9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 9:34–35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

اے ایمان والو ! بیشک بہت سے احبار (علماء) اور رہبان (درویش) لوگوں کا مال ناحق طریقہ پر کھا جاتے ہیں اور وہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (اے نبی ﷺ آپ ان لوگوں کو درد ناک عذاب کی خوش خبری سنا دیجیے۔

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

جس دن ہم ان (کے خزانے کو) جہنم کی آگ میں تپائیں گے پھر اس سے ان کی پیشانیوں ان کے پہلوئوں اور ان کی پیٹھ کو داغا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ تمہارا خزانہ جو تم نے اپنے لئے جمع کر کے رکھا ہوا تھا۔ پس تم نے جو کچھ جمع کر رکھا ہے اس کا مزا چکھو۔

لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 35 لیا کلون (البتہ وہ کھاتے ہیں) یصدون (وہ روکتے ہیں) یکنزون (جمع کرتے ہیں) الذھب (سونا) الفضۃ (چاندی) لاینفقون (وہ خرچ نہیں کرتے ہیں) بشر (خوش خبری دے دیجیے ) یحمی (آگ میں دھونکا یا گیا ہے) تکویٰ (داغ لگایاج ائے گا) جباہ (جبہ) ، پیشانی، ماتھا جنوب (جنب) ، پیشانی، ماتھا) جنوب (جنب) ، پہلو کنزتم (تم نے جمع کیا) ذوقوا (تم چکھو) تشریح : آیت نمبر 34 تا 35 گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رسول ﷺ کا کام یہ ہے کہ وہ دین اسلام کو ہر مذہب اور طریقہ زندگی پر غالب کردیں تاکہ ساری دنیا سچائی کی اس روشنی میں اپنی منزل تلاش کرسکے۔ ان آیات میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ لوگ جو باطل پر جمے ہوئے ہیں اور اسی میں سرگرم ہیں اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کا طریقہ زندگی ’ حق ‘ ہے بلکہ ان کے مذہبی رہنماؤں کا وہ لالچ ہے جس میں وہ پھنسے ہوئے ہیں وہ ناجائز طریقوں اور مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعہ لوگوں کی جیبیں خالی کر کے اپنے سونے چاندی کے ڈھیروں میں اضافہ کرتے جاتے ہیں۔ ان کی اس کمزوری کا اثر یہ ہے کہ طاقت وروں اور مال داروں کا طبقہ اپنے مقاصد کے لئے جس طرح چاہتا ہے مذہب کے اصولوں کو اپنے حق میں تبدیل کرا لیتا ہے اور وہ اس مذہب فروشی کو عیب نہیں سمجھتے۔ ایک مقصد پر ان دونوں کا سمجھوتہ ہوتا گیا ہے کہ عوام کو جس طرح ممکن ہو لوٹو اور مذہب کے نام پر بیوقوف بنائو۔ ان کو جاہل رکھ کر ان کے بھولے پن سے جتنا ممکن ہونا جائز فائدہ اٹھائو۔ تاریخ گواہ ہے کہ حکومت اور کلیسیا کے اس گٹھ جوڑ نے ہر اس شخص کے سرکوتن سے جدا کردیا جس نے اس گٹھ جوڑ کے خلاف سر اٹھانے کی کوشش کی بالآخر انقلاب فرانس نے ایسے مذہب اور مذہبی گٹھ جوڑ سے جب نجات حاصل کی تب اس نے ترقی کی منزلیں طے کیں۔ کیونکہ جھوٹے سہارے کبھی حقیقت نہیں بن سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہود و نصاریٰ کے مذہبی رہنما جو ” احبار “ اور رہبان کہلاتے ہیں انہوں نے حق پرستی کا راستہ چھوڑ کر دنیا پرستی کا طریقہ اپنا لیا تھا جب انہوں نے محسوس کیا کہ دین اسلام اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی انقلاب سیرت ان کے بنائے ہوئے تصوراتی قلعوں اور ان کی تمناؤں کے گھر وندوں کو تہس نہس کردیں گے تو انہوں نے اس طریقہ زندگی کو مٹانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی گرفت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ عیسائیوں یہودیوں کے وہ مذبہی رہنما جو ناجائز طریقے پر لوگوں کے مال ہضم کر جاتے ہیں اور وہ مال کے ڈھیر لگا کر اس کے ذریعہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور اس کو صحیح جگہ خرچ نہیں کرتے ان کے لئے جہنم کی ابدی اور درد ناک زندگی مقدر کردی گئی ہے۔ فرمایا کہ وہ وقت کس قدر عبرت ناک ہوگا جب ان کے اسی مال سے جو وہ جمع کرتے رہے ہیں۔ جہنم کی آگ دہکا کر اس سے ان کی پیشانیوں پہلوؤں اور پیٹھ کر داغا جائے گا اور یہ کہا جائے گا کہ وہ مال جسے تم جمع کر کے رکھتے تھے، وہ خزانہ جسے تم جمع کر کے خوش ہوتے تھے آج وہ جہنم کے انگارے بنا دیئے گئے ہیں اور اب وہی جہنم تمہارے لئے تیار کردی گئی ہے۔ فرمایا کہ جس دولت کو وہ اپنی عزت بنا کر اس پر ناز کیا کرتے تھے۔ قیامت کے دن ان کی ذلت اور رسوائی کا سبب بن جائیگی۔ آگے کی آیات میں اہل ایمان کو جھنجھوڑا گیا ہے کہ دنیا پرستی، دین بےزاری یہ تو کفار اور مشرکین کا طریقہ ہے جس کی وجہ سے ان کا مذہب انسانوں کے مفاد کی بھینٹ چڑھ گیا اور وہ مال و دولت ان کے کچھ بھی کام نہ آیا نہ آئے گا۔ اگر تم نے بھی ان کے طریقے اختیار کئے تو تمہارا انجام بھی اس سے مختلف ہوگا۔
Ayahs 9:36–37

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

بیشک اللہ کے نزدیک اس دن سے جب اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا مہینوں کی تعداد ” بارہ مہینے “ ہے۔ ان ہی میں سے چار مہینے حرمت و ادب والے ہیں یہی بہترین سیدھا دین ہے۔ تم ان مہینوں میں اپنے اوپر زیادتی نہ کرو اور تم سب مل کر ان مشرکین سے قتال کرو۔ جیسا کہ وہ سب مل کر تم سے جنگ کرتے ہیں اور یہ سمجھ لو کہ اللہ الہ تقویٰ کے ساتھ ہے۔

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

نسی (مہینوں کا آگے پیچھے کرنا) کفر میں ایک اضافہ ہے جس سے یہ کافر گمراہی میں مبتلا ہوتے ہیں وہ کسی سال کسی حرام مہینے کو حلال کرلیتے ہیں اور کسی سال اس کو حرام کردیتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو مہینے حرام کئے ہیں وہ اس کی گنتی کو پورا کرلیں اور اللہ کا حرام کیا ہوا بھی حلال کرلیں۔ ان کے برے اعمال ان کی نظروں میں خوبصورت بنا دیئے گئے ہیں اور اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو کفر کرتے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 36 تا 37 عدۃ الشھور (مہینوں کی گنتی) اثنا عشر (بارہ) اربعۃ حرم (چار احترام والے) الدین القیم (سیدھا سچا دین) کافۃ (مکمل، پورے طور پر) النسیء (مہینہ کو بدل دینا) یضل (بہکائے گئے) یحلون (وہ حلال کرتے ہیں) یحرمون (وہ حرام کرتے ہیں) زین (خوبصورت بنا دیا گیا ) سوئٓ اعمال (برے عمل) تشریح آیت نمبر 36 تا 37 اللہ تعالیٰ نے جب سے موجودہ نظام فطرت کو قائم فرمایا ہے اسی دن سے اللہ کے نزدیک چاند جو موجودہ تحقیق کے مطابق زمین کے گرد گھومتا ہے۔ اس کی گردش 29 یا 30 دنوں میں مکمل ہوتی ہے ہر گردش ایک ماہ ہے اس طرح ایک سال بارہ مہینوں کا ہے لیکن ان میں چار مہینے یعنی ذی قعدہ ذی الحجہ محرم اور جب کو محترم قرار دیا گیا ہے ان حرمت کے مہینوں میں ایک طرف جنگ کرنے کو سختی سے منع کیا گیا ہے اور دوسری طرف ثواب بڑھا کر عبادت کی کشش میں اضافہ کردیا۔ ان مہینوں کا احترام ہر نبی کی شریعت میں رہا ہے۔ حضور پرنور ﷺ کے زمانہ میں عرب کے کفار و مشرکین نے ” نسی “ کا طریقہ اختیار کر رکھا تھا یعنی اپنی جنگی اور دوسری سہولتوں کے پیش نظر نہ صرف سال میں مہینوں کی تعداد کو گھٹا بڑھا لیا کرتے تھے بلکہ مہینوں کو آگے پیچھے کرلیا کرتے تھے جس مہینے کو چاہا اس کو رمضان کہہ دیا۔ جس مہینے کو چاہا محرم کہہ دیا۔ اس طرح مہینوں کی گنتی بھی پوری ہوجاتی تھی اور حرام مہینوں کو اپنے مقاصد کے لئے حلال بھی کرلیتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک قبیلہ ایک مہینے کور جب کہتا تھا دوسرا اسی کو رمضان کا مہینہ کہتا تھا۔ اس طرح اللہ نے ماہ و سال کا جو نظام قائم فرمایا تھا وہ سارا کا سارا گڑ بڑ کر کے رکھ دیا گیا تھا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کو وضاحت سے فرما دیا ہے کہ اسلام اپنے مہینوں کو قمری حساب سے گنتا ہے اس میں بڑی سہولتیں اور بڑی مصلحتیں ہیں اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ سال کے مہینوں کی تعداد میں کوئی اضافہ کمی یا تبدیلی کرسکے۔ ان آیات میں دوسری بات اہل اسلام سے یہ کہی جا رہی ہے کہ ” اشھر الحرم “ کا احترام تم پر لازمی ہے لیکن اگر کفار و مشرکین تمہارے اوپر حملہ کرتے ہیں تو تم اس میں اختلاف نہ کرو سب مل کر ان سے جہاد و قتال کرو۔ اگر وہ احترام کرتے ہیں تو تم بھی کرو لیکن اگر وہ اس کے احترام کو اٹھاتے ہیں اور تم سے جنگ کرتے ہیں تو تم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہ بیٹھو بلکہ ان سے مقابلہ کرو۔ اللہ نے فرمایا کہ اللہ اہل تقویٰ کے ساتھ ہے۔
Ayahs 9:38–39

