4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 4:144–145

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:144 in the Quran reader

اے ایمان والو ! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے خلاف اللہ کو واضح ثبوت دے دو

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:145 in the Quran reader

بلاشبہ منافقین جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ڈالے جائیں گے۔ اور آپ ہرگز کسی کو ان کا مددگار نہیں پائیں گے۔

آیت نمبر 144-145 لغات القرآن : اتریدون، کیا تم چاہتے ہو ؟ ۔ سلطان مبین، کھلا ہوا ثبوت۔ الدرک الاسفل، سب سے نیچے درجہ تشریح : منافق کافر سے زیادہ خطرناک ہے۔ کافر اپنے عقیدہ سے مخلص ہے اگرچہ اس کا عقیدہ و عمل غلط ہے وہ اسلام کا دشمن ضرور ہے مگر کھلم کھلا۔ اس کے وار سے بچنا آسان ہے۔ مگر یہ منافق آستین کا سانپ ہے۔ یہ دوستی کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کی صفوں میں رہتا ہے۔ یہ زیادہ خطرناک ہے۔ اسی لئے فرمایا ہے کہ منافقین دوزخ کے بدترین حصہ میں رکھے جائیں گے۔ اسفل، کے معنی سب سے نیچے ہی کے نہیں ہیں بلکہ سب سے ذلیل جگہ کے بھی ہیں۔ سب سے نیچے طبقہ میں گرمی اور جلن سب سے زیادہ ہوگی اور وہاں ذلت اور رسوائی بھی سب سے زیادہ ہوگی۔ جو شخص بھی اقرار ایمان کے باوجود مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بنائے گا۔ وہ منافق سے قریب سے قریب تر ہوتا جائے گا۔ ہوسکتا ہے وہ شروع ہی سے منافق ہو۔ ہوسکتا ہے وہ آگے چل کر منافق بن جائے۔ اور جو شخص بھی مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا جگری اور گہرا دوست بنائے گا وہ اپنے خلاف اللہ تعالیٰ کو اپنے جہنمی ہونے کا واضح ثبوت مہیا کرے گا۔
Ayahs 4:146–147

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:146 in the Quran reader

سوائے ان کے جو توبہ کرکے اپنی اصلاح کرلیں ۔ اور اللہ کا تعلق مضبوطی سے تھام لیں اور اللہ کے لئے اپنے دین میں مخلص ہوجائیں ۔ ایسے لوگوں کا شمار مومنین کے ساتھ ہوگا۔ اللہ مومنوں کو بہت جلد بڑا ثواب عطا کرے گا۔

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا Open ayah 4:147 in the Quran reader

اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ تمہیں عذاب دے گا جب کہ تم شکر گزار بن کر اور ایمان دار بن کر رہو اور اللہ تو بہت قدر کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے۔

آیت نمبر 146-147 لغات القرآن : اعتصموا، تم مظبوطی سے تھام لو۔ اخلصوا، انہوں نے خالص کرلیا۔ سوف یؤت، جلد ہی وہ دے گا مایفعل اللہ، اللہ کو کیا پڑی ہے۔ (اللہ تعالیٰ کیا کرے گا) ۔ شاکر، قدر کرنے والا۔ تشریح : گزشتہ آیت میں عذاب کا اتنا بڑا خوف دلا کر کہ ” بیشک منافقین دوزخ کے ارذل ترین طبقہ میں ڈالے جائیں گے “ ۔ اللہ نے امید ، توبہ، واپسی اور رحمت کا دروازہ بند نہیں کیا ہے۔ ایک مرتبہ پھر تلقین کی ہے کہ اے منافقو ! اب بھی موقع ہے توبہ کرلو، اپنی اصلاح کرلو، اللہ کا آسرا مضبوط تھام لو۔ ڈانواڈول نہ رہو اور دین اسلام کے لئے تمام خلوص اور خدمت کے ساتھ ڈٹ جاؤ۔ اگر تم واپس اسلام کی طرف پلٹ آؤ گے تو تمہارا شمار مومنین میں ہوگا اور تم اجر عظیم کے حق دار ہوجاؤ گے۔ بندے پر اللہ تعالیٰ کے بیشمار احسانات کا جواب ایک ہی ہے۔ قولی اور عملی شکر جس کا واحد طریقہ ہے قولی اور عملی ایمان اگر تم شکر کروگے تو اللہ کو بہت قدردان پاؤ گے۔ دھوکا دینے کی کوشش کرو گے تو اللہ خوب جانتا ہے کہ مومن کون ہے اور منافق کون۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد اللہ نے چند منافقین کو توفیق بخشی اور وہ مومنین کی صف میں آگئے۔
Ayahs 4:148–152

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

اللہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو کھلم کھلا برا کہے۔ مگر وہ شخص جس پر ظلم کیا گیا ہے۔ (اس کے لئے جائز ہے) اور بیشک اللہ سنتا بھی ہے اور جانتا بھی ہے۔

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

اگر تم کھلم کھلا بھلائی کرو یا اس کو چھپا کر کرویا کسی برائی کو معاف کر دو تو اللہ بھی بہت معاف کرنے والا اور بڑی قدرت والا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کو ماننے سے انکار کردیا۔ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان (با اعتبار ایمان) تفریق کرتے ہیں اور (زبان سے بھی) کہتے ہیں کہ چند رسولوں کو مانتے ہیں اور چند کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ کفر و ایمان کے بیچ میں کوئی سمجھوتہ کی راہ نکال لیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

