخفف عنہم ولا ھم ینظرون “ یہ اس طرح ہے ج جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت) ” ھذا یوم لا ینطقون (35) ولا یوذن لہم فیعتذرون “ المرسلات آیت (26)
3:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالقوا الیہم القول “ سے مراد ہے کہ انہوں نے ان سے بات کی۔
4:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والقوا الی اللہ یومئذ السلم “ یعنی وہ اس دن اللہ تعالیٰ کے سامنے سرجھکا دیں گے۔
5:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والقوا الی اللہ یومئذ السلم “ یعنی وہ اس دن سرتسلیم خم کئے ہوئے ہوں گے۔
6:۔ عبدالرزاق فریابی سعید بن مصنور ابن ابی شیبہ ھناد بن السری ابویعلی ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم طبرانی اور بیہقی نے البعث والنشور میں اور حاکم نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” زدنہم عذابا فوق العذاب “ سے مراد ہے کہ ان پر ایسے بچھو مسلط کئے جائیں گے جن کے دانت لمی کھجور کے درخت کی طرح ہوں گے۔
7:۔ ابن مردویہ اور خطیب نے تالی التلخیص میں براء ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” زدنہم عذابا فوق العذاب “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا بچھو ہوں گے لمبی کھجوروں کی طرح جو ان کو جہنم میں کاٹیں گے۔
8:۔ ھناد نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دوزخ میں ان پر زہریلے سانپ مسلط کئے جائیں گے۔
9:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کے بارے میں روایت کیا کہ دوزخ والے جب اس کی گرمی سے واویلا کریں گے تو دوزخ میں تھوڑا پانی مانگیں گے تو وہ پانی کے پاس آئیں گے تو ان کو ایسے بچھو ملیں گے گویا کہ وہ کالے خچر ہیں اور زہریلے سانپ ہوں گے گویا وہ بختی اونٹ ہیں اور وہ ان کو کاٹیں گے اور عذاب کے زیادہ کرنے سے یہی مراد ہے۔
10:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ جہنم میں کنویں ہوں گے اور اس میں سانپ ہوں گے بختی اونٹ کی طرح اور بچھو ہوں گے خچروں کی طرح دوزخ والے ان کنووں سے ساحل پر آنے کے لئے مدد مانگیں گے تو (یہ سانپ اور بچھو) ان کی طرف کو پڑیں گے ان کے جبڑوں کو اور ان کے ہونٹوں کو پکڑ لیں گے ان کے گوشت اتار دیں گے ان کے قدموں تک دوزخی ان سے آگ کی طرف بھاگنے کی کوشش کریں گے وہ ان کا پیچھا کریں گے یہاں تک کہ وہ اس کی گرمی کو پائیں گے تو پھر لوٹیں گے اور وہ اپنے بلوں میں ہوں گے۔
ابن ابی شیبہ اور ھناد نے مجاہد (رح) سے اسی طرح نقل کیا۔
جہنم کے سانپ اور بچھو وں کا حال :
11:۔ ابن جریر نے عبداللہ بن عمر وؓ سے روایت کیا کہ جن ہم کے کنارے جن میں سانپ اور بچھو ہوں گے ان کی گردنیں بختی اونٹ کی گردنوں کی طرح ہیں۔
12:۔ ابن ابی حاتم نے اعمش کے طریق سے مالک بن حارث (رح) سے روایت کیا کہ جب کسی آدمی کو آگ میں ڈالا جائے گا تو وہ اس میں گرتا چلا جائے گا جب وہ اس کے بعض دروازوں کی طرف پہنچے گا تو کہا جائے گا ٹھہر جا یہاں تک کہ اس کو گھیر لیا جائے گا اور اس کو ایک گلاس سانپوں اور بچھوں کا زہر پلایا جائے گا جس کی وجہ سے ان کی کھال علیحدہ ہوجائے گی اور بال بھی علیحدہ ہوجائیں گے اور پٹھے بھی اور آنتیں بھی علیحدہ ہوجائیں گی۔
13:۔ ابویعلی ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) ’ ’ زدنہم عذابا فوق العذاب “ کے بارے میں روایت کیا کی کہ اللہ تعالیٰ ان پر آگ کی پانچ نہروں انڈیلیں گے اس کی بعض (نہروں) سے ان کو عذاب دیا جائے گا رات کو اور بعض کے ذریعہ دن کو عذاب دیا جائے گا۔
14:۔ ابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا عذاب کی زیادتی (اس طرح ہوگی) پانچ نہریں عرش کے نیچے سے جاری ہوگی دوزخ والوں کے سروں پر تین نہریں رات کی مقدار پر اور دو نہریں دن کی مقدار پر اسی کو فرمایا (آیت ) ’ ’ زدنہم عذابا فوق العذاب بما کانوا یفسدون “۔
15:۔ ابن مردویہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کیا تو جانتا ہے جہنم کی وسعت کیا ہوگی ؟ میں نے کہا نہیں فرمایا ان میں سے ایک جہنمی کے کان کی لو کے درمیان اور اس کے کندھے کے درمیان ستر سال کا فاصلہ ہوگا اور) (ان کے درمیان) پیپ اور خون کی وادیاں جاری ہوں گی میں نے عرض کیا کیا نہریں ہوں گی ؟ فرمایا نہیں بلکہ وادیاں ہوگی (پیپ اور خون کی)
16:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب میں ہر چیز کے بیان کو نازل فرمایا اور البتہ تحقیق ہم نے جان لیا بعض ان چیزوں کو جو ہمارے لئے قرآن میں بیان کی گئیں پھر (یہ آیت) تلاوت فرمائی (آیت) ” وانزلنا علیک الکتب تبیانا لکل شیء “
17:۔ سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں، ابن ضریس نے فضائل القرآن میں، محمد بن نصر نے کتاب اللہ میں، طبرانی اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص علم (حاصل کرنے) کا ارادہ کرے تو اس کو چاہئے کہ قرآن سے روشنی حاصل کرے کیونکہ اس میں اولین وآخرین کے علوم ہیں۔
18۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قرآن کو جلدی جلدی پڑھ کر نہ کاٹو بالوں کے کاٹنے کی طرح اور اس کو نہ بکھیر وردی کھجوروں کی طرح بکھیرنا اور اس کے عجائبات کے پاس ٹھہرو اور اس کے ساتھ اپنے دلوں کو حرکت دو (اس کے عجائبات میں غور وفکر کرتے ہوئے)
19:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا دستر خوان ہے جو اس میں داخل ہوا وہ امن میں ہوگیا۔
دل کو قرآن کریم کے ساتھ مشغول رکھنا :
20:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ یہ دل برتن ہیں اس کو قرآن کے ساتھ مشغول رکھو اور اس کو اس کے علاوہ کسی اور چیز سے مشغول نہ رکھو۔
21:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” تبیانا لکل شیء “ سے مراد ہے (کہ ان چیزوں کو بیان کرنے والا ہے) کہ جن کے کرنے کا حکم دیا گیا اور جن سے روکا گیا۔
22:۔ ابن ابی حاتم نے اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونزلنا علیک الکتب تبیانا لکل شیء “ سے مراد ہے سنت کے ذریعہ ہر چیز کو بیان کیا گیا۔
23:۔ احمد نے عثمان بن ابی العاص ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اچانک آپ اوپر دیکھنے لگے اور فرمایا میرے پاس جبرئیل (علیہ السلام) آئے تھے اور مجھ کو حکم فرمایا کہ میں اس آیت کو اس سورة میں اس جگہ پر رکھ دوں (یعنی یہ آیت) ” ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “ سے لے کر تذکرون “ تک۔