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کی راہ میں نہیں نکلتے اور زمین کی طرف گرتے جا رہے ہو۔ کیا تم نے آخرت کے مقابلے میں دین کی زندگی کو پسند کرلیا ہے۔ جب کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کا سامان بہت کم ہے۔

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

اگر تم (اللہ کی راہ میں) نہ نکلو گے تو تمہیں شدید ترین سزا ملے گی اور تمہاری جگہ دوسری قوم کو تبدیل کر جائے گا۔ اور تم اس کا کچھ بگاڑ نہ سکو گے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 39 مالکم (تمہیں کیا ہوگیا ؟ ) انفروا (نکل پڑو اثاقلتم (تم گرے جاتے ہو) ارضیتم (کیا تم خوش ہوگئے، راضی ہوگئے) الاتنفروا (اگر تم نہ نکلے) یستبدل (وہ بدل دے گا) لاتضروا (تم نقصان نہ پہنچا سکو گے) تشریح :- آیت نمبر 38 تا 39 یہ آیات غزوہ تبوک کے موقع پر نازل ہوئیں۔ غزوہ تبوک جو نبی کریم ﷺ کی حیات دنیوی کا آخری غزوہ تھا اس وجہ سے ہوا کہ صلح حدیبیہ کے بعد آپ نے تمام بادشاہوں اور چھوٹی چھوٹی مملکتوں کے سرداروں کے پاس اپنے وفود بھیجے جن کے ذریعہ ان کو اسلام کی دعوت دی گئی تھی ان ہی میں سے ملک شام کی سرحد سے متصل قبائل میں بھی آپ نے اپنے وفد بھیجے۔ ان لوگوں نے سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پندرہ مسلمانوں کو شہید کردیا۔ کسی طرح قائد وفد حضرت کعب بن عمیر غفاری بچ کر نکل آئے۔ جب نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ کو اس کا بہت رنج اور افسوس ہوا۔ اسی زمانہ میں حضور اکرم ﷺ نے بصریٰ کے رئیس و سردار شرجیل کے نام ایک خط بھی بھیجا شرجیل جو قصر روم اور سلطنت روم کی طاقت پر نازاں تھا اس نے قائد وفد حضرت حارث بن عمیر کو پہلے تو قید کیا اور پھر سامنے بلا کر نہ صرف ان کی توہین کی بلکہ قتل کرا دیا جب آپ ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے اس کی سرکبی کے لئے تین ہزار مجاہدین کا ایک لشکر روانہ کیا تاکہ ان جیسے قبائل کو سر اٹھانے کی جرأت و ہمت نہ ہو چناچہ جب یہ لشکر موتہ کے مقام پر پہنچا تو ان کو معلوم ہوا کہ ان کے مقابلے میں ایک لاکھ کا لشکر موجود ہے بعض لوگ گھبرا گئے کہ اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ یہ بھی مشورہ ہوا کہ اس صورتحال کی اطلاع نبی کریم ﷺ کو کردی جائے تاکہ مدینہ منورہ سے مزید فوج ان کی مدد کیلئے آجائے مگر حضرت عبداللہ رواحہ کی پرجوش تقریر نے ان کے بدل میں حرارت پھونک دی جس میں انہوں نے فرمایا کہ مسلمانو ! آگے بڑھو اور کفار کا مقابلہ کرو یا تو کفار پر غلب حاصل ہوگا یا شہادت کی موت نصیب ہوگی چناچہ مسلمان ایمان کی حرارت کے ساتھ آگے بڑا ہے اگرچہ ایک کے بعد ایک سپہ سالار شہید ہوئے مگر اللہ نے ان کو فتح و نصرت عطا فرمائی۔ حضرت زید بن حارثہ حضرت جعفر طیار اور حضرت عبداللہ بن رواحہ تینوں سپہ سالاروں کی شہادت کے بعد جب سپہ سالاری کے لئے حضرت خالد بن ولید کا انتخبا کیا گیا تو انہوں نے فوج کو اس طرح ترتیب دیا کہ دشمن کے چھکے چھڑا دیئے۔ اس جنگ موتہ میں مسلمانوں کو کامیابی ہوئی اور نبی کریم ﷺ کو اس سے بیحد خوشی ہوئی مگر سلطنت روما اور عیسائی دنیا میں ہنگامہ برپا ہوگیا اور اب ان کو اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ مسلمان کسی بھی وقت سلطنت روم سے ٹکر لے سکتے ہیں۔ قیصر روم نے لاکھوں کی تعداد میں اپنے فوجیوں کو جمع کرلیا اور تیاری شروع کردی تاکہ وہ مدینہ منورہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دے۔ جب نبی کریم ﷺ کو سلطنت روم کی ان تیاریوں کا پتہ چلا تو آپ نے اچانک اعلان فرما دیا کہ ہم تبوک کی طرف کوچ کریں گے۔ یہ وہ موقع تھا جہاں آپ نے صحابہ کرام سے ہر طرح کی امداد کا مطالبہ فرمایا صحابہ کرام نے اپنی ہمت سے بڑھ بڑھ کر اپنا سب کچھ آپ کے قدموں میں لا کر ڈال دیا حضرت ابوبکر صدیق حضرت عثمان غنی اور حضرت عمر فاروق نے تو ایثار و قربانی کی مثالیں قائم فرمائیں لیکن دوسری طرف منافقین بھی کھل کر سامنے آگئے اور انہوں نے طرح طرح کے بہانے بنانے شروع کردیئے تاکہ وہ کسی طرح اس جہاد سے اپنی جان بچا سکیں ۔ یہ وقت بھی بڑا نازک تھا کیونکہ فصلیں تیار تھیں۔ جن فصلوں پر ان کا سال بھر کا گذارہ تھا منافقین کو اس کا بہانہ ہاتھ آگیا اور انہوں نے کہنا شروع کیا کہ ہم کیسے جاسکتے ہیں عسرت و تنگی کا زمانہ ہے فصلیں تیار ہیں گرمی کا شدید موسم ہے۔ ان ہی میں بعض وہ تھے جو منافق نہ تھے مگر کچھ سستی اور کاہلی میں آپ کے ساتھ نہ جاسکے اس کے برخلاف تمام صحابہ کرام نے خوب بڑھ چڑھ کر اس جہاد میں حصہ لیا اور عظیم ایثار و قربانی کا جذبہ پیش کیا۔ سورة توبہ میں آگے اس کی تفصیلات آئے گی۔ اس طرح آپ تیس ہزار کا ایک عظیم لشکر لے کر بہت تیزی سے تبوک کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ جب قیصر روم کو معلوم ہوا کہ مسلمان بہت تیزی کے ساتھ سلطنت شام کی طرف بڑھے چلے آ رہے ہیں تو وہ گھبرا گیا اور اس نے مقابلہ کرنے کے بجائے خاموشی ہی میں عافیت سمجھی اور وہ مقابلہ پر نہ آسکا۔ آپ نے تبوک کے مدیان میں بیس دن تک دشمن کا انتظار کیا اور آس پاس کے قبائل کو مطیع کرتے ہوئے مدینہ منورہ واپس تشریف لے آئے۔ اس موقع پر سورة توبہ کی آیات نازل ہوئیں۔ ان آیات میں فرمایا گیا ہے کہ اے ایمان والو ! تمہیں کیا ہوگیا جب تمہیں جہاد کی طرف بلایا جاتا ہے تو تم اپنے مفاد کیلئے زمین کی طرف جھکتے چلے جاتے ہو کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ آخرت کی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی زندگی زیادہ بہتر ہے اور آج تم فصلوں کے اور گرمی کے موسم کے بہانے کر کے اللہ کے راستے سے رک رہے ہو۔ صاف صاف فرما دیا گیا کہ اگر تم اللہ کے راستے میں نہیں نکلو گے تو اللہ تمہارا اور تمہاری حمایت کا محتاج نہیں ہے وہ تمہاری جگہ دوسری قوم کو ایمان کی توفیق عطا کر کے اس سے یہ کام لے لے گا۔ تم تو اللہ کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے کیونکہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے لیکن تم اپنا بہت کچھ نقصان کر بیٹھو گے۔
Ayah 9:40

