9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 9:105–110

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور آپ کہہ دیجیے کہ تم عمل کئے جائو پھر بہت جلد اللہ، اس کا رسول ﷺ اور اہل ایمان تمہارے کاموں کو دیکھ لیں گے اور تم بہت جلد غیب و شہادت کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹائے جائو گے پھر وہی بتائے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کا حکم آنے تک ملتوی کیا گیا ہے۔ یا تو وہ ان کو سزا دے گا یا وہ ان کی توبہ قبول کرے گا اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے مسجد ضرار (نقصان پہنچانے والی) کفر کرنے اور مومنوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لئے بنائی ہے۔ اس شخص کے لئے پناہ گاہ بنائی گئی ہے جو اس سے پہلے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا رہا ہے اور وہ ضرور قسمیں کھا کر کہیں گے کہ سوائے بھلائی کے ہماری اور کوئی نیت نہیں ہے۔ حالانکہ اللہ گواہی دیتا ہے کہ بیشک وہ لوگ جھوٹے ہیں

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں البتہ وہ مسجد (قبا) جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے وہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں اس میں ایسے لوگ ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ صاف ستھرے رہیں اور بلاشبہ اللہ پاک صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

کیا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی رضا و خوشنودی پر رکھی ہے وہ بہتر ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گرنیوالی کھائی کے کنارے پر رکھی ہے اور پھر وہ اس کے ساتھ جہنم کی آگ میں جا گرے۔ اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

ان کی یہ عمارت جس کو انہوں نے بتایا ہے ہمشہ ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی سوائے اس کے کہ ان کے دل ہی فنا ہوجائیں (تو اور بات ہے) اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 107 تا 110 مسجد ضرار (نقصان پہنچانے والی مسجد) تفریق (اختلاف پیدا کرنے کو) ارصاد (شکار کے لئے، گھات لگانے کے لئے) حارب (جس نے جنگ کی) الحسنی (نیکی) یشھد (وہ گواہی دیتا ہے) اسس (بنیاد رکھ دی گئی) اول یوم (پہلے دن) ان تقوم (یہ کہ آپ کھڑے ہوں) رجال (مرد ہیں، کچھ لوگ ہیں ) یحبون (جو پسند کرتے ہیں) ان یتطھروا (یہ کہ وہ پاک صاف رہیں) بنیان (عمارت) شفا (کنارہ) جرف (کمزور گڑھا، کھوکھلا گڑھا) ھار (گرنے کو) انھار (وہ گر پڑا) لایزال (ہمیشہ) ریبۃ (شک کا کانٹا) تقطع (ٹکڑے ہوجائیں) تشریح : آیت نمبر 107 تا 110 منافقین کی سازشوں کا ذکر پچھلی آیات میں آچکا ہے۔ اب یہاں ایک نئی خطرناک سازش کا ذکر ہے۔ مدینہ میں نصاریٰ کے پیشواؤں میں سے ابو عامر (راہب) تھا جو مذہب کے نام پر لوگوں کو بیوقوف بنانے کا ماہر تھا جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو اس کی پیشوائی کا بازار ٹھنڈا پڑنے لگا۔ اس نے کئی مرتبہ نبی کریم ﷺ سے دین اسلام کے بارے میں بحثیں بھی کیں مگر سنجیدہ وہاں باوقار جوابات نے اس کے شیطانی جذبوں کو کم ہونے کے بجائے اور بڑہا دیا اور اس نے اسلام کے دشمنوں سے مل کر طرح طرح کی سازشیں شروع کردیں۔ جنگ احد، جنگ حنین اور جنگ احزاب وغیرہ کے بھڑکانے میں اس کی سازشوں کا بہت بڑا دخل ہے۔ جب اس نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کو برابر کامیابیاں مل رہی ہیں اور ان کیق دم بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تو وہ روم بھاگ گیا۔ وہاں اس نے قیصر روم کے سامنے مسلمانوں کا ایسا نقشہ کھینچا کہ وہ بھی گھبرا گیا۔ غزوہ تبوک کا واقعہ بھی اسی لئے پیش ایٓا کہ قیصر روم نے مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ نبی کریم ﷺ کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فوری قدم یہ اٹھایا اور فیصلہ کیا کہ قیصر روم کے حملہ کرنے سے پہلے ان پر حملہ کردیا جائے تاکہ ان کی ہمتیں ٹوٹ جائیں۔ چناچہ آپ نے وقت کی سپر پاور کے خلاف اعلان جہاد کردیا اور اللہ نے اس میں مسلمانوں کی عزت و عظمت میں اور چار چاند لگا دیئے۔ غرضیکہ ابو عامر کی سازشوں کا جال چاروں طرف پھیل رہا تھا۔ اس میں ایک بہت بڑی سازش ” مسجد ضرار “ بھی ہے۔ اس نے مدینہ کے بعض با اثر منافقین کو خط لکھا کہ تم قلب مدینہ میں ایک عمارت بنوائو جہاں تمہارے اور ہمارے آدمی تنہائیوں میں اسلام کو مٹانے کی تدبیریں کرسکیں ۔ روم سے ہمارے جاسوس راہبوں کی شکل بنا کر وہاں پہنچیں گے اور دین کی جڑیں اکھاڑنے میں ہمیں ایک مضبوط مرکز مل جائے گا۔ اس کی یہ بھی تجویز تھی کہ اس کو مسجد کا نام دے دیا جائے اور لوگوں میں مشہور کردیا جائے کہ مسجد قباہم سے دور ہے ضعیفوں اور کمزوروں کو وہاں پہنچنے میں سخت دشواری ہوتی ہے۔ چناچہ مدینہ کے وہ منافقین جو دین اسلام کی جڑوں کو کاٹ دینا چاہتے تھے انہوں نے مسجد قبا کے قریب ہی اس کی تعمیر کر ڈالی ۔ ایک مرتبہ ان منافقین نے حضور اکرم ﷺ سے بھی درخواست کی کہ وہ اس مسجد میں تشریف لا کر نماز پڑھا دیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابھی تو میں تبوک کی مہم میں لگا ہوا ہوں تبوک سے واپسی پر دیکھا جئے گا۔ جب آپ تبوک سے واپس تشریف لائے تو قران کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں اور اس مسجد کو (1) ضرار (نقصان پہنچانے والی) ۔ (2) کفر و انکار کی مسجد (3) مومنوں میں تفریق پیدا کرنے کی سازش (4) اور اس شخص کی پناہ گا ہق رار دیا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر غزوہ تبوک سے واپسی کے فوراً بعد آپ نے اپنے چند اصحاب کو حکم دیا کہ ابھی جا کر اس عمارت کو ڈھا دو اور اس میں آگ لگا دو ۔ یہ صحابہ کرام اسی وقت گئے اور تعمیل حکم میں اس عمارت کو ڈھادیا اور اس میں اگٓ لگا دی۔ اس طرح منافقین کی سازشوں کا مرکز تباہ کردیا گیا۔ جہاں ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ” مسجد ضرار “ کی سازش کو بےنقاب فرمایا اور منافین کی چالوں کو ناکام بنا دیا۔ وہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ ایسی مسجد میں قدم بھی نہ رکھیں بلکہ وہ مسجد جس کی پہلے دن سے بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے جس کے رہنے والے بھی ظاہری اور باطنی صفائی ستھرائی کے پیکر ہیں انہیں اللہ پسند کرتا ہے آپ اس میں تشریف لے جائیں۔ کیونکہ وہ مسجد (قبا) جو پہلے ہی دن سے تقویٰ کی بنیادوں پر قائم کی گئی ہے وہ اس مسجد کے برابر کبھی نہیں ہو سکتی جو گرنے والی کمزور زمین کے کنارے پر بنائی گئی ہے جو بالآخر اس کو اور اس میں رہنے والوں کو لے کر جہنم کی آگ میں جھونک دی جائیگی۔ آگے فرمایا کہ انہوں نے جس مسجد (ضرار) کی بنیاد رکیھ ہے وہ ہمیشہ ان کے نفاق اور شک کو بڑھاتی رہے گی اور یہ سلسلہ ان کی زندگی کے خاتمے تک جاری رہے گا۔
Ayah 9:111