24:۔ احمد اور بخاری نے ا دب میں ابن ابی حاتم طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان رسول اللہ ﷺ اپنے گھر کے صحن میں تشریف فرما تھے اچانک عثمان بن مظعون ؓ گزرے اور وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھ گئے اس درمیان کہ وہ باتیں کررہے تھے اچانک آپ نے اپنی نظروں کو آسمان کی طرف اٹھایا کچھ دیر آسمان کی طرف دیکھا پھر آپ نے اپنی آنکھوں کو نیچے کرلیا پھر زمین کی طرف اپنی دائیں جانب دیکھنے لگے رسول اللہ ﷺ اپنے پاس بیٹھنے والے عثمان سے ہٹ اس طرف ہوگئے جب جہاں آپ نے اپنا سرمبارک رکھا آپ اپنا سرمبارک اس طرح ہلاتے رہے گویا کہ آپ سمجھ رہے ہیں اب بات کو جو آپ سے کہی گئی جب اپنی ضرورت پوری کرلی تو رسول اللہ ﷺ نے پھر اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف بلند فرمایا جیسے پہلی مرتبہ فرمایا تھا پھر آپ جبرئیل (علیہ السلام) کو دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ آسمان میں چھپ گئے پھر آپ عثمان ؓ کے پاس پہلی جگہ پر آئے عثمان ؓ نے آپ سے اس کیفیت کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا میرے پاس ابھی جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے تھے پوچھا آپ کو کیا پیغام دیا تھا آپ نے فرمایا یہ (آیت) ” ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “ سے لے کر تذکرون “ تک (نازل ہوئی) عثمان ؓ نے فرمایا اس وقت میرے دل میں ایمان نے قرار پکڑ لیا اور میں محمد ﷺ سے محبت کرنے لگا۔
25:۔ باوردی، ابن سکن، ابن مندہ اور ابونعیم نے معرفتہ الصحابہ میں عبدالملک بن عمیر ؓ سے روایت کیا کہ اکثم بن صیفی رسول اللہ ﷺ کے اعلان نبوت کی خبر پہنچی اس نے ارادہ کیا کہ آپ کے پاس آئے وہ اپنے قوم کے پاس آیا اور دو آدمیوں کو نمائندہ بنا کر بھیجا وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا ہم اکثم کے قاصد ہیں وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ آپ کون ہیں ؟ اور کس چیز کو لائے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں محمد بن عبداللہ ہوں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں پھر آپ نے ان پر یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت) ” ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “ سے لے کر تذکرون “ تک انہوں نے عرض کیا ہم پر یہ دوبارہ پڑھیں آپ نے ان پر دوبارہ پڑھا یہاں تک ان دونوں نے یاد کرلیا وہ دونوں اکثم کے پاس آئے اور اس کو خبر دی جب اس نے یہ آیت سنی تو کہا بلاشبہ میں اس کو دیکھتا ہوں کہ وہ حکم کرتے ہیں مکارم اخلاق کے ساتھ اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں (پھر اس نے کہا) پس تم اس کام میں سردار بن جاؤ (یعنی اس کام میں آگے آگے چلنے والے بنو) اور اس کام تابع نہ بنو (یعنی پیچھے نہ رہ جاؤ) اور اموی نے اپنے مغاذی میں بیان کیا اور زیادہ کیا کہ وہ (یعنی اکثم) سوار ہو کر نبی کریم ﷺ کی طرف چل پڑا (مگر) راستے میں موت آگئی اور کہا گیا کہ یہ (آیت) ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ ثم یدرکہ الموت “ النساء آیت 100) ان کے بارے میں نازل ہوئی۔
26:۔ ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں (آیت) ” والاحسان “ سے مراد ہے فرائض کی ادائیگی (آیت) ” وایتآیئ ذی القربی “ سے مراد ہے کہ (غریب) رشتہ داروں کو اپنا حق ادا کرنا جو اللہ تعالیٰ نے تجھ پر واجب کیا ہے قرابت اور رشتہ داری کے سبب سے (آیت) ” وینھی عن الفحشآء “ سے مراد ہے زنا ” والمنکر “ سے مراد ہے شرک ” والبغی “ سے مراد ہے تکبر اور ظلم ” یعظکم “ یعنی تم کو (اللہ تعالیٰ ) نصیحت فرماتے ہیں (آیت) ” لعلکم تذکرون “ تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔
27:۔ سعید بن منصور، بخاری نے ادب میں، محمد بن نصر نے صلاۃ میں، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی حاکم بیہقی نے شعب الایمان میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) اور ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ سب سے عظیم آیت اللہ کی کتاب میں (یہ ہے) (آیت) ” اللہ لا الہ الا ھو، الحی القیوم “ (آل عمران آیت 2) اور اللہ کی کتاب میں خیر اور شر کی جامع ترین آیت سورة نحل میں ہے یعنی (آیت) ” ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “ اور اکثر آیت اللہ کی کتاب میں تفویض کے لحاظ سے (یہ ہے) (آیت) ” ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا (2) ویرزقہ من حیث لایحتسب “ (الطلاق آیت 3) اور اللہ کی کتاب میں سخت آیت امید کے لحاظ سے یہ ہے (آیت) ” یعبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ “۔
28:۔ بیہقی نے شعب الایمان میں حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ (آیت) ” ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “ آخرتک پڑھی پھر فرمایا اللہ عزوجل نے تمہارے لئے ساری خیر کو اور سارے شرکو اس ایک آیت میں جمع فرمادیا اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے اطاعت الہی میں عدل و احسان کو جمع فرما دیا ہے اور اللہ کی نافرمانی میں ہر برائی اور بدی کو بھی اس آیت میں جمع فرمادیا ہے۔ ؛
29:۔ ابن نجار نے تاریخ میں عکلی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کیا کہ علی بن ابی طالب ؓ ایک قوم کے پاس سے گذرے جو آپس میں باتیں کررہے تھے آپ نے پوچھا کس چیز کے بارے میں تم باتیں کررہے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا ہم آپس میں مروت کا تذکرہ کررہے ہیں انہوں نے فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ (یہ فرمان) کافی نہیں ہے جو اس کتاب میں ہے ؟ جب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “ عدل سے مراد ہے انصاف اور احسان سے مراد تفضل ہے اس سے کون سی بات باقی رہی۔
30:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “ کے بارے میں فرمایا یہ ہر اچھا اخلاق جاہلیت والے جس پر لوگ عمل کرتے تھے اور ایک دوسرے کو اس کی وعظ و نصیحت کرتے تھے اور اس سے ڈرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دے دیا اور ہر وہ براعمل جس کو وہ آپس میں عار سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرما دیا پس اس نے ہر باعث مذمت اخلاق اور بری خصلتوں سے منع فرمایا۔