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم نے اس (نبی ﷺ کی مدد نہ کی تو (یاد کرو) اللہ ان کی اس وقت بھی مدد کرچکا ہے جب کہ کافروں نے ان کو (مکہ سے ) نکالا تھا وہ دو میں دوسرے تھے جب کہ وہ دونوں غار میں تھے جب کہ کافروں نے ان کو (مکہ سے) نکالا تھا ۔ وہ دو میں دوسرے تھے جب کہ وہ دونوں غار مں د تھے جب انہوں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پھر اللہ نے ان پر کسی نہ (تکسین قلب) کو نازل کیا اور ان کی مدد ایسے لشکر سے کی جس کو تم دیکھ نہیں سکتے تھے اور (اس طرح) اللہ نے کافروں کی بات کو نیچا اور اللہ کی بات کو اونچا کر دکھایا اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 40 تا 41 خفاف (ہلکے) ثقال (بھاری) تشریح :- آیت نمبر 40 تا 41 اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیات میں ارشاد فرمایا تھا کہ جب تمہیں اللہ کے راستے کی طرف بلایا جاتا ہے تو تم زمین میں گڑتے چلے جاتے ہو اور تم سمجھتے ہو کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ تمہاری مدد کے بغیر کامیاب نہ ہو سکیں گے فرمایا کہ یاد رکھو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کسی کی مدد کے محتاج نہیں ہیں۔ ہجرت کے وقت اللہ نے کفار کے مقابلے میں اپنے رسول ﷺ کی جس طرح مدد کی تھی وہ آج بھی بغیر کسی وسیلے اور ذریعہ کے اپنے رسول کی مدد کرسکتا ہے چناچہ فرمایا گیا کہ اگر تم اس موقع پر اللہ کے رسول ﷺ کا ساتھ نہ دو گے تو یاد رکھو اس وقت اللہ نے اپنے رسول کی مدد کی تھی جب کہ کفار نے آپ کو مکہ مکرمہ سے نکلنے پر مجبور کردیا تھا اس وقت ایک ساتھی یعنی حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ آپ تنہا تنہا نکل کھڑے ہوئے تھے۔ ایک طرف مکہ کے کفار اور ان کا جوش انتقام تھا اور دوسری طرف اللہ کے رسول ﷺ اور رسول ﷺ کے معتمد حضرت ابوبکر صدیق ساتھ میں تھے۔ جب حضور اکرم ﷺ کو تلاش کرتے کرتے کفار مکہ غار ثور تک پہنچ گئے جہاں یہ دونوں چھپے ہوئے تھے اور دشمنوں کے پاؤں نظر آنے لگے اس وقت حضرت ابوبکر صدیق نے کہا تھا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ اب کیا ہوگا ؟ جواب میں اللہ کے رسول ﷺ نے بڑے اعتماد کے ساتھ فرمایا تھا کہ گھبرائو مت اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اللہ نے ان پر تسکین قلب کو نازل کیا اور ایسے فرشتوں سے مدد فرمائی جو ظاہری نگاہوں سے دیکھے نہیں جاسکتے تھے لیکن اللہ نے اپنی بات کو اونچا کر دکھایا اور کفار کی بات اور ان کے برے ارادے ذلت و خواری سے دوچار ہوئے۔ ان آیات میں ایک دفعہ پھر صاف صاف الفاظ میں فرما دیا گیا ہے کہ یہ تو اہل ایمان کی سعادت ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ساتھ ہوجائے اور وہ اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات کو اپنی زندگی بنا لیں لیکن اللہ اور اس کا رسول ﷺ نہ پہلے کسی کی مدد کے محتاج تھے نہ آج ہیں۔ وہ اللہ جس طرح چاہتا ہے اپنے دین کو سربلند کردیتا ہے اور کفر کو آج بھی اس کے سامنے سر جھکانا پڑے گا اور آئندہ بھی اس کا یہی حشر ہوگا۔ فرمایا کہ اے مومنو ! تم اس بات کا اتنظار نہ کرو کہ آج تمہارے پاس کچھ ہے یا نہیں تم ہلکے ہو یا بھاری، ہر حال میں اللہ کے راستے میں نکل پڑوا پنے مالوں اور اپنی جانوں کو اللہ کے لئے پیش کردو تمہارے لئے اسی میں بہتری اور آخرت کی سعادت ہے۔
Ayahs 9:41–46

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

سامان تھوڑا ہو یا زیادہ تم نکل پڑو اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ تمہاری بہتری اسی میں ہے اگر تم جانتے ہو۔

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

اگر مال غنیمت قریب اور سفر آسان ہوتا تو یہ ضرور ساتھ ہو لیتے لیکن انہیں تو یہ راستہ ہی دور کا نظر آ رہا ہے۔ اور جلد ہی یہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہیں گے کہ اگر ہمارے اختیار میں ہوتا تو ہم تمہارے ساتھ ضرور نکل پڑتے۔ وہ اپنے ہاتھ خود اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ بیشک یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ اللہ نے آپ سے درگزر کیا لیکن آپ نے ان کو اجازت کیوں دے دی جب تک یہ ظاہر نہ ہوجاتا کہ کون ان میں سے سچے ہیں اور کون ان میں سے جھوٹے لوگ ہیں۔

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

جو لوگ اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کر رہے ہیں وہ آپ سے (کبھی) اجازت نہیں مانگیں گے اور اللہ اہل تقویٰ کو خوب جانتا ہے۔

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

آپ سے صرف وہ لوگ اجازت مانگ رہے ہیں جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک و شبہ میں ڈول رہے ہیں۔

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لئے (کچھ نہ کچھ تو) تیاری کرتے لیکن اللہ نے ان کے جانے ہی کو پسند نہیں کیا۔ پھر اس نے ان کو روک دیا اور کہہ دیا گیا کہ تم بیٹھنے والوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہو۔

لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 46 عرض (اسباب، مال غنیمت) سفر قاصد (آرام والا سفر) ، لاتبعوک (البتہ وہ آپ کے پیچھے چل پڑتے) بعدت (دور لگا) الشقۃ (فاصلہ، حصہ) استطعنا (ہماری استطاعت ہوتی) عفا اللہ (اللہ نے معاف کردیا ) لم اذنت (آپ نے کیوں اجازت دی ؟ ) حتی یتبین (جب تک واضح نہ ہوجاتا) صدقوا (جنہوں نے سچ کہا) لا یستاذنو (وہ اجازت نہیں مانگتے ) ارتابت (شک کیا) ریب (شک) یترددون (وہ بھٹک رہے ہیں) لاعدوا (البتہ وہ تیاری کرتے) کرہ اللہ (اللہ نے پسند نہیں کیا) انبعاث (اٹھنا) ثبط (ہم نے جما دیا، روک دیا) افعدوا (بیٹھے رہو) تشریح آیت نمبر 42 تا 46 تاریخ گواہ ہے کہ جب جنگیں لڑی جاتی ہیں تو ان میں موسم، وسائل، قوم کی حمایت فتح و شکست میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ ان کو نظر انداز کر کے گھر میں بیٹھ کر جنگیں کرنا مشکل ہے لیکن اگر دور دراز جا کر دشمن سے مقابلہ کرنا ہو تو اس میں اور بھی زیادہ وسائل کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو فتح مکہ، غزوہ حنین اور طائف میں مسلسل مسلمانوں کی شرکت نے ان کو تھکا کر رکھ دیا تھا۔ تھکی ماندی قوم کبھی بھی دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتی دوسری طرف سخت گرم موسم، طویل ترین سفر، راستے میں ریت کے طوفانی اور ٹیلوں سے واسطہ، کھلا میدان، پانی کی شدید کمی جھلسا دینے والی لو کے تھپیڑے تیسری طرف یہ کہ کھجوریں پک چکی تھیں ہر شخص جانتا ہے کہ جب فصل تیار ہو جس پر سارے سال کے گذر بسر کا دار وم دار ہو اس وقت نکلنا فقر و فاقہ کو دعوت دینا ہے۔ چوتھے یہ کہ اتنی بڑی سلطنت سے ٹکر لینے میں جنتے وسائل کی ضرورت تھی وہ بھی مہیا نہیں تھے ان حالات میں جنگ کا تصور بڑا بھیانک تھا مگر اس موقع پر صحابہ کرام کا جوش و خروش ایثار و قربانی، اطاعت و فرما برداری کے وہ بےمثال کارنامے سامنے آئے جن کی مثال دنیا کی کسی تاریخ میں موجود نہیں ہے۔ یہ وہ جاں نثار صحابہ کرام تھے جن کے نزدیک یہ سارے بھیانک تصورات اور موسم کی سختیاں کچھ حیثیت نہ رکھتی تھیں وہ اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کی تعمیل میں اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنے مالوں اور جانوں کو اللہ و رسول ﷺ کے حوالے کردیا۔ دوسری طرف وہ منافق تھے جو اپنے مفادات کے لئے اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھے وہ بھی کھل کر سامنے آگئے انہوں نے طرح طرح کے بہانے بنانے شروع کردیئے۔ چونکہ نبی کریم ﷺ انتہائی نرم مزاج اور فضل و کرم کے پیکر تھے اس لئے جب بھی کسی شخص نے آ کر کوئی بہانہ پیش کای تو آپ نے اس کو مدینہ میں رہ جانے کی اجازت دیدی۔ جس نے جو سہولت چاہی وہ اس کو دیدی گئی لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلسل آیتیں نازل فرمائیں کہ جن سے منافقین کے لئے جائے پناہ تلاش کرنا مشکل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر کہیں قریب کا سفر ہوتا اور خوب مال غنیمت ملنے کی توقع ہوتی تو یہ ضرور ساتھ ہو لیتے لیکن یہاں تک جان پر بن رہی ہے انہیں یہ سفر بہت دور کا سفر نظر آ رہا ہے فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کی قسمیں کھا کر آپ کو یقین دلائیں گے کہ ہمارے اندر ذرا بھی طاقت نہیں ہے۔ اگر طاقت ہوتی تو ہم ضرور آپ کے ساتھ نکلتے اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ بہانے نہیں کر رہے ہیں بلکہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں اور یہ جو بہانے بنا رہے ہیں اللہ کو معلوم ہے کہ یہ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اے ہمارے پیارے حبیب ﷺ آپ نے اپنے مزاج کے اعتبار سے بعض لوگوں کو اجازت دے کر نرمی کا معاملہ کیا ہے لیکن اگر آپ ان کو آزما کر دیکھ لیتے کہ کون اپنے دعوے میں سچا ہے اور کون جھوٹا ہے تو یہ کہیں بہتر ہوتا ہے۔ فرمایا کہ بہرحال وہ لوگ جو اللہ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں وہ اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں وہ کبھی آپ کے پاس اجازت لینے نہیں آئیں گے۔ اللہ ایسے نیک اور متقی لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے لیکن وہ لوگ جو اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جن کے دل ہمیشہ شک و شبہ میں ڈولتے رہتے ہیں وہ ہزاروں بہانے بنا کر آپ سے اجازت مانگنے آجائیں گے۔ اگر وہ واقعی اللہ کے راستے میں نکلنے کی تیاری کرتے کچھ تو معلوم ہوتا مگر جنہوں نے پیچھے بیٹھ رہنے کا فیصلہ کرلیا ہے وہ تو پیچھے بیٹھنے والوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہیں گے۔ اللہ بھی ایسے بدطینت لوگوں کو اپنے راستے میں نکلنے کی توفیق نہیں دیتا۔
Ayahs 9:47–49