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

بیشک اللہ نے ان ایمان والوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنت کے بدلے میں خرید لئے ہیں۔ وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں وہ مارتے ہیں یا مارے جاتے ہیں۔ توریت ، انجیل اور قرآن میں اس پر سچا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ اور کون اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہے تو اس سودے پر تم خوشیاں منائو جو تم نے اس کو بیچا ہے اور وہ بڑی کامیابی ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 111 اشتری (خرید لیا) یقاتلون (وہ لڑتے ہیں، جہاد کرتے ہیں) یقتلون (وہ مارتے ہیں) یقتلون (وہ مارے جاتے ہیں) وعدا علیہ حفا (یہ اس کا سچا وعدہ ہے اس پر) اوفی (پورا کیا) بعھدہ (اپنا وعدہ) استبشروا (خوشیاں منائو) بیع (تجارت) بایعتم (جو تم نے بیچا، فروخت کیا) تشریح : آیت نمبر 111 اس آیت کا ایک مفہوم تو عام ہے کہ جو لوگ صاحب ایمان ہیں اور انہوں نے ایثار و قربانی کا وہ جذبہ پیش کیا کہ اپنی جانوں اور مالوں سے زیادہ دین اسلام کی سربلندی اور رسول اللہ ﷺ کو اہمیت دے کر اپنا سب کچھ لٹا دیا تو گویا انہوں نے اپنی دنیا کے بدلے میں آخرت اور جنت کو خرید لیا ہے اللہ نے فرمایا کہ اس معاملہ پر اللہ کی طرف سے اعلان ہے کہ یہ ایک بہترین سودا ہے اور اس میں بہت بڑی کامیابی ہے اب اگر وہ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں یا دشمنوں کا صفایا کرتے ہیں دونوں صورتوں میں ان کو جنت کی ابدی راحتیں عطا کی جائیں گی۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ یہ اللہ کا وہ قانون ہے جس پر توریت اور انجیل بھی گواہ ہیں اور قرآن کریم کی آیات بھی گواہی دے رہی ہیں۔ اس آیت کا دوسرا مفہوم وہ ہے جس کو اکثر مفسرین نے تحریر فرمایا ہے کہ ان آیات کا تعلق ” بیعت اخری “ سے ہے۔ اصل میں منی کے قریب جمرہ عقبہ کے ساتھ جو پہاڑی سلسلہ ہے اس پر آپ نے صحابہ کرام سے تین مرتبہ بیعت لی ہے۔ (1) پہلی بیعت بعثت نبوی کے گیارہویں سال میں لی گئی جس میں چھ حضرات نے اسلام قبول فرمایا۔ (2) اس کے بعد موسم حج میں سات مسلمانوں نے اسلام قبول فرمایا۔ اس موقع پر وہ حضرات بھی موجود تھے جنہوں نے ایک سال پہلے اسلام قبول کیا تھا۔ (3) بعثت نبوی کے تیرہویں سال میں ستر مرد اور عورتیں اسی جگہ جمع ہوئے اور حلقہ بگوش اسلام ہوگئے کچھ ہی عرصہ میں مسلمانوں کی تعداد اتنی بڑھ چکی تھی کہ گھر گھر دین اسلام کا چرچہ ہونے لگا ۔ یہ وقت ایسا تھا جب کہ دین اسلام اور اس کے اصولوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ دشمنوں اور حاسدوں کی بدنگاہیوں اور سازشوں سے بچانے کے لئے نبی کریم ﷺ کی حفاظت کی بھی ضرورت تھی اس موقع پر مدینہ کے ان حضرات نے دین کی حفاظت کے ساتھ نبی کریم ﷺ پر اپنی جانیں اور مال نچھاور کرنے کا عہد کیا جس پر بنی کریم ﷺ نے اپنے جاں نثاروں کو جنت کو ابدی راحتوں کی خوش خبری سنائی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کی شرط کے ساتھ شرط قتال بھی رکھی ہے اگر یہ شرط نہ ہوتی پھر جان و مال خریدنے کی بات بےمعنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہی وہ شرط خاص تھی جسے مدینہ والوں نے تسلیم کیا ہے۔ اگرچہ سورة توبہ مدنی ہے لیکن اس میں یہی ایک آیت مکی ہے۔ اگرچہ یہ آیت ایک خاص موقع پر نازل کی گئی ہے لیکن اس کا تعلق زمین و زمان کے تمام اہل ایمان ہے۔ ایمان کیا ہے ؟ یہی ناکہ اللہ کے کام میں جان و مال کھپا دینا اور اس کے انعامات میں جنت پانا۔ کہا گیا ہے کہ مومن وہ ہیں جو اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہیں مارتے ہیں یا مر جاتے ہیں یعنی یا غازی بنتے ہیں یا شہید۔ ایمان کیا ہے ؟ یہی ناکہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نہ صرف اسلام برتیں گے بلکہ اپنی جان و مال سے اس طریق زندگی کی حفاظت اور تبلیغ کریں گے۔ مال اور جان انسان کی سب سے محبوب اور پسندیدہ چیزیں ہیں کو ن ہے جو ان کی قربانی پر کمر بستہ ہوجائے۔ انبیاء کرام اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہی وہ مطالبہ ہے کہ جس کو حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کرتے رہے اور بہ مشکل مٹھی بھر نفوس مل سکے۔ یہ مطالبہ حضرت موسیٰ و حضرت عیسیٰ فرماتے رہے لیکن سوائے کچھ خوش نصیبوں کے کسی نے اس مطالبہ کو قابل اتفات نہ سمجھا۔ خود نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے تیرہ سال تک مکرمہ میں ایک ایک گھر جا کر دین اسلام کو پہنچایا لیکن دو سو نفوس سے زیادہ آپ کے اردگرد جمع نہ ہو سکے۔ مدینہ منورہ کے ابتدائی چند برسوں میں مسلمانوں کی تعداد کچھ بہت زیادہ نہ تھی لیکن جب نبی کریم ﷺ کی دت رات کی کوششوں کے نتیجے میں ایک ایک شخص کے دل میں اسلام گھر کر گیا تو وہ وقت بھی آیا جب فوج در فوج جماعتوں کی جماعتیں حلقہ بگوش اسلام ہوگئیں۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت پاک سے یہ بات بالکل واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ اللہ کا دین پھیلانے کے لئے جب تک ہر طرح کی جانی و مالی قربانی نہ دی جائے اس وقت تک اس کا رنگ نکھر کر سامنے نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لئے ہر طرح کی قربانیاں پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
Ayah 9:112

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

(وہ مجاہد ایسے ہیں کہ) توبہ کرنے اولے عبادت کرنے والے اللہ کی حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے رکوع اور سجدے کرنیوالے، اچھی باتیں سکھانے والا برائیوں سے روکنے والے اور اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں اور (اے نبی ﷺ آپ ایمان والوں کو خوش خبری دیدیجیے۔

