Ayahs 9:71–72لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 72
یطیعون (اطاعت کرتے ہیں) سیرحم (بہت جلد وہ رحم کرے گا) مسکن طیبۃ (پاکیزہ مکانات) اکبر (زیادہ بڑا، زیادہ بڑھ کر) الفوز العظیم (بڑی کامیابی)
تشریح : آیت نمبر 71 تا 72
گزشتہ آیات میں منافقون کی علامات بیان کی گئی تھیں اور بتایا گیا تھا کہ ان کا انجام کیا ہے ان آیات میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کی پہچان کیا ہے اور ان کا انجام کیا ہے ؟ یہ درحقیقت ایک تقابلی موازنہ ہے تاکہ منافقین اور مومنین کا فرق واضح طور سے سامنے آجائے۔
1) منافقین کا آپس میں وقتی مفادات پر اشتراک اور تعاون تو ضرور ہے لیکن وہ ایک دوسرے کے دوست نہیں ہیں اسی لئے فرمایا گیا ” بعضھم من بعض “ لیکن ممنین کے لئے فرمایا گیا ” بعضھم اولیاء بعض “ یعنی مومن ایک دوسرے سے ذاتی دوستی اور قلبی بھائی چارہ رکھتے ہیں یہ دوستی خلاص فی سبیل اللہ ہوتی ہے اس لئے ان کی دوستی اور قلبی تعلق بہت پائیدار اور مضبوط ہوتا ہے غائب اور حاضر دونوں صورتوں میں وہ ایک دوسرے کے مخلص ہوتے ہیں ایک ہی مقصد کے تحت رہنے اور باہم مل جل کر ایک امیر کے تحت کام کرنے سے ان کا جذبہ خلوص و محبت بڑھتا جاتا ہے۔
2) منافقین کا کام یہ ہے کہ وہ برائی کے کاموں میں مدد کے لئے اور نیکیوں کے کاموں میں رکاوٹیں ڈالنے اور اس کی روک تھام کے لئے اپنی تمام تر طاقتیں لگا دیتے ہیں جب کہ مومنین نیکی کے کاموں میں مدد کے لئے اور برائیوں کی روک تھام اور انسداد میں اپنی توانائیاں لگا دیتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ وہ خود بھی اور دوسرے بھی نیکیوں میں آگ بڑھتے چلے جائیں۔ انہیں گناہوں سے نفرت اور نیکیوں اور نیک کام کی توفیق مل جائے۔
3) وہ نماز کو قائم کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں۔ یعنی وہ صرف نماز ہی نہیں پڑھتے بلکہ وہ مساجد کا ایسا انتظام کرتے ہیں کہ جس میں نمازوں کا نظام قائم ہو سکے۔ نمازیں جماعت کے ساتھ ہوں، جہاں اذان، وضو اور امامت کا باقاعدہ انتظام ہو۔ اس کے معنی ہیں کہ وہ ایک ایسی سوسائٹی قائم کرتے ہیں جس میں ایک دوسرے سے تعاون، خلوص اور اجتماعیت کی شان ہوتا کہ وہاں سے کافی مقدار میں ایسے لوگ نکل سکیں جو صلوۃ با جماعت کے لئے اپنے دوسرے بھائیوں کو جمع کرسکیں ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہو سکیں اس سوسائٹی کے قائم ہونے سے ان میں تبلیغ ، تنظیم اور جہاد کے جذبے بیدار ہوتے ہیں وہاں اسلام ایک زندہ و تابندہ قوت بن کر ابھرتا ہے۔ صلوۃ میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے وہ اللہ اور بندے کے درمیان ایک مقدس معاہدہ ہوتا ہے اور وہ معاہدات، تنظیم اور جہاد کا مطالبہ کرتا ہے۔ محض ظاہری بےجان رسمیات کا نام نماز نہیں ہے بلکہ نماز کا ایک ایسا نظام قائم ہوتا ہے جس میں اخوت، محبت اور ایک دوسرے سے ہمدردی کے جذبات پروان چڑھتے ہوئے دکھائی دیں۔
4) وہ زکوۃ ادا کرتے ہیں۔ آج کل زکوۃ انفرادی طور پر نکالی جاتی ہے جس میں کسی تنظیم کو دخل نہیں ہے اس لئے زکوۃ جو مسلمانوں کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے وہ محض خیرات اور بھیک بن کر رہ گئی ہے جس سے وہ نتائج سامنے نہیں آ رہے ہیں جو اس عبادت کو قائم کرنے کا مقصد تھا۔
5) اہل ایمان کی یہ پہچان بتائی گئی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مکمل اطاعت و فرماں برداری کرتے ہیں۔ اسی لئے ان سے رحمت کا بھی وعدہ ہے اور جنت کا بھی جہاں انہیں اللہ کی رضا و خوشنوید حاصل ہوگی اور یہی ان کیلئے سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
Ayah 9:73لغات القرآن آیت نمبر 73
جاھد (جہاد کیجیے) اغلط (سختی کیجیے) ماوی ٹھکانا بئس المصیر (بدترین ٹھکانا)
تشریح : آیت نمبر 73
مومنین اور منافقین کی تمام علامتیں اور پہچان بتانے کے بعد نبی کریم ﷺ کو باضابطہ خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ان کفار اور منافقین کے خلاف ایسی کوششیں کی جائیں جس سے وہ اس بات کا بخوبی اندازہ کرلیں کہ اسلام کوئی ایسا نرم چارہ نہیں ہے کہ جس کا دل چاہے وہ اس کو اپنے حق میں استعمال کرلے بلکہ پانی قوت و طاقت سے ان پر سختی کا اظہار کردیجیے۔ اس حکم کی اہمیت میں کلام نہیں ہے لیکن یہاں قتال کا نہیں بلکہ جہاد کا حکم دیا جا رہا ہے۔ جہاد کیا ہے ؟ جہاد درحقیقت ایک تحریک ہے جس کے بہت سے پہلو اور بہت سے اندازہو سکتے ہیں اور جس کی حکمت عملی موقع اور مصلحت کے لحاظ سے تبدیل کی جاسکتی ہے۔ جہاد تبلیغ سے شروع ہوتا ہے اور قتال پر ختم ہوتا ہے ۔ اگرچہ قتال جہاد میں شامل ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر جہاد قتال ہو۔ جہاد عموماً پر امن ہوتا ہے۔ جہاد مصدر ہے جس کے معنی پوری طاقت لگا دینا، دین کی حفاظت اور اعلاء کلمتہ اللہ کی خاطر کوشش اور جدوجہد کرنا، خواہ زبان سے خواہ ہاتھ پاؤں سے خواہ قلم سے خواہ عقل و تدبیر سے خواہ تلوار سے۔ جہاد اسلام کی اپنی اصطلاح ہے۔ اس کے معنی ہیں مسلسل پرخلوص کوشش ایک تنظیم، ایک امیر کے تحت اور خالص فی سبیل اللہ جدوجہد کرنا۔
یہاں پر جو جہاد کا حکم ہے اس کے لازمی معنی قتال کے نہیں ہیں بلکہ بہتر ہے کہ تلوار سے ہٹ کر کفار اور منافقین کا قافیہ تنگ کردیا جائے ” ان پر سختی کیجیے “ کے قطعاً یہ معنی ہیں کہ ان سے سختی سے نمٹا جائے اور ان کو بتا دیا جائے کہ مسلمان کمزور اور نرم چارہ نہیں ہیں۔ ان کے لئے تبلیغ کا راستہ تو ضرور کھلا رکھا جائے لیکن اس کے علاوہ ان پر ہر راستہ بند کر دیاجائے تاکہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں۔
ان آیتوں کے نازل ہونے کے وقت نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کو تقریباً نو سال ہوچکے تھے۔ ابھی تک جزیرۃ العرب کے کفار و مشرکین اور منافقین سے مقابلہ تھا لیکن جب مسلمانوں کو پوری قوت و طاقت حاصل ہوچکی تھی تو اب سلطنت روما سے دو دو ہاتھ کرنے کی پوزیشن سامنے موجود تھی فرمایا کہ اب ان آستنیوں کے سانپوں کے ساتھ نرمی کی ضرورت نہیں ہے ورنہ یہ لوگ بڑے مسائل پیدا کردیں گے۔ اسلئے ان کے خلاف جہاد کیا جائے۔ اور ان کو اپنے وجود سے الگ تھلگ کردیا جائے۔ فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا آخرت میں کوئی مقام نہیں ہے ان کے لئے جہنم مقرر کردی گئی ہے اس بدترین ٹھکانے میں ان کو ذلت و رسوائی سے واسطہ پڑے گا۔