وہ پکے کافر ہیں۔ اور ہم نے بڑی ذلت کا عذاب کافروں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لائے ہیں اور ان میں سے کسی ایک میں فرق نہیں کرتے ان کو اللہ جلد انعام دے گا۔ اور اللہ بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

آیت نمبر 148-152 لغات القرآن : لایحب اللہ، اللہ کو پسند نہیں ہے۔ الجھر بالسوء، برائی کو کھلم کھلا کہنا۔ لم یفرقوا، نہیں تفریق کرتے۔ تشریح : وہ سب پکے کافر ہیں جو (1) نہ اللہ کو مانتے ہیں نہ رسالت کو یا (2) اللہ کو مانتے ہیں۔ رسالت کو نہیں مانتے یا (3) کسی رسول کو مانتے ہیں کسی کو نہیں مانتے۔ اور جو توحید اور شرک کے درمیان کوئی ایسی راہ ڈھونڈ رہے ہیں کہ اللہ بھی مل جائے اور صنم بھی۔ ان سب کے لئے بڑی ذلت کا عذاب بھڑک رہا ہے۔ دنیا کے مذاہب کو دیکھئے بہت سے مذاہب اللہ کو بلکہ کسی معبود کو نہیں مانتے۔ بہت سے مذاہب بہت سے معبودوں کو مانتے ہیں۔ ہندو بتوں کو، بدھ کنفیوشس کو لیکن سکھ رسالت ہی کو نہیں مانتے۔ یہودی حضرت عیسیٰ کو نہیں مانتے۔ عیسائی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نہیں مانتے۔ مسلمانوں کے سوا کوئی پیغمبر اسلام ﷺ کو نہیں مانتا۔ کچھ گم راہ لوگ آپ کے بعد بھی ایک جھوٹے شخص کو نبی مانتے ہیں۔ قرآن کی نظر میں صرف وہی مومن ہیں جو اللہ اور اس کے تمام رسولوں کو مانتے ہیں اور تفریق نہیں کرتے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس وقت حضور ﷺ کے سوا تمام پیغمبروں کی تعلیمات دنیا سے ناپید ہوچکی ہیں۔ مشرکین مکہ اور مدینہ کے یہود و نصاریٰ مومنین پر بہت ظلم کرتے تھے اور دین اسلام کو برا بھلا کہتے تھے۔ کبھی کبھی مسلمانوں میں طاقت برداشت ختم ہوجاتی اور وہ بھی تلخ کلامی کا جواب تلخ کلامی سے دیتے۔ اس کے علاوہ پرائیویٹ سطح پر بھی مظلوم ظالم کے خلاف چیخ و پکار اور آہ و فریاد کرتے ۔ آیت 148 کی رو سے گالی کا جواب گالی سے دینا منع کردیا گیا ہے۔ زبانی فساد لڑئی جھگڑے اور تو تو میں میں سے مسلمانوں کو روکا گیا ہے۔ چیخنے چلانے یا آہ فریاد کرنے کی اجازت صرف مظلوموں کو دی گئی ہے مگر اس نصیحت کے ساتھ کہ تم ظالم کے ساتھ بھی نیکی کرو یا اس کے ظلم کو پوشیدہ رکھو بلکہ معاف ہی کردو۔ دیکھو اللہ بھی تو تمام طاقت وقدرت کے باوجود اپنے بندوں کے کتنے گناہ صبح و شام معاف کرتا ہے۔ مومن بھی صبح و شام غلطیاں کرتا ہے لیکن اللہ غفور رحیم ہے۔ مظلوموں کو نالہ و فغا اور نالش و فریاد کی اجازت دے کر ایک طرف اس کے دل کے دھویں کو خارج ہونے کا موقع دیا گیا ہے دوسری طرف اسے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی اجازت دی گئی ہے کیوں کہ ظلم کی روک تھام کے لئے عدالت ہی کا ادارہ ہے اگر عدالت ہی نہ ہوگی تو ظلم کا سلسلہ بڑھ جائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے مظلوم کو بھی بہترین اخلاق کی تربیت دی ہے کہ خاموش رہو۔ بلکہ معاف ہی کر دو تو بہتر ہے۔ اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ظالم کے ساتھ بھی نیکی کرو خواہ وہ تمہارے دین کو برا بھلا ہی کیوں نہ کہتا ہو۔ اس اخلاقی تعلیم میں ناجائز مروت اور رواداری نہیں ہے۔ اسلام اپنی سرحد ات کی پوری حفاظت کرتا ہے۔ اور صاف صاف کہتا ہے کہ وہ سب پکے کافر ہیں جو اللہ اور اس کے تمام رسولوں کو نہیں مانتے یا جو اضافہ یا تفریق کرتے ہیں۔ اور سمجھوتہ کی راہ تلاش کرتے ہیں۔
Ayahs 4:153–159

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) اہل کتاب آپ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ آپ ان کے لئے آسمان سے کوئی کتاب اتار لائیں۔ تو (یہ کوئی نئی بات نہیں ہے) وہ اس سے بھی زیادہ نامعقول مطالبے موسیٰ (علیہ السلام) سے کرچکے ہیں۔ ان سے کہا تھا کہ ہمیں اللہ کو آمنے سامنے دکھا دو ۔ اس زیادتی کے بدلے ان پر بجلی یکایک ٹوٹ پڑی۔ پھر انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا حالانکہ وحدانیت کی بہت سی کھلی کھلی نشانیاں دیکھ چکے تھے۔ پھر ہم نے اسے بھی معاف کیا۔ اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کھلا غلبہ عطا کیا۔

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:154 in the Quran reader

پھر ان احکام کی اطاعت کا قول وقرار لینے کیلئے ہم نے کوہ طور اٹھا کر ان کے اوپر معلق کردیا تھا اور ہم نے کہا تھا کہ اس دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا۔ اور ہم نے ان کو ہفتہ کے دن زیادتی کرنے سے منع کیا تھا اور ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا تھا۔

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

ان کی جو سزا ملی وہ ان کی عہد شکنی پر اور چونکہ انہوں نے اللہ کی آیات سے کفر کیا (نافرمانی کی) اور ناحق چند پیغمبروں کو قتل کر ڈالا اور یہاں تک دعویٰ کرنے لگے کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں۔ یہ بات نہ تھی بلکہ اللہ نے ان کے دل پر مہر کردی تھی چونکہ ان میں سے ایک قلیل تعداد کے سوا کوئی ایمان نہیں لایا تھا۔

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

ان کے کفر کی وجہ سے جب کہ انہوں نے مریم پر زبردست الزام تراشا تھا۔

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ Open ayah 4:157 in the Quran reader

چونکہ وہ کہا کرتے تھے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ کو قتل کردیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ انہوں نے ان کو قتل کیا اور نہ ان کو صلیب پر چڑھایا بلکہ ان کے اندر اختلاف ہوگیا اور وہ معاملہ ان کے لئے مشکوک بنا دیا گیا اور بلاشبہ جن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی درحقیقت شک میں مبتلا ہیں واقعہ کیا ہوا انہیں کچھ معلوم نہیں البتہ انہوں نے ایک فسانہ دل سے گھڑ لیا۔ انہوں نے یقیناً حضرت عیسیٰ کو قتل نہیں کیا۔

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:158 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور اللہ کے پاس قدرت بھی ہے اور حکمت بھی۔

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور اہل کتاب کے جتنے فرقے ہیں وہ عیسیٰ کو اس کی موت سے پہلے ہی دیکھ کر اس پر ایمان لے آئیں گے۔ اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ اہل کتاب کے خلاف گواہ ہوں گے۔