لغات القرآن آیت نمبر 112 التائبون (توبہ کرنے والے) العبدون (عبادت کرنے والے) الحمدون (حمد کرنے والے) السائحون (سیاحت کرنے اولے، مسافروں کی زندگی گذارنے والے الامرون (حکم دینے والے) الناھون (منع کرنے والے) الحفظون (حفاظت کرنے والے) لحدود اللہ (اللہ کی حدوں کے لئے ) بشر (خوش خبری دے دیجیے) تشریح :- آیت نمبر 112 اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفتیں بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ اللہ نے ان کی جان و مال کو جنت کے بدلہ میں خرید لیا ہے۔ ان ہی اہل ایمان کی یہ بھی صفتیں بیان کی جا رہی ہیں کہ وہ توبہ کرتے رہتے ہیں عبادت میں لذت محسوس کرتے ہیں ان کی زبانوں پر ہر وقت اللہ کی حمد وثناء رہتی ہے روزوں کی پابندی کرتے ہیں پوری عظمت کے ساتھ رکوع و سجدوں میں رہتے ہیں جن کا کام ہی یہ ہے کہ وہ ہر برائی کو مٹانے اور ہر نیکی کے کام کو قائم کرنے کی جدوجہد کرتے اور اللہ کی تمام حدود کو قائم رکھتے ہیں۔ اللہ نے اپنے نبی ﷺ کی زبان مبارک سے ان کو جنت اور اس کی راحتوں کی خوش خبری عطا فرمائی ہے۔ اس جگہ مومنوں کی سات صفتیں بیان کر کے آٹھویں بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ وہ اللہ کی حدود کی حفاظت کرتے ہیں اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ہر چیز میں اعتدال پسند ہے۔ اگر ایک انسان عبادتیں کرتا ہے۔ خود بھی نیکیوں پر رہتا ہے اور دوسروں کو بھی نیکیوں پر قائم رکھنے کی جدوجہد کرتا ہے لیکن وہ حد اعتدال سے گذر جاتا ہے تو اللہ کو ایسے لوگ پسند نہیں ہیں لیکن جو لوگ ہر چیز میں اللہ کے احکامات کے پابند ہوتے ہیں ان کی بڑی شان ہے۔ اعتدال کیا ہے ؟ اس سلسلہ میں اگر یہ کہا جائے کہ نبی مکرم ﷺ کی زندگی اور اسوہ حسنہ سب سے بہترین اعتدال ہے تو یہ بات مبالغہ کی نہ ہوگی کیونکہ آپ نے زندگی کا ایک ایسا بہترین نمونہ عمل چھوڑا ہے جو بےمثال ہے۔ اس کو سامنے رکھ کر جو بھی زندگی کی بنیادوں کی تعمرن کی جائے گی اور وہ اعتدال ہی کی زندگی کہلائے گی۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی کا سب سیب ڑا کمال یہ ہے کہ آپ اگر راتوں کو اللہ کی عبادت و بندگی کرنے والے ہیں تو دن بھر مجاہدانہ کارنامے سر انجام دیتے بھی نظر آتے ہیں اگر ایک طرف آپ راتوں کو عبادت اور دونوں کو جہاد میں نظر آتے ہیں تو آپ اپنے گھر بار رشتہ داروں کی بھلائی میں بھی سب سے آگے نظر آتے ہیں۔ امت کی اصلاح و تبیغ میں مصروف ہیں تو ساری دنیا کے حکمرانوں کو تبلیغ دین بھی فرما رہے ہیں غرضیکہ زندگی کے ہر پہلو کے ساتھ آپ اعتدال فرماتے ہیں اور یہی اسوئہ حسنہ ہے یہ حدود اللہ ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اعتدال کی زندگی عطا فرمائیے۔ (آمین)
Ayahs 9:113–114

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

نبی ﷺ اور ان لوگوں کے لئے جو ایمان لے آئے ہیں یہ بات مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے واسطے بخشش کی دعائیں مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں جب کہ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ وہ جہنم والے ہیں

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

اور ابراہیم نے جو اپنے والد کے لئے دعائے مغفرت کی تھی وہ ایک وعدہ تھا جو انہوں نے کیا تھا۔ پھر جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انہوں اس سے بےزاری کا اظہار کردیا۔ بیشک ابراہیم نرم دل اور برداشت کرنے والے تھے۔

لغات القرآن آیت نمبر 113 تا 114 ان یستغفروا (یہ کہ وہ دعائے مغفرت کریں) اولی قربی (رشتہ دار) اصحاب الجحیم (جہنم والے) موعدۃ (وعدہ) تبین (واضح ہوگیا) تبرا (وہ بیزار ہوگیا) اواہ (رحم دل) حلیم (برداشت کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 113 تا 114 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ وہ لوگ جن کا شرک ظاہر ہے ان کے لئے کسی کو بھی دعا مغفرت نہیں کرنی چاہئے خاص طور پر نبی جس کا مقام بلند تر ہوتا ہے اس کی شان کے خلاف ہے کہ وہ اپنے مشرک والدین یا عزیزوں کے لئے دعائے مغفرت کرے۔ فرمایا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے جو اپنے والد کے لئے دعائے مغفرت کی تھی وہ ایک وعدہ کی بنیاد پر تھی جو انہوں نے اپنے والد سے کر رکھا تھا اور وہ بھی اس وقت کی تھی جب کہ ان پر یہ بات واضح نہیں تھی کہ وہ جہنمی ہے یا جنتی لیکن جب اس کے کفر و شرک کی بات واضح ہوگئی تو حضرت ابراہیم نے اپنے باپ سے بھی بیزاری کا اظہار فرما دیا تھا۔ ان آیات کے پس منظر کے طور پر بخاری و مسلم میں ایک رویات آئی ہے کہ نبی کریم ﷺ جن کو اپنے چچا حضرت ابو طالب ہے سے بےانتہا محبت تھی جنہوں نے زندگی بھر آپ ﷺ کی حمایت و نصرت فرمائی لیکن اسلام قبول نہیں کیا۔ آپ کی دلی خواہش تھی کہ حضرت ابوطالب دین اسلام کو قبول کرلیں اور کلمہ اسلام زبان سے ہی ادا کرلیں۔ حضرت ابو طالب کے انتقال کے وقت آپ کا یہ جذبہ اور بھی شدت اختیار کر گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے چچا آپ اسلام کا یہ کلمہ ادا کر لیجیے۔ حضرت ابوطالب کہنا بھی چاہتے ہوں گے مگر ابوجہل اور اس کے ساتھ یہ طعنہ دینے لگے کہ کیا مرتے وقت تم عبدالمطلب کا دین چھوڑ دو گے۔ یہ سن کر حضرت ابوطالب خاموش ہوجاتے۔ اور پھر ان الفاظ پر حضرت طالب کا اتنقال ہوگیا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔ حضرت ابوطالب کے انتقال کے بعد آپ نے اس بات کا عہد کیا کہ میں ہمیشہ ان کے لئے دعائے مغفرت کرتا رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرما دیا کہ نبی کی شان کے خلاف ہے کہ وہ کسی ایسے رشتہ دار کے لئے دعائے مغفرت کرے جس کا شرک ظاہر ہے۔
Ayahs 9:115–116

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

اور اللہ ایسا نہیں کرتا کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد اس کو گمراہ کر دے جب تک ان پر بات کو کھول نہ دے تاکہ وہ اس سے بچ سکیں ۔ بلاشبہ اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین کی سلطنت اسی کی ہے وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور مددگار نہیں ہے۔

تشریح :- آیت نمبر 115 تا 116 اللہ تعالیٰ جو ہم سب کا خلاق ومالک ہے جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت کا اختیار ہے اس کا طریقہ اور سنت یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے وہ بےنیاز ہے اس کو دنیا میں کسی کی عبادت و بندگی کی ضرورت نہیں ہے انسان ہر قدم پر اس کی عنایتوں کا محتاج ہے اور وہ ہر آن اپنے بندوں پر متوجہ رہتا ہے اس کی سب سے بڑی عنایت یہ ہے کہ اس نے انسان کو پیدا کر کے اس کو زندگی کے جنگل میں یوں ہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس کی ہدایت اور راہنمائی کا پورا پورا سامان کردیا تاکہ وہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے راستہ اور روشنی حاصل کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے ابتدائے کائنات سے اپنے نبیوں اور رسولوں کا سلسلہ قائم فرمایا۔ تمام انبیاء کرام اور اس کے رسول (علیہ السلام) اللہ کے احکامات کے مطابق اللہ کے بندوں کی رہنمائی فرماتے رہے۔ آخر میں فخر کائنات خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کی کتاب قرآن مجید لے کر تشریف لائے اور قیامت تک انسانوں کی رہنمائی فرما گئے۔ چونکہ آپ کے بعد کسی نبی اور رسول کے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لئے اب یہ ذمہ داری امت محمدیہ کی ہے کہ وہ اس پیغام الہی کو لے کر دنیا کے کونے کونے تک پہنچ جائے (اور بھٹکے ہوئے انسانوں کو راہ ہدایت پر لگاتی رہے۔ ) الحمد للہ نبی کریم ﷺ کی امت نے قرآن و سنت کی اس روشنی کو پھیلانے اور دنیا کی گمراہیوں کو دور کرنے میں کسی کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کیا اور انشاء اللہ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ارشاد فرما دیا ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اور اس کا سب سے بڑا کرم یہ ہے کہ وہ انسانوں کی ہدایت کا سامان کرتا رہتا ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی گم راہی کے راستے پر چلتا ہے تو یہ اس کی غلطی ہے جس کی سزا اس کو ضرور ملے گی۔ اللہ اپنے بندوں پر نہ تو ظلم و زیادتی کرتا ہے اور نہ ان کو گمراہ کرتا ہے لیکن اگر وہ کسی فرد یا قوم کے اعمال کی گرفت کرنا چاہے تو پھر وہ فرد اور قوم نہ تو اس کی گرفت سے بچ سکتی ہے اور اگر وہی کسی کو بھٹکا دے تو ساری دنیا مل کر بھی اس کو راہ ہدایت پر نہیں لگا سکتی۔ فرمایا کہ زندگی اور موت اس کے ہاتھ میں ہے مراد یہ ہے کہ اس کائنات میں ہدایت و رہنمائی اور زندگی اور موت سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے وہ اللہ کسی کا محتاج نہیں ہے لیکن ساری کائنات قدم قدم پر اس کی مہربانیوں کی محتاج ہے۔ اس بات کو قرآن مجید میں کئی جگہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے وہ کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کرتا۔ وہ کسی کے لئے گڑھے نہیں کھودتا۔ یہ انسان کی نادانی ہے کہ وہ خود اپنے اوپر ظلم و زیادتی کرتا ہے اور اپنے لئے خود ہی گڑھے کھود کر اس میں جا گرتا ہے۔
Ayahs 9:117–118