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو سوائے خرابی کے اور کچھ پیدا نہ کرتے۔ وہ تمہارے درمیان فتنے پھیلانے کے لئے دوڑ دھوپ کرتے نظر آتے ہیں۔ تمہارے اندر ان کے کچھ جاسوس بھی ہیں اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

انہوں نے پہلے بھی فتنے اٹھائے تھے اور تمہاری تدبیروں کو الٹ دیا تھا یہاں تک کہ سچا وعدہ آگیا اور ان کو ناگوار ہونے کے باوجود اللہ کا حکم غالب ہو کر رہا ہے۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

ان میں بعض لوگ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں بھی اجازت دیدیجیے اور ہمیں کسی فتنے میں نہ ڈالئے۔ سنوچ یہ تو فتنے میں پڑ ہی گئے اور یقینا جہنم ان کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 49 مازادوا (انہوں نے اضافہ نہ کیا) خبال (خرابی) اوضعوا (وہ دوڑتے پھرتے ہیں) خللکم (تمہارے درمیان) یبغون (وہ تلات کرتے ہیں) سمعون (بہت سننے والے، جاسوس) قلبوا (انہوں نے الٹا ہے) لاتقتنی (مشکل میں نہ ڈالے (سقطوا (وہ گر پڑے) تشریح آیت نمبر 47 تا 49 گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس غزوہ تبوک کے موقع پر جہاں وہ اہل ایمان ہیں جو اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے ہر طرح اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کی تعمیل میں سر دھڑ کی بازی لگا چکے ہیں وہیں وہ منافق بھی ہیں جو اس موقع پر عذر اور معذرت کر رہے ہیں ان ہی آیات کے تسلسل میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب انہوں نے اپنا مزاج ہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم نہ ماننے کا بنا لیا ہے تو اللہ نے بھی ان کو اس نیک عمل میں شرکت کی توفیق نہیں دی۔ اہل ایمان سے فرمایا جا رہا ہے کہ ان کا پیچھے بیٹھ رہنا تمہارے لئے مفید بھی ہے۔ اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ نکلتے تو سوائے خرابی کے اور کچھ پیدا نہ کرتے، فتنے پھیلانا، غلط پروپیگنڈا کرنا، طرح طرح کی افواہیں پھیلانا ان کا کام ہے۔ اگر یہ تمہارے ساتھ ہوتے تو ان کے فتنوں سے بچنا مشکل ہوجاتا۔ دراصل یہ پہلے بھی ایسی حرکتیں کرچکے ہیں اب بھی کر رہے ہیں اور ایسے لوگ اسی طرح کی حرکتیں کرتے رہیں گے اب ان کا کام دوسروں کے لئے تمہاری جاسوسی کرنا ہے اور کہتے ہیں یہ ہیں یہیں رہنے کی اجازت دیجیے اور ہمیں کسی آزمائش میں نہ ڈالئے۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ آزمائشوں سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں یہ تو اس میں مبتلا ہوچکے ۔ اب تو صرف ایک بات کی کمی ہے کہ اس طرح کے لوگوں کو جہنم کا ایندھن بنا دیا جائے اور یہ بن کر رہیں گے۔
Ayahs 9:50–52

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو انہیں وہ بری لگتی ہے اور اگر تمہیں مصیبت پہنچ جائے تو خوشیوں کے ساتھ یہ کہہ کر پلٹتے ہیں کہ ہم نے تو اپنا معاملہ پہلے ہی ٹھیک کرلیا تھا۔

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ ہمیں تو وہی پہنچتا ہے جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دیا ہے (مقرر کردیا ہے) وہ ہمارا مالک ہے اور ایمان والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظر رہتے ہو اور ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ کب تم پر اپنی طرف سے عذاب نازل کرے گا یا ہمارے ہاتھوں سے تمہیں سزا دلوائے گا۔ تم انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 52 تسوھم (ان کو بری لگتی ہے) اخذنا (ہم نے لے لیا) امرنا (اپنا اختیار، اپنا اکم) فرحون (وہ خوش ہو رہے ہیں ) لن یصیبنا (ہمیں ہرگز نہ پہنچے گی) مولنا (ہمارا مالک) احدی الحسنین (دو بھلائیوں میں سے ایک) تشریح : آیت نمبر 50 تا 52 ان آیات میں منافقین کی ایک اور عادت اور کم ظرفی کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے۔ یہ منافقین بظاہر تو مسلمان بنے ہوئے تھے لیکن جب کوئی فتح یا کامیابی کی اطلاع آتی تو انہیں دکھ ہوتا تھا اور جب مسلمانوں کو کسی طرح کا نقصان پہنچتا تو خوشی سے دیوانے ہوجاتے اور اپنی اس دلی خوشی کو دباتے ہوئے کہتے کہ ہمیں تو پہلے ہی معلوم تھا کہ ایسا ہوگا یا ہمیں تو پہلے ہی یہ خطرہ معلوم ہو رہا تھا کہ ایسا نقصان پہنچے گا اس لئے ہم شریک نہیں ہوئے اور ہم نے اپنے آپ کو اس نقصان سے بچا لیا۔ یہ کہہ کر وہ خوش خوش اپنے گھر چلے جاتے ہیں۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ اور اہل ایمان کے ذریعہ یہ دلوایا ہے کہ ان سے کہہ دو کہ ہمارا مالک تو اللہ ہے اس نے ہمارے لئے مقدر فرما دیا ہے۔ یہ کامیابی، ناکامی فتح و شکست سب اللہ کی طرف سے ہے۔ اہل ایمان کو یہ اعتماد دیا گیا کہ اگر بظاہر اس دنیا میں ناکامی ہوجائے تو کیا ہوا آخرت کی کامیابی تو یقینی ہے۔ ان آیات میں اہل ایمان کو دو باتوں کی طرف خصوصی طور پر متوجہ کیا گیا ہے ایک تو یہ کہ اللہ نے ہمارے لئے جو کچھ مقدر کردیا ہے وہ مل کر رہے گا اس کو دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی اور وہ جو کچھ نہ دینا چاہے ساری دنیا مل کر بھی اس کو دلوا نہیں سکتی۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ پر ہی توکل اور بھروسہ کیا جائے۔ لیکن توکل کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ آدمی، کاہلی، غفلت، بےتدبیری میں مبتلا ہوجائے اور ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جائے اور یہ کہنے لگے کہ بس جو تقدیر میں ہے وہ مل کر رہے گا بلکہ توکل کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنی پوری تیاری کرے، تدبیر میں کمی نہ کرے پھر اللہ کار سازی پر مکمل اعتماد کر کے آگے بڑھے۔ اس کے بعد جو بھی نتیجہ سامنے آئے اس کو تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر قبول کرلے۔
Ayahs 9:53–57

