5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 5:97–100

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 5:97 in the Quran reader

اللہ نے کعبہ کو عزت کا گھر اور لوگوں کا مرکز بنایا ہے اور (اس کے ضمن میں) عزت کے مہینے، قربانی کے جانور اور (جن کے) گلے میں پٹے پڑے ہوں (قابل احترام ہیں) ۔ یہ سب اس لئے کہ تم جان لو اللہ کو تمام آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا علم ہے اور بیشک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ Open ayah 5:98 in the Quran reader

خوب جان لو کہ بیشک اللہ ایک طرف سخت سزا دینے والا ہے اور دوسری طرف بلاشبہ وہ مغفرت والا اور رحمت والا بھی ہے۔

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:99 in the Quran reader

رسول ﷺ کا کام پیغام الٰہی پہنچانا ہے۔ اور اللہ کو معلوم ہے جو کچھ تم کھلم کھلا کرتے ہو اور جو کچھ چھپا کر کرتے ہو۔

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 5:100 in the Quran reader

اے نبی ﷺ آپ ان کو بتا دیجئے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں ہو سکتے خواہ ناپاک کی کثرت تمہیں کتنی ہی بھلی کیوں نہ لگتی ہو۔ اس لئے اے عقل والو ! اللہ کا تقویٰ حاصل کرو تاکہ تم فلاح و کامیابی حاصل کرسکو۔

آیت نمبر 97 تا 100 لغات القرآن : قیما (قائم رہنے (کا سبب) ۔ القلائد (قلادۃ) ۔ پٹے (جو جانور کے گلے میں ڈالے جاتے ہیں) ۔ تبدون (تم ظاہر کرتے ہو) ۔ تکتمون (تم چھپاتے ہو) ۔ لایستوی (برابر نہیں ہیں) ۔ الخبیث (گندگی۔ برائی) ۔ الطیب (پاکیزگی۔ نیکی) ۔ اعجبک (تجھے بہتر لگے۔ اچھی لگے) ۔ کثرۃ الخبیت (گندگی کی کثرت) ۔ اولو الالباب (لب) عقل۔ سمجھ۔ عقلوں والے) ۔ تشریح : جب سے کعبہ بنا ہے انبیاء اسی کی طرف رخ کرکے نمازیں پڑھتے رہے ہیں اور ہر سال اس کا حج بھی کرتے رہے ہیں۔ دنیا میں کوئی دوسرا ایسا گھر نہ کبھی بنا اور نہ بنے گا۔ ابرہہ نے اس کے مدمقابل جب کلیس بنایا تو جس طرح وہ اپنی فوج کے ساتھ تباہ و برباد ہوا اسے سب نے دیکھا۔ اور اب کسی کی ہمت نہیں ہے کہ اس کے مدمقابل کوئی دوسرا مرکز حج یا قبلہ نماز بنا سکے۔ دنیا یا خود عرب کے حالات خواہ کیسے ہی برے کیوں نہ ہوں، کعبہ کی مرکزیت قائم ہے۔ حج کی بدولت سال میں چار مہینے امن کے مل جاتے ہیں۔ ذوالقعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب۔ ان امن کے مہینوں میں تمام عرب لڑائی بھڑائی اور لوٹ مار ختم کردیتے ہیں۔ تمام دنیا سے لوگ حج کو آتے۔ مکہ میں رہتے اور واپس چلے جاتے تھے۔ اس حج کی وجہ سے سفر ہوتا ہے۔ قربانی کے جانوروں کی تجارت ہوتی ہے۔ میزبان خانے قائم ہوتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے سے ملتے جلتے اور تعلقات قائم کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ اس طرح حج نہ صرف دینی بلکہ دنیاوی فوائد اپنے ساتھ لاتا ہے۔ اسی حج کی بدولت عرب کی قومی زندگی باقی رہ گئی ورنہ آپس کے کشت و خون نے عربوں کو آگ کے گڑھے کے کنارے لاکھڑا کردیا تھا۔ عالمی مرکزیت کی اہمیت کو اللہ جانتا تھا۔ لوگ نہیں جانتے تھے۔ اسی لئے کعبہ بنایا گیا۔ اسے بیت الحرام یعنی امن اور عزت کی جگہ مقرر فرمایا۔ حج کا سلسلہ قائم کیا اور حج کی بدولت حرمت کے مہینوں ، قربانی کے جانوروں ، بطور نشان دہی ان جانوروں کے گلے کے پٹوں کو شعائر اللہ قرار دیا اور تمام لوگوں کے دلوں میں ان شعائر اللہ کی عزت اور عظمت قائم کی تاکہ لوٹ مار، فساد اور حملہ سے محفوظ رہیں۔ اسی حج کی بدولت مکہ وہ شہر بنا جہاں لوگ دورو نزدیک سے آتے۔ قیام کرتے، تجارت کرتے، کھاتے پیتے اور ایک نئی فضا پاتے ہیں ، کیونکہ مکہ خود ایک وادی غیر ذی زرع تھا (جہاں کوئی کاشت نہ ہوتی ہو ایسی وادی) ۔ مکہ کو بستی بنانے والا، وہاں خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی مہیا کرنے والا ، وہاں کعبہ بنوا کر حج کا اور نماز کا ادارہ قائم کرنے والا، امن وامان اور عالمی مرکزیت بخشنے والا کوئی انسان نہ تھا بلکہ اللہ واحد کی ذات تھی جو عالم الغیب بھی ہے اور منتظم سمٰوت والارض بھی ہے اور جسے خوب خبر تھی کہ انسان ، خصوصاً مسلمان کی ضرورت کیا ہے اور حل کیا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ اے سننے والو ! دل کے کانوں سے سن لو کہ جو شخص نماز اور حج کو خراب کرے گا، اسے سخت سزا دی جائے گی۔ اور جو شخص نماز اور حج کو قائم کرے گا اور قائم کرنے میں ایک دوسرے کی مدد دے گا، اسے مغفرت اور رحمت نصیب ہوگی۔ فرمایا تمہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے، یعنی شریعت اور اس کے اوامرو نواہی کیا ہیں، اس کی تعلیمات اللہ کے رسول ﷺ دے رہے ہیں ۔ سنو اور بجالاؤ۔ رسول کا کام اس سے زیادہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام لوگوں تک پہنچا دے۔ اب ماننا نہ ماننا ان کا کام ہے۔ جب بات فرماں برداری اور نافرمانوں پر آگئی ہے تو نافرمانوں کے پاس مال و دولت حشمت و اقتدار کی کثرت دیکھ کر کوئی ادھر دوڑ نہ پڑے۔ نافرمانوں کو دنیا کی نعمتوں کی کثرت اللہ نے اپنی مصلحت سے دی ہے۔ پاک اور حلال کمائی ہوئی آمدنی خواہ قلیل ہو اس آمدنی سے ہزار درجہ بہتر ہے جو رشوت ، سود، ظلم، دھوکہ، بےایمانی، خیانت ، غضب ، چوری، ڈاکہ، اسمگلنگ وغیرہ سے حاصل کی گئی ہو۔ فرمایا گیا کہ ناپاک مال کی کثرت تمہیں حیرانی میں نہ ڈال دے۔ یہ محض چند دنوں کی رونق ہوتی ہے۔ فرمایا گیا کہ اگر تم عقل رکھتے ہو اور تمہیں آخرت کا یقین ہے تو نہ صرف مسلم بنو بلکہ متقی بنو اور حرام کی طرف بری نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھو۔ جو کچھ تم کھلم کھلا کرتے ہو اور جو کچھ تم دنیا کی نظر سے بچا کر کرتے ہو اسے اللہ دیکھ رہا ہے۔ اور اس سے اچھی طرح واقف ہے۔
Ayahs 5:101–102