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ پر اور ان مہاجرین و انصار پر توجہ فرما لی ہے (توبہ قبول کرلی ہے) جنہوں نے ایسی تنگی و پریشانی کے وقت پیغمبر کا ساتھ دیا جب کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک فریق کے دل پھرجاتے پھر وہ ان پر متوجہ ہوا۔ بیشک اللہ ان پر مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 9:118 in the Quran reader

اور ان تین لوگوں پر بھی توجہ فرمائی جن کا معاملہ پیچھے رکھا گیا تھا۔ یہاں تک کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود پر تنگ ہوگئی اور ان پر اپنی جانیں بھی ایک بوجھ بن گئی تھیں اور انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اب اگر کوئی ٹھکانا ہے تو اللہ ہی کا ٹھکانا ہے پھر اللہ نے ان پر توجہ فرمائی تاکہ وہ توبہ کریں بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 117 تا 118 تاب (وہ متوجہ ہوا) ساعۃ العسرۃ (تنگی کی گھڑی، پریشانی کا وقت) کا د (قریب ہے) یزیغ قلوب (دل پھرجائیں) الثلثۃ (تین) الذین خلقوا (جو پیچھے رہ گئے تھے) ضافت (تنگ ہوگئی) ظنوا (وہ سمجھ گے) لاملجا (ٹھکانا نہیں ہے) تشریح : آیت نمبر 117 تا 118 جیسا کہ گزشتہ آیات میں آپ نے ملاحظہ کرل یا ہے کہ غزوہ تبوک ایک ایسا موقع تھا جس نے اہل ایمان کو اور منافقین کو کھول کر رکھ دیا تھا۔ اس موقع پر جب کہ فصلیں تیار تھیں شدید گرمی کا موسم تھا اور نامعلوم منزل کی طرف جہاد کے لئے جانا تھا دو ہی راستے تھے کہ عذر کر کے گھر میں بیٹھا جائے یا سر دھڑ کی بازی لگا کر دین کی سربلندی کے لئے اللہ اور سا کے رسول ﷺ کے حکم کی تعمیل کی جائے۔ جو اہل ایمان تھے انہوں نے اس موقع پر بےمثال قربانیاں پیش کیں اور دنیا کے ہر فائدے کو دین پر قربان کردیا۔ اس کے برخلاف منافقین نے طرح طرح کے عذر پیش کئے اور نبی کریم ﷺ نے ان کو گھر بیٹھ رہنے کی اجازت دے دی لیکن بعض صحابہ کرام وہ تھے جو جنگ بدر تک میں شرکت کرچکے تھے جن کی طرف کسی منافقت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا وہ اپنی غفلت اور سستی میں غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرسکے ان میں سے بعض صحابہ کرام کا ذکر اس سے پہلے آچکا ہے ان ہی میں سے تین صحابہ وہ تھے جن کیلئے ان آیات میں معافی کا اعلان فرمایا گیا ہے۔ روایات میں ان تین صحابہ کرام کے نام یہ ہیں۔ (1) ان تینوں صحابہ کرام کا تعلق انصار سے تھا۔ حضرت مرارہ بن ربیع اور حضرت بلال بن امیہ تو وہ بزرگ تھے جو غزوہ بدر میں شرکت فرما چکے تھے اور حضرت کعب بن مالک انتہائی مخلص اور رسول اللہ ﷺ کے سچے عاشقوں میں سے تھے۔ جب نبی کریم ﷺ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو جس نے جو عذر پیش کیا آپ نے ان کا معاملہ اللہ کی طرف چھوڑ کر اپنی طرف سے معاف کردیا لیکن مذکورہ تینوں صحابہ کرام نے کسی جھوٹ کا سہارا لئے بغیر اپنی سستی اور غفلت کا اقرار کرلیا۔ ان صحابہ کرام کے اعتراف کے بعد نبی کریم ﷺ نے ان کی معافی کا معاملہ اللہ کی طرف چھوڑ کر فرمایا کہ تم اس وقت تک مسلمانوں سے علیحدہ رہو جب تک اللہ کی طرف سے باقاعدہ معافی کا اعلان نہ آجائے۔ اس موقع پر جب کہ یہ تینوں انصاری بزرگ اللہ کی طرف سے معافی کے اعلان کے منتظر تھے تمام صحابہ کرام نے جس نظم و انتظام اور حب رسول ﷺ کا مظاہرہ کیا اس سے صحابہ کرام کی عظمت اور بھی نکھر کر سامنے آتی ہے اس سلسلہ میں حضرت کعب ابن مالک نے اپنا واقعہ بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے جس کو بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے۔ حضرت کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ نبی مکرم ﷺ نے جب بھی کسی غزوہ کے موقع پر آواز دی میں سوائے غزوہ تبوک کے ہر غزوہ میں شریک رہا۔ فرماتے ہیں کہ میرے لئے بظاہر کوئی عذر نہ تھا کیونکہ غزوہ تبوک کے موقع پر میں خوش حال اور مال دار تھا۔ فرماتے ہیں کہ میرے پاس کبھی اس سے پہلے دو سواریاں جمع نہیں ہوئی تھیں جو اس وقت موجود تھیں فرماتے ہیں کہ میں ہر روز صبح کو ارادہ کرتا تھا کہ جہاد کی تیاری کروں گا پھر میں بغیر کسی تیاری کے واپس آجاتا۔ دن پر دن گذرتے چلے گئے میں سوچتا ہی رہا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام جہاد کے لئے روانہ ہوگئے پھر بھی میرے دل میں یہ آتا رہا کہ میں بھی روانہ ہوجاؤں اور تیز رفتار سواری پر سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ جاؤں گا مگر میں سوچتا ہی رہ گیا اور اپنے ارادے کی تکمیل نہ کرسکا۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد جب میں مدینہ میں کہیں جاتا تو یہ بات مجھے غمگین اور شرمندہ کردیتی کہ اس وقت پورے مدینہ منورہ میں یا تو وہ لوگ نظر پڑتے تھے جو منافقفت کا پیکر تھے یا پھر ایسے بیمار کمزور اور بوڑھے ملتے تھے جو جنگ میں شرکت سے معذور تھے۔ حضرت کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ بعض صحابہ کرام نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے دو تین مرتبہ صحابہ کرام سے پوچھا کہ کعب بن مالک نظر نہیں آ رہے ہیں۔ حضرت کعب کہتے ہیں کہ جب مجھے خبر ملی کہ رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لا رہے ہیں تو مجھے بڑی فکر ہوئی اگر میں چاہتا تو اس عرصہ میں کچھ عذر اور بہانے بنا لیتا لیکن میں نے بہت غور کے بعد دل میں فیصلہ کرلیا کہ کچھ بھی ہو مجھے کتنی بڑی سزا بھی کیوں نہ ملے میں اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے کوئی جھوٹا عذر پیش نہیں کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ کے واپس تشریف لانے کے بعد میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ میں نے دیکھا کہ لوگ جھوٹے عذر پیش کر رہے ہیں اور آپ ان کے عذر قبول فرما کر ان کا معاملہ اللہ کے سپرد فرما رہے ہیں میں آپ ﷺ کے سامنے جا کر بیٹھ گیا۔ آپ نے مجھے دیکھا۔ آپ ﷺ مسکرائے مگر آپ ﷺ کی مسکراہٹ کے پھے سو مجھے آپ ﷺ کی ناراضی کا پوری طرح اندازہ ہو رہا تھا۔ بعض روایات کے مطابق آپ نے حضرت کعب کی طرف سے منہ پھیرلیا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ میری طرف سے رخ نہ پھیریئے کیونکہ اللہ کی قسم میں نے نفاق نہیں کیا۔ نہ دین کے معاملہ میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہوا۔ نہ اس میں کوئی تبدیلی کی۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ پھر تم جہاد میں شریک کیوں نہیں ہوئے ؟ کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ بیشک میں نے سواری خریدی تھی۔ حضرت کعب کہتے ہیں کہ میں تو گفتگو کا ماہر تھا میں دنیا کے کسی عام آدمی کے سامنے ہوتا تو شاید بات کو گھما کر کہہ دیتا مگر میں نے فیصلہ کیا کہ کچھ بھی ہو میں آپ ﷺ کے سامنے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ چناچہ میں نے اپنی غفلت و سستی کا اعتراف کرتے ہوئے جو حقیقت تھی وہ صاف صاف عرض کردی۔ آپ نے فرمایا کہ جائو ! یہاں تک کہ تمہارے متعلق اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ فرما دیں۔ کہتے ہیں کہ میں اٹھ کر بنی سلمہ کی طرف جا رہا تھا کہ بنو سلمہ کے چند لوگ مجھے ملے اور انہوں نے کہا کہ ہمارے علم کی حد تک تو تم نے کوئی گناہ اور خطا کی بات نہیں کی تھی یہ تم نے کیا حماقت کی اس وقت کوئی عذر پیش کردیتے تاکہ رسول اللہ ﷺ تمہارے لئے دعائے مغفرت فرما دیتے اور وہی دعا تمہارے حق میں مغفرت کا سامان بن جاتی۔ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے مجھے اتنی ملامت کی کہ میرے دل میں آیا کہ میں لوٹ جاؤں اور ان کی کہی ہوئی بات کہہ دوں مگر میں نے پکا عہد کیا کہ مجھے سزا کوئی بھی ملے میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ میری طرح دو اور حضرات نے بھی کوئی جھوٹ نہیں بولا اور ان کو بھی رسول اللہ ﷺ نے انتظار کرنے کیلئے فرمایا ہے۔ ادھر رسول اللہ ﷺ نے تمام صحابہ کرام کو ہم تینوں کے ساتھ سلام کلام سے منع فرما دیا۔ آپ کے ارشاد کے بعد تمام مسلمانوں نے ہم سے اس طرح رخ پھیرلیا کہ کوئی بھی نہ تو سلام کا جواب دیتا اور نہ کوئی بات کرتا تھا دنیا ایسی بدل کر رہ گئی کہ ہر طرف اجنبیت کا احساس ابھرنے لگا۔ مجھے اس کی فکر پیدا ہوگئی کہ اگر میں اسی حال میں مر گیا تو رسول اللہ ﷺ میرا نماز جنازہ بھی نہ پڑھائیں گے یا اگر رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو میں عمر بھر اسی طرح لوگوں میں ذلیل و خوار پھرتا رہوں گا۔ یہ سوچ سوچ کر اور مسلمانوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے ایسا لگتا تھا کہ اتنی بڑی دنیا ہونے کے باوجود میرے لئے بہت مختصر اور تنگ ہو کر رہ گئی ہے۔ فرماتے ہیں کہ دو انصاری صحابی مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ تو شکستہ دل ہو کر گھر میں بیٹھ رہے اور ہر وقت روتے رہتے تھے لیکن میں جوان آدمی تھا باہر نکلتا چلتا پھرتا۔ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوتا مگر نہ تو رسول اللہ ﷺ بات کرتے نہ صحابہ کرام سلام کا جواب دیتے نہ کوئی مجھ سے بات کرتا۔ میں بہت دل شکستہ سا ہوگیا فرماتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے چچا زاد بھائی کے پاس گیا جو مجھے سب سے زیادہ چاہتے تھے۔ ان کے باغ میں دیوار پھاند کر پہنچ گیا انہوں نے مجھ سے بات نہ کی۔ میں نے ان سے کہا کہ اے قتادہ کیا تم نہیں جانتے کہ میں رسول اللہ ﷺ سے کتنی محبت کرتا ہوں اس پر بھی قتادہ خاموش رہے۔ جب میں نے بار بار کہا تو انہوں نے صرف اتنا جواب دیا کہ اس کو اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں۔ ان کے جواب سے میں بےساختہ رو پڑا۔ میں اسی طرح دیوار پھاند کر باغ سے واپس نکل گیا۔ کہتے ہیں کہ میں ایک دن بازار جا رہا تھا کہ اچانک ملک شام کا ایک قبطی شخص جو غلہ فروخت کرنے کے لئے شام سے مدینہ آیا کرتا تھا وہ لوگوں سے پوچھ رہا ہے کہ لوگو کیا تم کعب بن مالک کا پتہ بتا سکتے ہو ؟ لوگوں نے میری طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہی کعب ہیں۔ وہ شخص میرے پاس آیا اور غسان کے بادشاہ کا ایک خط مجھے دیا جو میرے نام تھا اس میں لکھا تھا کہ ” مجھے خبر ملی ہے کہ آپ کے نبی ﷺ نے آپ سے بےوفائی کی ہے اور آپ کو دور کر رکھا ہے۔ اللہ نے تمہیں ذلت و خواری میں رکھنے کیلئے نہیں بنایا ہے۔ اگر تم ہماری پاس آنا پسند کرو تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔ “ کہتے ہیں کہ میں نے یہ خط پڑھا اور مجھے افسوس ہوا کہ کیا اب میرا اس سے بڑا امحتان شروع ہوگیا ہے کہ اہل کفر بھی مجھ پر ترس کھانے لگے ہیں اور ان کو مجھ سے کوئی اچھی امید ہو چلی ہے فرماتے ہیں کہ سامنے ہی ایک آگ کا تنور لگا ہو تھا بادشاہ کا وہ خط میں نے اس آگ میں جھونک دیا۔ اس طرح چالیس راتیں گذر گئیں۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کے خصا قاصد خزیمہ بن ثابت میرے پاس آ رہے ہیں۔ آ کر کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اپنی بیوی سے علیحدہ اختیار کرلو میں نے پوچھا کہ کیا میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں ۔ انہوں نے کہا کہ نہیں بلکہ اس سے الگ الگ رہو۔ میں نے گھر آتے ہی بیوی سے کہا کہ تم اپنے میکے ( باپ کے گھر) چلی جائو اور بج تک میرے معاملے کا فیصلہ نہ ہوجائے اس وقت تک وہیں رہو۔ حضرت کعب بیان کرتے ہیں کہ جب اسی طرح پچاس دن گذر گئے تو میں اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا نماز پڑھ رہا تھا اور میری حالت وہ تھی جس کو اللہ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود مجھ پر تنگ ہوچکی تھی۔ اچانک میں نے سلع پہاڑی کے اوپر سے کسی چلانے والے کی آواز سنی جو بلند آواز میں کہہ رہا تھا کہ اے کعب مبارک ہو۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ آواز حضرت ابوبکر صدی کی تھی کہ اے کعب تمہیں بشارت ہو کہ تمہاری معافی کا اعلان ہوگیا ہے۔ حضرت کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ جیسے ہی میں نے یہ آواز سنی تو میں اللہ کے سامنے سجدہ میں گر پڑا اور خوشی کے مارے میں رو پڑا۔ رسول اللہ ہ ﷺ نے صبح کی نماز کے بعد صحابہ کرام کو ہماری توبہ قبول ہونے کی خبر دی تھی۔ اب یہ عالم تھا کہ ہر طرف سے لوگ مبارک باد دینے کے لئے دوڑے چلے آ رہے تھے۔ بعض گھوڑے پر سوار ہو کر میرے پاس پہنچے۔ حضرت کعب اسی وقت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے راستے میں لوگوں کا یہ عالم تھا کہ ہر طرف سے مبارک ہو مبارک ہو کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ جب میں مسجد نبوی میں حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما ہیں اور آپ کے ارگرد صحابہ کرام کا مجمع ہے میں نے داخل ہوتے ہی رسول اللہ ﷺ کو سلام عرض کیا آپ کا چہرہ مبارک خوشی سے دمک رہا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اے کعب تمہیں مبارک ہو۔ تمہیں ایسے دن کی مبارک باد ہے جو دن تمہاری پیدائش سے لے کر آج تک سب سے زیادہ مبارک دن ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ حکم آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ تم نے سچ کہا تھا اللہ تعالیٰ نے تمہاری سچائی کو ظاہر فرما دیا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرا دل چاہتا ہے کہ اس خوشی کے دن میرے پاس جو کچھ وہ سب کا سب میں اللہ کی راہ میں صدقہ کر دوں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں کچھ مال اپنی ضرورت کیلئے رہنے دو یہ بہتر ہے میں نے عرض کیا کہ اچھا آدھا مال صدقہ کر دوں۔ آپ ﷺ نے اس سے بھی انکار فرمایا جب میں نے کل مال میں سے ایک تہائی مال صدقہ کرنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے اجازت دیدی۔ حضرت کعب کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اللہ نے مجھے سچ کی وجہ سے نجات دی ہے میں عہد کرتا ہوں میں ہمیشہ سچ بات ہی کہوں گا اور سچ کے سوا کوئی بات زبان سے نہ نکالوں گا۔ انہوں نے بتایا کہ پوری زندگی وہ اسی پر قائم رہے۔ واقعی سانچ (سچ) کو آنچ نہیں
Ayahs 9:119–121

