Ayah 10:641:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ واحمد والترمذی اور آپ نے اس کو حسن کہا والحکیم الترمذی نے نوادرالاصول میں وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے شعب الایمان میں عطاء بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابودرداء ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کسی نے مجھ سے اس بارے میں سوال نہیں کیا جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اور آپ نے فرمایا کہ مجھ سے تیرے علاوہ کسی نے سوال نہیں کیا جب سے اس کو اتارا گیا پھر آپ نے فرمایا یہ اچھے خواب ہیں جس کو کوئی مسلمان دیکھتا ہے یا اس کو دکھائے جاتے ہیں اور یہ اس کے لئے خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اس کے لئے جنت کی خوشخبری ہے۔
2:۔ الطیالسی واحمد والدارمی والترمذی وابن ماجہ والہیثم بن کلیب الشامی والحکیم الترمذی وابن جریر وابن منذر والطبرانی وابو الشیخ والحاکم آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس قول (آیت) ” لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ “ کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا اس سے مراد سچے خواب ہیں جس کو مومن دیکھتا ہے یا اسے دکھائے جاتے ہیں۔
جس سے اللہ کے لئے محبت ہو اسے بتادے :
3:۔ احمد وابن جریر وابو الشیخ وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (آیت) ” لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے سچے خواب کہ اس کے ذریعہ مومن کو خوشخبری دی جاتی ہے، اور یہ نبوت کے چھیالیسویں حصے میں سے ایک حصے میں سے ایک حصہ ہے، پس جو شخص ان کو دیکھے تو اسے چاہئے کہ ان کے بارے میں محبت اور دوستی رکھنے والے کو بتادے اور جو اس کے علاوہ دوسرا (برا) خواب دیکھے تو وہ شیطان کی طرف سے ہے تاکہ ان کو غم میں ڈال دے تو اس کو چاہئے کہا پنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دے۔ اور خاموش ہوجائے اور کسی کو خبر نہ دے۔
4:۔ ابن جریر وابو الشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دنیا میں اچھے خواب ہیں جس کو نیک بندہ دیکھتا ہے یا اس کے لئے دکھائے جاتے ہیں اور آخرت میں جنت ہے۔
5:۔ ابن سعد والبزار وابن مردویہ والخطیب سے المتفق والمفترق میں الکلبی کے طریق سے جابر بن عبداللہ بن رباب ؓ روایت کیا کہ جو انصاری نہیں تھے کہ نبی کریم ﷺ نے اس قول (آیت) ” لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد سچے خواب ہیں جو مسلمان اس کو دیکھتا ہے یا اس کے لئے دکھائے جاتے ہیں۔
6:۔ ابن ابی الدنیا نے ذکر الموت میں ابوالشیخ وابن مردویہ وابو القاسم بن مندہ نے کتاب سوال عذاب القبر میں ابو جعفر کے راستے سے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ جنگل کے رہنے والوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھ کو اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” الذین امنوا وکانوا یتقون (63) لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ “ کے بارے میں بتائیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (آیت) ” لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا “ سے اچھے خواب مراد ہیں جو مومن بندے کو دکھائے جاتے ہیں اور اس کے ذریعہ اس کی دنیا میں اس کو خوشخبری دی جاتی ہے اور یہ قول (آیت) ” وفی الاخرۃ “ کہ یہ خوشخبری ہے مومن کی موت کے وقت کہ اللہ تعالیٰ نے تجھ کو بخش دیا ہے اور اس کو بھی جو تجھ کو قبر تک اٹھا کر لایا ہے۔
7:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوسفیان کے راستے سے جابر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ “ کے بارے میں فرمایا آپ نے فرمایا اس بارے میں مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا یہ سچے خواب ہیں جو اس کو مسلمان دیکھتا ہے یا اس کے لئے دکھائے جاتے ہیں اور آخرت میں جنت ہے۔
8:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (آیت) ” لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ “ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا یہ سچا خواب ہے جو مومن اس کو دیکھتا ہے یا اس کو دکھایا جاتا ہے۔
9:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ اچھا خواب ہے جس کو کوئی مسلمان دیکھتا ہے اپن ذات کے لئے یا اپنے بعض بھائیوں کے لئے۔
10:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابو داود والنسائی وابن ماجہ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوگئی پردہ کو ہٹایا اور لوگ صف باندھے ہوئے ابوبکر کے پیچھے (نماز پڑھ رہے) تھے۔ آپ نے فرمایا بشارت نبوت میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی مگر نیک خواب ہیں جو مسلمان اس کو دیکھتا ہے یا اس کے لئے دکھائے جاتے ہیں۔
11:۔ سعید بن منصور واحمد وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابو الطفیل عامر بن واثلہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے بعد نبوت باقی نہیں ہے سوائے مبشرات کے کہا گیا یا رسول اللہ ﷺ مبشرات کیا ہیں آپ نے فرمایا سچے خواب۔
12:۔ ابن مردویہ (رح) نے حذیفہ بن اسید غفاری (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نبوت ختم ہوچکی ہے میرے بعد کوئی نبوت نہیں اور مبشرات باقی رہ گئے۔ اور وہ مسلمان کے اچھے خواب ہیں جس کو کوئی مسلمان دیکھتا ہے یا اس کو دکھائے جاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کے بعد اور کوئی نبی نہیں آئے گا :
13:۔ ابن ابی شیبہ واحمد والترمذی اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابن مردویہ رحمہم اللہ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رسالت اور نبوت ختم کردی گئی۔ میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی ہے لیکن مبشرات ہیں۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا مبشرات کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا مسلمان کا خواب اور یہ نبوت کے اجزاء میں سے ایک جز ہے۔