Ayahs 9:74–78لغات القرآن آیت نمبر 74 تا 78
ھموا (ارادہ کیا) لم ینالوا (ان کو نہیں ملا) مانقموا (انہوں نے بدلہ نہیں لیا) اغنی (بےنیاز کردیا) خیر (زیادہ بہتر) لئن اثنا (البتہ اگر ہمیں دیا) لنصدقن (البتہ ہم صدقہ کریں گے) لنکوتن (البتہ ہم ضرور ہوں گے) بخلوا (انہوں نے کنجوسی کی) اعقب (نتیجہ یہ ہوا) یوم یلقونہ (جس دن اس سے ملیں گے) اخلقوا (انہوں نے خلاف کیا) الم یغلموا (کیا وہ نہیں جانتے) سر (بھید، چھپی ہوئی چیز) نجوی (سرگوشی، کان میں چپکے چپکے باتیں کرنا غلام الغیوب (غیبوں کا جاننے والا)
تشریح :- آیت نمبر 74 تا 78
منافقین کس حد تک جھوٹے ہیں جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور اللہ سے وعدہ خلافی کرتے ہیں اس کی گواہی میں واقعات زندگی سے دو مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ قرآن کریم اور مصنوعی مذاہب کی کتابوں میں ایک واضح فرق ہے۔ قرآن کریم نے اب تداء سے انتہا تک تاریخ کی سب سے بڑی انقلابی تحریک کی قیادت و راہنمائی کی ہے جب کہ دوسرے مذاہب کی کتابوں کا کسی مختصر ترین تحریک سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ قرآن کریم ہی وہ کتاب زندگی ہے جو واقعات زندگی سے بھرپور مثالیں پیش کرسکتی ہے۔
قرآن کریم نے پردہ رکھنے کے لئے نہ تو وہ بات بتائی ہے جس سے منافقین مکر جائیں نہ کہیں کسی منافق کا نام لیا ہے۔ مگر قرائن کہتے ہیں کہ چند منافقین نے ایک منصوبہ بنایا تھا کہ جب حضور اکرم ﷺ تبوک سے واپس آجائیں اور ایک گھاٹی کے پاس سے گذریں تو ان پر حملہ کر کے آپ کو (نعوذ باللہ) قتل کردیں۔ حضرت جبرئیل امین نے اللہ کے حکم سے آپ کو بروقت خبر دیدی اور آپ نے دوسرا راستہ تبدیل کر کے بڑے تیزی سے مدینہ منورہ کی طرف پیش قدمی فرمائی تاکہ آپ جلد از جلد مدینہ منورہ پہنچ جائیں اور منافقین کی سازش ناکام ہوجائے۔
اس سلسلے میں منافقین میں سے کسی نے ایک بات کہی تھی جسے ایک صحابی رسول ﷺ نے سن لیا اور بات حضور اکرم ﷺ تک پہنچا دی۔ حضور ﷺ نے جب اس منافق کو طلب کیا تو وہ اللہ کی جھوٹی قسمیں کھا کر اپنی بےگناہی کا یقین دلانے لگا کہ اس نے ایسا نہیں کہا تھا۔ اس پر ان صحابی نے بھی قسم کھائی کہ یہ جھوٹا ہے اس نے واقعتاً وہ بات کہی تھی۔ اسی وقت وحی نازل ہوئی جس میں صحابی رسول ﷺ کا سچا ہونا اور منافق کے جھوٹا ہونے کی طرف اشارہ کردیا گیا۔ اس پر منافق شخص نے اپنے گناہ اور غلطی کا اعتراف کرلیا اس نے سچے دل سے توبہ کی اور از سر نو مسلمان ہوگیا۔
اس آیت میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ منافقین اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ وہ نبی مکرم ﷺ کے قتل کا مصنوبہ تک بنا سکتے ہیں۔ ان سے ہوشیار رہنے کی سخت ضرورت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ بروقت اپنا منصوبہ مکمل نہ کرسکے اور بری طرح ناکام رہے ۔
ایک اور واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ ایک بظاہر مومن نے حضور اکرم ﷺ سے فرمائش کی کہ اس کے مال و دولت میں اضافہ کی دعا کردی جائے۔ آپ ﷺ نے از راہ شفقت اس کے لئے دعا فرما دی ۔ اس کے مویشی اور مال و دولت میں خوب اضافہ ہوگیا۔ حالانکہ اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ زکوۃ ادا کرے گا لیکن مال و دولت ملتے ہی اس نے کنجوسی اختیار کرلی۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے علی الاعان افسوس کا اظہار فرمایا۔ آیت نمبر 77 میں سزا کے طور پر اللہ نے اس کے نفاق کو اور مضبوط کردیا جو پوری زندگی اس کے دل سے نہ نکل سکا۔ حضرت عثمان غنی کے دور میں منافقت اور ذلت کے ساتھ اس کا خاتمہ ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا یہ منافق یہ سمجھتے ہیں کہ ان منافقین کے واقعات، منصوبہ بندی اور سازشیں اللہ جو کہ تمام غیبوں کا جاننے والا ہے اس کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔ نہیں بلکہ وہ اللہ پوشیدہ اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
Ayahs 9:79–80لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 80
المطوعین (نیکی کرنے والے) لایجدون (وہ نہیں پاتے ہیں) جھدھم (اپنی کوشش اور محنت) یستخرون (وہ مذاق اڑاتے ہیں، مذاق کرتے ہیں) استغفر (دعائے مغفرت کر) سبعین (ستر) مرۃ (ایک مرتبہ، مرتبہ ) لنیغفر (وہ ہرگز معاف کرے گا)
تشریح : آیت نمبر 79 تا 80
صحابہ کرام جو رسول اکرم ﷺ کے ایک اشارے پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار رہتے تھے ان کو بھی جو میسر ہوتا وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے کم ہو یا زیادہ، منافقین جن کو صحابہ کرام کی جاں نثاری کا ہر انداز برا لگتا تھا کوئی بھی موقع ہوتا طعن و طنز سے باز نہیں آتے تھے اور ہر بات میں کوئی نہ کوئی ایسا پہلو نکال لیتے جس سے وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال سکیں ۔ اگر کوئی اللہ کے راستے میں زیادہ دیتا تو وہ اس کو دکھا وا اور ریا کاری کا نام دیدیتے تھے۔ کوئی حیثیت کے مطابق تھوڑا سا ایثار کرتا تو یہ منافقین ان کی تھوڑی چیز کا مذاق اڑاتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو دل کی خوشی سے اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہوئے صدقات دیتے ہیں یہ منافقین ان کا بھی مذاق اڑاتے ہیں اور جو لوگ اپنی محنت مزدوری سے کما کر تھوڑا سا صدقہ کرتے ہیں یہ ان پر پھبتیاں کسنے میں کمی نہیں کرتے۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ اہل ایمان کا کیا مذاقا ڑائیں گے اللہ ان منافقین سے خود ایک بھیانک مذاق کر رہا ہے اور یہ لوگ درد ناک عذاب کے مستحق بن چکے ہیں۔
احادیث میں صحابہ کرام کے صدقات دینے کی اس کیفیت کو بیان کیا گیا ہے۔
ایک مرتبہ خاتم الانبیاء نے اہل ایمان کو صدقات دینے کی طرف رغب دلائی تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے چار ہزار درہم پیش کردیئے۔ حضرت عاصم بن عدی نے ایک سو وسق کھجوریں پیش کیں جو چار ہزار درہم قیمت کی تھیں۔ ایک صحابی نے جو غریب تھے اپنی محنت مزدوری سے حاصل ہونے والی کمائی میں سے ایک صاع کھجوریں پیش کیں۔ جن و صحابہ نے چار چار ہزار ہم صدقہ کئے تھے ان کے متعلق تو منافقین نے ریا کاری اور دکھاوے کا الزام لگایا اور جن صحابی نے ایک صاع کھجوریں پیش کی تھیں ان کا خوب مذاق اڑایا کہ بھلا ایک صاع کھجور بھی کوئی دینے کی چیز تھی۔ غرض یہ کہ ان منافقین کا کام یہی تھا کہ جس طرح ممکن ہو صحابہ کرام کیا یثار و قربانی کے جذبوں کو پامال کرنے کیلئے طرح طرح کی باتیں کی جائیں اور ہمت بڑھانے کے بجائے ان کی ہمتیں پست کی جائیں۔
