4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 4:65–70

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 4:65 in the Quran reader

(پھر اے نبی ﷺ قسم ہے آپ کے پروردگار کی یہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک یہ اپنے تمام آپس کے جھگڑوں میں آپ ہی کو فیصلہ کرنے والا نہ بنالیں اور پھر جو کچھ آپ فیصلہ فرما دیں اس پر اپنے دلوں میں کوئی بوجھ اور گرانی محسوس نہ کریں اور آپ کے فیصلے کو پوری طرح مان لیں۔

وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ Open ayah 4:66 in the Quran reader

اور اگر ہم ان منافقوں پر یہ بات فرض کردیتے کہ تم اپنی جانوں کو قتل کر دو یا اپنے گھروں کو چھوڑ کر نکل جاؤ تو سوائے کچھ لوگوں کے ان میں سے کوئی بھی اس حکم کو نہ مانتا اور اگر یہ لوگ اس پر عمل کرتے جو ان کو نصیحت کی جارہی ہے تو یہ بات ان کے حق میں بہتر ہوتی اور ان کے ایمان کو پختہ کردیتی۔

وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:67 in the Quran reader

اور جب یہ ایسا کرتے تو ہم ان کو اپنے پاس سے بہت بڑا اجر وثواب عطا کرتے

وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا Open ayah 4:68 in the Quran reader

اور ان کو صراط مستقیم پر چلاتے۔

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًاؕ Open ayah 4:69 in the Quran reader

اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و پیروی کرے گا تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام و اکرام کیا ہے جیسے انبیاء کرام ، صدیقین ، شہداء اور صالحین اور یہ لوگ بڑے اچھے ساتھی ہیں۔

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠ Open ayah 4:70 in the Quran reader

اور یہ اللہ کے بڑے فضل و کرم میں سے ہے کہ اللہ کا باخبر ہونا ہی سب کے لئے کافی ہے۔

آیت نمبر 65-70 لغات القرآن : شجر، جھگڑا ہوا۔ حرج، تنگی۔ قضیت، آپ نے فیصلہ کردیا۔ اشد تثبیتا، بہت مضبوط۔ انعم اللہ، اللہ نھے انعام کیا۔ حسن، بہترین۔ رفیق، ساتھ، ساتھی۔ تشریح : نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں بظاہر کسی مومن کا آپ کی عدالت میں مقدمہ نہ لانا یا آہ کے فیصلے سے دل و جان سے راضی نہ ہونا منافقت کی دلیل تھی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے نبی ﷺ ! تمہارے رب کی قسم وہ لوگ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جو اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو منصف نہ مان لیں اور پھر جو کچھ آپ فیصلہ کردیں اس پر دل میں کوئی تکلف اور تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سر جھکا کر تسلیم و اطاعت کی روش اختیار کریں۔ اب حضور ﷺ نے دنیا سے پردہ فرما لیا ہے لیکن آپ کی سنت زندہ ہے۔ مومن کی شان یہ ہے کہ اس فیصلہ پر دل و جان سے سرجھکا دے جو قرآن و سنت کی روشنی میں کیا گیا ہو ورنہ وہ منافق ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب آں حضرت ﷺ نے حضرت زینب ؓ کی شادی حضرت زید ؓ بن حارثہ سے کردی جو ایک آزاد کردہ غلام تھے تو حضرت زینب ؓ کے رشتہ دار دل سے ناراض ہوئے۔ لیکن جب یہ آیت 65 اتری تو سب سے سر تسلیم خم کردیا۔ منافقوں کے سلسلہ میں آگے کی ایات 67 اور 68 بتایا گیا ہے کہ یہ وہی حکم مانتے ہیں جس میں ان کا فائدہ ہے۔ اگر کوئی حکم ان کے لئے سخت ہے تو نہیں مانتے۔ مومن کی شان یہ ہے کہ جو حکم بھی دیا جائے اس پر بےچون و چرا عمل کرتے ہیں۔ اس طرح اس کے تین فائدے ہیں۔ (1) اللہ کا حکم ہمیشہ بندے کی بھلائی کے لئے ہوتا ہے۔ عین ممکن ہے یہ بھلائی آگے چل کر ظاہر ہو۔ (2) اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے بڑا اجر عنایت کرتا ہے اور صراط مستقیم پر چلنے کی زیادہ توفیق عطا کرتا ہے۔ اللہ اور رسول کی اطاعت کرنے والوں کے لئے جو انعامات آخرت میں رکھے گئے ہیں ان میں ایک زبردست انعام کا ذکر یوں فرمایا گیا ہے کہ جو بھی اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ آخرت میں ان لوگوں کے ساتھ رہے گا جن پر اللہ نے انعامات نازل کئے ہیں یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ اس آیت سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انبیاء ، صدیقین، شہداء اور صالحین جنت میں باہم ہر وقت ملتے جلتے رہیں گے اور کوئی تفریق نہ ہوگی۔ کوئی شخص نبی اور صدیق نہیں بن سکتا لیکن شہید اور صالح بننے کی انتہائی کوشش کرسکتا ہے۔
Ayahs 4:71–76

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا Open ayah 4:71 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ہتھیار بند رہو اور مقابلے کے لئے نکلوالگ الگ دستوں میں یا ایک اکٹھی فوج بن کر۔

وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا Open ayah 4:72 in the Quran reader

اور (ہوشیار ! ) تمہارے درمیان ایسے افراد بھی ہیں جو لڑائی میں جانا نہیں چاہتے۔ اگر کہیں تمہیں شکست ہوگئی تو ایسا شخص کہے گا کہ اللہ نے مجھ پر کرم کیا کہ میں ان کے ساتھ نہ تھا۔

وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 4:73 in the Quran reader

اور اگر کہیں اللہ کے فضل و کرم سے تمہاری جیت ہوگئی تو اس طرح کہے گا گویا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی تعلق ہی نہ تھا کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو کتنا مال اور عزت حاصل کرلیتا۔

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:74 in the Quran reader

اللہ کی راہ میں قتال کرنا ان لوگوں کے لئے لازم ہے جنہوں نے دنیا کی زندگی کا سودا آخرت کے بدلے میں کرلیا ہے۔ اور وہ جو اللہ کی راہ میں قتال کرے گا خواہ وہ شہید ہو یا غازی تو ہم ضرور اسے عظیم بدلہ عطا کریں گے۔

وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:75 in the Quran reader

آخر کیا سبب ہے کہ تم ان مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر قتال نہ کرو گے جو کمزور پڑ کر دب گئے ہیں۔ اور پکار رہے ہیں کہ اے ہمارے رب اس جگہ سے ہماری جان چھڑا جہاں کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارے لئے کوئی نجات دینے والا بھیج۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ Open ayah 4:76 in the Quran reader

وہ جو ایمان والے ہیں وہ یقیناً اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں۔ اے مومنو ! شیطان کے طرف داروں سے قتال کرو۔ اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں بہت کمزور ہیں۔