عدل کی حقیقت کیا ہے ؟
31:۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو عمر بن عبدالعزیز (رح) نے بلایا اور فرمایا میرے لئے عدل کا وصف بیان کرو میں نے عرض کیا واہ واہ آپ نے بڑے عظیم کام کے بارے میں سوال کیا (فرمایا) تم چھوٹوں لوگوں کے لئے باپ بن جاؤ اور ان کے بڑوں کے لئے بیٹا بن جاؤ اور ہم مثلوں کے لئے بھائی بن جاؤ اور عورتوں کے لئے بھی اسی طرح ہوجاؤ اور لوگوں کو سزا دو ان کے گناہوں کے بقدر اور ان کے جسموں کے بقدر اور کسی کو اپنے غصہ کی وجہ سے ایک کوڑا بھی زائد نہ مارو (پھر) تم ہوجاؤ گے حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے۔
32:۔ ابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ جو تیرے ساتھ برائی کرے تو اس کے ساتھ احسان کر (واللہ اعلم )
Ayah 16:911:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے جابر ؓ سے (آیت) ” واوفوا بعھد اللہ اذا عھدتم “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت نبی کریم ﷺ کی بیعت کرنے کے بارے میں نازل ہوئی جو شخص مسلمان ہوتا ہے گویا وہ اسلام پر بیعت کرتا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” واوفوا بعھد اللہ اذا عھدتم ولا تنقصوا الایمان بعد توکیدھا “ یعنی تم کو محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب ؓ کی قلت اور مشرکین کی کثرت اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم بیعت کو توڑ دو جو تم نے اسلام پر بیعت کی ہے۔
2:۔ ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تنقضوا الایمان بعد توکیدھا “ یعنی سخت قسم کھانے کے بعد (آیت) ” وقد جعلتم اللہ علیکم کفیلا “ فرمایا حالانکہ تم نے اس پر اللہ تعالیٰ کو ضامن بنایا ہے۔
3:۔ عبدبن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تنقضوا الایمان بعد توکیدھا “ یعنی (آیت) ” بعد تشدیدھا وتغلیظھا “ جس کا معنی ہے پختہ کرنا موکد کرنا۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تنقضوا الایمان بعد توکیدھا “ یعنی اس کے پختہ اور موکد ہوجانے کے بعد (آیت) ” وقد جعلتم اللہ علیکم کفیلا “ یعنی تم نے (اللہ تعالیٰ کو) اپنے عہد پر گواہ بنایا ہے (واللہ اعلم بالصواب)
Ayahs 16:92–961:۔ ابن ابی حاتم نے ا بوبکر بن حفص ؓ سے روایت کیا کہ سعیدہ الاسد یہ ایک مجنونہ عورت تھی بال اور پتے جمع کرتی تھی (اور ان کو کات کر پھر ریزہ ریزہ کردیتی تھی) تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا “ (الآیہ ) ۔
2:۔ ابن مردویہ نے عطاء بن ابی رباح کے طریق سے عطاء بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو ابن عباس ؓ نے فرمایا اے عطا کیا میں تجھ کو جنت والوں میں سے ایک عورت نہ دکھاوں (پھر) انہوں نے مجھ کو ایک حبشی زرد رنگ کی عورت دکھائی اور فرمایا یہ عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی مجھے جنون کی بیماری ہے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھ کو عافیت دے رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا اگر تو چاہے تو میں اللہ سے دعا کردوں اور وہ تجھ کو عافیت دے اور اگر تو چاہے تو صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے تو تیرے لئے جنت ہے تو اس (عورت) نے صبر اور جنت کو اختیار کیا اور فرمایا یہ مجنونہ سعیدہ الاسد یہ تھی اور وہ بالوں اور پتوں کو جمع کرتی تھی تو یہ (آیت) ” ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا “ نازل ہوئی۔
3:۔ ابن جریر نے عبداللہ بن کثیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا “ خرقاء نامی ایک عورت مکہ میں سوت کی رسی بٹنے کے بعد توڑ دیتی تھی۔
4:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ایک عورت مکہ میں تھی جس کو خرقاء کہا جاتا تھا وہ سوت کا تتی تھی جب تیار کرلیتی تھی تو پھر اس کو توڑ دیتی تھی۔
5:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ عورت اس کو توڑ دیتی تھی جوڑنے کے بعد۔
عہد توڑنے والوں کی مثال :
6:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اگر تم سنو ایسی عورت کے بارے میں جو اپنی سوت کاتنے کے بعد توڑ دیتی تھی تو تم کہو گے یہ عورت کتنی احمق ہے اور یہ ایک مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لئے بیان فرمائی ہے جو اپنے عہد کو توڑ ڈالے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” تتخذون ایمانکم دخلا بینکم “ یعنی خیانت کرتے ہوئے اور دھوکہ دیتے ہوئے۔
7:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ “ میں امت سے مراد لوگ ہیں یعنی کچھ لوگ دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوجائیں۔
8:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ “ سے مراد ہے کہ لوگ پہلے کچھ لوگوں کو حلیف بناتے ہیں پھر دوسرے لوگوں کو ان سے تعداد میں زیادہ اور عزت میں اونچا دیکھتے تو ان سے معاہدہ توڑ کر ان لوگوں کو حلیف بناتے جو زیادہ عزت والے ہوتے تھے تو اس سے منع کیا گیا۔
9:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ تم عہد کو توڑنے والے نہ بن جاؤ اس عورت کی طرح جو اپنے سوت کو ریزہ ریزہ کردیتی تھی اس کے مضبوط ہوجانے کے بعد (آیت) ” تتخذون ایمانکم “ ایمان سے عہد مراد ہے (آیت) ” دخلا بینکم “ یعنی عہد والوں کے درمیان یعنی مکر کرتے ہوئے اور دھوکہ دیتے ہوئے تاکہ اس (معاہدہ) میں ایسی کوئی وجہ پیدا ہوجائے کہ جس سے معاہد توڑنا حلال ہوجائے (آیت) ” ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ “ یعنی (اس سے) زیادہ (تعداد میں) (آیت) ” انما یبلوکم اللہ بہ “ یعنی (اللہ تعالیٰ ) کثرت کے ساتھ (تم کو آزمانا چاہتے ہیں) (آیت) ولیبینن لکم یوم القیمۃ ما کنتم فیہ تختلفون (92) ولوشآء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ “ یعنی مسلمان امت اور مشرک امت (آیت) ” امۃ واحدۃ “ یعنی اسلام کی ایک ہی امت (بنادے) (آیت) ” ولکن یضل من یشآء “ یعنی اپنے دین سے (جس کو چاہتے گمراہ کردے) اور وہ شرک کرنے والے (نب جائیں) (آیت) ” ویھدی من یشآء “ یعنی مسلمان (بنا دے جس کو چاہے) (آیت) ” ولتسئلن “ اور قیامت کے دن اللہ تم سے باز پرس کرے گا (آیت) ” عما کنتم تعملون “ (جو تم عمل کرتے تھے) پھر آخر میں عہد کو توڑنے والے کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” ولا تتخذوا ایمانکم “ یعنی عہد کو (آیت) ” دخلا بینکم فتزل قدم بعد ثبوتھا “ یعنی عہد کو توڑنے والا گرجاتا ہے اپنے دین سے جیسے کہ آدمی کا قدم پھسل جاتا ہے جما لینے کے بعد (آیت) ” وتذوقوا السوٓء بما صددتم عن سبیل اللہ “ یعنی سزا کو چکھو (آیت) ” والا تشتروا بعھد اللہ ثمنا قلیلا “ یعنی دنیا کے تھوڑے سامان کے عوض (اللہ تعالیٰ کے عہد کو نہ توڑو) (آیت) ” انما عنداللہ “ یعنی ثواب (آیت) ” ھوخیر لکم “ یعنی تمہارے لئے ا فضل ہے ان جلدی ملنے والی نعمتوں سے (آیت) ” ماعندکم ینفد “ یعنی جو کچھ تمہارے پاس مال ہے جو ختم ہونے والا ہے۔ (آیت) ” وما عنداللہ باق “ یعنی جو کچھ اللہ کے پاس ہے آخرت میں ثواب سے وہ ہمیشہ رہے گا اور وہ ان کے پانے والوں سے ختم نہیں ہوگا اور ہم ضرور بدلہ دیں گے (آیت) ” الذین صبروا اجرھم باحسن ما کانوا یعملون “ یعنی وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا وہ دنیا میں جو عمل کرتے تھے ان کو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا بہتر اجر عطا فرمائیں گے اور ان کے گناہوں کو معاف کردیں گے۔
10:۔ سعید بن منصور اور طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ تم ارأیت کہنے سے بچو کیونکہ اسی ارأیت (یعنی تم بتاؤ تو سہی) نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کردیا اور ایک چیز کو دوسری چیز پر قیاس نہ کرو (آیت) ” فتزل قدم بعد ثبوتھا “ (یعنی قدم جمنے بعد پھسل جائے) اور جب تم میں سے کسی سے ایسا سوال کیا جائے جو وہ نہیں جانتا تو اسے کہہ دینا چاہئے کہ میں نہیں جانتا اور (یہ نہ جاننا) ایک تہائی علم ہے۔
Ayah 16:971:۔ عبدالرزاق، فریابی، سعید بن منصور، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اس (آیت) ” من عمل صالح من ذکر اونثی وھو مومن فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا (آیت) ” الحیاۃ الطیبۃ “ سے مراد ہے اس دنیا کی زندگی میں حلال رزق عطا کیا جاتا ہے اور جب وہ اپنے رب کے پاس حاضر ہوگا تو اس کو اپنے عمل کا اچھا بدلہ ملے گا۔ (آیت) ” من عمل صالح من ذکر اونثی وھو مومن فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ “ ولنجزینہم اجرھم باحسن ماکانوا یعملون (97) “
2:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے (آیت) ” فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ” الحیاۃ الطیبہ “ سے مراد ہے اس دنیا کی زندگی میں رزق حلال اور جب وہ اپنے رب کے پاس جائے گا تو اس کو اپنے عمل کا اچھا بدلہ ملے گا۔
3:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ “ سے مراد ہے کہ وہ حلال کھائے گا حلال پیئے گا اور حلال پہنے گا۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” حیوۃ طیبۃ “ سے مراد ہے پاکیزہ کمائی اور نیک عمل۔
5:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” حیوۃ طیبۃ “ سے مراد ہے سعادت مندی۔
6:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم حاکم اور بیہقی نے شعب میں طرق سے (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ “ سے مراد ہے قناعت کرنا اور رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے :
اللہم قنعنی بما رزقتنی وبارک لی فیہ واخلف علی کل غائبۃ لی بخیر :
ترجمہ : اے اللہ جو تو نے ہم کو دیا ہے اس پر قناعت عطا فرما اور اس میں برکت دے اور ہر غائب ہونے و الی چیز پر میرے لئے بہتر خلیفہ (یعنی عوض) بنا اور میرے مال پر۔
7:۔ وکیع نے غرر میں محمد بن کعب قرضی ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ “ سے مراد ہے قناعت۔
8:۔ وکیع نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قناعت ایسا مال ہے جو ختم نہیں ہوتا۔
9:۔ مسلم نے ابن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص کامیاب ہوگیا جو مسلمان ہوا اور کفایت کے مطابق رزق دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو قناعت دی جو کچھ اس کو عطا فرمایا۔
10:۔ ترمذی اور نسائی نے فضالہ بن عبید ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ شخص کامیاب ہوگیا جس کو اسلام کی طرف سے ہدایت دی گئی اور اس کی معیشت کفایت کے مطابق ہو اور اس پر وہ قناعت کرنے والا ہوا۔
11:۔ وکیع نے غرر میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قناعت ایسا مال ہے جو ختم نہیں ہوتا۔
12:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” حیوۃ طیبۃ “ سے مراد ہے زندگی کسی کے لئے خوشگوار نہیں ہوگی مگر جنت میں۔
Ayah 16:981:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاذا قرات القران فاستعذ باللہ من الشیطن الرجیم “ سے مراد ہے کہ یہ دلیل ہے اللہ کی طرف سے جس پر اپنے بندوں کی دلالت فرمائی۔
2:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں اور ابن منذر نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ پناہ مانگنا واجب ہے ہر قرأت کے لئے چاہے اور نماز میں ہو یا اس کے علاوہ (کسی دوسری عبادت) میں ہو اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے (آیت) فاذا قرات القران فاستعذ باللہ من الشیطن الرجیم “۔
اعوذ باللہ پڑھنے کا حکم :
3:۔ ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے سنن میں جبیر بن معطعم ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ جب نماز میں داخل ہوتے تھے تو تکبیر کہتے پھر (آیت) ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “ پڑھتے۔
4:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ وہ تعوذ پڑھتے تو اس طرح پڑھتے (آیت) ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “
5:۔ ابوداود اور بیہقی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ رات کو کھڑے ہوتے اور نماز کو شروع فرماتے تو یوں فرماتے ” سبحنک اللہم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالیٰ جدک ولا الہ غیرک “ پھر فرماتے (آیت) ” اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطن الرجیم “