اللہ تعالیٰ نے منافقین کے متعلق بہت تفصیل سے ارشاد فرمایا اور پھر ارشاد ہوا کہ اے نبی ﷺ ! یہ منافقین اپنے نفاق اور کفر میں اس مقام تک پہنچ چکے ہیں جہاں ان کے لئے نبی ﷺ کی دعائے استغفار خواہ وہ ستر مرتبہ ہی کیوں نہ ہو کوئی فائدہ نہ دے گی اور اللہ ان کو معاف نہ کرے گا۔
اس آیت کے ضمن میں مفسرین نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ جب رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابی کا انتقال ہوگیا تو عبداللہ ابن ابی کے بیٹے حضرت عبداللہ ابن عبد اللہ ابن ابی جو انتہائی مخلص صحابی رسول تھے انہوں نے درخواست کی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ میرے والد کی نماز جنازہ پڑھا دیجیے اور ان کے لئے دعائے مغفرت کیجیے حضور اکرم ﷺ نے اپنا قمیص دیا کہ عبداللہ ابن ابی پر ڈال دیا جائے اور آپ ﷺ اس کے لئے نماز جنازہ پڑھانے کے لئے تیار ہوگئے۔ حضرت عمر فاروق نے پورے ادب وا حترام کے ساتھ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے جس نے پوری زندگی اسلام کے خلاف فلاں فلاں کام کئے۔ جب کہ اللہ نے بھی فرما دیا ہے کہ ایسے منافقین کے لئے دعائے مغفرت کی جائے یا نہ کی جائے خود دعائے مغفرت ستر مرتبہ بھی کی جائے اللہ اس کو معاف نہ کرے گا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے عمر اس کو معاف کرنا یا نہ کرنا یہ تو اللہ کا کام ہے مجھے اللہ نے اختیار دیا ہے ہے کہ میں اس کے لئے دعائے استغفار کروں یا نہ کروں۔ لہٰذا میں اس کی نماز جنازہ پڑھاؤں گا چناچہ آپ نے اس رئیس المنافقین کی نماز جنازہ پڑھائی دعاء مغفرت کی اور آپ قبرستان اس کی تدفین میں بھی شریک ہوئے۔ اس کے بعد جب یہ آیت نازل ہوگئی ولا تصل علی احد منھم یعنی اے نبی ﷺ آپ ایسے لوگوں کی نماز جنازہ نہ پڑھائے اور نہ اس کی تدفین میں میں شرکت فرمائیے۔ جب اللہ تعالیٰ کا یہ واضح حکم آگیا تو آپ نے اس کے بعد پھر کبھی کسی منافق کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی ۔
علماء نے لکھا ہے کہ اگر کسی کا فسق و فجور اور منافقت واضح ہو تو اس کی نماز جنازے سے بچنا زیادہ بہتر ہے۔
Ayahs 9:81–82تشریح آیت نمبر 81 تا 82
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر منافقین نے اس جہاز میں شرکت سے بچنے اور مال و دولت حاصل کرنے کیلئے ہزاروں بہانے بنائے تھے، وہیں وہ جاں نثار اور مجاہیدن صحابہ بھی تھے جو ہر چیز سے بےنیاز ہو کر محض اللہ کی رضا و خوشنوید اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و محبت میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے جہاد میں شریک ہونے کو سعادت سمجھ رے تھے۔ فرمایا گیا کہ یہ منافق جو رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں گھر پر بیٹھے رہ گئیا ور انہوں نے اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرنے کو برا سمجھا ہے اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اتنی شدید گرمی کے موسم میں سفر نہ کرو۔ ان کے لئے فرمایا کہ یہ تو دنیا کی گرمی ہے لیکن جب تمہیں تمہارے اعمال کے بدلے میں جہنم میں ڈالا جائے گا اس جہنم کی آگ اور گرمی کا تو دنیا کی گرمی سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔ اس دنیا کی گرمی تو چند دن کی ہوتی ہے پھر موسم بدل جاتا ہے لیکن جہنم کی گرمی تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہوگی۔ کاش اس بات کو اسی دنیا کی عارضی زندگی میں سمجھ لیا ہوتا۔ آج تم جتنی خوشیاں منا سکتے ہو منا لو۔ لیکن پھر تمہیں بہت زیادہ روناپڑے گا۔
ان آیات میں جہنم کی شدت کا ذکر ہے۔ قرآن کریم میں جہنم کی اس آگ کو انتہائی شدید کہا گیا ہے جس کا تصور اس دنیا میں ممکن ہی نہیں ہے۔ لیکن ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ جو بھی کافر اور مشرک ہیں ان کو اس جہنم میں ڈالا جائے گا جس کا ذکر کیا گیا ہے لیکن منافقین کے لئے فرمایا گیا ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں اس لئے ڈالے جائیں گے کہ وہ کافرانہ حرکتیں بھی کرتے تھے اور دھوکا دینے کے لئے مسلمانوں میں شریک بھی رہتے تھے تو ایک سزا ان کے کفر کی ہے اور ایک سزا ان کی اہل ایمان کو دھوکہ دینے کی ہے۔ اسی طرح آج وہ لوگ جو عیسائی ، یہودی یا مشرک ہیں ان کی سزا جہنم ہے لیکن وہ لوگ جو نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں ان کی سزا بھی دگنی ہے وجہ یہ ہے کہ ایک تو یہ کفر کہ وہ ختم نبوت کا عملاً انکار کرتے ہیں اور دوسری سزا اس بات کی کہ وہ مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے ان جے سی اعمال کرتے ہیں اور کفار و مشرکین سے ساز باز بھی رکھتے ہیں۔ منافقین اور قادیانی درحقیقت ایک ہی سکے کے دوزخ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان جیسے مکاروں سے مسلمانوں کی حفاظت فرمائے ۔ آمین
Ayah 9:83لغات القرآن آیت نمبر 83
رجعک (تجھے لوٹائے ) استاذنوک (وہ تجھ سے اجازت مانگیں) لن تخرجوا (تم ہرگز نہ نکلو گے) معی (میرے ساتھ) ابداً (ہمیشہ) رضیتم (تم راضی ہوگئے) افعدوا (تم بیٹھے رہو) الخلفین (پیچھے رہ جانے والے)
تشریح : آیت نمبر 83
غزوہ تبوک جو بہت اہم غزوہ تھا اس میں جو منافین حیلے بہانے کر کے اس بات پر خوش ہو رہے تھے کہ ہماری جان چھوٹ گئی ان کے متعلق مسلسل آیات میں وعیدیں آرہی ہیں تاکہ قیامت تک اب کسی کو اللہ اور رسول ﷺ کے مقابلے میں کسی حیلے بہانے کی جرأت نہ ہو۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرما دیا کہ اے نبی ﷺ آپ ان منافقین سے کہہ دیجیے کہ اب جہاد و قتال کا موقع آئے گا تو تمہیں اس جہاد میں نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی اور یہ لوگ نبی ﷺ کے ساتھ مل کر کسی دشمن سے نہ لڑ سکیں گے۔