آیت نمبر 71-76 لغات القرآن : حذر، بچاؤ۔ انفروا، نکلو۔ ثبات، الگ الگ۔ لیبطئن، البتہ وہ دیر کرے گا۔ مودۃ، دوستی۔ یلیتنی، اے کاش کہ میں۔ افوز، میں کامیاب ہوں (کامیاب ہوجاتا ہے) ۔ یقتل، قتل کیا گیا۔ یغلب، غالب آئے گا۔ المستضعفین، کمزور، الولدان، بچے۔ اخرجنا، ہمیں نکال۔ اولیاء الشیطن، شیطان کے دوست اور ساتھی۔ کید، فریب، دھوکہ۔ تشریح : ان آیات میں قتال یعنی فوجی حکمت عملی پر بہت زور دیا گیا ہے، جنگ احد کے بعد کفار اور منافقین یہ سمجھ کر ہر طرف سے منڈ کر آنے لگے کہ مسلمان کمزور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرماتے ہوئے مسلمانوں کو قتال کا حکم دے دیا اور یہ کہہ کر ان کی ہمت بندھائی کہ اہل طاغوت بڑے زور و شور سے اٹھتے ہیں اور بڑی بڑی جنگی تدبیریں کرتے ہیں مگر ان کی تمام چالیں آگے چل کرنا کام ہو کر رہیں گے۔ مگر شرط یہ ہے کہ نہ صرف تم مومن رہو بلکہ صرف اللہ کی راہ میں لڑنے کی ٹھان لو جس میں تمہارا کوئی دنیاوی مقصد نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے اجر عظیم اور بڑی کامیابی کا وعدہ کیا ہے مگر تخصیص نہیں کی کہ یہ انعامات کہاں ملیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ انعامات تو آخرت میں ضرور مل کر رہیں گے مگر دنیاوی کامیابی بھی عین ممکن ہے۔ بہرکیف مومن کو صرف اخروی انعامات کو پیش نظر رکھنا چاہئے کیونکہ اس نے اپنی دنیا کو اپنی آخرت کے لئے فروخت کردیا ہے۔ جہاد و قتال کے بہت سے مقاصد ہو سکتے ہیں لیکن ایک بڑا مقصد ان لوگوں کی مدد کو پہنچنا ہے جو دنیا بھر میں ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں محض اس لئے کہ وہ اہل ایمان ہیں۔ اس وقت عرب میں بہت سے علاقے ایسے تھے جہاں کافروں کا زور تھا اور وہ مسلمانوں پر ظلم و ستم توڑ رہے تھے۔ اگر ان مظلوم مسلمانوں کو بےیارومددگار چھوڑ دیا جائے گا تو نہ صرف وہ ختم کر دئیے جائیں گے بلکہ اسلام کا پھیلنا مشکل ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں جہاد و قتال کی تین تدبیریں بتائی ہیں۔ (1) یہ کہ حالات نازک ہیں۔ مسلح رہو اور مقابلہ کے لئے تیار رہو۔ یعنی جنگی تیاریوں سے غافل نہ ہو۔ (2) یہ کہ جب تم نکلو تو جماعت بن کر خواہ چھوٹی جماعت ہو یا بڑی جماعت کیونکہ کسی بھی جماعت کیلئے تنظیم ہی جان ہوا کرتی ہے۔ (3) یہ کہ منافقین سے ہوشیار رہو۔ تمہاری صفوں کے اندر منافقین موجود ہیں۔ اور منافق وہ ہے جو جہاد و قتال سے جی چراتا ہے۔ جسے اسلام سے نہیں بلکہ سراسر اپنے دنیاوی مفاد سے دلچسپی ہوتی ہے۔
Ayahs 4:77–80

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا جنہیں حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روک لو نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیتے رہو۔ پھر جب انہیں قتال کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے اس طرح ڈرتا ہے جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہیے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ یہ لوگ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم پر قتال کو کیوں فرض کردیا ہے۔ ابھی اور ذرا مہلت دی ہوتی۔ (اے نبی ﷺ ! ) ان کو سمجھا دیجئے کہ دنیا کا فائدہ برائے نام ہے۔ اور اہل تقویٰ کے لئے آخرت کے فائدے زیادہ بہتر ہیں۔ اور ہاں (انعامات کی بخشش میں) تم پر اک ذرہ برابر ناانصافی نہ ہوگی۔

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

(ان کو سمجھا دیجئے کہ) تم کہیں بھی ہو موت وہیں پہنچ جائے گی خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہی جا چھپو۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر انہیں کچھ فائدہ پہنچ جائے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے ۔ اور اگر کچھ نقصان پہنچ جائے تو (اے نبی ﷺ ! ) آپ پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ تمہاری وجہ سے ہوا۔ انہیں کہہ دیجئے کہ نفع نقصان جو کچھ ہوتا ہے اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ مگر یہ عجیب لوگ ہیں۔ کوئی نیک بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

کہہ دیجئے جو بھلائی تمہیں پہنچتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے ۔ اور اگر نقصان پہنچتا ہے تو وہ تمہارے نفس کی وجہ سے ہے۔ (اے نبی ﷺ ! ) ہم نے آپ کو صرف اس لئے بھیجا ہے کہ آپ پیغام پہنچا دیں ۔ اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جس نے رسول ﷺ کا حکم مانا اس نے اللہ کا حکم مانا۔ اور جو رخ موڑ گیا تو ہم نے آپ کو نگراں بنا کر نہیں بھیجا ہے۔

آیت نمبر 77-80 لغات القرآن : کفوا، روک لو۔ یخشون، ڈرتے ہیں۔ لم کتبت، تو نے کیوں لکھ دیا۔ کیوں فرض کردیا۔ اخرتنا، ہم سے تاخیر کردیتا۔ اجل قریب، قریبی مدت۔ یدرک، تمہیں پالے گا۔ بروج، برج، قلعہ۔ مشیدۃ، مضبوط۔ تشریح : اسلامی تحریک کے ہر قائد کا فرض ہے کہ اپنی صفوں کے اندر کالی بھیڑوں کو پہچان لے۔ یہاں پر نبی مکرم ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ ایسے لوگوں کی پہچان صاف ہے۔ ویسے تو وہ منافق نفسانی جذبات کے لئے لڑنے مرنے کو بیتاب رہتے تھے لیکن جب یہ حکم دیا گیا کہ مت لڑو بلکہ نماز روزہ وغیرہ کے ذریعہ اپنے نفس کی اصلاح کرو تو یہ حکم ان پر شاق گزرا۔ اب جو انہیں نفس کی راہ میں نہیں بلکہ اللہ کی راہ میں لڑنے کو کہا جا رہا ہے تو پھر چیخ رہے ہیں کہ اے اللہ ! تو نے قتال کیوں فرض کردیا۔ ابھی کچھ دنوں اور ہم مال و جان کی خیر منا لیتے۔ فرمایا ان کی پہچان یہ ہے کہ یہ دشمن سے اس قدر ڈر رہے ہیں کہ اللہ سے بھی نہیں ڈرتے۔ حالانکہ موت ان کو وقت پر آکر رہے گی خواہ یہ مضبوط قلعوں کے سہارے ہی کیوں نہ لے لیں۔ منافقین کے مقابلے میں مومنین وہ ہیں جو اپنا فائدہ دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں ڈھونڈتے ہیں۔ دنیا کی نعمتیں قلیل ہیں۔ ان کا یہ مزہ کم ہے۔ ان کا فائدہ چند دنوں کے لئے ہے لیکن آخرت کی نعمتیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہیں۔ ان کا لطف و مزہ بھی زیادہ ہے ان کے حصول میں کوئی محنت نہیں ہے۔ ان کے ساتھ کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ان کے ساتھ کوئی گندگی یا تلخی نہیں ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کوئی ہزار محنت کرے دنیا کی نعمتوں کا ملنا ضروری نہیں ہے۔ آگ پانی زلزلہ لڑائی بیماری چوری اور دیگر بہت سے واقعات ہوتے ہی رہتے ہیں۔ لیکن آخرت کی نعمت اگر اللہ چاہے گا تو ہر صاحب ایمان، صاحب عمل صاحب تقویٰ کو ملنا لازم ہے اور اس کی گمشدگی یا تباہی یا زوال کا کوئی خطرہ نہیں۔ جنگ احد میں جو نقصان پہنچا تھا بعض ان لوگوں کی غفلت سے ہوا جو مال غنیمت لوٹنے کی خاطر یا جذبہ جہاد سے بےتاب ہوکر درہ کی حفاظت کو چھوڑ کر جنگ میں شریک ہوگئے حالانکہ حضور پر نور ﷺ کا صریح حکم تھا کہ خواہ کچھ ہوجائے درہ کی حفاظت ضرور کی جائے گی۔ بعضوں نے اس حکم کی تعمیل میں اجتہادی غلطی کی اس لئے یہ عظیم نقصان ہوکر رہا۔ ان آیات میں صاف صاف کہہ دیا گیا ہے کہ جس نے رسول ﷺ کا حکم مانا اس نے اللہ کا حکم مانا۔ بالفاظ دیگر رسول ﷺ کی اطاعت سے منہ موڑنا اللہ کے عذاب میں گرفتار ہونا ہے ۔ رسول ﷺ کو بھی بتا دیا گیا ہے کہ آپ کا کام پیغام الٰہی پہنچا دینا ہے۔ جو مانتا ہے مانے جو نہیں مانتا ہے اسکا معاملہ اللہ کے حوالہ ہے۔
Ayahs 4:81–82

