Ayah 16:251:۔ ابن جریر۔ اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” لیحملوا اوزاھم کاملۃ یوم القیمۃ ومن اوزار الذین یضلونہم بغیر علم “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اٹھائیں گے اپنے گناہوں کے ساتھ ان کے گناہوں کو بھی جن کو انہوں نے گمراہ کیا بغیر علم کے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” واثقالا مع اثقالہم “ کی طرح ہے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لیحملوا اوزاھم کاملۃ یوم القیمۃ “ سے مراد ہے کہ وہ اٹھائیں گے اپنے گناہ اور ان لوگوں کے گناہ جنہوں نے ان کی اطاعت کی اور یہ ہلکا نہ کیا جائے گا عذاب کچھ بھی ان لوگوں سے جنہوں نے ان کی اطاعت کی۔
گمراہی کی طرف بلانے والا دوسروں کے گناہ بھی اپنے سر لے گا :
3: ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لیحملوا اوزاھم کاملۃ یوم القیمۃ “ کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے گمراہی کی طرف بلایا اور اس کی تابعداری کی گئی تو اس پر ان لوگوں کا بھی گناہ ہوگا جنہوں نے اس کی تابعداری کی ان کے گناہوں میں کمی کئے بغیر اس جس نے ہدایت کی طرف بلایا اور اس کی تابعداری کی گئی تو ان سب لوگوں کا اجر اس کو ملے گا جنہوں نے اس کی تابعداری کی ان کے اجر میں کمی کئے بغیر۔
4:۔ ابن جریر نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ انکو یہ بات پہنچی ہے کہ کافر کا عمل اس کے سامنے انتہائی بدصورت بنا کر پیش کیا جائے گا اور اس سے بدبو آرہی ہوگی وہ اس کے پہلو میں بیٹھ جائے گا جب وہ اس کو ڈرائے گا تو اس کا ڈرنا اور زیادہ ہوگا اور جب بھی وہ خوف کھائے گا تو اس کے خوف میں اضافہ ہوگا کافر کہے گا تو میرا برا ساتھ ہے تو کون ہے ؟ وہ کہے گا تو نے مجھے نہیں پہچانا وہ کہے گا نہیں وہ کہے گا میں تیرا عمل ہوں وہ برا تھا اس لئے تو مجھ کو برا دیکھ رہا ہے اور وہ بدبودار تھا اس لئے تو مجھ کو بدبودار دیکھ رہا ہے تو میری طرف جھک جاتا کہ میں تجھ پر سوار ہوجاوں تو بڑا عرصہ مجھ پر سوار رہا دنیا میں اب وہ اس پر سواری کرے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کے قول ہے (آیت) ” لیحملوا اوزاھم کاملۃ یوم القیمۃ “ (واللہ اعلم )
Ayahs 16:26–291:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قد مکر الذین من قبلہم “ سے مراد نمرود بن کعنان ہے جب اس نے اونچی عمارت بنائی۔
2:۔ عبدالرزاق اور ابن جریر نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ زمین میں سب سے پہلے جبار (یعنی قہر وغضب والا) نمرود تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر ایک مچھر بھیجا جو اس کے ناک کے نتھنے میں گھس گیا وہ چار سو سال تک اس حال میں رہا کہ اس کا سر ہتھوڑے سے پیٹا جاتا تھا (جس سے اس کا آرام ملتا تھا) اس پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا وہ شخص ہوتا جو اپنے ہاتھوں کو جمع کرکے اس کے سر کو مارتا تھا اور وہ چار سو سال تک جبار رہا تو اللہ تعالیٰ نے بھی چار سو سال تک عذاب دیا اس کی بادشاہی (کی مدت) کے برابر پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو مدت دی اور یہ وہ آدمی تھا جس نے آسمانوں تک پہنچنے کے لئے ایک اونچی عمارت بنوائی جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فاتی اللہ بنیانہم من القواعد “۔
3:۔ ابن ابی شبیہ اور ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قد مکرالذین من قبلہم “ سے مراد نمرود بن کنعان ہے جس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا۔
4:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” قد مکرالذین من قبلہم فاتی اللہ بنیانہم من القواعد “ سے مراد ہے کہ اللہ کا حکم (یعنی عذاب) آیا اس کی بنیادوں سے (آیت) ” فخر علیہم السقف من فوقہم “ اور ” السقف “ سے مراد ہے اونچے گھر کہ چھتوں کے بل ان کو اوندھا گرا دیا پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک اور تباہ و برباد کردیا اور فرمایا (آیت) ” واتہم العذاب من حیث لا یشعرون “۔
5:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” تشآقون فیہم “ یعنی تم میری مخالفت کرتے تھے۔
Ayahs 16:30–311:۔ عبدبن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقیل للذین اتقوا “ سے مراد مومنین ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے ” ما ذا انزل ربکم “ (تمہارے رب نے کیا اتارا) تو وہ کہتے ہیں خیر کو اتارا (آیت) ” للذین احسنوا “ ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر اور اس کی کتابوں پر اور جنہوں نے اطاعت کی اور اللہ کے بندوں کو نیکی پر آمادہ کیا اور ان کو اس کی طرف بلایا۔
Ayah 16:321:۔ ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الذین تتوفہم الملٓئکۃ طیبین “ سے مراد ہے یہ وہ (متقی لوگ) زندہ ہوں یا مردہ ہر حال میں فرشتے ان کو سلام کہتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مقدر میں ایسے ہی لکھ دیا ہے۔
2:۔ ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابوالشیخ نے عظمہ میں، ابوالقاسم بن مندہ نے کتاب الاحوال میں اور بیہقی نے شعب میں محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ جب مومن بندہ مرنے کے قریب ہوجاتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آکر کہتا ہے اے اللہ کے دوست ! تجھ پر سلام ہو اللہ تجھے پر سلام فرماتے ہیں پھر یہ آیت (بطور دلیل) پڑھی (آیت) ” الذین تتوفہم الملٓئکۃ طیبین، یقولون سلم علیکم “
Ayahs 16:33–361:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھل ینظرون الا ان تاتیہم الملٓئکۃ “ سے مراد ہے فرشتے ان کے پاس موت کے ساتھ آئیں اور دوسری آیت میں فرمایا (آیت) ” ولو تری اذ یتوفی الذین کفروا الملئکۃ “ الانفال آیت 5) ان فرشتوں سے مراد ملک الموت اور دوسرے معاون فرشتے ہیں (آیت) ” اویاتی امر ربک “ اور وہ قیامت کا دن (مراد ہے)
2:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھل ینظرون الا ان تاتیہم الملٓئکۃ “ یعنی موت کے وقت (ان کے پاس فرشتے آجائیں) یہاں تک کہ ان کی روح قبض کرلیں۔ (آیت) ” اویاتی امر ربک “ اور یہ ہوگا قیامت کے دن۔
Ayah 16:371:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا۔ (آیت) ” فان اللہ لا یھدی من یضل “ یھدی یاء کے فتحہ کے ساتھ (اور) ” من یضل “ یاء کے ضمہ کے ساتھ۔
2:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو شعبی (رح) نے کہا اے سلیمان یہ حرف آپ کس طرح پڑھتے ہیں ؟ میں نے کہا (آیت) ” لا یھدی من یضل “ اور فرمایا اسی طرح میں نے علقمہ ؓ کو پڑھتے ہوئے سنا۔
3:۔ سعید بن منصور اور ابن منذر نے علقمہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” لا یھدی من یضل “
4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” لا یھدی من یضل “۔
5:۔ ابن منذر نے مجاہد (رح) اس حرف کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” لا یھدی من یضل “۔
6:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے (آیت) ” لا یھدی من یضل “۔ کے بارے میں روایت کیا کہ جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کردیں اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
Ayahs 16:38–391:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی کا قرضہ تھا مشرکین میں سے ایک آدمی پر وہ اس کے پاس آیا اور اس سے (اپنے قرضے کا) تقاضہ کیا اور اس درمیان اس نے یہ بات کہہ دی کہ مجھے امید ہے کہ مرنے کے بعد ایسا ایسا ہوگا مشرک نے اس سے کہا (کیا) البتہ تو گمان کرتا ہے کہ تو موت کے بعد اٹھایا جائے گا اور میں اللہ کی پختہ قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کو نہیں اٹھائے گا جو مرجائے گا تو اللہ تعالیٰ نے (اس پر یہ آیت) نازل فرمائی (آیت) ” واقسمو باللہ جھدایمانہم لا یبعث اللہ من یموت “۔