آیت نمبر 153-159 لغات القرآن : سالوا، انہوں نے سوال کیا۔ ارنا، ہمیں دکھا دے۔ لاتعدوا، تم حد سے نہ بڑھو۔ نقض، توڑنا۔ طبع اللہ، اللہ نے مہر لگا دی۔ ماصلبوہ، انہوں نے اس کو پھانسی نہیں دی۔ لیؤمنن، البتہ وہ ضرور ایمان لائیں گے۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو تسکین دینے کے لئے قوم یہود کی نفسیات اور بعض نازیبا حرکتوں کو پیش کیا ہے۔ یہود کے چند سردار حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا اگر آپ بھی ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب آسمان سے نازل شدہ ہمیں دکھا دیں جس طرح ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوچکی ہے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ ان کا جو مطالبہ ہے وہ سراسر بہانہ ہے۔ ان کے آباء و اجداد اس سے بھی زیادہ نامعقول مطالبے حضرت موسیٰ سے کرچکے ہیں۔ اگر صرف ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب کا سوال ہوتا تو انہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر پوری طرح ایمان لے آنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ بھی کہا تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی صورت بےپردہ اور بےحجاب دکھا دو ۔ اس جسارت پر اللہ کے قہر کی صورت میں ان پر بجلی اچانک ٹوٹ پڑی۔ پھر اگرچہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی نظروں کے سامنے فرعون کو اس کے لشکریوں کے ساتھ غرق کردیا تھا۔ ان کیلئے من وسلویٰ کا انتظام کیا اور اپنی قدرت و حکمت کی دوسری اعلیٰ سے اعلیٰ نشانیاں دکھائیں، پھر بھی وہ ایمان لائے تو کس پر ؟ ایک خود ساختہ بچھڑے پر اور انہوں نے اس کو پوجنا شروع کردیا۔ اللہ نے ان کا یہ گناہ بھی معاف کیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت کی دس ایسی تختیاں عطا فرمائیں جس میں دس واضح احکام تھے۔ ان آیات سے معلوم ہوتا کہ پھر بھی انہوں نے نافرمانی کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے کوہ طور اٹھا کر ان کے سروں کے اوپر معلق کردیا تھا کہ اگر حکم نہیں مانو گے تو کچل دئیے جاؤ گے۔ ڈر کے مارے حکم ماننے لگے مگر جب کوہ طور ان کے سروں پر سے اٹھا لیا گیا تو پھر باغی ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ جب شہر ایلیا میں داخل ہو تو دروازے میں خاکسارانہ سر جھکائے ہوئے اور اللہ کو سجدے کرتے ہوئے داخل ہونا۔ یہ بھی حکم دیا کہ سبت (ہفتہ) کے دن مچھلیاں نہ کپڑنا۔ انہوں نے اللہ کے احکام سے ہمیشہ کفر کیا اور نافرمانی اس درجہ کو پہنچ گئی کہ حضرت یحییٰ اور چند پیغمبروں کو ناحق قتل کر ڈالا۔ اور اب بےشرمی اور ضلالت کی انتہا یہ ہے کہ کھلم کھلا فخر و ناز سے دعویٰ کرتے پھرتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے رسول عیسیٰ مسیح کو بھی صلیب چڑھا کر موت دے دی۔ انہوں نے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر جو بہتان عظیم لگایا اس کا جواب انہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی مل چکا تھا جب وہ چند گھنٹوں کے بچے ہی تھے۔ اور یہود یہ جواب سن کر مطمئن ہوگئے تھے۔ لیکن جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے نبوت کا کام شروع کیا اور اپنی امت کو نصیحت کرنے لگے تو پھر انہوں نے لعن طعن پر زبان دراز کی اور دشمنی کو اس درجہ پہنچا دیا کہ انہیں ایک عدالت سے موت کی سزا دلوادی۔ اور ان کو قید کرنے کی ناکام کوشش کی۔ لیکن راتوں رات اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو روح اور جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیا۔ کہا جاتا ہے کہ صبح کو یہودی قید خانے کے دروازے پر جمع ہوئے اور اپنے میں سے ایک کو بھیجا کہ اندر جا کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پکڑ کر باہر لاؤ۔ وہاں وہ انہیں ڈھونڈتا رہ گیا ۔ وہ نہیں ملے۔ جب وہ باہر نکلا تو اس کا چہرہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جیسا ہوگیا تھا۔ یہودیوں نے اسے ہی پکڑ کر صلیب پر لٹکا دیا اور مشہور کردیا کہ انہوں نے مسیح کو پھانسی دے دی۔ یہودیوں اور خود عیسائیوں میں صلیب کے طرح طرح کے واقعات مشہور ہیں کہ جو لٹکایا گیا وہ واقعی کون تھا۔ ایک گروہ کا کہنا یہ ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ کا ایک ہم شکل حواری تھا جس نے اپنے نبی کے عوض اپنے آپ کو پیش کردیا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ وہی یہودی تھا جو اندر ڈھونڈنے گیا تھا۔ بہرحال حقیقت کیا تھی کسی کو نہیں معلوم۔ قرآن صرف اسی قدر ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو جسم اور روح سمیت اوپر اٹھا لیا یعنی انہیں موت آئی نہ ان کو صلیب پر چڑھایا گیا بلکہ وہ اب تک زندہ ہیں مگر اس دنیا میں نہیں بلکہ آسمانوں پر زندہ ہیں۔ آیت 159 میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت عیسیٰ پھر اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ زندگی گزارنے کے بعد طبعی موت سے انتقال کریں گے۔ اس وقت ان کو چلتا پھرتا بولتا چالتا اور ہر طرح زندہ دیکھ کر تمام یہودی اور عیسائی ان کی غیر مصلوبیت اور رفع الی اللہ پر ایمان لے آئیں گے۔ اور جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے قیامت کے دن تمام پیغمبر اپنی اپنی امت کے ساتھ حاضر ہوں گے اور اپنی اپنی امت کی حرکات و اعمال پر گواہی دیں گے ۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ بھی وہاں موجود ہوں گے اور اپنی امت کی حرکات و اعمال پر گواہی دیں گے اور صلیب کے واقعہ سے پردہ ہٹائیں گے یہ مسئلہ سورة آل عمران میں بھی گزر چکا ہے حضور پرنور ﷺ کی متواتر احادیث ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا دنیا میں نزول ہوگا۔ وہ حضور کی امت بن کر جئیں گے اور وفات پائیں گے۔ ان کے زمانے میں یہودیت اور عیسائیت ختم ہوجائے گی کیونکہ سارے یہود و نصاریٰ صحیح صحیح ایمان لے آئیں گے۔ ہر طرف اسلام ہی کا بول بالا ہوگا۔ ان احادیث کی تعداد ایک سو سے کم نہیں ہے جو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پھانسی نہیں دی گئی بلکہ وہ آسمانوں پر جسم و روح کے ساتھ زندہ ہیں۔ قرآن کریم اور متواتر احادیث کے باوجود قادیانیوں کا یہ دعویٰ کس قدر مضحکہ خیز اور جاہلانہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کا انتقال ہوگیا اور وہ کشمیر میں دفن ہیں (نعوذ باللہ) بغیر کسی ثبوت کے اتنا بڑا دعویٰ کرنا کائنات کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ اور ایسا دعویٰ وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کی ساری بنیاد ہی جھوٹ پر ہے۔ اللہ ہمیں قادیانیوں کے فریب سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
Ayahs 4:160–161

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

یہودیوں کے جرائم کی وجہ سے ہم نے ان پر بہت سی وہ پاک چیزیں حرام کردیں جو ان پر حلال تھیں۔ اس وجہ سے کہ وہ اللہ کے راستے سے اللہ کی کثیر مخلوق کو روکتے تھے۔

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

وہ سود لیا کرتے تھے حالانکہ اس سے انہیں منع کردیا گیا تھا۔ وہ لوگوں کا مال ناجائز طریقوں سے کھا جاتے تھے۔ ان کافروں کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

آیت نمبر 160-161 لغات القرآن : حرمنا، ہم نے حرام کردیا۔ احلت، حلال کی گئی (حلال کی گئیں) ۔ نھوا، وہ منع کیے گئے۔ تشریح : بنی اسرائیل کی ذلیل حرکات کا بیان قرآن کریم میں جا بجا آیا ہے مثلاً سورة بقرہ سورة بنی اسرائیل وغیرہ میں۔ ان آیات میں اور پچھلی آیات میں بھی چند واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ اور کہا گیا ہے کہ کافروں کیلئے دردناک عذاب تیار کرلیا گیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اگر کسی قوم نے اللہ کے راستے سے سب سے زیادہ لوگوں کو بھڑکایا ہے، ان کا راستہ روکا ہے اور مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کی ہے۔ اگر کوئی قوم دین اسلام کی مخالفت میں سب سے آگے آگے رہی ہے تو وہ یہودی ہیں۔ آج بھی مسلمانوں اور خود دین اسلام کے خلاف جس قوم کا سرمایہ، دماغ، افرادی طاقت، سیاست، ہتھیار اور ہر ممکن طریقہ لگ رہا ہے وہ یہی بدنصیب قوم ہے۔ اسی قوم نے کمیونزل اور سوشلزم جیسی لادینی بلکہ مخالف دینی تحریکوں کو ابھارا۔ اسی قوم نے فرائڈ اور ڈارون جیسے گمراہ نظرئیے سائنس کے نال پر پھیلائے۔ اسی قوم نے عیسائیوں کے کس بل پر ریاست اسرائیل قائم کی اور فلسطین ولبنان، عراق اور افغانستان کو تاراج کر ڈالا۔ دنیا میں بڑی بڑی قومیں آئیں اور آکر چلی گئیں مگر یہ قوم نہ مرتی ہے نہ جیتی ہے۔ نہ اس کے پاس عزت کی زندگی ہے نہ ذلت کی موت۔ کچھ دنوں کیلئے یہ ابھر جاتی ہے پھر کسی گڑھے میں گر جاتی ہے۔ تاریخ میں ایک بار چوراسی (84) سال تک اس نے فلسطین پر قبضہ رکھا ہے۔ پھر صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوکر نکالی گئی۔ اس سے پہلے بھی نہ جانے کتنی بار فلسطین پر قابض رہ چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی ہدایت کے لئے ان ہی میں سے نہ جانے کتنے پیغمبر مبعوث کئے مگر اس قوم نے مان کر نہ دیا۔ اوپر کی آیات ان تمام سچائیوں کی منہ بولتی تصویر ہے۔
Ayah 4:162

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

ان میں سے جو لوگ علم میں پختہ ہیں اور ایمان والے ہیں اور اے نبی ﷺ وہ اس پر ایمان لاچکے ہیں جو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے اور جو کچھ ہم نے آپ سے پہلے نازل کیا ہے جو نماز کو قائم رکھنے والے ہیں جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں۔ وہ جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور قیامت پھر بھی ایمان لاتے ہیں ان لوگوں کو ہم بہت بڑا انعام عطا کریں گے۔

آیت نمبر 162 لغات القرآن : الراسخون، پختہ ، پکے۔ المقیمین، قائم کرنے والے۔ الموتون، دیتے ہیں۔ سنئوتیھم، جلد ہی ہم ان کو دیں گے۔ تشریح : گذشتہ آیات میں یہودیوں کے سواداعظم کا ذکر تھا اور جو عذاب الیم کا وعدہ تھا وہ ان ہی کے لئے تھا۔ لیکن اس قوم میں گنے چنے افراد ایسے بھی نکل آئے (مثلاً عبد اللہ بن سلام ؓ جو دنیا کے علم میں نہیں بلکہ دین کے علم میں پختہ تھے۔ جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لاکر مومن بن گئے۔ جنہوں نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے بڑے انعام کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اور اللہ اپنے نیک بندوں کو اسی طرح اجر عظیم عطا فرماتے ہیں۔
Ayahs 4:163–169

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! جس طرح ہم نے آپ پر وحی بھیجی اسی طرح ہم نے نوح (علیہ السلام) پر اور ان کے بعد والے نبیوں پر وحی بھیجی ہے۔ اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولادوں پر اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور ایوب (علیہ السلام) اور یونس (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) پر بھی وحی بھیجی تھی۔ اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا کی۔

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

ہم نے آپ سے پہلے وہ رسول بھی بھیجے جن کے حالات ہم نے آپ کو بتائے ہیں۔ اور وہ رسول بھی بھیجے جن کے حالات ہم نے آپ کو نہیں سنائے ہیں۔ اور اللہ نے موسیٰ سے براہ راست گفتگو کی ہے۔

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

یہ رسول ثواب کی بشارت اور عذاب کا خوف دلایا کرتے تھے ۔ تاکہ ان رسولوں کے آنے سے لوگ اللہ کے خلاف بہانے (حجت) نہ بنا سکیں۔ اللہ قدرت بھی رکھتا ہے اور حکمت بھی۔

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

اللہ گواہ ہے کہ اس نے آپ پر جو کچھ نازل کیا ہے وہ علم الٰہی سے ہے۔ اگرچہ اس کی گواہی فرشتے بھی دیتے ہیں لیکن اللہ ہی کی گواہی کافی ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکا، وہ گمراہی میں بہت گہرے ڈوب گئے ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (نبیوں پر اور لوگوں پر) ظلم کیا۔ اللہ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا اور نہ انہیں ہدایت کا راستہ دکھائے گا۔

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

البتہ وہ جہنم کا راستہ دیکھیں گے۔ جہاں انہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا پڑے گا۔ اور یہ کام اللہ کے لئے بالکل آسان ہے۔

آیت نمبر 163-169 لغات القرآن : اوحینا، ہم نے وحی کی۔ قصصنا، ہم نے قصے بیان کئے۔ کلم اللہ، اللہ نے کلام کیا۔ لئلا یکون، تاکہ نہ ہو۔ حجۃ، دلیل، طریق، راستہ۔ تشریح : آیت 153 میں جو ذکر ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا تھا کہ آسمان سے نازل کی ہوئی ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب ہمیں دکھاؤ تو ہم ایمان لے آئیں گے ان آیات میں اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ جن نبیوں کو تم مانتے ہو، جن پر ایمان لانے کا دعویٰ تم کرتے ہو۔ کیا ان میں سے اکثر و بیشتر کو لکھی ہوئی مکمل کتاب نہیں دی گئی تھی ؟ ۔ ہاں زبور حضرت داؤد کو ملی تھی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے خود اللہ نے براہ راست کلام کیا تھا اور توریت کی تختیاں دی گئی تھیں۔ جب حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) (اور ان کی اولادیں) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ایوب (علیہ السلام) اور حضرت یونس (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو وحی بھیجی گئی تھی اور تم ان کی نبوت پر ایمان لاتے ہو تو پھر رسول اللہ سے تمہارے مطالبہ کا کیا مطلب ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے رسول اس لئے نہیں بھیجے جاتے کہ ہر جائز و ناجائز مطالبات کو مانتے رہیں بلکہ ان کا مقصد دین ہدایت کو پھیلانا ہوتا ہے۔ ماننے والوں کو جنت کی بشارت دینا ہوتا ہے۔ نہ ماننے والوں کو جہنم سے ڈرانا ہوتا ہے۔ اللہ یہ قدرت رکھتا ہے کہ نافرمانوں کو سزا دیدے اور کوئی چون و چرا نہیں کرسکتا۔ لیکن اس کی حکمت اور مصلحت کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ اپنے رسول بھیجے جو اس کے پیغام بر ہوں اور بشیر و نذیر ہوں تاکہ عوام پر حجت تمام ہوجائے اور وہ یہ عذر لنگ پیش نہ کرسکیں کہ ہمیں علم نہ تھا۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اب جو پیغمبر اسلام بھیجے گئے ہیں ان کو مان لینے میں عافیت ہے۔ تم نے پہلے نبیوں کو معجزہ کی بنیاد پر مانا تھا۔ پیغمبر اسلام کا خاص معجزہ قرآن مجید ہے جس میں علم الٰہی ہے۔ اس کی گواہی اللہ بھی دیتا ہے اور فرشتے بھی۔ لیکن اگر تم نے الٹی سیدھی باتیں کیں ، خود بھی کافر بنے رہے اور دوسروں کو بھی راہ حق اختیار کرنے سے روکا۔ تو تمہارا انجام بہت ہی برا ہوگا۔ اگر تم نے کفر کیا اور مسلمانوں پر ظلم ڈھاتے رہے تو سن لو تم سخت گمراہی میں ہو، اللہ تمہاری بخشش نہ کرے گا۔ اور تمہارے لئے جہنم کی آگ دہکائی جا رہی ہے جس میں تمہیں ہمیشہ ہمیشہ چلنا پڑے گا وہاں تم نہ جیو گے نہ مروگے۔
Ayah 4:170

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک رسول حق لے کر آگیا ہے۔ اب تم اس پر ایمان لاؤ۔ اسی میں تمہاری بہتری ہے۔ اور اگر کفر کرو گے تو بیشک جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ ہی کے لئے ہے۔ اور اللہ علم والا بھی ہے اور حکمت والا بھی۔

آیت نمبر 170 لغات القرآن : خیر، بہتر۔ ان تکفروا، اگر تم کفر کرتے ہو۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تمام لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ تم فضول باتوں اور ہٹ دھرمی میں مت پڑو۔ سیدھی بات یہ ہے کہ اللہ کا رسول ﷺ جو کچھ تمہیں سنا رہا ہے اور سکھا رہا ہے وہ سب کا سب اللہ ہی کی طرف سے ہے اور خالص سچائی ہے۔ اگر تم ایمان لے آئے اور دین اسلام کے راستے پر چلے تو تمہارا ہی فائدہ ہے لیکن اگر تم نے کفر کا راستہ اختیار کرلیا تو تم اللہ کا کچھ بگاڑ نہ سکو گے۔ آسمانوں اور زمین کا مالک و منتظم وہی ہے اور یہ کارخانہ قدرت اسی کے علم و حکمت سے چل رہا ہے ۔ تم قادر مطلق کو کیا نقصان پہنچا سکتے ہو۔ تمہیں تو اپنی آخرت کی فکر ہونی چاہئے۔
Ayah 4:171

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ Open ayah 4:171 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! اپنے دین میں حد سے نہ گزرو اور اللہ سے وہی بات منسوب کرو جو بالکل سچ ہے۔ (وہ سچ یہ ہے کہ) بیشک مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول ہیں اور اللہ کا کلمہ ہیں۔ جسے اللہ نے مریم (کے بطن) میں بلاواسطہ ڈالا۔ اور وہ مسیح اللہ کی طرف سے ایک روح ہیں۔ لہٰذا تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لے آؤ اور یہ نہ کہو کہ معبود تین ہیں۔ اس بات سے باز آجاؤ اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔ بیشک اللہ واحد معبود ہے۔ وہ اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب کا سب اسی کا ہے۔ اور اس کے انتظام کو اللہ کافی ہے۔