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ تم خوشی سے خرچ کرو یا زبردستی، اللہ تمہارے کسی خرچ کو قبول نہ کرے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ تم نافرمان قوم ہو۔

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

ان کے دیئے مال کو قبول کرنے میں اس کے سوا اور کوئی رکاوٹ نہیں ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور نماز میں سستی اور کاہلی سے آتے ہیں اور جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں وہ خوش دلی سے نہیں کرتے۔

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کو ان کے مالوں اور اولادوں کی (کثرت) تعجب میں نہ ڈال دے۔ اللہ تو صرف یہ چاہتا ہے کہ ان کو دنیا کی زندگی میں اس کے ذریعہ سزا دے اور جب ان کی جانیں نکلیں وہ کافر ہی ہوں۔

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

وہ اللہ کی قسیں کھا کر کہتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہی ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں بلکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (تم سے) خوف زدہ ہیں۔

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر ان کو کوئی پناہ کی جگہ یا گھسنے کے لئے کوئی غار مل جائے تو وہ منہ اٹھا کر وہیں جا گھسیں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 53 تا 57 طوعاً (خوشی سے) کرھا (زبردستی) لن یتقبل (ہرگز قبول نہ کیا جائے گا) لایاتون (وہ نہیں آتے) کسالی (سستی کرنے والے) لاینفقون (وہ خرچ نہیں کرتے) کرھون (زبردستی) لاتعجبک (تجھے حیرت میں نہ ڈالے) تزھق (وہ نکالے) یحلفون (وہ قسم کھاتے ہیں) قوم یفرقون (وہ لوگ جو ڈرتے ہیں) یجدون (وہ پائیں گے) ملجا (ٹھکانا) مغرت (غار) مدخل (داخل ہونے کی جگہ، گھسنے کی جگہ ) یجمحون (سرکشی کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 53 تا 57 خطاب کا رخ ان منافقین کی طرف ہے جو جہاد میں جسم و جان کھپانے کو تیار نہ تھے البتہ دنیا دکھاوے اور اپنی لاج رکھنے کے لئے کچھ چندہ کے طور پر رقم دے کر یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے اپنا حق ادا کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کے لئے فرمایا کہ تمہارا یہ مال قبول نہیں ہوگا چونکہ تم لوگ فاسق یعنی نافرمان ہو اور تمہارا شمار کافروں میں ہے فرمایا کہ تمہارا مال اس لئے قوبل نہیں ہے کہ تمہارا عمل اس کے برخلاف ہے جو تم زبان سے کہتے ہیں۔ ثبوت کے طور پر فرمایا کہ تمہاری نمازیں، کاہلی اور سستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور تم جو کچھ خرچ کرتے ہو اس میں خوش دلی کے بجائے ایسا لگتا ہے کہ کوئی تاوان اور جرمانہ ادا کر رہے ہو۔ مال اور اولاد کی کثرت نے انہیں اس خوشی فہمی میں مبتلا کردیا ہے کہ یہ کوئی بہت برگزیدہ اور نیک لوگ ہیں حالانکہ اللہ نے ان کی بدعملی کی وجہ سے ان کے مال اور ان کی اولاد دوں کو ان کے لئے عذاب کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ اس بات کی بھی وضاحت کردی گئی ہے کہ ان چیزوں کی کثرت حالت کفر میں زحمت اور حالت ایمان میں رحمت ہے۔ کافر مال سمیٹنے جمع رکھنے حفاظت کرنے ، مزید پیدا کرنے اور ان کی نمائش میں اتنا مبتلا رہتا ہے کہ وہ نہ حرام دیکھتا ہے نہ حلال نہ اسے فکر آخرت کی ذہنی فرصت ہے نہ وہ اللہ کے کام میں اسکو خرچ کرتا ہے ، نتیجہ یہ ہے کہ وہ عذاب در عذاب کے دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے جب وہ مرتا ہے تو کافر رہ کر ہی مرتا ہے اور حسرت و افسوس کے ساتھ اپنا سارا مال و متاع یہیں چھوڑ کرجاتا ہے۔ یہ لوگ منافق کیوں بنے ؟ فرمایا کہ ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو مدینہ چھوڑ کر کہیں جا نہیں سکتے جب مدینہ میں دین اسلام کی دشمن روشن ہوئی اور وہاں اس دین نے قدم جمائے تو انہیں اپنے مال و متاع کی خیر و عافیت اسی میں نظر آئی کہ وہ ظاہری طور پر مسلمان بن جائیں۔ اب دین اسلام کی دن دونی رات چوگنی ترقی دیکھ دیکھ کر وہ اس حد تک بدحواس ہوتے جا رہے ہیں کہ اگر ان کو کوئی بھی چھپنے کی جگہ مل جائے تو وہ پہلی فرصت میں بھاگ جائیں گے۔
Ayahs 9:58–59

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور ان میں سے بعض تو وہ لوگ ہیں جو آپ پر صدقات (کی تقسیم) میں طنز و اعتراض کرتے ہیں پھر اگر ان کو اس میں سے کچھ دیدیا جائے تو وہ خوش ہوتے ہیں اور اگر اس میں سے ان کو نہ دیاجائے تو وہ منہ پھلا لیتے ہیں۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور کاش وہ اس پر راضی ہوجاتے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ان کو دیا ہے اور یہ کہتے کہ ہمیں اللہ (کی ذات ہی) کافی ہے۔ اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہت جلد ہمیں اپنے فضل و کرم سے بہت کچھ دے گا اور یہ کہتے کہ ہم اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں (تو ان کے حق میں بہتر ہوتا)

لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 59 یلمز (طعنے دیتا ہے) اعطوا (دیا گیا) رضوا (خوش ہوگئے) یسخطون (وہ ناراض ہوتے ہیں) حسبنا اللہ (ہمیں اللہ کافی ہے) سیوتینا (جلد ہی ہمیں دے گا) رعبون (رغبت کرنے والے، مائل ہونے والے) تشریح : آیت نمبر 58 تا 59 ہر دور میں اللہ کے دشمنوں کا طریقفہ یہ رہا ہے کہ وہ اپنے دلی بغض و عدات اور دشمنی کا اظہار اس طرح کرتے ہیں جس سے عام لوگوں کے دلوں میں شک و شبہ پیدا ہوجائے اور جو بھی مرکزی شخصیت ہو اس پر ایسے الزامات لگا دیئے جائیں جس سے تحریک اور اس کے کام چلانے والے بدنام ہوجائیں اور آپس میں پھوٹ پڑجائے۔ نبی کریم ﷺ سے منافقفین کو ایک خاص بغض تھا اس لئے اس موقع کی تلاش میں رہتے تھے کہ ہمیں کب ان کو بدنام کرنے کا موقع ملتا ہے جب بھی کوئی ایسی بات نظر آتی کہ وہ اس کو دوسرا رنگ دے کر مسلمانوں کے دلوں میں شک و شبہ پیدا کرسکتے ہیں تو موقع سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کرتے۔ چناچہ آپ کو جب بھی مال غنیمت حاصل ہوتا تو آپ اللہ کے حکم کے مطابق اس میں سے پانچواں حصہ رکھ کر بقیہ تمام مجاہدین میں برابر تقسیم فرما دیتے تھے اور وہ پانچواں حصہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حصہ قرار دیا گیا تھا وہ وہ بھی غریب رشتہ داروں مکسینوں ، محتاجوں اور یتیموں میں تقسیم کردیا جاتا تھا نیز جو بھی صدقات حاصل ہوتے آپ اس کو بھی تمام مسلمانوں میں تقسیم فرما دیتے تھے اور زکوۃ و صدقات کو اپنی اولاد اور خاندان والوں کے لئے ممنوع قرار دیتے تھے۔ منافقن کا حال یہ تھا کہ اگر ان کو ان کی خواہش اور توقع کے مطابق مل جاتا تو خاموش رہتے اور اگر ذرا ان کی توقع کے خلاف ملتا تو اپنی گندی ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بےانصافی اور ناراضگی کا شور مچا کر ان میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے۔ اس کا جواب تو اللہ نے اگلی آیت میں دے دیا ہے کہ نبی مکرم ﷺ صدقات (زکوۃ) کی تقسیم اسی طرح کرتے ہیں جس طرح اللہ نے اس کی تقسیم کا دائرہ مقرر کردیا ہے لیکن اس جگہ یہ فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ جس طرح صدقات کو تقسیم کرتے ہیں اس پر راضی رہتے ہوئے یہ کہتے کہ ہمیں تو ہمارا اللہ کافی ہے۔ اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہمیں بہت جلد اپنی عنایتوں سے نوازے گا اور ہم اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں تو اللہ اور اس کا رسول ﷺ ان کو وہ سب کچھ دیتا جو ان کی توقع اور خواہش سے بھی زیادہ ہوتا۔
Ayahs 9:60–62