2:۔ ابن مردویہ نے حضرت علی ؓ سے (آیت) ” واقسمو باللہ جھدایمانہم لا یبعث اللہ من یموت “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ میرے بارے میں نازل ہوئی۔
اللہ تعالیٰ کے لئے شریک ٹھہرانا گالی ہے :
3:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ابن آدم نے مجھے گالی دی اور اس کو یہ نہیں چاہئے تھا کہ مجھے گالی دے اور اس نے مجھے جھٹلایا اور اس کو یہ نہیں چاہئے تھا کہ مجھے جھٹلائے اور اس کا جھٹلانا یہ ہے کہ اس نے (قسم کھا کر) کہ (آیت) ” واقسمو باللہ جھدایمانہم لا یبعث اللہ من یموت “ اور میں نے کہا (آیت) ” بلی وعدا علیہ حقا “ (یعنی اس پر میرا وعدہ سچا ہے) کہ میں ان کو ضرور زندہ کروں گا اور اس کا گالی دینا یہ ہے کہ اس نے کہا (آیت) ” ان اللہ ثالث ثلاثۃ “ (کہ اللہ تین میں سے تیسرا ہے) اور میں نے کہا (آیت) ” قل ھواللہ احد (1) اللہ الصمد (2) لم یلدولم یلد (3) ولم یکن لہ کفوا احد (4) “۔
4:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) لیبین لہم الذی یختلفون فیہ “ کے بارے میں فرمایا کہ (حکم) لوگوں کے لئے عام ہے (واللہ اعلم )
Ayahs 16:40–421:۔ احمد، ترمذی، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں اور لفظ بیہقی کے ہیں (ترمذی نے حسن بھی کہا ہے) ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے اب آدم ! تم میں سے ہر ایک گناہ کرنے والا ہے مگر جس میں عافیت دوں سو تم مجھ سے (گناہوں کی) بخشش مانگو میں تم کو بخش دوں گا اور ہر ایک تم میں فقیر ہے مگر جس کو میں مال دار بنا دوں مجھ سے سوال کرو میں تم کو عطا کروں گا ہر ایک تم میں سے گمراہ ہے مگر جس کو میں ہدایت دوں مجھ سے ہدایت مانگو میں تم کو ہدایت دوں گا اور جو شخص مجھ سے مغفرت طلب کرے گا اور وہ جانتا ہے کہ میں اس کے گناہ معاف کرنے پر قادر ہوں میں اس کو بخش دوں گا اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور اگر تمہارے اگلے اور تمہارے پچھلے اور تمہارے زندہ اور تمہارے مردہ اور تمہاری تر چیز اور تمہاری خشک چیز سب ایک سخت دل پر جمع ہوجائیں تو میری بادشاہی میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں کریں گے اور اگر تمہارے اگلے اور تمہارے پچھلے اور تمہارے زندہ اور تمہارے مردہ اور تمہاری تر چیز اور تمہاری خشک چیز سب ایک متقی کے دل پر جمع ہوجائیں تو میری بادشاہی میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی زیادتی نہیں کریں گے اور اگر تمہارے اگلے اور تمہارے پچھلے اور تمہارے زندہ اور تمہارے مردہ اور تمہاری ترچیز اور تمہاری خشک چیز سب مجھ سے سوال کریں یہاں تک کہ ہر ایک کا تم میں سے ایک سوئی سمندر میں ڈبوئے (اور اس پر جو پانی لگ جائے اتنی بھی کمی نہیں آئے گی) اس کی وجہ یہ ہے میں جواد، ماجد، اور واجد ہوں، میری عطا میرا عطا میرا کلام ہے اور میرا عذاب بھی میرا کلام ہے بلاشبہ میرا حکم کسی چیز کے لئے جب میں اسے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہوں تو اس کے لئے کہتا ہوں ہوجا پس وہ ہوجاتی ہے یعنی (آیت) ” کن فیکون “
2:۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والذین ھاجروا فی اللہ من بعد ما ظلموا “ سے لے کر (آیت) ” وعلی ربہم یتوکلون “ تک ابوجندل بن سہیل کے بارے میں نازل ہوئی۔