6:۔ ابوداود اور بیہقی نے عائشہ ؓ واقعہ افک کے ذکر میں فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور اپنے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا (آیت) ” اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطن الرجیم “ (اور اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا) ” ان الذین جاء و بالافک عصبۃ منکم “ (الآیۃ ) ۔
Ayahs 16:99–1001:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سفیان ثوری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انہ لیس لہ سلطن علی الذین امنوا “ سے مراد ہے کہ اس کا تسلط نہیں ہوتا (ایمان والوں پر) اس بات پر کہ ان کو گناہ پر آمادہ کرے کہ ان کی مغفرت نہ ہو۔
2:۔ ابن ابی شیبہ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما سلطنہ علی الذین یتولونہ “ سے مراد ہے کہ اس کی حجت ان لوگوں پر ہوتی ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں (آیت) ” والذین ھم بہ مشرکون “ یعنی وہ شیطان کو رب العالمین کے برابر قرار دیتے ہیں۔
شیطان سے دوستی خطرناک ہے :
3:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما سلطنہ علی الذین یتولونہ “ سے مراد ہے کہ شیطان کا تسلط ان پر ہوتا ہے جو شیطان سے دوستی لگاتے ہیں اور اللہ کی نافرمانی والے عمل کرتے ہیں۔
4:۔ ان جریر اور ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کا دشمن ابلیس جب اس پر بدبختی غالب ہوئی تو کہنے لگا (آیت) ” ولا غوینہم اجمعین (39) الا عبادک منہم المخلصین “ پس وہ مخلص لوگ کہ جن پر شیطان کوئی راستہ نہ بنا سکا (یعنی ان پر تسلط نہیں جما سکا) بلاشبہ اس کا تسلط ایسی قوم پر ہے جنہوں نے اس کو دوست بنایا اور اپنے اعمال میں اس کو شریک کیا۔
Ayahs 16:101–1021:۔ ابوداود نے ناسخ میں ابن مردویہ اور حاکم نے (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ “ اور فرمایا (آیت) ” ان ربک للذین ھاجروا من بعد ما فتنوا “ سے مراد ہے کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ؓ رسول اللہ ﷺ کا کاتب تھا ان کو شیطان نے پھسلا دیا اور وہ کافروں سے جا ملے فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے ان کے قتل کا حکم فرمایا تو حضرت عثمان ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے انکے لئے پناہ مانگی تو آپ نے اس کو پناہ دے دی۔
2:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ “ کا قول اس قول (آیت) ” ماننسخ من ایۃ اوننسھا “ کی طرح ہے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ (حکم) ناسخ اور منسوخ کے متعلق ہے فرمایا جب ہم کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں تو ہم اس کے بدلے میں دوسری آیت کو لاتے ہیں کفار کہنے لگے تجھے کیا ہوا ؟ تم پہلے ایسا کہتے ہو پھر خود ہی اس کو ختم کردیتے ہو تم افتراء پردازی کرتے ہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” واللہ اعلم بما ینزل “ یعنی اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں جو وہ نازل فرماتے ہیں۔
Ayahs 16:103–1051:۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے سند ضعیف کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں ایک غلام کو تعلیم دیتے تھے اس کا نام بلعام تھا وہ عجمی زبان والا تھا مشرکوں نے آپ کو بلعام کے پاس آتا جاتا دیکھ کر کہا کہ ان کو بلعام سکھاتا ہے تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ولقد نعلم انہم یقولون انما یعلمہ بشر “ (الآیہ ) ۔
2:۔ حاکم اور بیہقی نے شعب میں حاکم نے صحیح بھی کہا ہے۔ ابن عباس ؓ سے (آیت) ” انما یعلمہ بشر “ کے بارے میں روایت کیا کہ مشرکین نے کہا کہ محمد ﷺ کو عبدۃ بن حضرمی سکھاتا ہے اور وہ صاحب کتاب ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی وھذا لسان عربی مبین “۔
3:۔ ابن جریر عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ بنو مغیرہ کے ایک عجمی غلام کو قرآن سکھاتے تھے جس کو مقیس کہا جاتا تھا (لوگوں نے باتیں نے باتیں شروع کردیں) تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ولقد نعلم انہم یقولون “ (الآیۃ)
4:۔ آدم بن ابی ایاس، ابن ابی شبیہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد نعلم انہم یقولون انما یعلمہ بشر “ یہ قریش کا قول ہے کہ محمد ﷺ کو ابن حضرمی سکھاتا ہے اور وہ صاحب کتاب ہے (حالانکہ) لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی “ یعنی وہ رومی زبان میں بات کرتا تھا (وھذالسان عربی مبین “ (اور یہ قرآن صاف عربی زبان ہے)
5:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ کو عبدہ بن حضرمی سکھاتا ہے جس کو مقیس کہا جاتا ہے۔
6:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ مشرکین مکہ کہا کرتے تھے کہ ان کو سلیمان فارسی ؓ سکھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اتارا (آیت) ” لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی “۔
7:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن شہاب کے طریق سے سعید ابن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ وہ شخص جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا کہ (آیت) ” انما یعلمہ بشر “ اس فتنہ میں وہ شخص اس وجہ سے مبتلا ہوا جو رسول اللہ ﷺ کے لئے وحی کو لکھتا تھا اور آپ اس کو لکھواتے تھے۔” سمیع علیم “ یا ” عزیز حکیم “ یا اس طرح کے (دوسرے) الفاظ آیت کے ختم پر پھر رسول اللہ ﷺ اس سے غافل ہوجاتے تھے (بعد میں) وہ کہتا تھا یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ عزیز حکیم تھا یا سمیع علیم تھا آپ فرماتے تھے جو تو نے لکھا وہ ٹھیک ہے پس وہ فتنہ میں پڑگیا اور کہا کہ بلاشبہ محمد ﷺ مجھ پر بھروسہ کرتے ہیں پس میں جو چاہوں لکھ دوں یہ وہ بات ہے جو میرے لئے سعید بن المسیب نے حروف سبعہ میں ذکر فرمائی۔
ابوبسر نصرانی غلام سے ملاقات :
8:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو جب مکہ والے تکلیف دیتے تھے تو آپ ابن حضرمی کے ایک غلام کے پاس تشریف لے جاتے جس کو ابو یسر کہا جاتا تھا وہ نصرانی تھا اور وہ تورات اور انجیل پڑھتا تھا تو آپ اس سے سوال کرتے اور اس سے باتیں کرتے تھے جب مشرکین نے دیکھا کہ آپ اس کے پاس جاتے ہیں تو کہنے لگے کہ اس کو ابو یسر سکھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” اعجمی وھذا لسان عربی مبین “ (کہ یہ قرآن تو صرف عربی زبان میں ہے) اور ابویسر کی زبان عجمی ہے۔
9:۔ ابن ابی حاتم نے معاویہ بن صالح (رح) سے روایت کیا کہ ابو امامہ کے پاس جھوٹ کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اے اللہ میں جھوٹ سے معافی مانگتا ہوں کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا (آیت) ” انما یفتری الکذب الذین لا یومنون بایت اللہ واولئک ھم الکذبون “۔
10:۔ خرائطی نے مساوی الاخلاق میں اور ابن عساکر نے تاریخ میں عبداللہ بن جرادرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کیا مومن زنا کرسکتا ہے ؟ فرمایا یہ ہوسکتا ہے پھر پوچھا کیا مومن چوری کرسکتا ہے ؟ فرمایا یہ ہوسکتا ہے پھر پوچھا کی مومن جھوٹ بول سکتا ہے ـ؟ فرمایا نہیں پھر اس کے پیچھے اللہ کے نبی ﷺ نے یہ (آیت) انما یفتری الکذب الذین لا یومنون “۔
11:۔ خطیب نے تاریخ میں عبداللہ بن جراد (رح) سے روایت کیا کہ ابوالدرداء ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ کیا مومن جھوٹ بول سکتا ہے فرمایا جب وہ جھوٹ بولتا ہے تو (گویا) وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لایا۔
12:۔ ابن مردویہ نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے ڈرایا گیا کہ جس سے میں تم پر تین کاموں سے ڈرتا ہوں وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کی نعمت عطا کی یہاں تک کہ وہ اس کی بہجت (یعنی خوبصورتی) کو دیکھ لے اور اسلام کی چادراوڑھ لے اور اللہ تعالیٰ جو چاہے اسے عطا فرمائے پھر وہ اپنی تلوار کو سونتے اور اپنے پڑوسی کو مار دے اور اس پر کفر کا الزام لگائے صحابہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! کون ان میں سے کفر سے زیادہ قریب ہے کفر کی تہمت لگا نے والا یا جسے تہمت لگائی گئی ؟ آپ نے فرمایا تہمت لگانے والا اور ایک خلافت والا تھا جو تم سے پہلے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو بادشاہی عطا فرمائی اس نے کہا جس شخص نے میری اطاعت کی تحقیق اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی تو تحقیق اس نے اللہ کی نافرمانی کی اس نے جھوٹ بولا جو اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی محبت کا خلیفہ نہیں بنایا تھا اور وہ آدمی جس کو باتوں نے اس طرح حیران کردیا ہو کہ جب وہ کوئی جھوٹ بولے تو اس کے ساتھ مزید جھوٹ ملا دے یہ وہ شخص ہے جو پائے گا دجال کو اور اس کی پیروی کرے گا۔
Ayahs 16:106–110ترجمہ : 1:۔ ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ فرمایا تو اپنے اصحاب ؓ سے فرمایا مجھ سے جدا ہوجاؤ جس کے پاس طاقت ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ رات کے آخری حصہ تک تاخیر کرے (اپنے چلنے کو) اور جس کے پاس طاقت نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ اول رات میں روانہ ہوجائے جب تم میرے بارے میں سنو کہ میں (مدینہ منور کی) سرزمین میں امن کے ساتھ پہنچ گیا تو میرے ساتھ آملنا حضرت بلال موذن رسول ﷺ خباب عمار ؓ اور قریش میں سے ایک باندی جو مسلمان ہوچکی تھی اور صبح سویرے مکہ سے چل دیئے تو مشرکین ابو جہل نے انکو پکڑ لیا بلال ؓ کے پاس آئے (اور اس سے کہا) تو اسلام کا انکار کر تو انہوں نے (اس بات سے) انکار کردیا تو انہوں نے لوہے کی زرہ کو دھوپ میں گرم کرتے (تاکہ گرم ہوجائے) بلال ؓ کو پہنا دیتے وہ گرم لوہا آپ کو پہناتے تو آپ احد احد کر پکارتے (یعنی اللہ ایک ہیں) اور خباب ؓ کو انہوں نے کانٹوں میں گھسیٹنا شروع کیا اور عمار ؓ تقیہ کرتے ہوئے ایسا کلمہ کہہ دیا جس سے وہ خوش ہوگئے اور اس باندی کو ابوجہل نے چار کیلیں لگائیں پھر ان کے درمیان اس کو لٹکا کر باندھ دیا پھر اس کی شرم گاہ کے اگلے حصے میں نیزہ مارا یہاں تک کہ اس کو قتل کردیا مشرکین نے پھر بلال، ؓ خباب ؓ اور عمار ؓ کو چھوڑ دیا اور (یہ لوگ) رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ گئے اور رسول اللہ ﷺ کو انہوں نے اپنے معاملہ کے بارے میں بتایا حضرت عمار ؓ نے جو بات کہہ دی تھی اس وجہ سے بہت پریشان تھے رسول اللہ نے ان سے فرمایا تیرے دل کی کیفیت کیا تھی کیا کفر کے کلمہ کے ساتھ تیرا دل مطمئن تھا یا نہیں ؟ عرض کیا مطمئن نہیں تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان “۔
عمار بن یاسر ؓ کا آزمائش میں پڑنا :
2:۔ عبدالرزاق، ابن سعد، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، حاکم اور بیہقی نے دلائل میں (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابو عبید بن محمد بن عمار سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عمار بن یاسر ؓ کو مشرکین نے پکڑ لیا اور اس کو نہیں چھوڑا یہاں تک کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے متعلق نازیبا کلمات نہیں کہے اور ان کے بتوں کو خیر کے ساتھ ذکر نہیں کیا پھر انہوں نے عمار کو چھوڑ دیا جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو عرض کیا میں نے آپ کے بارے میں نازبیا کلمات کہے اور ان کے بتوں کا خیر کے ساتھ ذکر کیا (اب کیا حکم ہے ؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا اس وقت تیرے دل کی کیفیت کیا تھی ؟ عرض کیا میرا دل مطمئن تھا ایمان کے ساتھ فرمایا وہ دوبارہ ایسی بات پر مجبور کریں تو تم ایسا کہہ دینا تو یہ (آیت) ” الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان “۔
3:۔ ابن سعد نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے عمار ؓ سے ملاقات کی اور وہ رو رہے تھے آپ نے اس کے آنسو پونچھنے شروع کئے اور فرما رہے تھے تجھ کو کافروں نے پکڑ لیا تھا اور پانی میں تجھ کو غوطے دیئے تھے اور تو نے اس طرح اور اس طرح کہا تھا اگر وہ پھر ایسا کیا کہنے پر مجبور کریں تو تم کہہ دو (یعنی جان بچانے کے لئے) ایسے کلمات کہنا جائز ہے۔
4:۔ ابن سعد نے ابوعبید بن محمد بن عمار بن یاسر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان “ کہ (یہ آیت) عمار بن یاسر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی (آیت) ” ولکن من شرح بالکفر صدرا “ اور یہ عبداللہ ابن ابی سرح کے بارے میں نازل ہوئی۔
5:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، اور ابن منذر نے ابومالک (رح) سے (آیت) ” الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت عمار بن یاسر ؓ سے بارے میں نازل ہوئی۔
6:۔ ابن ابی شیبہ نے نقل کیا کہ حکم (رح) نے فرمایا (آیت) ” الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان “ یہ آیت عمار ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔
7:۔ ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی سرح اسلام لائے پھر مرتد ہو کر مشرکین سے جا ملے اس نے ابن حضرمی کے پاس ابن عبدالدار کے پاس عمار اور خباب ؓ کی چغلی کھائی پس انہوں نے عمار اور خباب ؓ کو پکڑ لیا اور ان کو اتنی تکلیفیں دیں یہاں تک کہ انہوں نے کفر کے (کلمات) کہے تو یہ (آیت) ” الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان “ نازل ہوئی۔
8:۔ مسدد نے مسند میں ابن منذر اور ابن مردویہ نے ابوالمتوکل الناجی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عمار بن یاسر ؓ کو مشرکین کے کنویں کی طرف بھیجا تاکہ اس سے پانی بھر کرلے آئیں اور اس کی گرد تین صفیں تھیں جو اس کی نگرانی کررہی تھیں انہوں نے ایک کنویں سے پانی بھرا پھر واپس آنے لگے تو مشرکین نے ان کو پکڑ لیا اور انہوں نے عمار ؓ سے کفر کے کلمات کہلوائے اس وقت یہ آیت (آیت) ” الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان “ ان کے بارے نازل ہوئی۔
9:۔ ابن جریر اور ابن عساکر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات بتائی گئی کہ یہ آیت (آیت) ” الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان “ عمار بن یاسر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی بنومغیرہ والوں نے ان کو پکڑ لیا اور ان کو ایک کنویں میں غوطے دیئے اور کہنے لگے کیا تو محمد ﷺ کا انکار کرتا ہے تو انہوں نے اس (مجبوری) پر ان کے کہنا مان لیا اور ان کا دل نفرت کررہا تھا (اس بات سے) تو (یہ آیت) نازل ہوئی۔
10:۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت (آیت) ” الا من اکرہ “ عیاش بن ابی ربیعہ کے بارے میں نازل ہوئی۔
ہجرت کرنے والے بعض مسلمانوں کا آزمائش میں مبتلا ہونا :
11:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت مکہ کے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو ایمان لا چکے تھے بعض صحابہ ؓ نے مدینہ منورہ سے ان کو لکھا کہ تم لوگ (مدینہ منورہ کی طرف) ہجرت کرو (کیونکہ) ہم نہیں جانتے کہ تم لوگ ہم میں سے ہو جب تک تم ہماری طرف ہجرت نہ کرو وہ مدینہ منورہ کا ارادہ کرتے ہوئے باہر نکلے تو قریش نے ان کو راستے میں پکڑ لیا اور ان کو آزمائش میں مبتلا کیا ان لوگوں نے مجبور ہو کر کفریہ کلمات کہہ دیئے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
12:۔ ابن سعد نے عمر بن الحکم (رح) سے روایت کیا کہ عمار بن یاسر ؓ کو تکلیف دی گئی یہاں تک کہ ان کو معلوم نہ ہوتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں حضرت صہیب ؓ کو بھی ایسی ہی تکلیف دی گئی یہاں تک کہ وہ اپنی بات نہ سمجھتے تھے ابوفکیھ کو اسی طرح تکلیف دی گئی یہاں تک کہ ان کو معلوم نہ تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں بلال عامر ابن فہیرہ ؓ اور دوسرے مسلمانوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت) ” ثم ان ربک للذین ھاجروا من بعد ما فتنوا “۔
13:۔ ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” من کفر باللہ “ (الآیہ) کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہ خبر دی کی (آیت) ” من کفر باللہ من بعد ایمانہ “ تو اس پر اللہ کا غضب ہوگا اور اس کے لئے بڑا عذاب ہوگا مگر جس کو مجبور کردیا گیا اور اس نے زبان سے ایک کلمہ کہا جبکہ اس کے دل نے مخالفت کی تاکہ وہ اس کے ذریعہ اپنے دشمن سے نجات پائے اور اس پر کوئی حرج نہیں کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس (کام) پر پکڑتے ہیں کہ جس پر ان کے دل پختہ ارادہ کریں۔
14:۔ عکرمہ اور حسن بصری رحمہما اللہ دونوں حضرات نے سورة نحل کی اس آیت ” من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان ولکن من شرح بالکفر صدرا فعلیہم غضب من اللہ ولہم عذاب عظیم (102) کے بارے میں روایت کیا کہ پھر (یہ حکم) منسوخ کردیا گیا اور اس میں سے مستثنی کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ثم ان ربک للذین ھاجروا من بعد ما فتنواثم جھدوا وصبروا ان ربک من بعدھا لغفور رحیم (110) اور وہ عبداللہ بن ابی سرح تھے جو رسول اللہ ﷺ کے کاتب تھے شیطان نے ان کو پھسلا دیا اور وہ کافروں کے ساتھ مل گئے فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ نے ان کے قتل کا حکم فرمایا (مگر) ابوبکر عمر عثمان بن عفان ؓ نے ان کے لئے پناہ مانگی تو نبی کریم ﷺ نے ان کو پناہ دے دی۔
15:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے (آیت) ثم ان ربک للذین ھاجروا من بعد ما فتنوا “ (الآیہ) کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات بتائی گئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے (یہ حکم) نازل فرمایا کہ مکہ والوں کا اسلام قبول نہیں کیا جائے گا جب تک وہ ہجرت نہ کریں مدینہ والوں نے اپنے مکہ والوں دوستوں کو (یہ حکم) لکھ بھیجا وہ (ہجرت کی نیت سے) نکلے تو مشرکین نے انکو پکڑ لیا اور ان کو واپس لوٹا دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وھم لایفتنون “ (العنکبوت آیت 1) نازل فرمائی مدینہ والوں نے مکہ والوں کو یہ (حکم) بھی لکھ بھیجا جب ان کے پاس یہ حکم پہنچا تو انہوں نے نکل جانے کے لئے بیعت کی کہ اگر مکہ کے مشرک ان کے آڑے آئیں گے تو ہم ان سے لڑیں گے یہاں تک کہ وہ یا تو (ان سے) نجات پالیں گے یا اللہ کے ساتھ مل جائیں گے (یعنی شہید ہوجائیں گے) وہ نکلے تو مشرکین نے ان کو پکڑ لیا یہ لوگ ان سے لڑے بعض ان میں سے شہید ہوگئے اور بعض نجات پاگئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) اتاری (آیت) ثم ان ربک للذین ھاجروا ‘ (الآیۃ)
عبدبن حمیدنے شعبی سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
16:۔ ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو نبی کریم ﷺ کے اصحاب ؓ میں سے آزمائش میں ڈالے گئے (آیت) ثم ان ربک للذین ھاجروا من بعد ما فتنوا “۔