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 5:101 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کے متعلق سوالات مت اٹھایا کرو کہ اگر وہ ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں گی۔ اگر تم ایسے وقت میں پوچھو گے جو نزول قرآن کا دور ہے تو (ممکن ہے) وہ باتیں تم پر کھول دی جائیں۔ اب تک جو کچھ تم نے کیا اللہ نے معاف کیا۔ اور اللہ معافی دینے والا اور برداشت کرنے والا ہے۔

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ Open ayah 5:102 in the Quran reader

تم سے پہلے ایک جماعت تھی جو کھوک کرید کرتی رہی ہے۔ پھر وہ لوگ ان ہی حرکتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہو کر رہ گئے

آیت نمبر 101 تا 102 لغات القرآن : لاتسئلوا (تم نہ پوچھو) ۔ اشیآء (شیئ) ۔ چیزیں) ۔ تبدلکم (تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں) ۔ تسؤکم (تمہیں بری لگیں) ۔ حین (وقت۔ زمانہ) ۔ حلیم (برداشت کرنے والا) ۔ سال (پوچھا) ۔ اصبحوا (وہ ہوگئے) ۔ تشریح : بےکار اور اوٹ پٹانگ سوالات پوچھنے کا شوق ان دنوں بھی تھا اور آج بھی ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ عاقلانہ سوالات عاقلانہ جوابات سے بہتر ہیں۔ بےکار سوالات جہالت اور حماقت کا ثبوت ہیں مگر پوچھنے والا اپنی علمیت اور عقلیت جمانا چاہتا ہے۔ یا پھر ایمان نہ لانے کا بہانہ ہے۔ یہ خلل اندازی ہے۔ یہ الجھنا بھی ہے اور الجھانا بھی۔ یہ محفل کو بدمزہ کرنا ہے اور سب کا وقت ضائع کرنا ہے۔ نبی کریم ﷺ فضول اور لایعنی سوالات کو ناپسند کرتے تھے ۔ آپ کی ایک حدیث ہے ” اللہ نے کچھ فرائض تم پر عائد کئے ہیں، انہیں ضائع نہ کرو۔ کچھ چیزوں کو حرام کردیا ہے۔ ان کے پاس نہ پھٹکو۔ کچھ حدود مقرر کی ہیں، انہیں نہ توڑو اور کچھ چیزوں کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے کیونکہ وہ کسی چیز کو بھولتا نہیں ہے۔ ان کی کھوج کرید نہ کرو “ ۔ ان آیات میں کہا گیا ہے کہ یہ نزول قرآن کا دور ہے۔ اگر تم کوئی بےتکا سوال پوچھو گے تو ممکن ہے اس کا جواب بذریعہ وحی آجائے اور وحی تمہاری ذمہ داریوں میں اضافہ کر دے ۔ اب تک تمہارے فضول سوالات کا نوٹس اللہ نے نہیں لیا ہے۔ آئندہ شاید لے لے۔ اب تک وہ تمہیں معاف کرتا رہا ہے اور اپنے غصہ کو روکتا رہا ہے۔ وحی قرآنیہ کا دور ختم ہونے کے بعد اگر تم سوالات پوچھو گے تو جوابات نہ اللہ کی طرف سے آئیں گے نہ نبی ﷺ کی طرف سے۔ اب یہ کون سا گروہ تھا جو لایعنی سوالات اٹھایا کرتا تھا اور اس کی بدولت کافر کا کافر رہ گیا۔ قرینہ ہے کہ اشارہ بنی اسرائیل کی طرف ہے۔
Ayahs 5:103–105

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئِبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:103 in the Quran reader

اللہ نے نہ تو کوئی بحیرہ نہ کوئی سائبہ نہ کوئی وصیلہ نہ کوئی حام مقرر کیا ہے۔ لیکن جو لوگ کافر ہیں وہ اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں۔ اور ان میں کتنے سارے ایسے ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 5:104 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کتاب کی طرف آؤ وہی طریقہ جو اللہ نے نازل کی ہے اور رسول ﷺ کی طرف آؤ تو یہی جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لئے وہی طریقہ بہتر ہے جس پر ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو پایا ہے۔ (بھلا سوچو ! ) اگر ان کے باپ دادا نہ کسی بات کا علم رکھتے ہوں اور نہ راہ ہدایت پر ہوں (پھر بھی وہ ان کے پیچھے چلیں گے)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:105 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اپنی فکر کرو۔ اگر تم صحیح راستے پر ہو تو خواہ کوئی اندھیرے میں بھٹک رہا ہو، تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ تم سب کو لوٹ کر اللہ ہی کے پاس حاضر ہونا ہے۔ پھر جو کچھ تم کرتے ہو اس سے تمہیں آگاہ کر دے گا۔

آیت نمبر 103 تا 105 لغات القرآن : بحیرۃ (وہ اونٹنی جس کے دودھ کو چھوڑ دیا جاتا اور استعمال نہ کیا جاتا ہو) ۔ سآئبۃ (سانڈ) ۔ وہ اونٹ جو چرنے کھانے کیلئے آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے) ۔ وصیلۃ (وہ اونٹنی جس نے مسلسل مادہ بچے پیدا کئے اور کوئی نر پیدا نہ کیا ہو) ۔ حام (سانڈ۔ جس نے دس بچے جنوائے ہوں) ۔ یفترون (وہ گھڑتے ہیں) ۔ الکذب (جھوٹ) ۔ لایعقلون (وہ عقل نہیں رکھتے ہیں) ۔ تعالوا (آؤ) ۔ حسبنا (ہمیں کافی ہے) ۔ وجدنا (ہم نے پایا) ۔ اباءنا (اپنے باپ دادا) ۔ لایھتدون (وہ ہدایت نہیں رکھتے ہیں) ۔ علیکم (تمہارے اوپر) ۔ انفسکم (تمہارے اپنے نفس۔ تمہاری جانیں) ۔ لایضر (نقصان نہ دے گا) ۔ ضل (بھٹک گیا۔ راستہ بھول گیا) ۔ اھتدیتم (تم نے ہدایت پالی) ۔ تشریح : چند آیات پہلے کعبہ اور حج کے سلسلہ میں شعائر اللہ کا ذکر آیا ہے ۔ اب اس کے بالمقابل یعنی شعائر کفر کا ذکر آ رہا ہے۔ بحیرہ اور سائبہ اور وصیلہ اور حام وغیرہ ان اونٹ اور اونٹوں کو کہتے ہیں جنہیں کفر و شرک و جاہلیت نے اپنے شعائر بنا کر اور تقدس کا رنگ دے کر آزاد چھوڑ دیا تھا۔ جن کے دودھ گوشت کھال یا سواری سے فائدہ اٹھانا ممنوع تھا۔ اور لطف یہ کہ ان شعائر کفر کو شعائر اللہ سمجھا اور سمجھایا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آیت 103 میں اسی غلط فہمی کو دور کیا ہے اور بتایا ہے کہ اسلام کو ان چیزوں سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ حلال و حرام لوگوں نے خود بنائے ہیں۔ یہ اللہ پر ان لوگوں کی طرف سے جھوٹی تہمت ہے۔ جن میں کثیر تعداد سوچ سمجھ سے محروم ہے۔ یہ آیت ان خواص پر جو شریعت اسلامیہ سے ہٹ کر اپنی طرف سے حلال و حرام مقرر کرلیتے ہیں سخت گرفت ہے اور ان عقل کے اندھے عوام پر جو ان کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔ مزید وضاحت آیت 104 میں آرہی ہے۔ آیت 104 میں باپ دادوں کی اندھی تقلید سے روکا گیا ہے۔ یہ جو کہا گیا ہے ” بھلا اگر ان کے باپ دادا نہ کسی بات کا علم رکھتے ہوں اور نہ وہ ہدایت پر ہوں “ ۔ تو یہاں پر اللہ نے اندھی تقلید پر قد غن لگا دی ہے خواہ وہ باپ دادا کے نام پر ہو یا پیرو مرشد کے نام پر، یا حاکم وقت کے نام پر یہ ساری اندھی تقلیدیں حرام ہیں۔ حلال تقلید کیلئے دو اور صرف دو شرطیں ہیں۔ خوب تحقیق کرلی جائے کہ جس کی تقلید منظور ہے وہ اپنے علم و ہنر یا فن کا استاد ہے بھی یا نہیں۔ اور دوسرے وہ راہ ہدایت پر ہے یا نہیں۔ اگر وہ استاد بھی ہے اور راہ ہدایت پر بھی ہے تو اسی خاص علم یا ہنر یا فن میں اسے قابل تقلید مانا جائے گا۔ اس طرح استاد اور شاگرد ، امام اور پیروکار کو اپنا اپنا مقام حاصل ہے۔ دروازہ تقلید بند نہیں مگر داخلہ پر کڑی پابندی ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ چھان بین کرنا کہ کون کہاں تک صحیح یا غلط ہے ہر کس و ناکس کا کام نہیں ۔ جو خود علم یا عقل نہیں رکھتا وہ دوسرے کے علم و عقل کو کیسے جانچے گا۔ ممکن ہے وہ غلط آدمی کے پیچھے لگ جائے اور اپنا سب کچھ لگا بیٹھے اس میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ جب دو علما یا فقہا اختلاف رائے رکھتے ہوں تو کس کی بات مانی جائے۔ جواب یہ ہے کہ اگر وہ دونوں واقعی صاحب علم یا صاحب فقہ ہیں اور دونوں ہی راہ راست پر نظر آتے ہیں تو جس پر دل جمے اس کا انتخاب کرکے اس کی تقلید کی جائے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ آج ایک کی تقلید کرلی کل دوسرے کی۔ یا ایک فقہ کا مسئلہ پسند کرلیا کل دوسرا کرلیا۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے جاہل اور ناواقف لوگ خود ہی امام بن بیٹھتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں مثلاً ہم امام ابوحنیفہ (رح) کے مقلد ہیں۔ ہمیں ان ہی کے فقہ کی تقلید کرنی چاہئے ادھر ادھر جائیں گے تو سوائے ذہنی الجھن اور پریشانی کے کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔ بہت سے اختلاف رائے خالص ایمان پر مبنی ہیں اور آپس میں زحمت نہیں رحمت ہیں۔ اگر اختلاف رائے کا دروازہ بند کردیا جائے گا تو انسانی دماغ کی ترقی رک جائے گی۔ اس لئے بزرگان دین اپنا اپنا مکتب فکر الگ رکھتے تھے لیکن اختلاف نظر کو برا سمجھتے تھے۔ یہ آیت حق اجتہاد پر صاد ہے۔ لیکن ہر شخص ضروری علم اور راہ ہدایت کی روشنی نہیں رکھتا۔ حق تعالیٰ نے اندھے مقلدوں پر تنقید کرتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ تمہارے باب دادا جاہل تھے اور گمراہ تھے۔ اس طرح کہنے سے دل شکنی ہوتی اور ماننے والا بھی اکھڑ جاتا۔ تبلیغ کا طریقہ سلیقہ سے کہنے میں ہے۔ چناچہ فرمایا ” اور فرض کو لو تمہارے باپ دادا علم نہ رکھتے ہوں اور راہ ہدایت پر نہ ہوں “ ۔ تو کیا پھر بھی تم ان بےعلم و بےہدایت لوگوں کے پیچھے چلو گے ؟ جو مانتا ہے وہ مانے اور جو نہیں مانتا تو اسے سمجھاتے رہو۔ ہمت نہ ہارو۔ تم اپنا کام کرو۔ نتیجہ اللہ پر چھوڑ دو ۔ سب کو مر کر وہیں جانا ہے ۔ وہیں حساب و کتاب ہوگا۔ اس آیت کے ظاہری الفاظ سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ہر شخص اپنی اپنی فکر کرے۔ دوسرے کچھ بھی کرتے رہیں۔ کرنے دے۔ قرآن کریم کی بار بار تصریحات ہیں کہ اہل اسلام کا اہم فریضہ امر بالمعروف اور نہی عند المنکر ہے۔ اچھی بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا۔ یعنی تبلیغ، تنظیم اور جہاد۔ ان آیات کے نازل ہونے پر کچھ لوگوں کو شبہات پیش آئے۔ رسول کریم ﷺ نے فوراً وضاحت فرمائی۔ فرمایا کہ یہ آیت احکام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے خلاف نہیں۔ اگر تم اس اہم فریضہ کو چھوڑ دو گے تو مجرموں کے ساتھ تم بھی ماخوذ ہو گے۔ حضرت صدیق اکبر ؓ نے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جو لوگ کوئی گناہ ہوتا ہوا دیکھیں اور (ہمت کے مطابق) اس کو روکنے کی کوشش نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کے ساتھ ان لوگوں کو بھی عذاب میں پکڑ لے۔ اس آیت سے یہی مراد ہے کہ ہر مسلمان تبلیغ کا فریضہ انجام دے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔
Ayahs 5:106–108