4:۔ عبد بن حمید ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” والذین ھاجروا فی اللہ من بعد ما ظلموا “ محمد ﷺ کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی مکہ والوں نے ان پر ظلم کیا اور ان کو ان کے گھروں سے نکالا یہاں تک کہ ایک جماعت ان میں حبشہ کے علاقے میں چلی گئی پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا ٹھکانہ مدینہ بنا دیا اس کے بعد اور اس کو ان کے لئے ہجرت کا گھر بنادیا اور ان کے لئے ایمان والوں میں سے والوں میں سے مددگار بنا دے (آیت) ” ولا جر الا خرۃ اکبر “ یعنی اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ جو ان کو جنت اور نعمتیں عطا فرمائے گا وہ بہت بڑا اجر ہے (آیت) ” لوکانوا یعلمون “ (اگر وہ اس کو جان لیتے)
5:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لنبوئنہم فی الدنیا حسنۃ “ یعنی مدینہ منورہ میں (ان کو اچھا ٹھکانہ دیا)
6:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لنبوئنہم فی الدنیا حسنۃ “ یعنی ہم ان کو دنیا میں اچھا رزق دیں گے۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے ابان بن تغلب (رح) سے روایت کیا کہ ربیع بن حثیم (رح) اس حرف کو سورة نحل میں یوں پڑھتے تھے (آیت) ” والذین ھاجروا فی اللہ من بعد ما ظلموا لنبوئنہم فی الدنیا حسنۃ “ اور سورة عنکبوت میں یوں پڑھتے تھے (آیت) ” لنبوئنہم من الجنۃ غرفا “ اور فرماتے تھے ٹھکانہ دینا ہوتا ہے دنیا میں اور آخرت میں مقام دینا ہوتا ہے۔
8:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ روایت کیا کہ وہ مہاجرین میں سے کسی آدمی کو کوئی چیز عطا فرماتے تو اس سے فرماتے اس کو لے لو اللہ تعالیٰ تیرے لئے برکت دے یہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تجھ سے وعدہ کیا ہے دنیا میں اور جو تیرے لئے ذخیرہ کر رکھا ہے آخرت میں وہ بہت بڑا ہے اگر وہ جان لیتے۔
Ayahs 16:43–481:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تو عرب کے لوگوں نے اس کا انکار کیا اور ان میں سے جنہوں نے انکار کیا تو انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بلند تر ہے کہ ان کا رسول ایک بشر ہو محمد ﷺ کی طرح تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” اکان للناس عجبا ان اوحینا الی رجل منہم “ (یونس آیت 2) نازل فرمائی اور (مزید) فرمایا (آیت) ” وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون “ یعنی پوچھ لوجاننے والوں سے اور پہلے کتابوں کے حاملین سے کیا رسول بشر تھے جو ان کے پاس آئے یا فرشتے تھے ؟ اگر وہ فرشتے تھے تو تمہارے پاس بھی فرشتے آتے اور اگر وہ بشر تھے تو پھر اس کے رسول ہونے کا انکار نہ کرو پھر فرمایا (آیت) ” وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم من اھل القری “ یوسف آیت 109) یعنی وہ آسمان والوں میں سے نہ تھے جیسے تم نے کہا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما ارسلنا من قبلک الا رجالا “ سے مراد ہے کہ عرب کے لوگوں نے کہا (آیت) ” لولا انزل علینا الملائکۃ “ (المائدہ آیت 73) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے بشر کو ہی رسول بنا کر بھیجا ہے (فرمایا) (آیت) ” فسئلوا “ اے عرب کے گروہ (پوچھ لو) (آیت) ” اھل الذکر “ یعنی ان اہل کتاب یہودیوں اور نصاری سے جن کے پاس تم سے پہلے رسول آئے تھے (آیت) ” ان کنتم لا تعلمون “ ( اگر تم نہیں جانتے) اور وہ رسول جو محمد ﷺ سے پہلے تھے وہ ان کی طرح بشر تھے اور وہ لوگ عنقریب تم کو خبر دیں گے کہ وہ (سب کے سب) ان کی طرح بشر تھے۔
اہل علم سے دینی مسائل پوچھنے کا حکم :
3:۔ فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فسئلوا اھل الذکر “ یعنی اے قریش کے مشرکین تم اہل کتاب سے پوچھ لو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تورات میں اور انجیل میں۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فسئلوا اھل الذکر “ عبداللہ بن سلام اور اہل تورات کے چند افراد کے بارے میں نازل ہوئی یہ لوگ اہل کتاب تھے ان سے پوچھ لو (آیت) ” ان کنتم لا تعلمون “ (یعنی اگر تم نہیں جانتے) ایک آدمی البتہ نماز پڑھتا ہے، روزہ رکھتا ہے، حج اور عمرہ بھی کرتا ہے حالانکہ وہ منافق ہے پوچھا گیا اے اللہ کے رسول کس وجہ سے اس پر نفاق داخل ہوتا ہے آپ نے فرمایا وہ اپنے امام پر طعن کرتا ہے اور اس کا امام وہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا (آیت) ” فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون “۔