14:۔ احمد ابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابو قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نیک خواب خوشخبری ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور یہ نبوت کے اجزاء میں سے ایک جز ہے۔
15:۔ احمد وابن مردویہ رحمہما اللہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے بعد نبوت میں سے کوئی چیز باقی نہیں ہے مگر مبشرات صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ مبشرات کیا ہیں ؟ فرمایا نیک خواب ہیں آدمی اس کو دیکھتا ہے یا اس کے لئے دکھائے جاتے ہیں۔
16:۔ ابن ماجہ وابن جریر رحمہما اللہ نے ام کند الکعبیہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبوت ختم ہوچکی ہے اور مبشرات باقی رہ گئے۔
17:۔ ابن ابی شیبہ ومسلم وابو داود والترمذی وابن ماجہ رحمہم اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب زمانہ قریب ہوجائے تو مومن کا خواب جھٹلادیا جائے گا اور اسی کا خواب زیادہ سچا ہوگا جو ان میں سے زیادہ سچ بولنے والا ہوگا۔ اور مسلمان کا خواب نبوت کا چھالیسویں جز میں سے ایک جز ہے۔ اور ایک خواب تین قسم کے ہیں نیک خواب جو اللہ کی طرف سے خوشخبری ہے اور ایک وہ خواب کہ جس سے شیطان غم میں ڈالتا ہے اور وہ خواب ان چیزوں میں سے ہے کہ جس میں آدمی اپنی ذات سے بات کرتا ہے جب کوئی تم میں سے ایسا خواب دیکھے کہ جس کو وہ ناپسند کرتا ہو۔ تو اس کو چاہئے کہ کھڑا ہوجائے اور تھوک دے اور لوگوں کو بیان نہ کرے اور قید کی حالت میں خواب پسندیدیہ ہوجائے اور ہتھکڑی مکروہ اور ناپسندیدہ ہے۔ القید سے مراد ہے دین میں ثابت قدم رہنا اور ابن ماجہ کے الفاظ میں ہے جب کوئی تم میں سے ایسا خواب دیکھے جس کو وہ پسند کرتا ہو تو اس کو چاہئے بیان کرے اگر چاہے اور اگر ایسا خواب دیکھے کہ جس کو ناپسند کرتا ہو تو اس کو کسی سے بیان نہ کرے اور کھڑا ہوجائے اور نماز پڑھ لے۔
18۔ ابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم وابو داود والترمذی والنسائی رحمہم اللہ نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مومن کا خواب نبوت کا چھالیسویں اجزاء میں سے ایک جز ہے۔
براخواب شیطان کی طرف سے ہے :
19:۔ بخاری والترمذی والنسائی رحمہم اللہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے، جس کو وہ پسند کرتا ہو تو وہ (گویا) اللہ کی طرف سے ہے۔ تو اس پر اس کو چاہئے کہ اللہ کی حمد وثنا کرے اور اس کو بیان بھی کرے اور جب کوئی اس کے علاوہ کوئی اور خواب دیکھے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو تو وہ شیطان کی طرف سے ہے تو اس کو چاہئے کہ اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ اور کسی کو اس کا ذکر نہ کرے تو وہ اس کو کوئی نقصان نہ دے گا۔
20:۔ ابن ابی شیبہ والبخاری وابن ماجہ رحمہم اللہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نیک خواب چھالیس اجراء میں سے ایک جز ہے اور ابن ابی شیبہ اور ابن ماجہ کے الفاظ میں یوں ہے کہ نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جز ہے۔
21:۔ ابن ابی شیبہ والبخاری وابن ماجہ رحمہم اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کا خواب نبوت کے چھالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے۔
22:۔ بخاری (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا نبوت میں سے کچھ (بھی) باقی نہیں ہے مگر مبشرات صحابہ نے عرض کیا مبشرات کیا ہیں ؟ فرمایا اچھے خواب۔
23:۔ ابن ابی شیبہ وابن ماجہ رحمہما اللہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نیک خواب نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جز ہے۔
24:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ خواب مبشرات میں سے ہے اور وہ نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جز ہے۔
25:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ “ کے بارے میں فرمایا یہ نیک خواب ہے جس کو ایک نیک بندہ دیکھتا ہے۔
26:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ نیک خواب ہے جس کو ایک مومن بندہ دیکھتا ہے یا اس کے لیے دکھایا جاتا ہے۔
27:۔ الحکیم الترمذی وابن مردویہ رحمہما اللہ نے حمید بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے عبادہ بن صامت ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا “ کے بارے میں پوچھا تو عبادہ ؓ نے فرمایا کہ یا اس کے لئے دکھایا جاتا ہے اور وہ ایسا کلام ہے جس کے ذریعہ نیند میں اپنے رب سے کلام کرتا ہے۔
28:۔ حکیم ترمذی (رح) نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ جب وہ آدمی صبح کرے جس نے اچھا خواب دیکھا ہو تو اس کو چاہئے کہ ہم سے بیان کرے کیونکہ ایک مسلمان آدمی جس نے اپنے وضو کو اچھی طرح کیا اس کا اچھا خواب مجھے بتایا میرے نزدیک فلاں فلاں چیز سے زیادہ محبوب ہے۔
29:۔ ابن ابی شیبہ واحمد وابوداود والترمذی اور آپ نے اس کو صحیح فرمایا وابن ماجہ نے ابورزین ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے اور یہ آدمی پر اڑنے والا ہوتا ہے جب تک بیان نہ کرے جب اس نے بیان کردیا تو گرپڑتا ہے (اسی طرح )
30:۔ مالک والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ رحمہم اللہ نے ابوقتادہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہے۔ جب کوئی تم میں سے ایسی چیز کو دیکھے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو تو اس کو چاہئے کہ اپنی بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دے پھر اللہ کی پناہ مانگے شیطان مردود سے اسی طرح سے وہ اس کو نقصان نہ دے گا۔
31:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عوف بن مالک اشجعی سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خواب تین قسم ہیں ڈرانا ہے شیطان کی طرف سے تاکہ اس کے ذریعہ شیطان آدم کے بیٹے کو غم میں ڈالے اور اس میں سے ایسا معاملہ بھی ہوتا ہے کہ وہ بیداری میں اپنے آپ سے جو باتیں کرتا ہے۔ پھر وہی حالت خواب میں دیکھتا ہے کہ خواب کی ایک قسم یہ ہے کہ وہ نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جز بھی ہوتا ہے۔
32:۔ حکیم ترمذی (رح) نے نوادرالاصول میں سمیربن ابی واصل سے روایت کیا کہ کہا جاتا ہے جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کو اس کی نیند میں عتاب فرماتے ہیں۔
33:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے علی بن ابی طلحہ (رح) کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے اپنے نبی کریم ﷺ کے لئے اور فرمایا (آیت) ” وبشرالمومنین بان لہم من اللہ فضلا کبیرا (47) ۔
34:۔ ابن منذر (رح) نے مقسم کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ دہ آیتیں ہیں کہ جن کے ذریعہ مومن کو خوشخبری دی جاتی ہے اس کی موت کے وقت (پہلی آیت) ” الا ان اولیآء اللہ لا خوف علیہم ولا ھم یحزنون (62) “ (دوسری آیت) ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا “
35:۔ ابن ابی شیبہ وابن ابی الدنیا نے ذکر الموت میں وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابو القاسم بن مندہ نے کتاب سوال القبر میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا “ سے مراد ہے کہ وہ مرنے سے پہلے جان لے گا کہ وہ کہاں ہوگا۔
36:۔ عبدالرزاق وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے زہری اور قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا “ میں خوشخبری ہے موت کے وقت۔
37:۔ ابن جریر و الحاکم والبیہقی رحمہم اللہ نے الاسماء والصفات میں نافع (رح) سے روایت کیا کہ حجاج نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ ابن الزبیر نے کتاب اللہ کو بدل دیا ابن عمیر نے فرمایا کہ تو اور ابن الزبیر اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ (اللہ کی کتاب کو بدل دیں) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” تبدیل لکلمت اللہ “۔
Ayahs 10:65–661:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب (کافروں نے) نفع حاصل نہیں کیا اس چیز کے ساتھ جو ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی اور وہ اپنے کفر پر قائم رہے تو یہ بات رسول اللہ ﷺ پر بہت گزری تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے (یہ آیت) ” ولا یحزنک قولہم ان العزۃ للہ جمیعا ھو السمیع العلیم (65) نازل ہوئی جس میں آپ کو عتاب کیا گیا یعنی وہ (اللہ تعالیٰ ) سنتے ہیں جو وہ کہتے ہیں اور اس کو جانتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ اپنا غلبہ چاہے تو وہ یقینا ان پر غالب آجائے۔
Ayahs 10:67–701:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والنھار مبصرا “ سے مراد ہے منیرا یعنی روشن۔
2:۔ ابوالشیخ (رح) نے حسن (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” ان عندکم من سلطن بھذا “ یعنی تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں۔
Ayahs 10:71–741:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ارج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاجمعوا امرکم وشرکآء کم “ سے مراد ہے کہ تم اپنے معاملہ کا فیصلہ کرو اور اپنے شریکوں کو بھی بلاؤ۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاجمعوا امرکم وشرکآء کم “ یعنی چاہئے کہ تم اپنے کام کو اپنے ساتھ جمع کرلو۔
3:۔ عبدالرزاق وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم لایکن امرکم علیکم غمۃ “ یعنی تم پر تمہارا فیصلہ بھاری نہ ہوجائے۔ پھر تم فیصلہ کرنے والے ہو۔
4:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم اقضوا الی “ یعنی پھر تم جلدی سے حملہ آور ہو میری طرف (آیت) ” ولا تنظرون “ یعنی تم (اس کام کو) موخر نہ کرو۔
5:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم اقضوا الی “ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے کر ڈالیں۔
Ayahs 10:75–82موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تذکرہ :
1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لتلفتنا “ یعنی تاکہ تو ہم کو پھیر دے دور ہٹا دے۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا (آیت) ” لتلفتنا “ تاکہ تو ہم کو اپنے معبودوں سے روک دے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتکون لکما الکبریآء فی الارض “ یعنی عظمت ملک اور بادشاہ ہی (تمہارے لئے ہی ہوجائے ) ۔
4:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے لیث بن ابی سلیم (رح) سے روایت کیا کہ فرمایا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ آیات شفا ہیں جادو سے اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ ایک برتن میں پڑھئے جس میں پانی ہوتا پھر جادو کئے ہوئے کے سر پر ڈال دو اس میں سورة یونس کی آیات میں (آیت) فلما القوا قال موسیٰ ما جئتم بہ السحر ان اللہ سیبطلہ “ سے لے کر ” ولوکرہ المجرمون “ تک اور دوسری آیت ” فوقع الحق وبطل ما کانوا یعملون (18) “ چار آیات کے آخر تک اور تیسری آیت ” انما صنعوا کید سحر ولا یفلح الساحر حیث اتی “
5:۔ ابن منذر (رح) نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن کعب ؓ کے حروف اس طرح ہیں (آیت) ’ ’ ما جئتم بہ السحر “ اور ابن مسعود ؓ کے حروف یوں ہیں ” ماجئتم بہ السحر “
Ayahs 10:83–861:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم و ابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما امن لموسی الا ذریۃ من قومہ “ یعنی ان کی تھوڑی اولاد موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائی۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ذریۃ من قومہ “ یعنی بنی اسرائیل میں۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما امن لموسی الا ذریۃ من قومہ “ ان کی اولاد موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائی جس کے طرف آپ کو لمبے زمانہ تک بھیجا گیا تھا اور ان کے آباؤ اجداد مرچکے تھے۔
4:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو اولاد موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی وہ بنی اسرائیل کے لوگوں میں سے تھے (اور) فرعون کی قوم میں سے ان میں سے فرعون کی بیوی اور آل فرعون کے مومن اور فرعون کا خزانچی اور اس خزانچی کی بیوی۔
5ـ:۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور ونعیم بن حماد نے الفتن میں وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ربنا لا تجعلنا فتنۃ اللقوم الظلمین (85) “ سے مراد ہے کہ ان کو مسلط نہ فرما ہم پر کہ وہ ہم کو فتنہ میں ڈالیں (یعنی ہم کو عذاب دیں )
6:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ربنا لا تجعلنا فتنۃ اللقوم الظلمین (85) “ یعنی ہم کو نہ عذاب دے فرعون کی قوم کے ہاتھوں سے اور نہ ہی اپنی جانب سے عذاب میں مبتلا کر پس فرعون کی قوم والے کہیں گے اگر وہ حق پر ہوتے تو عذاب نہ دیئے جاتے اور ہم ان پر غالب نہ آتے پس وہ ہماری وجہ سے فتنوں میں مبتلا ہوجائیں گے۔
7:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابو قلابہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے اس قول (آیت) ” ربنا لا تجعلنا فتنۃ اللقوم الظلمین (85) “ کے بارے میں فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے سوال کیا کہ ہم پر ہمارے دشمن کو غلبہ نہ دے کیونکہ ہو گمان کریں گے کہ وہ زیادہ عدل کرنے والے ہیں اور اس کے سبب فتنے میں پڑجائیں گے۔ س
8:۔ ابن منذر وابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ربنا لا تجعلنا فتنۃ اللقوم الظلمین (85) “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کو ہم پر غلبہ نہ دیجئے پس وہ یہ گمان کریں گے کہ وہ لوگ بہتر ہیں ہم سے۔
Ayah 10:87گھروں میں نماز کے لئے جگہ بنانا :
1:۔ ابو الشیخرحمۃ اللہ علیہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واوحینا الی موسیٰ واخیہ ان تبوا لقومکما بمصر بیوتا “ (یہ حکم جب ہوا) جب فرعون نے ان کو نماز سے روک دیا اور ان کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی مسجدوں کو اپنے گھروں میں بنا لیں اور ان کو قبلہ کی طرف پھیر دیں۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان تبوا لقامکما بمصر بیوتا “ اس آیت میں سے مراد مصر اسکندریہ کا شہر ہے۔
3:۔ سعید بن منصور وان منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واجعلوا بیوتکم قبلۃ “ کیونکہ وہ لوگ اپنے عبادت خانوں میں نماز پڑھتے تھے، یہاں تک کہ وہ فرعون والوں سے ڈرتے تھے تو ان کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں۔
4:۔ الفریابی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم ابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واجعلوا بیوتکم قبلۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کو حکم کیا گیا کہ وہ اپنے گھر کو مسجدیں بنالیں۔
5:۔ ابن جریر وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا (یہ لوگ) فرعون اور اس کی قوم سے نماز پڑھنے کے لئے جدا ہوتے تھے تو فرمایا (آیت) ” واجعلوا بیوتکم قبلۃ “ کہ تم اپنے گھروں کو کعبہ کی طرف بنالو اور ذکر کیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) بھی قبلہ کی طرف نماز پڑھتے تھے اور آپ کے بعد جو بھی ہوئے (وہ بھی قبلہ کی طرف نماز پڑھتے ہیں)
6:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واجعلوا بیوتکم قبلۃ “ کے بارے میں فرمایا (اس طرح پر) وہ بعض گھر بعض گھر کے آمنے سامنے ہوں گے۔
7:۔ ابن عساکر (رح) نے ابو رافع ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ خطبہ ارشاد کرتے ہوئے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ وہ اپنی قوم کے لئے گھر بنائیں اور ان کو حکم فرمایا کہ کوئی جنبی ان کی مسجدوں میں رات نہ گزارے اور اس میں عورتوں کے قریب نہ جائیں سوائے ہارون (علیہ السلام) اور انکی اولاد کے اور کسی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ میری اس مسجد میں عورتوں کے قریب جائے اور نہ رات گزارئے کوئی جنبی آدمی مگر علی ؓ اور اس کی اولاد (کو اجازت ہے )
Ayah 10:88موسیٰ (علیہ السلام) کی بدعاء :
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ربنا اطمس علی اموالہم “ کے بارے میں فرمایا اے ہمارے رب ان کے مالوں اور ان کے اہل و عیال کو ہلاک کردے (آیت) ” واشدد علی قلوبہم “ کے بارے میں فرمایا کہ اے ہمارے رب ان کے مالوں اور ان کے اہل و عیال کو ہلاک کردے (آیت) ” واشدد علی قلوبہم “ یعنی (ان کے دلوں پر) مہر لگا دے۔ (آیت) فلا یومنوا حتی یروا العذاب الالیم “ (عذاب سے مراد ہے) غرق ہوجانا۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے مجھ سے عمر بن عبدالعزیز (رح) نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ربنا اطمس علی اموالہم “ کے بارے میں پوچھا تو میں نے ان کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور آل فرعون کے مالوں کو برباد کردیا یہاں تک کہ وہ پتھر بن گئے پھر عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا تم یہیں ٹھہرو یہاں تک کہ میں تیرے پاس آجاوں۔ تو انہوں نے ایک تھیلہ منگوایا جو مہر لگا ہوا تھا اس کو کھولو اچانک اس میں چاندی کے ٹکڑے تھ گویا کہ وہ پتھر ہیں اور دنانیر اور دراہم اور اس جیسے دوسرے مال تھے جو سب کے سب پتھر (بن چکے تھے)
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اطمس علی اموالہم “ (ینعی ان کے بالوں کو) ہلاک کردے (آیت) ” واشدد علی قلوبہم “ یعنی ان کے دلوں کو سخت کردے گمراہی کے سبب (آیت) ” فلایومنوا “ یعنی وہ ایمان نہ لائیں اللہ کے ساتھ ان نشانیوں کے سبب جو وہ دیکھتے ہیں (آیت) ” حتی یروا العذاب الالیم “ (یہاں تک کہ وہ عذاب الیم کو دیکھ لیں)