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 9:119 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جائو۔

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 9:120 in the Quran reader

مدینہ کے رہنے والے اور وہ دیہاتی جو ان کے اردگرد ہیں ان کے لئے یہ بات شایان شان نہ تھی کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ سے پیچھے رہ جائیں اور یہ بھی مناسب نہیں تھا کہ ان کی (نبی ﷺ کی) جان سے اپنی جانوں کو زیادہ عزیز رکھتے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو اللہ کی راہ میں جو پیاس لگی اور بھوک کی جو مشقت پہنچی اور وہ جو اللہ کی راہ میں چلے جن کا چلنا کفار کو سخت ناگوار تھا یا انہوں نے دشمن سے انتقام لیا مگر یہ کہ ان کے لئے (ان سب چیزوں پر) ایک عمل صالح لکھا گیا تاکہ وہ اللہ عمل کرنے والوں کو اس سے بہتر اجر عطا فرمائے بیشک اللہ نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً وَّ لَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:121 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو کم اور زیادہ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں یا وہ جو (جہاد کے لئے) کسی وادی کو طے کرتے ہیں ان کے لئے اس کو لکھ لیا جاتا ہے تاکہ ان کو کئے ہوئے کاموں کا زیادہ بہتر اجرمل سکے۔

لغات القرآن آیت نمبر 119 تا 121 کونوا (ہو جائو) الصدقین (سچ بولنے والے) ان یتخلفوا (یہ کہ وہ مخالفت کرلیں) لایرغبوا (رغبت نہ کریں) لا یصیب (نہیں پہنچے گا) ظما (پیاس) نصب (محنت، مشقت) مخمصۃ (بھوک) لایطنون (وہ نہیں روندے) موطنی (چلنے کی جگہ ) یغیط (غصہ میں آئیں) لاینالون (وہ حاصل نہیں کرتے) کتب (لکھا گیا، فرض کیا گیا) لایضیع (وہ ضائع نہیں کرتا) لاینفقون (وہ خرچ نہیں کرتے ہیں) نفقۃ صغیرۃ (معمولی خرچ) لایقطعون (وہ نہیں کاٹتے ہیں، وہ نہیں طے کرتے ہیں) وادیا (وادی، گھاٹی، میدان) احسن (زیادہ بہتر) تشریح :- آیت نمبر 119 تا 121 گزشتہ آیات میں منافقین اور مخلص اہل ایمان کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے منافقین نے غزوہ تبوک سے واپسی پر نبی کریم ﷺ سے جو بھی عذر پیش کیا آپ نے قبول فرما کر ان کے معامل کو اللہ کے سپرد فرما دیا اور ان کے حالات اور بیان کی مزید تصدیق نہیں فرمائی لیکن بعض وہ مخلص صحابہ کرام جو کسی سستی یا غفلت کی بنا پر آپ کے ساتھ نہ جاسکے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا لیکن محض وقتی مفاد اور حضور اکرم ﷺ کی نگاہوں میں بہتر بننے کیلئے انہوں نے جھوٹ نہیں بولا۔ بیشک سچ بولنے کی وجہ سے ان کو سخت تکلیفیں اٹھانا پڑیں (جس کا تفصیل سے ذکر گزشتہ آیات میں کردیا گیا ہے لیکن ان کو اس کا سب سے بڑا انعام یہ ملا کہ قرآن کریم میں باقاعدہ ان کی معافی کا اعلان فرمایا گیا اور ان کے ذکر کو قیامت تک قرآن کریم میں محفوظ کردیا گیا۔ قیامت تک قرآن کریم پڑھا جاتا رہے گا اور ان صحابہ کرام کا ذکر بھی زندہ جاوید رہے گا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سچ بولنے ، سچ پر قائم رہنے والے صحابہ کرام کو ایک مثال بناتے ہوئے اس پر چلنے کا حکم فرمایا ہے اور بتا دیا گیا ہے کہ تقویٰ ، سچائی اور اللہ کی راہ میں تکلیفیں اٹھانا انسان کو نہ صرف اجر وثواب اور اس کے انعامات کا مستحق بنا دیتا ہے بلکہ ان لوگوں کی زندگیاں دوسروں کے لئے ایک خوبصورت مثال بن جایا کرتی ہیں۔ ان آیات میں ان صحابہ کرام کی زندگی کو ایک خوبصورت مثال بناتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرما دیا کہ سچ بولنا اتنی بڑی نیکی ہے کہ اگر انسان اپنی غفلت اور سستی میں کوئی لغزش بھی کر بیٹھتا ہے تو اس کا سچ اس کو زندہ جاوید بنا دیتا ہے۔ اگر حضرت کعب بن مالک حضرت مرارہ بن ربیع اور حضرت ہلال بن امیہ جن کا ذکر گزشتہ آیات میں کر کے ان کی معافی کا اعلان کیا گیا ہے۔ سچ نہ بولتے بلکہ خدانخواستہ منافقین کی طرح بہانے بنا کر اپنی جان چھڑا لیتے تو ان کی معافی کا ذکر قرآن مجید میں نہ ہوتا۔ اس لئے کہا گیا ہے کہ ” سچ انسان کو نجات دیتا ہے اور جھوٹ انسان کو ہلاک کرتا ہے۔ “ بخاری و مسلم میں حضرت عبداللہ مسعود نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سچائی کی عادت اختیار کرو کیونکہ سچ بولنے سے نیکی کی توفیق ملتی ہے اور نیکی اس کو جنت تک پہنچا دیتی ہے۔ آدمی سچ بولتا ہے اور کوشش کر کے سے سچ بولنے کے موقعے تلاش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں صادق (سچ بولنے والا) کے نام سے مشہور ہوجاتا ہے۔ اس کے برخلاف جھوٹ سے بچتے رہو کیونکہ جھوٹ انسان میں فسق (گناہ) کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور اس کا فسق اس کو جہنم تک پہنچا دیتا ہے۔ انسان جھوٹ بولتا ہے اور کوئی موقع ایسا نہیں چھوڑتا کہ جس میں جھوٹ نہ بولے یہاں تک کہ وہ اللہ کی بار گاہ میں کذاب (جھوٹا) کا لقب حاصل کرلیتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سچ بولنے سے نہ صرف نیکی اور بھلائی کی توفیق عطا کی جاتی ہے بلکہ انسان کو اللہ کی نظر میں محبوب اور جنت کا حق دار بنا دیتا ہے اس کے برخلاف جھوٹ بولنے والے کو نہ صرف گناہوں پر جرأت ہوتی ہے بلکہ وہ اللہ کی نظر میں برا اور جہنم کی ابدی آگ کا مستحق بن جاتا ہے اسی لئے سورة انعام میں ظالموں اور فاسقوں کی صحبت سے بچنے اور پاس بیٹھنے سے انسان کو نصیحت ملتی ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرو تاکہ تمہیں تقویٰ اور پرہیز گاری کا اعلیٰ مقام حاصل ہو سکے۔ ان آیات میں دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ جب اللہ کی راہ میں نکلنے والوں اور تکلیفیں اٹھانے والوں کا اجر وثواب بہت زیادہ ہے تو ایک مومن کی کسی طرح کی سستی کاہلی اور غفلت مناسب نہیں ہے خواہ ان کو شہری زندگی حاصل ہو یا دیہاتی جو بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا اور اس راستے کی سختیوں کو برداشت کرے گا وہ یہ نہ سمجھے کہ اس کی محنت ضائع ہوگئی بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اسی کا ایک عمل اور کام لکھا جا رہا ہے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر ہی ایک واقعہ احادیث میں لکھا گیا ہے کہ انسان کو کس طرح بھلائی کی توفیق ملتی ہے اور وہ نوازا جاتا ہے۔ ابو خیثمہ حضور اکرم ﷺ کے ایک صحابی ہیں یہ بھی ان لوگوں میں سے تھے جو کسی غفلت یا سستی کی وجہ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ حضور اکرم ﷺ جب غزوہ تبوک کے لئے روانہ ہوگئے تو وہ ایک دن اپنے خوبصورت باغ میں گئے وہاں خوب گھنا سایہ تھا۔ ان کی بیوی بھی موجود تھیں۔ انہوں نے پانی چھڑک کر زمین کو خوب ٹھنڈا کرلیا۔ چٹائی بچھا کر تازہ کھجور کے خوشے سامنے رکھے ، ٹھنڈا ٹھنڈا پانی رکھ کر ابھی کھانا ہی شروع کیا تھا کہ اچانک ان کے دل و دماغ میں ایک بجلی سی کوند گئی اور ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ میں تو یہاں عیش و آرام سے کھانے پینے میں لگا ہوا ہوں اور اللہ کے پیارے رسول ﷺ سخت گرمی، لو اور تشنگی کے عالم میں کوہ بیاباں طے کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس خیال کے آتے ہی میں نے سواری منگوائی ، تلوار ہاتھ میں لی نیزہ سنبھالا اور اونٹنی کو دوڑاتا ہوا ریت کے ٹیلے اور پہاڑوں سے بڑی تیزی کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کے لشکر کے پاس پہنچ گیا حضور اکرم ﷺ نے مجھے پہچان لیا اور میں مجاہدین کے ساتھ شریک جہاد ہوگیا۔ شاید یہ آیات حضرت ابو خیثمہ صحابی رسول ﷺ یا ان جیسے لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہوں واقعی صحابہ کرام کی کتنی بڑی شان ہے کہ ان کی ہر قربانی اور ادا کو بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لئے محفوظ فرما دیا اور قرآن کریم نے بتا دیا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں ہر طرح کی تکلیفیں بردشات کرتے ہیں وہ زندہ جاوید ہوجایا کرتے ہیں۔
Ayah 9:122

وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةً١ؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠ Open ayah 9:122 in the Quran reader

اور مومنوں کو یہ مناسب نہیں ہے کہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں۔ پھر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت نکلتی تاکہ وہ لوگ دین کی سمجھ پیدا کر کے جب وہ ان کی طرف پلٹ کر جائیں تو وہ ان کو ڈرائیں تاکہ وہ بچتے رہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 122 لینفروا (تاکہ نکل پڑیں) کا قۃ (سب کے سب) لیتفقھوا (تاکہ وہ سمجھ پیدا کریں) لینذروا (تاکہ وہ ڈرائیں رجعوا (وہلوٹے) یحذرون (وہ بچتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 122 غزوہ تبوک کا موقع وہ تھا جہاں بنی کریم ﷺ نے تمام تر وسائل کے ساتھ تمام ان مسلمانوں کو جنہیں کوئی واقعی عذر نہ ہو اس جہاد میں شرکت کا حکم فرما دیا تھا کیونکہ مقابلہ روم کی سلطنت سے تھا جو اس وقت دنیا کی سپر پاور تھی اگر بروقت اقدام نہ کیا جاتا تو رومی سلطنت مسلم مملکت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتی لیکن اتنی بڑی فوج کی پیش قدمی نے رومی سلطنت کے حصولے پسند کردیئے بلکہ اچانک اتنی بڑی فوج کو دیکھ کر ان کو مقبالہ پر آنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ یہ تو ایک ” نفیر عام تھا جس میں ہر شخص کو شریک ہونا لازمی تھا جس کو بظاہر کوئی عذر نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ اس طرح کا حکم ہمیشہ نہیں دیا اسی لئے علماء کرام نے یہ فرمایا ہے کہ جہاد کی فرضیت دو طرح ہے اگر امیر کی طرف سے ” نفیر عام “ کا حکم ہو تو پھر ہر شخص کے لئے جہاد میں نکلنا ” فرض عین “ ہوجاتا ہے جس سے بلا عذر پیچھے رہ جانا حرام ہے لیکن اگر نفیر عام نہ ہو تو حسب ضرورت کچھ لوگوں کا نکلنا سب کا نکلنا کہلائے گا اس کو ” فرض علی الکفایہ “ کہتے ہیں۔ فرض علی الکفایہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کچھ لوگ جہاد پر نکل گئے اور بقیہ زندگی کے اور فرائض میں لگے رہے تو کچھ لوگوں کا جہاد میں نکلنا سب کی طرف سے شمار ہوگا۔ اس آیت میں تفقہ فی الدین ” یعنی دین کا علم حاصل کرنا اس کی سمجھ پیدا کرنے کو جہاد کے برابر قرار دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا دین صرف یہی نہیں سکھاتا کہ ہر شخص ہر وقت تیر و تلوار ہاتھ میں لے کر جب تک میدان میں نہیں نکلے گا اس وقت تک وہ مجاہد نہیں کہلائے گا بلکہ اللہ کے دین میں تفقہ اور سمجھ پیدا کرنا اس کا علم حاصل کرنا بھی جہاد ہی ہے۔ اسلئے فرمایا گیا ہے کہ ” اللہ جس کے ساتھ بھلائیک رنا چاہتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔ “ اس بات کو اس طرح فرمایا گیا ہے کہ ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت دین کو سمجھ حاصل کرنے کے لئے نکل کھڑی ہو ” تاکہ ایک ایسی جماعت تیار ہوجائے جو لوگوں کو اللہ کے تقویٰ کی طرف لاتی رہے وہ ہر گناہ کی بات سے بچتی رہے۔ جہاد بالسیف اور جہاد بالعلم اپنے اپنے وقتوں پر دونوں ہی ضروری ہیں۔ اگر امام وقت عام جہاد کا حکم دیدے تو ہر شخص کو اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے اپنا مال اور جان سب کچھ قربان کرنے کے لئے میدان میں آنا فرض ہے لن کے عام حالات میں جب کہ ” جہاد بالسیف “ کا حکم نہ ہو تو علم حاصل کرنا اور زندگی کے دیگر فرائض کو پورا کرنا بھی جہاد ہی ہے۔
Ayah 9:123

