10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 10:26

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جن لوگوں نے اچھائی کے کام ان کے لئے خوبی ہے اور اس سے زائد بھی ہے اور ان کے چہروں پر نہ کدورت چھائے گی اور نہ ذلت یہ لوگ جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

اہل جنت کو اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا : 1:۔ الطیالسی واحمد ومسلم والترمذی وابن ماجہ وابن خزیمہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والدارقطنی نے وابن مردویہ والبیہقی نے السماء والصفات میں صہیب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت) ” للذین احسنوا الحسنی و زیادہ “ تلاوت فرمائی اور فرمایا جب جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوجائیں گے اور ایک آواز دینے والا آواز دے گا اے جنت والو ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہارے لئے ایک وعدہ ہے کہ وہ ارادہ فرماتے ہیں کہ اس وعدہ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے جنت والے عرض کریں گے وہ کیا ہے ؟ کیا آپ نے ہمارے نیک اعمال کے وزنوں کو بھاری نہیں کردیا ہمارے چہروں کو روشن نہیں کردیا ہم کو جنت میں داخل نہیں فرمادیا۔ اور ہم کو آگ سے دور نہیں ہٹادیا پھر ان کے لئے پردے کو ہٹا دیا جائے گا اور وہ لوگ اللہ کی طرف دیکھیں گے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے ان کو کوئی چیز عطا نہیں فرمائی جو ان کے نزدیک اس کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو اور نہ ہی کوئی شے جو اس سے بڑھ کر ان کی آنکھوں کے لئے باعث ٹھنڈک ہو۔ 2:۔ الدارقطنی وابن مردویہ رحمہما اللہ نے صہیب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (آیت) ” وزیادۃ ‘ سے مراد ہے اللہ کی ذات کی طرف دیکھنا۔ 3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والدارقطنی نے الرویۃ میں وابن مردویہ (رح) نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک آواز لگانے والے کو بھیجیں گے (وہ آواز دے گا) اے جنت والو ! اور اس کی یہ آواز اتنی بلند ہوگی کہ جس کو ان کے اگلے اور پچھلے سب لوگ سنیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے الحسنی اور زیادہ کا وعدہ کیا ہے پس الحسنی تو جنت ہے اور زیادہ رحمن کے چہرہ کی طرف دیکھنا ہے۔ 4:۔ ابن جریر وابن مردویہ واللالکائی نے السنۃ میں بیہقی نے کتاب الرویہ میں کعب بن عجرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” للذین احسنوا الحسنی و زیادہ “ کے بارے میں فرمایا کہ الزیادۃ سے مراد ہے رحمن کے چہرہ کی طرف دیکھنا۔ 5:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والدارقطنی وابن مردویہ والالکائی والبیہقی نے کتاب الرویۃ میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ( آیت) ” للذین احسنوا الحسنی و زیادہ “ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا ( آیت) ” احسنوا الحسنی “ سے مراد اہل توحید ہیں اور ” الحسنی “ سے مراد جنت ہے اور اللہ تعالیٰ کے چہرہ کی طرف دیکھنا یہ زیادہ ہے۔ 6:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ( آیت) ” للذین احسنوا الحسنی و زیادہ “ کے بارے میں فرمایا جنہوں نے نیک عمل کئے اور لا الہ الا اللہ کی گواہی دی اور الحسنی سے مراد جنت ہے اور زیادۃ سے مراد اللہ تعالیٰ کا دیدار ہے۔ ٔ7:۔ ابو الشیخ وابن منذر نے الزد علی الجہینہ میں والدارقطنی نے الرویہ میں وابن مردویہ اللالکائی والخطیب وابن النجار (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے اس ( آیت) ” للذین احسنوا الحسنی و زیادہ “ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا جن لوگوں نے دنیا میں نیک عمل کئے ان کے لئے نیک جزاء ہے اور وہ جنت ہے اور اللہ کریم کے چہرہ کی طرف دیکھنا اس سے بھی زہادہ ہے۔ 8:۔ ابن مردویہ نے ایک اور سند میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ( آیت) ” للذین احسنوا الحسنی و زیادہ “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے بغیر کیفیت کے بغیر حددود کے اور بغیر معلوم صفت کے (یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی تمام حدود وقیود سے مبرا ہے) 9:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے سیف البحر پر اونچی آواز سے تکبیرکہی کہ جس میں ریاکاری اور شہرت نہیں تھی تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے بڑی رضا مندی لکھ دیتے ہیں اور جس کے لئے اس کی بڑی رضامندی لکھ دی جائے تو اسے اور محمد ﷺ اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے گھر میں جمع فرمائے گا وہ جنت عدن میں اپنے رب کی طرف دیکھیں گے جیسے دنیا والے سورج اور چاند کو بغیر بادل والے (یعنی صاف) دن میں دیکھتے ہیں۔ اسی کو فرمایا ( آیت) ” للذین احسنوا الحسنی و زیادہ “ حسنی سے مراد لا الہ الا اللہ اور زیادہ سے مراد ہے جنت اور رب کریم کا دیدار ہے۔ 10:ـ۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن خزیمہ وابن منذر وابو الشیخ والدارقطنی وابن مندہ نے الردلی الجہینیہ میں وابن مردویہ واللالکائی والآمری والبیہقی دونوں نے کتاب الرویۃ میں ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ( آیت) ” للذین احسنوا الحسنی و زیادہ “ کے بارے میں فرمایا کہ الحسنی سے مراد جنت اور زیادہ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا چہرہ دیکھنا۔ 11:۔ ابن مردویہ نے حارث کے راستے سے علی ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ( آیت) ” للذین احسنوا الحسنی و زیادہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے جنت اور زیادہ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھنا۔ 12:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والدارقطنی واللکائی والآخری والبیہقی نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا (آیت) ” وزیادۃ “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کے چہرہ کی طرف دیکھنا۔ 13:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والدارقطنی واللالکائی والبیہقی نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ الحسنی سے مراد ہے جنت اور الزیادۃ سے مراد ہے اپنے رب کے چہرہ کی طرف دیکھنا۔ 14:۔ ابن مردویہ والبیہقی نے الاسماء والصفات میں عکرمہ (رح) کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ( آیت) ” للذین احسنوا الحسنی و زیادہ “ کے بارے میں فرمایا ” احسنوا “ سے مراد لا الہ الا اللہ کا کہنا اور الحسنی “ سے مراد ہے جنت اور ” زیادۃ “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کریم کی طرف دیکھنا۔ 15:۔ ابن جریر ابن منذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے علی کے راستے سے ابن عباس سے روایت کیا کہ ( آیت) ” للذین احسنوا “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو لا الہ الا اللہ کی گواہی دیں اور ” الحسنی “ سے مراد ہے جنت۔ 16:۔ ابن ابی حاتم واللالکائی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ الحسنی سے مراد ہے جنت اور الزیادۃ سے مراد ہے اللہ کی ذات کی طرف دیکھنا اور القمر سے مراد ہے سیاہی۔ 17:۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والبیہقی نے الرویۃ میں حکیم بن تمینیہ کے راستے سے علی ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ ” وزیادۃ “ سے مراد ہے کمرہ جو ایک موتی سے (بنا ہوا) ہوگا۔ اس کے چاردروازے ہوں گے اس کا کمرہ اور اس کے دروازے ایک ہی موتی سے ہوں گے۔ 18:۔ ابوالشیخ (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ( آیت) ” للذین احسنوا “ سے مراد ہے کہ ان لا الہ الا اللہ کی گواہی دی اور ” الحسنی “ سے مراد ہے جنت اور زیادۃ سے مراد ہے اللہ کے چہرہ کی طرف دیکھنا۔ 19:۔ ابوالشیخ والدارقطنی رحمہما اللہ نے عبدالرحمن بن ابی لیلی ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ( آیت) ” للذین احسنوا الحسنی و زیادہ “ کے بارے میں فرمایا جب جنت والے جنت میں داخل ہوں گے تو اس میں سے ان کو (ہر وہ چیز) دی جائے گی جس کو وہ چاہیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تمہارے حق میں ایک چیز ابھی تک باقی ہے جو تم کو نہیں دی گئی پھر اللہ تعالیٰ ان کے لئے تجلی فرمائیں گے (یعنی اللہ پاک اپنی زیارت کرائیں گے) تو اس نعمت عظمی کے مقابلہ میں وہ سب نعمتیں جو ان کو عطا کی گئیں وہ حقیر اور صغیر ہوجائیں گے پر ( یہ آیت) ” للذین احسنوا الحسنی “ تلاوت فرمائی اور فرمایا اس سے مراد ہے جنت اور ” وزیادۃ “ سے مراد ہے ان کا دیکھنا اپنے رب عزوجل کی طرف۔ 20:۔ ابن جریر والدارقطنی (رح) نے عامر بن سعد بجلی (رح) سے روایت کیا کہ ( یہ آیت) ” للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ “ میں زیادہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف دیکھنا۔ 21:۔ دارقطنی (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ( یہ آیت) ” للذین احسنوا الحسنی “ سے مراد ہے جنت اور زیادۃ سے مراد ہے رب عزوجل کی ذات کی طرف دیکھنا۔ 22:۔ دارقطنی (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ” زیادۃ “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف دیکھنا۔ 23:۔ ابن جریر والدارقطنی (رح) نے عبدالرحمن بن سابط (رح) سے روایت کیا کہ ” وزیادۃ “ سے مراد اللہ عزوجل کی ذات کی طرف دیکھنا۔ 24:۔ ابن جریر والدارقطنی (رح) نے ابو اسحاق سبیعی (رح) سے روایت کیا کہ ( یہ آیت) ” للذین احسنوا الحسنی “ سے مراد ہے جنت اور ” وزیادۃ “ سے مراد ہے رحمن عزوجل کی ذات کی طرف دیکھنا۔ 25:۔ ابن جریر والدار قطنی (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ اللہ تعالیٰ نے الحسنی کا وعدہ فرمایا اور وہ جنت ہے۔ اور ” وزیادۃ “ سے مراد ہے رحمن کا چہرہ کی طرف دیکھنا (فرمایا) اللہ تعالیٰ ان کے لئے تجلی فرمائیں گے یہاں تک کہ وہ لوگ ان کی طرف دیکھیں گے۔ زیادہ میں مراد ثواب میں اضافہ : 26:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ( یہ آیت) ” للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس قول ( یہ آیت) ” للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ “ کی طرح ہے فرماتے ہیں کہ (اللہ تعالیٰ ) ان کو ان کے عمل کے بدلہ میں ان کو بدلہ دیں گے اور اپنے فضل سے ان کو زیادہ عطا فرمائیں گے اور فرمایا (آیت) ” من جآء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا “ (جو کوئی ایک نیکی لائے گا تو اس کے لئے اس کی مانند ہوں گی) 27:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن جریر وابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہنے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ( یہ آیت) ” للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ “ (کہ ان کے لئے جنہوں نے نیک عمل کئے ان کی جزا بھی ان کی مثل ہوں گے پھر فرمایا ” وزیادۃ “ سے مراد مغفرت اور رضا مندی ہے۔ 28:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے علقمہ بن قیس (رح) سے روایت کیا ” وزیادۃ “ سے مراد ہے دس گناہ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” من جآء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا “ (جو کوئی ایک نیکی لائے گا تو اس کے لئے اس دس گنا اجر ہوگا۔ 29:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ ” وزیادۃ “ سے مراد ہے کہ ایک نیکی اس کے دس گناہ کے برابر سے لے کر سات سو گنا تک۔ 30ـ:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن زیاد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس بارے میں فرمایا کہ ” وزیادۃ “ سے مراد ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں عطا فرمایا تھا تو قیامت کے دن ان کا حساب نہیں لیا جائے گا۔ 31:۔ سعید بن منصور وابن منذر والبیہقی رحمہم اللہ نے الرویۃ میں سفیان (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے قرآن مجید کی تفسیر میں کوئی اختلاف نہیں۔ وہ ایک جامع کلام ہے اس سے یہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے اور وہ بھی۔ 32:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا (آیت) ” ولا یرھق وجوھہم یعنی ان کے چہروں کو نہیں ڈھانکے گی قتر یعنی چہروں کی سیاہی۔ 33:۔ ابوالشیخ (رح) نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ القتر سے مراد ہے چہرہ کی سیاہی۔ 34:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا یرھق وجوھہم قتر “ سے مراد ہے رسوائی (یعنی ان کے چہروں پر رسوائی چھائی ہوگی۔ 35:۔ ابوالشیخ ابن مردویہ رحمہما اللہ نے صہیب ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا یرھق وجوھہم قترولا ذلۃ “ سے مراد ہے کہ اللہ عزوجل کی طرف انکے دیکھنے کے بعد (ان کے چہروں پر ذلت نہ ہوگی) 36:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر ابن ابی حاتم وابوالشیخ والدارقطنی رحمہم اللہ نے عبدالرحمن بن ابی لیلہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا یرھق وجوھہم قتر ولا ذلۃ “ یعنی ان کے اپنے رب کی طرف دیکھنے کے بعد (ان کا چہروں پر نہ غبار اور نہ ذلت کا اثر ہوگا)
Ayah 10:27

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے برے کام کئے انکی برائی کی سزا برائی کے برابر ملے گی اور ان پر ذلت چھا جائے گی، انہیں اللہ سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا گویا کہ ان کے چہرے اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ڈھانک دیئے گئے ہیں یہ دوزخ والے ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے

برے لوگوں کا برا انجام : 1:۔ ابوالشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والذین کسبوا السیات “ یعنی جن لوگوں نے بڑے گناہ کئے (اور) (آیت) ” جزآء سیئۃ بمثلھا “ یعنی اس برائی کی سزا آگ ہے (آیت ) ” وترھقہم ذلۃ “ یعنی ذلت (ان کو چھاجائے گی) (آیت) ” کانما اغشیت وجوھہم قطعا من الیل مظلما “ میں قطع سے مراد ہے۔ سیاہی اس کو سورة بقرہ کی اس آیت نے منسوخ کردیا یعنی (آیت ) ” بلی من کسب سیئۃ “ (البقرہ آیت 87) 2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وترھقہم ذلۃ “ یعنی ان کو ذلت اور سخت ڈھانک لے گی۔ 3:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابو الشیخ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مالہم من اللہ من عاصم “ یعنی ان کے لئے اللہ تعالیٰ کا عذاب کو روکنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ 4:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مالہم من اللہ من عاصم “ من عاصم سے مراد یہ مددگار۔
Ayahs 10:28–32

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

یہ لوگ دوزخ والے ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر ہم ان لوگوں سے کہیں گے جنہوں نے شرک کیا کہ تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو، پھر ہم ان کے آپس میں جدائی کردیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

سو اللہ ہمارے تمہارے درمیان گواہ کافی ہے بیشک بات یہ ہے کہ ہم تمہاری عبادت سے غافل تھے

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

اس موقعہ پر ہر شخص اپنے ان کاموں کا جانچ لے گا جو اس نے پہلے کئے تھے، اور وہ اپنے مالک حقیقی کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے اور جو کچھ جھوٹ تراش رکھا تھا وہ سب غائب ہوجائے گا

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے وہ کون ہے جو تمہیں آسمان سے اور زمین سے رزق دیتا ہے۔ یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں کا مالک ہے اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور وہ کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر فرماتا ہے، سو وہ ضرور یوں کہیں گے کہ اللہ ہی تو ہے آپ فرما دیجئے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے ہو

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

سو وہ اللہ تمہارا حقیقی رب ہے، سو پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے ؟ پھر کہاں پھرے جارہے ہو۔

معبودان باطلہ کی بیزاری : 1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویوم نحشرھم “ میں ” الحشر “ سے مراد ہے موت۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فزیلنا بینہم “ یعنی ہم نے ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قیامت کے دن لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ جس میں نرمی ہوگی۔ مشرک لوگ توحید والوں کے سامنے یہ اظہار کریں گے کہ ان کی مغفرت کردی جائے گی تو وہ کہیں گے (آیت) ” واللہ ربنا ما کنا مشرکین (22) “ (الانعام آیت 22) اللہ تعالیٰ فرمائیں گے (آیت) ” انظر کیف کذبوا علی انفسہم وضل عنہم ما کانوا یفترون (24) (الانعام آیت 24) پھر اس کے بعد ایک ایسا وقت آئے گا کہ اس میں سختی ہوگی ان کے لئے (جھوٹے) معبود کھڑے کئے جائیں گے جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے تو وہ کہیں گے یہ وہ ہیں جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے وہ کہیں گے ہاں یہی وہ ہیں جن کی ہم عبادت کیا کرتے تھے تو ان کے چھوٹے معبود کہیں گے اللہ کی قسم نہ ہم سنتے تھے نہ ہم دیکھتے تھے اور نہ ہم عقل رکھتے تھے اور نہ ہم جانتے تھے کہ تم ہماری عبادت کررہے ہو وہ کہیں گے ہاں تو وہ جواب میں کہیں گے اللہ کی قسم خاص کر تمہاری ہی عبادت کرتے ہیں تو ان کے لئے یہ معبود ان سے کہیں گے (آیت) ” فکفی باللہ شھیدا بیننا وبینکم ان کنا عن عبادتکم لغفلین (29) “۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ان کے لئے ان کے باطل معبودوں کی تمثیل بنائی جائے گی جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے تو یہ لوگ ان کے پیچھے جائیں گے یہاں تک کہ ان کو دوزخ میں داخل کریں گے پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” ھنالک تبلوا کل نفس ما اسلفت “ 5:۔ ابن منذر (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” ھنالک تبلوا “ تاء کے ساتھ اس سے مراد ہے وہاں ہر شخص اتباع کرے گا اس عمل کی جو اس نے آگے بھیجا تھا۔ 6:۔ ابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھنالک تبلوا “ کہا گیا کہ تتلو کا معنی ہے اتباع کرنا اور پیچھے پیچھے چلنا ہے۔ 7:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھنالک تبلوا “ یعنی وہاں ان کا امتحان لیاجائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر معبود عاجز ہے : 8:۔ حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھنالک تبلوا کل نفس ما اسلفت “ یعنی جو اس نے عمل کیا۔ 9:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھنالک تبلوا “ یعنی بتوں میں سے جن کو پکارا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کے ساتھ (وہ ان سے گم ہوجائے گا) 10:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وردوا الی اللہ مولھم الحق “ اس کو اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” بان اللہ مولی الذین امنوا وان الکفرین لا مولی لہم (11) “ نے منسوخ کردیا۔ 11:۔ ابن ابی حاتم (رح) حرملہ بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ میں نے مالک بن انس ؓ سے کہا آپ اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہیں جس کا امر یقین ہو فرمایا وہ حق نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فما ذا بعد الحق الا الضلل “ 12:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے اشعب (رح) سے روایت کیا کہ امام مالک (رح) سے شطرنج اور زمرد کے ساتھ کھیلنے والے کی شہادت کے بارے میں پوچھا گیا فرمایا جو ہمیشہ ان کھیلوں میں لگا رہتا ہو تو میں ان کی شہادت کو اچھا اور مفید خیال نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” فما ذا بعد الحق الا الضلل “
Ayah 10:33

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اسی طرح آپ کے رب کی یہ بات نافرمانوں کے بارے میں ثابت ہوچکی ہے کہ یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے

1:۔ ابن ابی حاتم ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کذلک حقت کلمت ربک “ سے مراد ہے کہ آپ کے رب کی بات سبقت لے گئی۔ 2:۔ ابوالشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ” حقت “ کا معنی ہے ” صدقت “ یعنی آپ کے رب کی بات سچی ہے۔
Ayahs 10:34–40

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو مخلوق کو پیدا فرمائے پھر اسے زندہ کرے ـ؟ آپ فرما دیجئے کہ اللہ مخلوق کو ابتداء پیدا فرماتا ہے پھر اس کو دوبارہ پیدا فرمائے گا۔ سو تم کہاں پھرے جارہے ہو ؟

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ تمہارے شرکاء میں کوئی ایسا ہے کہ امر حق کا راستہ بتلاتا ہو آپ فرما دیجئے کہ اللہ ہی امر حق کا راستہ بتلاتا ہے سو جو حق کی راہ بتاتا ہو وہ زیادہ اتباع کے لائق ہے یا وہ شخص جو ہدایت نہیں پاتا مگر جبکہ اسے راہ بتائی جائے، سو تمہیں کیا ہوا تم کیسی تجویزیں کرتے ہو

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور ان میں سے اکثر لوگ صرف اٹکل کے پیچھے چلتے ہیں، بلاشبہ اٹکل حق کے بارے میں ذرا بھی مفید نہیں ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کاموں کو جاننے والا ہے جن کاموں کو وہ کرتے ہیں۔

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے جو افتراء کیا گیا ہو اللہ کی طرف سے نہ ہو، بلکہ وہ ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے ہیں، اور احکام ضروریہ کی تفصیل بیان کرنے والا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا وہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس کو آپ نے اپنے پاس سے بنا لیا۔ آپ فرما دیجئے کہ تم اس جیسی سورت لے آؤ اور اللہ کے علاوہ جن لوگوں کو بلا سکتے ہو انہیں بلا لو اگر تم سچے ہو

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

بلکہ بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے اسے جھٹلایا جسے اپنے احاطہ علمی میں نہیں لائے اور ابھی اس کا نتیجہ ان کے سامنے نہیں آیا، ایسے ہی جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے سو دیکھ لیجئے ظالموں کا کیسا انجام ہوا

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو اس پر ایمان لائیں گے اور بعض وہ ہیں جو اس پر ایمان نہیں لائیں گے، اور آپ کا رب فساد کرنے والوں کو خوب جانتا ہے

1:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” امن لا یھدی الا ان یھدی “ (یا وہ خود ہی راہ نہ پائے مگر یہ اس کی رہنمائی کی جائے) سے مراد بت ہیں اللہ تعالیٰ ان کی اور ان کے سوا جس کو چاہے رہنمائی فرمائے۔
Ayahs 10:41–43

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ فرمادیجئے کہ میرے لئے میرا عمل ہے اور تمہارے لئے تمہارا عمل ہے تم اس سے بری ہو جو میں کام کرتا ہوں

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور جن کاموں کو تم کرتے ہو میں ان سے بری ہوں۔ اور ان میں بعض وہ ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں کیا آپ بہروں کو سنا دیں گے اگرچہ وہ سمجھ بھی نہ رکھتے ہوں

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو آپ کی طرف دیکھتے ہیں، کیا آپ اندھوں کو راہ بتادیں گے اگرچہ وہ دیکھتے بھی نہ ہوں

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کذبوک فقل لی عملی “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا حکم فرمایا پھر اس کو منسوخ کردیا اور ان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم فرمایا۔
Ayah 10:44

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ لوگوں پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں

1:۔ ابو الشیخ (رح) نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ان اللہ لا یظم الناس شیئا ولکن الناس انفسہم یظلمون (44) “ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے میرے بندے میں نے اپنی ذات پر ظلم کو حرام کردیا ہے اور میں نے اس کو تمہارے درمیان بھی حرام کردیا ہے پس تم آپس میں (ایک دوسرے پر) ظلم نہ کرو۔
Ayah 10:45

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور جس دن اللہ انہیں جمع فرمائے گا گویا کہ وہ دن کے حصہ میں سے صرف ایک گھڑی ٹھہرے ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے، بیشک وہ لوگ خسارے میں پڑگئے جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا اور وہ ہدایت پانے والے نہ تھے

عالم آخرت میں ایک دوسرے کو پہنچانیں گے۔ 1:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ اس قول (آیت) ” یتعارفون بینہم “۔ کے بارے میں فرمایا کہ آدمی اپنے ساتھی کو پہچان لے گا اپنے پہلو میں لیکن وہ طاقت نہیں رکھے گا اس سے بات کرنے کی۔
Ayahs 10:46–56

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اور اگر ہم اس میں سے کچھ حصہ آپ کو دکھادیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں یا ہم آپ کو وفات دے دیں تو ہماری طرف ان سب کو لوٹنا ہے پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو کام وہ لوگ کرتے ہیں

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر امت کے لئے ایک رسول ہے سو جب ان کے پاس ان کا رسول آجاتا ہے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ میں اپنی جان کے لئے کسی بھی ضرر یا نفع کا مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے۔ ہر امت کے لئے ایک وقت مقرر ہے جب ان کا وقت مقرر آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ تم بتاؤ اگر اللہ کا عذاب رات کے وقت آجائے تو یا دن کے وقت آجائے تو اس میں وہ کون سی چیز ہے جس کی مجرمین جلدی مچا رہے ہیں

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا پھر جب وہ واقع ہو ہی جائے تو اس پر ایمان لاوگے۔ اب ایمان لاتے ہو حالانکہ تم اس کے جلدی آنے کا تقاضا کرتے تھے

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

اور وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کیا یہ حق ہے ؟ آپ فرما دیجئے ہاں میرے رب کی قسم بلاشبہ وہ حق ہے اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور وہ آپ سے دریافت کرے ہیں کیا یہ حق ہے ؟ آپ فرما دیجئے ہاں میرے رب کی قسم بلاشبہ وہ حق ہے اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

ہر وہ شخص جس نے ظلم کیا اگر اس کے لئے وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے تو وہ اپنی جان کو عذاب سے چھڑانے کے لئے اس سب کو خرچ کرڈالے گا۔ اور جب وہ عذاب دیکھیں گے تو پشیمانی کو پوشیدہ رکھیں گے اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

خبردار بیشک اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے خبردار بلاشبہ اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی زندہ فرماتا ہے وہی موت دیتا ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واما نرینک بعض الذی نعدہم “ سے مراد ہے اگر ہم دکھادیں آپ کی زندگی میں برے عذاب کو ” اونتوفینک “ یعنی باہم آپکو موت دیدی اس عذاب سے پہلے۔ (آیت) ” فالینا مرجعہم “ ہمارے پہچان لو ٹنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولکل امۃ رسول، فاذا جآء رسولہم “ کے بارے میں میں فرمایا یعنی قیامت کے دن (ان کو ہماری طرف ہی لوٹنا ہے) ۔
Ayah 10:57

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

اے لوگو تمہارے پاس رب کی طرف سے نصیحت آگئی ہے اور ایسی چیز آئی ہے جس میں سینوں کے لئے شفا ہے اور ہدایت ہے اور رحمت ہے مومنین کے لئے

1:۔ الطبرانی وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابو الاحواص (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی عبد اللہ بن مسعود کے پاس آیا اور کہا کہ میرے بھائی کو پیٹ میں درد کی شکایت ہے اور اس کے لئے شراب کو تجویز کیا گیا ہے ابن مسعود نے کہا سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ نے ناپاک چیز میں شفا نہیں بنائی بلاشبہ شفا دو چیزوں میں ہے قرآن مجید اور شہدان دونوں میں شفا ہے ان بیماریوں کے لئے جو سینوں میں ہیں اور یہ دونوں لوگوں کے لئے شفا کا باعث ہیں۔ 2:۔ ابو الشیخ (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن کو شفا بتایا ان بیماریوں کے لئے جو سینوں میں ہیں اور تمہارے امراض کے لئے اس کو شفا نہیں بنایا۔ 3:۔ ابن منذر وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا میں اپنے سینے میں درد محسوس کرتا ہوں آپ نے فرمایا قرآن کو پڑھ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (یہ) شفا ہے ان بیماریوں کے لئے جو سینوں میں ہیں۔ قرآن کی تلاوت میں شفاء ہے : 4:۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں واثلہ بن اسقع ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کو اپنے حلق میں درد کی شکایت کی آپ نے فرمایا قرآن کی قرأت کو لازم پکڑ۔ 5:۔ بیہقی (رح) نے طلحہ بن معرف (رح) سے روایت کیا کہ یہ بات کہی جاتی تھی کہ جب مریض کے پاس قرآن پڑھا جائے تو وہ اپنے لئے راحت پاتا ہے ( یعنی اس کی بیماری ہلکی ہوجاتی ہے) تو میں حضرت خثیمہ کے پاس آیا جو بیمار تھے میں نے کہا کہ میں آج کے دن تجھ کو اچھا اور تندرست دیکھ رہا ہوں تو انہوں نے کہا آج میرے پاس قرآن پڑھا گیا۔ (تو اس کی برکت سے الحمد اللہ صحت ہوگئی )
Ayah 10:58

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے اللہ کے فضل اور اللہ کے رحمت سے خوش ہوجاؤ۔ سو وہ اس پر خوش ہوں، یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں

1:۔ ابو عبید و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ واحمد وابن منذر وابن ابی حاتم وابن الانباری نے المصاحف میں ابو الشیخ والحاکم نے اور حاکم نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ وابوالنعیم نے الحلیہ میں والبیقہی نے شعب الایمان میں چند اسناد سے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں تجھ پر قرآن کو پڑھوں میں نے عرض کیا کہ آپ کے لئے میرا نام لیا گیا فرمایا ہاں ابی سے کہا گیا تو اس بات سے خوش ہوا انہوں نے فرمایا مجھے کون سی چیز خوشی کو طلب کرنے سے روک سکتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرماتے ہیں ” قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا ھو خیرمما یجمعون (58) اس طرح اس کو تاء ” تجمعون “ کے ساتھ پڑھا گیا۔ 2: الطیالسی وابو داود والحاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابی ؓ سے روایت کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح پڑھایا (آیت) ” فبذلک فلتفرحوا “ تا کے ساتھ۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے ابی ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” فبذلک فلتفرحوا، ھو خرا مما یجمعون “ تا کے ساتھ۔ 4:۔ ابن ابی عرالعدنی والطبرانی وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” فبذلک فلتفرحوا “ 5:۔ ابو الشیخ وابن مردویہ رحمہما اللہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت) ” قل بفضل اللہ وبرحمتہ “ فرمایا اللہ کا فضل قرآن ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے ان کو اہل قرآن بنایا۔ 6:۔ سعید بن منصور وابن منذر والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” قل بفضل اللہ وبرحمتہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے کتاب اللہ اور اسلام مراد ہے۔ قرآن اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے : 7:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والبیہقی رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل بفضل اللہ وبرحمتہ “ میں اس کا فضل ہے اسلام ہے اور اس کی رحمت قرآن ہے۔ 8:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والبیہقی رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل بفضل اللہ “ سے قرآن مراد ہے ” وبرحمتہ “ سے مراد ہے کہ اس کی رحمت یہ ہے کہ اس نے ان کو قرآن والوں میں سے بنایا۔ 9:۔ ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کا فضل علم ہے اور اس کی رحمت محمد ﷺ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین (107) “ (الانبیاء آیت 107) 10:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے سالم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل بفضل اللہ “ سے فضل سے مراد اسلام ہے اور اس کی رحمت سے مراد قرآن ہے۔ 11:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل بفضل اللہ وبرحمتہ “ سے مراد ہے قرآن مجید۔ 12:۔ ابن جریر والبیہقی رحمہما اللہ نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل قرآن ہے اور اس کی رحمت اسلام ہے۔ 13:۔ ابن جریر والبیہقی رحمہما اللہ نے ہلال بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل بفضل اللہ وبرحمتہ “ میں فضل اللہ سے مراد وہ اسلام ہے جس کے ذریعہ اس نے تم کو ہدایت دی اور رحمتہ سے مراد وہ قرآن ہے جو اس نے تم کو سکھایا۔ 14:۔ ابن جریر والبیہقی (رح) نے ھلال بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” قل بفضل اللہ وبرحمتہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کے فضل سے مراد ہے اسلام اور اس کی رحمت سے مراد ہے قرآن ہے۔ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل بفضل اللہ “ سے مراد ہے نبی کریم ﷺ اور برحمۃ اللہ سے مراد ہیں علی بن ابی طالب ؓ ۔ 15:۔ الخطیب وابن عساکر رحمہم اللہ نے امام ابن جریر ؓ نے حضرت حسن اور حضرت قتادہ ؓ سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ 16:۔ ابن ابو القاسم بن بشیر ان نے اپنی امالی میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ اسلام کی ہدایت عطا فرما دے اور اس کو قرآن بھی سکھا دے پھر وہ فاقہ کی شکایت کرے تو اللہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان فاقہ کو لکھ دیں گے یہاں تک کہ وہ جس دن اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے اگر پھر نبی ﷺ نے (یہ آیت) قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا ھو خیرمما یجمعون (58) یعنی (یہ اسلام اور قرآن والی نعمت) دنیا کے مال ومتاع سے بہتر ہے جو اموال وہ جمع کرتے ہیں۔ 17:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں فرمایا جب تو خیر کا کام کرے تو اس پر اللہ کی حمد بیان کر اور خوش ہوجا یہ بہتر ہے ان چیزون سے جو وہ دنیا (کے مال ومتاع) کو جمع کرتے ہیں۔ 18:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ بہتر ہے خوشی کا اظہار کرنا (آیت) ” مما یجمعون “ مالوں سے کھیتی سے اور جانوروں سے اور ان تمام چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ 19:۔ ابن ابی حاتم والطبرانی رحمہما اللہ نے ایفع کلاعی (رح) سے روایت کیا کہ جب عراق کا خراج (یعنی ٹیکس) حضرت عمر ؓ کی طرف لایا گیا تو عمر اپنے کے ساتھ باہر تشریف لائے اور اونٹوں کو گننا شروع کیا لیکن یہ اس (گننے) سے بہت زیادہ تھے عمر نے کہنا شروع کیا الحمدللہ اور آپ کا خادم یہ کہنے لگا، اللہ کی قسم یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت سے ہے عمر نے ان سے فرمایا تو نے جھوٹ بولا یہ وہ نہیں ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت) ” قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا، ھو خیر مما یجمعون (58)
Ayahs 10:59–60

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ تم جو رزق اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے نازل فرمایا تم نے اس میں سے خود ہی بعض کو حرام اور بعض کو حلال تجویز کرلیا۔ آپ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کی اجازت دی ہے یا اللہ پر افتراء کرتے ہو

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور قیامت کے دن کے بارے میں ان لوگوں کا کیا گمان ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھنے ہیں، بلا شبہ اللہ لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے اور لیکن ان میں سے بہت شکر ادار نہیں کرتے

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ ابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” قل ارءیتم ما انزل اللہ لکم من رزق “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ مشرک تھے جو کھیتی میں سے اور جانوروں میں سے جن کے بارے میں وہ چاہتے ہیں ان کو حلال کرلیتے تھے اور جن کے بارے میں وہ چاہتے ہیں ان کو حرام کرلیتے ہیں۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ والحاکم (اور آپ نے اس کو صحیح کہا) والبیہقی نے ابن سنن میں وابن عساکر نے ابو سعید جو ابو اسید انصاری کے آزاد کردہ غلاموں میں سے تھے ان سے روایت کیا کہ اہل مصر کا ایک وفد عثمان بن عفان کے پاس آیا اور انہوں نے کہا مصحف (یعنی قرآن مجید) لیجئے اور السابعہ کھولئے اور وہ سورة یونس کو السابعہ کا نام دیتے تھے پس آپ نے اس کو پڑھا یہاں تک کہ اس (آیت) ” قل ارءیتم ما انزل اللہ لکم من رزق فجعلتم منہ حراما وحللا “ پر پہنچے تو ان لوگوں نے کہا ٹھہرئیے۔ آپ بتائیے کہ جو کچھ آپ نے سرکاری چراگاہیں بنا رکھی ہیں کیا اللہ نے آپ کو اجازت دی ہے یا اللہ پر آپ جھوٹ باندھنے والے ہیں آپ نے فرمایا آگے چلو یہ آیت تو اس کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن یہ چراگاہیں عمر ؓ نے بنوائی تھیں، صدقہ کے اونٹوں کے لئے جب خلیفہ بنایا گیا اور صدقہ کے اونٹ زیادہ ہوگئے تو میں نے چراگاہوں کو زیادہ کردیا۔
Ayah 10:61

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور آپ جس کسی حال میں بھی ہوں اور قرآن مجید کا جو بھی کوئی حصہ تلاوت کررہے ہوں اور تم لوگ جو بھی کوئی عمل کرتے ہو ہم ضرور اس سے باخبر ہوتے ہیں جبکہ تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو اور زمین اور آسمان میں ذرہ کے برابر کوئی چیز ایسی نہیں جو تیرے رب کے علم میں نہ ہو اور کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اس سے چھوٹی ہو یا بڑی ہو جو کتاب مبین میں نہ ہو

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ تفیضون فیہ “ یعنی جب بھی تم کوئی کام کرتے ہو۔ 2:۔ الفریابی وابن جریر نے مجاہد سے اسی طرح روایت کیا۔ 3:۔ عبد بن حمید والفریابی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما یعزب “ یعنی غائب نہیں ہوتا ہے۔ 4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما یعزب عن رب من مثقال ذرۃ “ سے مراد ہے کہ ایک ذرہ کے وزن کے برابر بھی اس سے غیب نہیں ہے (آیت) ” ولا اصغر من ذلک ولا اکبر الا فی کتب مبین “ کتاب مبین سے مراد ہے کہ وہ کتاب ہے جو اللہ کے پاس ہے۔
Ayahs 10:62–63

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

خبردار بلاشبہ اولیاء اللہ ہیں ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

جو ایمان لائے اور تقوی اختیار کرتے تھے

اولیاء پر خوف طاری نہ ہوگا : 1:۔ احمد نے الزہد میں وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ حواریوں نے کہا اے عیسیٰ ! کون اللہ کے دوست ہیں جن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے عیسیٰ نے فرمایا وہ لوگ جو دنیا کے باطن دیکھتے ہیں جبکہ لوگ اس کے ظاہر کی طرف دیکھتے ہیں اور وہ لوگ جو دنیا کے انجام کی طرف دیکھتے ہیں جب کہ لوگ اس کی ابتداء کی طرف دیکھتے ہیں اور وہ لوگ دنیا کی چیزوں کو مار دیتے ہیں اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ وہ ان کو مار دیں گے اور ان (کاموں) کو چھوڑ دیتے ہیں یہ جانتے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ عنقریب ان کو چھوڑ دیں گے ان کے نزدیک دنیا کی کثرت کی طلب قلت کی طلب ہوتی ہے ان کو دنیا کو یاد کرنا قوت ہوتی ہے۔ دنیا کی کسی چیز کے سبب انہیں پہنچنے والی خوشی حزن اور غم ہوتا ہے دنیا کی نعمتوں میں سے جو ان کو پیش آئے وہ اسے چھوڑ دیتے ہیں اور بغیر حق کے دنیوی رفعتوں میں سے جو ان کو پیش ہو وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے دنیا کو گراتے ہیں اور اس کے عوض اپنی آخرت کو بناتے ہیں وہ دنیا کے پیچھے ہیں اور اس کے عوض وہ یہ خرید کرتے ہیں جو ان کے لئے باقی رہتی ہے وہ دنیا کو چھوڑ تے ہیں۔ اور اس کو چھوڑنے کی وجہ سے وہ خوش ہوتے ہیں اور اس کو بیچتے ہیں اور اسے بیچنے کے سبب وہ نفع کمانے والے ہوتے ہیں انہوں نے اہل دنیا کو نیچے گرا پڑا دیکھا ہے کہ ان پر کئی زمانے گزر گئے پس انہوں نے موت کے ذکر کو پسند کیا اور زندگی کے ذکر کو چھوڑ دیا وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں اس کے نور سے روشنی طلب کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ روشن کرتے ہیں ان کے لئے عجیب خبر ہے۔ اور ان کے پاس خبر عجیب ہے ان کے ساتھ کتاب قائم ہے اور کتاب کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں ان کے سبب کتاب کا علم ہے اور اس کے سبب وہ عالم ہیں۔ آخرت کا جس چیز کو انہوں نے پایا اسے پانے کی خواہش نہیں کرتے۔ اور جس چیز کی وہ امید رکھتے ہیں اس سے کم کی وہ آرزو نہیں رکھتے اور جن چیزوں سے وہ احتیاط اور پرہیز کرتے ہیں اس کے سوا کوئی خوف نہیں رکھتے۔ 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا ان اولیآء اللہ لا خوف علیہم ولا ھم یحزنون (62) “ سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ یاد آجائیں۔ 3:۔ الطبرانی وابوالشیخ وابن مردویہ والضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے مرفوعا اور موقوفا روایت کیا کہ (آیت) ” الا ان اولیآء اللہ لا خوف علیہم ولا ھم یحزنون (62) “ سے وہ لوگ مراد ہیں جب ان دیکھا جائے تو ان کے دیکھنے سے اللہ تعالیٰ یاد آجائیں۔ اولیاء اللہ کی پہچان : 4:۔ ابن مبارک وابن ابی شیبہ وابن جریر وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (آیت) ” الا ان اولیآء اللہ لا خوف علیہم ولا ھم یحزنون (62) “ سے مراد ہے کہ ان کو دیکھ کر اللہ کو یاد کیا جاتا ہے۔ 5:۔ ابن مبارک والحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں والبزار وابی منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ اولیاء کون ہیں فرمایا جب ان کو دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ یاد آجائیں۔ 6:۔ ابو الشیخ نے مسعر کے طریق سے سھل بن اسد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا اولیاء اللہ کون ہیں۔ فرمایا جب ان کو دیکھا جائے توا للہ تعالیٰ کا ذکر جاری ہوجائے۔ 7:۔ ابن مردویہ رحمۃ اللہ علیہنے مسعر بن بکر بن الاخنس کے طریق سے سعد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا اولیاء اللہ کون ہیں آپ نے فرمایا وہ لوگ ہیں جب ان کو دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ یاد آجائیں۔ 8:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابو الضحی ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا ان اولیآء اللہ لا خوف علیہم ولا ھم یحزنون (62) “ سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ یاد آجائیں۔ 9:۔ احمد وابن ماجہ والحکیم الترمذی وابن مردویہ رحمہم اللہ نے اسماء بن یزید سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو تمہارے اخیار اور اولیاء کے بارے میں نہ بتاوں صحابہ نے عرض کیوں ن ہیں (ضرور بتاوں) آپ نے فرمایا تمہارے اخیار (یعنی بہترین لوگ) وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ یاد آجائیں۔ 10:۔ حاکم (رح) نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابن عمر ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہوں گے جو انبیاء اور شہداء نہیں ہوں گے (لیکن) ان پر انبیاء اور شہداء رشک کرتے ہوں گے، ان کے قرب اور ان کی مجلس کی وجہ سے ایک عرابی اپنے گھٹنوں پر ہاتھوں کو رکھ کر سامنے بیٹھ گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ان کا حال ہم کو بیان فرمائیے (تاکہ ہم ان کو پہچان لیں) آپ نے فرمایا یہ لوگ مختلف قبائل میں سے ہوں گے جو اللہ کے لئے آپس میں دوستی کرتے ہیں اور اللہ کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لئے قیامت کے دن نور کے منبر رکھیں گے جن پر یہ بیٹھیں گے۔ لوگ خوفزدہ ہوں گے، اور ان کو کوئی خوف نہ ہوگا یہ اللہ کے دوست ہوں گے کہ جن پر کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ یہ لوگ غمگین ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے لئے محبت اور عداوت : 11:۔ احمد والحکیم الترمذی نے عمروبن جموع ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی بندہ صریح ایمان کا حق ادا نہیں کرسکے گا، یہاں تک کہ وہ محبت کرے اللہ کے لئے اور دشمنی رکھے اللہ کے لئے جب کوئی محبت کرتا ہے اللہ کے لئے اور دشمنی کرتا ہے اللہ کے لئے تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوستی کا مستحق ہوجاتا ہے۔ اور بلاشبہ میرے دوست میرے بندوں میں سے اور میرے محبوب میرے مخلوق میں سے وہ لوگ ہیں جو میرے ذکر کرتے ہیں اور میں ان کا ذکر کرتا ہوں۔ 12:۔ احمد (رح) نے عبدالرحمن بن غنم ؓ سے روایت کیا کہ جو نبی کریم ﷺ تک پہنچتی ہے کہ اللہ کے بہترین بندے وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ یاد آجائیں۔ اور اللہ کے برے بندے وہ ہیں جو چغلیاں کھاتے ہیں اور دوستوں کے درمیان جدائی ڈالنے والے ہیں جو پاک دامن لوگوں کو گناہ کا الزام دیتے ہیں۔ 13:۔ الحکیم ترمذی (رح) نے عبداللہ بن عمر وبن عاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں کہ جن کا دیکھنا تم کو اللہ کی یاد دلائے اور انکی گفتگو زیادہ کرے تمہارے علم کو اور تم کو راغب کرے آخرت کی وجہ ان کا عمل ہے۔ 14:۔ الحکیم ترمذی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ کن کے ساتھ ہمارا بیٹھنا اچھا اور بہتر ہے فرمایا وہ آدمی جن کا دیکھنا تم کو اللہ کی یاد دلائے اور تمہارے علم میں زیادتی ہو ان کے بولنے سے اور جس کا عمل تم کو آخرت کی یاد دلائے۔ 15:۔ الحکیم الترمذی (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے کون سا افضل ہے تاکہ ہم اس کو اپنا ساتھی اور معلم بنالیں۔ آپ نے فرمایا وہ آدمی کہ جب اس کو دیکھا جائے تو اس کے دیکھنے سے اللہ تعالیٰ یاد آجائیں۔ 16:۔ ابوداود وھناد وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابو نعیم نے الحلیہ میں ولبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے بندوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ ان پر انبیاء اور شہداء رشک کریں گے پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ وہکون لوگ ہیں ؟ فرمایا ایسی قوم جو آپس میں اللہ کے لئے محبت کرتے ہیں بغیر مال وانساب کے وہ نہیں گھبرائیں گے۔ جبکہ لوگ گھبرا رہے ہوں گے۔ وہ کوئی غم نہیں کریں گے جبکہ لوگ غم میں ہوں گے پھر رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت) ” الا ان اولیآء اللہ لا خوف علیہم ولا ھم یحزنون (62) “ 17:۔ ابن ابی الدنیا وابن جریر وابن منذر وابو الشیخ وابن مردویہ والبیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے ہیں جن پر قیامت کے دن انبیاء اور شہداء رشک کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کے پاس ان کے مقام اور مرتبہ پر پوچھا گیا یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں فرمایا وہ قوم جو آپس میں اللہ کے لئے محبت کرتے ہیں بغیر مال وانساب کے صرف اللہ کی رضا سے ان کے چہرے منور اور روشن ہوں گے۔ نور کے منبروں پر وہ کوئی خوف نہیں کریں گے۔ جبکہ لوگ خوف کررہے ہوں گے وہ کوئی غم نہیں کریں گے جبکہ لوگ غم میں ہوں گے پھر یہ (آیت) ” الا ان اولیآء اللہ لا خوف علیہم ولا ھم یحزنون (62) “ 18۔ احمد وابن دنیا نے کتاب الاخوان میں وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے ابو مالک اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے کچھ بندے ایسے ہوں گے جو انبیاء اور شہداء نہیں ہوں گے۔ ان کی مجلس اور اللہ تعالیٰ سے ان کے قرب پر انبیاء اور شہداء رشک کررہے ہوں گے۔ ایک دیہاتی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ان کی صاف بیان کیجئے۔ آپ نے فرمایا وہ دور دراز قبائل کے مسافر اور لوگوں کی اولاد میں سے متفرق لوگ ہوں گے۔ ان کی آپس میں قریبی رشتہ داری نہ ہوگی۔ وہ ایک دوسرے سے اللہ کے لئے محبت کرتے ہیں۔ اور اللہ کے لئے ایکدوسرے کے پاس جمع ہوتے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نور کے منبر رکھیں گے ان کے لئے اور وہ ان پر بیٹھیں گے لوگ گھبرائیں گے اور وہ نہیں گھبرائیں گے اور وہ اللہ کے دوست ہوں گے جن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور وہ نہ غمگین ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے آپس میں محبت کرنا۔ 19:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میری محبت ثابت ہوگئی ان محبت کرنے والوں کے لئے جو (صرف) میرے لئے آپ میں محبت کرتے ہیں۔ اور میری محبت ثابت ہوگئی۔ ان کے لئے جو میرے لئے آپس میں ایک دوسرے کی ملاقات کرتے ہیں اور میری محبت ثابت ہوگئی ان کے لئے جو میرے لئے آپس میں (اکھٹے ہوکر) بیٹھتے ہیں یہ وہ لوگ جو میری مسجدوں کو میرے ذکر سے آباد کرتے ہیں اور لوگوں کو نیکی اور خیر سکھاتے ہیں اور ان کو میری اطاعت کی طرف بلاتے ہیں یہ لوگ میرے دوست ہیں جن کو میں اپنے عرش کے سائے میں کے نیچے سایہ دوں گا اور اپنے پڑوس میں ان کو ٹھہراوں گا اور ان کو اپنے عذاب سے امن دوں گا۔ اور ان کو جنت میں داخل کروں گا پانچ سو سال لوگوں سے پہلے اور اس میں طرح طرح کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے یہ (آیت) ” الا ان اولیآء اللہ لا خوف علیہم ولا ھم یحزنون (62) “ 20:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” الا ان اولیآء اللہ لا خوف علیہم ولا ھم یحزنون (62) “ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا وہ لوگ جو اللہ کے لئے ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں۔ 21:۔ ابن مردویہ (رح) نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ (آیت) ” الا ان اولیآء اللہ لا خوف علیہم ولا ھم یحزنون (62) “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ 22:۔ ابن ابی شیبہ و عبداللہ بن احمد نے زوائد المسند میں ابو مسلم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حمص میں معاذ بن جبل ؓ سے ملاقات کی اور میں نے کہا اللہ کی قسم میں تجھ سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہوں، انہوں نے فرمایا تجھے بشارت ہو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے عرش کے سائے میں ہوں گے جس دن اس سایہ کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ان کے بیٹھنے کی جگہوں پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے۔ میں نکلا اور عبادہ بن صامت سے ملا اور ان کو وہ حدیث بیان کی جو معاذؓ نے فرمائی تھی عبادہ ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے رب عزوجل سے روایت کرتے ہوئے سنا کہ آپ نے فرمایا ثابت ہوگئی میری محبت ان کے لئے جو میرے لئے خرچ کرتے ہیں یہ لوگ نور کے مقبروں پر ہوں گے ان پر انبیاء اور شہداء رشک کرتے ہوں گے۔ 23:۔ ابن ابی شیبہ والحکیم الترمذی رحمہم اللہ نے نوادرالاصول میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے لئے آپس میں محبت کرنے والے سرخ یاقوت کے ستون پر ہوں گے جو ستر ہزار کمرے ستون کے سرے میں ہوں گے ان کا حسن جنت والوں کو اس طرح روشن کردے گا جیسے سورج دنیا والوں کو روشن کرتا ہے ان کا بعض بعض سے کہے گا ہم کو لے چلو یہاں تک کہ ہم اللہ کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کو دیکھ لیں جب وہ اس پر اور اوپر چڑھیں گے تو ان کا حسن جنت والوں کو اسی طرح روشن کردے گا جیسے سورج دنیا والوں کو روشن کرتا ہے ان پر سبز ریشم کے کپڑے ہوں گے اور ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوا ہوگا اللہ کے لئے آپس میں محبت کرنے والے۔ 24:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابن سابط (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو خبر دی گئی کہ رحمن کے داہنی طرف سے اور (اللہ تعالیٰ کے) دونوں ہاتھ داہنے ہی ہیں کہ ایک قوم نور کے منبروں پر ہوگی۔ اور ان کے چہرے نور کے ہوں گے ان پر سبز لباس ہوگا دیکھنے والوں کی آنکھوں کے لئے ان کا دیکھنا جواب بن جائے گا۔ نہ وہ انبیاء ہوں گے اور نہ ہو شہداء ہوں گے ایک قوم ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے سبب ایک دوسرے سے محبت کی جبکہ زمین میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے لئے محبت کرنے والوں کی فضیلت : 25:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے علاء بن زیاد ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یا اللہ کے بندوں میں سے (کچھ) بندے ایسے ہوں گے نہ وہ انبیاء ہوں گے اور نہ وہ شہداء ہوں گے قیامت کے دن ان پر انبیاء اور شہداء رشک کرتے ہوں گے وہ اللہ تعالیٰ سے قریب ہوں گے نور کے منبروں پر انبیاء اور شہداء کہیں گے یہ کون ہیں تو کہیں گے یہ لوگ اللہ کے لئے آپس میں محبت کرنے والے تھے بغیر مال منفعت کے جو آپس میں ایک دوسرے کو دیتے تھے اور نہ ان کے درمیان کوئی رشتہ داری نہ تھی (یعنی ان کی آپس میں اللہ تعالیٰ کے لئے محبت تھی کوئی اور غرض نہ تھی) 26:۔ احمد (رح) نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آپس ( اللہ کے لئے) محبت کرنے والے البتہ اپنے کمروں کو جنت میں اس طرح دیکھیں گے جیسے کہ وہ ستارہ جو مشرق یا مغرب سے طلوع ہوتا ہے، کہا جائے گا یہ کون لوگ ہیں جو اب دیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے آپس میں محبت کرنے والے ہیں۔