17:۔ ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ والوں میں سے چند لوگوں نے اسلام قبول کرلیا تھا اور وہ اسلام کو چھپائے رکھتے تھے ان کے بارے میں نازل ہوا (آیت) ثم ان ربک للذین ھاجروا من بعد ما فتنوا “ (الآیۃ) پس مدینہ والوں نے ان کی طرف خط لکھے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو راستہ بتادیا ہے سو تم نکل کھڑے ہو مگر (راستے میں) مشرکین نے ان کو پکڑلیا (یہ لوگ) ان سے لڑے یہاں تک کہ جس نے نجات پانی تھی وہ نجات پا گیا اور جسے شہید ہونا تھا وہ شہید ہوگیا۔
18۔ ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ مسیلمہ کذاب کے جاسوسوں نے مسلمانوں میں سے دو آدمیوں کو پکڑ لیا ان دونوں کو مسیلمہ کے پاس لے آئے اس نے دونوں میں سے ایک سے کہا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اس نے کہا ہاں پھر کہا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو انہوں نے اپنے کانوں کو اس کی طرف جھکاتے ہوئے کہا کہ میں بہرا ہوں اس نے حکم دیا اور ان کو شہید کردیا پھر اس نے دوسرے سے کہا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ا ہیں اس نے کہا ہاں پھر اس نے کہا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے کہا ہاں تو مسیلمہ نے اس کو چھوڑ دیا وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور اس بات کی خبردی آپ نے فرمایا تمہارا ساتھی تو وہ اپنے ایمان پر پکارہا اس نے عزیمیت پر عمل کیا اور تو نے رخصت پر عمل کیا۔
19:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ثم ان ربک للذین ھاجروا من بعد ما فتنوا (یہ آیت) عیاش بن ابی ربیعہ کے بارے میں نازل ہوئی جو بنو مخزوم کے ایک آدمی تھے اور ابوجہل کے ماں شریک بھائی تھے (اور ابوجہل) اس کو ایک کوڑا لگاتا تھا اور اس کی سواری کو ایک کوڑا لگاتا تھا۔
20:۔ ابن جریر نے ابواسحاق (رح) سے (آیت) ثم ان ربک للذین ھاجروا من بعد ما فتنوا کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت عمار بن یاسر عیاش بن ابی ربیعہ ولید بن ابی ربیعہ اور ولید ابن ولید ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔
Ayah 16:1111:۔ ابن مبارک، ابن ابی شیبہ، احمد نے زہد میں عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ میں عمر بن خطاب ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا انہوں نے فرمایا ہمارے اندر خوف پیدا کرو میں نے عرض کیا اے امیر المومنین کیا تمہارے درمیان اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی حکمت نہیں ہے ؟ فرمایا کیوں نہیں لیکن ہم کو ڈراؤ میں عرض کیا اے امیر المومنین اگر ستر انبیاء کے برابر عمل کرکے آپ قیامت کے دن آئیں گے پھر بھی اپنے عمل کو کم سمجھے گا فرمایا ہمارے لئے اور زیادہ (بیان) کیجئے میں نے عرض کیا اے امیر المومنین اگر بیل کے ناک کے نتھنے کے برابر جن ہم میں سے کھول دیا جائے مشرق کی طرف سے اور ایک آدمی ہو مغرب کی طرف تو اس کا دماغ کھولے گا یہاں تک کہ اس کی گرمی سے اس کا دماغ بہہ پڑے گا فرمایا ہمارے لئے اور زیادہ (بیان) کرو میں نے عرض کیا اے امیر المومنین قیامت کے دن جہنم البتہ آواز نکالے گی تو ہر مقرب فرشتے اور نبی مرسل اپنے گھٹنوں کے بل گرپڑے گا یہاں تک کہ ابراہیم (علیہ السلام) بھی اپنے گھٹنوں کے بل گرپڑیں گے اور عرض کریں گے اے میرے رب نفسی نفسی میں تجھ سے صرف اپنی جان کی نجات مانگتا ہوں اس دن کوئی سوال نہیں کرے گا مگر اپنی جان کا عمر ؓ کچھ دیر سر جھکا کر بیٹھ گئے میں نے عرض کیا اے امیر المومنین کیا اس بات کو آپ اللہ کی کتاب میں نہیں پاتے ہیں ؟ فرمایا کس طرح ہیں ؟ عرض کیا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اس آیت میں (آیت) ” یوم تاتی کل نفس تجادل عن نفسھا وتوفی کل نفس ما عملت وھم لا یظلمون “۔
Ayahs 16:112–1141:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وضرب اللہ مثلا قریۃ کانت امنۃ مطمئنۃ “ سے مراد ہے مکہ مکرمہ۔
اہل مکہ نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی :
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وضرب اللہ مثلا قریۃ “ سے مکہ مکرمہ مراد ہے کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا (آیت) ” ولقد جاء ہم رسول منہم فکذبوہ “۔
3:۔ ابن ابی شیبہ، عبد ابن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قریۃ کانت امنۃ “ سے مکہ مکرمہ مراد ہے کیا تو نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کو نہیں دیکھا (آیت) ” ولقد جآء ھم رسول منہم فکذبوہ فاخذھم العذاب “ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑا بھوک خوف اور شدید جنگ کے ساتھ۔
4:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاذاقھا اللہ لباس الجوع والخوف “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھوک خوف اور قتل میں گرفتار کیا اور اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولقد جآءہم رسول منہم فکذبوہ “ کے بارے میں فرمایا ہاں اللہ کی قسم وہ پہنچانتے ہیں آپ کے نسب کو اور آپ کے کام کو۔
5:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سلیم بن عمر (رح) سے روایت کیا کہ وہ نبی کریم ﷺ کی بیوی حفصہ ؓ کے ساتھ تھا جب وہ مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف (جارہی) تھیں میں نے خبر دی کہ حضرت عثمان ؓ شہید کردئیے گئے تو وہ واپس لوٹ آئیں اور کہنے لگیں میرے ساتھ واپس چلو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ بستی ہے (یعنی مدینہ منورہ) جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وضرب اللہ مثلا قریۃ کانت امنۃ مطمئنۃ “ آیت کے آخرتک۔
6:۔ ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ وہ بستی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” کانت امنۃ مطمئنۃ “ یہ یثرب کی بستی ہے (یعنی مدینہ منورہ )
Ayah 16:1151:۔ عبدبن حمید، ابن حاتم اور ابن منذر نے قتادہ ؓ نے (آیت) ” انما حرم علیکم المیتۃ “ سے مراد ہے کہ اسلام پاکیزہ دین ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کردیا ہے ہر گندگی سے اور اے آدم کے بیٹے اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے مجبوری کی حالت میں ان چیزوں کے استعمال کی گنجائش رکھی ہے۔