5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 5:57–62

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:57 in the Quran reader

اے ایمان والو ! کفار میں سے اور ان اہل کتاب میں سے جو تم سے پہلے ہیں۔ اور تمہارے دین کو ہنسی کھیل میں اڑاتے ہیں ان کو اپنا دوست مت بناؤ۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ سے ڈرتے رہو۔

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

جب تم نماز کیلئے پکارتے ہو تو یہ لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ ایسی حرکتیں اس لئے کرتے ہیں کہ وہ احمق لوگ ہیں۔

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

اہل کتاب سے کہہ دیجئے تم ہم لوگوں سے کیوں بگڑے ہوئے ہو ؟ یہی ناکہ ہم اللہ پر اور جو کچھ اس نے ہمارے نبی ﷺ پر نازل کیا اور جو کچھ اس سے پہلے نازل ہوچکا ہے اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ مگر تم لوگوں میں سے اکثر و بیشتر اللہ کے نافرمان ہیں۔

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کیا میں بتاؤں وہ کون ہے جس کا انجام اللہ کے پاس فاسقوں کے انجام سے بھی بدتر ہے ؟ وہ جس پر اللہ نے لعنت کی، جس پر اس کا غیض و غضب ٹوٹا۔ جن میں سے بندر اور سور بنائے گئے۔ جو شیطان ہی کے بندے رہے۔ ان کا مقام زیادہ برا ہے چونکہ وہ صحیح راستے سے بہت دور اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو ایمان لا چکے ہیں لیکن آتے ہوئے وہ جتنے سخت کافر تھے جاتے ہوئے بھی اتنے ہی سخت کافر رہے۔ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ یہ لوگ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں۔

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

آپ دیکھتے ہیں کہ ان میں کثرت سے لوگ گناہ اور ظلم کے کاموں میں خوب بھاگ دوڑ کر رہے ہیں اور حرام کھا رہے ہیں۔ یہ لوگ کتنی بری حرکات کرتے پھر رہے ہیں۔

آیت نمبر 57 تا 62 لغات القرآن : لاتتخذوا (تم نہ بناؤ) ۔ ھزوا (مذاق) ۔ لعب (کھیل کود۔ تماشا) ۔ نادیتم (تم نے آواز دی۔ ندادی) تنقمون (تم انتقام لیتے ہو ۔ بدلہ لیتے ہو) ۔ بشر من ذلک (اس سے برا) ۔ مثوبۃ (ثواب) ۔ جزا۔ بدلہ) ۔ لعن (اس نے لعنت کی) ۔ غضب علیہ (وہ اس پر غصہ ہوا) ۔ القردۃ (بندر) ۔ الخنازیر (خنزیر) ۔ سور پورک) ۔ عبد (اس نے عبادت کی۔ بندگی کی) ۔ الطاغوت (شیطان۔ شیطانی قوتیں) ۔ مکان (ٹھکانہ) ۔ اضل (زیادہ گمراہ) ۔ خرجوا (وہ نکلے) یکتمون (وہ چھپاتے ہیں) ۔ تشریح : اب تک یہ بتایا جا رہا تھا کہ مسلمانوں کو حقیقی دوستی کرنی ہے تو کن سے اور کیوں۔ اب ان آیات میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کو حقیقی دوستی کن سے نہیں کرنی ہے اور کیوں۔ مومن کے ایمان کا امتحان یہی ہے کہ وہ اللہ کا قرب ڈھونڈھے یعنی اس کے احکام کو زیادہ سے زیادہ بجالائے۔ چناچہ اس کا حکم ہے کہ ان لوگوں کو ہرگز حقیقی دوست نہ بناؤ جو احمق ہیں یعنی دین کا شعور نہیں رکھتے۔ جو تمہاری اذان اور نماز کا ہنسی مذاق کرتے ہیں اور نقلیں اتارتے ہیں۔ وہ لوگ زیادہ تر یہودی ، نصاریٰ اور دوسرے کفار ہیں۔ فرمایا اے نبی ﷺ ! ان کو موازنہ کی دعوت دیجئے۔ ایک طرف وہ مومنین ہیں جو اللہ کی بھیجی ہوئی ہر کتاب کو مانتے ہیں۔ توریت، زبور، انجیل اور قرآن کریم ، دوسری طرف وہ منافقین کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ ان سے پوچھئے کون سی جماعت بہتر ہے ؟ ابھی پچھلی آیات میں مومنین اور مجاہدین کی پہچان بتائی گئی ہے۔ فرمایا اے نبی ﷺ ! ان سے پوچھئے کہ کیا وہ لوگ بہتر ہیں یا وہ فاسقین جو بطور سزا بندر اور سور بنا دئیے گئے تھے۔ یا وہ بہتر ہیں جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں اور دین و دنیا میں کامرانی اور فلاح پاتے ہیں۔ انصاف سے بتاؤ کیا وہ بہتر ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی، جن پر اس کا غضب ٹوٹا، جو شیطان کی اطاعت کرتے ہیں اور جن کا ٹھکانہ دوزخ ہے ؟ ۔ قرآن نے یہاں تبلیغ کی ایک اہم تکنیک پیش کی ہے۔ اہل کتاب اور کفار، مشرکین اور منافقین پر براہ راست تنقید کرنے سے گریز کیا ہے کہ اس سے ضد اور چڑ تیز ہو سکتی ہے۔ اور بنتا ہوا کام بھی بگڑ سکتا ہے۔ اس کی جگہ چیلنج اور دعوت موازنہ کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ جو زیادہ مؤثر ہے۔ آگے کفار اور منافقین کی خاص خاص علامتیں بتائی گئی ہیں یعنی وہ ایمان کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں، گناہ اور ظلم کے کاموں میں خوب محنت، لگن اور مگن سے کام کرتے ہیں اور حرام آمدنی پر ٹوٹے پڑتے ہیں۔ مومنین کو ہدایت ہے کہ ہرگز ان سے حقیقی دوستی نہ کریں۔
Ayah 5:63

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

آخر کیوں ان کے اللہ والے اور اہل علم انہیں گناہ کی بات کہنے سے اور حرام مال کھانے سے نہیں روکتے ؟ کتنا تباہ کن ہے جو کچھ یہ لوگ بنا رہے ہیں۔

آیت نمبر 63 لغات القرآن : لولا (کیوں نہ ہوا ؟ ) ۔ ینھاھم (انہوں نے منع کیا) ۔ الاحبار (پڑھے لکھے۔ علماء) ۔ تشریح : کوئی قوم اگر ایمان اور اخلاق سے عاری ہوکر تباہی کی طرف بھاگ رہی ہو تو اس کے بچانے کا اولین اور اہم ترین فریضہ اس کے پیران طریقت اور علماء مذہب کے سر ہے۔ مگر اہل کتاب کی بدنصیبی ہے کہ جو لوگ ان کے روحانی اور مذہبی پیشوا ہیں وہ گردو پیش کی ساری خرابیاں دیکھتے ہوئے اصلاح کے لئے میدان عمل میں نہیں آتے اور اپنے گرجا و کلیسا میں چند رسوم عبادت لئے بیٹھے ہیں بلکہ اپنے حلوے مانڈے کی خیر منا رہے ہیں۔ وہ ڈرتے ہیں اگر واقعی انہوں نے اصلاح قوم کا کام شروع کردیا تو نہ صرف مخالفوں کی تقریر تنقید اور تدبیر سے مقابلہ کرنا پڑے گا بلکہ جو کچھ بھی مفت کا نذر نیاز مل رہا ہے اس سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔ زیادہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ان کے اللہ والے اور اہل علم صرف خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں بلکہ یہ فسق و فجور کی نت نئی تدبیر گھڑ کر عوام کی غلط رہنمائی کر رہے ہیں۔ یہاں پر عوام کے لئے ” یعلمون “ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور خواص کے لئے ” یصنعون “ کا۔ یعنی عوام تو لگے بندھے ڈگر پر آنکھیں بند کئے بھاگ رہے ہیں لیکن یہ خواص ہیں جو انہیں نئی نئی ترکیبیں اور نئی نئی بدعات سکھلا رہے ہیں۔ یہودیوں نے جب سبت کے احکام کی خلاف ورزی کی تو عذاب الٰہی آیا۔ نہ صرف ان پر جو گناہ گار تھے بلکہ ان زاہد و عابد حضرات پر بھی جو خاموش تماشائی بنے رہے تھے۔ امام ابو حیان نے اپنی مشہور کتاب بحر محیط میں لکھا ہے کہ حضرت یوشع بن نون (علیہ السلام) پر اللہ نے وحی بھیجی کہ آپ کی قوم میں ساٹھ ہزار بد اعمال ہلاک کئے جائیں گے اور ان کے ساتھ چالیس ہزار نیک لوگ بھی جو خاموش تماشائی بنے رہے۔ جو ان بدکرداروں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے تھے۔ اور تما خرابیاں دیکھنے کے باوجود ان کو تبلیغ ، تنظیم اور جہاد کا خیال تک نہ آیا۔
Ayahs 5:64–66

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

یہود کہتے ہیں اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں (اللہ نے فرمایا کہ) ان ہی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ اس پر لعنت کی گئی ہے جو کچھ وہ بگتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ اس کلام الٰہی کو دیکھ کر جو آپ پر نازل کیا گیا ہے اکثر لوگوں کا کفر اور فساد بڑھتا جا رہا ہے۔ ہم نے ان کے اندر قیامت تک کے لئے باہمی تلخی اور بغض ڈال دیا ہے۔ جب کبھی یہ لوگ لڑائی جھگڑے کی آگ بھڑکاتے ہیں۔ اللہ اسے ٹھنڈا کردیتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ملک میں فساد پھیلانے کے لئے کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ اور اللہ فساد پھیلانے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرلیتے تو ہم ان کے نامہ اعمال سے ان کے گناہ نکال دیتے اور ان کی نعمتوں بھری جنتوں میں داخل کردیتے۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر وہ توریت انجیل اور دوسری کتابیں جو ان کے رب کی طرف سے بھیجی گئی ہیں ان کی پوری پابندی کرتے تو سر کے اوپر سے بھی اور پاؤں کے نیچے سے بھی بہت رزق حاصل کرتے۔ اگرچہ کچھ لوگ ان میں سیدھی اور درمیانہ راہ پر ہیں لیکن ان کی اکثریت برے کاموں میں لگی ہوئی ہے۔

آیت نمبر 64 تا 66 لغات القرآن : ید اللہ (اللہ کا ہاتھ) ۔ مغلولۃ (غل) ۔ بند کیا گیا ہے۔ ، باندھ دئیے گئے) ۔ غلت (بند کر دئیے (جائیں گے) مبسوطتن (کھلے ہوئے ہیں) ۔ ینفق (وہ خرچ کرتا ہے) ۔ یزیدن (وہ ضرور بڑھائے گا) ۔ طغیان (سرکشی۔ تکبر۔ بڑائی) القینا (ہم نے ڈال دیا) ۔ البغضآء (بغض) ۔ کینہ) ۔ اوقدوا (انہوں نے بھڑکایا) ۔ الحرب (جنگ) ۔ اطفا (اس نے بجھا دیا) ۔ المفسدین (فساد کرنے والے) ۔ لکفرنا (البتہ ہم اتار دیتے) ۔ جنت النعیم (راحت بھری جنتیں) ۔ فوق (اوپر) تحت (نیچے) ۔ امۃ مقتصدۃ (سیدھی راہ پر قائم لوگ) ۔ سآء (برا کیا) ۔ یعملون (وہ کرتے ہیں) ۔ تشریح : نبی کریم ﷺ کے مدینہ آنے سے پہلے اوس، خزرج اور دیگر قبائل پر یہود کی چودھراہٹ تھی اور سودی لین دین وغیرہ کے ذریعہ ساہو کا رہ اور مارکیٹ ان کے قبضہ میں تھی۔ لیکن اسلام کی وجہ سے ان کی اجارہ داری گھٹتی چلی گئی، نذر نیاز میں بھی کمی آگئی اور ان کی عزت و شان بھی کم ہوگئی۔ اس پر انہوں نے یہ زبان درازی کی کہ اللہ کے خزانے میں کمی آگئی ہے یا نعوذ باللہ وہ بخیل اور کنجوس ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے بھی انہوں نے بہت سے کافرانہ آوازے کسے تھے۔ جواباً یہ فرمایا گیا کہ یہ سب تمہارے اپنے کرتوت کا نتیجہ ہے۔ بخالت اور ذالت خود تمہارے اپنے دلوں میں سما گئی ہے اب تک پیغمبری بنی اسرائیل میں تھی لیکن اب جو بنی اسمعیل میں منتقل ہوگئی ہے ۔ تو تم مارے حسد اور سیاہ قلبی کے دل ہی دل میں جل بھن رہے ہو۔ اور یہ جلن تمہیں ایمان لانے نہیں دیتی۔ تمہارا کفر اور بڑھتا چلا جاتا ہے۔ تم اسلام کے خلاف فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانا چاہتے ہو۔ کبھی جنگ کرنا چاہتے ہو اور کفر کی راہ میں خوب دوڑ دھوپ کرتے ہو۔ اذان اور نماز کی نقلیں اتارتے ہو۔ نئے نئے ہونے والے مسلمانوں پر طعن تشنیع بلکہ گالی گلوچ سے دل کا بخار نکالتے ہو۔ مگر تمہاری کوئی دال گلنے نہیں پاتی۔ اللہ تعالیٰ ہر سازش کو الٹ دیتا ہے۔ اگر تم اللہ کے محبوب بننا چاہتے ہو تو اس قرآن کریم پر ایمان لے آؤ جس کی اور تورات و انجیل کی تعلیمات یکساں ہیں۔ اگر تم ایمان لے آتے اور اسلام کی پاکیزہ ہدایتوں پر عمل کرتے تو اللہ تعالیٰ تم سے خوش ہوتا۔ آسمان سے بھی خوب بارش ہوتی اور زمین سے بھی خوب پیداوار ہوتی اور تمہیں اللہ کی نعمتیں بھرپور ملتیں دینا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ یہ تسلیم ہے کہ تمہارے اندر کچھ اچھے لوگ ضرور ہیں جن میں سے چند ایمان کی دولت سے مشرف ہوئے ہیں لیکن ایک کثیر تعداد بھی تک کفر اور فتنہ فساد سازش اور چالاکی میں لگی ہوئی ہے۔ یہ ارشاد کہ ” اگر تم توریت اور انجیل اور دوسری آسمانی کتابوں کو قائم کر دیتے “ ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف تم خود ذاتی طور پر عمل کرتے بلکہ زبان و قلم سے سمجھاتے اور قوت و طاقت سے عمل کراتے یعنی تبلیغ کرتے۔ تنظیم بناتے اور ضرورت ہوتی تو جہاد و قتال بھی کرتے۔ زبور کی، توریت کی، انجیل کی اور اب قرآن کی بھی یہی تعلیم ہے۔ افراد جب تک جماعت کی شکل اختیار نہ کرلیں اور اس جماعت کی پالیسی اور پروگرام میں تبلیغ و جہاد نہ ہو، دین اسلام کی حقیقی روشنی نہیں پھیلتی۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ” اگر تم ایمان لے آئے تو تمہارے لئے اوپر سے رزق پرستا اور نیچے سے عطا کیا جاتا “ تو دنیا نے دیکھ لیا کہ چند برسوں کے اندر ہی اسلام کو عظیم الشان فتوحات حاصل ہوئیں اور آخرت کی نعمتوں کے ساتھ ساتھ دنیاوی نعمتوں کا خزانہ بھی ان کے قدموں کی خاک بن گیا۔
Ayahs 5:67–69

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے رسول ﷺ ! جو کچھ آپ نے آپ کے رب کی طرف سے نازل ہو رہا ہے اسے لوگوں تک پہنچا دیجئے۔ (اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو) فریضہ رسالت میں کوتاہی ہوگی۔ اللہ آپ کو لوگوں سے (دشمنوں) سے محفوظ رکھے گا۔ بیشک اللہ کافروں کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب ! تمہاری کوئی بنیاد نہیں ہے اور نہ ہوگی جب تک کہ تم توریت اور انجیل کو اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اس کو قائم نہ کردو۔ اے نبی ﷺ ! (یہ خطرہ ضرور ہے کہ) تبلیغ کا جو حکم آپ کو ملا ہے اس پر عمل کرنے سے مخالفین میں کفر اور فتنہ و فساد زیادہ بڑھے گا مگر آپ کا فروں کے حال پر کچھ افسوس نہ کیجئے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

مسلمان ہوں یا یہودی، ستارہ پرست ہوں یا نصاریٰ جو بھی اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے گا اور صالح عمل کرے گا بلاشبہ اس پر کسی قسم کا کوئی خوف یا غم نہ ہوگا (نہ دنیا میں نہ آخرت میں) ۔

آیت نمبر 67 تا 69 لغات القرآن : بلغ (پہنچا دے) ۔ لم یفعل (تو نے نہ کیا) ۔ ما بلغت (تو نے تمہیں پہنچایا) ۔ رسالتہ (اس کا پیغام) ۔ یعصمک (وہ تیری حفاظت کرے گا۔ تجھے بچائے گا) ۔ لیزیدون (البتہ وہ ضرور بڑھا دے گا) ۔ الصابئون (صابی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو ماننے والے لوگ) ۔ تشریح : ان آیات میں حضور ﷺ کو ایک خاص حکم دیا گیا ہے کہ جو کچھ وحی جلی یا وحی خفی آپ پر قرآن و سنت کی شکل میں نازل ہو ہو رہی ہے اسے تمام و کمال لوگوں تک پہنچا دیجئے اگرچہ یہ خطرہ ضرور ہے کہ نئے نئے احکام پاکر دشمنوں میں کھلبی زیادہ مچ جائے گی اور ہوسکتا ہے کہ وہ آپ پر حملہ کریں یا فساد کریں یا سازس کریں۔ مگر ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ اللہ آپ کا محافظ ہے۔ اور آپ کے دشمن خواہ کچھ کریں، اللہ ان کے لئے کامیابی کا راستہ کھولنے والا نہیں ہے۔ آپ تبلیغ کئے جائیے۔ اللہ کی باتیں دور و نزدیک پہنچا دیجئے اور دشمنوں کی دشمنی کی پرواہ نہ کیجئے۔ آپ کی تبلیغ سے فائدہ ضرور ہوگا۔ کچھ اور لوگ ایمان لائیں گے اور جو کوئی بھی ایمان لائے گا اور صالح عمل کرے گا، خواہ وہ مسلمان ہو، یہودی ہو ، صابی ہو، ی انصرانی ہو، اسے نہ قبر کا ڈر ہوگا نہ قیامت کا نہ دوزخ کا۔ وہ دنیا میں بھی خوش و خرم رہے گا اور آخرت میں بھی۔ یہاں پر چند جملوں کی تشریح ضروری ہے۔ یہ جو کہا گیا ہے کہ ” اہل کتاب ! تمہاری کوئی بنیاد نہیں ہے “ ۔ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ تمہاری تحریف شدہ تعلیمات میں کوئی پکی بات نہیں ہے۔ کوئی ٹھوس اصول نہیں ہے۔ یہ وقت کے ساتھ ڈھلکتی ڈولتی دھوپ چھاؤں ہے جدھر نفع نظر آیا ادھر ساتھ دے دیا۔ دوسرے معنی یہ بھی بنتے ہیں کہ تمہاری سیاسی اور اقتصادی بنیاد نہیں ہے۔ بہت جلد تم اکھڑ جاؤ گے ۔ اس لئے اپنی طاقت اور دولت پر غرور نہ کرو۔ یہ بنیاد اسی وقت پکی ہوگی جب تم توریت ، انجیل اور جو کچھ تم لوگوں پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اور ہو رہا ہے ، وہ تمام تعلیمات قائم نہ کرودو۔ ” قائم کر دینے “ کے معنی یہ نہیں ہیں کہ صرف روزہ نماز تم اپنے ذات پر نافذ کرلو بلکہ اس کے ساتھ تبلیغ اور جہاد کے ذریعہ قوم سے بھی عمل کراؤ۔ ان کے تمام سیاسی، جنگی، مالی، اخلاقی، عائلی ، تعلیمی، سماجی، قومی اور بین الاقوامی پہلو ہیں ان کو عالمی پیمانہ پر نافذ کرو۔ ” جو کچھ تم لوگوں پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اور ہو رہا ہے “ ۔ یہاں پر ایک مختصر لفظ قرآن کہنے کے عوض اتنا لمبا جملہ لایا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ جو کچھ پہلے نازل ہوا ہے وہ سب کا سب اس میں شامل ہے اور جواب نازل ہو رہا ہے وہ بھی شامل ہے۔ ” خواہ مسلمان ہوں یہودی ہوں صابی ہوں یا نصاریٰ ہوں “ ۔ (اس میں مسلمانوں کا لفظ تاکیداً ہے) ایمان لانے کے بعد یہودی، صابی، نصاریٰ ، ہنود، بدھ سب لفظ ' مسلم ' کے تحت آجاتے ہیں اور ان کی انفرادی مذہبیت ختم ہوجاتی ہے۔ صالح اعمال کی کڑی شرط بھی لگی ہوئی ہے۔ ایمان اور صالح اعمال جس شخص میں جمع ہوجائیں گے۔ اسے اپنی عاقبت کی کوئی فکر نہ ہوگی۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ کی طرف سے جنت کی بشارت ہے۔
Ayahs 5:70–71

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور بہت سے رسول ان کی طرف بھیجے۔ جب ان کے پاس رسول آئے اور ان کی باتیں ان کی خواہش نفس کے خلاف پڑیں تو کچھ نبیوں کو انہوں نے جھٹلایا اور کچھ نبیوں کو انہوں نے قتل ہی کر ڈالا۔

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور یہ سمجھ بیٹھے کہ اب ان پر کوئی آفت نہ آئے گی۔ لہٰذا وہ اندھے بہرے بن کر اور بھی کفر کرنے لگے۔ بہرکیف ان میں سے توبہ کرنے والوں کی توبہ اللہ نے قبول کی۔ بقیہ پھر بھی اندھے بہرے ہی بنے رہے۔ جن کی تعداد کثیر تھی۔ اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ یہ لوگ کرتے ہیں

آیت نمبر 70 تا 71 لغات القرآن : لاتھدی (پسند نہ تھا۔ وہ نہ چاہتے تھے) ۔ حسبوا (انہوں نے گمان کیا۔ وہ سمجھے) ۔ عموا (وہ اندھے ہوگئے) ۔ صموا (بہرے ہوگئے) ۔ تشریح : چند الفاظ میں بنی اسرائیل کی تاریخ بیان کردی گئی ہے۔ جتنے رسول آئے اور ان کی طرف بھیجے گئے، ان کی تعداد کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان پیغمبروں کی تعداد سیکڑوں تک پہنچتی ہے۔ کسی دوسری قوم میں اتنے پیغمبر پیدا نہیں ہوئے۔ کسی دوسری قوم کی اصلاح کو اتنے پیغمبر نہیں بھیجے گئے۔ مگر کسی دوسری قوم نے اتنی ضد، کفر اور طغیان کو راہ نہیں دی جتنی وہ اب تک دے رہے ہیں۔ قرآن پاک نے ان کی شرارتوں اور نافرمانیوں کی چند تفصیلات سورة بقرہ سورة بنی اسرائیل وغیرہ میں دی ہیں۔ ” اندھے اور بہرے “ کے الفاظ سورة بقرہ رکوع ایک میں بھی ایک جگہ آئے ہیں۔ یعنی سب کچھ دیکھنے کے باوجود نہ دیکھا سب کچھ سننے کے باوجود نہ سنا۔ کوئی عبرت نہیں پکڑی۔ کوئی نصیحت قبول نہیں کی۔ پیغمبروں کو ہر طرح ایذائیں پہنچائیں۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) ، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) وغیرہ کے واقعات سب کو معلوم ہیں۔ بنی اسرائیل میں چند سعید روحین بھی ہیں جنہوں نے توبہ کی اور ان کی توبہ اللہ نے قبول کرلی۔ مگر ان کی تعداد بہت کم ہے۔ اب بھی اگر کوئی توبہ کرلے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ مغفرت کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ ان کی ذلیل حرکات اللہ سے پوشیدہ نہیں۔ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور ریکارڈ رکھ رہا ہے۔
Ayahs 5:72–75

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

کوئی شک نہیں وہ لوگ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ بیشک مسیح ابن مریم اللہ ہی ہے (یا مسیح ابن مریم اللہ ہوگیا) حالانکہ خود مسیح (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو نصیحت کی تھی کہ تم اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی۔ (اور یہ بھی کہا تھا کہ) بیشک جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ایسے گناہ گاروں کا کوئی مددگار نہیں ہے۔

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

بلاشبہ وہ لوگ بھی کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے۔ حالانکہ سوائے اس ایک معبود کے کوئی معبود نہیں ہے۔ اگر ایسا کہنے والے باز نہ آئے تو ان کافروں کے لئے دردناک عذاب مقرر ہے۔

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

یہ لوگ اللہ سے توبہ کیوں نہیں کرلیتے اور کیوں اپنے گناہ نہیں بخشوا لیتے جب کہ اللہ مغفرت کرنے والا بڑی رحمت والا ہے۔

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

(سن لو) مسیح (علیہ السلام) ابن مریم رسول کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ اس سے قبل بہت سے پیغمبر گزر چکے ہیں۔ ان کی والدہ پاک باز سچی خاتون تھیں۔ وہ (مسیح و مریم) دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ دیکھو اے لوگو ! ہم کیسی کیسی دلیلیں ان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اور یہ بھی دیکھو کہ وہ کیسے الٹی طرف بہکتے جا رہے ہیں۔

آیت نمبر 72 تا 75 لغات القرآن : اعبدوا (تم عبادت و بندگی کرو) ۔ من یشرک (جو بھی شرک کرے گا) ۔ حرم (حرام کردیا) ۔ ماوی (ٹھکانہ) ۔ ثالث ثلاثۃ (تین میں کا تیسرا) ۔ لم ینتھوا (وہ نہ رکے۔ باز نہ آئے) ۔ لیمسن (البتہ ضرور پہنچے گا) ۔ لایتوبون (وہ توبہ نہ کریں گے) ۔ یستغفرون (وہ گناہ بخشواتے ہیں) ۔ قد خلت (یقیناً گزرگئے) ۔ امہ (اس کی ماں) ۔ صدیقۃ (سچی۔ پاکباز عورت) ۔ کانا یا کلان (وہ دونوں کھاتے تھے) ۔ الطعام (کھانا) ۔ انظروا (دیکھو) ۔ نبی ن (ہم بیان کرتے ہیں۔ کھولتے ہیں) ۔ انی (کہاں ؟ ) ۔ یؤفکون (وہ الٹے چلے جا رہے ہیں) ۔ تشریح : ” اللہ ھو المیسح ابن مریم “ اس کے دو معنی ہیں۔ (1) اللہ دنیا میں مسیح ابن مریم کی شکل میں آیا (نعوذ باللہ) ۔ (2) مسیح ابن مریم آگے چل کر معبود بن گئے (نعوذ باللہ) بات ایک ہی ہے۔ ان دو عقیدوں میں سے عیسائیوں کا ہر فرقہ کوئی نہ کوئی عقیدہ رکھتا ہے۔ اور ان میں سے ہر عقیدہ شرک اور کفر ہے۔ اس کی واضح تردید میں اللہ تعالیٰ خود حضرت مسیح (علیہ السلام) کی وہ نصیحت پیش کرتے ہیں جو انہوں نے بنی اسرائیل کی قوم کو برسر عام کی تھی۔ اس نصیحت میں تین باتیں ہیں۔ چونکہ یہ تینوں باتیں ایک ہی آیت میں ہیں اس لئے سارے کا سارا حضرت مسیح کا قول ہے انہوں نے فرمایا تھا کہ۔ (1) اللہ میرا بھی مالک و خالق ہے اور تمہارا بھی۔ (2) مزید یہ بھی وضاحت کردی کہ جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا وہ کافر و مشرک ہوا۔ اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور وہ دوزخ ہی میں ڈال دیا جائے گا۔ (3) مزید یہ بھی تصریح کردی کہ مسیح سمیت کوئی بھی ایسے خطاکاروں کا مددگار نہیں۔ دوسرے الفاظ میں اگر مسیح میں الوہیت کے اختیارات ہوتے تو وہ اپنے پوجنے والوں کو دوزخ سے بچا لیتے۔ مگر وہ ان کی کوئی مد نہ کرسکتے ہیں اور نہ کریں گے۔ اب عیسائیوں کے ایک تیسرے فرقے کا ذکر ہو رہا ہے جو کفر میں زیادہ شدید ہے جس کا عقیدہ یہ ہے کہ صفات باری میں تین تین شریک ہیں۔ ایک تو خود اللہ تعالیٰ ، دوسرے حضرت مسیح (علیہ السلام) تیسرے ان کی والدہ حضرت مریم یا روح القدس۔ جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح اور ان کی والدہ۔ ان کی حیثیت انسان سے زیادہ نہ تھی۔ حضرت مسیح عام انسان کی طرح پیدا ہوئے تھے اگرچہ بلا باپ پیدا ہوئے تھے وہ عام انسانوں کی طرح چھوٹے سے بڑے ہوئے۔ حضرت مریم ایک عام انسان ماں کی طرح پیدا کرنے والی تھیں اگرچہ کنواری تھیں۔ کیا پیدا ہونے والا اور پیدا کرنے والی انسان کے سوا کچھ اور ہیں۔ عام انسانوں کی طرح دونوں جسمانی اور دیگر ضرورت کے محتاج تھے۔ کھانا ہضم کرنا ، سونا، جاگنا، بولنا ، ہنسنا سب ان کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ کیا یہ انسان کی کیفیت ہے یا معبود کی ؟ اور پھر حضرت مریم کا انتقال ہوگیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمانوں پر اٹھالئے گئے ۔ لیکن وہ بھی دنیا میں واپس آکر عام انسانوں کی طرح انتقال کرنے والے ہیں ۔ کیا موت انسان کی شان ہے یا اللہ کی۔ وہ کیسے معبود ہوسکتا ہے جو پیدائش اور موت، سانس اور دوسری ضروری حاجتوں کا محتاج ہو ؟ حضرت مریم کے لئے صدیقہ کا لفظ آیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ولی تھیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ کسی خاتون کا ولی ہونا یا کسی مرد کا ولی یا نبی ہونا کمال عبدیت کی دلیل ہے۔ وہ عبد معبود کیسے ہوسکتا ہے یہ صریح عقل کے بھی خلاف ہے کہ ایک ہی ہستی عبد بھی ہو اور معبود بھی۔ اتنے عظیم ثبوت کے باوجود یہ اہل تثلیث کتنے بےعقل اور بےنصیب ہیں کہ الٹے پھرے جاتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ زیادہ سے زیادہ صرف ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے پیغمبر آئے اور گئے۔ کوئی باقی رہنے والا نہیں آیا۔ حضرت عیسیٰ بھی باقی رہنے کو نہیں آئے تھے ان کو بھی قیامت کے قریب موت آئے گی۔ اللہ تعالیٰ کی رحمانیت اور رحیمیت کی شان ہے کہ ایسے بد عقیدہ کافروں اور مشرکوں کے لئے بھی توبہ کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہے۔ اگر اب بھی وہ توبہ کرلیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیں تو اللہ تعالیٰ کو غفور الرحیم پائیں گے۔
Ayahs 5:76–77

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

اب سے کہ دیجئے کیا تم لوگ اللہ کے سوا کسی ایسے کی بندگی کر رہے ہو جو تمہیں نقصان اور نفع پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ اللہ ہی ہے جو سنتا اور جانتا ہے۔

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب ! تم ناحق اپنے دین میں غلو اور زیادتی نہ کرو اور ان لوگوں کی نفسانی خواہشات کے پیچھے نہ چلو جو (زمانہ دراز سے) گمراہ چلے آرہے ہیں۔ جنہوں نے ایک کثیر تعداد کو گمراہ کردیا اور خود بھی سیدھی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں۔

آیت نمبر 76 تا 77 لغات القرآن : السمیع (اللہ کی صفت۔ بہت سننے والا) ۔ لاتغلوا (حد سے نہ نکلو۔ غلو نہ کرو) ۔ ضلوا (وہ بھٹک گئے) ۔ اضلوا کثیرا (بہت سوں کو بھٹکا دیا) ۔ تشریح : ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! ذرا ان نادانوں سے پوچھئے کیا تم اسے معبود مان رہے ہو جو اپنی ذات تک پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ وہ بھلا تمہیں کیا نقصان اور کیا نفع پہنچا سکتا ہے۔ اے اہل کتاب ! تم میں جو بنی اسرائیل ہیں انہوں نے پیغمبروں کو اتنا گھٹایا کہ سب کو ناحق تکلیفیں دیں اور چند کو جان سے مار ڈالا۔ اور جو نصاریٰ ہیں انہوں نے اپنے پیغمبر کو اتنا بڑھایا کہ لے جا کر الوہیت میں شریک کردیا۔ گھٹانا اور بڑھانا دونوں صورتیں غلو فی الدین ہیں۔ اور ہر غلو جھوٹ ہے۔ سراسر جھوٹ۔ فرمایا گیا کہ اے اہل کتاب ! اپنے بد عقیدہ آباواجداد کی اندھی پیروی مت کرو۔ ان آبا و اجداد نے اس قسم کے عقیدے کیوں گھڑ لئے ہیں ۔ صرف اسلئے کہ ان کی دنیاوی خواہشات اس کا تقاضا کرتی تھیں۔ یہ لوگ دنیاوی خواہشات کے بندے بن کر رہ گئے تھے۔ اب تم آنکھ بند کرکے انکے جھوٹے مبالغہ آمیز عقیدوں کو مت اپناؤ اور اعتدال کی سچی راہ یعنی سواء السبیل کو اختیار کرو۔ تبلیغ کتنی مسلسل صبر آزما محنت چاہتی ہے اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ صرف سورة مائدہ میں آیت نمبر 12 سے آیت نمبر 86 تک مسلسل 72 آیات میں خطاب اہل کتاب سے ہے جس میں بنی اسرائیل بھی شامل ہیں اور نصاریٰ بھی۔ تفہیم ، ترغیب، تہدید ہر پہلو بار بار سامنے لایا گیا ہے۔ اور ہر بار نئے انداز میں۔ اب بھی اگر کوئی نہ مانے تو اس کی بدنصیبی ہے۔
Ayahs 5:78–81

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

بنی اسرائیل میں جو لوگ کافر تھے ان پر داؤد (علیہ السلام) اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی ہے کیونکہ وہ کافر گناہ کرتے تھے اور حد سے زیادہ بہک گئے تھے ۔

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

وہ ایک دوسرے کو برے کاموں سے منع نہیں کرتے تھے اور حد سے زیادہ بہک گئے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو برے کاموں سے منع نہیں کرتے تھے واقعی ان کا یہ فعل بہت برا تھا۔

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

آج تم دیکھتے ہو کہ بنی اسرائیل کی ایک کثیر تعداد (کافروں اور مشرکوں) سے دوستی کر رہی ہے۔ کیسا برا سامان انہوں نے اپنی جان کے واسطے آگے بھیجا ہے۔ اللہ ان پر غضب ناک ہوگیا ہے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ عذاب میں جلنے والے ہیں۔

وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:81 in the Quran reader

اور اگر وہ اللہ پر اور نبی ﷺ پر اور جو کچھ نبی ﷺ پر اتارا گیا ہے اس پر یقین رکھتے تو کافروں کو اپنا دوست نہ بناتے۔ لیکن ان میں ایک کثیر تعداد عادی گناہ گاروں کی ہے۔

آیت نمبر 78 تا 81 لغات القرآن : لعن (لعنت کی گئی) ۔ لسان (زبان) ۔ لایتناھون (وہ منع نہ کرتے تھے) ۔ عن منکر (برائی سے) ۔ فعلوہ (وہ جو انہوں نے کیا) ۔ بئس (برا ہے) ۔ تری (آپ نے دیکھا) ۔ قدمت (آگے بھیجا) ۔ سخط (اللہ نے) غصہ کیا) ما اتخذوا (وہ نہ بناتے تھے) ۔ تشریح : یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معبود نہ ہونے کے بارے میں ایک اور دلیل دی گئی ہے ۔ جو لوگ انہیں الوھیت میں شریک مانتے ہیں ان پر خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے (اور حضرت داؤد (علیہ السلام) نے بھی) لعنت فرمائی ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نصاریٰ کے پیغمبر ہیں۔ اور حضرت داؤد (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل پر اس لئے لعنت کی ہے کہ وہ پیغمبروں کے ساتھ سخت دشمنی کرتے تھے بلکہ چند کو قتل بھی کردیا تھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس لئے لعنت کی کہ وہ انہیں اللہ کا بیٹا اور معبودیت میں شریک بنا بیٹھے تھے۔ نہایت افسوس کی بات یہ تھی کہ یہود جو گناہ میں بہت زیادہ بہک گئے تھے آپس میں خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کو ہرگز نہ روکتے تھے۔ دوسری عظیم خرابی یہ تھی کہ ان کی ایک کثیر تعداد دوسرے کفار اور مشرکین مکہ سے ساز باز کر رہی تھی اور سب مل کر مسلمانوں کو زک پہنچانا چاہتے تھے۔ یہ ساز باز اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایمان نہیں رکھتے تھے۔ وہ ایسے بےشعور ہرگز نہیں کہ ایک کثیر تعداد ان ہی بےشعور عادی گناہ گاروں کی ہو اور وہ اس سے بیخبر ہوں اصل بات یہ ہے کہ وہ جو کچھ کرتے آئے ہیں کرتے رہیں گے۔
Ayahs 5:82–86

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 5:82 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! آپ مسلمانوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والا یہود اور مشرکین کو پائیں گے۔ لیکن ان لوگوں کو مسلمانوں سے دوستی میں آپ قریب تر پائیں گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نصاریٰ میں عبادت گزار علم دوست اور تاریک ال دنیا درویش پائے جاتے ہیں اور ان میں تکبر نہیں ہے۔

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:83 in the Quran reader

اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو آپ دیکھتے ہیں کہ آنسو ان کی آنکھوں میں ڈبڈبانے لگتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ انہوں نے پیغام حق کو پہچان لیا ہے۔ ان کے دل کی آواز یہی ہے کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے۔ ہمارے نام ان لوگوں میں لکھ لیجئے جو حق کی تصدیق کرنے والے ہیں۔

وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 5:84 in the Quran reader

اور ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ پر اور وہ حق بات جو ہمیں پہنچ چکی ہے اس پر ایمان نہ لائیں۔ ہم تو یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمیں ہمارا رب نیک اعمال والوں کی صحبت میں داخل فرمائے گا۔

فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:85 in the Quran reader

جو کچھ انہوں نے دعا اور تمنا کی اس کی قبولیت میں اللہ انہیں ایسی جنتیں عطا کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی۔ جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور حسن و خوبی سے (اسلا م کا) کام کرنے والوں کا یہی انجام ہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 5:86 in the Quran reader

وہ لوگ جو کفر کرتے رہے اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے رہے وہی لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں۔

آیت نمبر 82 تا 86 لغات القرآن : لتجدن (البتہ تو ضرور پائے گا) ۔ اشد الناس (لوگوں میں سخت) اقرب (زیادہ قریب) ۔ مودۃ (محبت ۔ دوستی۔ تعلق) ۔ قسیسین (قسیس) ۔ عالم۔ عیسائیوں کے پادری) ۔ رھبانا (راھب) ۔ دنیا کو چھوڑ کر عبادت کرنے والے) لایستکبرون (وہ تکبر نہیں کرتے ہیں) ۔ اذا سمعوا (جب وہ سنتے ہیں) ۔ اعینھم (عین) ۔ ان کی آنکھیں) ۔ تفیض (بہنے لگتے ہیں) ۔ الدمع (آنسو) ۔ عرفوا (انہوں نے پہچان لیا) ۔ تشریح : اچھے اور برے لوگ کس جماعت میں نہیں ہوتے۔ چناچہ یہود و نصاریٰ دونوں میں اچھے برے لوگ تھے۔ ان آیات سے پتہ چلتا ہے کہ یہود میں اچھے لوگ بہت کم تھے۔ اس لئے ان کا کچھ خاص وزن نہ تھا۔ اس کے برخلاف نصاریٰ میں اچھے لوگ مقابلتاً زیادہ تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ہاں علماء اور درویش زیادہ پائے جاتے تھے جن کے اندر شان اور شیخی نہ تھی۔ عوام سے ملتے رہنے کی بدولت وہ عوام پر اثر انداز تھے۔ اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ عوام وہی ہوں گے جو ان کے علماء اور صوفیا بنائیں گے۔ اس سے علماء اور مشائخ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اگرچہ عیسائیوں میں رہبان یعنی گوشہ نشین تارک ال دنیا درویش حضرات بھی تھے لیکن قرآن نے یہ کہہ کر کہ ” ان میں تکبر نہیں ہے “ ۔ یہ بتا دیا کہ وہ عوام سے بالکل کٹے ہوئے نہ تھے بلکہ رابطہ رکھتے تھے اور اسی رابطہ کی بدولت وہ قوم کے مزاج کی تراش و خراش کرتے تھے۔ یہ آیات ایک خاص واقعے کی طرف واضح اشارہ کرتی ہیں ۔ جب مکہ مکرمہ کے مسلمان قریش کے مظالم سے بہت تنگ آگئے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ اس اجازت پر عمل کرتے ہوئے پہلی مرتبہ گیارہ افراد حبشہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جن میں حضرت عثمان غنی ؓ شامل تھے اور ان کی اہلیہ محترمہ دختر رسول رقیہ ؓ بھی تھیں۔ اس کے کچھ دنوں بعد حضرت جعفر بن ابی طالب کی سرکردگی میں بیاسی (82) مردوں اور عورتوں کا دوسرا قافلہ حبشہ پہنچ گیا۔ وہاں آبادی کی اکثریت نصاریٰ کی تھی۔ حکومت بھی نصاریٰ کی تھی اور بادشاہ بھی جس کا لقب نجاشی تھا اہل نصاریٰ میں سے تھا۔ ان لوگوں نے مسلمانوں کو بہت آرام سے رکھا۔ قریشی مکہ نے ایک وفد شاہ بجاشی کے پاس بھیجا کہ ان مسلمانوں کو وہاں سے نکال دیا جائے لیکن حضرت جعفر ؓ بن ابی طالب کی ایک تقریر سے متاثر ہوکر نجاشی نے قریش مکہ کے وفد کو کورا جواب دے دیا۔ اس نے پیغمبر اسلام ﷺ اور قرآن کے متعلق چند سوالات کئے۔ جوابات نے اسے اور اہل دربار کو (جن میں علماء اور مشائخ حضرات بھی تھے) بہت متاثر کیا۔ وہ لوگ رقت قلب سے رونے لگے اور کہا کہ یہ بالکل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی انجیل کی پیشین گوئی کے مطابق ہے۔ وہاں کے اہل حکومت ، اہل علم اور عوام نے مسلمانوں کے طور طریقے دیکھے اور دل سے اسلامی تعلیمات کو پسند کیا۔ اسی اثنا میں چند اور واقعات پیش آئے۔ جنہوں نے نجاشی، اکثر اہل دربار اور چند دوسرے لوگوں کو اسلام کی طرف کھینچا۔ نجاشی خود مسلمان ہوگیا۔ لیکن کہا جاتا ہے چند سیاسی مصلحتوں کے تحت انہوں نے اپنا اسلام ظاہر نہیں کیا۔ بہرکیف انہوں نے علما و مشائخ اور دوسرے افراد پر مشتمل ستر (70) آدمیوں کا ایک وفد حضور ﷺ کی خدمت میں مدینہ بھیجا جو سب کے سب مسلمان ہوگئے۔ آپ نے ان کو سورة یسین سنائی۔ وہ سب سنتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے۔ نجاشی نے اپنا اسلام ظاہر کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ بہر حال ان کے مسلمان ہونے میں کوئی شک نہیں۔ کیوں کہ ان کی وفات پر حضور ﷺ اور صحابہ کرام ؓ نے غائبانہ نماز جنازہ پڑھی۔ آپ نے صحابہ ؓ سے فرمایا ” آج تمہارا بھائی انتقال کر گیا ہے “ ۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہ آیات خاص طور سے ان لوگوں کی شان ہی میں نہیں۔ بلکہ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیات عمومی رنگ لئے ہوئے ہیں۔ چناچہ اس میں وہ تمام اس قسم کے نصاریٰ شامل ہیں جو اس زمانے سے لے کر قیامت تک کہیں بھی ہوں۔ یہ آیات ایک خاص قسم کے نصاریٰ کے متعلق ہیں۔ ان کے مفہوم میں ہر قسم کے نصاریٰ شامل نہیں ہیں کیونکہ آج کل کے نصاریٰ اور یہود خواص و عوام گٹھ جوڑ کئے ہوئے ہیں جیسا کہ فلسطین اور لبنان کے واقعات بتا رہے ہیں۔ ان آیات سے یہ مطلب نکالنا کہ نصاریٰ یہود سے بہتر ہیں غلط ہے۔ اگر دونوں کے مذاہب کا موازنہ کیا جائے تو آج کے نصاریٰ زیادہ مشرک اور بےلگام ہیں۔ یہود ایک اللہ کو مانتے ہیں، نصاریٰ تین کو۔ یہود کے پاس عقیدہ بھی ہے اور مذہبی اصول و قوانین بھی۔ لیکن عیسائیوں کے پاس نہ کوئی قانون ہے، نہ کوئی اصول اور نہ کوئی لازمی عقیدہ۔ جس کا جو جی چاہے مانے نہ مانے۔ کرے نہ کرے۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کی دشمنی میں نصاریٰ یہود سے بڑھ کر ہیں۔ اس وقت نصاریٰ ہی کی سرپرستی یہود کو حاصل ہے ورنہ ان کی کوئی طاقت نہیں تھی۔ بہرحال اللہ کی نظر میں ہر ایک وہ شخص اور قوم برابر ہے جو اللہ کی آیات کا انکار کرتی ہے خواہ وہ یہود ہوں یا عیسائی۔
Ayahs 5:87–89

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 5:87 in the Quran reader

اے ایمان والو ! وہ پاک چیزیں جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کردی ہیں ان کو حرام نہ ٹھہراؤ اور حد سے آگے نہ بڑھو۔ بیشک حد توڑ کر آگے بڑھنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔

وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 5:88 in the Quran reader

اور وہ رزق جسے اللہ نے حلال اور پاکیزہ بنا دیا ہے اس میں سے کھاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ١ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ١ؕ وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:89 in the Quran reader

اللہ تمہیں تمہاری لغو قسموں پر نہیں پلڑتا لیکن ان قسموں پر جن کو تم نے جانتے بوجھتے دل سے مضبوط باندھا ہے ان پر گرفت کرتا ہے ۔ ایسی قسم توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ دس محتاجوں کو وہ اوسط درجے کا کھانا کھلاؤ جیسے تم اپنی بیوی کو کھلاتے ہو یا دس محتاجوں کو کپڑا پہناؤ یا ایک غلام آزاد کرو۔ پھر اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو مسلسل تین تین دن تک روزے رکھو۔ تمہاری قسموں کا یہ کفارہ ہے جب تم قسم کھا ہی بیٹھو۔ ویسے اپنے قسموں کی حفاظت کرو۔ اس طرح اللہ تمہارے لئے اپنا حکم واضح کرتا ہے تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو۔

آیات نمبر 87 تا 89 لغات القرآن : اکتبنا (تو ہمیں لکھ لے) ۔ الشھدین (گواہی دینے والے) ۔ نطمع (ہم امید رکھتے ہیں۔ ہم توقع رکھتے ہیں) ان یدخل (یہ کہ داخل کرے گا) ۔ الصالحین (صالح) ۔ نیک لوگ) ۔ اثاب (اثانۃ) ۔ اس نے بدلہ دیا) ۔ لاتحرموا (حرام نہ کرو) ۔ طیبت (پاکیزہ چیزیں ۔ (حلال چیزیں) ۔ احل (اس نے حلال کردیا) ۔ لاتعتدوا (تم حد سے آگے نہ بڑھو) ۔ لایحب (وہ پسند نہیں کرتا) ۔ المعتدین (حد سے بڑھ جانے والے) ۔ لایؤاخذ (وہ نہیں پکڑے گا) ۔ اللغو (لغو۔ بیکار) ۔ عقدتم (تم نے مضبوط باندھا) ۔ اطعام (کھلانا) ۔ عشرۃ مسکین (دس غریب۔ دس مسکین) ۔ اوسط (درمیانہ درجہ) ۔ تطعمون (تم کھلاتے ہو) ۔ اھلیکم (اپنے گھر والے) ۔ کسوۃ (کپڑا پہنانا) ۔ تحریر (آزاد کرنا) ۔ رقبۃ (گردن۔ غلام) لم یجد (وہ نہیں پاتا ہے) ۔ ثلثۃ ایام (تین دن) ۔ حلفتم (تم نے قسم کھائی) ۔ احفظوا (تم حفاظت کرو۔ نگرانی کرو) ۔ ایمانکم (اپنی قسموں کی) ۔ تشریح : پچھلی آیات میں رہبانیت اور ترک دنیا کرنے والوں کا کچھ ذکر آگیا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں کی طبعیتیں اس طرف مائل ہوجائیں ۔ ان آیات میں صاف صاف کہہ دیا گیا ہے کہ قسم کھا کر حلال چیزوں کو اپنے لئے حرام نہ ٹھہرا لو اور خبردار شرعی حدود سے آگے نہ بڑھو۔ حلال کو حرام ٹھہرا لینا تقویٰ نہیں ہے۔ تقویٰ اللہ سے ڈرنے کا نام ہے۔ حلال رزق کو چھوڑ دینا کفران نعمت ہے۔ بےشعوی یا نیم شعوری میں اگر کوئی فضول اور بیکار قسمیں کھا بیٹھتا ہے اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ ویسے قسم کھانا اچھی بات نہیں ہے۔ لیکن جو قسمیں پورے شعور میں رہتے ہوئے ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے کھالی جائیں تو ان کو پورا کرنا چاہئے۔ اگر وہ قسم حلال کو حرام کرنے کی ہے تو فوراً توڑ دینا چاہئے مگر کفارہ دینا ضروری ہے۔ دس مسکینوں کو متوسط درجہ کا کھانا صبح و شام دو وقت کھلا دینا۔ یادس مسکینوں کو بقدر ستر پوشی کپڑا پہنانا ایک غلام کو آزاد کرنا ہے۔ اگر یہ سب نہ ہو سکے تو تین دن تک مسلسل روزے رکھنا۔ عرب میں ان دنوں لوگ خواہ مخواہ قسمیں کھایا کرتے تھے ۔ حلال بیوی کو حرام ٹھہرا لینا معمولی بات تھی۔ اس لئے حکم دیا گیا کہ اس قسم کی قسمیں کفارہ دے کر توڑ دینی چاہئے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ فضول قسموں کی عادت آہستہ آہستہ ختم ہوگئی۔
Ayahs 5:90–92

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:90 in the Quran reader

اے ایمان والو ! شراب، جوا، بتوں کے تھان اور قرعہ اندازی کے تیر یہ سب گندے شیطانی کام ہیں۔ ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ Open ayah 5:91 in the Quran reader

شیطان یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے درمیان دشمنی اور نفرت ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا تم اب بھی باز آؤ گے یا نہیں ؟

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 5:92 in the Quran reader

اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور (گندے شیطانی کاموں سے) پرہیز کرو۔ پھر اگر تم نے بات نہ مانی تو خوب سمجھ لو کہ ہمارے رسول ﷺ پر اتنا ہی فرض ہے کہ احکام کو واضح کرکے (لوگوں تک) پہنچا دے۔

آیت نمبر 90 تا 92 لغات القرآن : الخمر (شراب۔ ہر وہ چیز جو عقل کو ڈھانپ دے) ۔ المیسر (جوا۔ (آسانی سے حاصل ہونے والی چیز) ۔ الانصاب (بت۔ تھان) ۔ الازلام (زلم) ۔ جوئے کے تیر۔ پانسے) ۔ رجس (گندگی ۔ بیماری) ۔ عمل الشیطن (شیطانی کام) ۔ اجتنبوا (تم بچو۔ (قریب بھی نہ جاؤ) ۔ لعلکم (شاید کہ تم ۔ توقع ہے کہ تم) ۔ ان یوقع (یہ کہ وہ ڈال دے) ۔ بینکم (تمہارے درمیان) ۔ یصدکم (تمہیں روک دے) ۔ ذکر اللہ (اللہ کی یاد۔ اللہ کا ذکر) ۔ الصلوٰۃ (نماز) ۔ منتھون (رک جانے والے) ۔ اطیعوا (اطاعت کرو۔ کہا مانو) ۔ البلغ (پہنچا دینا) ۔ تشریح : آیت 90 میں چار چیزیں قطعی طور پر حرام کردی گئی ہیں۔ (1) جتنی شرابیں ہیں سب حرام اور ناپاک ہیں۔ خواہ اس کی مقدار اتنی کم ہو کہ نشہ نہ لائے۔ بطور دوا بھی اس کا استعمال ممنوع ہے۔ شراب کے علاوہ جتنے نشے ہیں ان کا کسی ماہر ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق بطور دوا کے اتنی مقدار رکھ لینا درست ہے کہ بالکل نشہ نہ آئے۔ (2) سٹہ اور جوا یعنی وہ کام جس میں ایک کا نقصان کرکے دوسرے کا فائدہ ہو اور یہ فائدہ بھی محض حسن اتفاق اور سراسر قسمت آزمائی کے ذریعہ ہو۔ (3) بتوں کے تھان اور آستانے ان مقامات پر جانا جہان گندے شیطانی کام ہوا کرتے ہیں مثلاً کلب، ریس کورس، حیا سوز فلم گاہیں، بازار حسن، رقص و سرور ، بدنام ہوٹل، بدزبان اور بد اعمال لوگوں کا اجتماع وغیرہ۔ ان میں وہ مقامات بھی شامل ہیں جو اللہ واحد کے سوا کسی اور کی عبادت یا قربانی یا نذر نیاز کیلئے مخصوص ہوں۔ (4) وہ فال گیری اور قرعہ اندازی جسے اسلام نے منع کردیا ہو۔ اس میں رمل، نجوم ، جوتش، ستارہ شناشی دولت اور شہرت کیلئے لاٹری ، تاش ، شطرنج وغیرہ یہ سب شامل ہیں۔ اسمیں اسپورٹس کی وہ شکل بھی شامل ہے جو ازلام یا جوا ہے اور جو نماز روزے سے باز رکھتی ہیں۔ خمر کے معنی صرف شراب ہی نہیں بلکہ افیم، گانجا، چرس، ہیرؤن اور ہر نشہ آور چیز ہے۔ (علماء نے چائے اور سگریٹ، حقہ، پان، بیڑی ، چھالیہ وغیرہ کو مستثنیٰ قرار دیا ہے مگر بہتر ہے ہر اس چیز سے احتیاط برتی جائے جس کی چاٹ لگ جائے اور جس کے بغیر آدمی کام کا نہ رہے) خمر سے مراد ہر وہ چیز ہے جو عقل ، تمیز، ادب اور قوت فیصلہ کو وقتی طور پر مفلوج کر دے اور آدمی ہوش میں نہ رہے۔ اس ضمن میں حضور ﷺ کی بہت سی احادیث ہیں جن میں چند یہ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے “ ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” میں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں “ آپ ﷺ نے فرمایا ” جس چیز کی بڑی مقدار نشہ پیدا کرتی ہے اس کی چھوٹی مقدار بھی حرام ہے “ ۔ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے شراب پر، اس کے پینے والے پر، اس کے پلا نے والے پر، اس کے بیچنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر، اس کی کشید کرنے والے پر، اس کی کشید کرانے والے پر، اس کے ڈھوکر لے جانے والے پر اور ہر اس شخص پر جس کیلئے وہ ڈھو کرلے جائی گئی ہو “ ۔ حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا شراب پینے والا اتنا ہی بڑا مجرم ہے جتنا بت پوجنے والا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس دسترخوان پر کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے جس پر شراب پی جا رہی ہو۔ حضرت عمر ؓ نے اپنے دور میں ایک پورے گاؤں کی ایسی عمارتوں کو جلا دینے کا حکم دیا تھا جہاں خفیہ طریقہ سے شراب کی کشید اور فروخت کا کاروبار ہو رہا تھا۔ مغرب کی وہ حکومتیں جو سائنس کی جنگی اور غیر جنگی ، زمینی اور خلائی تمام طاقتوں پر نازل کرتی ہیں ، ایشیا میں آکر چھوٹی چھوٹی غیر مسلم قوموں سے عبرت انگیز شکستیں کھا گئی ہیں اور کھا رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نہ ان کے پاس ایمان ہے نہ جذبہ جہاد ہے نہ ان کے پاس صحت مند ہمت اور لڑنے مرنے والے سپاہی ہیں کہ شراب، شہوت ہوس اور عیش نے قوم کو دیمک کیطرح چاٹ لیا ہے۔ ان آیات میں فرمایا ہے کہ خمر، جوا، آستانے اور ازلام (پانسو کے تیر) یہ سب گندے شیطانی کام ہیں۔ ان کا گندہ اور قابل نفرت ہونا تو ہر صاحب ذوق سلیم پر ظاہر ہے۔ خصوصاً اس پر جو ذکر الٰہی اور صوم و صلوٰۃ کی لذتوں سے واقف ہے۔ یہ شیطانی کام ہیں چونکہ شیطان ہماری دنیا اور دین دونوں کی تباہی چاہتا ہے۔ ایک طرف وہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں ذریعہ مال اور محبت کی بربادی کرا کے مسلمان کو مسلمان سے لڑا دے۔ باہم دشمنی کا بیج بودے اور اس اتحاد ملی، تنظیم اور شیرازہ بندی (ڈسپلن) کو پارہ پارہ کر دے جس کی بنیاد پر ملے اسلامہ ترقی کر ہی ہے۔ دوسری طرف وہ چاہتا ہے کہ انہیں بےہوش کرکے یا فضولیات میں مبتلا کرکے ذکر الٰہی اور صوم و صلوٰۃ کی نعمتوں سے محروم کر دے۔ تاکہ وہ اللہ اور رسول ﷺ کو بھول کر ان ہی گندے کاموں میں لگ جائیں۔ خطرات اور خرابیاں دکھا کر اور ان چیزوں کو حرام قرار دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ اللہ کا اور رسول کا حکم مانو اور ان گندی شیطانی چیزوں سے دور رہو۔ اور خبردار کیا ہے کہ اگر تم نہیں مانتے ہو تو پرواہ نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا کام صرف پیغام حق پہنچانا ہے۔ وہ انہوں نے پہنچا دیا۔ اب ساری ذمہ داری اس شخص پر ہے جس نے پیغام حق کے بعد بھی اپنی روش کو تبدیل نہیں کیا۔
Ayah 5:93

لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 5:93 in the Quran reader

ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں ہے جو صاحب ایمان ہیں اور اعمال صالح کرتے ہیں۔ جو کچھ وہ حرمت سے پہلے کھا پی گئے مگر (احکام آنے کے بعد) اللہ کے خوف سے وہ ہوشیار ہوگئے۔ انہوں نے اپنے ایمان اور اعمال صالح کو برقرار رکھا اور آئندہ کے لئے اللہ سے ڈرتے رہے۔ صرف ایمان اور اللہ کے خوف ہی کو برقرار نہیں رکھا بلکہ اپنے اعمال میں (زیادہ سے زیادہ) حسن و خوبی پیدا کرتے رہے۔ اور اللہ نیک روش اختیار کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔

آیت نمبر 93 لغات القرآن : جناح (گناہ) ۔ طعموا (انہوں نے کھایا) ۔ تشریح : حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے کہ جب خمر اور میسرہ وغیرہ کے حرام مطلق ہونے کے متعلق مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں تو سوال اٹھا ان لوگوں کا کیا بنے گا جو ایمان بھی رکھتے تھے اور نیک اعمال بھی بجالاتے تھے لیکن حرام چیزیں استعمال کرتے تھے چونکہ یہ آیات نازل نہیں ہوئی تھیں اور انہیں کچھ خبر نہ تھی۔ ان میں کچھ تو اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور کچھ زندہ ہیں۔ اس آیت میں جواب دیا گیا ہے کہ احکام نازل ہونے سے پہلے جو کچھ وہ کھاپی گئے سب معاف ہے۔ مگر ان احکام آنے کے بعد وہ عام معافی اٹھ گئی۔ اب شرط ہے کہ ایمان اور عمل صالح کو برقرار رکھیں اور آئندہ کیلئے اللہ سے ڈرتے رہیں اور نافرمانی نہ کریں۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ اللہ ان کو محبوب رکھے تو صرف اعمال صالح پر قناعت نہ کریں بلکہ اس میں مقدار اور معیار زیادہ کریں۔ احسان کے معنی ہیں کہ توقع اور فرض سے بڑھ کر اور بہتر کا م کرنا۔ ڈیوٹی اور نصاب تک کام کرنا قابل قدر ضرور ہے لیکن اچھے مسلمان کی شان ہے کہ اپنی طرف سے زیادہ کرکے دے خواہ مقدار میں ، خواہ معیار میں یا دونوں میں۔ صرف اللہ کے لئے۔ ہر لین دین میں دو فریقین ہوتے ہیں۔ اگر یہ جذبہ ہو کہ کام اتنا ہی کرنا ہے جتنا طے ہے اور اجرت بھی اتنی ہی دینی ہے جتنی طے ہے تو کام آگے نہیں بڑھے گا۔ خواہ فریقین میں ہڑتال ، تالہ بندی وغیرہ ہو یا نہ ہو۔ تعریف تو یہ ہے کہ خالص اللہ کیلئے مزدور کچھ زیادہ کر دے۔ اور خالص اللہ ہی کیلئے مالک کچھ زیادہ دے دے۔ تب ہی کام بھی آگے بڑھے گا اور باہمی تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں اللہ خود سب سے عظیم محسن ہے اور ظاہر ہے وہ محسنوں کو عزیز رکھتا ہے۔
Ayahs 5:94–96

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِ١ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:94 in the Quran reader

اے ایمان والو ! البتہ اللہ تمہیں ایک بات میں آزمائے گا۔ وہ شکار جو بالکل تمہارے ہاتھ اور نیزہ کی زد میں ہوگا۔ تاکہ اللہ جان لے کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے۔ اس فرمان کے بعد جس نے زیادتی کی اسے درد ناک عذاب دیا جائے گا۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 5:95 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم حالت احرام میں ہو اس وقت کسی شکار کو نہ مارو اور جس نے جان بوجھ کر شکار مارا تو اس پر کفارہ لازم ہے۔ جو جانور اس نے مارا ہو ویسا ہی ایک جانور (اپنے ریوڑ سے یا خرید کر) دے۔ اور یہ فیصلہ (کہ کفارہ کا جانور شکار کئے ہوئے جانور کے برابر ہے یا نہیں) تم میں سے دو معتبر افراد کریں گے۔ وہ بدلے کا جانور ہدیہ ہوگا جو بطور نیاز کعبہ پہنچایا جائے گا۔ اگر یہ نہ ہو سکے تو شکار کرنے والے پر کفارہ ہے کہ چند مسکینوں کو کھانا کھلائے یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ وہ اپنے کئے کی سزا چکھے (اب تک) جو کچھ ہوچکا اللہ نے معاف کیا۔ مگر اب جو کوئی نافرمانی کرے گا تو اللہ (اس سے انتقام لے کر رہے گا) ۔ اور اللہ انتقام لینے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔

اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِ١ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 5:96 in the Quran reader

تمہارے لئے سمندر یا دریا کا شکار پکڑنا اور اس شکار کا کھانا تمہارے فائدے کی خاطر اور مسافروں کے لئے بھی حلال کردیا گیا ہے۔ لیکن جب تک تم حالت احرام میں ہو اس وقت تک جنگل (خشکی) کا شکار حرام کردیا گیا ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کے پاس تم سب جمع کئے جاؤ گے۔

آیت نمبر 94 تا 96 لغات القرآن : لیبلون (البتہ وہ آزمائے گا) ۔ الصید (شکار) ۔ تنال (پہنچتی ہے۔ پہنچتے ہیں) ۔ رماح (رمح) ۔ نیزے لیعلم (تاکہ وہ جان لے) ۔ من یخاف (کون ڈرتا ہے ؟ ) ۔ لا تقتلوا (تم قتل نہ کرو) ۔ انتم حرم (تم احرام کی حالت میں ہو) ۔ متعمدا (جان بوجھ کر) ۔ لانعم (مویشی۔ جانور) ۔ یحکم (فیصلہ کرے گا) ۔ ذواعدل (دو انصاف والے) ۔ ھدیا (نیاز۔ منت جو مسجد الحرام بھیجی جائے) ۔ بلغ الکعبۃ (کعبہ تک پہنچنے والا) ۔ عدل (برابر) ۔ لیذوق (تاکہ وہ چکھ لے) ۔ وبال (عذاب۔ سزا) ۔ امرہ (اس کا کام ) ۔ عفا اللہ (اللہ نے معاف کردیا) ۔ سلف (گزر گیا) ۔ عاد (جو پلٹا) ۔ ینتقم (بدلہ لیتا ہے) ۔ عزیز (زبردست ۔ (اللہ کی صفت) ۔ حکلیم (حکمت والا) ۔ صید البحر (سمندر کا شکار) ۔ متاع (سامان فائدہ) ۔ السیارۃ (مسافر۔ سواری) ۔ صید البر (خشکی کا شکار) ۔ ما دمتم (جب تک کہ تم رہے) ۔ یحشرون (تم جمع کیے جاؤ گے۔ تشریح : حرم کے تقدس کی خاطر وہاں شکار مارنا حرام کردیا گیا ہے۔ حرم عبادت کی جگہ ہے نہ کہ شکار کھیلنے کی۔ عبادت کے لئے جس ذہنی اور فکری مرکزیت کی ضرورت ہوتی ہے ، شکار کیلئے دوڑ دھوپ کرنا اس میں رکاوٹ ہے۔ پھر اللہ نے فرمایا ہے کہ جو حرم میں داخل ہوگیا اسے امن ہے۔ یہ حکم عام ہے اسی لئے اس میں وحشی جانور بھی شامل ہیں کہ ان کا شکار نہ کیا جائے۔ شکار کا لفظ وحشی جانوروں کیلئے آیا ہے۔ پالتو مویشیوں کے لئے نہیں کہ وہ ایسے ہی پکڑے جاتے ہیں۔ شکار کا لفظ حال و حرام جانور دونوں کو شامل ہے۔ البتہ اس حکم سے موذی جانور مستثنیٰ ہیں اس لئے ایسا جانور جس سے جان کو خطرہ ہو اس کو اپنی جان کی حفاظت کیلئے مارا جاسکتا ہے کو اہ وہ حرم میں ہو یا مارنے والا احرام میں ہو۔ مثلاً شیر، سانپ، بچھو، پاگل کتا وغیرہ۔ جو شخص حالت احرام میں ہے ، خواہ حرم کے اندر یا باہر ، وہ نہ تو خود شکار کرسکتا ہے نہ کسی سے شکار میں مدد لے سکتا ہے ۔ اس شخص کیلئے اگر کسی نے شکار مارا ہو تو اس شخص پر وہ بھی حرام ہے۔ ہاں اگر یہ شکار کسی نے اپنے لئے یا کسی اور کیلئے مارا ہو اور اس میں سے کچھ تحفہ بھیج دے تو احرام والا کھا سکتا ہے۔ جس طرح یہودیوں کی آزمائش کی گئی کہ سبت والے دن مچھلیاں ابھر ابھر کر آتی تھیں، اسی طرح حج یا عمرہ کرنے والے مسلمانوں کی آزمائش کی جا رہی ہے کہ ان کے آس پاس شکار کے قابل جانور بہت پھریں گے ۔ اس طرح کہ ان کا مارنا آسان ہوگا۔ جو اللہ سے ڈریں گے وہ شکار نہ کرکے اس آزمائش میں کامیاب اتریں گے، رہے وہ لوگ جو پھر بھی شکار کر ہی لیں ، ان کیلئے جرمانہ کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ جو جانور مارا گیا ہے ویسا ہی جانور مویشیوں میں سے اسے بطور کفارہ دینا ہوگا۔ خواہ وہ اپنے ریوڑ سے دے یا خرید کر۔ یہ فیصلہ بھی کہ آیا کفارہ کا جانور شکار کئے ہوئے جانور کے برابر ہے یا نہیں، دو ایسے افراد کریں گے جن کی عقل اور ایمان پر اعتبار ہو اور معتبر ہوں۔ وہ بدلے کا جانور بطور نیاز کعبہ حرم میں پہنچایا جائے گا۔ پھر حدود حرم میں ذبح کرکے فقراء میں تقسیم کردیا جائے گا۔ یا اس قیمت کے برابر غلہ اس طرح تقسیم کرے کہ ہر مسکین کو ایک صدقہ فطر کے برابر پہنچ جائے یا ہر صدقہ فطر کے عوض ایک روزہ رکھے۔ لیکن اگر کسی شکار کی قیمت ایک صدقہ فطر سے بھی کم ہو تو اس کو اختیار ہے کہ ایک مسکین کو دیدے یا ایک روزہ رکھ لے۔ جو لوگ یہ کفارہ نہیں دیں گے وہ سخت گنہگارہوں گے اور اللہ ان سے انتقام لے گا۔ حالت احرام سے باہر نکل کر سمندر، دریا، تالاب وغیرہ کے شکار کو حلال کردیا گیا ہے۔ مگر ان حدود کے اندر جن کا ذکر سورة مائدہ کے شروع میں آیا ہے۔