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:123 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم ان کفار سے قتال کرو جو تمہارے آس پاس ہیں اور تمہارے اندر وہ سختی محسوس کریں اور یہ بات جان لو کہ اللہ تقویٰ والوں کے ساتھ ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 123 یلون (وہ جو ملے ہوئے ہیں، قریب ہیں) ولیجدوا (اور چاہئے کہ وہ محسوس کریں) غلظۃ (سختی) تشریح :- آیت نمبر 123 اس آیت میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ (1) اے مومنو ! جب تم کفار سے جہاد کرو تو سب سے پہلے ان لوگوں سے جاد کرو جو تم سے قریب تر ہوں خواہ فاصلے کے لحاظ سے یا قربات داری اور رشتہ داری کے لحاظ سے۔ (2) فرمایا کہ جب تم کفار سے جاد کرو تو دشمن تمہارے اندر ایسی جرأت و ہمت اور مردانہ صلاحیتوں کا اندازہ کرلے جس سے اس کو دوبارہ آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہ ہو۔ (3) تیسری بات یہ فرمائی گئی کہ اللہ لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ ان تین باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاد جو محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے کیا جاتا ہے جس میں قومی اور وطنی غیرت، مال و دولت کا حصول، تعصب و جہالت اور حکومت و اقتدار کا کوئی جذبہ موجود نہیں ہوتا بلکہ ایک مجاہد کا مقصد محض اللہ کے دین کی سربلندی ہوتی ہے اس کو جہاد کہتے ہیں۔ فرمایا کہ کفار و مشرکین سے جب بھی قتال کیا جائے تو اس بات کا پوری طرح خیال رکھا جائے کہ جو لوگ علاقہ یا رشتہ وتعلق کے اعتبار سے سب سے قریب ہوں وہاں سے اللہ کے دشمنوں کا صفایا کرایا جائے۔ یہ ایک بہت بڑی حماقت ہے کہ آس پاس دشمن موجود ہوں اور آدمی ان کو چھوڑ کر دور کے دشمنوں سے مقابلہ کرنا شروع کر دے۔ نبی کریم ﷺ کی یہی سنت اور طریقہ رہا ہے کہ آپ نے سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش فرمائی۔ اسی طرح آپ ﷺ نے پہلے ان لوگوں سے جہاد فرمایا جو آس پاس رہ کر اللہ ، رسول ﷺ اور مومنوں کے دشمن ہیں اور اپنی سازشوں کے جال پھیلائے ہوئے ہیں۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی کہ بیشک دین اسلام امن و سلامتی کا دین ہے اس کا مقصد جنگ وجدال نہیں ہے لیکن اگر دشمنان اسلام اللہ کے دین کو مٹانے کے در پے ہوں تو پھر ایسی جرأت و ہمت سے دشمن کا مقابلہ کیا جائے کہ پھر کبھی دشمن کو آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہ ہو۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ ان ان اہل ایمان کی مدد فرماتا ہے جو محض اللہ کی رضا و خوشنودی کو سامنے رکھ کر اپنا ہر کام کرتے ہیں اور تقویٰ و پرہیز گاری جن کی زندگی ہوتی ہے۔
Ayahs 9:124–127

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًا١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 9:124 in the Quran reader

اور جب کوئی (نئی ) سورت نازل کی جاتی ہے تو ان میں سے بعض (منافق) لوگ کہتے ہیں کہ اس سے تمہارے ایمان میں کچھ اضافہ ہوا ؟ بہرحال وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں اس سے ان کے ایمان میں ترقی ہوتی ہے اور وہ خوشیاں مناتے ہیں

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:125 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے دلوں میں (منافقت کا) مرض ہے ان کی گندگی میں گندگی کا اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ اس حال میں مرتے ہیں کہ وہ کافر ہی ہوتے ہیں۔

اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 9:126 in the Quran reader

کیا وہ اس بات کو نہیں جانتے کہ ہر سال میں ایک یاد و مرتبہ وہ کسی آفت میں پھنستے ہیں پھر بھی وہ (اپنی حرکتوں سے) باز نہیں آتے اور وہ ذرا بھی دھیان نہیں دیتے

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ١ؕ هَلْ یَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:127 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں کہ انہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا ہے۔ پھر وہ کھسک لیتے ہیں (درحقیقت) اللہ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 124 تا 127 ایکم (تم میں سے کس کا) زادتہ (اس نے اضافہ کیا) یستبشرون (وہ خوشیاں مناتے ہیں) رجس (گندگی) یفتون (آزمائے جاتے ہیں ) کل عام (ہر سال) لایتوبون (وہ توبہ نہیں کرتے ہیں) لا ھم یذکرون (اور نہ دھیان دیتے ہیں) نظر (دیکھا) ھل یرکم (کیا کوئی تمہیں دیکھ رہا ہے) انصرفوا (وہ چل دیتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 124 تا 127 جب بھی کچھ آیات نازت ہوتیں تو عام طور پر نبی کریم ﷺ صحابہ کرام کو بلا کر آیات سناتے۔ وہ لوگ جو نفاق کے مرض میں مبتلا تھے وہ صرف اس لئے آجاتے تھے کہ کہیں ان کی منافقت کا پردہ چاک نہ ہوجائے۔ جو اہل ایمان تھے وہ تو ان آیات کو بہت ذوق شوق سے سنتے تھے لنک منافقین جو محض مارے باندھے شرکت کرلیا کرتے تھے اور اکتائے ہوئے سے بیٹھے رہتے اور موقع ملتے ہی کھسک لیتے۔ کبھی تو وہ طنز کے طور پر کہتے بھلابتائو اس نئی سورت سے یا تازہ آیات سے کس کس کے ایمان میں اضافہ ہوا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کو سال بھر میں اسی طرح کئی مرتبہ آزماتا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنی منافقانہ ذہنیت سے باز نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو بےعقل قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر ان کو عقل ہوتی تو وہ اپنے وقتی مفادات کی وجہ سے آخرت کی زندگی کو برباد نہ کرتے۔
Ayahs 9:128–129

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:128 in the Quran reader

البتہ یقینا تمہارے پاس رسول آگیا ہے جو تم میں سے ہی ہے۔ تمہیں جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ان کو سخت ناگوار گذرتی ہے۔ وہ اہل ایمان کے لئے بہت ہی بھلائی کے خواہشمند ، نہایت شفیق اور نہایت کرم کرنے والے ہیں۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ۖۗ٘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 9:129 in the Quran reader

پھر بھی اگر وہ منہ پھیرتے ہیں تو (اے نبی ﷺ آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میرا اللہ مجھے کافی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور وہی عرش عظیم کا پروردگار ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 128 تا 129 من انفسکم (تمہارے اندر سے، تم میں سے) عزیز (بھاری ہے) عنتم (جو تمہیں نقصان پہنچے) حریص (زیادہ خواہشمند) رء وف (مہربان) رحیم (بہت رحم کرنے والا) حسبی اللہ (مجھے اللہ کافی ہے) توکلت (میں نے بھروسہ کرلیا) ھو (وہ) رب العرش العظیم (عرش عظیم کا پروردگار) تشریح : آیت نمبر 128 تا 129 سورئہ توبہ کو حق تعالیٰ شانہ نے ان دو آیات پر ختم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ تمہارے پاس اللہ کے وہ رسول ﷺ آ چکے ہیں جو تمہارے انتہائی مخلص و مہربان ہیں جو ہر وقت اہل ایمان کی بھلائی کے خواہشمند رہتے ہیں شفقت و محبت اور کرم کرنا جن کا مزاج ہے۔ ان تمام سچائیوں کے باوجود اگر وہ کفار و منافقین پھر بھی ایسے ظعیم رسول سے منہ پھیرتے ہیں تو اس سے زیادہ بدقسمتی اور کیا ہوگی۔ نبی کریم ﷺ سے بھی فرما دیا گیا ہے کہ آپ ان تک پیغام حق ضرور پہنچا دیجیے لیکن اگر وہ غیر اللہ کو ہی اپنا معبود بنائے ہوئے ہیں تو آپ اعلان فرما دیجیے کہ میرا اللہ مجھے کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور وہی ساری کائنات اور عرش عظیم کا مالک ہے۔ سورئہ توبہ کی ان دو آخری آیتوں کے متعلق حضرت ابی بن کعب نے فرمایا کہ سورة توبہ کی یہ آخری دو آیتیں قرآن کریم کی بھی آخری آیتیں ہیں جن آیتوں کے بعد آپ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ (قرطبی) سورئہ توبہ کی ان دو آخری آیات میں اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے لئے فرمایا ہے کہ وہ ایسی عالی صفت شخصیت ہیں، وہ سارے عرب ساری دنیا اور قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے رحمت ہی رحمت ہیں جن کی شفقت و رحمت اس قدر عظیم ہے کہ خود تکلیفیں برداشت کرتے ہیں لیکن امت کی ادنیٰ سی تکلیف بھی آپ کو گوار نہیں ہے۔ وہ ساری انسانیت کے لئے مونس و غم خوار، ہمدرد غم گسار اور حد درجہ مہربان ہیں ایسے شفیق و مہربان نبی ﷺ کی طرف رجوع کرنا چاہئے تھا لیکن اگر کوئی پھر بھی اپنی بدقسمتی کو آزاد دیتا ہے اور وہ ایسے پیارے، شفیق اور عظیم نبی ﷺ سے منہ پھر لیتا ہے تو فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ ان کی بےرخی سے پریشان نہ ہوں۔ اللہ پر بھروسہ کیجیے وہی ساری کائنات کا اور عرش عظیم کا مالک ہے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین