5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 5:20–26

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ان نعمتوں کو یاد کرو جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں۔ جب کہ تمہاری قوم میں بہت سے نبی پیدا کئے اور تمہیں حکمران بنایا تھا۔ اور تمہیں وہ سب کچھ بخشا تھا جو تمام عالم میں کسی قوم کو نہ دیا گیا تھا۔

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

اس لئے اے میری قوم والو ! اس مقدس سر زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے۔ اور ہرگز پیچھے مت بھاگنا ورنہ تم سخت نقصان اٹھانے والے ہوجاؤ گے۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! وہاں تو ایک زبردست قوم رہتی ہے۔ اور جب تک وہ نکل نہ جائے ہم ہرگز وہاں قدم نہ رکھیں گے۔ ہاں ! اگر وہ نکل جائیں گے تو ہم داخل ہوجائیں گے۔

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

مگر دو شخص جو اللہ سے ڈرتے تھے (اور جنہیں اللہ نے ایمان کی دولت سے نوازا تھا) نصیحت کرنے لگے کہ تم لوگ شہر کے دروازوں کے اندر سے گھس جاؤ۔ جب تم لوگ اندر پہنچ جاؤ گے تو فتح و کامیابی تمہاری ہوگی۔ اللہ (کی امداد) پھر بھروسہ کرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

پھر وہ کہنے لگے اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ہم کبھی اس ملک کے اندر نہیں داخل ہوں گے جب تک وہ وہاں موجود ہیں۔ تم جاؤ اور تمہارا رب چلا جائے۔ تم دونوں جنگ کرو۔ ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

موسیٰ نے پھر رب سے فریاد کی۔ اے میرے رب۔ میرا کوئی اختیار نہیں چلتا سوائے میری اپنی ذات پر اور میرے بھائی پر۔ اے رب ہم میں اور اس قوم فاسقین کے درمیان جدائی ڈال دیجئے۔

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا ۔ وہ سر زمین اب ان پر چالیس سال تک کے لئے حرام کردی گئی ہے۔ (اتنے دنوں) یہ لوگ زمین میں سرمارتے پھریں گے۔ تو اے موسیٰ (علیہ السلام) تم اس نافرمان قوم کے حال پر افسوس نہ کرنا۔

آیت نمبر 20 تا 26 لغات القرآن : ملوک (ملک) ۔ بارشاہ۔ حکمراں۔ اتکم (اس نے تمہیں دیا) ۔ لم یؤت (نہیں دیا) ۔ احد (کسی ایک کو) الارض المقدسۃ (پاک زمین۔ (سر زمین شام فلسطین) ۔ لاترتدوا (ارتداد۔ رد) تم نہ پلٹو) ۔ ادبار (دبر) ۔ پیٹھ۔ تنقلبوا (تم پلٹ جاؤ گے۔ تم ہوجاؤ گے) ۔ جبارین (جبار) ۔ زبردست۔ طاقت ور) ۔ لن ندخل (ہم ہرگز داخل نہ ہوں گے) ۔ حتی یخرجوا (جب تک وہ نہ نکلیں) ۔ رجلان (رجل) ۔ دو مرد۔ دو آدمی) ۔ یخافون (وہ خوف رکھتے ہیں) ۔ انعم اللہ (اللہ نے انعام کیا تھا) ۔ الباب (دروازہ) ۔ دخلتموہ (تم داخل ہوگے اس میں) ۔ غلبون (غلبہ پانے والے۔ غالب آنے والے) ۔ ابدا (ہمیشہ۔ کبھی بھی) ۔ داموا (وہ ہیں) ۔ اذھب (تو چلا جا) ۔ قاتلا (تم دونوں لڑلو) ۔ ھھنا (اسی جگہ) ۔ لا املک (میں مالک نہیں ہوں) ۔ نفسی (میری جان) ۔ اخی (میرا بھائی) ۔ افرق (جدائی کر دے) ۔ بیننا (ہمارے درمیان) ۔ قوم الفاسقین (نافرمان قوم) ۔ محرمۃ (حرام کردی گئی) ۔ اربعین (چالیس) ۔ سنۃ سال) ۔ یتیھون (وہ بھٹکے رہیں گے۔ گھومتے رہیں گے) ۔ لاتاس (تو افسوس نہ کر) ۔ تشریح : ابھی ابھی کہا گیا ہے کہ ہمارا نبی ﷺ ان رازوں پر سے پردہ اٹھاتا ہے جن کو بنی اسرائیل عرصہ دراز سے چھپائے ہوئے تھے۔ وہ پردہ اس مقصد سے نہیں اٹھا رہے ہیں کہ بنی اسرائیل کو ذلیل کرنا مقصود ہے کیونکہ کہ وہ بہت سے رازوں سے چشم پوشی بھی کر رہے ہیں۔ پردہ اٹھانے کا ایک ہی مقصد ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو وضاحت سے بیان کیا جائے۔ اسلام کی تعلیمات میں جہاد سب سے اہم ہے۔ یہاں جہاد کا وہ واقعہ پیش کیا جاتا ہے جو حضرت موسیٰ کے زمانے میں بنی اسرائیل کو پیش آیا۔ جس سے وہ کترا گئے تھے۔ چناچہ اللہ کا غضب آگیا۔ اس واقعہ کو پیش کرنے سے نہ صرف بنی اسرائیل کی پست ہمتی ، بزدلی اور جہاد چوری پر سے پردہ اٹھایا جا رہا ہے بلکہ مسلمانوں کو بھی عبرت اور نصیحت کے لئے فریضہ جہاد سے بھاگنے کا انجام بتایا جا رہا ہے۔ یہ تبلیغ دین کا ایک انداز ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جہاد کا حکم دینے سے پہلے بنی اسرائیل کو یہ سمجھا دیا تھا کہ اے قوم اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نعمتوں کو یاد کرو۔ وہ نعمتیں جو کسی اور قوم کو اب تک نہیں ملی ہیں۔ یاد کرو فرعون نے تم سے کیا ذلیل سلوک کر رکھا تھا۔ پھر اللہ نے فرعون اور اس کے تمام لشکر کو تمہارے سامنے ڈبو کر تمہیں سلطنت مصر بخشی۔ تمہارے اندر اتنے پیغمبر بھیجے کہ کسی اور قوم میں نہیں بھیجے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) ، حضرت داؤد (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر حکمراں تمہارے اندر آئے۔ من وسلویٰ کی نعمتیں تمہیں ملیں۔ تمہارے ہی لیے پتھر سے پانی نکالا گیا۔ اور بادل کا سایہ کرکے دھوپ سے نجات عطا کی گئی وغیرہ وغیرہ۔ اے میری قوم ! اللہ تمہیں ایک اور نعمت سے نواز نے کا وعدہ کرچکا ہے۔ وہ یہ کہ ملک شا، فلسطین بھی تمہارے ہی قبضہ میں آجائے گا۔ شرط یہ ہے کہ تم جہاد کیلئے آگے بڑھو اور بنی عمالقہ سے بھڑ جاؤ جو وہاں قابض ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی عمالقہ کے جنگی حالات دریافت کرنے کے لئے بارہ جاسوس اس ہدایت کے ساتھ پیشگی روانہ کر دئیے تھے کہ جو بھی وہاں دیکھوآکر مجھے ہی بتانا۔ کسی اور کو نہیں۔ جب وہ چالیس دن بعد واپس آئے تو ان میں سے دس نے تمام قوم والوں کو بتا دیا کہ بنی عمالقہ بڑے شہ زور اور لمبے چوڑے خطرناک لوگ ہیں اور ان کے ایک ہی فرد عوج بن عبق نے ہم سب کو گرفتار کرلیا تھا۔ یہ سن کر بنی اسرائیل ڈر گئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہزار ترغیب اور تحریص کے باوجود انہوں نے بنی عمالقہ کے خلاف جہاد کرنے سے انکار کردیا بلکہ حد سے بڑھ کر یہاں تک کہہ دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) ! تم اور تمہارا رب جا کر جنگ کرلو ہم یہیں بیٹھے ہیں۔ فتح کے بعد ہمیں بلالینا۔ اس ذلیل اور پست جواب کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو غصہ آجانا چاہئے تھا لیکن پیغمبر ہونے کی حیثیت سے انہیں اپنے جذبات پر پورا قابو تھا۔ بس اتنا ہی کہا کہ اے اللہ میرا زور تو صرف مجھ پر اور میرے بھائی پر چلتا ہے (بھائی سے حقیقی بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) بھی مراد ہیں اور دینی بھائی حضرت یوشع بن نون اور حضرت کالب بن یوقنا یعنی وہ سردار جنہوں نے بنی عمالقہ کی بات میں آکر صرف حضرت موسیٰ کو بتائی تھی اور جنہوں نے قوم کو یہ کہہ کر جہاد پر اکسایا تھا کہ تم قلعہ کے دروازے تک تو چلو۔ فتح تمہاری ہوگی یہ (اللہ کا وعدہ ہے) حضرت موسیٰ نے یہ بھی کہا کہ اے اللہ ہم میں اور بقیہ قوم میں جدائی ڈال دے۔ فاسق نافرمان لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اب سزا کے طور پر یہ قوم چالیس سال تک سر زمین شام و فلسطین فتح نہ کرسکے گی۔ بلکہ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں ماری ماری پھرے گی۔ ان کی سزا یہی ہے۔ اے موسیٰ ! ان کی بدنصیبی پر ترس مت کھانا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ یہ لوگ صبح صبح مصر پہنچنے کے لئے روانہ ہوئے۔ لیکن راستہ بھول کر شام کو پھرو ہیں پہنچ جاتے تھے۔ جہاں سے صبح کو روانہ ہوئے تھے۔ تمام دوپہر بھوک پیاس اور گرمی میں تڑپتے۔ اس طرح پورے چالیس سال گرز گئے۔ اس عرص میں تقریباً وہ سب بنی اسرائیل والے مرکھپ گئے تھے جو مصر سے حضرت موسیٰ کے ساتھ آئے تھے۔ البتہ ان کی نئی نسل نوجوان ہو رہی تھی۔ جن پر دین کی محنت کی جا رہی تھی اسی دوران میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کا بھی انتقال ہوگیا۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے بعد پیغمبری حضرت یوشع بن نون کو ملی۔ ان کے دور میں بنی اسرائیل کی جوان نسل نے حضرت یوشع (علیہ السلام) کی سرکردگی میں سرزمین شام و فلسطین فتح کیا اور بنی اسرائیل کی حکومت قائم کی۔ اور اس طرح اللہ کا وعدہ پورا ہوا
Ayahs 5:27–31