5:۔ ابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عالم کو نہیں چاہئے کہ وہ اپنے علم پر خاموش رہے اور جاہل کو نہیں چاہئے کہ وہ اپنی جہالت پر خاموش رہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون “۔ مومن کو چاہئے کہ وہ اپنے علم کو پہچانے کہ وہ ہدایت پر ہے یا اس کے خلاف ہے۔
6:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بالبینت “ سے مراد ہیں آیات ” والزبر “ سے مراد ہے کتابیں۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ (آیت) ” بالبینت والزبر “ میں (آیت) ” البینت “ سے مراد ہے حلال اور حرام ہے جس کو انبیاء لے کر آئے (آیت) ” والزبر “ سے مراد ہے انبیاء کی کتابیں (آیت) ” وانزلنا الیک الذکر “ سے مراد ہے قرآن شریف۔
8:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” لتبین للناس مانزل الیہم “ کے بارے میں فرمایا کہ (ان کو بیان کریں) جو ان کے حلال کی گئیں اور جو ان پر حرام کی گئیں۔
9:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لتبین للناس مانزل الیہم “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی طرف بھیجا تاکہ وہ اس کو دلیل بنالیں ان پر۔
10:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولعلہم یتفکرون “ یعنی (شاید کہ وہ) اطاعت کریں۔
11:۔ حاکم نے (اور اس کو صحیح بھی کہا) حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان رسول ﷺ کھڑے ہوئے اور ہم کو خبر دی جو قیامت کے قائم ہونے تک ہوگا ہم میں سے جس نے اس کو یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جو اس کو بھول گیا وہ اس کو بھول گیا۔
12:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” افامن الذین مکروا السیات “ سے مراد نمرود بن کنعان اور اس کی قوم ہے۔
13:۔ ابن شبیہ ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” افامن الذین مکروا السیات “ سے مراد شرک ہے۔
14:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے (آیت) ” افامن الذین مکروا السیات “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کو رسولوں کو جھٹلانا اور ان کا گناہوں کو کرنا مراد ہے۔
15:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویاخذھم فی تقلبہم “ یعنی ان کے اختلاف میں۔
16:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویاخذھم فی تقلبہم “ سے مراد ہے کہ اگر میں چاہوں اسے سفر میں پکڑلوں (اور فرمایا) (آیت) ” اویاخذھم علی تخوف “ یعنی اگر میں چاہوں تو اس کو پکڑ لوں اس کے ساتھ کی موت کے پیچھے اور وہ اس سے خوف زدہ ہیں۔
17:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویاخذھم فی تقلبہم “ یعنی ان کے سفروں میں (پکڑلوں ) ۔
18۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویاخذھم فی تقلبہم “ یعنی ہر حال پر جس پر وہ ہوں رات اور دن کو (آیت) ” اویاخذھم علی تخوف “ یعنی بعض کو عذاب کے ساتھ پکڑنے اور بعض کو چھوڑنے سے اور یہ اس وجہ سے کہ وہ ایک بستی کو عذاب دیتے ہیں اور دوسری کو چھوڑ دیتے ہیں۔
19:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویاخذھم علی تخوف “ سے مراد ہے کہ کم کردیتے ہیں ان کے اعمال میں سے۔
20:۔ ابن جریر نے عطاء الخراسانی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویاخذھم علی تخوف “ اور انہوں نے کہا ہم نہیں دیکھتے مگر کہ کمی کرنے کے وقت ہم اس کو لوٹاتے ہیں آیات میں سے عمر ؓ نے فرمایا میں نہیں دیکھتا مگر جو تم کمی کرتے ہو اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے ایک آدمی حضرت عمر ؓ کے پاس سے نکلا ان لوگوں میں سے جو عمر ؓ کے پاس تھے توا یک دیہاتی سے ملا اس نے کہا اے فلاں تیرے رب نے کیا کہا ؟ اس نے کہا اس نے کمی کردی اور وہ آدمی عمر ؓ کے پاس لوٹا اور ان کو تخوف کے معنی کمی کرنا بتلایا تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے یہی مقدر کیا تھا۔
21:۔ ابن ابی شبیہ، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویاخذھم علی تخوف “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو پکڑے گا ان کے بعض کے حق میں کمی کرنے کی وجہ سے بعض سے۔
22:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویاخذھم علی تخوف “ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ” التخوف “ سے مراد ہے کم کرنا بعض وہ کمی کریں گے ان کے شہروں اور ان کے اطراف میں۔
23:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولم یروا الی ما خلق اللہ من شیء یتفیوا ظللہ عن الیمین والشمآئل سجدا للہ “ یعنی ہر چیز کا سایہ سجدہ کرتا ہے۔ ” فالیمین “ دن کا اول حصہ ” والشمآئل “ دن کے آخری حصہ میں۔
24:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولم یروا الی ما خلق اللہ من شیء یتفیوا ظللہ “ یعنی جب سایہ ڈھلتا ہے تو ہر چیز متوجہ ہوجاتی ہے سجدہ کرتے ہوئے اللہ کے لئے قبلہ کی طرف حتی کہ بیت وشجر بھی اور فرمایا کہ وہ لوگ اس وقت نماز کا پڑھنا مستحب سمجھتے ہیں۔
ہر مخلوق اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے :
25:۔ ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے عظمہ میں ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جب سایہ ڈھلتا ہے تو کوئی چیز باقی نہیں رہتی جانور میں سے اور نہ پرندے میں سے مگر وہ گرپڑتا ہے اللہ کے لئے سجدہ کرتے ہوئے۔
26:۔ عبد بن حمید، ترمذی، ابن منذر اور ابوالشیخ نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ظہر کی نماز سے پہلے اور زوال کے بعد چار رکعت نماز تہجد کے برابر شمار ہوتی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور کوئی چیز ایسی نہیں ہے مگر وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے اس وقت میں پھر آپ نے یہ آیت یتفیوا ظللہ عن الیمین والشمآئل سجدا للہ “ تلاوت فرمائی۔
27:۔ ابن ابی شیبہ نے سعد بن ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں فرمایا ہر چیز کا سایہ ہے اور ہر چیز کا سجدہ ہے اس کے خیال میں ہے (یعنی خیال کے طور پر وہ سجدہ میں ہے)
28:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں فرمایا ہر چیز کا سایہ ہے اور ہر چیز کا سجدہ ہے اس کے خیال میں ہے (یعنی خیال کے طور پر وہ سجدہ میں ہے)
29:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جب سورج ڈھلتا ہے ہر چیز اللہ کے لئے سجدہ کرتی ہے۔
30:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ (آیت) ” یتفیوا ظللہ عن الیمین والشمآئل “ سے صبح کا وقت اور شام کا وقت مراد ہے جب ہر چیز کا سایہ ڈھل جاتا ہے لیکن صبح کا سایہ تو وہ دائیں طرف سے ہوتا ہے اور سایہ شام بائیں طرف سے ہوتا ہے جب ہوتا ہے جب صبح ہوتی ہے تو (ہر چیز) اللہ کے لئے سجدہ کرتی ہے اور جب شام ہوتی ہے تو (ہر چیز) اس کے لئے سجدہ کرتی ہے۔
31:۔ ابن ابی حاتم نے ابو غالب شیبانی (رح) سے روایت کیا کہ سمندر کی موجیں سمندر کی نماز ہے۔
32:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” دخرون “ سے مراد ہے کہ وہ عاجز ہوں گے۔
33:۔ عبدالرزاق ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھم داخرون “ سے مراد ہے کہ وہ عاجز ہوں گے۔
Ayahs 16:49–561:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وللہ یسجد مافی السموت وما فی الارض من دآبۃ “ سے مراد ہے کہ کوئی چیز نہیں چھوٹتی اس کی مخلوق میں سے مگر اس کی عبادت کرتی ہے خوشی سے یا نا خوشی سے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آسمان کی مخلوق خوشی سے سجدہ کرتی ہے اور زمین کی مخلوق بعض خوشی سے اور بعض مجبورا سجدہ کرتی ہے۔
3:۔ خطیب نے تاریخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یخافون ربہم “ یعنی وہ اللہ کے جلال سے ڈرتے ہیں۔
4: ابن ابی شیبہ اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے گذرے اور وہ اپنی دو انگلیوں کے ساتھ دعا کررہے تھے آپ نے اس سے فرمایا اے سعد احد احد (یعنی اللہ ایک ہے ایک ہے)
5:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن سرین (رح) سے روایت کیا کہ جب وہ لوگ کسی انسان کو دیکھتے تھے کہ وہ اپنی دو انگلیوں سے دعا مانگ رہا ہے تو اس کی ایک انگلی پر ضرب لگاتے اور کہتے (آیت) ” انما ھو الہ واحد ‘ (یعنی بلاشبہ وہ ایک ہی معبود ہے)
6:۔ ابن ابی شیبہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں کہ اس طرح دعا کی جائے اور ایک ہی انگلی سے اشارہ فرمایا۔
7:۔ ابن ابی شبیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک انگلی سے دعا کرنا اخلاص ہے۔
8:۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ دعا اس طرح مانگو پھر ایک انگلی کے ساتھ اشارہ فرمایا (اور فرمایا) کہ وہ کنڈی دار ڈانڈا ہے شیطان کے لئے۔
9:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اخلاص اس طرح سے ہے اور اپنی دو انگلیوں سے اشارہ فرمایا اور دعا اس طرح سے ہے یعنی اپنی ہتھیلیوں کے اندورنی حصے کے ساتھ اور استخارہ اس طرح سے ہے اور اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور ان کی پشت کو پھیر دیا اپنے چہرہ پر۔
10:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولہ الدین واصبا “ میں (آیت) ” الدین “ سے مراد ہے اخلاص اور ” واصبا “ سے مراد ہے ہمیشہ۔
11:۔ ابن ابی حاتم نے ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولہ الدین واصبا “ سے مراد ہے لا الہ الاا اللہ۔
12:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولہ الدین واصبا “ سے مراد ہے ہمیشہ۔
اللہ کا دین ہمیشہ باقی رہے گا :
13:۔ فریابی اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولہ الدین واصبا “ سے مراد ہے واجب ہونا۔
14:۔ ابن الانباری نے الوقف والا ابتداء میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولہ الدین واصبا “ کے بارے میں بتائیے کہ ” واصب ‘ کیا چیز ہے ؟ فرمایا اس کا معنی ہے ہمیشہ اور اس بارے میں امیہ بن ابی صلت نے فرمایا :
ولہ الدین واصبا ولہ الملک وحمدلہ علی کل حال :
ترجمہ : اور اس کے لئے ہمیشہ تابعداری ہے اور اس کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے ہر حال میں حمد ہے۔
15:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ دین ہمیشہ کا ہے لوگ مشغول ہوگئے اور ان کے اور بہت لوگوں کے درمیان ان کی شہوتیں حائل ہوگئیں پس اس پر عمل کرنے کی کوئی طاقت نہیں رکھتا سوائے اس کے جس نے افضل پہچان لیا اور اچھے انجام کی امید رکھتا ہے۔
16:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، اور ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالیہ تجئرون “ یعنی وہ عاجزی اور زاری کے ساتھ دعا کرتے ہیں۔
17:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالیہ تجئرون “ یعنی وہ دعا میں روتے ہیں۔
18۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم کشف الضر عنکم “ (الآیہ) سے مراد ہے کہ ساری مخلوق اقرار کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کا رب ہے پھر اس کے بعد شرک کرتے ہیں۔
19:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فتمتعوا فسوف تعلمون “ سے وعید مراد ہے۔
20:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویجعلون لما لا یعلمون نصیبا مما رزقنہم “ یعنی وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا فرمایا اور وہی ان کو نقصان دیتا ہے اور وہی ان کو نفع دیتا ہے پھر ان چیزوں کے لئے جو ان کو نہ نقصان دیتی ہیں اور نہ ان کو نفع دیتی ہیں حصہ مقرر کرتے ہیں ان چیزوں میں سے جو ہم نے انکو رزق دیا ہے۔
21:۔ عبدابن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویجعلون لما لا یعلمون “ سے مراد عرب کے مشرکین ہیں جنہوں نے اپنے بتوں اور اپنے شیطانوں کے لئے حصہ مقرر کرتے ہیں ان چیزوں میں سے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو رزق دیا ہے اور اپنے مالوں میں سے کچھ حصہ علیحدہ کرتے ہیں اپنے بتوں کے اور شیطانوں کے لئے۔
22:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویجعلون لما لا یعلمون نصیبا مما رزقنہم “ سے ان کا قول مراد ہے جو وہ کہتے ہیں یہ (حصہ) اللہ کے لئے ہے اپنے گمان سے اور یہ (حصہ) ہمارے شریکوں کے لئے ہے۔
Ayahs 16:57–601:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ویجعلون للہ البنت “ (الآیہ) کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اس کے لئے (یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے) بیٹیوں کو تجویز کرتے ہیں اس کے لئے ان کو پسند کرتے ہیں اور اپنے لئے ان کو پسند نہیں کرتے اور یہ اس وجہ سے کہ زمانہ جاہلیت میں ان میں سے کسی کے گھر میں لڑکی پیدا ہوجاتی تو سوچتا تھا کہ ذلت کے ساتھ اس کو اپنے پاس رکھے یا مٹی میں اس کو زندہ گاڑ دے۔
2:۔ ابن جریر، ابن منذر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولھم مایشتھون “ یعنی ان کے لئے بیٹے ہوں (جن کو پسند کرتے ہیں )
لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا حرام ہے :
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” واذا بشر احدھم بالانثی ضل وجہہ مسودا وھو کظیم “ کے بارے میں فرمایا کہ مشرکین عرب کا یہ ایک (برا) کام تھا اللہ تعالیٰ نے ان کے اس برے کام کے بارے میں ان کو خبر دی لیکن مومن بندہ کو یہ لائق ہے کہ خوش ہو اس چیز پر جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے تقسیم فرما دی ہے اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ بہتر ہے آدمی کے اپنے فیصلے سے میری ، ، ، ، ، ، کی قسم مجھے معلوم نہیں کہ ہمارا فیصلہ خیر ہے رب تعالیٰ کی عطا کردہ لڑکی اپنے گھروں والوں کے لئے بہتر ہے لڑکے کے لئے اور اللہ تعالیٰ نے تم کو ان مشرکین عرب کے اس کام کے بارے میں خبر دی ہے تاکہ تم اس سے بچو اور اس سے باز آجاؤ (حال یہ تھا) کہ ان میں سے ایک آدمی اپنے کتے کو کھانا کھلاتا تھا (مگر) اپنی بیٹی کو زندہ درگور کردیتا ہے۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ عرب کے لوگ اس لڑکی کو قتل کردیتے تھے جو ان کے ہاں پیدا ہوتی تھی اور اس کو مٹی میں گاڑ دیتے تھے اس حال میں کہ وہ زندہ ہوتی تھی یہاں تک کہ وہ مرجاتی تھی۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” علی ھون “ یہ ھوان ہے قریش کی لغت میں (یعنی ذلت) ۔
6:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام یدسہ فی التراب “ یعنی زندہ درگور کردیتے اپنی بیٹی کو۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لاسآء ما یحکمون “ سے مراد ہے کہ وہ برا ہے جو انہوں نے فیصلہ کیا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ چیز جو وہ اپنے لئے پسند نہیں کرتے میرے لئے کیسے پسند کرتے ہیں ؟
8:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وللہ المثل الاعلی “ سے (مراد ہے) لا الہ اللہ کی شہادت دینا۔
9:۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وللہ المثل الاعلی “ (یعنی اللہ تعالیٰ ) فرماتے ہیں کہ انکی مثل کوئی چیز نہیں ہے۔