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ Open ayah 5:106 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم میں سے کسی کے سامنے موت آجائے اور وہ وصیت کر رہا ہو (تو اس وصیت پر دو گواہ کرنا مناسب ہے) یہ دو گواہ صاحب عدل و انصاف ہوں اور تمہاری جماعت میں سے ہوں۔ (یعنی مسلم ہوں) یا اگر تم سفر کر رہے ہو اس وقت موت کی مصیبت پیش آجائے تو پھر غیر مسلموں ہی میں سے دو گواہ لے لئے جائیں۔ پھر اگر (تمہاری موت کے بعد) لوگوں کو شک پڑجائے (کہ گواہوں نے وصیت میں کوئی ردوبدل کیا ہے) تو نماز کے بعد دونوں گواہوں کو روک لیا جائے اور وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم ذاتی فائدہ کیلئے شہادت بیچنے والے نہیں خواۃ متاثر ہونے والا ہمارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ (اور ہم اللہ کو حاضر سمجھتے ہوئے کہتے ہیں اگر ہم نے کوئی ترمیم یا اضافہ یا تنسیخ کی ) تو ہم گناہ گاروں میں شامل ہوں گے

فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:107 in the Quran reader

لیکن اگر معلوم ہوجائے کہ ان دونوں نے اپنے آپ کو گناہ میں مبتلا کیا ہے تو پھر ان کے بدلے دوسرے دو اشخاص مقرر کئے جائیں جو پہلے دونوں کے مقابلے میں گواہی دینے کیلئے زیادہ قابل اعتماد ہوں اور ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں حق تلفی کی شکایت ہے۔ یہ دونوں اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہماری گواہی پہلے گواہوں کی گواہی سے زیادہ درست ہے۔ اور ہم نے اپنی گواہی میں کوئی گڑ بڑ نہیں کی ہے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم ظالموں میں شامل ہوں گے۔

ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:108 in the Quran reader

اس طریقہ سے زیادہ امید ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک گواہی دیں گے ورنہ وہ ضرور ڈریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی ترید نہ ہوجائے۔ اللہ سے ڈرو اور اس کی سنو۔ بیشک اللہ نافرمانوں کو ہدایت کی توفیق نہیں دیا کرتا۔

آیت نمبر 106 تا 108 لغات القرآن : شھادۃ (گواہی) ۔ حضر (آیا۔ حاضر ہوا) ۔ الوصیۃ (وصیت کرنا) ۔ اثنین (دو ) ۔ ذوا عدل (دو انصاف والے) ۔ اخران (دوسرے دو ) ۔ من غیرکم (تمہارے سوا اوروں میں سے) ۔ ضربتم (تم چلے۔ تم نے سفر کیا) اصابت (پہنچ گئی) ۔ مصیبۃ (مصیبت) ۔ تحسبون (تم روک لو) ۔ یقسمن (وہ دونوں قسم کھائیں) ۔ ارتبتم (تمہیں شبہ ہوا) ۔ لانشتری (ہم نہیں خریدتے۔ نہیں لیتے) ۔ ثمن (قیمت۔ مال) ۔ ذاقربی (رشتہ دار) ۔ الاثمین (الاثم) ۔ گناہ گار عثر (مطلع ہوا۔ واقف ہوا) ۔ استحقا (حق دبا لیا) ۔ یقومن (دو کھڑے ہوں) ۔ مقام (جگہ) ۔ استحق (جس نے حق دبایا) ۔ الاولیین (قریبی رشتہ دار ہوں) ۔ احق (زیادہ حق دار ہے) ۔ ما اعتدینا (ہم نے زیادتی نہیں کی) ۔ ادنی (قریب ہے) ۔ ان یا توا (یہ کہ تم لے آؤ۔ (یہ کہ تم آؤ) ۔ ترد (رد کردی جائے گی) ۔ اسمعوا (تم سنو) ۔ تشریح : یہ آیات وصیت کے سلسلہ میں نازل کی گئی ہیں۔ غیر منقولہ جائداد ایک ٹھوس چیز ہے۔ وہاں میت سے وارثوں تک مال صحیح پہنچنے میں درمیانی لوگوں کی طرف سے خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ لیکن اشیائے منقولہ میں اس کا خطرہ زیادہ ہے خصوصاً جب کہ وصیت کرنے والا پردیس میں ہو۔ چونکہ ہر مرنے والے کے حالات یکساں نہیں ہوتے ممکن ہے کسی کو وصیت کا موقع نہ ملے۔ اس لئے ان آیات میں لازمی حکم نہیں دیا گیا بلکہ صرف بہترین تدبیر بتائی گئی ہے۔ مرنے والے کو اگر موقع ملے تو باضابطہ وصیت کرکے مرے۔ اس وصیت پر دو گواہیاں کے لے۔ دو مسلمان ہوں ورنہ ایک مسلم ایک کافر کی۔ اور یہ بھی نہ ہوسکے تو کفار کی گواہی لے لی جائے۔ چونکہ یہ خطرہ ہے کہ ان گواہوں کا اپنایا اپنے کسی دوست یا رشتہ دار کا مفاد اس وصیت سے وابستہ ہو اور مرنے والے کی موت کے بعد اس وصیت میں ترمیم کردیں۔ اس لئے جس وارث کو (ی اور ثا کو) حق تلفی کی شکایت پیدا ہوجائے۔ وہ مقدمہ قاضی کے پاس لائے۔ اگر کوئی ثبوت نہ ہو اور معاملہ کا فیصلہ سراسر شہادت پر ہو تو قاضی ان گواہوں سے ان جملوں کے ساتھ حلف لے سکتا ہے کہ اللہ کی قسم ہم اس قسم کے بدلے میں کوئی نفع نہیں لینا چاہتے اگرچہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں اور ہم گواہی کو ہرگز نہ چھپائیں گے اور اگر ہم ایسا کریں گے تو سخت گناہ گار ہوں گے۔ لیکن اگر کسی ثبوت سے پتہ لگ جائے کہ گواہوں نے جھوٹا حلف اٹھایا ہے تو انہیں برخاست کرکے ایسے دو آدمی مقرر کئے جائیں جو ان کے مقابلہ میں گواہی دینے کے زیادہ اہل ہوں ان لوگوں میں سے ہوں جن کی حق تلفی ہوئی ہو پھر ان سے حلف لیا جائے۔ بہتر تو یہ ہے کہ اگر یہ نئے گواہ حلف اٹھالیں تو قاضی ان کی بنیاد پر مقدمہ کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ یہ جو کہا ہے کہ ” نماز کے بعد دو گواہوں کو روک لو “ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ مسلمان ہوں گے تو نماز کے بعد اور وہ بھی مسجد میں اور وہ بھی اتنے لوگوں کے سامنے کیا جھوٹ بولیں گے اور بظاہر چھوٹا حلف اٹھانا ممکن نہیں ہے۔ اشارہ عصر کی نماز کے بعد کا ہے۔ اس وقت کی تعظیم اہل کتاب بھی کرتے تھے۔ یہاں حلف کی اہمیت ہے۔ جو گواہ یا جو فریق حلف نہ اٹھائے مقدمہ اس کے خلاف جاسکتا ہے۔ لیکن جو غیر ورثا ہیں یا غیر وصی ہیں حلف کی شرط ان پر نہیں۔ آیت 106 میں جو ” تحبسونھما “ آیا ہے تو چند فقہا کے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ گواہ یا گواہوں کو بھاگنے کا موقع نہ دیا جائے ضرورت پڑے تو پکڑ کر رکھا جائے یا پکڑوا کر بلایا جائے۔ یہ آیات ایک خاص مقدمہ کے سلسلہ میں نازل ہوئی تھیں۔ یہ مقدمہ حضور نبی کریم ﷺ کی عدالت میں پیش ہوا تھا۔
Ayahs 5:109–110

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:109 in the Quran reader

وہ دن جب اللہ سارے پیغمبروں کو جمع کرکے پوچھے گا (تم نے جو اسلام کی دعوت دی تھی) تو کیا جواب ملا ؟ وہ کہیں گے ہمیں کوئی علم نہیں۔ بیشک آپ ہی تمام پوشیدہ باتوں کے جاننے والے ہیں۔

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 5:110 in the Quran reader

اس دن جب کہ اللہ کہے گا اے مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) ! میرے اس احسان کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری ماں پر کیا ہے۔ جب میں نے روح القدس سے تمہاری مدد کی۔ اور تم لوگوں سے گود میں اور بڑی عمر میں بھی کلام کرتے تھے۔ وہ وقت یاد کرو جب میں نے تمہیں کتاب کا علم بخشا تھا اور حکمت کا بھی۔ توریت کا اور انجیل کا بھی۔ وہ وقت یاد کرو جب تم میرے حکم سے گارے سے پرندے کی صورت بناتے تھے ۔ پھر جب اس میں پھونک مارتے تو وہ میرے حکم سے سچ مچ کا پرندہ بن جاتا تھا۔ اور تم پیدائشی اندھے کو اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کردیا کرتے تھے۔ وہ وقت یاد کرو جب میرے حکم سے تم مردوں کو زندہ کردیا کرتے تھے ۔ اور وہ وقت یاد کرو جب میں نے بنی اسرئیل کے ہاتھ تم پر ظلم کرنے سے روک دئیے تھے جب تم دلائل نبوت لے کر ان کے پاس گئے اور جو لوگ ان میں سے کافر تھے وہ کہنے لگے بلاشبہ یہ سب تو کھلم کھلا جادو گری کے سوا کچھ نہیں۔

آیت نمبر 109 تا 110 لغات القرآن : یجمع (وہ جمع کرے گا) ۔ ماذا (کیا ؟ ) ۔ اجبتم (تمہیں جواب دیا گیا) ۔ لاعلم لنا (ہمیں معلوم نہیں ہے) ۔ علام الغیوب (غیب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا) ۔ والدۃ (ماں) ۔ ایدت (میں نے مدد کی۔ تائید کی) ۔ روح القدس (پاک روح) ۔ جبرئیل امین (علیہ السلام) ) ۔ تکلم (کلام کرے گا) ۔ المھد (گود۔ پالنا) ۔ کھلا (سمجھ داری کی عمر۔ ادھیڑ عمر) ۔ علمت (میں نے سکھایا) ۔ الحکمۃ (حکمت اور عقل و سمجھ کی باتیں) ۔ تخلق (تو بناتا ہے) ۔ الطین (مٹی) ۔ کھیئۃ (جیسے شکل) ۔ الطیر (پرندہ) ۔ اذنی (میری اجازت) ۔ تنفخ (تو پھونک مارتا ہے) ۔ تبری (تو اچھا کرتا ہے) ۔ الاکمہ (پیدائشی اندھا) الابرص (کوڑہ کا مریض) ۔ تخرج (تو نکالتا ہے) ۔ الموتی (مردے) ۔ کففت (میں نے روک دیا) ۔ سحر مبین (کھلا جادو) ۔ تشریح : یہاں سے ختم سورت تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہے اور آپ کے اس کلام کا جو اللہ تعالیٰ کے سوالات کے جواب میں آپ قیامت کے دن ارشاد فرمائیں گے۔ نصاریٰ کو بتانا ہے کہ قیامت ہو کر رہے گی۔ وہاں عام انسان تو کیا تمام انبیاء موجود ہوں گے۔ ان سے ان کی امتوں کے بارے میں سوال جواب ہوگا۔ وہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پوزیشن نہ تو اللہ کے بیٹے کی ہوگی نہ تین معبودوں میں سے ایک کی ہوگی جو آگے بڑھ کر اپنے ماننے والوں کو بچالیں گے۔ ان کی پوزیشن ایک نبی کی ہوگی اور وہ اپنی امت کے اعمال کے متعلق جو کچھ فرمائیں گے وہ ہر طرح سچ ہوگا۔ مندرجہ بالا آیات میں پہلے تو یہ بات کہی گئی ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام انبیاء سے سوال فرمائیں گے۔ کہ تم نے جو میرا پیغام اپنی اپنی امت کو پہنچایا تھا تو اس کا تمہیں کیا جواب ملا۔ کیا تمہاری باتیں مانی گئیں اور کتنے لوگوں نے مانا۔ کتنے لوگوں نے نہ مانا۔ کتنے لوگوں نے تمہارے ساتھ حسن سلوک کیا اور کتنے لوگوں نے ظلم و زیادتی کی اور ان میں کتنے منافقین تھے۔ اس کا جواب وہ یہی دیں گے کہ ہم تو تبلیغ اسلام میں دن رات مصروف تھے۔ آپ کا پیغام ان تک پہنچاتے تھے ان کا ظاہری جواب تو ہمیں معلوم ہے جو یہ ہے لیکن ان کے دل میں جو کچھ تھا اسکا ہمیں کوئی علم نہیں ہے۔ اے اللہ آپ ہی عالم الغیب بلکہ علام الغیوب ہیں۔ آپ ہی سب کچھ جاننے والے ہیں۔ اس لئے ان کے دلوں کا راز اور ان کے حقیقی جواب سے آپ ہی واقف ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ فرداً فرداً پیغمبروں سے کلام فرمائیں گے۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی باری آئے گی تو اللہ تعالیٰ اپنے ان خصوصی انعامات کا ذکر کریں گے جو انہیں بخشے گئے تھے۔ ان میں سے بعض خصوصیات عام طور پر کسی دوسرے نبی کو نہیں بخشی گئیں۔ ان میں سے چند خصوصیات حسب ذیل ہیں : (1) بغیر باپ کے پیدائش۔ حضرت مریم پر انعامات (2) روح پاک (حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ) سے مدد۔ یہ مدد مختلف شکلوں میں تھی۔ (3) گہوارے میں بھی فصاحت اور بلاغت سے کلام کرنا۔ (4) عمر کے پہلے حصہ سے اخیر تک اسی فصاحت و بلاغت سے کلام کرنا۔ (5) عمر کے دوسرے حصہ میں (جب کہ وہ قیامت کے قریب تشریف لائیں گے) اس وقت بھی اسی طرح کلام کرنا۔ (6) پیغمبری (آپ بنی اسرائیل کے آخری نبی اور رسول ہیں) ۔ (7) معجزات۔ (8) بنی اسرائیل کے ظلم سے حفاظت (جس میں صلیب کا واقعہ بھی شامل ہے) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے احسانات بیان کرنے کا سلسلہ آیت ۔ ۔۔ 115 تک جاری ہے۔
Ayahs 5:111–115

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 5:111 in the Quran reader

اور جب میں نے حواریوں کے دل میں القا کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول (حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم ) پر ایمان لاؤ تو انہوں نے اقرار کیا کہ ہم ایمان لائے اور انہوں نے کہا گواہ رہو کہ ہم لوگ حلقہ اسلام میں داخل ہیں

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم ! کیا آپ کا رب ہم لوگوں پر آسمان سے کھانے کا دسترخوان اتار سکتا ہے ؟ انہوں نے کہا اگر تم ایمان رکھتے ہو

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

تو اللہ سے ڈرو۔ حواریین کہنے لگے ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس کو کھا کر دیکھیں تاکہ ہمارے دل کو یقین آجائے اور ہم جان لیں کہ آپ نے جو کچھ فرمایا ہے سچ فرمایا ہے۔ اور ہم اس کی صداقت کے گواہ بن جائیں۔

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 5:114 in the Quran reader

اس پر عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم نے دعا کہ اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان بھیج دیجئے جو ہم میں سے اول ہیں اور بعد میں آنے والے ہیں ان کے لئے خوشی کا باعث بنے اور آپ کی طرف سے نشانی قرار پائے۔ اور آپ ہمیں رزق (سامان حیات) بخش دیجئے۔ بیشک آپ کی رزاقی سب سے اعلیٰ ہے۔

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 5:115 in the Quran reader

اللہ نے جواب میں کہا میں یہ چیز (کھانوں سے بھرا دستر خوان) تم لوگوں کو بھیج رہا ہوں۔ لیکن اس کے بعد جس نے تم میں سے کفر کیا تو میں اس کو ایسا عذاب دوں گا کہ ویسا عذاب دنیا میں کسی کو نہ دیا ہوگا۔

آیت نمبر 111 تا 115 لغات القرآن : اوحیت (میں نے وحی کی) ۔ الحواریین (الحواری) ۔ مددگار۔ دوست۔ صحابی) ۔ امنوابی (مجھ پر ایمان لاؤ) ۔ اشھد (تو گواہ رہنا) ۔ مسلمون (مسلم) ۔ فرماں بردار) ۔ ھل یستطیع (کیا طاقت ہے ؟ ) ۔ مآئدۃ (دستر خوان (جس میں ہر طرح کے کھانے ہوں) ۔ ناکل (ہم کھائیں گے) ۔ تطمئن (اطمینان ہوجائے گا) ۔ صدقت (تو نے سچ کہا) نکون (ہم ہوجائیں گے) ۔ الشھدین (گواہی دینے والے) ۔ اللھم (اے میرے اللہ) ۔ انزل (اتاردے۔ نازل کر دے) ۔ عید (خوشی کا دن) ۔ ارزقنا (روزی دے دے) ۔ خیر الرازقین (بہترین رزق دینے والا) ۔ انی منزل (میں اتارنے والا ہوں) ۔ من یکفر (جو ناشکری کرے گا) ۔ اعذب (میں عذاب دوں گا۔ سزا دوں گا) ۔ احد (کوئی ایک) ۔ تشریح : صرف وعظ و نصیحت اور تبلیغ سے ایمان پیدا نہیں ہوتا جب تک اس کے لئے مسلسل عملی جدوجہد نہ کی جائے جس طرح دوا اس بات کی گارنٹی نہیں ہے کہ شفا ضرور ہوگی۔ مگر تدبیر اور اعلیٰ سے اعلیٰ تدبیر فرض ہے۔ کسی کے دل میں ایمان اتارنے کیلئے کیا کیا تدبیریں اختیار کی جائیں، کس کے دل میں ایمان اترے گا اور کون پھر بھی بد نصیب رہے گا وغیرہ وغیرہ۔ ان سارے سوالات کا جواب یہ ہے۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے۔ تبلیغ ، محنت، جدوجہد کسی کی بھی ہو، بےکار نہ جائے گی۔ جب تک اللہ ہی کسی کے دل میں القانہ کر دے۔ جب اللہ ہی نے توفیق دی تب ہی حواریین ایمان لائے۔ ایمان صرف خفیہ احساس یا جذبے کا نام نہیں ہے جس طرح نکاح کا اعلان عام ہے اسی طرح ایمان کا بھی اعلان عام ہے۔ اور وہ اعلان ہے کلمہ شہادت یعنی ڈنکے کی چوٹ، پکار اور للکار کہ ہم اللہ کے سوا کسی اور کو معبود نہیں مانتے اور ہم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی اور کی نبوت اور شریعت کو نہیں مانتے۔ جس طرح حواریین نے کہا۔ اے اللہ گواہ رہ کہ ہم حلقہ اسلام میں داخل ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ ایمان کیا ہے ؟ زبان سے اقرار اور قلب کی تصدیق۔ جب ایک بار تصدیق ہوگئی تو بات ختم ہوئی۔ اب تصدیق دو تصدیق بےمعنی ہے۔ تصدیق کا سلسلہ ایمان کے منافی ہے۔ اللہ اور رسول سے خصوصی فرمائشیں اور خصوصی دلائل مانگنا نہ صرف انتہائی بدتمیزی ہے بلکہ کفر کے قریب ہے۔ اللہ کا جلال حرکت میں آسکتا ہے۔ یہاں پر بتایا جا رہا ہے کہ اے بنی اسرائیل تم نے وہ جرات کی تھی کہ کفر قریب تھا اور میرا غیض و غضب حرکت میں آسکتا تھا ۔ لیکن میں نے اپنے غصہ کو روکا، تم پر خاص رحمت کی، تمہاری درخواست قبول کی مگر اس تہدید کے ساتھ کہ اس آخری تصدیق کے بعد بھی اگر تم میں سے کوئی کافر رہا تو میں ایک مثالی سزا دے کر رہوں گا۔ یہاں پر یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اے عیسیٰ (علیہ السلام) ! میرے احسانات عظیم کی فہرست میں یہ بھی یاد رکھو کہ میں نے تمہاری دعا قبول کی اگرچہ مومن تو مومن پیغمبر تک کو ایسا سوال نہیں کرنا چاہئے۔ آپ کو اپنی امت سے صاف کہہ دینا چاہئے تھا کہ معجزہ وہی ہے جو نبی اللہ کے حکم سے دکھائے نہ کہ کسی کی فرمائش پر دکھائے۔ اور کسی مومن کو اللہ اور رسول سے خرق فطرت کی فرمائش نہیں کرنی چاہئے۔ اللہ کی طرف سے رزق عطا کرنے کے دروازے بیشمار کھلے ہوئے ہیں۔ کیا وہ کافی بلکہ وافی نہیں ہیں کہ الگ سے اس قسم کا مطالبہ ہو۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا میں لفظ ' عید ' آیا ہے یعنی ملی جشن کا دن۔ چونکہ یہ لفظ خوان اور رزق کے سلسلے میں اور اللہ تعالیٰ کی رزاقی کا واسطہ دے کر آیا ہے۔ اسلئے عید کے دن خوشی منانا، کھانا پینا اور کھلانا پلانا عبادت تھا۔ ممکن ہے عید کے سالانہ دن کی ابتدا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں پڑگئی ہو جسے ہمارے رسول کریم ﷺ نے خاص تاریخ دے دی، اسے امیروں غریبوں کی عید الفطر اور عید الاضحیٰ بنایا اور کھلانا پلانا خصوصی انداز قرار پایا۔ حاجیوں کے لئے بھی اور غیر حاجیوں کیلئے بھی۔ چونکہ حضرت عیسیٰ کی دعا میں یہ بھی ہے ” یہ خوان آپ کی طرف سے ایک نشانی ہوجائے۔ اسلئے امت مسلمہ کیلئے عیدین شعائر اللہ ہیں اور خواہ میٹھی سوئیاں خواہ قربانی کا گوشت ، کیا یہ اللہ کی طرف سے تمام امت مسلمہ کیلئے خصوصی خواب نعمت نہیں ہیں۔ اور کہا اس جشن عیدین میں تمام چھوٹے بڑے، مردوزن، پچھلی اور اگلی نسلیں شامل ہیں کیا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا تمام مومنوں کیلئے اس عجیب طریقے سے منظور نہیں ہوئی۔
Ayahs 5:116–118

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:116 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ سوال فرمائیں گے) اے عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم ۔ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری والدہ کو اپنا معبود بنا لو (تو عیسیٰ (علیہ السلام) کہیں گے) اے اللہ آپ کی ذات پاک ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہو سکتا تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق حاصل نہ تھا اور اگر میں نے ایسی بات کہی ہوگی تو یقیناً آپ کو علم ہوگا۔ جو کچھ میرے دل میں ہے ۔ آپ تمام پوشیدہ حقیقتوں کا ابدی علم رکھتے ہیں ۔

مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 5:117 in the Quran reader

میں نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا جو آپ نے مجھے کہنے کا حکم دیا تھا۔ میں نے یہی کہا اے لوگو ! اللہ بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ جب تک میں ان کے درمیان رہا میں ان سے باخبر رہا جب آپ نے مجھے اٹھا لیا تو پھر آپ ہی ان کے نگراں رہے۔

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ١ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 5:118 in the Quran reader

اور آپ ہر چیز سے پوری طرح باخبر ہیں۔ اب اگر انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں۔ اور اگر آپ انہیں معاف کردیں تو یقیناً آپ قدرت بھی رکھتے ہیں اور حکمت بھی۔

آیت نمبر 116 تا 118 لغات القرآن : ءانت (کیا تو نے) ۔ قلت (تو نے کہا تھا) ۔ اتخذونی (مجھے بنا لو) ۔ امی (میری ماں) ۔ الھین (دونوں معبود ) ۔ سبحنک (تیری ذات پاک ہے۔ بےعیب ہے) ۔ مایکون (نہیں ہے) ۔ لیس (نہیں ہے) ۔ لا اعلم (میں نہیں جانتا) ۔ امرتنی (تو نے مجھے حکم دیا تھا) ۔ مادمت (جب تک میں رہا) ۔ حی (زندہ) ۔ فلما (پھر جب) ۔ توفیت (تو نے اٹھالیا) ۔ الرقیب (نگران، نگہبان) ۔ ان تعذب (اگر تو نے عذاب دیا) ۔ عبادک (تیرے بندے) ۔ ان تغفر (اگر تو نے معاف کردیا) ۔ تشریح : یہ سوالات قیامت کے دن پوچھے جائیں گے جب کہ تمام انبیاء اپنی اپنی امتوں کے ساتھ موجود ہوں گے۔ یہ سوال و جواب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اس لئے ہوگا کہ ان کی تمام امت سن لے کہ تثلیث کا عقیدہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے نہیں آیا ہے۔ یہ عقیدہ سیکڑوں سال کے بعد گھڑا گیا ہے۔ اور خود وہ جسے لوگوں نے تین معبودوں میں سے ایک اور اللہ کا بیٹا بنا لیا ہے۔ اس قسم کے واہیات خرافات سے صاف انکار کر رہے ہیں۔ اس دھمکی کے بعد جو پچھلی آیت میں خوان نعمت کے سلسلہ میں اللہ نے امت عیسوی کو دی ہے، اب کون سا جواز رہ جاتا ہے کہ وہ سخت ترین عذاب سے بچین گے۔ اس گفتگو میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے تین طرح سے اپنی براءت ظاہر کی ہے۔ (1) مجھے کس طرح جائز تھا کہ حقیقت کے خلاف بات کہتا کہ اپنے معبود حقیقی کے بجائے اپنے آپ کو معبود قرار دے دیتا۔ ثبوت یہ پیش کیا اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کے علم سے وہ ہرگز پوشیدہ نہ رہتی اور آپ خود جانتے ہیں کہ ایسی بات وجود ہی میں نہیں آئی۔ (2) میں نے یہی کہا اے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہئ۔ یعنی ہم تم اللہ کے یکساں بندے ہیں ۔ بندہ الٰہ کیسے ہوسکتا ہے۔ (3) جب تک میں ان کے درمیان رہا میں ان سے باخبر رہا یعنی ایسا کوئی عقیدہ کسی کے دل میں یا زبان پر نہیں آیا۔ یہ عقیدہ تثلیث سینکڑوں سال بعد تصنیف ہوا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی امت کے لئے معانی کی سفارش بھی کی ہے۔ لیکن تحت اللفظ اور بڑی دانائی سے۔ اس جگہ ایک لفظ آیا ہے۔ ” توفیتنی “ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ” جب تو نے مجھے وفات دی “ ۔ اس لفظ سے قادیانیوں نے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) (نعوذ باللہ) آسمانوں پر نہیں ہیں۔ بلکہ ان کی وفات ہوچکی ہے۔ اور وہ کشمیر میں دفن ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات اور احادیث اور امت کے عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنی قدرت سے آسمانوں پر اٹھالیا ہے۔ جہاں وہ حیات ہیں اور قیامت کے قریب وہ دنیا میں تشریف لاکر صلیب کو توڑیں گے۔ اور عیسائیوں کے عقیدہ کی گندگی کو دور فرمائیں گے۔ پھر وہ دنیا میں زندہ رہ کر طبعی زندگی گزار کر وفات پائیں گے۔ احادیث سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مدینہ منورہ میں نبی مکرم ﷺ کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔ اس کے بعد اللہ کے علم کے مطابق قیامت قائم ہوگی۔ اور پھر قیامت کے دن پر گفتگو ہوگی اور اس وقت آسمان سے نزول کے بعد آپ کو حقیقی موت حاصل ہوچکی ہوگی اس لئے اس سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت اور رفع سماء کے انکار پر استدلال بالکل فضول ہے۔ قادیانیوں کے اس عقیدے کی کوئی بنیادی نہیں ہے الحمدللہ ہمارے علماء حق نے اس کے مدلل جوابات پر سینکڑوں کتابیں لکھی ہیں۔ جن کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اور قادیانیوں کے جھوٹ کا پردہ چاک ہو سکتا ہے۔ میں تو اس جگہ صرف اتنا ہی عرض کروں گا کہ قرآن کریم کے کسی لفظ کو لے کر اس کا من مانا ترجمہ کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ الفاظ قرآن کی وہی تشریح معتبر ہے۔ جس طرح نبی کریم ﷺ نے فرما دی ہے۔ اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) وفات پاچکے ہیں بلکہ سیکڑوں احادیث اس پر گواہ ہیں کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان کی طرف اٹھالیا ہے۔ اس پر صحابہ کرام ؓ اور علماء دین کا پختہ عقیدہ ہے جو وفات مسیح کے قائل نہیں ہیں بلکہ رفع عیسیٰ (علیہ السلام) کے قائل ہیں۔
Ayahs 5:119–120

قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 5:119 in the Quran reader

تب اللہ فرمائے گا۔ یہ وہ دن ہے جب کہ سچے لوگوں کو ان کی سچائی نفع دے گی۔ ان کے لئے وہ باغات ہیں جن میں نہریں بہتی ہوں گی۔ جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی رہے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:120 in the Quran reader

اللہ ہی تمام آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان میں ہے اس کا مالک ہے اور وہی ہر چیز پر تمام قدرتیں رکھتا ہے۔

آیت نمبر 119 تا 120 لغات القرآن : ینفع (نفع دے گا) ۔ الصدقین (سچ بولنے والے) ۔ ؓ (اللہ راضی ہوگیا) ۔ الفوز العظیم (بڑی کامیابی) ۔ تشریح : جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اشارے ہی اشارے میں اپنی امت کیلئے سفارش کی تھی اسی طرح اللہ نے بھی اشارے ہی اشارے میں جواب دے دیا کہ جنت صرف اہل صدق کے لئے ہے۔ اہل کذب کیلئے نہیں ۔ اس کے لئے ہے جو اللہ کو اللہ مانتے ہیں۔ ان کئ لئے نہیں جو غیر اللہ کو بھی اللہ مانتے ہیں جنت ان کے لئے ہے جو توحید والے ہیں۔ ان کے لئے نہیں جو تثلیث والے ہیں۔ ” اللہ ان سے راضی ہوا چونکہ وہ اللہ سے راضی رہے “ ۔ اس چھوٹے سے جملہ کے اندر معانی اور مطالب کے سات سمندر ٹھاٹھیں مار رہے ہیں۔ حضور پر نور ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کے متعلق بھی یہی آیت سورة البینہ میں آئی ہے۔ آسمانوں اور زمین ۔ سورة بقرہ کی آیت 29 میں سات آسمانوں کا ذکر ہے۔ قرآن میں ہر جگہ آسمان کا ذکر جمع میں ہے اور زمین کا ذکر واحد میں۔ ” سموات “ بلند اور ارفع اشیاء کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کے نقطہ نظر سے جس مقام پر وہ ہے جس دنیا میں وہ ہے، جہاں وہ اپنی صلاحیتیں استعمال کرسکتا ہے، جہاں وہ تہذیب و تمدن بنا رہا ہے۔ وہی زمین ہے۔ بقیہ سب آسمان ہیں۔ جہاں اس کی پہنچ ہے وہ زمین۔ جہاں اس کی پہنچ نہیں ہے وہ آسمان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ نے سورة مائدہ کی تمام آیات کا ترجمہ اور مختصر تفسیر و تشریح ملاحظہ فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین ثم آمین) واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