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

صدقات (زکوۃ) تو صرف ان لوگوں کا حق ہے جو غریب اور محتاج ہوں اور وہ لوگ جو ان (دقات کی وصولی) پر مقرر ہوں اور (اور ان لوگوں کے لئے ہیں) جن کے قلب کو (اسلام کی طرف) مائل کرنا ہے غلام کی گردنیں چھڑانے قرض داروں کے قرض، اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے والے محتاج) اور جو لوگ مسافر ہوں ان کے لئے۔ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے۔ اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور ان میں سے بعض لوگ نبی ﷺ کو ایذا پہنچاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ تو کان ہیں (کانوں کے کچے ہیں) آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ یہ کان تمہاری بھلائی کیلئے ہے۔ جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور مومنوں پر اطمینان رکھتا ہے تم میں سے ان کے لئے رحمت ہے جو ایمان لے آئے ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم ان سے خوش ہو جائو حالانکہ اگر یہ مومن ہیں

لغات القرآن آیت نمبر 60 مکسی ن (مکسین) ، محتاج العملین (کام کرنے والے) المولفۃ (مائل کرنا) الرقاب (رقبۃ) گردنیں الغرمین (الغارم) جرمانہ بھرنے والے تشریح : آیت نمبر 60 دین اسلام ہر مومن کو ایک غیرت ایمانی عطا کرتا ہے اور اس کو ہر اس جگہ سے دور کردیتا ہے کہ جہاں اس کی غیرت متاثر ہو سکتی ہے یا اس کو اپنی حاجت کے لئے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے اس لئے یہ ذمہ داری حکومت اسلامی کی رکھی گئی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے حالات پر نظر رکھے جو اپنی غیرت کی وجہ سے کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرسکتے۔ اس مقصد کے لئے زکوۃ و صدقات کے نظام کو قائم فرمایا گیا ہے تاکہ آج وہ شخص جو اپنی سی کوشش کے باوجود حالات کے سامنے بےبس ہوگیا ہو اس کو معاشرہ کا با اعتماد فرد بنانے کیلئے سہارا دیا جائے۔ آج وہ زکوۃ لینے والا ہو تو کل وہ دوسروں کو زکوۃ دینے کے قابل بن سکے۔ اگر اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو موجودہ دور کی زکوۃ کی تقسیم جو بھیک بن کر رہ گئی ہے اور وہ زکوۃ جو معاشرہ میں حالات کو سدھار دیا کرتی تھی بڑا واضح فرق نظر آئے گا۔ حضرت سیدنا عمر فاروق کے دور خلافت میں حضرت معاذ ابن جبل نے یمن سے ایک بڑی رقم یہ کہہ کر مدینہ منورہ بھیج دی تھی کہ اے امیر المومنین اب پورے یمن میں ہر شخص زکوۃ دینے والا بن گیا ہے اور کوئی زکوۃ لینے والا نہیں رہا۔ جب پہلی صدی مکمل ہوئی تو حضرت عمر ابن عبدالعزیز کے دور حکومت میں لوگ اپنی زکوۃ جھولیوں میں لئے پھرتے تھے اور ان کو کوئی زکوۃ لینے والا نہ ملتا تھا۔ آج اس دور میں ہم نے زکوۃ کا کوئی نظام قائم نہ کر کے زکوۃ خوروں کی (بھکاریوں کی) ایک اچھی خاصی جماعت تیار کردی ہے جن کا کام ہی یہ ہے کہ وہ خود یاد کچھ لوگ غریبوں کا نام لے کر زکوۃ جمع کرتے ہیں اور اپنے عیش و آرام پر خرچ کرتے ہیں۔ کاش کہ وہ نظام پھر سے قائم ہوجائے جس میں زکوۃ ہر بےسہارا انسان کو بےغیرت بنائے بغیر عزت نفس کے ساتھ جینا سکھا دے۔ آج حالات اور سود خوروں کے جال میں پھنس کر تڑپ رہے ہیں ان کو سہارا مل جائے اور وہ بھی معاشرہ کا بہترین فرد بن کر دوسروں کے لئے سہارا بن جائیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان آٹھ مصرفوں کا ذکر فرما دیا ہے جن میں صدقات (زکوۃ) کی رقم کو خرچ کیا جائے گا۔ (1) قرآن و حدیث میں نقل و واجب صدقات کا بھی ذکر ہے لیکن جو صدقہ فرض ہے وہ زکوۃ ہے یہاں صدقات سے مراد فرض زکوۃ ہے۔ (2) جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ ابن جبل کو یمن کا گورنر مقرر کرتے ہوئے ہدایت فرمائی تھی کہ مسلمانوں کے دولت مندوں سے زکوۃ لے کر مسلمانوں کے حاجت مندوں میں تقسیم کردی جائے۔ (3) سابق آیت میں ہے کہ منافقی الزام دھرتے تھے کہ حضور پر نور ﷺ (نعوذ باللہ) صدقات کی تقسیم میں انصاف سے کام نہیں لیتے اس کے جواب میں آپ نے ایک شخص کو جو مانگنے کھڑا ہوا تھا فرمایا : صدقات کی تقسیم کو اللہ تعالیٰ نے کسی نبی یا غیر نبی کے حوالے نہیں کیا بلکہ خود ہی اس کے آٹھ مصارف متعین فرما دیئے۔ اگر تم ان آٹھ میں شامل ہو تو تمہیں دے سکتا ہوں (تفسیر قرطبی ۔ ص 168۔ ج 8) (4) فقیر سے مراد ہر وہ شخص ہے جو انی زندگی گذارنے میں دوسروں کا محتاج ہو سخت افلاس اور بدحالی کا شکار ہو وہ اپنی گذر بسر کے لئے زکوۃ لے سکتا ہے۔ (5) مسکین وہ خود دار اور غیرت مند شخص ہے جو اپنی بنیادی ضروریات میں بھی دوسروں کا محتاج ہو کر رہ جائے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا گوارانہ کرے نہ اپنے حال کو کسی پر ظاہر کرنا مناسب سمجھتا ہو یہ بھی زکوۃ لینے کا حق رکھتا ہے۔ (6) عاملین۔ یعنی وہ لوگ جو زکوۃ وصول کرنے پر اسلامی حکومت کی طرف سے مقرر کئے گئے ہوں جن کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس زکوۃ کو وصول کر کے اس کی حفاظت اور حساب کتاب رکھیں ان کارکنوں کو بھی زکوۃ دی جاسکتی ہے۔ ان کا غریب و مکسین ہونا ضروری نہیں ہے اگرچہ وہ خود اپنی جگہ صاحب نصاب ہوں مال دار ہوں تب بھی وہ اسی زکوۃ و صدقات سے بقدر کفایت اپنا متعین حق لے سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ وہ متعین حق اس کی وصول کردہ رقم کے نصف سے زائد نہ ہو۔ نیز یہ کہ عامل ہاشمی نہ ہو۔ (7) تالیف قلب۔ عام حالات میں ایک ایسا شخص جس نے دین اسلام کی سچائیوں سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرلیا ہو نو مسلم ہو۔ ضروری نہیں ہے کہ اس کے ساتھ اس کے خاندان والوں نے بھی اسلام قبول کرلیا ہو تو ایسا شخص جو اپنوں سے کٹ کر مسلمانوں کی برادری میں شامل ہوجاتا ہے۔ اس شخص کی زکوۃ سے مدد کرنا تالیف قلب کہلاتا ہے تاکہ وہ حالات سے مجبور ہو کر پھر کفر کی طرف نہ لوٹ جائے اگر وہ حاجت مند ہے تو زکوۃ سے اس کی مدد کر کے اس کی دل داری کی جاسکتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے بعض حالات میں ایسا کیا ہے ۔ جب مسلمان مضبوط ہوگئے تو خلفاء راشدین نے اس پر عمل اس لئے نہیں کیا کہ اسلام کے مضبوط ہونے کی وجہ سے اب تالیف قلب کی ضرورت باقین ہیں رہی تھی۔ لیکن اگر کسی بھی دور میں اس کی ضرورت ہو تو قرآن کریم میں زکوۃ کا ایک مصرف اس کو بھی بنایا گیا ہے کہ نئے مسلمان ہونے والوں کو تالیف قلب کے لئے زکوۃ ان شرائط کے ساتھ دی جاسکتی ہے جس کا ذکر کتب فقہ میں ہے۔ (8) رقاب۔ پانچواں مصرف ہے گردنیں چھڑانا۔ غلاموں کو آزاد کرانا ۔ دراصل یہ دین اسلام اور نبی کریم ﷺ کا فیض ہے کہ آج دنیا سے غلام اور باندیوں کا رواج ختم ہوچکا ہے لیکن ایام جاہلیت میں غلاموں کی خریدو فروخت کا کاروبار چلا کرتا تھا اور انسان بھیڑ بکریوں کی طرح فروت کیا جاتا تھا نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت کے وقت یہ سلسلہ قائم تھا۔ اگر آپ جزیرۃ العرب پر مکمل حکمرانی کے باوجود یہ اعلان فرما دیتے کہ آج سے ہر غلام مردود عورت آزاد ہے تو شاید یہ غلام اس کے ساتھ انصاف نہ ہوتا بلکہ ان پر ایک اور ظلم ہوتا۔ وجہ یہ ہے کہ غلام تو ہر کھیت ، بازار اور گھروں میں کام کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے ان کو رہنے کیلئے چھت میسر تھی۔ اگر ان کو آزادی کا پروا نہ مل جاتا تو پھر کوئی ان کو چھت کے نیچے آرام کرنے نہ دیتا۔ یہ لوگ بےگھر ہو کر ہزاروں مسائل پیدا کردیتے اس کے برخلاف نبی کریم ﷺ نے غلاموں کے ساتھ انسانی معاملہ کرنے ان کو حقوق انسانی دلانے کے احکامات ارشاد فرمائے اور ہر شخص کو غلام آزاد کرنے پر جنت کی بشارتیں دیں جس کی وجہ سے لاکھوں غلام بھی آہستہ آہستہ آزاد ہوتے گئے اور ان کو معاشرہ میں بھی عزت کا مقام ملتا چلا گیا قرآن کریم میں مختلف غلطیاں کرنے پر گناہوں کے کفارے کے لئے غلام کو آزاد کرنا فرض کیا گیا۔ نیز زکوۃ جو ایک اہم عبادت ہے اس کا ایک مصرف غلاموں کی گردنیں آزاد کرنا بھی و ہے۔ گویا اسلام نے غلاموں کو آزاد کرنا عبادت قرار دیا۔ ان تمام اقدامات کا نتیجہ نکلا کہ آج اسلام کے فیض سے دنیا سے غلامی کا رواج ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ (9) الغارمین۔ قرض داروں کا قرض اتارنا۔ ایسے لوگوں کی زکوۃ سے مدد کی جائے گی جو بعض حالات کی بنا پر قرض کے بوجھ تلے دب چکے ہوں ان کو قرض سے نکالنا۔ یہ بھی زکوۃ کا مصرف ہے لیکن بعض فہقہا کرام نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اگر کسی نے یہ قرض کی رقم لے کر عیاشی، اور فضول خرچی میں اڑا دی ہو تو وہ اس زکوۃ کا مستحق نہ ہوگا کیوں کہ اس طرح ایک غلط بات کی حمایت کرنا ہے جو عبادت کی طرح کے خلاف ہے۔ 10) فی سبیل اللہ۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔ اللہ کی راہ سے مراد عموم نہیں بلکہ خصوصی ہے اگر فی سبیل اللہ کے لفظ کو عام سمجھ لیا جائے تو پھر یہ ساری فہرست جو دی گئی ہے بیکار ہو کر رہ جاتی ہے کیونکہ یہ سارے ہی کام فی سبیل اللہ ہیں۔ بعض حضرات نے تو لفظ فی سبیل اللہ کو اتنا عام کردیا ہے کہ مساجد کی تعمیر، ہسپتالوں، اسکولوں اور پلوں کی تعمیر میں بھی زکوۃ کو لگانا شروع کردیا۔ جب کہ ان چیزوں میں زکوۃ خرچ کرنا جائز ہیں ہیں ہے۔ بلکہ فقہا نے اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ اس سے مراد جہاد فی سبیل اللہ ہے یعنی ایسے بےسرو سامان مجاہدین کی امداد میں ان کے سفر خرچ کے لئے، ان کی سواری اور جنگی اسلحہ کی خریداری پر خرچ کرنا زکوۃ کا ایک بہترین مصرف ہے۔ 11) ابن السبیل، یعنی وہ مسافر جو اپنے شہر اور گھر میں خواہ مال دار ہی کیوں نہ ہو۔ اگر وہ کسی ایسے حالات میں پھنس جائے کہ جہاں اس کی امداد کرنا ضروری ہو تو زکوۃ کی رقم سے اس کی مدد کی جاسکتی ہے۔ اس میں ایک احتیاط کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر وہ ہاشمی و مطلبی ہوں یعنی جو سید کہلاتے ہیں تو ان کو زکوۃ نہ دی جائے بلکہ کچھ اور طریقوں سے ان کی مدد کی جائے۔ کیونکہ سیدوں کے لئے زکوۃ لینا حرام ہے۔ زکوۃ کے بقیہ مسائل کو فقہ کی کتابوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ومنھم الذین …… الخزی العظیم (63) لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 63 یوذون (تکلیف پہنچاتے ہیں) اذن کان ہے (یعنی کچے کانوں کے ہیں) لبرضوا (تاکہ وہ راضی کریں) لبرضوا (تاکہ وہ راضی کریں) احق (زیادہ حقدار) یحادد (ماقبلہ کرتا ہے، نافرمانی کرتا ہے۔ ) تشریح : آیت نمبر 61 تا 63 گزشتہ آیات سے منافقین اور ان کی حرکتوں کا تفصیل سے ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ پر یہ گستاخانہ الزام لگاتے تھے کہ (نعوذ باللہ) رسول اللہ ﷺ صدقات کی تقسیم میں بےانصافی کرتے ہیں اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے دے دیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اسی طرح صدقات کی تقسیم فرماتے ہیں جس طرح قرآن کریم میں بتایا گیا ہے۔ ان آیات میں ان منافقین کی ایک اور حماقت کا ذکر کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے۔ تشریح : آیت نمبر 61 تا 63 گزشتہ آیات سے منافقین اور ان کی حرکتوں کا تفصیل سے کر فرمایا جا رہا ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ پر یہ گستاخانہ الزام لگاتے تھے کہ (نعوذ باللہ) رسول اللہ ﷺ صدقات کی تقسیم میں بےانصافی کرتے ہیں اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے دے دیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اسی طرح صدقات کی تقسیم فرماتے ہیں جس طرح قرآن کریم میں بتایا گیا ہے۔ ان آیات میں ان منافقین کی ایک اور حماقت کا ذ کر کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے۔ نبی مکرم ﷺ کا مزاج انتہائی نرم اور شفیقانہ تھا آپ اپنوں اور غیروں کی غلطیوں کو فوراً ہی نہیں پکڑتے تھے بلکہ آپ اپنے حسن اخلاق، مروت اور خاموشی سے اس کو نظر انداز کر جایا کرتے تھے۔ آپ کے حسن اخلاق کو منافق ایک کمزوری سمجھتے تھے۔ جب وہ منافق آپس میں باتیں کرتے اور پیٹھ پیچھے طرح طرح کی بےسروپا باتیں کرتے تو کوئی کہتا اگر ہماری یہ باتیں آپ ﷺ تک پہنچ گئیں تو پھر ہماری خیر نہیں ہے تو جواب میں وہ منافقین کہتے تھے کہ ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے۔ ہم ادھر ادھر کی باتیں کر کے آپ کو یقین دلا دیں گے کیونکہ وہ تو کان ہی کان ہیں (کانوں کے کچے ہیں) ان کو باتوں میں لے آنا اتنا مشکل نہیں وہ تو جس بات کو سنتے ہیں اسی کو اسی طرح تسلیم کرلیتے ہیں ۔ قرآن کریم نے ان منافقین کا پردہ چاک کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے رسول کو ایذا دینے کے لئے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ نبی تو کان ہی کان ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ ہاں وہ کان ضرور ہیں لیکن وہ صرف ان ہی باتوں کو سنتے ہیں جو تمہارے حق میں بہتر ہوتی ہیں وہ ایسی باتوں کو نہیں سنتے جس میں خیر و فلاح نہ ہو۔ وہ خود بھی اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اہل ایمان کی باتوں پر اطمینان رکھتے ہیں وہ اہل ایمان کے لئے رحمت ہی رحمت ہیں۔ فرمایا کہ جو لوگ ہمارے رسول ﷺ کو ایذا پہنچاتے ہیں ان کے لئے اللہ نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ منافقین کی ایک اور عادت کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں اور اس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ اہل ایمان ان سے مطمئن ہوجائیں۔ فرمایا کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس کا زیادہ حق دار ہیں کہ ان کی رضا و خوشنودی کے لئے کام کیا جائے۔ آخر میں ایک مرتبہ پھر فرمایا کہ۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہیں ان کے لئے نہ صرف جہنم کی ابدی آگ ہے بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے لئے بڑی ذلت و رسوائی کا سبب ہے جس سے انہیں پناہ مانگنی چاہئے۔
Ayahs 9:63–66

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

تو اللہ او اس کے رسول ﷺ زیادہ مستحق ہیں کہ وہ راضی ہوجائیں کیا وہ نہیں جانتے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا تو اس کے لئے وہ جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور وہ بڑی رسوائی ہوگی۔

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

وہ منافق اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں (ان اہل ایمان پر) کوئی ایسی سورت نازل نہ ہوجائے جو (اس کو ظاہر کر دے) جو ان کے دلوں میں ہے۔ آپ کہہ دیجیے کہ تم مذاق اڑا لو لیکن اللہ اس کو باہر نکال کر چھوڑے گا جس سے وہ ڈر رہے ہیں

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور اگر آپ ﷺ ان سے پوچھیں تو وہ یہی کہیں گے کہ ہم تو صرف دل لگی اور کھیل کر رہے تھے آپ ﷺ کہہ دیجیے کیا تم اللہ، اس کی آیتوں اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ مذاق کر رہے ہو ؟

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

تم بہانے مت بنائو تم نے ایمان لان کے بعد کفر کیا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو تم میں سے ایک گروہ کو معاف کردیں اور دوسرے گروہ کو سزا دیں۔ اس لئے کہ یہ مجرم ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 64 تا 66 یحذر (ڈرتا ہے) تنبی (مطلع کر دے) استھزء وا (مذاق اڑا لو) مخرج (نکالنے والا) نخوض (ہم دل لگی کر رہے ہیں) نلعب (ہم کھیل کر رہے ہیں) لاتعتذروا (تم معذرت نہ کرو) ان نعف (اگر ہم معاف کردیں) تشریح : آیت نمبر 64 تا 66 ان آیات میں مسلسل منافقین کی بدکرداریوں کا ذکر فرمایا جا رہا ہے اسی میں یہ بھی تھا کہ منافین اپنی نجی محفلوں میں بیٹھ کر اللہ کے رسول ﷺ اور اہل ایمان لوگوں کا مذاق اڑانے، طعن وطنز کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے ۔ وہ اہل ایمان جو جہاد فی سبیل اللہ کے لئے تیار ہوتے ان کی ہر طرح ہمت شکنی کیا کرتے تھے۔ اگر کبھی یہ بات کوئی مومن سن لیتا اور پوچھتا کہ تم کیا کہہ رہے تھے تو اپنی منافقت اور گری ہوئی ذہنیت کو چھپاتے ہوئے کہتے کہ ہم تو پوں ہی کچھ مذاق میں کہہ رہے تھے ہمارا قصد کوئی برائی کا نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے ایک ہی سوال کیا اور وہ یہ کہ کیا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تمہارے نزدیک یہی حیثیت ہے کہ تم ان کے متعلق کوئی بات ہنسی مذاق میں کر جائو۔ اور سمجھتے رہو کہ کوئی بات نہیں ہے حالانکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ اس بات کے حق دار ہیں کہ ادب و احترام کا ہر پہلو محلوظ رکھا جائے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ اس لئے نہیں ہیں کہ کوئی شخص ان کو یا ان کی باتوں کو تضحیک کا نشانہ بنائے۔ فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے بھی ایسا کیا ہے یا سوچا ہے درحققیت انہوں نے ایمان لانے کے بعد کافرانہ حرکت کی ہے جو ناقابل معافی جرم ہے۔ اب یہ تو اللہ کی شان کریمی ہے کہ وہ ان منافقین میں سے جس کو چاہے معاف کر دے اور جس کو چاہے عذاب دے کیونکہ یہ سب کے سب اللہ کے مجرم ہیں۔
Ayahs 9:67–70

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ہی۔ برائی کا حکم دیتے اور نیکیوں سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کو (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنے سے روکتے ہیں ۔ وہ اللہ کو بھول گئے اللہ نے ان کو بھلا دیا۔ بیشک منافقین بہت نافرمان ہیں۔

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں سے اور کفار سے ایسی جہنم کا وعدہ کر رکھا ہے جس میں وہ ہمہش رہیں گے وہی ان کے لئے کافی ہے اور انپر اللہ کی لعنت رہے گی اور وہی ان کے لئے ہمیشہ قائم رہنے والا عذاب ہے۔

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

(یہ اسی طرح ہیں) جیسے ان سے پہلے والے تھے جو تم سے زیادہ طاقت و قوت والے اور مال اور اولاد میں بھی زیادہ تھے تو انہوں نے اپنے حصے کا فائدہ اٹھا لیا تم اپنے حصے کا فائدہ حاصل کرلو جس طرح تم سے پہلے والوں نیف ائدے اٹھائے اور تم (بری باتوں میں) وہیں گھس رہے ہو جہاں وہ گھسے تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں برباد ہو کر رہ گئے اور یہی وہ لوگ ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا انہیں ان قوموں کو خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے گذر چکی ہیں قوم نوح، قوم عاد و قوم ثمود، قوم ابراہیم، مدین والے اور وہ جن کی بستیاں الٹ دی گئی تھیں ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 70 یامرون (وہ حکم دیتے ہیں، سکھاتے ہیں) المنکر (بری بات) ینھون (وہ روکتے ہیں) المعروف (نیکیوں سے) نیکیاں یقضون (وہ روکتے ہیں) ایدیھم اپنے ہاتھوں کو نسو اللہ (انہوں نے اللہ کو بھلا دیا ) نسیھم (اس نے ان کو بھلا دیا) عذاب مقیم (ہمیشہ کا عذاب) اشد (زیادہ شدید) استمتعوا (انہوں نے فائدہ حاصل کیا) استمتعتم (تم نے فائدہ اٹھا لیا) خلاق (حصہ) خصتم (تم گھسے) کالذی (جیسا کہ وہ) الم یات (کیا نہیں آئی) نبا (خبر، اطلاع) الموتفکت (الٹی ہوئی بستیاں) تشریح : آیت نمبر 67 تا 70 منافقین کی تمام بری حرکات کا مسلسل ذکر کیا جا رہا ہے آیت نمبر 67 سے آیت نمبر 72 تک اس بات کو تفصیل سے مقابلہ کر کے بیان کیا گیا ہے کہ مومن اور منافق کی صحیح پہچان اور مقاصد کیا کیا ہیں سب سے پہلے ان آیات میں منافقین کی چند علامتیں بتائی گئی ہیں۔ 1) پہلی علامت تو یہ ہے کہ منافق مرد اور منافق عورتیں نفسیاتی اور ذہنی طور پر ایک ہی ہیں۔ 2) جہاں کہیں برائی ہوتی دیکھیں گے وہ دوڑ کر پہنچ جائیں گے اور اگر کہیں نیکی کا کام ہو رہا ہوگا تو اس میں رکاوٹ ڈالنے کی بھرپور کوششوں میں لگ جائیں گے۔ اپنی طرف سے کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیں گے۔ (3) تیسری علامت یہ ہے کہ وہ ہر نیک کام سے اپنے ہاتھوں کو باندھے رکھیں گے کہ ان کی جان چلی جائے لیکن ایک پیسہ بھی کسی نیک کام میں خرچ نہ ہونے پائے۔ کنجوسی ان کا مزاج ہوتا ہے۔ 4) چوتھی پہچان یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکامات کو بھلا بیٹھے ہیں فرمایا گیا کہ اگر وہ اپنی من مانی میں لگے ہوئے ہیں تو اللہ کی ذات بےنیاز ہے۔ اگر انہوں نے ہمیں بھلا دیا تو ہم بھی ان کو بھلا دیتے ہیں فرمایا کہ درحقیقت یہ نافرمان لوگ ہیں اور یہی ان کا مزاج بن کر رہ گیا ہے فرمایا کہ ان جیسے منافقین کیلئے اور کفار کے لئے اللہ نے جہنم کی آگ تیار کر رکھی ہے۔ جس میں نہ صرف یہ ہمیشہ رہیں گے بلکہ ان پر اللہ کی لعنت ہوگی اور عذاب ان کے سروں پر کھڑا رہے گا۔ فرمایا کہ یہ لوگ ان گذری ہوئی قوموں کی طرح ہیں جنہوں نے طاقت و قوت، مال اور اولاد کی کثرت کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر منافقت اور کفر و شرک میں انتہا کردی تھی لیکن انجام کیا ہوا ؟ انجام یہ ہوا کہ دنیا اور آخرت میں ان کے تمام اعمال برباد ہو کر رہ گئے اور سوائے نقصان کے اور کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ فرمایا کہ انہوں نے اپنے کرو شرک اور نفاق سے وقتی فائدے خوب اٹھائے تم بھی اٹھا رہے ہو۔ وہ کفر و شرک کی وادیوں میں بھٹکتے رہے تم بھی بھٹکتے رہو لیکن تمہیں ان کا انجام سامنے رکھنا چاہئے کہ آج وہ اپنے وقتی مفادات ، بلڈنگوں، مال و دولت اور اولاد کو اپنے ساتھ لے کر نہیں گئے بلکہ وہ سب اسی دنیا میں چھوڑ کر گئے ہیں۔ تم بھی سب کچھ اسی دنیا میں چھوڑ کر چلے جائو گے۔ قوم نوح ، قوم عاد، قوم ثمود، قوم ابراہیم، مدینے والے اور ان بستیوں والے جن کی بستیاں ان پر الٹ دی گئی تھیں ان کے پاس اللہ کے رسول کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے لیکن جب انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی تو وہی ان کی دولت اور اولادیں ان کے لئے عذاب کا سبب بن گئیں۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتا وہ تو اپنے بندوں پر انتہائی مہربان ہے لیکن انسان اپنی بدعملیوں میں مبتلا ہو کر اللہ کو بھول جاتا ہے اور اپنے آپ پر وہ خود ظلم اور زیادتی کرتا ہے اور اپنے لئے گڑھے کو کھود لیتا ہے۔