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

زبان سے تو وہ اطاعت کا دم بھرتے ہیں۔ لیکن (اے نبی ﷺ ! ) جب وہ آپ کے پاس سے اٹھ کر جاتے ہیں تو ان میں سے ایک جماعت رات کو جمع ہوکر آپ کی باتوں کے برخلاف مشورے کرتی ہے۔ اللہ ان کی تمام آپس کی گفتگو کو لکھ رہا ہے۔ آپ انہیں نظر انداز کر دیجئے اور اللہ ہی پر بھروسہ کیجئے۔ آپ کا کام بنانے کے لئے اللہ کافی ہے۔

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

کیا یہ لوگ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے۔ اگر یہ وحی، اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتی تو بہت زیادہ اختلاف پاتے۔

آیت نمبر 81-82 لغات القرآن : طاعۃ، اطاعت۔ برزوا، وہ نکلے۔ بیت، رات کو جمع ہوکر باتیں کیں۔ یبیتون، وہ رات گزارتے ہیں۔ اعرض، چھوڑ دو ، منہ پھیر لو۔ افلا یتدبرون، وہ غور و فکر کیوں نہیں کرتے۔ تشریح : منافقین کی پہچان یہ ہے کہ ظاہر کچھ اور باطن کچھ۔ جب دن میں حضور کی محفل میں ہوتے تو بڑھ بڑھ کے آپ کی اطاعت کا دم بھرتے لیکن رات کے اندھیرے میں ان کے سردار جمع ہو کر آپ کے خلاف مشورہ کرتے اور تدبیریں سوچتے رہتے۔ وہ اس بات کا ذرا خیال نہ کرتے کہ د ن میں انہوں نے نبی مکرم ﷺ سے کیا کیا وعدے کئے تھے۔ کہا جا رہا ہے (اے نبی ﷺ ! ) آپ ان باتوں کو اپنے دل پر نہ لیں بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھیں وہی کارساز ہے۔ منافقین کو وہ کرنے دیجئے جو وہ کرتے ہیں۔ ان کا حساب کتاب لینے کے لئے اللہ کافی ہے۔ یہ منافقین اس بارے میں شک کر رہے ہیں کہ یہ وحی اللہ ہی کی طرف سے آئی ہے۔ فرمایا منافقین قرآن کریم کے مضامین میں غور و فکر کرتے تو ان کی سمجھ میں آجاتا کہ سالہا سال سے جو باتیں کہی جا رہی ہیں وہ یکساں ہیں۔ ان میں مقصد یا مقصودیت کا کوئی فرق نہیں۔ اس کے انداز بیان میں کوئی فرق نہیں۔ وہی فصاحت ، وحی بلاغت، معنی و مطلب کی وہی گہرائی، وسعت اور بلندی، اگر اس کی تصنیف میں کسی دوسرے کا بھی ہاتھ ہوتا تو مقصد کلام کا بھی فرق ہوتا اور انداز کلام کا بھی۔ کہیں پر کچھ اور کہیں پر کچھ ہوتا۔ پڑھنے اور سننے والا خیالات کی ٹکر اور پریشانی ہی میں گم ہو کر رہ جاتا۔ اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ قرآن صرف تلاوت ہی کے لئے نہیں آیا بلکہ تدبر کے لئے بھی آیا ہے۔ اور ہر شخص جس کے پاس غوروفکر کے لئے علم و عقل ہے یا علم و عقل حاصل کرسکتا ہے وہ اس کی گہرائی میں اتر سکتا ہے اور معافی و مطالب کے موتی حاصل کرسکتا ہے۔
Ayahs 4:83–84

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی خبر پہنچتی ہے تو وہ اسے پھیلاتے پھرتے ہیں حالانکہ ان کے لئے ضروری تھا کہ اس خبر کو رسول ﷺ تک پہنچاتے یا پھر ذمہ داروں تک تاکہ صحیح غلط کی چھان بین کرلیتے اور اس میں سے کام کی بات چھانٹ لیتے۔ (اے مسلمانو ! ) اگر اللہ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا تو چند لوگوں کے سوا تم تو شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! آپ اللہ کی راہ میں قتال کیجئے۔ آپ اپنی ذات کے سوا کسی دوسرے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ ہاں مومنین کو جہاد و قتال پر ابھارتے دیہئے۔ قریب ہے کہ اللہ کافروں کی ہمت پست کر دے گا۔ اور اللہ جنگ میں بھی بہت زور آور ہے اور سزا دینے میں بھی۔

آیت نمبر 83-84 لغات القرآن : اذاعوا، انہوں نے مشہور کردیا۔ یستنبطونہ، وہ اس کی تحقیق کرلیتے۔ لاتکلف، جنہیں ذمہ دار نہیں بنایا جائے گا۔ حرض، آمادہ کیجئے، رغبت دلائیے۔ ان یکف، یہ کہ وہ روک دے۔ اشدباس، لڑائی میں بہت سخت۔ اشد تنکیلا، سزا دینے میں سخت۔ تشریح : جھوٹی سچی خبریں پھیلانا نفس کی کمزوری ہے اور جنگ و جہاد کے دنوں میں دشمن کے ہاتھ میں غلط افواہیں پھیلانے کا خاص ہتھیار ہوتا ہے ۔ وہ اپنے مطلب کے لائق طرح طرح کی خبریں اڑاتا بھی ہے اور اڑواتا بھی ہے۔ منافقین اور کمزور عقل مسلمان ان خبروں کو لے کر بلکہ نمک مرچ لگا کر جگہ جگہ پھونکتے پھرتے ہیں۔ جھوٹا اطمینان دلاتے ہیں یا جھوٹا خوف پھیلاتے ہیں۔ ان آیات میں منافقین کو اور کمزور ایمان والے مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دشمن کے ہاتھ میں نہ کھیلیں اور جھوٹی سچی خبروں کے اڑانے کے گناہ میں ملوث نہ ہوں۔ ساتھ ہی ساتھ عام مسلمانوں کو بھی بتا دیا گیا ہے کہ ان خبروں کا کوئی اعتبار نہ کریں جو ذمہ دار حلقوں کی طرف سے نہ آئیں۔ اگر کوئی خبر کہیں سے کسی کو ملے تو وہ فوراً نبی کریم ﷺ اور ذمہ دار صحابہ ؓ تک پہنچا دیں تاکہ وہ تحقیقات کرلیں اور جس حد تک ضروری سمجھیں لوگوں کو بتائیں۔ ان آیات میں حضور ﷺ کو حکم ہے کہ اگر کوئی بھی ساتھ نہ دے تو آپ اکیلے ہی دشمن سے ٹکر لے لیں۔ لیکن جماعت بنانے کی کوشش ضرور کریں اور اس کے لئے مسلمانوں کو جہاد و قتال کی زوردار ترغیب دیں۔ خواہ آپ کی جماعت چھوٹی ہو یا بڑی، آپ کی مدد کے لئے اللہ کافی ہے۔ وہ آپ کا رعب دشمنوں کے دل میں ڈال دے گا۔ دشمن خود میدان میں انے کی ہمت نہ کرے گا۔ جہاں تک کافروں کا تعلق ہے اللہ جنگ میں بہت زور آور ہے۔ جہاں تک منافقوں کا تعلق ہے اللہ انہیں سزا دینے میں بڑی طاقت و قوت رکھتا ہے۔
Ayahs 4:85–86

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو شخص نیکی کی سفارش کرے گا وہ ثواب پائے گا ۔ جو برائی کی سفارش کرے گا وہ بدلہ پائے گا۔ اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب کوئی تمہیں محبت اور عزت سے سلام کرے تو تم بہت اچھے طریقہ سے سلام کا جواب دے دو یا کم از ویسا ہی جواب دو ۔ بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

آیت نمبر 85-86 لغات القرآن : یشفع، سفارش کرتا ہے۔ شفاعۃ حسنۃ، اچھی سفارش، شفاعۃ سیئۃ، بری سفارش۔ کفل، حصہ۔ مقیت، نگہبان، حییتم، تمہیں دعا دی گئی ، سلام کیا۔ حیوا، تم دعا دو ، سلام کرو۔ تشریح : یہاں شفاعت کے کم از کم دو معنی ہیں۔ اول تبلیغ و ترغیب۔ دوسرے حکام بالا تک کسی کی سفارش کرنا۔ ایک معنی اور بھی ہوتے ہیں کسی بےقصور کی وکالت کرنا۔ اب یہ اپنی اپنی توفیق ہے کوئی اسلام کی تبلیغ کرتا ہے کوئی کفر کی۔ کوئی لوگوں کو راہ ہدایت پر لانے کی کوشش کرت ا ہے تو کوئی راہ شیطنت پر لانے کی۔ دونوں کو جزا ملے گا۔ ایک کو ثواب کی دوسرے کو عذاب کی۔ سفارش کے یہ معنی بھی ہیں کہ صاحب حکم و اختیار کے پاس کسی کے خلاف یا کسی کے حق میں دلیل ، بیان واقعہ یا اپنی دوستی اور تعلقات کے اثر کو استعمال کرنا۔ بشرطیکہ جائز کام کے لئے ہو۔ کسی کو ناجائز حق دلانے کے لئے نہیں یا کسی کا جائز حق مارنے کے لئے نہیں۔ اگر یہ کسی ایسے شخص کی بات اوپر پہنچانے کے لئے ہو جو خود اپنی بات پہنچا نہیں سکتا تو اللہ کے ہاں اس کا ثواب بہت زیادہ ہے۔ اس سفارش میں دعا بھی شامل ہے۔ اگر یہ سفارش کسی کا جائز حق مارنے کیلئے ہے یا ناجائز حق دلانے کے لئے ہے۔ اگر اس سفارش کے پیچھے حق و صداقت نہ ہو بلکہ دنیا کی غرض یا رشوت یا اقربا پروری یا قوم پروری ہو۔ یا محض جذبہ دوستی یا جذبہ دشمنی ہو تو اس کا عذاب ہو کر رہے گا۔ آیت 85 سے ظاہر ہے کہ سفارش میں ثواب یا عذاب پانے کیلئے کامیابی کی شرط نہیں۔ محض سفارش کردینا کافی ہے۔ بات مانی جائے یا نہ مانی جائے۔ سفارش میں نبی کریم ﷺ کی عدالت میں بھی بات پہنچانا شامل ہے۔ صحیح سفارش بھی یا غلط سفارش بھی۔ اللہ کے ہاں اپنے اپنے نتیجے کے ساتھ سامنے آجائے گا۔ آیت 86 میں بتایا گیا ہے کہ جب وہ مسلمان آپس میں ملیں تو انہیں کس طرح سلام کرنا چاہئے۔ نہ صرف یہ ادب وتمیز کا ایک طریقہ ہے بلکہ تعلقات عامہ کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ یہ سلامتی کی دعا ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اس سے اجنبی بلکہ دشمن سے بھی ربط ضبط بڑھتا ہے۔ اور مسلمانوں میں باہمی تعلقات زیادہ گہرے اور محبت والے ہوجاتے ہیں ۔ یہ اسلام کی خاص پہچان ہے۔ حکم ہے کہ نہ صرف تم سلام کرنے میں پہل کرو بلکہ اگر کوئی محبت اور عزت سے تمہیں سلام کرے تو بہتر طریقہ سے جواب دو ۔ یعنی السلام علیکم کا جواب وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہونا چاہئے۔ سلام کرنا اور جواب دینا یہ معنی بھی رکھتا ہے کہ میں تمہارا دشمن نہیں ہوں اور تمہاری بھلائی کا خوستگار ہوں۔ یہاں بھی اور وہاں بھی۔ آنحضرت ﷺ ارشاد ہے کہ اے مومنو ! تم آپس میں سلام کرنے کے طریقے کو پھیلاؤ۔ سلام کا جواب بہتر طریقہ پر دینے کے لئے صرف الفاظ ہی نہیں بلکہ انداز بھی مخلصانہ ہونا چاہئے اگر ایک شخص منہ پھلا کر بےرخی ہے ” وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ “ کہتا ہے لیکن انداز دوسرے کو ذلیل کرنے کا ہے تو اس کو بہتر جواب نہیں کہا جائے گا۔ سلام کا بہترین جواب الفاظ اور اپنے مخلصانہ انداز سے ہی ممکن ہے۔
Ayah 4:87

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ انہیں قیامت کے دن میں ضرور جمع کرے گا جس کے ہونے میں شک نہیں ہے اور اللہ سے بڑھ کر اور کس کی بات سچی ہوسکتی ہے۔

آیت نمبر 87 لغات القرآن : لیجمعنکم ، البتہ وہ ضرور تمہیں جمع کرے گا ۔ اصدق، زیادہ سچا۔ حدیث، بات ۔ تشریح : کافروں اور منافقوں کو اس بات میں سراسر شک تھا کہ قیامت آئے گی یا نہیں۔ انہیں اس بات پر بھی شک تھا کہ یہ کیسے ہوگا کہ تمام انسانوں کو جمع کرکے ان سے حساب کتاب لیا جائے گا۔ اور پھر انہیں جنت یا جہنم میں بھیج دیا جائے گا۔ اس آیت میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ قیامت کا دن ایک ایسا یقینی دن ہے جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ بات اس ذات کی طرف سے ہے جس کا قول سب سے سچا قول ہوتا ہے۔ ہر شخص قیامت آنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوگا اور پھر اسے اپنی زندگی کے ایک ایک لمحہ کا حساب دینا ہوگا۔ اس دن صرف وہی لوگ کامیاب و با مراد ہوں گے جنہوں نے اللہ کے احکامات پر یقین کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوگی۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی ہوگی وہ دن ان کے لئے بڑا ہی حسرت ناک ہوگا اور پھر وہ اس کا کچھ بھی مداوا نہ کرسکیں گے۔
Ayahs 4:88–90

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

(اے مسلمانو ! ) تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہارے اندر دو جماعتیں ہوگئی ہیں حالانکہ اللہ نے ان کو ان کے اعمال کے سبب الٹ دیا ہے۔ کیا تم چاہتے ہو کہ تم اس کو راہ پر لے آؤ جس کو اللہ نے راہ سے بھٹکا دیا ہے اور جس کو اللہ ہی نے گمراہ کردیا ہو تو اسے راہ ہدایت پر نہیں لاسکتے۔

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر ہوجاؤ جس طرح وہ کافر ہیں تاکہ تم دونوں کا درجہ برابر ہوجائے۔ لہٰذا ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ جب تک وہ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں۔ اور اگر وہ ہجرت فی سبیل اللہ سے منہ پھیر لیں تو ان کو پکڑو اور جہاں پاؤ ان کو قتل کر دو ۔ اور ہرگز ان میں سے کسی کو اپنا دوست یا مددگار نہ بناؤ۔

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

مگر یہ حکم ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جو کسی ایسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں۔ جس سے تمہارا دوستی کا معاہدہ ہو۔ یا جو تمہارے پاس لڑائی سے دل تنگ ہو کر آگے ت ہوں کہ وہ نہ تو تم سے لڑنا چاہتے ہیں اور نہ اپنی قوم سے۔ یہ جان لو کہ اللہ ان کی قوم کو تم پر زور دے دیتا تو وہ ضرور تم سے لڑتے۔ اب اگر ایسے لوگ (لڑائی میں غلبہ کی طاقت نہ پاکر ) مجبوراً تم سے لڑائی نہ کریں بلکہ تم سے صلح کے لئے ہاتھ پڑھائیں تو اللہ نے ان پر تمہیں ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں دی۔

آیت نمبر 88-90 لغات القرآن : مالکم، تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ فئتین، وہ جماعتیں۔ ارکس، الٹ دیا۔ یصلون، وہ ملتے ہیں۔ حصرت، رک گئی، رک گئے۔ اعتزلوا، وہ علیحدہ ہوگئے۔ السلم، صلح۔ تشریح : جس زمانے میں رسول اللہ ﷺ نے ہجرت فرمائی اس زمانے میں ہر مسلمان کو حکم تھا کہ جو مسلمان جہاں کہیں بھی ہے بشرط طاقت مدینہ کی طرف ہجرت کر جائے۔ ورنہ اس کا شمار منافقین میں ہوگا۔ ان میں ایک طبقہ تو وہ تھا جو جانے کے لئے مالی اور دوسری استطاعت نہیں رکھتا تھا۔ وہ تمام مظلومیت کے باوجود مجبوراً اپنی جگہ رہ گیا۔ ان کا شمار مستضعفین میں ہوا۔ دوسرا طبقہ وہ تھا جو اپنے دنیاوی مفاد کی خاطر ہجرت سے گریز کرتا تھا۔ یہ لوگ بظاہر اسلام میں داخل ہوچکے تھے۔ نماز روزہ وغیرہ بھی کرتے تھے لیکن کافروں کے ساتھ مل کر اسلام کے خلاف ان کی ہر کوشش اور کاوش میں شریک رہتے تھے۔ اس دوسرے طبقہ کے متعلق مسلمانوں میں دورائے ہوگئی تھیں ایک مکتب خیال کہتا تھا کہ یہ مسلمان ہیں۔ ہم ان کے خلاف کیسے قدم اٹھا سکتے ہیں۔ دوسرا مکتب خیال کہتا تھا کہ یہ منافق ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں دوسرے مکتب خیال کا ساتھ دے کر صاف صاف اعلان کردیا کہ یہ منافقین ہیں۔ ان کی قسمت ہی میں گمراہی لکھی ہے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ ان سے دوستی اور محبت حرام ہے۔ جہاں ملیں ان کو پکڑ لو۔ یا قتل کردو کیونکہ ایسے لوگوں کا کفر و ارتداد ظاہر ہوگیا تھا اور نہ منافقین تو قتل نہیں کئے جاتے تھے۔ ان آیات میں کچھ دوسرے منافقین کا ذکر بھی ہے کہ وہ بظاہر ہجرت کرکے مدینہ آگئے ہیں لیکن وہ اسلام کے وفا دار نہیں ہیں۔ وہ اس لئے آگئے ہیں کہ کفر و اسلام کی مسلسل لڑائیوں سے ان کے مفاد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اور ان کی قوم جیت نہیں رہی ہے۔ اگر ان کی قوم لڑائی میں غلبہ پاتی تو یہ منافقین اپنی قوم کی طرف سے لڑتے۔ اب اگر مجبوراً وہ پرسکون اور پر امن ہیں تو ان پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں۔ منافقین کی تیسری قسم وہ ہے جن کا تعلق ایسی قوم سے ہے جس کے اور مسلمانوں کے درمیان جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے۔ جب تک وہ امن سکون سے ہیں ان کے خلاف بھی ہاتھ اٹھانا جائز نہیں۔ جب تک مکہ فتح نہیں ہوا تھا مومنین کو ہجرت کا حکم تھا۔ مومن بننے کے لئے ہجرت اور ایمان دونوں کی شرط تھی۔ صرف ہجرت یا صرف ایمان مستضعفین کے سوا کسی کے لئے کافی نہ تھا۔ علماء جمہور کے نزدیک فتح مکہ کے بعد ہجرت کے لئے یہ حکم منسوخ ہوگیا ہے اور پوری امت کا اسی پر اجماع ہے۔
Ayah 4:91

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

ایک اور قسم کے منافقین وہ ہیں جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی نہ لڑیں اور اپنی قوم سے بھی نہ لڑیں۔ لیکن جیسے ہی کوئی شرارت کا موقع پائیں گے تو وہ باز نہیں رہیں گے۔ پھر اگر وہ تم سے فساد کریں اور صلح نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو ان کو جہاں پاؤ پکڑو اور قتل کر ڈالو اور ان کے خلاف (ان اقدامات کی) ہماری طرف سے کھلی اجازت ہے۔

آیت نمبر 91 لغات القرآن : اخرین، دوسرے۔ یا منوکم، تم سے امن میں رہیں۔ لم یعتزلوا، الگ نہ ہوں۔ سلطان مبین، کھلا اختیار ہے۔ تشریح : منافقین کی تین قسموں کا بیان کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ چوتھی قسم کی نشان دہی فرما رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مفاد کی خاطر امن چاہتے ہیں لیکن مسلمانوں کے خلاف شرارت اور فتنہ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہ چھپ کر بھی وار کرتے ہیں اور کھلم کھلا بھی جیسا موقع ہو۔ اگر یہ لوگ راہ راست پر نہ آئیں اور صلح نہ کریں تو پھر مسلمانوں کو اس بات کی اجازت دے دی گئی ہے کہ اس فتنے کا سر کچلنے کے لئے جہاں بھی یہ ہاتھ لگ جائیں ان کو پکڑا جائے یا قتل کردیا جائے۔ کیونکہ دلیل سے ان کا مسلمان نہ ہونا چابت ہوگیا اسی لئے ان کا حکم عام مرتد کفار کی طرف سے ہے۔
Ayahs 4:92–93

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

کسی مومن کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ دوسرے کسی مومن کو قتل کر دے۔ سوائے اس کے کہ وہ غلطی سے قتل کر دے اور جو شخص غلطی سے کسی مومن کو قتل کر دے تو اس کا کفارہ ایک مومن کی گردن آزاد کرنا ہے۔ اور مقتول کے ورثا کو اگر وہ خون بہا معاف نہ کریں تو خون بہا ادا کرنا ہے۔ لیکن اگر مقتول کا تعلق کسی ایسی قوم سے ہو جس سے تمہاری دشمنی ہو اور وہ مومن ہے تو ایک مومن غلام کو آزاد کرنا اس کا کفارہ ہے ۔ اگر مقتول کا تعلق کسی ایسی کافر قوم سے تھا جس سے تمہارا دوستی کا معاہدہ ہو تو اس کے ورثا کو خون بہا ادا کیا جائے گا اور (اس کے علاوہ) ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا۔ پھر جو ایسا غلام نہ پائے تو اسے بلاناغہ دو مہینے تک روزے رکھنا ہوں گے۔ یہ ان کے لئے اللہ سے توبہ کرنے کا طریقہ ہے اور وہ اللہ علم والا بھی ہے اور حکمت والا بھی۔

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ جلتا رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب ہے اور لعنت ہے۔ اور اس کے لئے عذاب عظیم تیار ہے۔

آیت نمبر 92-93 لغات القرآن : خطاء، غلطی۔ تحریر، آزاد کرنا۔ رقبۃ، گردن۔ دیۃ، خون بہا، خون کے بدلے میں مقرر شدہ معاوضہ مسلمۃ، سپرد کی جائے گی۔ ان یصدقوا، یہ کہ وہ معاف کردیں۔ متتابعین، مسلسل، پے در پے۔ متعمد، جان بوجھ کر، بالقصد۔ تشریح : اسلام وہ دین ہے جس میں تعزیری قوانین بڑے مرتب طریقے سے بتائے گئے ہیں۔ ان دو آیات میں قتل کی سزا سے بحث ہے۔ اسلام نے سب کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکا ہے۔ بلکہ قتل قتل میں اور اس کی سزا سزا میں فرق کیا ہے۔ قتل کی دو ہی قسمیں ہیں۔ قتل عمد یعنی قتل بالقصد۔ دوسرے قتل بالخطاء یعنی قتل بلاقصد۔ اور مقتول کی بھی چار ہی قسمیں ہیں۔ مومن ہ ویا ذمی کافر ہو یا مصالح (اور مستامن) کا فر یا حربی کافر، سزا یہ ہے :۔ (1) کسی مومن کا قتل عمد۔ اس کی ایک سزا تو دنیاوی ہے اور ایک اخروی، دنیاوی سزا قصاص ہے جس کا ذکر بقرہ میں گزر چکا ہے اور اخروی سزا یہاں سورة نساء میں مذکور ہے کہ اس کیلئے ہمیشہ ہمیشہ کی جہنم ہے۔ خواہ قاتل مومن ہی ہو۔ (2) کسی مومن کا قتل خطا اس کا کفارہ ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے۔ پھر اگر یہ مقتول دار الاسلام کا شہری ہے تو اس کے ورثا کو قاتل کی طرف سے خون بہا بھی ملے گا غلام آزاد کرنا یا روزہ رکھنا تو خود قاتل پر ہے جبکہ خون بہا قاتل کے اہل نصرت پر ہے جن کو شریعت کی اصطلاح میں عاقلہ کہتے ہیں اور اگر مقتول دار الحرب کا شہری ہے تو صرف غلام آزاد کرنا ہے خون بہا اور واجب نہیں لیکن اگر مقتول کا تعلق کسی ایسی کافر قوم سے تھا جس سے مسلمانوں کا معاہدہ امن وصلح دوستی ہو یعنی ذمی یا مصالح و مستامن ہو تو اس کے ورثا کو خون بہا ادا کرنا جو بطور میراث تقسیم ہوگا۔ خون بہا معاف کرنے کی اجازت ورثا کو ہے۔ جزوی یا کلی۔ قاتل اگر مومن غلام نہ پائے یا خریدنے کی طاقت نہ رکھے تو لگاتار دو ماہ روزے رکھے اگر روزے میں بیماری وغیرہ کی وجہ سے تسلسل باقی نہ رہا ہو تو ازسر نو روزے رکھنے پڑیں گے البتہ حیض کی وجہ سے اگر عورت لگاتار روزہ نہ رکھ سکے تو درمیان کی مدت معاف ہے۔ بعد میں گنتی پوری کرلے۔ ان آیات میں حکم یہیں تک ہے۔ قتل کی دوسری صورتوں میں کیا کیا سزا ہوگی اس کا بیان قرآن کی دوسری آیات اور احادیث میں آیا ہے۔ قتل کی دوسری شکلیں حسب ذیل ہیں :۔ (3) ذمی کا قتل عمد : اس صورت کا حکم حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ذمی کے عوض مسلمان سے قصاص لیا۔ (4) ذمی کا قتل خطا : اس کا حکم دوسری صورت میں گزر چکا ہے۔ (5) مصالح یا مستامن کا قتل عمد : اس کا حکم اسی سورت کی آیت نمبر 90 میں گزر چکا ہے کہ اس کا قتل جائز نہیں ہے۔ (6) مصالح یا مستامن کا قتل خطا : اسکا حکم بھی دوسری صورت میں مذکور ہے۔ (7) حربی کا قتل عمد : جہاد کی مشروعیت سے اس کا حکم واضح ہے کیونکہ جہاد میں اہل حرب کو قصداً ہی قتل کیا جاتا ہے۔ (8) حربی کا قتل خطا : جب قصداً قتل کرنے کا حکم ہے تو خطا، تو بطریق اولیٰ جائز ہے۔ اس کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔
Ayah 4:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلو تو ہر کام تحقیق کے ساتھ کیا کرو۔ اور جو شخص تمہیں سلام کرے اسے بغیر تحقیق غیر مسلم قرار نہ دے ڈالو۔ اگر تم دنیاوی زندگی کے فوائد چاہتے ہو تو اللہ کے پاس بہت مال غنیمت ہیں۔ اس سے پہلے تم بھی تو اسی حالت کفر میں تھے۔ پھر اللہ نے تم پر احسان کیا۔ ضروری ہے کہ پہلے تحقیق سے کام لیا کرو۔ بیشک اللہ تمہارے ہر عمل کی خبر رکھتا ہے۔

آیت نمبر 94 لغات القرآن : ضربتم، تم چلے۔ تبینوا، تحقیق کرو۔ القی، ڈال دیا۔ عرض، سامان۔ مغانم، مال غنیمت۔ تشریح : چونکہ چند صحابہ کرام ؓ نے سفر جہاد میں کچھ ایسے لوگوں کو قتل کردیا تھا جو السلام علیکم کہہ کہ سامنے آئے تھے اس شبہ پر کہ انہوں نے اپنی جان بچانے کیلئے السلام علیکم کہا ہے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا ہے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ السلام علیکم بلکہ کلمہ طیبہ پڑھنے والا سچا مسلم بھی ہوسکتا ہے اور جھوٹا مسلم بھی۔ مسیلمہ کذاب السلام علیکم بھی کہتا تھا ، نماز روزہ کی پابندی بھی کرتا تھا اور اپنی جماعت سے پوری اذان دلواتا تھا پھر بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے کی وجہ سے تمام صحابہ کرام ؓ کے نزدیک کافر تھا اور صحابہ کرام ؓ نے اجماع کرکے اور متفق الخیال ہو کر اس کی تمام جماعت کے خلاف جہاد کیا ہے۔ اس لئے یہ حکم ہے کہ جو شخص زبانی اسلام کا اقرار کرتا ہے اور کلمہ پڑھتا ہے اور مسلمانوں کا شعار اپناتا ہے اسے مسلمان ہی سمجھا جائے یہاں تک کہ وہ اپنے کسی عمل یا حرکت یا ختم نبوت کا انکار کرکے کافر ثابت نہ ہوجائے۔ چناچہ حکم دیا گیا ہے کہ پہلے تحقیق کرلو۔ جن لوگوں نے نادانی میں اور جلد بازی میں کسی کلمہ گو مسلمان کو قتل کردیا تھا ان کے خلاف وعید نہیں آئی۔ لیکن آئندہ احتیاط فرض ہے۔ کہا گیا ہے کہ ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ تم اپنا اسلام چھپاتے تھے۔ اب اگر کافروں کے ڈر سے کوئی شخص اپنا اسلام چھپائے ہوئے ہے مگر مسلمانوں کی جماعت کو دیکھ کر طاقت پکڑ رہا ہے اور اپنا اسلام ظاہر کر رہا ہے تو محض اس شبہ پر کہ وہ اپنی جان بچانے کے لئے اپنے آپ کو مسلمان بتا رہا ہے اسے بلا تحقیق تہہ تیغ نہیں کردینا چاہیے۔
Ayahs 4:95–96

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

وہ اہل ایمان جو جہاد کے موقع پر عذر شرعی کے بغیر گھر میں بیٹھے رہ جائیں ہرگز ان کے برابر نہیں ہوسکتے جو اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مال و جان سے جہاد کرنے والوں کا مقام گھر میں بیٹھے رہ جانے والوں کے مقابلے میں بدر جہا بڑھا دیا ہے۔ اگرچہ (مجاہد وغیر مجاہد) دونوں سے اللہ نے نیک اجر کا وعدہ کر رکھا ہے۔ لیکن اللہ نے اپنے فضل و کرم سے گھر میں بیٹھے رہ جانے والوں کے مقابلے میں مجاہدین کو اجر عظیم کا یقین دلایا ہے۔

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

ان کیلئے بلند درجے ہیں اور اللہ بہت مغفرت کرنے والا اور رحمت کرنے والا ہے۔

آیت نمبر 95-96 لغات القرآن : لایستوی، برابر نہیں ہے۔ القاعدون، بیٹھنے والے۔ غیر اولی الضرر، غیر معزور۔ تشریح : حالات حالات پر منحصر ہے کبھی جہاد میں ان تمام مسلمانوں کی طلب ہوتی ہے جو لڑنے کے قا بل ہیں۔ اس وقت جہاد نفیر عام اور فرض عین ہے۔ کبھی زیادہ تعداد مطلوب نہیں ہوتی ۔ اس وقت جہاد فرض کفا یہ ہے۔ یہ آیات فرض کفار سے متعلق ہیں ۔ ایسی حالت میں سب لوگوں کا نکلنا ضروری نہیں۔ اگر کچھ لوگ تجارت زراعت انتظام ملکی تعلیم و تدریس صنعت و حرفت میں لگے رہ جائیں تو ان کیلئے بھی نیک اجر کا وعدہ الٰہی ہے۔ لیکن یہ بات ایک بار نہیں دو بارہ زور دے کر کہی گئی ہے کہ اللہ نے اپنے فضل و کرم سے مجاہدین کا مقام غیر مجاہدین کے مقابلے میں کئی درجے بلند کردیا ہے کیونکہ انہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان کو خطرہ میں ڈال رکھا ہے جبکہ دوسروں کے مال و جان مقابلتاً خطرے میں نہیں ہیں۔ ان آیات میں ان گھر بیٹھے رہ جانے والوں کا ذکر نہیں ہے جو فرض عین کے موقع پر جہاد سے جی چرائیں اور عذر شرعی کے بغیر گھر میں چھپے بیٹے رہیں۔ یہاں انکا ذکر بھی نہیں ہے جنہیں جہاد کا حکم دے دیا گیا ہو لیکن وہ حاضر نہ ہوں۔ بلکہ یہ بتانا ہے کہ اللہ نے دونوں کے درجوں میں بہت فرق رکھا ہے البتہ اجر وثواب کے اپنے درجوں کے مطابق دونوں مستحق ہیں جہاد ایک ایسی کسوٹی ہے جو مسلم اور منافق میں فرق کرکے رکھ دیتی ہے۔ جس طرح نماز ایک ایسی کسوٹی ہے جو مسلم اور کافر میں امتیاز پیدا کرتی ہے۔
Ayahs 4:97–100

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

جب فرشتے ان لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں جو (تارک ہجرت ہوکر) اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے تو پوچھتے ہیں تم یہاں کیوں تھے ؟ وہ کہتے ہیں کہ یہاں ہم بےکس اور کمزور تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین اتنی بڑی نہ تھی کہ تم کہیں ہجرت کرکے چلے جاتے (پھر ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا) تو ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت ہی تکلیف کا ٹھکانا ہے۔

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

حقیقی بےبس اور کمزور وہ مرد عورت اور بچے ہیں جو کوئی بھی تدبیر نکلنے کی نہیں کرسکتے اور نہ انہیں راستہ معلوم ہے۔

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

توقع ہے کہ انہیں معاف کردیا جائے گا۔ اور اللہ معاف کرنے والا اور مغفرت کرنے والا ہے۔

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی راہ میں ہجرت کریں گے انہیں روئے زمین پر کشادہ جگہ ملے گی اور رزق میں برکت نصیب ہوگی اور جو لوگ اللہ اور رسول ﷺ کی طرف ہجرت کیلئے گھر سے نکلے۔ پھر راستے ہی میں وفات پاگئے تو ان کا اجر اللہ کے ذمہ واجب ہوگیا۔ اور اللہ مغفرت کرنے والا بھی ہے اور رحمت کرنے والا بھی۔

آیت نمبر 97-100 لغات القرآن : فیم، تم کہاں تھے، (کس دین میں تھے) ۔ واسعۃ، وسیع۔ تھا جروا، تم ہجرت کروگے۔ حیلۃ، بہانہ۔ مراغم، کشادہ جگہ۔ وقع، طے پا گیا۔ تشریح : ان ملکوں میں جہاں نظام حکومت اور نظام معاشرت کا فرانہ ہے مسلمانوں کا رہنا غلط ہے۔ اگر رہیں گے تو خواہ انفرادی سطح پر وہ نیک اور شریف رہیں ، انہیں اجتماعی مشینری کا ساتھ دینا ہوگا۔ ان کا دل چاہتا ہے اسلام کے راستے پر چلنے کو مگر وہ کفر کے راستہ پر چلنے پر مجبور ہیں۔ یہ اپنے نفس پر ظلم ہے۔ مجبوری ہو تو دوسری بات ہے موت کے وقت فرشتے ان سے سوال و جواب کریں گے قرآن و سنت کے مطابق ایسی صورت میں ہجرت فرض ہے۔ جو مسلمان کفر کی اجتماعی مشین میں پس رہے ہیں انہیں لازم ہے کہ ترک وطن کرکے ایسی جگہ چلے جائیں جہاں وہ انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح اسلامی زندگی گزار سکیں۔ نئی جگہ اسلام کو افرادی طاقت ملے گی اور افرادی طاقت کو اسلام ملے گا۔ کافرانہ نظام کے تحت رہنے کی اجازت صرف دو طرح کے مسلمانوں کو ہے۔ ایک وہ جو تبلیغ و تنظیم و جہاد کی خاطر وہاں ہیں۔ ان کا مقصد اعلائے کلمۃ الحق ہو۔ دوسرے وہ مستضعفین وہ لاچار اور مجبور مرد و عورت اور بچے ہیں جو نکل جانے کی طاقت نہ رکھتے ہوں یا انہیں راستہ معلوم نہ ہو۔ ہجرت محض ذاتی فائدہ اور تلاش معاش کیلئے نہیں ہے۔ وہی ہجرت اسلامی ہے جس کی ساری غرض وغایت اللہ کے دین کو سربلند کرنا ہے۔ نئی جگہ پہنچ کر تلاش معاش ضمنی ہوسکتا ہے لیکن اصلی مقصد نہیں۔ چناچہ اسلامی ہجرت کرنے والے پر لازم ہے کہ بری عادتیں چھوڑ دے۔ اچھی عادتیں اختیار کرے اور تبلیغ و تنظیم و جہاد میں تن من دھن سے لگ جائے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ مہاجر کو نئی جگہ کشادہ زمین اور کشادہ رزق ملے گا۔ جو شخص ہجرت کی نیت کرکے گھر سے نکلا اور راستے ہی میں مر گیا وہ بھی مہاجر ہے اور اس کا اجر قیامت تک کیلئے ثابت ہوگیا ہے اللہ کے پاس اس کی اجرت محفوظ ہوگئی۔ اللہ کے پاس بےانتہا بخشش بھی ہے اور بخشائش بھی۔
Ayahs 4:101–104

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

جب تم باہر سفر میں نکلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں اگر اپنی نماز کو قصر کرلو بشرطیکہ تمہیں اس کا اندیشہ ہو کہ کفار تمہیں ستائیں گے۔ بلاشبہ کفار تمہارے کھلے ہوئے دشمن ہیں۔

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور اے نبی ﷺ ! جب آپ مسلمانوں کے درمیان موجود ہوں اور آپ نماز قائم کریں تو ہتھیار سنبھال کر مقتدیوں کی ایک جماعت آپ کے پیچھے کھڑی ہوجائے۔ جب وہ سجدہ کرلیں تو وہ پیچھے ہٹ جائیں اور ان کی جگہ دوسری جماعت لے لے جس نے ابھی نماز میں شرکت نہیں کی ہے۔ وہ نماز میں آپ کے پیچھے کھڑی ہوجائے۔ بچاؤ کے لئے ہوشیار رہو اور اسلحہ بند رہو۔ کفاریہ چاہتے ہیں کہ تم اپنے سامان اور ہتھیاروں سے بیخبر ہوجاؤ تاکہ اچانک تم پر ٹوٹ پڑیں۔ اور تمہارے لئے کوئی گناہ نہیں ہے اگر بارش سے تمہیں تکلیف ہو یا تمہیں بیماری ہو اور اپنے ہتھیاروں کو اتار کر رکھ لو۔ مگر اپنے بچاؤ میں ہوشیار رہو۔ کوئی شک نہیں کہ اللہ نے کافروں کے لیے رسوائی کا عذاب دہکا رکھا ہے۔

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے خوب یاد کرو۔ پھر جب خوف جاتا رہے تو پوری نماز ادا کرو۔ بیشک نماز مسلمانوں پر اپنے مقرر اوقات میں فرض ہے۔

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

اور مخالف قوم کا پیچھا کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ۔ اگر تم تھکے ہارے اور کم سامان ہو تو وہ بھی اچھے حال میں نہیں ہیں۔ تم تو خیر سے انعامات الٰہی کی امیدیں رکھتے ہو۔ انہیں تو وہ بھی حاصل نہیں۔ اور اللہ ہی تمام علم بھی رکھتا ہے اور تمام حکمت بھی۔

آیت نمبر 101-104 لغات القرآن : ان تقصروا، یہ کہ تم قصر کرو۔ کنت، آپ ﷺ ہوں۔ اسلحۃ، ہتھیار۔ یمیلون، وہ حملہ کرتے ہیں۔ میلۃ واحدۃ، ایک دفعہ حملہ۔ مطر، بارش۔ تالمون، تم تکلیف میں ہو۔ ترجون، تم امید رکھتے ہو۔ تشریح : ان آیات میں قصر نماز اور صلوۃ خوف کا ذکر ہے ۔ سفر میں اور خوف میں دونوں حالات میں نماز مختصر بھی ہے اور مخصوص بھی۔ کتنے دور کے سفر میں قصر ہے، کتنا قصر ہے۔ کن نمازوں میں قصر ہے۔ کتنے دنوں کے قیام سے قصر ٹوٹتا ہے ، کیا قصر لازم ہے وغیرہ وغیرہ ان سوالات کے جواب مختلف آئمہ فکر نے قدرے اختلافات کے ساتھ دئیے ہیں۔ ایک بات ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ سفر میں قصر کیا ہے اور چاروں خلفائے راشدین نے بھی اسی پر عمل کیا ہے۔ صلوۃ خوف میں جب کہ انسانی یا حیوانی دشمن کا خطرہ لگا ہو تو۔ ان آیات میں جو حضور پر نور ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے تو تمام ائمہ فقہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ یہ حکم حضور ﷺ کے بعد بھی جاری وساری ہے اور امام وقت اس کو نافذ کرے گا۔ جب قصر اور خوف کی کیفیت ختم ہوجائے ، تو پھر پوری نماز پڑھنی پڑے گی۔ جہاد میں قصر اور خوف دونوں کیفیات عموماً ہوا کرتی ہیں۔ جب کہ ایک شخص سفر میں ہو تو قصر نماز امن کی حالت میں بھی پڑھنے کا حکم ہے۔ آیت نمبر 104 غالباً اس وقت اتری ہے جب دشمنوں کے تعاقب کرنے کا سوال درپیش تھا اور مسلمان اپنی تھکاوٹ اور سازوسامان کی کمی کی وجہ سے پس و پیش کر رہے تھے۔ یہ صورت جنگ احد کے فوراً بعد پیش آئی ہے ۔ اس آیت نے واضح حکم دے دیا۔ چناچہ تعاقب کیا گیا۔ اس تعاقب کا سب سے بڑا نتیجہ جو سامنے آیا وہ یہ تھا کہ مشرکین مکہ جو پلٹ کر پھر مدینہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کر رہے تھے بھاگ کر مکہ واپس چلے گئے۔ اور آئندہ سال ابو سفیان بدر صغریٰ کے لئے آنے کی ہمت نہ کرسکا۔