منافقین کیلئے یہ سب سے بڑی وعید ہے کہ اب آئندہ کوئی منافق مسلمانوں کے ساتھ مل کر دشمنان اسلام سے جنگ نہ کرسکے گا۔ یہ منافقین کے لئے سب سے بڑی بدنصیبی اور محرومی کا اعلان ہے۔ اللہ نے اس کی وجہ بھی بتا دی ہے کہ جب منافقین سے پہلی مرتبہ یہ کہا گیا تھا کہ وہ اللہ کیلئے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اس کی راہ میں نکلیں جب انہوں نے اس کی نافرمانی کی تو اب اللہ نے ان کو اس نعمت جہاد سے ہمیشہ کے لئے محروم کردیا۔ جو ایک بہت بڑی محرومی ہے۔
Ayah 9:84لغات القرآن آیت نمبر 84
لاتصل (تو نماز نہ پڑھ) لاتقم (تو کھڑا نہ ہو) ماتوا (وہ مر گئے)
تشریح : آیت نمبر 84
ان منافقین کی پہلی محرومی تو یہ ہوئی کہ اب ان کا نام مجاہدین کی فہرست سے کاٹ دیا گیا ہے اور اب ان کو آئندہ کسی جہاد میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔
اس آیت میں یہ فرما دیا گیا کہ اے نبی ﷺ اگر ان منافقین میں سے کوئی مر جائے تو آپ نہ تو اس کی نماز جنازہ پڑھیں نہ دعائے مغفرت کریں اور نہ اس کی تجہیز و تکفین میں شرکت فرمائیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہو کر اس کے لئے دعائے مغفرت فرمائیں وجہ بھی ارشاد فرمایا دی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ نافرمانی کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔
محمدثین و مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ آیت مدینہ منورہ میں منافقین کے سرداروں کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس لئے آپ نے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد کسی منافق کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی۔
اس آیت سے نتیجہ کے طور پر یہ بات بھی سامنے آگئی ہے کہ منافقت کرنے والوں کے (جن کا نفاق واضح ہو ان کے) جنازوں پر مومنوں کو نماز نہ پڑھنی چاہئے نہ پڑھانی چاہئے۔
Ayahs 9:85–89لغات القرآن آیت نمبر 85 تا 89
تزھق (نکلے، نکالے) اولو الطول (طاقت والے) ذرنا (ہمیں چھوڑ دے) طبع (مہر لگا دی گئی) لایفقھون (وہ نہیں سمجھتے ہیں) المفلحون (کامیابی حاصل کرنے والے) اعد ت (تیار کر رکھا ہے)
تشریح : آیت نمبر 85 تا 89
اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے شروع میں ہی فرما دیا تھا کہ ان کے اموال اور اولادیں مومنوں کے لئے تو رحمت ہی رحمت ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی لیکن کفار اور منافقین کے لئے بڑی آفت ہیں چونکہ وہ ساری زندگی اسی میں پھنسے رہتے ہیں۔ جہاد تو بڑی بات ہے انہیں اسلام کی معمولی عملی خدمت کی توفیق بھی نہیں ہوتی وہ مرتے دم تک دین اسلام اور اس کے عملی پہلوؤں سے بھاگتے پھرتے ہیں۔ ان کفار و منافقین کو آخرت میں جو سزا ہوگی اس کا تو اس دنیا میں تصور بھی ممکن نہیں ہے لیکن دنیا میں ان کے لئے سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ ان کو توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوگی۔ غرضیکہ ان کے مال اور ان کی اولادیں دنیا اور دین دونوں میں وبال ہیں۔ اس کے بعد یہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں سے طاقت و قوت رکھنے والے ہٹے کٹے نوجوانوں کو جب یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لائیں اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ مل کر جہاد کریں تو ان کی زبانوں پر یہی ہوتا ہے کہ ہمیں اجازت دیجیے تاکہ ہم بھی ان لوگوں کے ساتھ بیٹھے رہیں جو یہاں ٹھہر گئے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ جو پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہنے پر راضی اور خوش ہیں یہ کسی سمجھ کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں پر اس طرح بدنصیبی کی مہریں لگا دیں کہ کوئی اچھی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔
لیکن اس کے برخلاف رسول اللہ ﷺ اور وہ جاں نثار جو آپ پر ایمان لے آئے ہیں ان کے نزدیک ان کے مال اور جانوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے بلکہ اپنے مالوں اور جانوں سے وہ جہاد کر رہے ہیں۔ فرمایا کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں مقدر کردی گئی ہیں ان کے لئے ایسی جنتیں تیار کی گئی ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی وہ لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ ان کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
اس سے معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو دنیا کی عارضی زندگی ، وقتی آرام اور چند مفادات کے لئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی اور جہاد سے جان چرا رہے ہیں ان کے لئے ابدی جہنم ہے جب کہ ان اہل ایمان کے لئے جو اللہ و رسول ﷺ کے احکامات کی تعمیل کر رہے ہیں اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کو اللہ و رسول کی رضا پر خرچ کر رو ہے ہیں ان کے لئے دین و دنیا کی تمام بھلائیاں لکھ دی گئی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ آج دنیا میں نہ تو وہ اہل ایمان موجود ہیں جنہوں نے اللہ و رسول کی اطاعت کی تھی اور نہ وہ کفار، مشرکین اور منافقین جنہوں نے رسول ﷺ کی نافرمانی کی تھی لیکن ان کی تاریخ اور زندگی کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ ان پر آج بھی فخر کیا جاتا ہے جنہوں نے اللہ و رسول ﷺ کی فرماں برداری کی۔ لیکن نافرمانوں کی طرف تو ان کی اولاد بھی نسبت کرنے میں فخر محسوس نہیں کرتی۔ یہ تو اس دنیا کا معاملہ ہے آخرت میں بھی ایسے لوگوں کا کوئی مقام نہ ہوگا اور ابدی جہنم ان کا مقدر بنا دیا جائے گا۔ ایسے لوگوں نے اپنی دنیا اور آخرت دونوں کی بربادی کا سامان کرلیا ہے۔
اس کے برخلاف اہل ایمان رسول ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سامنے اپنے مالوں اور جان کی پرواہ نہیں کی ان کی عزت اس دنیا میں بھی ہے، ہر دل میں ان کی عظمتیں موجود ہیں اور ان کی نسبت پر بھی فخر کیا جاتا ہے۔ ان کا آخرت میں کیا اعلیٰ مقام ہوگا شاید اس دنیا میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
Ayahs 9:90–93لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 93
المعذرون (معذرت پیش کرنے والے) الاعراب (دیہاتی) لبوذن (تاکہ اجازت دی جائے) سیصیب (جلد ہی پہنچے گا) الضعفآء (کمزور، ضعیف) المرضی (مریض) لایجدون (وہ نہیں پاتے ہیں) حرج (گناہ، تنگی) نصحوا (نصیحت کی، انہوں نے نصیحت کی) المحسنین (نیکو کار) اتوک (تیرے پاس آئے) لتحمل (تاکہ تو سوار کرا دے) لا اجد (میں نہیں پاتا ہوں ) اعین (عین) ، آنکھیں تفیض (بہہ رہی ہیں ) الدمع (آنسو) حزن (رنج و غم) الایجدوا (یہ کہ وہ نہیں پا رہے ہیں) السبیل (راستہ، الزام) اغنیآء (مالدار ہیں)