4:۔ عبدالرزاق وابن منذر وابن ابی حاتم اور ابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ربنا اطمس علی اموالہم “ کے بارے میں فرمایا ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ ان کی کھیتیاں اور ان کے مال پتھر میں بدل گئے تھے۔
5:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ربنا اطمس علی اموالہم “ یعنی ان کے دنانیر ان کے دراہم ان کا تانبا ان کا لوہا نقش ونگار والے پتھر بن گئے (آیت) ” واشدد علی قلوبہم “ یعنی ان کو کفر کی حالت میں ہلاک کردے۔
6:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ربنا اطمس علی اموالہم “ کے بارے میں فرمایا کہ (ان کے مال) پتھر بن گئے۔
7:۔ ابوالشیخ (رح) نے قرظی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ربنا اطمس علی اموالہم “ کے بارے میں فرمایا یعنی ان کے لئے نشہ آور چیزوں کو بھی پتھر بنا دے۔
Ayah 10:891:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تحقیق تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی پھر فرمایا کہ ان کے رب نے انکی دعا قبول فرمائی اور وہ حائل ہوگیا فرعون اور (اس کے) ایمان کے درمیان۔
موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی دعا :
2:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب دعا فرماتے تھے تو ہارون (علیہ السلام) ان کی دعا پر آمین کہتے تھے اور ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ وہ آمین اللہ تعالیٰ کے ناموں سے ایک نام ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” قد اجیبت دعوتکما “
3:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قد اجیبت دعوتکما “ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا فرمائی اور ہارون (علیہ السلام) نے آمین فرمایا۔
4:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابو الشیخ رحمہم اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) دعا فرماتے تھے اور ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے تھے۔ اس وجہ سے فرمایا (آیت) ” قد اجیبت دعوتکما “
5:۔ سعید بن منصور (رح) نے محمد بن کعب القرظی (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ دعا فرماتے تھے اور ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے تھے اور دعا کرنے والا اور آمین کہنے والا دونوں (گویا دعا کرنے میں) شریک ہیں۔
6:۔ ابن جریر (رح) نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا فرمائی اور ہارون (علیہ السلام) نے آمین کہا۔
7:۔ ابن جریر (رح) نے ابن جریر نے ابو صالح وابو العالیہ والربیع سے اسی طرح روایت کیا کہ ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” قد اجیبت دعوتکما “ کہ یہ آمین (کہنا) بھی دعا بن گیا۔ اور اسے کہنے والا دعا میں شریک ہوگیا۔
8:۔ ابن منذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ لوگ گمان کرتے تھے کہ فرعون اس دعا کرنے کے بعد بھی چالیس سال تک ٹھہرا رہا (یعنی زندہ رہا)
9:۔ حکیم ترمذی (رح) نے ابن جریر نے ابن جریح سے اسی طرح روایت کیا کہ مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” قد اجیبت دعوتکما “ کے بارے میں فرمایا کہ چالیس سال کے بعد (دعا قبول ہوئی)
10:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) فاستقیما “ یعنی تم دونوں مرے حکم پر قائم رہو اور یہی استقامت ہے۔
Ayah 10:901:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کی کتاب میں العدوا العلو اور العتو (یہ تینوں حروف) ” تجر “ کے معنی میں ہیں یعنی جبر اور ظلم کرنا۔
Ayah 10:911:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں میں سے آخری دریا سے باہر نکلا اور فرعون کے ساتھیوں میں آخری دریا سے باہر نکلا اور فرعون کے ساتھیوں میں آخری آدمی بھی داخل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم فرمایا کہ ان پر مل جا فرعون نے ایک انگلی باہر نکالی (یہ کہتے ہوئے) کہ میں اس خدا پر ایمان لے آیا جس پر بنی اسرائیل ایمان لے آئے۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں جانتا تھا کہ رب تعالیٰ رحیم ہیں اور مجھے خوف ہوا کہ اسے رحمت آئے گی (اور اس کی مغفرت ہوجائے) تو میں نے اس کو اپنے پروں میں چھپالیا اور میں نے کہا (آیت) ” آلئن وقد عصیت قبل “ جب موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے ساتھی باہر نکلے تو شہروں میں پیچھے آنے والوں نے کہا فرعون کی قوم میں سے فرعون اور اس کے ساتھ غرق نہیں ہوئے لیکن وہ دریا کے جزیروں میں شکار کھیل رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم فرمایا کہ وہ فرعون کو ننگی حالت میں باہر پھینک دے۔ تو اس نے ننگی حالت میں اس کو باہر پھینک دیا جو گنجا چپٹی ناک والا اور چھوٹے قد کا تھا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فالیوم ننجیک ببدنک لتکون لمن خلفک ایۃ “ جنھوں نے یہ کہا تھا کہ فرعون غرق نہیں ہوا اور اس کی نجات عبرت کے لئے تھی نہ کی یہ نجات عافیت کے لئے تھی پھر دریا کی طرف حکم فرمایا جو کچھ تیرے اندر ہے اس کو باہر پھینک دے تو اس نے ان سب کو ساحل پر پھینک دیا حالانکہ دریا غرق ہونے والے کو باہر نہیں پھینکتا بلکہ وہ اسی کے اندر باقی رہتا ہے یہاں تک کہ اس کو مچھلی کھالیتی ہے۔ پس دریا کسی غرق ہونے والے کو قیامت کے دن تک قبول نہیں کرے گا۔
غرق ہوتے وقت فرعون کا ایمان لانا :
2:۔ احمد والترمذی اور آپ نے اس کو حسن کہا وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق فرمایا تو اس نے کہا (آیت) امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنوا اسراء یل “ مجھ سے جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا محمد ﷺ اگر آپ مجھے دیکھتے کہ میں دریا کے درمیان سے مٹی اٹھا رہا ہوں، اور میں اس کے منہ میں ٹھونس دیتا اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ اس کو رحمت نہ پالے اور اس کی مغفرت ہوجائے۔
3:۔ الطیالسی والترمذی اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن حبان ابوالشیخ والحاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا اگر آپ مجھے دیکھتے کہ میں دریا کے درمیان سے مٹی اٹھا رہا ہوں اور اس کو فرعون کے منہ میں ٹھونس دیتا۔ اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ اس کو رحمت پالے گی (اور اس کی مغفرت ہوجائے گی)
4:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا اگر آپ مجھے دیکھتے کہ میں دریا سے مٹی اٹھا رہا ہوں توس میں اسے اس کے منہ میں ٹھونس دیتا یہاں تک کہ وہ دعا کو جاری نہ رکھ سکے۔ جبکہ میں خوب جانتا ہوں اللہ کی رحمت کی زیادتی کو۔
5:۔ الطبرانی (رح) نے الاوسط میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا میرے نزدیک فرعون سے بڑھ کر زمین پر کوئی زیادہ بغض نہیں تھا۔ جب وہ ایمان لایا تو میں نے اس کے منہ میں سیاہ کیچڑکو بھرنا شروع کیا اور اسے ڈھانپنے لگا۔ ڈرتے ڈرتے اس بات سے کہ اس کو رحمت نہ پائے (اور اس کی مغفرت ہوجائے)
6:۔ ابن جریر والبیہقی رحمہما اللہ نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ سے جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا اے محمد ﷺ اگر آپ مجھے دیکھتے جب میں ایک ہاتھ مٹی سے چھپاتا رہا اور اس کے منہ میں کیچڑ ڈالتا رہا اس ڈر سے کہ اسے رحمت پالے گی اور اس کی مغفرت کردی جائے گی۔
7:۔ ابن مردویہ (رح) نے ان عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ مجھ سے جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا میرے رب کا غصہ کسی ایک پر ایسا نہیں ہوا جتنا فرعون پر ہوا جب اس نے کہا (آیت) ” ما علمت لکم میں الہ غیری “ (القصص آیت 38) اور کہا (آیت) ” فقال انا ربکم الاعلی (24) “ (النازعات آیت 24) جب وہ غر ق ہونے لگا تو اس نے مدد کے لئے پکارا تو میں نے اس کے منہ میں ڈالنا شروع کردیا۔ اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ اس کو رحمت نہ پالے۔
8:۔ ابو الشیخ (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ جس دن فرعون غرق ہوا تو جبرئیل (علیہ السلام) کی پگڑی سیاہ رنگ کی تھی۔
ابلیس سے نفرت :
9:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے جبرئیل (علیہ السلام) نے نہیں کہا میں نے اللہ کی مخلوق میں سے کسی چیز سے نفرت نہیں کی جتنی کے ابلیس سے مجھے اس دن نفرت ہوئی۔ جس دن اس کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور فرعون سے بڑھ کر کوئی زیادہ شدید نفرت میں نے کسی چیز سے نہیں کی۔ جب غرق ہونے کا دن تھا تو میں ڈرا کہ وہ اس اخلاص والے کلمہ کی بدولت بچ جائے گا۔ اور نجات پاجائے گا تو میں نے ایک مٹھی سیاہ کیچڑ میں سے بھری اور اس کے منہ میں ڈال دی اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اس پر مجھ سے بھی بڑھ کر غصہ والا پایا میکائیل (علیہ السلام) کو حکم فرمایا تو اس نے تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” آلئن وقد عصیت قبل وکنت من المفسدین (91) ۔
10:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف میکائل (علیہ السلام) کو بھیجا تاکہ اس کو عار دلائے تو انہوں نے کہا (آیت) ” آلئن وقد عصیت قبل “۔
11:۔ ابن منذر والطبرانی رحمہما اللہ نے الاوسط میں ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو خبر دی گئی کہ فرعون ٹوٹے ہوئے دانتوں والا تھا۔
Ayah 10:921:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فالیوم ننجیک ببدنک “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو نجات دی بنی اسرائیل کے لئے دریا سے تو انہوں نے اس کی طرف دیکھا اس کے غرق ہونے کے بعد۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن الانباری نے المصاحف میں وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالیوم ننجیک ببدنک “ کے بارے میں فرمایا یعنی آج ہم تیرے جسم کو بچالیں گے بعض بنی اسرائیل نے فرعون کی موت کا انکار کیا تھا۔ تو دریا نے (اللہ کے حکم) سے اس کو دریا کے ساحل پر ڈال دیا یہاں تک کہ بنی سرائیل نے اس کو دیکھا جو سرخ چھوٹے قد والا تھا گویا کہ وہ بیل تھا۔
3:۔ ابوالشیخ (رح) نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالیوم ننجیک ببدنک “ یعنی اس کے جسم کو دریا نے ساحل پر ڈال دیا۔
4:۔ ابن الانباری (رح) نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالیوم ننجیک ببدنک “ کہ تیری زرہ کے ساتھ آج ہم تجھ کو بچالیں گے اور اس کی زرہ موتیوں کی تھی اسے جنگوں پر پہنا کرتا تھا۔
5:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابو صخر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالیوم ننجیک ببدنک “ میں بدن سے مراد لوہے کی زرہ ہے۔
6:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابو جہیم موسیٰ بن سالم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فالیوم ننجیک ببدنک “ کے بارے میں کہ فرعون کی ایک چیز تھی وہ اس کو پہنتا تھا جس کو بدن کہا جاتا تھا اور جو چمکتی تھی۔
7:۔ ابن الانباری وابوالشیخ (رح) نے یونس بن حبیب نجوی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالیوم ننجیک ببدنک “ سے مراد ہے کہ ہم تجھ کو دیکھیں گے زمین کے بلند جگہ پر تاکہ وہ دیکھیں اور وہ پہچان لیں گے کہ ہو (فرعون) مرچکا ہے۔
8:۔ عبدالرزاق وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالیوم ننجیک ببدنک “ سے مراد ہے جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کیا، تو ایک جماعت نے لوگوں میں سے اس کو سچ نہیں مانا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو باہر نکال دیا، تاکہ وہ ان کے لئے نصیحت اور نشانی بن جائے۔
فرعون کا جسم نشان عبرت بن گیا :۔
9:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالیوم ننجیک ببدنک “ یعنی بنی اسرائیل کے لئے تو عبرت کی نشانی بن جائے۔
10:ـ۔ ابن الانباری (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” فالیوم ننجیک ببدنک “۔
11:۔ ابن الانباری (رح) نے محمد بن سمیقع الیانی اور یزید بربری رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ انہوں نے ان کو یوں پڑھا (آیت) ” فالیوم ننجیک ببدنک “ حاء بغیر نقطے والی۔
Ayah 10:931:۔ عبدالرزاق وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن عساکر رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد بوانا بنی اسراء یل مبوا صدق “ یعنی ان کو ہم نے شام اور بیت المقدس کی طرف ٹھکانہ دیا۔
2:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مبوا صدق “ سے مراد ہے صدق کی منزلیں اور وہ مصر اور شام ہیں۔
3:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما اختلفوا حتی جآء ھم العلم “ میں علم مراد ہے کتاب اللہ ہے جس کو اتارا گیا۔ اور اس کا وہ امر ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کا حکم فرمایا۔
Ayahs 10:94–95قرآن کریم کتاب برحق ہے
1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والضیاء نے المختارۃ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) فان کنت فی شک مما انزلنا الیک فسئل الذین یقرون الکتب من قبلک “ کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ کیا اور نہ آپ سے سوال کیا۔
2:۔ عبدالرزاق وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فان کنت فی شک مما انزلنا الیک فسئل الذین یقرون الکتب من قبلک “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ میں شک کرتا ہوں اور نہ میں سوال کرتا ہوں۔
3:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) فان کنت فی شک مما انزلنا الیک فسئل الذین یقرون الکتب من قبلک “ کے بارے میں فرمایا کہ الکتاب سے مراد تورات اور انجیل ہیں اور الذی سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جنہوں نے محمد ﷺ کو پایا اہل کتاب میں سے اور جو ایمان (بھی) لائے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان سے پوچھئے اگر آپ شک میں ہیں، اس بارے میں کیونکہ آپ کا ذکر لکھا ہوا ہے ان کے پاس۔
4:۔ ابو داود ابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے سماک حنفی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے عرض کیا کہ میں اپنے دل میں ایسی چیز پاتا ہوں جسے بیان کرنے کی میں طاقت نہیں رکھتا فرمایا شک ہے میں نے کہا ہاں ! فرمایا اسی میں کوئی بھی نہیں بچ سکتا یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا (آیت) فان کنت فی شک مما انزلنا الیک “ جب تو محسوس کرے اور اس میں سے کسی چیز کو پائے تو یوں کہ (آیت) ” ھوالاول والاخر والظاہر والباطن، وھو بکل شیء علیم (3) “ (الحدید)
5:۔ ابن الانباری نے المصاحف میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ پانچ حروف (یعنی پانچ آیتیں) قرآن میں ہیں (1) (آیت) ” ان کان مکرھم لتزول منہ الجبال (46) “ (ابراہیم آیت 46) اس کا معنی یہ ہے کہ ان کی تدبیر میں اتنی مضبوط تھیں کہ جس سے پہاڑ اکھڑ جائیں۔ (2) ” لواردنا ان نتخذ لھو الاتخذنہ من لدنا ان کنا فعلین (17) س “ (الانباء آیت 17) اس کا معنی ہے کہ ہم ایسا بےکار کام کرنے والے نہیں تھے (3) (آیت) ” قل ان کان للرحمن ولد “ (الزخرف آیت 81) اس کا معنی ہے کہ رحمن کے لئے کوئی اولاد نہیں ہے (4) (آیت) ” ولقد مکنہم فیما ان مکنکم فیہ “ (الاحقاف آیت 26) اس کا معنی ہے ان لوگوں کے بارے میں کہ جن کو ہم اس میں قدرت دی تھی (5) (آیت) فان کنت فی شک مما انزلنا الیک “ اس کا معنی ہے کہ آپ اس میں شک کرنے والے نہیں ہیں۔
6:۔ ابو الشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فسئل الذین یقرون الکتب من قبلک “ کے بارے میں فرمایا تیرا ان سے سوال میری کتاب میں تیرا غور وفکر کرنا ہے جیسے تیرا یہ کہنا کہ آل المہلب سے ان کے گھروں کے بارے میں سوال کر۔
Ayahs 10:96–971:۔ عبدالرزاق ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” ان الذین حقت علیہم کلمت ربک لایومنون (96) ولو جآ ءتہم کل ایۃ حتی یروا العذاب الالیم (97) سے مراد ہے کہ ان پر اللہ کا غصہ بہت ہوگیا بوجہ اس کے کہ انہوں نے نافرمانی کی۔
Ayahs 10:98–991:۔ عبدالرزاق، ابن جریر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ ابن مسعود ؓ کے حرف اس طرح ہیں (آیت) ” فلولا کانت قریۃ امنت “
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فلولا کانت قریۃ امنت “ کے بارے میں فرمایا کہ کوئی بستی نہیں تھی جو ایمان لاتی۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ہر (آیت) فلولا “ قرآن میں ” فھلا “ کے معنی میں ہے سوائے دو مقام کے (وہ فھلا کے معنی میں نہیں ہے) ایک سورة یونس میں ہے (آیت) ” فلولا کانت قریۃ امنت “ اور دوسرا (آیت) ” فلولا کانت قریۃ امنت “ (جو سورة ھود میں ہے)
4:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلولا کانت قریۃ امنت “ یعنی کوئی بستی ایسی نہ ہو جو ایمان لاتی۔
یونس (علیہ السلام) کی قوم کی توبہ :
5:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلولا کانت قریۃ امنت “ کے بارے میں فرمایا کہ یونس کی قوم سے پہلے امتوں میں نہیں ہوا کسی بستی والوں نے کفر کیا پھر اس وقت ایمان لائے جب عذاب دیکھ لیا سوائے یونس (علیہ السلام) کی قوم کے ان کے ایمان نے ان کو نفع دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے بھی یونس (علیہ السلام) کی قوم کو مستثنی قرار دیا۔ اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یونس (علیہ السلام) کی قوم نینوی میں موصل کی زمین میں جب ان کے نبی گم ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں توبہ کو ڈال دیا انہوں نے ٹاٹ پہنچے اور جانوروں کو بھی باہر نکالا اور ہر جانور کو اس کی اولاد سے الگ کردیا اور اللہ کی طرف چلائے چالیس دن تک جب اللہ تعالیٰ نے ان کی دلوں کی سچائی کو اور توبہ اور ندامت کو پہنچانا اپنے کئے ہوئے گناہوں پر تو ان سے عذاب کو ہٹا دیا بعد اس کے کہ ان پر آچکا تھا انکے اور عذاب کے درمیان صرف ایک میل کا فاصلہ تھا۔
6:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فلولا کانت قریۃ امنت “ کے بارے میں فرمایا کہ کوئی بستی ایسی نہ تھی جو ایمان لاتی اور ایمان ان کو نفع دیتا جب ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوچکا مگر یونس (علیہ السلام) کی بستی کو (ایمان نے نفع دیا عذاب آنے کے بعد بھی)
7:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” الا قوم یونس، لما امنوا “ کے بارے میں فرمایا کہ جب انہوں نے دعا کی۔
8:۔ ابن ابی حاتم واللالکائی (رح) نے السنۃ میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ڈرنا تقدیر کو رد نہیں کرتا مگر دعا تقدیر کو رد کردیتی ہے اور یہ اللہ کی کتاب میں ہے۔ (آیت) ” الا قوم یونس، لما امنواکشفنا عنہم عذاب الخزی “۔
9:۔ ابن منذر وابوالشخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ دعا قضی کو البتہ رد کردیتی ہے تحقیق آسمان سے یہ نازل ہوا اگر تم چاہوتو پڑھ لو (آیت) ” الا قوم یونس، لما امنواکشفنا عنہم “ انہوں نے دعا کی تو ان سے عذاب ہٹا دیا گیا۔
انبیاء عذاب آنے کے وقت سے پہلے نکل جاتے ہیں :
10:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دعوت دی جب انہوں نے ماننے سے انکار کردیا تو آپ نے ان سے عذاب کا وعدہ کیا اور فرمایا کہ وہ تمہارے پاس (فلاں) دن اس طرح اور اس طرح آجائے گا پھر خود ان سے چلے گئے اور انبیاء (علیہم السلام) جب اپنی قوم کو عذاب کا وعدہ دیتے ہیں تو خود وہاں سے نکل جاتے ہیں جب ان کو عذاب نے ڈھانپ لیا تو سب لوگ باہر نکل آئے اور انہوں نے عورتوں اور ان کی اولاد کو آپس میں جدا کردیا اور بکریوں اور اس کی اولاد کو بھی جدا کردیا۔ اور وہ اس حال میں باہر نکلے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انتہائی عاجزی کرتے ہوئے نکلے (یعنی اللہ کی طرف آہ وزاری کررہے تھے) اللہ تعالیٰ ان سے سچائی کو جان لیا انکی توبہ قبول فرمائی اور ان سے عذاب کو ہٹا دیا یونس (علیہ السلام) راستہ میں بیٹھ گئے اور خبر پوچھتے رہے ایک آدمی گزرے اور انہوں نے پوچھا یونس (علیہ السلام) کی قوم کے ساتھ کیا ہوا ؟ اس نے بیان کیا کہ انہوں نے (توبہ استغفار کیا) یونس (علیہ السلام) نے کہا کہ میں قوم کی طرف نہیں لوٹوں گا حالانکہ میں نے ان کو جھوٹا قرار دیا ہے اور آپ غصہ ہو کر چل دیئے۔
11:۔ احمد (رح) نے الزہد میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عذاب یونس کی قوم پر اتر آیا تھا۔ یہاں تک کہ انکے اور اس کے درمیان درثلث میل کے بقدر فاصلہ رہ گیا تھا۔ جب انہوں نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا۔
12:۔ احمد نے الزہد میں وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ یونس (علیہ السلام) کی قوم کو عذاب نے ڈھانک لیا تھا۔ جیسے قبر کو اس وقت کپڑے کے ساتھ ڈھانپا جاتا ہے جب اس میں صاحب قبر کو داخل کیا جاتا ہے اور آسمان خون برسانے لگا۔
13:۔ عبدالرزاق واحمد نے الزہد میں وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا قوم یونس، لما امنوا “ سے مراد ہے کہ ہم کو یہ پہنچی ہے کہ وہ باہر نکلے اور ایک ٹیلہ پر اترے اور انہوں نے ہر جانور کو اس کی اولاد سے الگ کردیا اور اللہ تعالیٰ سے چالیس راتیں دعائیں کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ کو قبول فرمالیا۔
14:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ یونس (علیہ السلام) کی توبہ عاشوراء کے دن قبول کی گئی۔
15:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ یونس (علیہ السلام) کو ایک بستی کی طرف بھیجا گیا جس کو نینوی کہا جاتا ہے کہ وہ دجلہ کے کنارے پر تھی۔
16:۔ احمد (رح) نے الزہد میں وابن جری وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابو انجلر (رح) سے روایت کیا کہ جب قوم پر عذاب چھا گیا تو یہ لوگ اپنے بقیہ علماء میں ایک شخص کے پاس گئے اور اس سے کہا تیری کیا رائے ہے ؟ اس نے کہا ” یاحی حین حی ربانی محی الموت ویاحی لا الہ الا انت “ تو انہوں نے کہا ( اس دعا کے پڑھنے سے) ان سے عذاب ہٹ گیا۔
17:۔ ابن النجار (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تقدیر سے ڈرنا نجات نہیں اور دعا بلاء کو دفع کردیتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا (آیت) ” الا قوم یونس، لما امنوالما کشفنا عنہم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا ومتعنہم الی حین (98) “
18:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم پر بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ صبح کے وقت ان پر عذاب نازل ہوگا۔ لوگوں نے کہا یونس (علیہ السلام) نے جھوٹ بولا اور ہم کو صبح کے وقت عذاب آجائیگا پس آؤ تاکہ ہم پڑوس کے بچوں کو نکالیں، ہم ان کو اپنے بچوں کے ساتھ رکھیں گے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے اور عورتوں کو بھی اپنے بچوں کے ساتھ نکالا اور اونٹوں کو ان کے بچوں کے ساتھ نکالا اور گایوں کو بھی اپنے بچھڑوں کے ساتھ نکالا اور بکریوں کو ان کے بچوں کے ساتھ نکالا اور ان کو آگے کردیا اور عذاب آگیا جب انہوں نے اس کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ کی پناہ لی اور دعا کی عورتیں اور بچے رونے لگے اونٹ اور اس کے بچے بلبلانے لگے اور گائیں اپنے بچوں کے ساتھ آواز کرنے لگیں اور بکریاں اور ان کے بچے ممیانے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور اس سے عذاب کو پھیر دیا اور دور دراز پہاڑوں کی جانب اس کو قیامت تک عذاب ہوتا رہے گا۔