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

اور اے نبی ﷺ ! ان لوگوں کو آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کا واقعہ صحیح طور پر پڑھ کر سنا دیجئے۔ جب ان دونوں نے (اللہ کے لئے) نذر پیش کی تو ایک کی نذر قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہیں ہوئی تو اس نے کہا میں تجھے قتل کر ڈالوں گا (جس کی نذر قبول ہوئی) اس نے کہا اللہ تو صرف اہل تقویٰ کی نذر قبول کیا جاتا ہے۔

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:28 in the Quran reader

ہاں ! اگر تو میرے قتل کے لئے ہاتھ بڑھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کیلئے ہاتھ ہرگز نہ بڑھاؤں گا۔ میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 5:29 in the Quran reader

میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹے اور تو ہی دوزخ والا بنے۔ اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 5:30 in the Quran reader

اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر اس کو آمادہ کردیا۔ اور اس نے قتل کر ہی ڈالا اور وہ سخت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ٤ۚۛۙ Open ayah 5:31 in the Quran reader

پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اس کو دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیوں کر چھپائی جاتی ہے۔ اس نے کہا ہائے افسوس کیا میں اس کوے (تک کی عقل) کو نہ پہنچ سکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپاتا۔ پھر وہ پچھتانے والوں میں ہوگیا۔

آیت نمبر 27 تا 31 لغات القرآن : اتل (تلاوت کر۔ پڑھ۔ سنا) ۔ نبا (خبر۔ واقعہ) ۔ ابنی ادم (آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹے) ۔ بالحق (حق کے ساتھ۔ سچائی کے ساتھ۔ قربا (دونوں نے قریب کیا۔ دونوں نے پیش کیا۔ قربان (نیاز۔ منت) ۔ تقبل (قبول کرلی گئی) ۔ اقتلن (میں ضرور قتل کردوں گا) ۔ یتقبل (قبول کرتا ہے) ۔ بسطت (تونے کھولا ۔ پھیلا دیا) ۔ الی (میری طرف) ۔ باسط (کھولنے والا۔ پھیلانے والا) ۔ اخاف (میں ڈرتا ہوں۔ میں خوف رکھتا ہوں) ۔ تبوء (تو حاصل کرے) ۔ القمی (میرا گناہ) ۔ اصحب النار (جہنم والے) ۔ جزآء (بدلہ) ۔ طوعت (تطویع) ۔ برے کام کو اچھا کرکے دکھانا۔ اس نے رغبت دلائی) اصبح (ہوگیا) ۔ بعث (بھیجا) ۔ غرانا (کوا) ۔ یبحث (کھودتا ہے۔ کریدتا ہے۔ لیری (تاکہ وہ دکھائے) ۔ یواری (وہ چھپاتا ہے۔ سوءۃ (لاش) ۔ یویلتی (اے کاش کہ وہ۔ ہائے افسوس) ۔ عجزت (میں بےبس ہوگیا۔ عاجز ہوگیا) ۔ اواری (میں چھپا دوں) ۔ النادمین (شرمندہ ہونے والے۔ پچھتانے والے۔ تشریح : قرآن جب کسی واقعہ کو بیان کرتا ہے تو سنانے کے لطف کے لئے نہیں بلکہ نصیحت کے لئے یا مثال دے کر بات بہتر سمجھانے کے لئے بیان کرتا ہے۔ اور وہ واقعہ کا صرف ضروری پہلو پیش کرتا ہے۔ انسانی قتل کی تین ہی شکلیں ہیں۔ (1) جہاد فی سبیل اللہ میں (2) قاتل کو قصاص میں اور (3) ذاتی انتقام عناد و فساد کے لئے۔ ان میں پہلی شکل عبادت ہے۔ دوسری شکل انصاف اور تیسری شکل ظلم ہے۔ یہاں پر ذکر اس تیسری صورت کا ہو رہا ہے۔ حضرت آدم کے ایک بیٹے قابیل نے (اپنے چھوٹے بھائی ہابیل سے نکاح کے مسئلہ میں اختلاف کیا تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے اختلاف دور کرنے کے لیے یہ صورت تجویز فرمائی کہ تم دونوں اپنی اپنی قربانی اللہ کے لئے پیش کردو جس کی قربانی قبول ہوجائے گی اسی کو مطلوبہ لڑکی مل جائے گی ۔ دونوں نے اپنی اپنی قربانیاں اللہ کو پیش کرنے کے لئے ایک میدان میں رکھ دیں ۔ اس زمانے میں صورت یہ تھی کہ آسمان سے ایک آگ آتی اور اس قربانی کو کھالیتی تھی جسے قبول ہونا تھا چناچہ وہ آگ آئی اور اس نے ہابیل کی قربانی کو کھالیا۔ اس پر قابیل بھڑک اٹھا اور ہابیل کو مارڈالنے کی دھمکی دینے لگا۔ یہاں پر ہابیل نے وہ بات کہی جو تمام اسلامی سچائیوں کا نچوڑ ہے یعنی اللہ اہل تقویٰ کی نذر (عبادت) قبول کرتا ہے ۔ اس کا مطلب تھا کہ اگر تو اپنی تمام امیدوار تمام خوف اللہ اور صرف اللہ سے وابستہ کردیتا تو وہ تیری قربانی ضرور قبول کرلیتا۔ میں چونکہ اہل تقویٰ میں سے ہوں اس لئے میری قربانی قبول ہوگئی ۔ قربانی کے معنی ہیں اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لئے دنیاکا کوئی مفاد ترک کردینا۔ اپنے جواب میں ہابیل نے یہ بھی بتایا کہ تقویٰ کیا ہے ۔ کہا اگر تو مجھے قتل کرنے کی کوشش کرے گا تو میں تجھ پر ہرگز ہاتھ نہ اٹھاؤں گا۔ قتل ایک لعنتی جرم ہے ۔ تو شوق سے کر اور نتیجہ میں جہنمی بن جا۔ اگر میں کروں گا تو میں جہنمی بن جاؤں گا ۔ میں اس کے لئے تیار نہیں ہوں خواہ میری جان ہی چلی جائے ۔ ہاں قتل کے سوا میں ہر طرح اپنی حفاظت کروں گا۔ تیرے ظلم کا بدلہ اللہ دے گا۔ قابیل نے ہابیل کو مار ڈالا۔ یہ پہلا قتل ہے جو روئے زمین پر ہوا۔ جرائم کی تاریخ گواہ ہے کہ مقتول آسانی سے قتل ہوجاتا ہے لیکن وہ اپنی لاش کی صورت میں قاتل سے زبردست انتقام لیتا ہے۔ لاش کا اس طرح ٹھکانے لگا دیتا کہ جرم بالکل چھپ جائے ناممکن ہے۔ خوب بول کر رہتا ہے۔ قابیل نے مارنے کو تو مار ڈالا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ لاش کو کس طرح ٹھکانے لگائے ۔ وہ بھائی کی لاش کو پیٹھ پر لا دے پھرا کرتا تھا گویا اپنے قتل کا اشتہار کر رہا تھا۔ آخر ایک دن اس نے دیکھا کہ دو کو وں میں لڑائی ہوئی اور ایک نے دوسرے کو قتل کر ڈالا۔ پھر لاش چھپانے کیلئے اس نے اپنی چونچ سے مٹی کھودنا شروع کردی۔ اور اس میں اس کو دفن کردیا۔ یہ دیکھ کر قابیل بہت پچھتایا کہ اول تو میں نے بھائی کو قتل کردیا دوسرے یہ کہ میں کوے جتنی عقل بھی نہیں رکھتا کہ زمین کھود کر لاش چھپا دیتا۔ یہ جو دفن کا رواج ہے غالباً اسی واقعہ سے شروع ہوتا ہے۔ اور آج بھی اسلامی طریقہ یہی ہے۔ یہاں پر ہابیل کے قتل کا جو واقعہ قرآن میں آیا ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ بنی اسرائیل کئی مرتبہ آنحضرت ﷺ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنانے کی کوشش کرچکے تھے۔ یہ فہمائش ہے کہ دیکھو قتل کا نتیجہ دنیا میں بھی خسارہ ہے اور آخرت میں بھی خسارہ ہے ۔ فرمایا اہل تقویٰ مقتول ہوجاتے ہیں لیکن قاتل نہیں بنتے۔
Ayahs 5:32–34

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ Open ayah 5:32 in the Quran reader

اسی بنا پر ہم نے بنی اسرائیل پر یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جو شخص کسی کو کسی انسان خون کے بدلے میں یا زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ کے بغیر قتل کر ڈالے گا۔ تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا۔ اور جس نے ایک جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کی جان بچالی۔ اور ہمارے رسول ﷺ اس سلسلہ میں کھلی کھلی ہدایات لے کر آچکے ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ زمین میں ظلم و زیادتی کرنے والے ہی رہے۔

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 5:33 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے لڑتے ہیں اور دنیا میں فساد پھیلانے کی بھاگ دوڑ میں لگے رہتے ہیں ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کئے جائیں یا سولی پر لٹکا دئیے جائیں یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دئیے جائیں یا جلاوطن کر دئیے جائیں۔ یہ سزا ان کے لئے دنیا میں سخت رسوائی اور آخرت میں ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ١ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 5:34 in the Quran reader

مگر ہاں وہ لوگ جو اس سے پہلے کہ تم ان پر قابو پاؤ تو بہ کرلیں (اور اسلامی حکومت کی اطاعت قبول کرلیں) تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت نمبر 32 تا 34 لغات القرآن : من اجل ذلک (اسی وجہ سے) ۔ کتبنا (ہم نے لکھ دیا۔ فرض کردیا) ۔ کانما (گویا کہ وہ۔ جیسا کہ وہ) ۔ مسرفون (حس سے آگے بڑھ جانے والے) ۔ یحاربون (محاربۃ) ۔ وہ لڑتے ہیں۔ لڑائی کرتے ہیں) ۔ یسعون (وہ دوڑتے ہیں۔ وہ کوشش کرتے ہیں) ۔ ان یقتلوا (یہ کہ وہ قتل کئے جائیں) ۔ یصلبوا (سولی دئیے جائیں۔ بھانسی پر چڑھا دئیے جائیں) ۔ تقطع (کاٹ دئیے جائیں) ۔ ینفوا (نکال دئیے گئے ۔ نکال دئیے جائیں) ۔ خزی (رسوائی۔ ذلت۔ شرمندگی) ۔ تابوا (توبہ کرلی) ۔ ان یقدروا (یہ کہ تم قابو پاؤ) ۔ اعلموا (جان لو۔ خبردار رہو) ۔ تشریح : اسلامی قوانین میں قتل کے دو ہی جواز ہیں۔ (1) ایک ہے قاتل کا قتل۔ اس میں یہ شرط ہے کہ قاضی عدالت کے حکم سے مقدمہ چلایا گیا ہو اور وہ اپنی تمام قانونی اور عدالتی منزلوں سے گزر چکا ہو۔ (2) دوسرے ملک میں فتنہ فساد کرنے والے یا بغاوت کرنے والوں کا قتل۔ اگر مجرم ایک شخص ہے یا ایک مختصر جماعت ہے تو اس میں بھی قاضی عدالت کے حکم کی شرط ہے۔ جب کہ مقدمہ اپنے تمام ضروری مراحل سے گزر چکا ہو۔ لیکن اگر فتنہ و فساد کرنے والوں کی ایک بڑی منظم یا غیر منظم جماعت ہے تو ان کے خلاف جہاد کی اجازت ہے بلکہ حکم ہے۔ اس کے علاوہ انسانی قتل بدترین ظلم اور جرم ہے۔ انسانی جان کی حرمت کو بتانے کے لئے اس سے زیادہ بھاری جملہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ ” جس نے بلا جواز ایک جان لی اس نے گویا تمام جانیں لے لیں اور جس نے ایک جان بچائی اس نے تمام جانیں بچالیں “ ۔ اسلام میں جرم کی سزاؤں کی تین قسمیں قرار دی گئی ہیں۔ (1) حدود (2) قصاص اور (3) تعزیرات۔ حدود ان جرائم کی سزائیں ہیں جن میں مجموعی طور پر حقوق العباد پامال کئے گئے ہوں اور وہ پانچ ہیں۔ ڈالہ، چوری، زنا، تہمت زنا، شراب نوشی۔ قصاص ان جرائم کی سزائیں ہیں جن میں مجموعی طور پر حقوق العباد پامال کئے گئے ہوں ان میں قتل، اغوا وغیرہ شامل ہیں۔ قرآن و حدیث نے حدود اور قصاص کا بیان پوری تفصیل و تشریح کے ساتھ کردیا ہے اور سزائیں بھی مقرر کردی ہیں۔ اب رہے وہ جرائم جن کا ذکر قرآن و حدیث میں نہیں ہے اور جن کی سزا بدلتے ہوئے حالات کے تحت حاکم وقت کے صواب دید پر چھوڑا گیا ہے۔ انہیں تعزیرات کہتے ہیں۔ حدود میں سزا کی کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی، تبدیلی یا نرمی کی سفارش بھی حرام ہے۔ قصاص میں وہ جس کا آدمی قتل ہوا ہے یا جس کا مالی نقصان ہوا ہے نرمی دکھا سکتا ہے بلکہ معاف کرسکتا ہے۔ اس کی معافی کے باوجود قاضی عدالت کو سزا کا اختیار ہے مگر کمی بیشی حالات کے تحت ہے۔ مندرجہ بالا آیات کے تحت فقہا کہتے ہیں کہ جس شخص نے قتل کیا اس کو بھی قتل کیا جائے۔ جس شخص نے قتل بھی کیا اور مال بھی لوٹا اس کو سولی پر چڑھا دیا جائے۔ جس نے کوئی قتل نہیں کیا صرف مال لوٹا ہے اس کے ہاتھ پاؤں مخالف جانب سے کاٹ دئیے جائیں اور جس نے ہنگامہ فساد کرکے یا لوگوں کو ڈرا کے امن عامہ میں خلل ڈالا ہے اسے جلاوطن کردیا جائے (یا اس کی شہری آزادی چھین کر قید میں ڈال دیا جائے) ان آیات میں اللہ اور رسول ﷺ سے محاربہ کرنے کے جو الفاظ آئے ہیں۔ تو یہ کون ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں جو جماعت بن کر مسلح ہوکر طاقت کے زور سے حکومت اسلامی میں خون ریز انقلاب لانا چاہتے ہیں یا مسلح ہو کر جماعت بن کر ڈاکہ زنا وغیرہ کرتے ہیں۔ اگر ان میں سے ایک شخص بھی پکڑا جائے تو جماعت کے سارے افراد پر حد شرعی جاری ہوگی کیونکہ وہ شخص جماعت کی طاقت پر اور تعاون سے یہ سب کچھ کر رہا تھا۔ ان آیات میں جو الفاظ آئے ہیں، ” جو لوگ دنیا میں فساد پھیلانے کو بھاگ دوڑ کرتے پھرتے ہیں “ ، تو یہ کون ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں جو اگرچہ جماعت ہوں لیکن مسلح نہ ہوں۔ پہلی قسم باغیوں کی ہے اور ” محاربہ “ کی تعریف میں آتی ہے۔ دوسری قسم ڈاکوؤں ، چوروں ، زانیوں ، شرابیوں وغیرہ کی ہے۔ ان میں بھی کوئی پکڑا جائے گا تو اس کے سارے ساتھیوں کو سزا ہوجائے گی۔ توبہ کی معافی اس دوسری قسم والوں کے لئے ہے بشرطیکہ گرفتاری سے پہلے وہ سچے دل سے توبہ کرلیں اور حکومت بھی مطمئن ہو۔ پہلی قسم والوں کے لئے توبہ کی معافی نہیں ہے۔ یہ تو دنیا کی سزائیں ہیں آخرت کی سزائیں ان کے علاوہ ہیں۔
Ayah 5:35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:35 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کا قرب تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔

آیت نمبر 35 لغات القرآن : ابتغوا (تم تلاش کرو) ۔ الوسیلۃ (وسیلہ ۔ نزدیکی ) وسیلہ جنت کا ایک مقام بھی ہے ) ۔ جاھدوا (تم جہاد کرو۔ کوشش کرو) ۔ تشریح : ایمان والوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اللہ سے ڈرو اس کے بعد جرائم چھوڑ کر وہ طریقے اختیار کرو جن سے اللہ خوش ہو اور اس تک قربت حاصل کرنے کا ذریعہ ڈھونڈوجن میں سب سے بڑا ذریعہ جہاد ہے ۔ جہاد کروگے تو دین ودنیا میں فلاح پاؤ گے ۔” اللہ کا تقویٰ اختیار کرو “ سورة مائدہ کی پچھلی آیات میں مسلسل آرہا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتنا اہم ہے ۔” اس تک پہنچنے کا وسیلہ ڈھونڈو “ ۔ یہاں وسیلہ سین سے ہے صاد سے نہیں ۔ ص سے وصیلہ کے معنی ہیں کوئی چیز بھی جو جوڑتی ہو لیکن ” سین “ سے وسیلہ کے معنی ہیں ہر وہ چیز جو بندہ کور غیب و محبت کے ساتھ اپنے معبود سے قریب کردے ۔ سلف صالحین نے اس آیت میں وسیلہ کی تفسیر اطاعت ، قربت اور ایمان وعمل صالح سے کی ہے ۔ یہ بھی بتادیا ہے کہ سب سے اہم وسیلہ کون سا ہے وہ جہادفی سبیل اللہ ہے ۔ یہی ہے جس سے دین ودنیا کی فلاح وابستہ ہے ۔ فرمایا گیا جو صلاحیتیں تم جرائم میں صرف کررہے ہو جس میں دین ودنیا کے نقصان کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ ان صلا حیتیوں کو جہاد میں لگا دو ۔ جہاد نام ہے نظام اسلام نافذ کرنے کے لئے سر توڑ کوشش کرنا۔ تنظیم ، تدبیر اور تدبر کر ساتھ ایک جماعت حقہ میں شامل ہونا ۔ حضور ہر نور ﷺ نے بھی تنہا جہاد نہیں کیا ہے بلکہ ایک جماعت حقہ کو ساتھ لیا ہے ۔ جہاد کے لئے تنظیم ضروری ہے اور تنظیم کے لئے تبلیغ۔ جہاد وہ واحد عبادت ہے جس میں تمام عبادتیں جمع ہوجاتی ہیں ۔ گویا تمام عبادتوں کے مجموع کا نام جہاد ہے۔ جہاد کے معنی ہیں جدوجہد یعنی سرتوڑ کوشش۔ دامے ، درمے ، قدمے ، سخت ، لیکن ایک تنظیم کے اندر آکر۔ جہاد انفرادی نہیں ہے بلکہ اجتماعی ہے ۔ یہاں پر یہ بھی معنی ہیں کہ جہاد کے بغیر اسلامی ریاست قائم نہیں ہوسکتی ۔ اگر قائم ہے تو قائم رہ نہیں سکتی۔ اور اسلامی ریاست کے بغیر جرائم وسزا کی اسلامی عدالت قائم نہیں ہوسکتی ۔
Ayahs 5:36–37

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:36 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں ان کے پاس وہ سب کچھ جو زمین میں موجود ہے ۔ اور بھر اتناہی اور بھی لاکر فدیہ میں دے دیں اور قیامت کے دن کے عذاب سے اپنے آپ کو چھڑانا چاہیں گے تو ان سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ اب کے لئے تو دردناک عذاب مقرر ہے۔

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 5:37 in the Quran reader

وہ ہر طرح چاہیں گے کہ آگ سے نکل بھاگیں لیکن وہ اس سے نکل کر بھاگ بہ سکیں گے ۔ ان کیلئے تو دائمی عذاب مقرر ہے ۔

آیت نمبر 36 تا 37 لغات القرآن : ماتقبل (قبول نہ کیا جائے گا ) ۔ خادجین (نکلنے والے ) ۔ عذاب مقیم (کھڑا رہنے والا عذاب ۔ ہمیشہ کا عذاب ) ۔ تشریح : جرائم کون کرتا ہے اور توبہ نہیں کرتا۔ جرائم میں کون لگا رہتا ہے ۔ وہی اللہ کا حکم نہیں مانتا۔ وہ کیوں لگا رہتا ہے تاکہ مال پر مال بٹور تار ہے ۔ مگر یہ مال اس کے لئے کتنے دن کا۔ چور کا مال خود بھی چوری ہوسکتا ہے ۔ ڈاکو کا مال پھر بھی کوئی اور ڈاکو لے جاسکتا ہے ۔ راشی کا مال حرام میں اڑاجاتا ہے ۔ اور اگر مال رہ بھی گیا تو موت کے بعد بےکار۔ اگر کسی نافرمان نے اتنا مال بھی جمع کرلیا کہ تمام دنیا سمٹ کر اس کی جیب میں آگئی ۔ اور پھر اسی قدر مال اور بھی جمع کرلیا اور یہ مال در مال موت کے اس پار پہنچ سکا تو قیامت کے دن اپنے مالک کے عذاب سے اسے کوئی چھڑانہ سکے گا۔ وہ شخص تڑپ تڑپ کر پریشان ہوگا۔ کہ کسی طرح یہ مال انبار درانبار دے کر اپنی جان چھڑالے مگر نہ کرسکے گا ۔ آگ اس کے چاروں طرف لپٹی ہوئی ہوگی ۔ بھاگنے کا کوئی چور دروازہ نہ ہوگا۔ اور یہ عذاب اسے مستقل اور ہمیشہ ہمیشہ دیاجائے گا ۔ آگے جرائم اور سزا کی چند تفصیلات آرہی ہیں ملا حظہ فرمایئے ۔
Ayahs 5:38–40

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 5:38 in the Quran reader

مرد چوری کرے یا عورت۔ دونوں کے ہاتھ (گٹے پر سے ) کاٹ ڈالو۔ یہ ان کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کمائی کی سزا ہے ۔ یہ اللہ کی طرف سے نشان عبرت ہے ۔ وہ اللہ بڑی قوت والا اور بڑی حکمت والا ہے ۔

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:39 in the Quran reader

پھر جس بےقصور کرکے توبہ کرلی اور اصلاح حال کرلی تو بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا، بیحد مغفرت کرنے والا اور رحمت کرنے والا ہے ۔

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

کیا تمہیں نہیں معلوم کہ آسمانوں اور زمین کا مالک صرف اللہ ہے ؟ جس کو چاہے سزادے اور جس کو چاہے معاف کردے۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔

آیت نمبر 38 تا 40 لغات القرآن : السارق (چوری کرنے والا مرد) ۔ السارقۃ (چوری کرنے والی عورت) ۔ اقطعوا (کاٹ ڈالو) ۔ کسبا (انہونے کمایا) ۔ نکالا (سزا۔ عبرت ) ۔ اصلح (اصلاح کرلی ) ۔ تشریح : مرد اور عورت دونوں کا نام وضاحت سے لے کر حکم دیا کہ چور کوئی بھی ہو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالو۔ تمام فقہا متفق ہیں کہ ہاتھ گٹے پر سے کٹے اور گا اور پہلی چوری میں داہنا ہاتھ کٹے گا ۔ چور اگر چہ انسان کا مال چراتا ہے لیکن اللہ نے اسے اپنے حقوق کی پا مالی میں شمار کیا ہے ۔ اور حد قائم کردی ہے ۔ یوں سمجھ لیاجائے کہ بندہ اللہ کا ہے ۔ چناچہ بندۃ کا مال بھی اللہ کا مال ہے ۔ اگر بندہ کا مال چوری ہوگیا تو وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کیسے ادا کرسکے گا۔ جرم میں ذار بھی شک وشبہ پیدا ہوجائے تو حد شرعی نافذ نہیں ہوسکے گی ۔ مگر قاضی کو اختیار ہے کہ اس سے کم تر جو سزامناسب سمجھے چورمردیا چور عورت کودے دے ۔ دنیا کی سزا اگر ہونی ہے تو بہر حال ہوگی۔ ہاں توبہ سے آخرت کی سزا معاف ہوسکتی ہے ۔ ڈاکو اور قزاق کی سزا میں یہ استثنا ہے کہ اگر گرفتاری سے پہلے وہ اپنے آپ کو فرد کی صورت میں یا جماعت کی صورت میں حکومت کے حوالے کردے اور آئندہ جرائم سے توبہ کرلے اور حکومت کو اس توبہ پر یقین آجائے تو اسے دنیا میں بھی معافی مل سکتی ہے ۔ شرط یہ ہے کہ اس نے قتل یا زنانہ کیا ہو۔ یہ اللہ کی مصلحت ہے کہ بڑے بڑے مجرموں کے لئے بھی توبہ اور اصلاح کا دروازہ کھلا چھوڑا ہے ۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ بڑے بڑے مجرموں نے اس سے فائدہ اٹھا کر اپنی اصلاح کی ہے ۔ اور یہ بھی اللہ کی مصلحت ہے کہ اس نے مادی معاملات کا رخ بھی روحانیت اور آخرت کی طرف موڑ دیا ہے جیسا کہ آیت نمبر 40 سے ظاہر ہے ۔
Ayahs 5:41–43

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

(اے رسول ﷺ وہ لوگ جو کفر میں بھاگ دوڑ کررہے ہیں ان کی یہ جدوجہد آپ کو رنجیدہ نہ کردے کیونکہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو منہ سے تو کہتے ہیں کہ ” ہم ایمان لے آئے “ حالانکہ انہوں نے دل سے ایمان قبول نہیں کیا۔ اسی طرح وہ لوگ بھی ہیں جو یہودی بن گئے ہیں ۔ یہ جھو ٹ کے لئے کان لگا کر سنتے ہیں (جاسوسی کرتے ہیں) ۔ اور وہ لوگ جو آپ کے پاس نہیں آئے یہ ان کے لئے بھی جاسوسی کرتے ہیں ۔ بات کو اس کی جگہ سے بدل د یتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں اگر تمہیں حکم ملے (جو تمہاری خواہش کے مطابق ہے تو ) قبل کرلینا اور اگر یہ حکم نہ ملے تو بچتے رہنا۔ (سچی بات یہ ہے کہ ) جسے اللہ ہی گمر اہی میں ڈال دے تو اس کے لئے کسی کا اللہ پر کوئی زور نہیں چل سکتا ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو پاک کرنا اللہ کو منظور نہیں ۔ ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے ۔

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

وہ جھوٹ بولنے کے لئے جاسوسی کرتے ہیں اور حرام رزق کھانے والے ہیں ۔ پھر بھی اگر وہ آپ کے پاس فیصلہ کرانے ائیں تو آپ (کو اختیار ہے کہ) ان کے درمیان فیصلہ کر دیجئے یا ان کو نظر انداز کر دیجئے (ٹال دیجئے ) ۔ اگر آپ ان سے منہ پھیر تے ہیں تو وہ آپ کا کچھ بگار نہ سکیں گے ۔ اور اگر آپ فیصلہ کریں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔ بلا شبہ کرتا ہے جو انصاف کرنے والے ہیں۔

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور یہ آپ کو کس طرح فیصلہ کرنے والا بناتے ہیں جب کہ ان کے پاس تو ریت موجود ہے جس میں اللہ کا حکم موجود ہے جس سے وہ منہ موڑ موڑ کر چلتے ہیں ۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو یقین نہیں رکھتے ہیں۔

آیت نمبر 41 تا 43 لغات القرآن : لایحزن (وہ رنجیدہ نہ کریں۔ غمگین نہ ہوں) ۔ یسارعون (مسارعۃ) ۔ وہ دوڑتے ہیں۔ افواہ (فوہ) منہ۔ لم تؤمن (ایمان نہیں لائے) ۔ ھادوا (جو یہودی بن گئے) ۔ سمعون (بہت زیادہ سننے والے۔ جاسوسی کرنے والے) لم یا توک (وہ تجھ تک نہیں پہنچے) ۔ اوتیتم (تم دئیے گئے) ۔ خذوا (پکڑلو۔ لے لو) ۔ لم تؤتوا (تمہیں نہ دئیے گئے) ۔ احذروا (بچتے رہو) ۔ لن تملک (تو ہرگز مالک نہ ہوگا۔ تیرے بس میں نہ ہوگا) ۔ ان یطھر (یہ کہ وہ پاک کئے جائیں) ۔ اکلون (بہت کھانے والے) ۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول حضرت محمد ﷺ کو اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان منافقین اور کفار کا ملک کے کونے کونے میں دنیا کمانے، سیدھے سادھے نیک دل انسانوں کو سچے راستے سے بھٹکانے کیلئے طرح طرح کی افواہیں پھیلانے اور ان کی یہ بھاگ دوڑ کہیں آپ کو اس غلط فہمی میں نہ ڈال دے کہ ان کفار کو دنیا کی بڑی ترقی مل رہی ہے۔ وہ خوب پھل پھول رہے ہیں لہٰذا دین اسلام ، اس کے سچے اصول اور نبی کریم ﷺ کی ذات دب کر رہ جائے گی۔ ایسا نہیں ہوگا۔ کیونکہ کفار وہ ہیں کہ ان کے دل ایمان کے جذبوں سے خالی ہیں۔ ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترا ہے۔ اس لئے ان کفار کے مقابلے میں اہل ایمان ہی سر بلند رہیں گے۔ کفار کی یہ بھاگ دوڑ ان کے کسی کام نہ آسکے گی۔ (1) یہ وہ لوگ ہیں جو زبان سے تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ایمان کی سچائیوں سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ ان کی ساری بھاگ دوڑ دنیا کمانے کی لگن کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ (2) یہ جھوٹ اور باطل کو پھیلانے کیلئے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی مجلسوں میں شرکت کرکے ایک ایک بات کو بڑے غور سے سنتے ہیں جس کا مقصد کوئی خیر اور بھلائی نہیں ہوتی۔ بلکہ اسلام کے دشمنوں کو خوش کرنا اور ان کی ہمدردیاں حاصل کرنا ہے۔ (3) ان کا کام یہ ہے کہ ایک سیدھی سچی بات کو بھی ایسا رنگ دے دیتے ہیں کہ بات ہی بدل کر رہ جاتی ہے۔ جو بات اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے نہیں فرمائی اس کو خود سے گھڑ کر اللہ اور اس کے رسول کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔ (4) وہ اپنے ماننے والوں اور ساتھیوں کو یہ سمجھاتے ہیں کہ اگر یہ نبی ﷺ اور ان کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ تمہیں وہ باتیں بتائیں جو تمہارے عقیدے، ذہن و فکر اور مفاد کے خلاف ہوں تو ان کو ہرگز تسلیم نہ کرنا بلکہ ان کا صاف انکار کردینا اور ان سے بچتے رہنا ہاں اپنے مفاد کی کوئی بات ہو اس کو لے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ گمراہ ہیں ان کے قلوب کبھی بھی پاک و صاف نہ ہوں گے۔ لہٰذا اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ ان کے دلوں کو پاک و صاف کر دے وہ تو بےنیاز ذات ہے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کا انجام یہ ہے کہ ان کو دنیا میں بھی رسوائی اور ذلت نصیب ہوگی اور آخرت میں تو ایک بہت بڑا عذاب ان کا منتظر ہے۔ (5) فرمایا کہ یہ لوگ جھوٹ کے حمایتی ہیں اور ” رزق حرام “ ان کا مزاج بن چکا ہے۔ اور جب کسی شخص یا قوم کا مزاج بگڑ جاتا ہے اور ” رزق حلال “ ان کو پسند نہیں آتا تو ایسی قوم اللہ کی رحمتوں سے دور ہوجاتی ہے اور ان کے دلوں میں پاکیزگی کا ہر تصور دھندلا کر رہ جاتا ہے۔ (6) اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ سے فرمایا کہ کفار کا مزاج اور کردار اپنی جگہ ہے لیکن اگر وہ لوگ آپ کے پاس عدل و انصاف کیلئے آئیں تو آپ اپنا اعلیٰ کردار اور نمونہ زندگی پیش کرتے ہوئے ان کے درمیان عدل و انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا فرما دیجئے۔ کیونکہ اللہ کو ایسے ہی لوگ پسند ہیں جو عدل و انصاف کرنے کو اپنی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ (7) اللہ نے فرمایا کہ ہم نے ان کو توریت جیسی ایک عظیم کتاب عطا کی تھی۔ اگر یہ چاہتے تو آپ سے انصاف طلب کرنے کے بجائے اپنی کتاب ہی سے روشنی حاصل کرلیتے۔ لیکن عالم یہ ہے کہ ان کا اپنی کتاب پر یقین ہی کہاں ہے۔ اگر ان کو اپنی کتاب پر یقین ہوتا تو اس طرح یہ اس کتاب سے منہ نہ پھیرتے ؟
Ayahs 5:44–47

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

بیشک ہم نے توریت نازل کی تھی جس میں ہدایت اور نور ہے۔ اسی کے ذریعہ انبیاء کرام (علیہ السلام) جو اللہ کے فرماں بردار ہیں اہل یہود کے درمیان فیصلے کیا کرتے تھے۔ اسی طرح وہ اللہ والے اور اہل علم جو اللہ کی اس کتاب کے محافظ گواہ بنائے گئے تھے۔ (اس کتاب کے مطابق فیصلہ کیا کرتے تھے) تم بھی لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ہی ڈرو اور میری آیتوں کو گھٹیا قیمت پر فروخت نہ کرو۔ وہ لوگ جو اللہ کے نازل کئے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں۔

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

ہم نے اس توریت میں یہ فرض کردیا تھا کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں برابری کا حکم ہے۔ پھر جو شخص اس کو معاف کر دے تو وہ اس کے لئے (اس کے گناہوں کا) کفارہ ہے۔ اور جو شخص اللہ کے نازل کئے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے وہ ظالموں میں سے ہے۔

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے بعد عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو اس کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا جو توریت ان کے سامنے تھی۔ پھر ہم نے ان کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور ہے۔ (اور وہ کتاب بھی) اس کی تصدیق کرنے والی تھی جو اس کے سامنے توریت موجود تھی جو ہدایت اور اہل تقویٰ کے لئے نصیحت تھی۔

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور انجیل والوں کو (اپنے معاملے کا) فیصلہ اس کے مطابق کرنا چاہئے تھا جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے جو لوگ اللہ کی طرف سے اتارے ہوئے (قانون) کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے یہی وہ لوگ ہیں جس اللہ کے نافرمان ہیں۔

آیت نمبر 44 تا 47 لغات القرآن : لاتشتروا (تم نہ بیچو۔ فروخت نہ کرو) ۔ لم یحکم (فیصلہ نہ کیا) ۔ العین (آنکھ) ۔ الانف (ناک) ۔ الاذن (کان) ۔ السن (دانت) ۔ الجروح (جرح) ۔ زخم۔ قصاص (برابری) ۔ تصدق (تصدیق) ۔ صدقہ کر دے قصور معاف کر دے) ۔ کفارۃ (کفارہ۔ اتارنا) ۔ قفینا (ہم نے ایک کے بعد دوسرے کو بھیجا) ۔ اثار (اثر) ۔ نشان۔ قدم) ۔ مصدق (تصدق کرنے والا۔ سچا بتانے والا) ۔ بین یدی (دونوں ہاتھوں کے درمیان۔ سامنے) ۔ موعظۃ (نصیحت) ۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے بنی اسرائیل یعنی یہودیوں سے اور پھر نصاری یعنی عیسائیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو توریت جیسی عظیم کتاب عطا کی تھی جو ہدایت اور روشنی تھی۔ یہ وہ کتاب ہے جس کے مطابق اللہ کے مطیع و فرماں بردار انبیاء کرام اور یہودی علماء اور درویش فیصلے کیا کرتے تھے لیکن بعد میں اسی توریت کے احکامات کو اس طرح توڑ مروڑ کر رکھ دیا گیا کہ اصل تعلیم ہی گم ہو کر رہ گئی تھی یا تو وہ لوگ اللہ کے حکم کو بدل ڈالتے تھے یا چھپاتے تھے۔ بعد کے لوگوں نے توریت کے احکامات کو کھیل اور دنیا کمانے اور لوگوں پر دھونس جمائے رکھنے کا ذریعہ بنا لیا تھا۔ (1) مثلاً توریت میں حکم موجود ہے کہ اگر کوئی شخص زنا جیسے جرم میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کو ” رجم “ کردیا جائے یعنی پتھر مار مار کر ہلاک کردیا جائے مگر انہوں نے اصل احکامات کو چھپا کر خود ہی یہ سزا تجویز کردی تھی کہ جو شخص بھی زنا کا مرتکب پایا جائے اس کا چہرہ کالا کرکے اس کو شہر بھر میں گھمایا جائے اور کوڑے مارے جائیں۔ (2) توریت میں حکم دیا گیا تھا کہ قصاص لینے میں عدل و انصاف سے کام لیا جائے۔ قصاص کے معنی برابری کرنے کے آتے ہیں یعنی اگر کسی شخص نے کسی دوسرے کی جان لے لی ہو تو اس کو قتل کردیا ہو تو مقتول کے بدلے میں قاتل کو قتل کیا جائے۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے دوسرے شخص کے کسی عضو کو نقصان پہنچایا ہے تو اس کے بدلے میں اتنا ہی لیا جائے اگر اس نے کسی کو زخمی کیا ہے تو اس کے ساتھ عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرکے برابر ی کی جائے ۔ لیکن مفاد پرست علماء یہود نے اس قانون کو مال داروں اور طاقت وروں کی جاگیر بنا دیا تھا۔ مثلاً اگر کسی مال دار با اثر شخص نے کسی غریب کو مار ڈالا یا اس کو کوئی نقصان پہنچا دیا تو قانون اس کے سامنے بےبس ہو کر رہ جاتا تھا۔ من گھڑت طریقوں سے وہ چھوٹ جاتا تھا لیکن اس کے برخلاف اگر کسی غریب، کمزور اور مفلس آدمی نے کسی مال دار یا با اثر شخص کو قتل کردیا تو اس کے بدلے میں اس شخص کے خاندان یا برادری کے دو چار آدمیوں کو ذبح کردیا جاتا تھا۔ اس قوم کا مزاج اتنا بدل چکا تھا کہ افراد سے آگے بڑھ کر یہ ظلم و ستم جماعتوں اور قبیلوں تک میں پھیل چکا تھا۔ مدینہ منورہ میں یہودیوں کے دو بڑے قبیلے تھے بنو نضیر اور بنو قریضہ۔ بنو نضیر بہت طاقتور قبیلہ تھا اور بنو قریظہ کمزور تھے دونوں ایک ہی کتاب کے ماننے والے ہم مذہب تھے لیکن بنو نضیر اپنی طاقت وقوت کے گھمنڈ میں ہر طرح ظلم کیا کرتے تھے۔ جب کسی حق کے دینے کا وقت آتا تو بہت کم دیتے اور جب لینے کا وقت آتا تو اپنے حق سے بھی زیادہ لے لیا کرتے تھے غرضیکہ عدل و انصاف تو دور کی بات ہے بنو نضیر کسی کو اس کا حق دینا بھی اپنی توہین سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے ساتھ ساتھ نصاریٰ یعنی عیسائیوں کا بھی ذکر فرما یا ہے کہ صرف یہودیوں نے ہی نہیں بلکہ نصاریٰ نے بھی عقیدہ کی گندگیوں اور بد عملیوں کی انتہا کردی تھئ نصاریٰ کو اللہ نے ابجیل جسی عظیم کتاب عطا فرمائی جس نے توریت کی تردید نہیں بلکہ توریت کو سچا بتایا اور اس کی تصدیق کی جو سراسر ہدایت اور لوگوں کے لئے موعظت و نصیحت کی کتاب تھی لیکن انہوں نے بھی اپنی کتاب کو چھوڑ کر اور نظر انداز کرکے من مانے طریقے اختیار کئے جس کے نتیجے میں وہ مومن بننے کے بجائے کافر، ظالم اور فاسق بن کر رہ گئے کیونکہ جو قوم اللہ کے احکامات کو نظر انداز کرکے دنیا کے چند ٹکروں کی خاطر من مانے طریقے اختیار کرلیتی ہے وہ ظالم بھی ہے کافر بھی ہے اور فاسق بھی ان آیات میں یہودیوں اور عیسائیوں کی تحریف و تبدیلی اور عقیدہ کی گندگیوں کا ذکر فرمایا گیا ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو اس میں اہل ایمان مسلمانوں کو بھی تنبیہ کی جا رہی ہے کہ اے مسلمانو ! تم یہودیوں اور عیسائیوں کے طریقوں پر مت چلنا۔ اگر تم نے بھی وہی غلطیاں کیں تو جس طرح ان قوموں پر اللہ کا عذاب آیا تم بھی اللہ کی گرفت سے بچ نہ سکو گے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے ہمیں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا ہے جن کے صدقے میں ہم ہزاروں عذابوں سے محفوظ ہیں اور اس امت پر اس طرح کے عذاب نہ آئیں گے جیسے پہلی امتوں پر آئے تھے لیکن اللہ کے احکامات کی نافرمانی ہیں اللہ کا قہر کسی بھی شکل میں آسکتا ہے۔ سیلاب، زلزلے ، آفات ، طرح طرح کی بیماریاں ۔ آپس کی دشمنیاں وغیرہ یہ بھی تو اللہ کی رحمت سے دور ہونے کی وجہ سے واقع ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کریم پر عمل کرنے اور سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توقیق عطا فرمائے۔ اور اللہ ہمیں عقیدہ کی ہر گندگی سے دور فرمائے۔ (آمین ثم آمین)
Ayahs 5:48–50

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے جو سراسر حق ہے۔ اور پچھلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ اور ان کی محافظ و نگہبان بھی ہے۔ اس لئے آپ لوگوں کے درمیان فیصلہ ان قوانین کے مطابق کیجئے جو اللہ نے نازل کئے ہیں۔ اور لوگوں کی نفسانی خواہشات پر حق کا سیدھا راستہ چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجئے جب کہ آپ کے پاس حق آچکا ہے۔ ہم نے ہر ایک امت کو ایک شریعت اور ایک راہ عمل بخشا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ لیکن اس نے جو کچھ نازل کیا ہے اس میں تمہیں آزمانا چاہتا ہے۔ لہٰذا تم نیکیوں کی طرف دوڑو۔ ایک دن تم سب کو اللہ ہی کے پاس پہنچنا ہے۔ پھر وہ بتا دے گا کہ تم کن باتوں میں مختلف راہوں پر چلتے تھے۔

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

اور اے نبی ﷺ ! آپ لوگوں کے درمیان فیصلہ اللہ کے نازل کئے ہوئے قوانین کے مطابق کیجئے اور لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلئے۔ اور ان سے ہوشیار رہیئے کہیں وہ آپ کو اللہ کے نازل کردہ کسی حکم کے متعلق کسی آزمائش میں نہ ڈال دیں۔ پھر اگر وہ اس سے منہ پھیر لیں تو جان لو کہ اللہ کی مصلحت یہی ہے کہ وہ ان میں سے ایک طبقہ کو گناہوں کی سزا دینا چاہتا ہے۔ اور حقیقت تو یہی ہے کہ اکثر و بیشتر لوگ فسق و فجور کے پیچھے لگے رہتے ہیں

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

پھر کیا یہ لوگ دور جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں۔ اللہ پر یقین کامل رکھنے والوں کے نزدیک اللہ سے زیادہ بہتر حکم دینے والا کون ہے ؟

آیت نمبر 48 تا 50 لغات القرآن : مھیمنا (نگراں۔ خلاصہ۔ اپنے اندر سمولینے والی چیز) ۔ لا تتبع (تو پیچھے نہ چل۔ اتباع نہ کر) ۔ اھواء (ھواء) ۔ خواہشیں) ۔ عما (اس سے۔ جب کہ) ۔ جعلنا (ہم نے بنایا) ۔ شرعۃ (قانون۔ راستہ۔ دین کا مقرر کیا ہوا قانون) منھاج (الگ۔ راستہ۔ طریقہ۔ مذہب) ۔ امۃ (جماعت۔ گروہ) ۔ لیبلوکم (تاکہ وہ تمہیں آزمائے۔ تاکہ تمہارا امتحان لے۔ اتاکم (جو اس نے تمہیں دیا ہے) ۔ استبقوا (تم آگے بڑھ جاؤ۔ دوڑ کرلے لو) ۔ الخیرات (الخیر) ۔ نیکیاں۔ بھلائیاں) مرجع (لوٹنا) ۔ احذرھم (تو ان سے احتیاط کر) ۔ ان یفتنوک (یہ کہ وہ تجھے کسی آزمائش میں ڈالیں) ۔ ان یصیبھم (یہ کہ وہ ان کو پہنچائے) ۔ الجاھلیۃ (نادانی۔ جہالت۔ دور جہالت) ۔ یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں) ۔ احسن (زیادہ بہتر) ۔ یوقنون (یقین رکھتے ہیں۔ وہ یقین کرتے ہیں) ۔ تشریح : اسلامی قوانین کے متعلق فرمایا جا رہا تھا۔ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے تاکید در تاکید کہا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ کے قوانین کے مقابلے میں اپنے قوانین بنا لیں اور وہ لوگ جو غیر اللہ کے قوانین کے چلانے میں آلہ کار بن جائیں وہ کافر ہیں، ظالم ہیں اور فاسق ہیں۔ ان کا یہ فعل تین معنی رکھتا ہے۔ ان کا ایمان اللہ پر اور اس کے بنائے ہوئے قوانین پر نہیں ہے۔ وہ (نعوذ باللہ) (1) اللہ کے قوانین کو ناقص سمجھتے ہیں اور انسان کے بنائے ہوئے قوانین کو بہتر۔ (2) دوسرے وہ سچا بےلاگ انصاف نہیں چاہتے انہیں دنیاوی مفادات زیادہ عزیز ہیں خواہ سیاسی، قومی، جماعتی یا ذاتی ہوں (3) وہ جرائم کو روکنا نہیں چاہتے بلکہ جرائم کے دروازے کھلے رکھنا چاہتے ہیں۔ جہاں کہیں غیر اسلامی قوانین نافذ ہیں خواہ برصغیر پاک و ہند میں، خواہ مغرب میں ، خواہ مشرق میں وہاں جرائم پھیل رہے ہیں یا حکومت کسی خاص قوم ، رنگ، زبان یا جماعت کی طرف داری کرکے ظلم کر رہی ہے۔ امیر لوگ رشوت دے کر انصاف خرید رہے ہیں۔ غریب لوگ کردہ اور ناکردہ گناہوں کی سزاؤں میں ہر طرح پس رہے ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا ہے کہ تمام فیصلے قرآن کے مطابق کیجئے۔ جو احکام اور تعلیمات توریت اور انجیل میں دی گئی تھیں ان میں جو مستقل اقدار تھے، جو اصل الاصول تھے وہ سب قرآن میں محفوظ کرلئے گئے ہیں۔ اب قرآن کا فیصلہ توریت اور انجیل کا بھی فیصلہ ہے۔ کیونکہ قرآن توریت اور انجیل کی تصدیق کر رہا ہے۔ جتنی آسمانی کتابیں نازل ہوئی ہیں، ان سب کا ایک ہی مصنف ہے، ان میں ایک ہی تعلیم ہے، ایک ہی میزان و پیمان ہے۔ فرق اگر ہے تو عبارات کا اور چند تفصیلات کا۔ ہر کتاب اپنے اپنے دور اور اپنی اپنی قوم کیلئے آئی۔ لیکن قرآن مجید نہ صرف جامع ہے بلکہ اللہ کی آخری کتاب ہے۔ قرآن میں تمام ضروری باتیں سمیٹ لی گئی ہیں اور یہ قیامت تک تمام زمان و مکاں کے لئے یکساں نافذ العمل ہے۔ اس لئے فرمایا گیا کہ اے نبی ﷺ ! حق کا راستہ چھوڑ کر لوگوں کی نفسانی خواہشات کے پیچھے انصاف حقیقی کو مجروح نہ کیجئے۔ شاید کچھ لوگ یہ سوال اٹھائیں کہ جب تمام پیغمبروں اور تمام کتابوں کا دین ایک ہے، ہر اگلی کتاب نے ہر پچھلی کتاب کی تصدیق کی ہے تو عبادت کی صورتوں میں ، حرام و حلام کی قیود میں اور تمدنی و معاشرتی معاملات میں یہ فرق کیوں ہے ؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ ہر زمان و مکان کے تقاضے الگ الگ تھے۔ دوسرا جواب ان آیات میں یہ دیا گیا ہے کہ مختلف زمانوں میں مختلف کتابوں کا مقصد یہ آزمانا ہے کہ کون اپنے فائدے کے لئے روایتی جامد اصولوں کو پکڑے ہوئے ہے اور کون تمام انسانوں کے درمیان انصاف کی خاطر جدید احکام کو مانتا ہے۔ فرمایا اگر اللہ چاہتا تو مختلف زمانے نہ آتے، مختلف تقاضے نہ آتے، مختلف کتابیں اور شریعتیں نہ آتیں، مختلف امتیں نہ ہوتیں۔ یہ تبدیلیاں اس نے اپنی مصلحت سے کی ہیں۔ یہ مصلحت ہی آزمائش ہے۔ یہ خطاب اہل کتاب کی طرف ہے جنہوں نے اصلی توریت اور اصلی انجیل میں تبدیلی کرکے توریت اور انجیل کے نام پر اپنی کتابیں گھڑ لی تھیں۔ اور اڑے ہوئے تھے کہ ان کی تحریف کردہ کتابوں کے مطابق فیصلے صادر کئے جائیں ۔ انہیں انصاف سے اور اطاعت الٰہی سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ بنو نضیر اپنے دنیاوی مفاد کے پیچھے دوڑ رہے تھے اور چاہتے تھے کہ قتل وزنا کے مقدمات کا فیصلہ ان کی مرضی کے مطابق ہو۔ ان سے کہا گیا کہ بھلائیوں کی طرف لپکو کیونکہ آج یا کل مرنا برحق ہے اور پھر اللہ تعالیٰ تم سے وہاں حساب و کتاب لے گا۔ جو شخص اللہ کے بنائے ہوئے قوانین پر چلنا نہیں چاہتا وہ کافر ہے، ظالم ہے ، فاسق ہے۔ اور نبی مکرم ﷺ کو بھی نصیحت کی گئی ہے اور آپ ﷺ کے واسطے سے پوری امت کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ قوانین کے مطابق فیصلے کئے جائیں۔ کہیں یہ لوگ جو مقدمات لے کر آئے ہیں آپ کو فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ اگر یہ لوگ پھر بھی اپنی ضد پر اڑے رہیں تو سمجھ لیجئے کہ یہ فسق و فجور کے پیچھے لگے ہیں۔ اللہ ان سے اپنے وقت پر نبٹ لے گا۔
Ayah 5:51

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:51 in the Quran reader

اے ایمان والو ! یہودیوں اور نصاریٰ (عیسائیوں) کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ تم میں سے جو شخص انہیں دوست بنائے گا اس کا شمار ان ہی میں ہوگا۔ بیشک اللہ ظالموں کی قوم کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

آیت نمبر 51 لغات القرآن : لاتتخذوا (تم نہ بناؤ) ۔ اولیآء (ولی) ۔ دوست۔ مددگار۔ دل کا بھیدی) ۔ من یتولھم (جواب سے دوستی کرے گا) ۔ تشریح : یہ ان دونوں کا ذکر ہے جب اسلام کے دشمن ابھی تک بڑی طاقتوں کے مالک تھے اور بہت سے منافقین دونوں طرف ساز باز رکھتے تھے کہ دیکھیں فتح و شکست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ بہت سے یہودی اور عیسائی ان منافقوں کو جاسوسی کیلئے استعمال کرتے تھے بلکہ اپنے ” دوستوں “ سے ملنے کے بہانے بلا جھجک اسلامی کیمپ میں آجایا کرتے تھے تاکہ راز لے اڑیں۔ اس حکم کے آجانے سے اول تو مومنین اور منافقین کے درمیان فرق معلوم ہوگیا کہ کو ن مومن ہے اور کون منافق۔ دوسرے اسلامی کیمپ کے اندر یہودیوں اور نصرانیوں کا داخل مشکل ہوگیا۔ رازوں کی حفاظت کڑی کردی گئی۔ اسلام کا دوست (مومن) اسلام کے دشمن سے حقیقی اور قلبی دوستی رکھ ہی نہیں سکتا۔ دونوں کے مقاصد زندگی الگ الگ دونوں کا طریقہ الگ الگ۔ دونوں کی اقدار اور پیمانے الگ الگ۔ اگر قتال کا وقت آجائے تو دونوں ایک دوسرے پر تلوار اٹھا لیں گے۔ پھر دوستی کسی بات کی۔ حقیقی دوستی اور ظاہری رسمی صاحب سلامت میں فرق ہے۔ صاحب سلامت اور ظاہری ملنے جلنے پر پابندی نہیں ہے بلکہ معاشی اور معاشرتی لحاظ سے ضروری ہے۔ دشمن اسلام سے ملنے جلنے کی اجازت صرف تین وجہ سے ہے۔ (1) تجارتی اور معاشی۔ غیر مسلم کی نوکری حلال کام میں جائز ہے۔ (2) تبلیغی ۔ یعنی مقصد اسلام کی تبلیغ ہو۔ (3) معاشرتی۔ ایک ہی بشتی یا ایک ہی شہر کا رہنا سہنا ہو۔ بہت سے رہائشی اور دیگر مسائل مشترک ہوتے ہیں، مثلاً پانی، صفائی، بجلی ، ٹرانسپورٹ وغیرہ۔ پابندی صاحب سلامت میں نہیں ہے بلکہ سچی اور قلبی دوستی میں ہے۔ چونکہ یہودیوں اور عیسائیوں کا کیمپ مسلمانوں کے کیمپ سے برسرپیکار ہے، اس لئے ان کا اشتراک قلب اور اشتراک عمل نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگر وہ دوست کے روپ میں آتے ہیں تو ان کا مقصد منافقوں کو استعمال کرنا ہے ۔ اسلام ہمیں دوسری قوموں سے رواداری کی تعلیم دیتا ہے لیکن اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ان سے ایسا قلبی تعلق قائم کرلیا جائے کہ مسلمانوں کے اندرونی راز بھی ان کے سامنے کھول کر رکھ دینے میں کوئی شرم محسوس نہ ہو۔
Ayah 5:52

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ Open ayah 5:52 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ملاحظہ کرتے ہوں گے کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے، وہ مخالفین ہی کے درمیان آنا جانا لگائے ہوئے ہیں۔ وہ تو صاف کہتے ہیں ہمیں ڈر لگتا ہے کہیں مصیبت کا دائرہ ہم پر تنگ نہ ہوجائے۔ مگر جب اللہ تمہیں (جنگ میں) واضح کامیابی بخشنے گا یا اپنی طرف سے کوئی اور خاص بات دکھائے گا۔ تب یہ لوگ اس نفاق پر جو اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں بہت شرمندہ ہوں گے۔

آیت نمبر 52 لغات القرآن : نخشی (ہم ڈرتے ہیں۔ خوف رکھتے ہیں) ۔ ان تصیبنا (یہ کہ ہمیں پہنچے) ۔ دآئرۃ (دور) ۔ مصیبت۔ گھومنا۔ چکر لگانا۔ عسی اللہ (قریب ہے اللہ) ۔ یصبحوا (وہ ہوجائیں) ۔ اسروا (انہوں نے چھپایا) ۔ ندمین (پچھتانے والے۔ شرمندہ) تشریح : جس وقت وہ آیت اتری جس میں مسلمانوں کو کفار سے حقیقی دوستی کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے، اس وقت مخلص مومنین مثلاً حضرت عبادہ ؓ بن ثابت نے اپنے کافر دوستوں کو نوٹس دے دیا اور قلبی تعلقات توڑ لئے۔ اس کے برخلاف منافق اعظم عبد اللہ بن ابی بن سلول نے علی الاعلان کہا کہ قطع تعلق میں مجھے خطرہ ہے۔ میں کفار سے اپنے تعلقات خراب نہیں کرسکتا۔ اسی پر یہ آیت نمبر 52 نازل ہوئی۔ پچھلی آیت سے مخلصین اور منافقین کھل کر سامنے آگئے۔ منافقین نے تو صاف صاف کہا تھا کہ مخالف کیمپ سے قلبی دوستی لگائے رکھو۔ شاید وہی کامیاب ہوجائیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ کامیابی مسلمانوں ہی کے حصہ میں آئے گی۔ اور جب دشمن مغلوب ہوجائیں گے اس وقت ان منافقوں کی امیدوں پر پانی پھرجائے گا۔ دو دانتوں میں انگلی کاٹ کاٹ کر کہیں گے افسوس کیا سوچا تھا اور کیا ہوگیا۔ ان کے چہرے ذلیل و خوار ہوں گے۔ اور ان کا سارا بنا بنایا کھیل بگڑ جائے گا۔
Ayah 5:53

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:53 in the Quran reader

اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے۔ ارے۔ یہ تو وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام پر بڑی بڑی قسمیں کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کے سارے اعمال اکارت چلے جائیں گے اور وہ ناکام و نامراد ہو کر رہ جائیں گے۔

آیت نمبر 53 لغات القرآن : اھؤلاء (کیا یہی لوگ ہیں) ۔ اقسموا (انہوں نے قسم کھائی) ۔ جھد (طاقت۔ انتہا درجہ کی کوشش) ۔ ایمان (قسمیں) ۔ اصبحوا (وہ ہوگئے) ۔ تشریح : قیامت کے دن جب کامیابی مسلمانوں کی ہوگی اور منافقین کی ندامت ان کے چہرے سے ظاہر ہوگی اور وہ خوب پہچان لئے جائیں گے اس وقت مخلص مومنین حیران رہ جائیں گے وہ کہہ اٹھیں گے یہ تو وہی لوگ ہیں جو قسمیں کھا کھا کر ہمیں اپنی دوستی اور وفاداری کا یقین دلایا کرتے تھے۔ ہم لوگ کتنے دھوکے میں تھے مگر اللہ کی شان کہ اس نے ہمیں ہی سرخرو کردیا۔ یہ منافقین دنیا میں تو تباہ وہ برباد ہو ہی گئے، آخرت میں بھی ان کے تمام نمائشی اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کیئ پیشین گوئی کردی ہے جس کے بعد دشمنان اسلام کا زور ٹوٹ گیا تھا۔
Ayah 5:54

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 5:54 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرجائے گا تو سن لو (تمہاری جگہ) اللہ عنقریب ایسی قوم کو لے آئے گا۔ جن کو اللہ چاہتا ہے اور جو اللہ کو چاہتے ہیں۔ یہ لوگ مسلمانوں کے لئے نرم دل ہوں گے اور کافروں پر سخت اور تیز ہوں گے۔ یہ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی برا کہنے والے کی الزام تراشی کی پرواہ نہ کریں گے۔ یہ تو اللہ کا فضل و کرم ہے۔ جس کو چاہے بخش دے اور اللہ وسیع علم رکھنے والا ہے۔

آیت نمبر 54 لغات القرآن : یرید (وہ پلٹ جاتا ہے) ۔ یحب (محبت کرتا ہے۔ پسند کرتا ہے) ۔ اذلۃ (ذلیل) ۔ جھکاؤ۔ مراد ہے نرم دل) اعزۃ (عزیز) ۔ عزت۔ سختی کرنا) ۔ یجاھدون (وہ جہاد کریں گے) ۔ لایخافون (وہ کونہ کریں گے) ۔ لومۃ (طعنہ دینا۔ ملامت کرنا) ۔ لائم (ملامت کرنے والا۔ طعنہ دینے والا) ۔ فضل اللہ (اللہ کا فضل وکرم) ۔ تشریح : منافقوں کے بعد اب مرتدین کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے اور مرتد کے مقابلے میں مجاہد کا۔ جو لوگ کچے دل سے دنیاوی مصلحت کے تحت حلقہ اسلام میں آگئے ہیں ان کے لئے تین ہی راستے ہیں۔ یا تو پکے دل سے مخلص مومن بنیں یا منافق بنے رہیں۔ آدھا ادھر آدھا ادھر اللہ کو پسند نہیں ہے۔ یا پھر کھلم کھلا کفار کی صف میں واپس چلے جائیں ۔ اسلام سے نکل کر کفر میں چلے جانا یعنی ارتداداتنا بڑا جرم ہے کہ اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے۔ اس آیت میں اللہ نے مرتد ین کو خبردار کیا ہے کہ ان کے چلے جانے سے اسلام کا کچھ نہیں بگڑے گا خواہ چند اشخاص مرتد ہوجائیں یا ایک پوری جماعت ہی مرتد ہوجائے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان کی جگہ مجاہدین فی سبیل اللہ کی ایک ایسی جماعت اٹھائے گا جو اپنے بھائی مسلمانوں کے ساتھ محبت اور شفقت کا برتاؤ کرے گی اور دشمنوں پر اپنی ہمت اور طاقت کا پورا مظاہرہ کرکے دکھائے گی۔ اور ضرورت پڑی تو تلوار کا معاملہ کرنے سے بھی پیچھے نہ ہٹے گی۔ ان لوگوں کی خاص پہچان یہ ہوگی کہ کسی کے لعن طعن، الزام تراشی، پھبتی، بدنام کرنے کی کوشش کی ہرگز پرواہ نہ کریں گے۔ انہیں اپنے کام سے کام ہوگا۔ اور کوئی انہیں ورغلا نہ سکے گا۔ نہ ڈرا سکے گا نہ خرید سکے گا۔ وہ فضول کانٹوں میں الجھ کر اپنی راہ کھوٹی نہیں کریں گے۔ ایک اور عظیم الشان پہچان ان کی بتائی گئی ہے ۔ وہ یہ کہ اللہ انہیں چاہے گا اور وہ اللہ کو چاہیں گے۔ قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد ہے۔ اے رسول ﷺ کہہ دیجئے اگر تم لوگ اللہ کی محبت حاصل کرنا چاہتے ہو تو میری اتباع کرو۔ اس کے نتیجے میں اللہ تم سے محبت کرے گا۔ چناچہ ظاہر ہوا کہ یہ لوگ سنت رسول ﷺ اللہ پر پورا عمل کریں گے اور ہر قسم کی بدعات سے پرہیز کریں گے ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو قبل از وقت ہوشیار کردیا ہے کہ عنقریب فتنہ ارتداد پھیلے گا مگر اسلام کا کوئی نقصان نہ ہوگا۔ کیونکہ مرتدین کے مقابلے کے لئے مجاہدین کھڑے کر دئیے جائیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ حضور پر نور ﷺ کے وصال کے وقت اور پھر بعد میں فتنہ ارتداد طوفان بن کر کھڑا ہوگیا۔ مسلیمہ کذاب، اسود عنسی، شناع بنت خویلد ، طلیحہ بن خویلد (یہ آخر الذکر آگے چل کر مومن ہوگئے اور زمرہ صحابہ میں شامل ہوگئے تھے) وغیرہ وغیرہ۔ ان سب نے ارتداد کی اور ختم نبوت سے انکار کی بڑی بڑی مسلح تحریکیں چلائیں۔ ان کے علاوہ مانعین زکوٰۃ بھی کچھ کم نہ تھے۔ ان سب کا کامیاب مقابلہ حضرت صدیق اکبر ؓ اور ان کے ساتھ دیگر مجاہدین نے کیا۔ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ صدیقہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے وصال کے بعد جو صدمہ میرے والد صاحب کے سامنے آیا اگر کسی مضبوط پہاڑ پر آتا تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہوجاتا۔ اس آیت نے مرتدین کے مقابلے میں مجاہدین کی جو علامتیں بتائی ہیں وہ سب کی سب سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے ساتھیوں پر صادق آتی ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ محبت اور نرمی کا اخلاق دکھاتے ہیں لیکن مرتدین اور کافروں کے مقابلے میں جنگ جو اور سخت گیر ہیں۔ وہ صرف مسجد کی بےخطر عبادتوں پر قناعت نہیں کرتے بلکہ میدان کی پر خطر عبادتوں میں بھی پیش پیش ہیں۔ (1) ان کا جہاد خالص فی سبیل اللہ تھا۔ (2) انہوں نے کسی برا بھلا کہنے والے الزام تراش کی پرواہ نہ کی۔ (3) مجاہدین کی اس قوم کو اللہ ہی نے اپنے فضل و کرم سے پیدا فرمایا تھا۔ (4) یہ تمام علامتیں خلیفہ اول حضرت سیدنا صدیق اکبر ؓ میں بدرجہ کمال موجود تھیں۔
Ayahs 5:55–56

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ Open ayah 5:55 in the Quran reader

کوئی شک نہیں کہ تمہارے اصلی دوست اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہیں۔ اور وہ لوگ ہیں جو ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور رکوع کرتے ہیں

وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ Open ayah 5:56 in the Quran reader

اور جو بھی اللہ کو اس کے رسول ﷺ کو اور ایمان والوں کو اپنا پکا دوست بنائے گا تو جان لو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے۔

آیت نمبر 55 تا 56 لغات القرآن : راکعون (رکوع کرنے والے۔ جھکنے والے) ۔ حزب (جماعت۔ گروہ۔ فریق) تشریح : پچھلی آیت میں اللہ کی جماعت (حضرت صدیق اکبر ؓ اور ان کے رفقا مجاہدین ؓ کی پانچ علامتیں بتائی گئیں تھیں۔ ان آیات میں مزید پانچ علامتیں بتائی گئی ہیں اس وعدہ کے ساتھ کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے۔ (1) وہ ایمان والے ہیں۔ (2) وہ نماز قائم کرتے ہیں۔ (3) وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں (اور مانعین زکوٰۃ سے جہاد کرتے ہیں) (4) وہ رکوع اور سجود میں (نوافل) میں مشغول رہتے ہیں) (5) اللہ، اس کے رسول ﷺ اور ایمان والوں کو اپنا پکا دوست بناتے ہیں۔ یہاں پر جو لفظ ” راکعون “ آیا ہے اس کے معنی اور ہیں یعنی نہ صرف اللہ کے سامنے جھکنے والے بلکہ اس کے بندوں سے عاجزی اختیار کرنے والے ہیں۔ تکبر اور شان شیخی سے دور عاجزی اور انکساری میل محبت سے قریب۔ اپنے گناہوں سے ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں۔ اگر ان آیات کو حضرت صدیق اکبر ؓ اور ان کے رفقا مجاہدین پر چسپاں نہ بھی کیا جائے اور کھلے کھلے عام معنی لئے جائیں تو ظاہر ہے کہ لافانی اور لازوال دوستی دنیا میں بھی اور جنت میں بھی اللہ، رسول ﷺ اور اہل ایمان کی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی حقیقی دوستی نہیں کیونکہ پچھلی آیات میں دوست کے انتخاب کا معیار مقرر ہوچکا ہے۔ اور اہل ایمان کون ہیں۔ ان کی پہچان یہاں دی گئی ہے۔ تاکہ دھوکا دینے والے جعلی لوگوں یعنی منافقین سے امتیاز واضح ہوجائے۔