آیت نمبر 171 لغات القرآن : لاتغلوا، تم حد سے نہ گزرو۔ کلمتہ، اس کا کلمہ، اس کا ایک حکم۔ ثلثۃ، تین۔ وکیل، کام بنانے والا۔ تشریح : کائنات کا سارا نظام تناسب اور تو ازن پر قائم ہے۔ ہر چیز کی حد مقرر ہے۔ اس سے زیادہ بھی خرابی اور اس سے کم بھی خرابی۔ اور ہر چیز کی جگہ مقرر ہے۔ اعلیٰ سے اعلیٰ اور حسین سے حسین چیز اپنی جگہ سے ہٹ کر بےجوڑ بدصورت اور ناموزوں ہوجاتی ہے۔ یہی حال روحانی اور دینی اقدار کا بھی ہے۔ ” دین میں غلونہ کرو۔ نہ مقررہ حد سے آگے بڑھو نہ پیچھے ہٹو “ ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم الشان نصیحت ہے بلکہ نسخہ شفا ہے اور تمام کامیابی کا گر ہے۔ حضرت عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کے متعلق یہودیوں نے غلو یہ کیا کہ انہیں اپنے پیغمبروں کی فہرست سے خارج کردیا۔ عیسائیوں نے غلو یہ کیا کہ انہیں اللہ کا بیٹا قرار دے دیا۔ دونوں اپنی حدوں سے نکل گئے۔ اس نصیحت کی ضرورت آج بھی بہت ہے۔ صحابہ کرام ؓ کی شان کو گھٹانا۔ حضور ﷺ کے نواسوں، نواسیوں اور ان کی اولادوں کی شان کو اتنا بڑھانا کہ انہیں معصومین قرار دینا اور امامت کو نبوت کے برابر سمجھنا، مذہبی پیشواؤں کو مشکل کشا، انہیں ان داتا اور دست گیر سمجھنا۔ حب دنیا میں بہت بڑھنا یا ترک کردینا، بدعات اور محدثات کو پھیلانا، انفرادی عبادت میں سب سے آگے لیکن اجتماعی عبادت میں سب سے پیچھے، روزہ نماز میں پیش پیش لیکن سیاست تبلیغ اور جہاد میں غائب۔ حضور نے فرمایا ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا انجام جہنم ہے۔ ایک حدیث میں آپ نے فرمایا ہے۔ ” غلو فی الدین سے بچے رہو کیوں کہ تم سے پہلی امتیں غلو فی الدین ہی کی وجہ سے ہلاک و برباد ہوئیں “ ۔ ایک اور حدیث میں فرمایا ہے۔ ” میری مدح وثناء میں ایسا مبالغہ نہ کرو جیسے نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کے معاملے میں کیا ہے۔ خوب سمجھ لو کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اسی لئے تم مجھے اللہ کا بندہ اور رسول کہا کرو۔
Ayahs 4:172–173

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا Open ayah 4:172 in the Quran reader

مسیح (علیہ السلام) نے کبھی اس بات کو برا نہیں سمجھا کہ ان کو اللہ کا بندہ کہا جائے۔ اور نہ کبھی فرشتوں نے برا محسوس کیا حالانکہ وہ اللہ سے قریب ہیں۔ اللہ قیامت کے دن ان سب کو اپنے پاس جمع کرے گا جو مارے تکبر کے اللہ کی بندگی کو برا سمجھتے ہیں۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:173 in the Quran reader

اس وقت جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے انہیں ان کا اجر پورا پورا ملے گا بلکہ اللہ اپنے فضل و کرام سے انہیں کچھ زیادہ ہی دے گا اور جن لوگوں نے (اللہ کا بندہ کہلانے میں ) کسر شان سمجھا اور شان غرور میں اینٹھتے رہے ان کو اللہ تعالیٰ دکھ بھرا عذاب دے گا ایسے لوگ اللہ کے سوا کسی کو اپنا حامی اور مددگار نہ پائیں گے۔

آیت نمبر 172-173 لغات القرآن : لن یستنکف، وہ ہرگز برا بہ سمجھے گا۔ المقربون، قریب والے۔ یستکبر، وہ تکبر کرتا ہے۔ فسیحشرھم، جلد ہی ہم ان کو جمع کریں گے۔ تشریح : حضرت مسیح (علیہ السلام) ہوں یا کوئی پیغمبر یا کوئی فرشتہ ہو، جو اللہ سے جتنا قریب ہوگا، اتنا ہی عاجزی کا پیکر ہوگا، وہ جانتا ہے کہ اللہ کی بندگی سب سے بڑی عزت اور مرتبت ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) جب تک زمین پر تھے اپنے آپ کو اللہ کا بندہ ہی سمجھتے تھے اور اس سے آپ کو ننگ وعار نہ تھا بلکہ عزت اور بلندی تھی۔ آج جب کہ آپ آسمان پر ہیں ، تب بھی اپنے آپ کو اللہ کا بندہ سمجھتے ہیں۔ تکبر کرنا اور شیخی مارنا یہ تو ابلیس، فرعون اور ابوجہل کی عادت ہے، تکبر کیا ہے ؟ تکبر یہ ہے کہ اگر کوئی چیز اپنے پاس ہے یا نہیں ہے، تو ان لوگوں کو جن کے پاس کم ہے یا نہیں ہے پست اور ذلیل سمجھنا اور حقارت کا سلوک کرنا۔ ایسے تکبر کرنے والوں کے لئے اللہ نے دکھ بھرا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ لیکن اللہ کے احسانات کو یاد کرنا، اس کا شکر ادا کرنا یہ تکبر نہیں ہے بلکہ اللہ کے نزدیک ایک پسندیدہ فعل ہے۔ قیامت کا ہولناک دن ہوگا جب سب کی شیخی نکل جائے گی۔ تکبر کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر رہیں گے اور عاجزی اور تواضع اختیار کرنے والے سر بلند ہوں گے۔
Ayahs 4:174–175

