10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 10:100–106

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

اور کسی شخص سے یہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ کے حکم کے بغیر ایمان لے آئے، اور ان لوگوں پر گندگی واقع فرماتا ہے جو سمجھ نہیں رکھتے

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے دیکھ لو آسمانوں میں اور زمین میں کیا چیزیں ہیں اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے انہیں دلائل اور ڈرانے والی چیزیں نفع نہیں دیتیں

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

سو کیا وہ انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس انہیں لوگوں کے واقعات آجائیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، آپ فرمادیجیے کہ تم انتظار کرلو میں تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

پھر ہم اپنے رسولوں کو نجات دیتے ہیں اور اسی طرح ان لوگوں کو جو ایمان لائے، ہمارے ذمہ ہے کہ ہم ایمان والوں کو نجات دیں گے

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ اے لوگوں ! اگر تم میرے دین کی طرف سے شک میں ہو سو میں ان لوگوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو لیکن میں اس کی عبادت کرتا ہوں جو تمہیں موت دیتا ہے، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان والوں میں سے ہو جاوں

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور یہ بھی حکم ہوا کہ اپنی ذات کو اس دین کی طرف اس طرح سے متوجہ رکھوں کہ دوسرے سب طریقوں سے علیحدہ رہوں اور یہ کہ ہرگز مشرکوں میں مت ہوجانا

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور تو اللہ کے سوا کسی کو مت پکار جو تجھے نفع نہ دے سکے اور نہ ضرر دے سکے، سو اگر تو نے ایسا کیا تو بلاشبہ تو ظالموں میں سے ہوجائے گا۔

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ’ ’ ویجعل الرجس “ میں جس سے مراد ہے غصہ۔ 2:۔ ابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” ویجعل الرجس “ میں ” الرجس “ سے مراد ہے شیطان یا رجس سے مراد ہے عذاب۔ 3:۔ ابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما تغنی الایت ولنذر عن قوم “ میں قوم کی بجائے ” عن قوم لا یومنون “ سے مگر (اس حکم کو) اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” حکمۃ بالغۃ فما تغن النذر “ (5) ۔ نے منسوخ کردیا (یہ حک ہے کہ ان کو ڈرانا فائدہ نہیں دیتا جو (اللہ کے علم میں) ایمان نہیں لائیں گے۔ 4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فھل ینتظرون الا مثل ایام الذین خلوا من قبلہم “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہونے والے وہ واقعات جو ان قوموں میں واقع ہوئے۔ جو ان سے پہلے تھیں جیسے قوم نوح قوم عاد اور قوم ثمود وغیرہ۔ 5:۔ ابن جریر وابوالشیخ (رح) نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” فھل ینتظرون الا مثل ایام الذین خلوا من قبلہم قل فانتظروا انی معکم من المنتظرین (102) “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈرایا اپنے عذاب سے اپنے انتقام سے اور اپنے سزا سے پھر ان کو خبر دی کہ جب بھی ان میں سے کوئی اور واقع ہوا تو اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات دی۔ اسی کو فرمایا (آیت ) ” ثم ننجی رسلنا والذین امنو “۔
Ayah 10:107

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچا دے تو اللہ کے سوا اسے کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تیرے ساتھ خیر کا ارادہ فرمائے تو اس کے فضل کو کوئی بھی ہٹانے والا نہیں وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اپنے فضل سے نواز دے۔ اور وہ غفور ہے رحیم ہے

1:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ون یردک بخیر “ میں خیر سے مراد ہے عافیت۔ 2:۔ ابوالشیخ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ میں نے تین آیات کو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں پایا اور میں نے اس کے ذریعہ اکتفا کرلیا ساری مخلوق کے مقابلہ میں (یعنی میں نے ساری مخلوق سے بےنیاز ہو کر ایک اللہ کی ذات کو اپنی ہر ضرورت کے لئے کافی سمجھ لیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ھو، وان یردک بخیر فلار آدلفضلہ۔ “ 3:۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں عامر بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ اللہ کی کتاب میں تین آیات ایسی ہیں کہ میں نے ان کے ذریعہ اکتفا کرلیا ساری مخلوق کے مقابلہ میں ان میں سے پہلی آیت ہے (آیت) ” وان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ھو، وان یردک بخیر فلار آدلفضلہ۔ ‘ دوسری آیت یہ ہے (آیت) ” مایفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا ممسک لھا وما یمسک فلہ مرسل لہ “ (فاطر آیت 2) اور تیسری آیت یہ ہے (آیت) ” وما من دآبۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا “ (ہود آیت 6) 4:۔ ابو نعیم نے الحلیہ میں والبیہقی نے الشعب میں وابن عساکر رحمہم اللہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے زمانے کے لئے خیر امن کی طلب کرتے رہو۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی خوشبو کے لئے اپنے آپ کو پیش کرو (کیونکہ اللہ تعالیٰ ) اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں (اپنی رحمت) پہچانتے ہیں۔ اور اس سے سوال کرو کہ وہ تمہاری شرم گاہوں کو چھپا دیتے اور امن دیدے تم کو خوف اور لڑائی سے۔ 5:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ موقوفا روایت کیا ہے بعینہ اس طرح۔
Ayahs 10:108–109

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ اے لوگوں ! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس حق آگیا سو جو شخص ہدایت پائے وہ اپنی ہی جان کے لئے ہدایت پاتا ہے اور جو شخص گمراہی میں رہے تو اس کی گمراہی اسی کے نفس پر پڑنے والی ہے۔ اور میں تم پر مسلط نہیں کیا گیا

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

اور آپ اس کا اتباع کیجئے جس کی آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے، اور صبر کیجئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائے اور وہ فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

1:۔ ابو الشیخ رحمۃ اللہ علیہنے مجاہد (رح) سے روایت کیا انہوں نے (آیت) ” قد جآء کم الحق من ربکم “ اور (آیت) ” وان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ھو، وان یردک بخیر فلار آدلفضلہ۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہی حق ہے۔ 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ ” واصبر حتی یحکم “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ (حکم) منسوخ ہے اور (اب) آپ کو حکم فرمایا انکے ساتھ جہاد کرنے کا اور ان پر سختی کرنے کا۔ الحمد للہ سورة یونس مکمل ہوئی ؛