تشریح : آیت نمبر 90 تا 93
اعراب، اعرابی کی جمع ہے۔ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو شہروں کے باہر چھوٹی چھوٹی جگہوں پر رہتے ہیں گاؤں دیہات ان کا مسکن ہوتا ہے۔ شہر کے لوگ پھر بھی علم، تہذیب اور شائستگی سے قریب ہوتے ہیں لیکن جو لوگ دیہات اور چھوٹی جگہوں پر ہوتے ہیں ان کی تعلیم و تربیت شہریوں سے مختلف ہوتی ہے ان کے رہنے سہنے کے طریقے ان میں وہ مزاج پیدا نہیں کرتے جو مناسب فضا میسر ہونے پر انسان کو شہروں میں حاصل ہوتے ہیں۔ دیہاتیوں کے طریقے ان میں وہ مزاج پیدا نہیں کرتے جو مناسب فضا میسر ہونے پر انسان کو شہروں میں حاصل ہوتے ہیں۔ دیہاتیوں کی دوسری خصوصیت ان کی سادگی اور سادہ مزاجی بھی ہوتی ہے ان کو ” اعراب “ کہا جاتا ہے۔
قرآن کریم کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقت کا مرض صرف شہروں تک محدود نہ تھا بلکہ بعض بدوی اور اعرابی بھی اس مرض میں مبتلا تھے جب ان سے غزوہ تبوک کے موقع پر جہاد میں چلنے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے اپنی غربت، پریشانیوں، موسم کی سختی، جنگوں کی ناتجربہ کاری فصلوں کی تیاری جیسے سیکڑوں عذر پیش کردیئے اور اس جہاد میں اگر انہوں نے کچھ دیا بھی تو اس کو اس طرح پیش کیا جیسے وہ کسی سزا کا جرمانہ ادا کر رہے ہیں فرمایا کہ یہ لوگ ہر وقت اس فکر میں رہتے ہیں کہ اہل ایمان حالات کے بھنور میں پھنس جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔ لیکن ان میں جو اہل ایمان ہیں یعنی اللہ پر قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں وہ اپنے ہر خرچ کو اللہ سے قریب ہونے کے تصور کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور ہر وقت اللہ کے رسول ﷺ کی دعاؤں کے طلب گار رہتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو واقعی اللہ کا قرب حاصل ہوگا وہ اس کی رحمت کے مستحق ہوں گے۔ اللہ کو بہت جلد اپنی رحمت میں شامل فرمائے گا اور اپنی مغفرت اور رحمت سے نوازے گا۔
اللہ نے فرمایا کہ یہ منافقین تو ہزاروں بہانے اور حیلے کر کے اپنے آپ کو مطمئن کرچکے ہیں لیکن ان کا انجام بہت خراب ہے جو وہ اس دنیا میں اور آخرت میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
البتہ وہ لوگ جن کو واقعی عذر ہے وہ اگر جہاد میں جانے سے عذر پیش کریں تو اللہ کے پاس ان کا عذر قبول ہوگا اور انپر جہاد کی شرکت نہ کرنے پر کوئی عذر نہیں ہوگا یہ وہ لوگ ہیں جو بہت کمزور، اپاہج یا مجبور ہیں ان کے پاس جنگی ہتھیار یا وسائل نہیں ہیں اگر وہ جہاد میں شرکت نہیں کرتے تو ان سے کوئی مواخذہ نہیں ہے۔
دراصل مواخذہ تو ان لوگوں سے ہوگا جو مال دار، صاحب حیثیت، صحتمند ہیں جو جہاد میں شرکت کرسکتے ہیں مگر پھر بھی وہ طرح طرح کے عذر پیش کر کے جہاد سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہاں ایک بات غور کرنے کی ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے تبوک کے موقع پر جہاد میں جانے پر رضا مندی کے بجائے طرح طرح کے عذر پیش کئے ان پر مسلسل آیات میں جہنم کی وعیدیں آرہی ہیں وجہ کیا ہے ؟ جہاں تک وجہ کا تعلق ہے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جہاد ایک ایسی عبادت ہے جس میں ہر صاحب ایمان شخص کی شرکت لازمی اور ضروری ہے اس سے سوائے ان لوگوں کے جو واقعی جہاد میں شرکت کرنے کے قابل نہیں ہیں اور کسی کے لئے معافی نہیں ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا اس کو منسوخ کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے۔ قرآن کریم نے جہاد پر اتنا زور اسی لئے دیا ہے تاکہ قیامت تک کسی کو جہاد سے جی چرانے کی ہمت نہ ہو۔ مسلمانوں کا یہ وہ عظیم جذبہ ہے جس سے ساری دنیا کا نپتی ہے اسی لئے ہر دور میں کفار و مشرکین نے اس بات کی کوشش کی یہ کہ کسی طرح مسلمانوں کے دلوں میں جہاد کی عظمت کو کم کیا جائے تاکہ ملت اسلامیہ کی جو روح ہے وہ نکل جائے۔ اس کے برخلاف الحمد للہ تمام مسلمانوں نے ہمیشہ اس حکم پر لبیک کہا ہے اور قیامت تک کہتے رہیں گے۔
لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریزوں کا حق نمک ادا کرتے ہوئے جہاد کو یہ کہہ کر ختم کردیا ہے کہ اب اس کی ضرورت نہیں ہے اور میں جہاد کو منسوخ کرتا ہے۔ درحقیقت مرزا نے جہاد کا نہیں بلکہ قرآن کریم کی ان آیات کا انکار کیا ہے جو قرآن کریم میں ایک دو جگہ نہیں بلکہ متعدد مقامات پر جہاد سے متعلق آیات آئی ہیں۔
Ayahs 9:94–96لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 96
یعتذرون (وہ عذر کرتے ہیں، کریں گے) رجعتم (تم لوٹے) لن نومن (ہم ہرگز یقین نہ کریں گے) نبانا اللہ (ہمیں اللہ نے بتا دیا ہے) اخبار (حالات، خبریں) تردون (تم لوٹائے جائو گے) علم الغیب والشھادۃ (پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا) ینبی (وہ بتائے گا) انقلبتم (تم پلٹے) لتعرضوا (تاکہ تم درگزر کرو) اعرضوا (درگزر کرو، معاف کر دو ) یحلفون (وہ قسمیں کھائیں گے) لترضوا (تاکہ تم راضی ہو جائو) لایرضی (وہ راضی نہ ہوگا)
تشریح : آیت نمبر 94 تا 96
گزشتہ آیات سے منافقین کی عادتوں کا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ جب آپ غزوہ تبوک سے واپس پہنچیں گے تو وہ قسمیں کھا کر اس بات کا یقین دلانے کی کوشش کریں گے کہ آپ ان کو نہ صرف معاف کردیں بلکہ ان سے آپ راضی بھی ہوجائیں۔ فرمایا کہ اگر تم سب ان سے راضی بھی ہو جائو تو اللہ ان سے کبھی خوش نہ ہوگا کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان ہیں۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ منافقین کی تین حرکتیں ہوں گی۔
1) جب آپ واپس مدینہ منورہ پہنچیں گے تو وہ جھوٹے عذرپ یش کریں گ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تمہاری معذرتوں کا کوئی فائدہ نہیں چونکہ اللہ نے وحی کے ذریعہ ہمیں سب کچھ بتا دیا ہے۔ بیشک ابھی توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوا لیکن اگر آئندہ تم ایسی حرکتیں کرتے رہے تو وہ اللہ جو کہ غیب و شھادت کا اچھی طرح علم رکھنے والا ہے وہ تم سے پورا پورا سخت حساب لے گا اور تمہیں سزا دے گا۔
2) فرمایا کہ وہ جھوٹی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان پر گرفت نہ کرو اور ان کو نظر انداز کر دو ۔ فرمایا کہ یہ لوگ پلید اور گندے ہیں ان کا مقام جہنم ہے۔
3) یہ آپ سے جھوٹی قسمیں کھائیں گے تاکہ آپ کو فریب دے سکیں اور آپ ان سے راضی ہوجائیں لیکن اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ان سے کبھی راضی نہ ہوگا کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نافرمان ہیں ان کی سزا جہنم ہے۔
Ayahs 9:97–99لغات القرآن آیت نمبر 97 تا 99
الاعراب (دیہاتی، گاؤں کے رہنے والے) اشد کفراً (کفر میں شدید ہیں) اجدر (زیادہ موزوں ہیں) حدود (حدیں) یتخذ (وہ بناتا ہے ) مغرم (جرمانہ، تاوان) الدوابر (دائرے، گردش زمانہ) قربت (قربتیں، ثواب) صلوت (دعائیں)
تشریح : آیت نمبر 97 تا 99
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر اہل ایمان کے اخلاص اور منافقین کی زندگی کے دوہرے کردار کا تقابل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ وہ منافقین جو شہروں میں رہتے ہیں اور اپنے نفاق اور وقتی مفادات کے لئے دوہری زندگی گذار رہے ہیں وہ اپنے نفاق کی وجہ سے بدترین لوگ ہیں لکین وہ منافقین جو شہروں کے آس پاس دیہات اور گاؤں میں رہتے ہیں وہ زیادہ برے اس وجہ سے ہیں کہ وہ اپنی جہالت، ہٹ دھرمی اور علم و عمل سے دوری کی وجہ سے منافقت کے مرض میں زیادہ شدت سے مبتلا ہیں۔ وہ لوگ جو شہروں میں رہتے اور منافقت کرتے ہیں وہ پھر بھی علم و تبلیغ اور حضور اکم ﷺ کی مجلسوں میں بیٹھنے کی وجہ سے کچھ نہ کچھ تہذیب و شائستگی رکھتے ہیں لیکن وہ لوگ جو دیہات میں رہتے ہیں اور اپنے نفاق اور کفر میں اس کا بھی سلیقہ نہیں رکھتے وہ لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز اور روزہ کی ادائیگی کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں مگر اس کو اس قدر ناگواری سے ادا کرتے ہیں جیسے وہ اللہ کی عبادت نہیں بلکہ کوئی سزا بھگت رہے ہیں۔ وہ ہر وقت اس بات کے منتظر رہتے ہیں کہ مسلمانوں پر کوئی بہت بڑی آفت یا مصیبت آجائے تو وہ اس دکھاوے کی عبادت و بندگی سے بھی جان چھڑا سکیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب تو یہ دیا کہ منفاقین جس بڑی آفت اور مصیبت کے منتظر ہیں وہ ضرور آئے گی مگر اہل ایمان پر نہیں بلکہ وہ مصیبت ان منافقین پر مسلط ہو کر رہے گی۔
منافقین کی عادتوں، مزاج اور اہل ایران کے لئے بد خواہی کی تمنائیں کرنے والوں کا ذکر فرمانے کے بعد ان مومنین کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو تاوان، جرمانہ اور ٹیکس مجھ کر نہیں بلکہ اللہ کیلئے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ہمارا رب خوش ہوگا ہمیں اپنے رب کی رضا و خوشنودی اور قرب حاصل ہوگا۔ وہ لوگ اس لئے خرچ کرتے ہیں تاکہ وہ اس خرچ کو رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں کا ذریعہ بنا لیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے مخلص اہل ایمان کے لئے فرمایا ہے ایسے لوگ نہ صرف اللہ کا قرب، رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں کے مستحق اور اس غفور و رحیم کی رحمتوں کے مستحق ہوں گے بلکہ دنیا و آخرت کی تمام کامیابیاں حاصل کریں گے۔
Ayah 9:100لغات القرآن آیت نمبر 100
السبقون الاولون (سب سے پہلے ایمان لانے میں جو آگے بڑھے) اتبغوا (انہوں نے اتباع کیا، پیروی کی) احسان (نیکی) ؓ (اللہ خوش ہوگیا، راضی ہوگیا) رضوا (وہ خوش ہوگئے۔ راضی ہوگئے) اعد (اس نے تیار کر رکھا ہے)
تشریح :- آیت نمبر 100
عام اصطلاح میں صحابی اس شخص کو کہتے ہیں جس نے ایمان کی حالت میں خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ایک مرتبہ دیکھا ہو۔ ایمان کی حالت پر قائم رہتے ہوئے ایمان ہی کی حالت میں اس کا انتقال ہوا ہو۔ جس کو یہ مرتبہ و مقام حاصل ہوا کائنات میں نبی مکرم ﷺ اور انیباء کرام کے بعد اس سے بہتر و اعلیٰ مخلوق کوئی نہیں ہے صحابہ کرام بلاشک و شبہ تمام انسانوں میں ایک عظیم رتبہ اور مقام رکھتے ہیں۔ ان کے آپس میں جو خلوص اور محبت تھی وہ بھی بےمثال ہے۔ اگر ان میں بشری تقاضوں کے تحت کہیں اختلاف بھی ہوا ہے تو اس کو اختلاف اور بغض وعناد کا نام دینا انتہائی بد دیانتی اور کم فہمی ہے۔ اس لئے علماء کرام نے فرمایا ہے کہ اس کو مشاجرات صحابہ کہا جائے۔ مشاجرت شجر سے بنا ہے یعنی درخت، جو اس کیفیت کو کہتے ہیں کہ جب بہت تیز ہوا چلتی ہے تو جس طرح درخت کی شاخیں اور پتے اس ہوا کی وجہ سے آپس میں ٹکرانے لگتے ہیں اور جب تیز ہوا بند ہوجاتی ہے تو پھر ہر شاخ اور ہر پتہ اپنی اپنی جگہ اسی طرح ہرا بھرا نظر آنے لگتا ہے جیسے پہلے تھا۔ کچھ پتے ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔ تیز آندھی کی وجہ سے کچھ درخت گر بھی جاتے ہیں پتے بکھر بھی جاتے ہیں لیکن تیز ہوائیں رک جانے کے بعد وہ کیفیت ختم ہوجاتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح بلاشبہ صحابہ کرام کی شان بھی یہی ہے کہ جب دشمنان اسلام کی پھیلائی گئی بد گمانیوں اور سازشوں سے اختلافات کی تیز آندھی چلی تو کچھ شاخیں اور پتے آپس میں ٹکرا گئے لیکن جب آندھیوں نے دم توڑ دیا تو یہ مقدس جماعت اپنے مشن اور مقصد میں سرگرم ہوگئی۔ مشاجرات صحابہ کرام کو لڑائی جھگڑے کا نام دینا ان کے عظیم جذبوں کی بہت بڑی توہین ہے۔ ان مشاجرات کی وجہ سے ان صحابہ کرام کو عام انسانوں کی سطح پر لا کر ان پر تنقید کو جائز قرار دینا یا کسی کو برا بھلا کہنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔ یہ سب کے سب صحابہ کرام اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے پیارے ہیں جن کی محبت جز و ایمان ہے۔ یہ ستاروں کی مانند ہیں جن کی روشنی زندگی کے تاریک راستوں میں مشعل راہ ہے۔ یہ عظیم ہستیاں ہیں جن کے ایثار و قربانی پر کائنات کو ناز و ہے۔ اگر وہ دین اسلام کے لئے بےمثال قربایاں نہ دیتے، اپنے گھر بار کو نہ لٹاتے ، اپنے مالوں اور جانوں پر اللہ کے رسول ﷺ اور دین اسلام کو برتر و اعلیٰ نہ سمجھتے تو آج ہم اہل ایمان نہ کہلاتے۔ جن کے لئے اللہ اور رسول ﷺ نے بالکل صاف اور واضح الفاظ میں فرما دیا کہ دیکھو میرے بعد میرے صحابہ کو تنقید کا نشانہ مت بنا لینا ان کی محبت میری محبت ہے اور ان سے بغض وعناد مجھ سے بغض وعناد ہے۔
اگر تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجاتی ہے کہ مکہ کی تیرہ سالہ زندگی میں نبی مکرم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام نے کفار، مشرکین اور منافقین کے ہاتھوں وہ اذیتیں برداشت کیں جن کے تصور سے بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔ مکہ مکرمہ کی زمن ان پر تنگ کردی گئی تو و مکہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ پہلے حبشہ اور مختلف مقامات کی طرف ہجرت فرمائی اور جب نبی کریم ﷺ کو بھی اللہ کے حکم سے مکہ مکرمہ چھوڑنا پڑا تو تمام صحابہ کرام مدینہ منورہ کی طرف سمٹنے اور جمع ہونا شروع ہوگئے۔ مدینہ منورہ کے وہ خوش نصیب جن کو ایمان کی دولت نصیب ہوچکی تھی ان کو نبی مکرم ﷺ اور صحابہ کرام کا میزبان اور انصار بننے کا شرف حاصل ہوا ان انصار و مہاجرین نے ایک دوسرے کے لئے وہ ایثار قربانی پیش کی جس کی مثال تاریخ انسانی میں مشکل سے مل سکے گی۔ ان بےسروسامان انصار و مہاجرین پر جنگیں مسلط کی گئیں تو انہوں نے اس زبردست امتحان میں بھی بےجگری کا عظیم مظاہرہ فرمایا۔ مکہ اور مدینہ میں انصار و مہاجرین نے جن مشکلات کو برداشت کیا اور کفار و مشرکین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا وہ درجہ اور مقام ان کو نہیں دیا جاسکتا جو ان کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ اسی طرح وہ لوگ جنہوں نے ان نیک اور مقدس ہستیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین اسلام کی سربلندی کیلئے اپنا سب کچھ لٹا دیا اور جنگ و امن میں بھرپور کردار ادا کیا ان کا مقام ان سے بلند تر ہے جو ان کے بعد دین اسلام کی عظمت کو قبول کرنے والے تھے اور اسی طرح یہ سلسلہ ایک کے بعد دوسرے تک تاقیامت جاری رہے گا۔ ان کے درجات کی بلندی ان کے جذبوں اور ایثار کے مطابق متعین ہوتی جائے گی۔ مگر ایک بات میں سب شریک ہیں کہ اللہ ان سے راضی ہوگیا ، ان کے ایمانی جذبوں کو قبول کرلیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے یعنی تقدیر کے ہر فیصلے کو انہوں نے اللہ کی رضا و خوشنودی کے طور پر قبول کرلیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان مخلصین کے لئے دنیا کی عزت اور جنت کی ابدی راحتوں کو مقدر فرما دیا ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
ہم بات کو سمجھنے کے لئے ان مومنوں کو جنہوں نیا بتداء میں دین اسلام کو قبول کیا اور ان کے بعد آنے والوں نے ایمان کی روشنی کو حاصل کیا۔ دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔
(1) سب سے پہلے ایمان والے (2) ان کے بعد ان کی تقلید کرتے ہوئے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ ان دونوں کے درجات میں واضح فرق موجود ہے۔
(1) ” السابقون الاولون من المھاجرین و الانصار “ انصار و مہاجرین میں سے دین اسلام کی سربلندی کے لئے سب سے پہلے آگے بڑھنے والے جاں نثار صحابہ کرام ان کا سب سے بڑا مقام ہے۔
(2) ” والذین اتبعوھم باحسان “ ان سے مراد وہ صحابہ کرام ہیں جنہوں نے دین اور اخلاق و اعمال کی بلندی میں ان لوگوں کی تقلید کی ہے جو ان کے راستے پر چلے ہیں جو ان سے پہلے نبی کریم ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین پر یمان لا چکے تھے۔
ان دونوں کو اور ان لوگوں کو جو ان کے راستے پر ان کی طرح چلنے والے ہیں یہ اللہ کی رضا و خوشنودی میں دونوں برابر ہیں۔
جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی حیات دنیوی میں دین اسلام کو قبول کرلیا تھا۔ یا ہو دوسرے لوگ جو ان صحابہ کرام کے راستے پر چلتے ہوئے قیامت تک آتے رہیں گے ان کے مقام کو سمجھنے کے لئے مفسرین کی رائے کو سامنے رکھا جائے تو اس آیت اور اس بات کو سمجھنے میں بہت سہولت ہوگی۔
(1) بعض مفسرین نے ” السابقون الاولون “ سے مراد ان صحابہ کرام کو لیا ہے جو غزوہ بدر سے پہلے ایمان لا چکے تھے۔
(2) بعض مفسرین یہ فرماتے ہیں کہ ان سے مراد وہ صحابہ کرام ہیں جو صلح حدیبیہ تک ایمان لا چکے تھے۔
(3) بعض مفسرین کی رائہ یہ ہے کہ ان سے مراد وہ صحابہ کرام ہیں جنہوں نے دو قبلوں کی طرف منہ کر کے نمازیں ادا کی تھیں یعنی بیت المقدس اور مسجد الحرام کی طرف منہ کر کے جنہوں نے تحویل قبلہ سے پہلے پہلے نمازوں کو ادا کیا تھا۔
(4) بعض کے نزدیک ” السابقون الاولون “ وہ صحابہ کرام ہیں جنہوں نے بیعت رضوان سے پہلے ایمان قبول کرلیا تھا اس طرح ” والذین اتبعوھم باحسان “ سے مراد کون لوگ ہیں اس میں بھی مفسرین سے مختلف اقوال نقل کئے گئے ہیں مگر وہ بات سب سے بہتر ہے کہ ان سے مراد اللہ و رسول ﷺ کی فرماں برداری کرنے والے صحابہ کرام اور مومنین، تابعین، تبع تابعین اور قیامت تک آنے والے اہل ایمان ہیں۔ یہ خوش خبری ان سب کے لئے ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کی راہوں پر چلنے اور حسن عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین
Ayahs 9:101–102لغات القرآن آیت نمبر 101 تا 102
حولکم (تمہارے اردگرد، آس پاس) مردوا (اڑے ہوئے ہیں (مرتین (دو مرتبہ) یردون (لوٹائے جائیں گے) اخرون (کچھ دوسرے لوگ) اعترفوا (انہوں نے اقرار کیا خلطوا (وہ مل گئے، ملایا) سیء (برائی، گناہ) ان یتوب (یہ کہ وہ توبہ کرے گا)
تشریح : آیت نمبر 101 تا 102
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر ان منافقین کا ذکر کیا ہے جو دیہات اور شہر مدینہ میں رہ کر بھی ایمان کی دولت سے محروم اور نفاق کے مرض میں مبتلا تھے۔ ان میں سے بعض تو وہ تھے جن کے اعمال، اخلاق اور کردار کا پردہ چاک ہوچکا تھا اور اہل ایمان بھی ان کو پہچاننے لگے تھے لیکن بعض ایسے چالاک اور عیار تھے کہ ان کی سازشوں اور ان کی خباثتوں کو پہچاننا مشکل تھا جن کو اللہ ہی جانتا تھا۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ کے اردگرد دیہات اور شہر مدینہ میں ایسے ذہنی مریض منافق موجود ہیں جن کا کام ایمان اور اسلام کے ساتھ مذاق کرنا ہے بعضوں نے اپنے نفاق کو اپنی عیاری کے پردوں میں چھپا رکھا ہے اور بعض ظاہر ہیں۔ آپ ان کی پرواہ نہ کیجیے کیونکہ اللہ ان کو اس دنیا میں اور آخرت میں دوہرا عذاب دے گا۔
اس دنیا میں تو ان کے لئے یہ عذاب ہے کہ ان کو ہر وقت اس کی فکر کھائے جاتی ہے کہ کہیں ان کے دل کا حال زبان پر نہ آجائے۔ ان کے نفاق کو کھولنے کے لئے کوئی سورت یا آیات نازل نہ ہوجائیں ان کے لئے دنیا کا یہ بھی عذاب ہے کہ مسلمان جن سے وہ انتہائی کدورت اور بغض وعناد رکھتے ہیں اس نفرت کے باوجود انہیں مسلمانوں کی عزت کرنی پڑتی ہے۔ ان کے ساتھ مل کر عبادتوں کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ یہ تو ان پر دنیا کا عذاب ہے لیکن آخرت میں تو ان پر نہ صرف عذاب ہے بلکہ ان کو جہنم کے سب سے نچلے اور ذلیل ترین مقام میں رکھا جائے گا اور وہ کبھی اس سے نہ نکل سکیں گے۔
اصل میں منافق کوئی بھی ہو اس کا ضمیر اس پر ملامت کرتا رہتا ہے ہر وقت اس کو بےاطمینانی اور غم لگا رہتا ہے یہ سب سے بڑا عذاب ہے۔ آخرت میں اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا اس کو دنیا میں ذرا بھی اس کا اندازہ نہیں ہے۔
اس کے برخلاف کچھ لوگ وہ ہیں جو اپنی جگہ مخلص ہیں مگر انہوں نے اپنے اچھے اعمال کے ساتھ برے اعمال کو بھی شامل کرلیا ہے۔ یعنی وہ دل میں اسلام کے لئے خلوص رکھتے ہیں مگر غزوہ تبوک کے موقع پر انہوں نے اعلان عام پر عمل نہیں کیا اور اپنی کھیتی باڑی میں لگے رہے۔ فرمایا ان کے لئے ان کی شرمندگی اور ندامت کی وجہ سے دروازہ کھل سکتا ہے۔
اس سے ایک نکتہ کی بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اگر انسان اپنے برے اعمال کو بھی اچھا سمجھتا ہے اور اس میں نیکی کی طرف کوئی حرارت پیدا نہیں ہوتی تو اس کا خاتمہ اس کی نیت کے مطابق ہوتا ہے لیکن اگر کسی انسان سے غلطی ہوجائے اور اس پر اس کو یہ احساس پیدا ہوجائے کہ اس سے واقعی غلطی ہوگئی اور پھر وہ اس غلطی کے اعتراف کے بعد ندامت اور شرمنگدی کا اظہار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو توبہ کی توفیق عطا فرما دیتے ہیں۔
Ayahs 9:103–104لغات القرآن آیت نمبر 103 تا 106
خذ (لے لو، لیجیے) صدقۃ (صدقہ) تطھرھم (ان کو پاک کیجیے) تزکیھم (ان کے دل پاکیزہ بنایئے) صلوتک (آپ کی دعا) سکن (سکون ہوگا) یقبل (وہ قبول کرتا ہے ) عباد (بندے) یاخذ (وہ لیتا ہے ) مرجون (روک دیئے گئے)
تشریح : آیت نمبر 103 تا 106
تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیات حضرت ابولبابہ اور ان کے چھ ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی ہیں۔ حضرت ابولبابہ ہجرت مدینہ سے پہلے بیعت عقبہ کے موقع پر حلقہ اسلام میں داخل ہوئے وہ اور ان کے چھ ساتھی کم و بیش ہر جہاد میں اپنے مالوں اور جانوں سے ایثار و قربانی کا عظیم مظاہرہ کرتے رہے لیکن غزوہ تبوک کے موقع پر بعض مجبوریوں کا سہارا لے کر اس میں شرکت نہ کرسکے اور گھر بیٹھ گئے۔
جب حضور اکرم ﷺ واپس تشریف لائے تو ان سب کو اپنے فعل پر سخت ندامت اور شرمندگی محسوس ہوئی۔ انہوں نے اپنے آپ کو مسجد نبوی ﷺ کے ستونوں سے باندھل یا اور انہوں نے اس بات کا عہد کیا کہ جب تک ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے معاف نہیں کیا جائیگا ہم اسی طرح بندھے رہیں گے خواہ ہمیں بندھے بندھے موت ہی کیوں نہ آجائے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو ان کو کھولا گیا۔ شکرانے کے طور پر انہوں نے اپنا وہ سب مال و متاع جو اس جہاد میں شرکت کی وجہ سے رکاوٹ بن گیا تھا سب کا سب صدقہ کردینے کی اجازت چاہی لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس میں سے ایک تہائی مال قبول فرمایا اور اس طرح ان کے ظاہر و باطن کو پاک کیا اور ان کے لئے دعا فرمائی۔
مفسرین نے ان آیات کا یہ شان نزول ارشاد فرمایا ہے لیکن یہ آیات اپنے مفہوم کے لحاظ سے عام ہیں جو اس واقعہ پر بھی منطبق کی جاسکتی ہیں اور عام مفہوم پر بھی۔ بہرحال ان آیات میں قیامت تک مسلمانوں کے لئے یہ حکم موجود ہے کہ مسلمانوں کا امیر، مملکت کے تمام لوگوں سے صدقہ وصول کر کے اس کو عام مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ رے گا۔ اس طرح صدقات واجبہ کی وصولی کی اصل ذمہ داری اسلامی حکومت کی ہے جو صدقات (زکوۃ) وصول کر کے قرآن و سنت کے اصولوں کے مطابق ضرورت مندوں میں تقسیم کرے گی۔ اگر کوئی اس سے انکار کر دے تو اس کے خلاف جہاد بھی کیا جاسکتا ہے۔ چناچہ سیدنا صدیق اکبر نے اپنی خلافت کے ابتدائی دور میں صرف اس لئے زکوۃ کا انکار کرنے والوں سے جہاد کیا کہ وہ اس حکم کو حضور اکرم ﷺ کی ذات تک محدود سمجھتے تھے۔ لیکن صدیق اکبر نے ان لوگوں کے خلاف تلوار اٹھائی جو نماز اور زکوۃ کو اپنی تاویلوں کے من گھڑت اصولوں کے مطابق الگ الگ کردینا چاہتے تھے۔ مانعین زکوۃ کا کہنا یہ تھا کہ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو ہم سے زکوۃ و صدقات وصول کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ آپ جب تک ہم میں رہے ہم زکوۃ ادا کرتے رہے جب آپ موجود نہیں ہیں تو حضرت ابوبکر کو اس کا اختیار کس نے دے دیا کہ وہ ہم سے زکوۃ وصول کریں اس لئے حضرت عمر فاروق جو دین کے معاملات میں کسی سے کسی رعایت کے قائل نہ تھے انہوں نے بھی شروع شروع میں حضرت ابوبکر صدیقف کی رائے سے اتفاق نہ کیا اور مانعین زکوۃ کے خلاف کسی شدید اقدام سے گریز کا مشورہ دیا لیکن جب حضرت عمر فاروق کے سینے کو اللہ نے کھول دیا تو انہوں نے بھی حضرت ابوبکر صدیقف کی بھپرور تائید کی اور اس طرح نماز اور زکوۃ کے احکامات کو اپنے من مانے طریقے پر الگ الگ کرنے کی سازش کے خلاف اعلان جہاد کردیا گیا۔
اس سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ کسی آیت کا شان نزول بات کو سمجھنے کے لئے ایک اہمیت تو ضرور رکھتا ہے لیکن وہ حکم میں کسی شخص کے ساتھ خاص نہیں ہوتا بلکہ قرآن کریم کا تو ہر حکم قیامت تک اہل ایمان کے لئے حکم عام کا درجہ رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کیا لوگ اس بات کو نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور صدقات کو بھی توبہ کے قبول ہونے کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ فرمایا کہ لوگو ! اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی پابندی کرتے رہو۔ اگر کچھ غلطی ہوجائے تو وہ معاف کرنے والا مہربان ہے۔
اللہ نے اس میں حضرت ابولبابہ اور ان کے ساتھیوں کی طرف معافی کا اشارہ تو کردیا اور نبی کریم ﷺ کو ان کے لئے حکم بھی دے دیا مگر ان تین حضرات کے لئے بھی معافی کا اشارہ دے دیا جن کے لئے آسمانی فیصلے کا معاملہ بہت قریب ہے۔
چنانچہ آیت نمبر 118 میں ان کی معافی کا بھی اعلان فرما دیا گیا۔