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:174 in the Quran reader

اے لوگو ! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس ایک بڑی دلیل پہنچ چکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف صاف اور صریح نوراتارا ہے

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ Open ayah 4:175 in the Quran reader

جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور مضبوطی سے اس کے کام میں ڈٹ گئے اللہ یقیناً انہیں اپنی رحمت اور عنایت میں داخل کرے گا اور صراط مستقیم کی طرف ان کی رہنمائی کرے گا۔

آیت نمبر 174-175 لغات القرآن : برھان، دلیل۔ نور مبین، کھلا نور۔ فضل، رحمت، کرم۔ تشریح : برہان قاطع یعنی وہ دلیل جو انتہائی واضح ہو۔ جو اپنے مخالف تمام بحثوں کو کاٹ کر رکھ دے۔ جسے مانے بغیر چارہ نہ رہے۔ یہ برہان خود رسول اللہ ﷺ کی ذات بابرکات ہے۔ آپ کی صورت و سیرت ، لگن و مگن ، اخلاق اور شیریں زبانی، آپ کی محنت اور مشقت، آپ کی ضان فشانی اور قربانی، آپ کی قیادت اور نظامت، آپ کی سیاست اور حکومت ، آپ کا صلح و جنگ ، آپ کی تبلیغ و تنظیم اور جہاد و قتال، آپ کی محبت اور معافی غرض جس پہلو سے بھی دیکھئے آپ کی ذات ایک معجزہ ہے۔ کیا اس دلیل کے بعد کسی دلیل کی ضرورت ہے ؟ خصوصاً جب کہ اس برہان کے ساتھ نور مبین بھی ہے یعنی قرآن کریم جو صحیح راستہ دکھانے والی روشنی ہے۔ اب جب کہ برہان یعنی پیغمبر بھی ہے اور نور مبین یعنی قرآن کریم بھی ہے، تو اے لوگو ! تم اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کی راہ میں تن من دھن سے ڈٹ جاؤ۔ اللہ تمہیں اپنی رحمت اور بخشش خاص میں داخل کرے گا۔
Ayah 4:176

یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 4:176 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) لوگ آپ سے کلالہ کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجئے اللہ تمہیں حکم دیتا ہے اگر کوئی شخص مر جائے جس کے بیٹا بیٹی (یا ماں باپ زندہ) نہ ہوں مگر اس کی ایک بہن ہو تو اس بہن کو ترکہ آدھا (2/1) ملے گا۔ اور وہ بھائی اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر بہن بےاولاد مر جائے۔ اگر بہنیں دو (یا اس سے زیادہ) ہوں تو ان سب کو کل ترکہ میں سے دو تہائی (3/2) ملے گا۔ اگر وارث چند بھائی بہن ہوں تو ایک بھائی کو دو بہنوں کے برابر حصہ ملے گا۔ اللہ صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہی میں نہ پڑو۔ اور اللہ ہر بات کو خوب جانتا ہے۔

آیت نمبر 176 لغات القرآن : ھلک، ہالک ہوگیا، مرگیا۔ کانتا، دونوں ہوں۔ اثنتین، دو ۔ الثلثن، دوتہائی۔ تشریح : اس آیت سے اسلام کی دو عظیم شانیں نظر آتی ہیں۔ نمبر ایک تقسیم میراث ہے۔ اسلام امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر نہیں بنانا چاہتا۔ وہ دولت کا پھیلاؤ چاہتا ہے جس کی ایک اہم شکل ہے کسی کی دولت کو اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثا میں تقسیم کردینا۔ کچھ اس طرح کہ انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے اور کسی کو شکایت نہ ہو۔ اور عورتوں کو بھی مراث میں پورا پورا حق ملے۔ دوسری شان اس آیت سے یہ ظاہر ہے کہ اگرچہ بات ہو رہی ہے تقسیم میراث کی جو بڑا خشک اور بےمزہ مسئلہ ہے لیکن طرز بیان وہی ادیبانہ شان لئے ہوئے ہے جو قرآن میں ہر جگہ ہے۔ یہ قرآن کا معجزہ ہے کہ موضوع ہزار خشک بلکہ تلخ سہی، کہنے کا طریقہ وہی ادب و انشا کی چاشنی اور حلاوت میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس سے لطیف تر انداز انسانی طاقت سے باہر ہے۔ الحمداللہ سورة نساء کا ترجمہ اور تشریح مکمل ہوگئی ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو ہم نے اس سورت کے ترجمہ اور تفسیر میں پڑھی ہیں۔ آمین ثم آمین۔ واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین