Ayahs 16:61–671:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو یواخذ اللہ الناس بظلمہم ما ترک علیھا من دآبۃ “ (اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑ لیتا) تو ان کو بارش (کا پانی) نہ پلاتا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اگر بارش نہ برسے تو زمین پر کوئی جانور باقی نہ رہے سب مرجائیں۔
3:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو یواخذ اللہ الناس بظلمہم ما ترک علیھا من دآبۃ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایسا کیا تھا نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں جو جانور سوار ہوگئے تھے وہ بچ گئے باقی زمین پر سب جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا۔
4:۔ احمد نے زہد میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ابن آدم کے گناہوں نے جعل (یعنی سیاہ بھنورا) کو اپنے سوراخ میں قتل کردیا پھر فرمایا یعنی اللہ کی قسم نوح (علیہ السلام) کی قوم کے غرق ہونا اسی وجہ سے تھا۔
5:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جعل (یعنی سیاہ بھنورا) کو اپنے سوراخ میں عذاب دیا جائے گا ابن آدم کے گناہ کے سبب پھر یہ (آیت) ” ولو یواخذ اللہ الناس بظلمہم ما ترک علیھا من دآبۃ “ پڑھی۔
گناہ کا دنیوی عذاب عام ہوتا ہے :۔
6:۔ عبدبن حمید اور ابن ابی الدنیا نے کتاب العقوبات میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ قریب ہے گوہ اپنے سوراخ میں مرجائے خوف کرتے ہوئے ابن آدم کے ظلم کی وجہ سے۔
7:۔ عبد بن حمید، ابن ابی الدنیا، ابن جریر اور بیہقی نے شعب میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا ظالم صرف اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچاتا ہے ابوہریرہ ؓ نے فرمایا نہیں اللہ کی قسم یہاں تک کہ ظالم کے ظلم کی پاداش میں حباری (یعنی تیتر) اپنے گھونسلے میں کمزور ہو کر مرجاتا ہے۔
8:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ہمارے گناہوں کے سبب پکڑ لے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ ان دوانگلیوں انگوٹھا اور وہ اس کے ساتھ والی انگلی کی جنایت کی وجہ سے مواخذہ کرنا اور وہ ہم کو عذاب دیتا تو وہ ہم پر ظلم کرنے والا نہ ہوتا۔
9:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویجعلون للہ ما یکرھون “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ میرے لئے بیٹوں کو تجویز کرتے ہیں اور خود ان کو ناپسند کرتے ہو۔
10:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویجعلون للہ ما یکرھون “ اور وہ لڑکیاں مراد ہیں (جو اللہ کے لئے تجویز کرتے ہیں ) ۔
11:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” وتصف السنتہم الکذب ان لہم الحسنی “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ کفار قریش کا قول ہے کہ ہمارے لئے بیٹے ہیں اور اللہ کے لئے بیٹیاں ہیں۔
12:۔ عبدالرزاق، ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” وتصف السنتہم الکذب ان لہم الحسنی “ کے بارے میں فرمایا کہ (آیت) ” بان لہم الحسنی “ یعنی ان کے لئے لڑکے ہیں۔
13:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا (آیت) ” بان لہم الحسنی “ یعنی وہ برے کام کرنے والے ہیں۔
14:۔ سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانہم مفرطون “ سے مراد ہے کہ وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے پھر وہ اس میں ہمیشہ کے لئے بھلا دیئے جائیں گے۔
15:۔ عبدالرزاق ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانہم مفرطون “ سے مراد ہے کہ وہ دوزخ میں جلدی جانے والے ہیں۔
16:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانہم مفرطون “ سے مراد ہے کہ ان کو جلدی دوزخ کی طرف بھیج دیا جائے گا۔
دودھ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے :
17:۔ ابن مردویہ نے یحی بن عبدالرحمان ابن ابی کبثہ (رح) سے روایت کیا اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایسا نہیں ہوسکتا کہ جو آدمی دودھ پئے پھر وہ اس کے گلے میں اٹک جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” لبنا خالصا سآئغا للشربین “ (خالص دودھ خوش ذائقہ خوب بخود گلے میں اترنے والا پینے والوں کے لئے)
18۔ عبدالرزاق نے مصنف میں اور ابن ابی حاتم نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے دودھ پیا مطرف (رح) نے ان سے کہا کیا آپ نے کلی نہیں کی ؟ انہوں نے فرمایا میں اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتا آسانی کروتم پر بھی آسانی کی جائے گی ایک کہنے والے نے کہا کیونکہ وہ نکلتا ہے گوبر اور خون کے درمیان سے ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” لبنا خالصا سآئغا للشربین “۔
19:۔ عبدالرزاق، فریابی، سعید بن منصور، ابو داود نے ناسخ میں، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، نحاس، ابن مردویہ اور حاکم نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” تتخذون منہ سکرا ورزقا حسنا “ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا ” سکرا “ سے مراد حرام پھل ہیں ” والرزق الحسن “ (یعنی اچھا رزق) سے مراد حلال پھل ہیں۔
20:۔ فریابی، ابن ابی حاتم اور مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ نشہ والی چیز اس میں سے حرام ہے اور ” والرزق الحسن “ سے مراد ہے اسکی کشمش اس کا سرکہ اس کے انگور اور دوسرے منافع ہیں۔
21:۔ ابوداود نے ناسخ میں ابن منذر ار اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ سکرا سے نبیذ مراد ہے ” الرزق الحسن “ (کے حکم) کو اس آیت ” انما الخمر والمیسر “ المائدہ آیت 90) نے منسوخ کردیا۔
22:۔ ابوداود نے ناسخ میں اور ابن جریر نے ابو رزین (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت (جب نازل ہوئی تو اس حال میں) کہ وہ لوگ (یعنی صحابہ کرام ؓ شراب پیتے رہے شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے۔
23:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ سکرا سے مراد ہے سرکہ اور نبیذ (یعنی کھجور کا پانی) اور اس کے مشابہ (دوسری چیزیں) اور رزق حسن سے مراد ہے پھل کشمش اور اس کے مشابہ (دوسری چیزیں)
24:۔ ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” تتخذون منہ سکرا ورزقا حسنا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد سکر کو بھی حرام فرما دیا شراب کو حرام کرنے ساتھ کیونکہ سکر بھی شراب میں سے ہے پھر فرمایا (آیت) ورزقا حسنا “ سے مراد ہے سرکہ، کشمش اور نبیذ جیسی حلال چیزیں ہیں اور اس کے مشابہ (دوسری چیزیں) اللہ تعالیٰ نے ان (چیزوں کو ثابت اور ان کو مسلمانوں کے لئے حلال کردیا۔
25:۔ ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” تتخذون منہ سکرا ورزقا حسنا “ کے بارے میں فرمایا کہ لوگ شراب کو سکر کا نام دیتے ہیں اور اس کو پیتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے بھی اس کے بعد اس کا نام خمر رکھ دیا جب کہ اس کو حرام کردیا گیا اور ابن عباس ؓ گمان کرتے تھے کہ حبشہ کے لوگ سرکہ کو سکر کہتے تھے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت) ” ورزقا حسنا ‘ سے حلال چیزیں مراد ہیں (جیسے) کھجور اور کشمش اور یہ حلال ہیں جو نشہ نہیں دیتیں۔
26:۔ فریابی، ابن ابی شیبہ، ابن جریر اور ابن منذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ سکر سے مراد شراب ہے۔
ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر، حسن، شعبی، ابراہیم اور ابورزین (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
27:۔ عبدالرزاق، ابن الانباری نے مصحف میں اور نحاس نے قتادہ (رح) سے (آیت) ” تتخذون منہ سکرا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد کہ یہ عجمی لوگوں کی شرابیں تھیں اور اس (حکم) کو سورة مائدہ کی آیت نے منسوخ کردیا۔
28:۔ انسائی نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ سکر حرام ہے اور ” والرزق الحسن “ حلال ہے۔
29:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” تتخذون منہ سکرا “ میں اللہ تعالیٰ نے خمر کی حرمت سے پہلے اس کو اپنی نعمت میں شمار کیا۔
30:۔ ابن انباری اور بیہقی نے ابراہیم وشعبی رحمہما اللہ دونوں حضرات سے (آیت) ” تتخذون منہ سکرا “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت منسوخ ہے۔
31:۔ خطیب نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انگور میں تمہارے لئے کئی چیزیں حاصل ہوتی ہیں تم اس کو انگور کے طور پر کھاتے ہو اور اس کا رس نکال کر پیتے ہو جب تک یہ خشک نہیں ہوتا اور اس سے کشمش چیزیں حاصل ہوتی ہیں تم اس کو انگور کے طور پر کھاتے ہو اور اس کا رس نکال کر پیتے ہو جب تک یہ خشک نہیں ہوتا اور اس سے کشمش بناتے ہو اور اس کو پکاتے ہو (واللہ اعلم)
Ayahs 16:68–701:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”‘ واحی ربک الی النحل “ یعنی اللہ تعالیٰ نے الہام کیا شہد کی مکھی کو۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ نحل ایک چھوٹا سا جانور ہے اس کی طرف وحی بھیجی یعنی اس کے دل میں (بات) ڈال دی۔
شہد کی مکھی بھی عجائب قدرت میں سے ہے :
3:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ”‘ واحی ربک الی النحل “ یعنی اس کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ کوئی قاصد اس کی طرف نہیں بھیجا۔
4:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”‘ واحی ربک الی النحل “ یعنی اس کو حکم فرمایا کہ تو پھلوں میں سے رس نکال کر کھائے اور اس کو حکم کیا کہ اپنے رب کے راستے پر چل جو آسان ہے۔
5:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاسلکی سبل ربک ذللا “ یعنی ایسے راستوں پر چل جن پر مکان بنانا مشکل نہ ہو۔
6:۔ عبدالرزاق ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاسلکی سبل ربک ذللا “ یعنی (راستہ جو تیرے لئے) آسان کیا گیا۔
7:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ ” ذلول “ اس کو کہتے ہیں جس کی قیادت کی جاتی ہے وہ وہاں ہی جاتا ہے جہاں اس کا مالک ارادہ کرتا ہے فرمایا لوگ شہد کی مکھیوں کے پیچھے جاتے تھے اور اس کے ذریعہ چراگاہ تلاش کرتے تھے اور لوگ جاتے ہیں جبکہ شہد کی مکھی ان کی پیروی کرتی ہے پھر یہ (آیت) پڑھی ” اولم یروا انا خلقنا لہم مما عملت ایدینا انعاما فہم لھا مالکون (71) وذللنھا لہم ” یسین آیت (72) ۔
8:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاسلکی سبل ربک ذللا “ یعنی اطاعت شعار (آیت) ” یخرج من بطونھا شراب مختلف الوانہ “ فرمایا یہ شہد ہے (آیت) ” فیہ شفآء للناس “ یعنی ان تکلیفوں کے لئے شفاء ہے جن کی شفا اس میں رکھی گئی ہے۔
9:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یخرج من بطونھا شراب مختلف الوانہ “ یعنی شہد اور قرآن میں شفا ہے۔
10:۔ ابن جریر ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یخرج من بطونھا شراب مختلف الوانہ فیہ شفآء للناس ‘ میں شراب سے مراد شہد ہے۔
11:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ شہد میں ہر بیماری سے شفا ہے اور قرآن شفا ہے (ان بیماریوں سے) جو سینوں میں ہیں۔
شفاء دینے والی دو چیزیں :
12:۔ سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دو شفا دینے والی چیز تم لازمی پکڑو شہد اور قرآن۔
13:۔ ابن ماجہ، ابن مردویہ، حاکم اور بیہقی نے شعب میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لازم پکڑو دو شفا دینے والی چیزوں کو شہد اور قرآن۔
14:۔ بخاری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تین چیزوں میں شفا ہے پچھنے لگانے کے لئے ایک بار کونچنا یا شہد پینا یا آگ سے داغ دینا اور میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں۔
15:۔ احمد، بخاری، مسلم اور ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے بھائی کو اسہال کی شکایت ہے آپ نے فرمایا اس کو شہد پلاو اس نے اس کو شہد پلایا پھر آیا اور کہنے لگا کہ اسہال اور زیادہ ہوگیا آپ نے فرمایا جاؤ اس کو شہد پلاؤ اس نے پھر شہد پلایا پھر آیا اور کہنے لگا اسہال اور زیادہ ہوگیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے سچ کہا اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے جاؤ اور اس کو (پھر) شہد پلاؤ وہ گیا اور (پھر) شہد پلایا تو وہ اچھا ہوگیا۔
16:۔ ابن ماجہ، ابن السنی اور بیہقی نے شعب میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ہر ماہ کی تین صبح کو شہد چاٹ لیا اس کو کوئی بڑی مصیبت نہ پہنچے گی۔
17:۔ بیہقی نے شعب میں نقل کیا کہ عامر بن مالک ؓ نے بیان فرمایا میں ایک آدمی کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا سخت بخار کی وجہ سے جو مجھ کو تھا تاکہ آپ دوا یا شفا لے آئے تو آپ نے شہد کی ایک کپی میری طرف بھیج دی۔
18۔ حمید بن زنجویہ نے نافع (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن عمر ؓ ہر تکلیف کے لئے شہد استعمال فرماتے تھے حتی کہ پھوڑے پر بھی شہد لگا دیتے تھے ہم نے ان سے کہا آپ پھوڑے کا علاج بھی شہد سے کرتے ہیں ؟ فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتے (آیت) ” فیہ شفآء للناس “۔
19:۔ احمد اور نسائی نے معاویہ بن خدیج (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کسی چیز میں شفا ہے (تو ان طریقوں سے ہے) پچھنے لگانے کے لئے ایک بار کونچنے کو یا شہد پینے کو یا آگ سے داغنے کو اور میں داغ دینا پسند نہیں کرتا۔
20:۔ ابن ابی شیبہ نے حشرم المجمری (رح) سے روایت کیا کہ نیزوں سے کھیل کرنے والے عامر بن مالک ؓ نے نبی کریم ﷺ کے پاس (کسی) کو بھیجا کہ آپ سے سوال کرے اس بیماری کی شفاء اور دوا کا جو ان کو لگی تھی تو نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف شہد کی ایک کپی بھیج دی۔
21:۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے پاکیزہ چیز کھاتا ہے اور پاکیزہ رکھتا ہے۔
22:۔ ابن ابی شیبہ نے امام زھری (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے چیونٹی اور شہد کی مکھی کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
23:۔ طبرانی نے اوسط میں سند حسن کے ساتھ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلال ؓ کی مثال شہد کی مکھی کی طرح ہے میٹھی اور کڑوی میں سے کھاتی ہے پھر وہ سارے کا سارا شہد ہوتا ہے۔
24:۔ حاکم نے (اور اس کو صحیح بھی کہا) عبداللہ بن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ فحش گو اور بتکلف فحش گوئی کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے اور برے پڑوسی کو اور قطع رحمی کو بھی پھر فرمایا مومن کی مثال شہد کی مکھی کی طرح ہے (کھیتوں میں) چرتی ہے پاکیزہ چیز کھاتی ہے پھر (اپنے چھتے) پر بیٹھ جاتی ہے پس تو اسے نہ اذیت دے اور نہ اس کو توڑ۔
25:۔ طبرانی نے سہل بن سعد الساعدی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے چیونٹی کو شہد کی مکھی کو ھدھد کو لٹورے کو اور مینڈک کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
26:۔ خطیب نے تاریخ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے چیونٹی شہد کی مکھی ھد ھد اور لٹورا کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
27:۔ ابویعلی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مکھی چالیس دن زندہ رہتی ہے سوائے شہد کی مکھی کے سب مکھیاں دوزخ میں جائیں گی۔
شہد کی مکھی دوزخ میں نہیں جائے گی :
28:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں مجاہد (رح) کے طریق سے عبید بن عمیر یا ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر مکھی دوزخ میں جائے گی سوائے شہد کی مکھی کے اور اس کے مارنے سے منع فرمایا۔
29:۔ حکیم ترمذی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب مکھیاں دوزخ میں جائیں گی سوائے شہد کی مکھی کے۔
30:۔ ابن جریر نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومنکم من یرد الی ارذل العمر “ میں ارذل العمر سے مراد پچھتر سال ہے۔
31:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” ومنکم من یرد الی ارذل العمر “ کے بارے میں فرمایا کہ ارذل العمر سے مراد ہے خوف۔
32:۔ سعید بن منصور ابن ابی شیبہ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص قرآن پڑھتا ہے وہ نکمی عمر کی طرف نہیں لوٹایا جاتا تو پھر یہ (آیت) لکی لا یعلم بعد علم شیئا “ پڑھی۔
33:۔ ابن ابی شیبہ نے طاوس (رح) سے روایت کیا کہ عالم کی عقل بڑھاپے کی وجہ سے فاسد نہیں ہوتی۔
34:۔ ابن ابی شیبہ نے عبدالمالک بن عمیر سے روایت کیا کہ یہ بات کہی جاتی تھی کہ لوگوں میں عقل کے لحاظ سے باقی رہنے والے قرآن کو پڑھنے والے ہیں۔
35:۔ بخاری اور ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یوں دعا فرماتے تھے :
اعوذ بک من البخل والکسل وارذل العمر و عذاب القبر وفتنۃ الدجال وفتنۃ المحیا وفتنۃ الممات ـ:ـ
ترجمہ : میں پناہ مانگتا ہوں آپ سے کنجوسی سے سستی سے نکمی عمر سے قبر کے عذاب سے دجال سے اور زندگی اور موت کے فتنے سے۔
36:۔ ابن مردویہ ابن مسعود ؓ عنہنے فرمایا رسول اللہ ﷺ یوں دعا فرمایا کرتے تھے :
اعوذ باللہ میں دعاء لا یسمع ومن قلب لا یخشع ومن علم لا ینفع ومن نفس لا یشبع :
ترجمہ : میں پناہ مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ سے ایسی دعا سے جو نہ سنی جائے ایسے علم سے جو نفع نہ دے اور ایسی جان سے جو سیر نہ ہو۔
اللہم انی اعوذ بک من الجوع فانہ بئس الضجیع ومن الخیانۃ فانھا بئست الطانۃ۔
ترجمہ : اے اللہ میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں بھوک سے کیونکہ برا ساتھی ہے (اور پناہ مانگتا ہوں) خیانت سے کیونکہ وہ برا دوست ہے۔
اعوذ بک من والکسل والھرم والبخل والجین واوعوذبک ان ارد الی وارذل العمر وعوذبک من فتنۃ الدجال و عذاب القبر “
ترجمہ : اور میں پناہ مانگتا ہوں سستی سے اور بوڑھاپے سے کنجوسی سے اور بزدلی سے اور میں پناہ مانگتا ہوں کہ میں نکمی عمر کی طرف لوٹا دیا جاوں اور میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں دجال کے فتنے سے اور قبر کے عذاب سے۔
37:۔ ابن مردویہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ یوں دعا فرمایا کرتے تھے :
اللہم انی اعوذ بک من البخل والجین اوعوذبک ان ارد الی ارذل العمر واعوذبک من فتنۃ الدجال و عذاب القبر :
ترجمہ : اے اللہ میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں کنجوسی اور آپ سے پناہ مانگتا ہوں بزدلی سے اور آپ سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں نکمی عمر کی طرف لوٹا دیا جاوں اور آپ سے پناہ مانگتا ہوں دنیا کے فتنے سے اور آپ سے پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے۔
بچوں کے اعمال صالحہ کا اجر والدین کو ملتا ہے :
38:۔ ابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بچہ بالغ ہونے سے پہلے تک جو وہ کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اس کے والد یا والدین کے اعمال نامے میں درج کردیا جاتا ہے اور اگر وہ کوئی برا عمل کرتا ہے تو نہ اس پر لکھا جاتا ہے اور نہ اس کے والدین پر اور جب وہ بالغ ہوجاتا ہے تو اس پر قلم جاری ہوجاتا ہے (یعنی اس کے اعمال اچھے یا برے اس کے اپنے اعمال نامے میں لکھنا شروع ہوجاتے ہیں) تو وہ فرشتوں کو حکم ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ رہیں وہ اس کی حفاظت بھی کرتے ہیں اور اس کو درست جانب چلانے کی کوشش کرتے ہیں جب وہ چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی تین مصیبتوں سے امن دے دیتے ہیں جنون سے جذام سے اور برص سے اور جب وہ پچاس برس کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں دگنی کردیتے ہیں اور جب وہ ساٹھ برس کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی طرف رجوع کی توفیق دے دیتے ہیں اس حالت میں جس کو وہ پسند فرماتے ہیں اور جب وہ ستر برس کو پہنچ جاتا ہے تو آسمان والے اس سے محبت فرماتے ہیں اور جب وہ نوے سال کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیتے ہیں اور اس کے گھروالوں کے بارے میں اس کی سفارش قبول فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا نام اسیر اللہ (یعنی اللہ کا قیدی) ہوتا ہے اس کی زمین میں اور جب نکمی عمر کو پہنچ جاتا ہے ” لکی لا یعلم بعد علم شیئا “ تو اللہ تعالیٰ (اس کے نامہ اعمال میں) وہ نیک اعمال لکھ دیتے ہیں جو وہ اپنی صحت (کے زمانہ) میں کرتا تھا اور اگر وہ کوئی برا عمل کرتا تھا تو اس پر نہیں لکھا جاتا۔
Ayah 16:711:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” واللہ فضل بعضکم علی بعض فی الرزق “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ (یعنی کافر لوگ) اپنے غلاموں کو اپنے اموال اور اپنی بیویوں میں شریک نہیں کرتے پھر کس طرح میرے بندوں کو میرے ساتھ میری بادشاہی میں شریک کرتے ہیں۔
2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ (شریک کرنے کی) باطل خدا وں کی ایک مثال ہے۔
3:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” واللہ فضل بعضکم علی بعض فی الرزق “ کے بارے میں فرمیا ا کہ یہ ایک مثال ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ تم میں کوئی اپنے غلام کو اپنی بیوی میں اور اپنے بستر میں شریک کرے گا ؟ کیا تم اللہ کے ساتھ برابر قرار دیتے ہیں اس کی مخلوق کو اور اس کے بندوں کو اگر تم اپنی ذات کے لئے یہ پسند نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ زیادہ حق دار ہیں کہ وہ شریک سے پاک ہوں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو اس برابر نہ ٹھہراؤ اس کے بندوں میں سے اور اس کی مخلوق میں سے۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے عطاء خراسانی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے (جھوٹے) معبودوں کے متعلق اور فرمایا تم کس طرح برابر قرار دیتے ہو میرے ساتھ میرے بندوں کو اور تم خود اپنے غلاموں کو اپنے ساتھ شریک اور برابر نہیں بناتے جس چیز میں تم کو ان پر برتری دی گئی ہے تم ان کو لوٹانے والے نہیں ہوتے سو تم اور وہ رزق میں برابر ہوجاؤ۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے ابوموسی اشعری ؓ کی طرف لکھا قناعت کر اپنے رزق کے ساتھ دنیا میں کیونکہ رحمن نے فضیلت دی ہے اپنے بندوں کو بعض پر رزق میں یہ ایسی آزمائش ہے جس میں ہر ایک کو مبتلا کیا جاتا ہے سو آزمائش کیا جاتا ہے اس کے ذریعہ وہ شخص جس کو کشادہ روزی دی جاتی ہے کہ اس میں وہ کس طرح اس کا شکر ادا کرے گا اور اس کا شکر ادا کرنا اللہ کے حق کی ادائیگی ہے جو اس پر فرض تھی ان چیزوں میں سے جو اس کو رزق دیا اور اس پر بخشش کی۔
Ayah 16:721:۔ عبدبن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” واللہ جعل لکم من انفسکم ازواجا “ کے بارے میں فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا پھر ان کی بیوی کو اس میں سے پیدا فرمایا۔
2:۔ فریابی، سعید بن منصور، بخاری نے تاریخ میں ابن جریر ابن ابی حاتم طبرانی حاکم اور بیہقی نے سنن میں (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحفدۃ “ سے مراد داماد ہیں۔
3:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحفدۃ “ سے مراد سسرال ہیں۔
4:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحفدۃ “ سے مراد بیٹے اور پوتے ہیں۔
5:۔ ابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحفدۃ “ سے مراد اولاد کی اولاد ہے۔
6:۔ طسنی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وحفدۃ “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے مراد ہے اولاد کی اولاد اور وہ مددگار ہوتے ہیں پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
حفد الولائد حولھن واسلمت باکفھن ازمۃ الاجمال :
ترجمہ لڑکیوں کی اولاد ان کے گرد ہوتی ہیں حسن و جمال کا لگام ان کے ہاتھوں نے بخشا ہے۔
7:۔ ابن جریر نے ا بوحمزہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” بنین وحفدۃ “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا جو بھی تیرا معاون ہو وہ تیرا حفد ہے کیا تو نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا ؎
حفد الولائد حولھن واسلمت باکفھن ازمۃ الاجمال :
ترجمہ لڑکیوں کی اولاد ان کے گرد ہوتی ہیں حسن و جمال کا لگام ان کے ہاتھوں نے بخشا ہے۔
8:۔ ابن جریر نے اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” حفدۃ “ سے مراد مرد کی بیوی کی اولاد ہے جو اس مرد سے نہ ہو (بلکہ پہلے شوہر کی اولاد ہو)
9:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابومالک (رح) سے روایت کیا (آیت) ” حفدۃ “ سے مراد معاونین ہیں۔
10:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” حفدۃ “ سے مراد خدام ہیں۔
11:۔ ابن جریر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” حفدۃ “ سے مراد بیٹے اور پوتے ہیں اور جو اہل میں سے معاون یا خدام میں سے ہوں سب تیرے حفدہ ہیں۔
12:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” افبالباطل “ سے مراد ہے شرک۔
13:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” افبالباطل یومنون “ میں باطل سے مراد شیطان (اور) (آیت) ” وبنعمت اللہ “ سے مراد ہیں محمد ﷺ ۔
Ayahs 16:73–771:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ’ ’ ویعبدون من دون اللہ ما لا یملک لہم رزقا من السموت والارض “۔ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ بت ہیں کہ جن کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کی جاتی تھی اور (یہ بت) نہیں مالک ہوتا اس شخص کے لئے جو اس کی عبادت کرتا ہے نہ نفع کا نہ نقصان کا نہ زندگی کا اور نہ دوبارہ اٹھنے کا۔ (آیت) ” فلا تضربوا للہ الامثال “ پس اللہ کی مثالیں بیان نہ کرو کیونکہ وہ ایک ہے اور بےنیاز ہے ” لم یلد، ولم یولد (3) ولم یکن لہ کفوا احد (4) “ (نہ کسی نے اس کو جنا اور نہ وہ جنم دیا گیا اور اس کا کوئی ہم سر نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا بڑا گناہ ہے :
2:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلا تضربوا للہ الامثال “ سے مراد ہے کہ انہوں نے بتوں کو خدا بنالیا تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے ساتھ میرے علاوہ کسی کو خدا نہ بناؤ کیونکہ میرے علاوہ کوئی خدا نہیں۔
3:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ضرب اللہ مثلا عبدمملوکا لایقدر علی شیء “ سے مراد ہے کافر ہے جو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا (آیت) ” ومن رزقنہ منا رزقا حسنا فھو ینفق منہ سرا وجھرا “ سے مراد مومن ہے اور یہ خرچ کرنے کی مثال ہے۔
4:۔ عبدبن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ضرب اللہ مثلا عبدمملوکا “ یعنی یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے کافر کے لئے بیان فرمائی اللہ تعالیٰ نے اس کو مال دیا لیکن اس نے اسے کسی خیر میں خرچ نہ کیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ عمل نہیں کیا (آیت) ” ومن رزقنہ منا رزقا حسنا “ اس سے مراد وہ مومن ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال اور رزق حلال عطا فرمایا اور اس نے اس میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ عمل کیا اور شکر اور معرفت کے ساتھ اس نے اس کو حاصل کیا پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اس عارضی رزق کو خرچ کرنے کی وجہ سے جنت کا دائمی رزق عطا فرمایا اس کے اہل و عیال کے لئے (پھر) اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ھل یستوین مثلا “ (کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں) نہیں اللہ کی قسم یہ دونوں (مومن اور کافر) برابر نہیں ہوسکتے۔
5:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ضرب اللہ مثلا عبدمملوکا لایقدر علی شیء ومن رزقنہ منا رزقا حسنا ” (آیت) ” رجلین احدھما ابکم “ (آیت) ” ومن یامر بالعدل “ یہ سب مثالیں ہیں سچے معبود کی اور جن کو یہ (کافر) پکارتے ہیں (اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر) وہ سب جھوٹے ہیں۔
کافر اور مومن کی مثال :
6:۔ ابن منذر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ضرب اللہ مثلا عبدمملوکا لایقدر علی شیء “ یعنی اس سے وہ معبود مراد ہے جو نہیں مالک ہیں کہ نقصان کے اور نہ کسی نفع کے اور نہ کسی چیز پر قدرت رکھتے ہیں کہ ان کو نفع پہنچائیں (اور فرمایا) (آیت) ” ومن رزقنہ منا رزقا حسنا فھو ینفق منہ سرا وجھرا “ یعنی یہ مومن کی مثال ہے جو خرچ کرتا ہے اللہ کے لئے علانیہ بھی اور چھپے ہوئے بھی۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ضرب اللہ مثلا عبدمملوکا لایقدر علی شیء “ سے مراد ہے موت۔
8:۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اعمال کے مطابق مثالوں کو بیان فرمایا ہے ہر نیک عمل کی ایک نیک مثال ہے اور ہر برے عمل کی بری مثال ہے اور فرمایا سمجھدار عالم کی مثال ایک راستہ کی ہے جو درخت اور پہاڑ کے درمیان ہے اور وہ سیدھا ہے کہ اس کی کوئی چیز ٹیڑھا نہیں کرتی اور یہ مثال ہے مومن بندے کی جس نے قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا۔
9:۔ ابن جریر ابن ابی حاتم ابن مردویہ اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت کہ (آیت) ” ضرب اللہ مثلا عبدمملوکا لایقدر علی شیء “ قریش کے ایک آدمی ہشام بن عمر اور اس کے غلام ابوالجوزاء کے بارے میں نازل ہوئی ہشام خرچ کرتا تھا اپنے مال کو چھپے ہوئے اور علانیہ اور اپنے غلام کو خرچ کرنے سے منع کرتا تھا۔
10:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ غلام کے لئے طلاق دینا جائز نہیں مگر اس کے آقا کی اجازت سے اور پھر یہ (آیت) ” عبدمملوکا لایقدر علی شیء “۔
11:۔ بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس غلام کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی چیز کا صدقہ کرتا ہے ؟ تو انہوں نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ (آیت) ” ضرب اللہ مثلا عبدمملوکا لایقدر علی شیء “ یعنی وہ کسی چیز کا صدقہ نہیں کرسکتا۔
12:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے کہ (آیت) ” ضرب اللہ مثلا رجلین احدھما ابکم “ ‘ (آیت کے آخرت تک) کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد کافر ہے اور فرمایا (آیت) ” وھو کل علی مولہ “ (وہ وبال جان ہے اپنے مالک پر) اور وہ (مثال ہے) کافر کی اور (آیت) ” ومن یامر بالعدل “ سے مراد مومن ہے اور یہ مثال ہے اعمال کے بارے میں۔
13:۔ ابن جریر، ابن منذر ابن ابی حاتم ابن مردویہ اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت کہ (آیت) ” ضرب اللہ مثلا رجلین احدھما ابکم “ دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ان میں سے ایک عثمان بن عفان ؓ ہیں کہ ان کا غلام کافر تھا اور وہ اسید بن ابی العیص تھا جو اسلام کو ناپسند کرتا تھا اور عثمان ؓ اس پر خرچ کرتے تھے اور اس کی کفالت فرماتے تھے اور غلام کو منع کرتا تھا صدقہ سے اور نیک کام سے ان دونوں کے بارے میں (یہ آیت) نازل ہوئی۔
14:۔ ابن سعد ابن ابی شیبہ بخاری نے تاریخ میں ابن ابی حاتم ابن مردویہ اور ضیاء نے مختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن یامر بالعدل “ سے مراد ہے عثمان بن عفان ؓ ۔
15:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ مثال اللہ تعالیٰ نے باطل معبودوں کے لئے بھی بیان فرمائی گونگے سے مراد ہے بت کیونکہ وہ گونگا ہوتا ہے بولتا نہیں (آیت) ” وھوکل علی مولہ “ کہ لوگ اس پر خرچ کرتے ہیں جو ان کے پاس آتے ہیں اور وہ (گونگا یعنی بت) ان پر خرچ نہیں کرتا اور انہ ان کو رزق دیتا ہے (آیت) ” ھل یستوی ھو ومن یامر بالعدل “ اور وہ اللہ تعالیٰ ہیں (کہ ان کو رزق دیتے ہیں اور ان پر خرچ کرتے ہیں)
16:۔ عبدالرزاق ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” احدھما ابکم “ سے مراد ہے بت (آیت) ” ھل یستوی ھو ومن یامر بالعدل “ اسے مراد ہیں اللہ تعالیٰ ۔
17:۔ ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” کل “ سے مراد ہے عیال جب مشرکین کسی جگہ سے کوچ کرتے تھے تو اس بت کو ایک مطیع اونٹ پر لاد دیتے تھے پر بہت سے مشرک اس کے ساتھ چلتے تھے جو اس بت کو پکڑے رکھتے اس ڈر سے کہ وہ نیچے نہ گرجائے اور وہ بت نرا عذاب اور عیال (یعنی وبال) کا باعث ہوتا تھا (آیت) ” ھل یستوی ھو ومن یامر بالعدل، وھو علی صراط مستقیم “ سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
18۔ طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو خبر پڑھا۔
19:۔ عبدالرزاق ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما امر الساعۃ الا کلمح البصر “ وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) فرمائیں گے ہوجا یا اس بھی قریب قیامت (قائم) ہوجائے گی اور قیامت (اتنی جلدی قائم ہوگی) (آیت) ” کلمح البصر، وھو اقرب “ (آنکھ جھپکنے کی دیر یا اس سے بھی جلد)
20:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کلمح البصر “ یعنی آنکھ کا جھپکنا جلدی سے (آیت) ” اوھو اقرب “ یا اس سے زیادہ قریب جب ہم ارادہ کریں۔
21:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما امر الساعۃ الا کلمح البصر، اوھو اقرب “ یعنی وہ زیادہ قریب ہے (کہ قیامت جلدی ہی واقع ہوجائے گی اور یہاں اوشک کے لئے نہیں ہے) اور قرآن میں اوجہاں بھی ہے اسی معنی میں ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” الی مائۃ الف اویزیدون “ الصافات آیت 37) واللہ اعلم۔
Ayah 16:781:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واللہ اخرجکم من بطون امھتکم “ یعنی (ماں کے) رحم سے (اللہ تعالیٰ نے تم کو نکالا)
کان، آنکھ، دل اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ لعلکم تشکرون “ کے بارے میں روایت فرمایا کہ یہ عزت اور کرامت ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں عزت دی اس کے ذریعہ اس لئے تم اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
3:۔ احمد، ابن ماجہ، ابن حبان، طبرانی اور ابن مردویہ نے حبہ وسواء جو خالد (رح) کے بیٹے ہیں سے روایت کیا کہ وہ دونوں نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کوئی دیوار درست فرما رہے تھے آپ نے ان دونوں سے فرمایا آجاؤ تو وہ دونوں آپ کے ساتھ اس کام میں شریک ہوگئے جب آپ فارغ ہوئے ان دونوں کو کسی کام کا حکم فرمایا اور ان دونوں سے فرمایا رزق سے مایوس نہ ہوجانا جب تک تمہارے سر حرکت کر رہے ہیں کیونکہ ہر بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے وہ سرخ ہوتا ہے اس پر جلد نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتے ہیں۔
Ayah 16:791:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فی جو السمآء “ یعنی وہ آسمان کے جوف میں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فی جو السمآء “ سے مراد ہے آسمان کے درمیان ” ما یمسکھن الا اللہ “ یعنی ہر ایک کو اللہ تعالیٰ نے (فضا میں) تھام رکھا ہے (واللہ اعلم بالصواب )
Ayah 16:801:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واللہ جعل لکم من بیوتکم سکنا “ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے گھر بنائے ہیں جن میں تم رہتے ہو۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واللہ جعل لکم من بیوتکم سکنا “ یعنی تم اس میں رہتے ہو اور قرار پکڑتے ہو کہ (آیت) ” وجعل لکم من جلود الانعام بیوتا “ اور اس سے مراد دیہاتیوں کے خیمے ہیں (آیت) ” تستخفونھا “ یعنی تم اٹھانے میں (ہلکا محسوس کرتے ہو) ” (آیت) ” ومتاعا الی حین “ یعنی موت تک (ساری نعمتوں سے نفع اٹھاتے ہو)
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” تستخفونھا یوم ظعنکم “ کہ قافلہ والے فورا اپنا گھر بنالیتے ہیں (آیت) ” واوبارھا ‘’‘ یعنی اونٹوں کی اون (آیت) ” واشعارھا “ (یعنی بال) بکری کے۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واثاثا “ یعنی مال (آیت) ” ومتاعا الی حین “ کہ تم نفع حاصل کرتے ہو اس کے ساتھ ایک مدت تک۔
5:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ قرآن کو اتارا عربوں کی معرفت کے مطابق کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف نہیں دیکھا (آیت) ” ومن اصوافھا واوبارھا “ (یعنی اللہ تعالیٰ نے صوف اور اونٹوں کی اون کا ذکر کیا اور ان سے بڑی بڑی چیزوں کا ذکر نہیں کیا کیونکہ وہ اونٹ اور بکریاں پالتے تھے اور ان کی اون سے خیمے بناتے تھے کیونکہ وہ لوگ پہاڑوں میں رہتے تھے اس لئے ان کا ذکر فرمایا اور فرمایا (آیت) ” واللہ جعل لکم مما خلق ظلا وجعل لکم من الجبال اکنانا “ (اللہ تعالیٰ نے ہی بناتے ہیں تمہارے لئے ان چیزوں کے سائے بناتے ہیں تمہارے لئے ان چیزوں کے سائے جن کو اس نے پیدا فرمایا اور اسی نے بنائی ہیں تمہارے لئے پہاڑوں میں پناہ گاہیں) (آیت) ” وجعل لکم سرابیل تقیکم الحر “ جبکہ سردی سے بچانے والی چیزیں اس سے بڑی ہیں کیونکہ وہ لوگ گرم علاقہ میں رہتے تھے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے (آیت) ” من جبال فیھا من برد “ فرمایا حالانکہ وہ جو آسمان سے برف برساتا ہے وہ عزت حاصل کرنے میں زیادہ موثر ہے ان چیزوں کا ذکر اس لئے نہیں فرمایا کیونکہ وہ ان کو نہیں جانتے تھے۔
6:۔ عبدالرزاق ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومتاعا الی حین “ سے مراد ہے موت۔
Ayahs 16:81–831:۔ عبدبن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واللہ جعل لکم مما خلق ظللا “ (یعنی سایہ بنایا) درخت سے اور اس کے علاوہ (دوسری چیزوں سے) (آیت) ” وجعل لکم من الجبال اکنانا “ یعنی غاریں جن میں تم ٹھہرتے ہو (آیت) ” وجعل لکم سرابیل تقیکم الحر “ یعنی روئی سے اور اون سے لباس بنائے (آیت) ” وسرابیل تقیکم باسکم “ یعنی لوہے کے لباس (آیت) ” کذلک یتم نعمتہ علیکم لعلکم تسلمون “ (اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کو پورا فرماتے ہیں تاکہ تم اللہ کے سامنے جھک جاؤ)
2:۔ ابن ابی حاتم نے کسائی کے طریق سے حمزہ (رح) سے روایت کیا کہ اعمش ابوبکر اور عاصم یہ تینوں حضرات اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” لعلکم تسلمون “ تاء کے ر فع کے ساتھ اسلمت “ سے۔
3:۔ ابوعبید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” سرابیل تقیکم الحر “ یعنی کپڑے سے (آیت) ” وسرابیل تقیکم باسکم “ یعنی زرہیں اور ہتھیار۔ (آیت) ” کذلک یتم نعمتہ علیکم لعلکم تسلمون “ یعنی زخموں سے (تمہاری حفاظت رہے) اور ابن عباس ؓ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” تسلمون “
4:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں آپ سوال کیا رسول اللہ ﷺ نے اس پر یہ (آیت) ” واللہ جعل لکم من بیوتکم سکنا “ پڑھی دیہاتی نے کہا ہاں ٹھیک ہے پھر فرمایا (آیت) ” وجعل لکم من جلود الانعام بیوتا تستخفونھا “ دیہاتی نے کہا ہاں ٹھیک ہے پھر اس کے سامنے پڑھا تو ہر مرتبہ وہ کہتا ہاں ٹھیک ہے یہاں تک کہ اس آیت ” کذلک یتم نعمتہ علیکم لعلکم تسلمون “ تک پہنچے تو وہ دیہاتی پیٹھ پھیر کر چلا گیا (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” یعرفون نعمت اللہ ثم ینکرونھا واکثرھم الکفرون “۔
5:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا (آیت) ” یعرفون نعمت اللہ ثم ینکرونھا “ سے رہنے کی جگہیں اور جانور مراد ہیں، اور باقی نعمتیں جو ان کو عطا کی گئیں جیسے زرہیں کپڑے وغیرہ ان چیزوں کو کفار قریش پہچانتے تھے پھر یہ کہتے ہوئے اس کا انکار کرتے تھے کہ یہ چیزیں ہمارے آباء و اجداد کے لئے تھیں اور ہم کو ورثہ میں ملی ہیں۔
6:۔ ابن جریر نے عبداللہ بن کثیر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ کفار قریش جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا فرمایا اور ان کو (یہ چیزیں) عطا فرمائیں ان کے عطا کرنے کے بعد ( یہ لوگ) انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ ان نعمتوں کو پہچانتے تھے لیکن پہچاننے کے بعد انکار کرتے تھے۔
7:۔ سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عون بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یعرفون نعمت اللہ ثم ینکرونھا “ یعنی خاص طور پر وہ ان (نعمتوں) کا انکار کرتے تھے کہ ایک آدمی یوں کہتا تھا اگر فلاں نہ ہوتا تو مجھے ایسا ملتا اگر فلاں نہ ہوتا تو مجھے اس طرح کی تکلیفیں نہ پہنچتی۔
8:۔ ابن ابی شیبہ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یعرفون نعمت اللہ ثم ینکرونھا “ سے محمد ﷺ مراد ہیں (کیونکہ یہ بڑی نعمت تھی) اور ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ یہ حدیث ابو جہل اور اخنس کے بارے میں نازل ہوئی۔