4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 4:26–28

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے اوپر وہ راستہ واضح کردے اور تمہیں ان نیک لوگوں کے نقش قدم پر چلائے جو تم سے پہلے تھے اور تمہاری توبہ قبول فرمائے۔ اللہ تمام علم و حکمت کا مالک ہے

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

اور اللہ تو تمہاری توبہ قبول کرنا چاہتا ہے مگر وہ لوگ جو اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں کہ تم راہ ہدایت سے بھٹک کر دور نکل جاؤ

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

اللہ تو تمہارے اوپر سے بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور ہی پیدا کیا گیا ہے۔

آیت نمبر 26-28 لغات القرآن : سنن، راستے، طریقے۔ یتبعون، اتباع کرتے ہیں۔ الشھوات، خواہشیں، مزے۔ ان تمیلوا، یہ کہ تم مڑ جاؤ، بھٹک جاؤ۔ میل عظیم، مڑنے میں بہت زیادہ۔ ضعیف، کمزور، ناتواں۔ تشریح : میراث اور نکاح کے احکام بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم سمجھو یا نا سمجھو یہی وہ احکام ہیں جو علم اور حکمت سے بھرپور ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر اس سے پہلے نیک لوگ چلے اور اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں کے مستحق ہوئے۔ یہ کوئی نئے احکام نہیں ہیں بلکہ گزشتہ امتوں کو بھی یہی احکام دئیے گئے تھے اور جو سلف صالحین تھے وہ ان احکامات کی بجا آوری کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ ان ہی احکام کو ماننے سے سماجی بوجھ کم ہوجائیں گے۔ اللہ جانتا ہے کہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ اس لئے ان احکامات میں بشری کمزوریوں کی تمام رعایتیں رکھی گئی ہیں۔ اور ان کو شادی کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اگر محصنات سے شادی کرنے کی استطاعت نہ ہو تو باندی سے کرلی جائے دین مہر دونوں فریقوں کی رضا مندی سے ایک خاص حد تک کم و بیش بھی ہوسکتا ہے۔ مرد کو انصاف کی شرط کے ساتھ چار نکاح کی اجازت دی گئی ہے۔ میراث میں عورتوں کو بھی ترکہ دیا گیا ہے۔ اگر باپ کے ہاں وہ نصف پاتی ہے تو شوہر کے ہاں دین مہر اور میراث دونوں حاصل کرتی ہے اس طرح اس کا نقصان نہیں ہوتا پھر اس پر کنبہ کی کفالت کا کوئی بوجھ بھی نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف مشرکوں، یہودیوں اور خالص دنیا پرستوں نے جو بہت سے عائلی، ازدواجی ، معاشرتی اور دیگر دستور اور رسم و رواج مقرر کئے ہیں وہ بظاہر بہت اچھے معلوم ہوتے ہیں لیکن درحقیقت فرد اور معاشرہ دونوں کو بگاڑنے والے ہیں۔ وہ ان کو اسلام سے برگشتہ کر رہے ہیں۔ انکو احکام کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔ فرمایا تم ان کے چکر میں نہ آنا۔ یہ لوگ جس طرح خود ضلالت اور گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں، اسی طرح تمہیں بھی راہ مستقیم سے دور بہت دور پھینک دینا چاہتے ہیں۔ تم ان سے ہوشیار رہنا۔
Ayahs 4:29–31

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ایک دوسرے کا مال بےایمانی کے ساتھ مت کھاؤ۔ ہاں تجارت کرو جس میں آپس کی رضا مندی سے لین دین ہو۔ اور اپنی جان کو ہلاک نہ کرو۔ کوئی شک نہیں کہ اللہ تم پر رحیم و کریم ہے۔

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

اور جو شخص ظلم اور زیادتی میں حد سے گزر جائے گا تو اس کو ہم ضرور دوزخ میں جھونک دیں گے۔ اور ایسا کرنا اللہ کے لئے آسان ہے۔

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے بچتے رہے جن سے تمہیں منع کیا جا رہا ہے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے۔ اور تمہیں اس جگہ داخل کریں گے جو بڑی عزت اور نعمت کا مقام ہے۔

آیت نمبر 29-31 لغات القرآن : تراض، آپس کی رضا مندی۔ عدوان، زیادتی۔ نصلیہ، ہم ڈالیں گے اس کو ۔ یسیر، آسان۔ تجتنبوا، تم بچ گئے۔ کبائر، بڑے گناہ۔ تنھون، تمہیں منع کیا گیا ہے۔ نکفر، ہم دور کریں گے۔ مدخلا کریما، عزت و احترام کا موام۔ تشریح : مومنوں سے خطان ہے کہ تم مومن یا غیر مومن کسی کا بھی مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ۔ رشوت، ظلم، دھوکا، چوری، ڈاکہ، بلیک، اسمگلنگ، جھوٹ، ناجائز، خریدوفروخت، اجارہ داری، سود خوری، حق مارنا، چیز خراب کرنا، قرض ادا نہ کرنا، خیانت، وعدہ خلافی، کم تولنا، مال کا عیب ظاہر کئے بغیر بیچ دینا، دکھانا کچھ دینا کچھ، وغیرہ وغیرہ یہ سب ناجائز طریقے ہیں جن کا ان دونوں عر ب میں عام رواج تھا اور آج بھی انفرادی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح تک جاری وساری ہے۔ الا ماشاء اللہ۔ حضور ﷺ نے احادیث میں اور فقہا نے کتابوں میں حرام ذرائع آمدنی پر تفصیلات پیش کی ہیں۔ صرف ایک چھوٹے سے جملہ میں یعنی ایک دوسرے کا مال بےایمان سے مت کھاؤ، اللہ تعالیٰ نے باطل آمدنی کے دروازے بند کر دئیے ہیں۔ اور دوسرے جملے میں یعنی آپس کی رضا مندی سے لین دین کرو۔ اللہ تعالیٰ نے حلال آمدنی کے تمام دروازے کھول دئیے ہیں ایک طرف تجارت کرنے کی رغبت دلائی ہے اور دوسری طرف تجارت کا دھوکا، زبردستی ، ڈنڈی مارنا، جھوٹا اشتہار، غلط مال، چوری کا مال بیچنا اور خریدنا وغیرہ سب ممنوع قرار دے دیا ہے۔ صرف ایک ہی راستہ کھلا چھوڑا ہے یعنی آپس کی رضا مندی سے لین دین اور فوائد کا تبادلہ۔ تجارت کے کتنے باطل طریقے ہیں جو ان دونوں بھی رائج تھے اور آج بھی زور و شور سے رائج ہیں۔ ان پر حدیث اور فقہ کی کتابوں نے خاص روشنی ڈالی ہے۔ موجودہ بینکنگ، لاٹری اور انشورنس بھی ان میں شامل ہیں۔ تجارت کے نام پر ہر بےایمان حرام ہے مثلاً جوا، سٹہ ، سود، اس مال یا پھل یا غلہ کی فروخت جوا بھی تیار نہیں یا جو ابھی بیچنے والے کے قبضہ میں نہیں آیا، رشوت لینا یا ناجائز کمیشن لینا ضرورت زندگی سے تعلق رکھنے والے مال اس لئے یا اسٹاک کرلینا کہ دام بڑھ جائیں گے اور گاہک زیادہ رقم دے کر خریدنے پر مجبور ہوگا۔ مجبور کرکے یا دھوکا دے کر کسی قسم کا فائدہ اٹھانا حرام ہے۔ اس سلسلہ میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔ ” اور اپنی جان کو قتل نہ کرو “ اس مختصر جملہ کے بہت سے معنی ہوتے ہیں۔ خود کشی نہ کرو۔ کسی کی جان نہ لو کیونکہ اس کی جان بھی تمہاری جان کی طرح قیمتی ہے۔ دوسرے کا مال ناجائز لینا یہ بھی اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ اللہ تم پر رحیم و کریم ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا رحم و کرم ہی ہے جو تمہیں یہ احکام دئیے جا رہے ہیں ان کے ماننے میں تمہارا اپنا ہی فائدہ ہے۔ نہ ماننے میں تمہارا اپنا ہی نقصان ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ جو شخص کسی دوسرے کو مالی یا جانی نقصان پہنچائے گا وہ یقیناً جہنم میں جائے گا۔ فرمایا پھر کیوں اپنی جان کو جہنم میں جھونکا جائے۔ سزا کی وعید سناتے ہوئے اللہ نے حکم ماننے والوں کو یہ خوشخبری بھی سنائی کہ اگر تم زنا کرنے، شرک کرنے، حرام کھانے ، قتل کرنے ، خود کشی کرنے اور دیگر بڑے بڑے گناہ کرنے سے بچو گے تو تمہارے چھوٹے چھوٹے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ اور تمہیں جنت میں داخل کردیا جائے۔ کبیرہ گناہ کیا ہے فقہانے لکھا ہے کہ ہر وہ گناہ کبیرہ ہے جس پر کوئی شرعی سزا دینا ہی مقرر ہے۔ مثلاً چوری، زنا، قتل وغیرہ یا جس پر قرآن میں یا حدیث میں لعنت کے الفاظ وارد ہوئے ہیں یا جس پر جہنم کی وعید آئی ہے۔ مثلاً شرک، ظلم، نفاق، سود، رشوت، خیانت، دھوکا وغیرہ۔ شراب پینا، جادو کرنا، میدان جہاد سے بھاگنا، کسی بےگناہ عورت پر تہمت لگانا، والدین کی نافرمانی کرنا، بیت اللہ کی بےحرمتی کرنا، نماز روزہ چھوڑ دینا، جھوٹ بولنا خراب بال صحیح دام پر بیچ دینا یہ سب گناہ کبیرہ میں شامل ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر صغیرہ گناہ بار بار کیا جائے، اور کفارہ نہ دے یا سچی توبہ نہ کرے وہ بھی کبیرہ گناہ ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر طرح کی برائیوں سے محفوظ فرمائے اور نیکیوں کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Ayahs 4:32–33

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

اور اس شئے کی تمنا نہ کرو جو اللہ نے اپنے فضل سے کسی کو کسی سے زیادہ دی ہے۔ مرد اس کے مالک ہیں جو وہ کمائیں۔ عورتیں اس کی مالک ہیں جو وہ کمائیں ۔ سوال کرو تو اللہ ہی سے اس کے فضل کا سوال کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ Open ayah 4:33 in the Quran reader

اور ہم نے ہر ایسے مال کے لئے جس کو والدین اور رشتہ دار چھوڑ جائیں وارث مقرر کر دئیے ہیں۔ اور جن لوگوں سے تم نے عہد و پیمان باندھ رکھے ہیں ان کی چیز ان کو دے دیا کرو بیشک اللہ تمہاری ہر حالت پر گواہ ہے۔

آیت نمبر 32-33 لغات القرآن : لاتتمنوا، تم تمنا نہ کرو۔ اکتسبوا، انہوں نے کمایا۔ اکتسبن، جو عورتوں نے کمایا۔ اسئلوا، سوال کرو۔ موالی، والی، وارث۔ عقدت، باندھ لیا۔ تشریح : دنیا میں ہر جرم کی جڑ غصہ، انتقام ، حرص، ہوس، رشک، حسد ہے۔ یہاں خاص طور پر حرص، ہوس، رشک اور حسد سے بحث ہے۔ نعمتوں کی دو قسمیں ہیں۔ قدرتی اور اختیاری۔ قدرتی چیزوں کی تمنا اور اس کے لئے دل کو خلجان میں مبتلا کرنا غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت سے کسی کو دولت دی ہے، کسی کو اقتدار دیا ہے، کسی کو حسن یا اچھی صورت شکل یا آواز بخشی ہے۔ دنیا کی یہ تمام رونقیں اور قدروقیمت ان قدرتی نعمتوں کی زیادتی اور کمی سے ہیں۔ اس لئے فرمایا قناعت کرو۔ صبر کرو، زیادہ کی تمنا اور ہوس کے پیچھے مت بھاگو، چوری نہ کرو، ڈاکہ نہ ڈالو، غبن خیانت ظلم دھوکا حرام ہے اس سے بچو۔ عورت، دولت، کرسی، تخت و تاج کے پیچھے جو اتنے جرائم ہوتے چلے جا رہے ہیں وہ سب اسی قناعت کی کمی اور حرص کی زیادتی کی وجہ سے ہیں۔ اب رہیں اختیاری نعمتیں مثلاً علم، معاش، عقل، مکان، نیکی ، تقوی، سچائی وغیرہ تو حکم ہے کہ حرص اور حسد سے بچتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اور خوب سے خوب حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ مرد جو کمائیں وہ ان کو مبارک ، عورتیں جو کمائیں وہ ان کو مبارک کسی کی محنت اور کوشش اپنی جگہ ہے لیکن جو کچھ ملتا ہے وہ اللہ کے فضل و کرم سے ملتا ہے۔ فرمایا تم محنت کرو، کوشش کرو لیکن دینے والے سے اس کے فضل وکرم کی دعائیں بھی مانگتے رہو۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ کس کو کتنا ملنا چاہئے اور کب ۔ تمہیں بہرحال راضی بہ قضا اور شاکر و صابر رہنا ہے۔ یہ جو مرد اور عورت کے الفاظ اس آیت میں آئے ہیں اس کے چند معنی بنتے ہیں۔ اول، عورت کو حلال مال کمانے کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ ترغیب دی گئی ہے۔ ان دنوں عرب میں اور آج بھی بہت سے سماج میں عورتوں پر خواہ مخواہ اتنی پابندیاں ہیں کہ وہ کسب معاش کے لئے کوئی کام نہیں کرسکتیں اور مردوں کی دست نگر ہیں۔ لیکن اگر وہ شریعت کی پابندی سے کسب معاش کرسکتی ہوں تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ انہیں ترکہ اور مہر ملتا ہے۔ یہ بھی کمانے میں شمار ہے۔ یہ صحیح ہے کہ کمانے کی زیادہ آزادی اور زیادہ مواقع مرد کو حاصل ہیں لیکن اصلی چیز دنیا کمانا نہیں ہے بلکہ آخرت کمانا ہے اور اس کا موقع عورت کو ہر طرح حاصل ہے۔ یہ اللہ کی مصلحت ہے کسی کو مرد بنا دیا کسی کو عورت۔ میراث کے متعلق پھر ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ تمام قاعدے قوانین مقرر کر دئیے گئے ہیں جو رشتہ میں جتنا قریب ہوگا اتنا ہی ترکہ پائے گا البتہ بیٹے کا حصہ بیٹی کے مقابلے میں دوگنا ہے۔ اب رہے منہ بولے رشتہ دار ، تو جس سے جتنا وعدہ ہے اتنا دے دیا جائے۔ منہ بولے رشتہ داروں کا میراث میں کوئی حصہ نہیں۔ ہاں مرنے والے کو وصیت کا حق ہے اور وہ بھی صرف تہائی مال میں وصیت کرسکتا ہے۔ اس سے زیادہ کی وصیت جائز نہیں ہے۔
Ayahs 4:34–35

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا Open ayah 4:34 in the Quran reader

مردوں کو عورتوں پر ذمہ دار بنایا گیا ہے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ کسی کو کسی پر فوقیت حاصل ہے اس بنا پر کہ مرد اپنی کمائی خرچ کرتے ہیں۔ پھر صالح عورتیں فرماں بردار ہوتی ہیں ۔ اور وہ پیٹھ پیچھے حفاظت کرتی ہیں جس کی حفاظت کا اللہ نے حکم دیا ہے اور جن بیویوں سے تمہیں سرکشی و نافرمانی کا اندیشہ ہو، انہیں پہلے سمجھاؤ (نہ مانیں تو) خواب گاہ میں بستر الگ کر دو ۔ (پھر بھی نہ مانیں تو) انہیں ضرب لگاؤ۔ پھر اگر اطاعت کرنے لگ جائیں تو ان پر سختی کرنے کے بہانے مت تلاش کرو۔ (تم اگر ظلم کرو گے تو جان لو کہ) اللہ بہت بلندو برتر ہے۔

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا Open ayah 4:35 in the Quran reader

اگر تم خائف ہو کہ ازدواجی اختلافات کہیں بڑھ نہ جائیں تو ایک قابل تسلیم نمائندہ مقرر کرلو۔ شوہر کی طرف سے اور ایک قابل تسلیم نمائندہ بیوی کی طرف سے۔ اگر یہ دونوں صورت حال کو بہتر کرنا چاہیں گے تو اللہ تعالیٰ شوہر اور بیوی کے دل جوڑ دے گا۔ بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔

آیت نمبر 34-35 لغات القرآن : الرجال، (الرجل) مرد۔ قوامون، ذمہ دار (قوام، ذمہ دار، نگہبان) ۔ فضل، کرم کیا۔ انقوا، انہوں نے خرچ کیا۔ الصلحت، نیک اور اچھی عورتیں۔ قنتت، فرماں بردار عورتیں۔ حفظت، حفاظت کرنے والیاں۔ حفظ اللہ، اللہ نے حفاظت کا (حکم دیا ہے) ۔ تخافون، تم ڈرتے ہو۔ نشوز، نافرمانی، بددماغی۔ عظوا، نصیحت کرو۔ اھجروا، چھوڑ دو ۔ المضاجع، لیٹنے کی جگہ۔ اضربوا، مارو۔ اطعن، انہوں نے اطاعت کرلی (مونث) ۔ لاتبغوا، تلاش نہ کرو۔ شقاق، ضد۔ ابعثوا، بلا بھیجو۔ حکم، فیصلہ کرنے والا۔ اھلہ، اس مرد کے خاندان سے۔ اھلھا، اس عورت کے خاندان سے۔ یوفق، وہ توفیق دے گا، موڑ دے گا۔ تشریح : ” قوام “ سے مراد ہے جسمانی طاقت میں افضل۔ ذمہ داریوں میں افضل، چناچہ وہ افسر یا حاکم یا ناظم جو کسی مہم یا ادارہ کو چلانے کا اور اس کے لئے مالی اور دیگر وسائل مہیا کرنے کا ذمہ دار ہو۔ اس کو قوام کہتے ہیں۔ دنیا کا کوئی نظام و انتظام اس وقت تک چل نہیں سکتا اگر کوئی اس کا قوام نہ ہو۔ یہاں چونکہ گھریلو ازدواجی ادارہ کی بات ہو رہی ہے اس لئے مرد کو عورت پر قوام بنایا گیا ہے کہ اس کی جسمانی طاقت زیادہ ہے اور وہ وسائل مہیا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ مرد کی یہ حاکمیت فطری تقاضے کے تحت ہے۔ ظلم اور ماردھاڑ کے لئے نہیں ہے۔ اس حاکمیت کا ایک اہم جواز اسی آیت میں موجود ہے یعنی مرد گھر چلانے کے لئے وسائل مہیا کرتے ہیں اور بیوی کا حق دین مہر ادا کرنے اور اس کے نان نفقہ کا انتظام کرتے ہیں ظاہر ہے آمدنی پیدا کرنا بڑا کٹھن کام ہے جس کو خرچ کرنے والی خاتون خانہ سمجھے یا نہ سمجھے۔ سورة النساء میں اب تک عورتوں کے حقوق کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے اب یہاں ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کا ذکر ہے۔ انہیں شوہر کی تابعداری کرنی ہے چونکہ مرد فطرتاً قوام بنایا گیا ہے۔ اس میں ایک استثنیٰ ہے یعنی اللہ اور اس کے رسول کے خلاف شوہر کی تابعداری جائز نہیں ہے بلکہ اگر شوہر مذہب بدل دے اور توبہ نہ کرے تو رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ صرف اطاعت ہی نہیں کرنی ہے بلکہ جب شوہر گھر پر نہ ہو تو اپنی عصمت و عفت کی حفاظت ، بچوں کی حفاظت، گھر کے سازوسامان اور مال کی حفاظت اور گھریلو جائز مفادات کی حفاظت سب بیوی کے ذمے ہے۔ اگر بیوی کوتاہی یا بےوفائی کرے یا شوہر کو ایسا خطرہ ٹھوس بنیادوں پر محسوس ہو تو ان آیات میں شوہر کو تادیب بلکہ نرم سزا تک کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ (1) پہلے تو انہیں سمجھایا جائے۔ (2) نہ مانیں تو خواب گاہ میں ان کا بستر لاگ کردیا جائے۔ (3) پھر بھی نہ مانیں تو انہیں نرم ضربین لگائی جائیں اس طرح کہ زخم نہ آئے۔ ہڈی نہ ٹوٹے نہ تو منہ پر مارا جائے اور نہ اس طرح کہ بدن پر نشان ابھر آئے۔ تادیب کے ساتھ ساتھ سمجھوتہ اور افہام و تفہیم کی تدبیر بھی بتا دی گئی ہے۔ اگر بیوی پھر بھی نہ مانے اور اختلاف بڑھ ہی جائیں تو ایک واجب التسلیم نمائندہ بیوی کی طرف سے اور ایک واجب التسلیم نمائندہ شوہر کی طرف سے لیا جائے اپنا اپنا نمائندہ فریقین نامزد کریں گے مگر نمائندہ وہ ہو جس کی عزت ہو، جس پر اعتماد ہو، اور جس کی بات مانی جائے۔ اگر یہ دونوں نمائندے فریقین کا کیس سن کر خلوص اور بہتری کے جذبہ سے مفاہمت کی کوئی راہ نکال دیں گے تو اللہ ان کی مدد کرے گا۔ اور انشاء اللہ کوئی نہ کوئی ایسا راستہ نکل ہی آئے گا جو فریقین کو قابل قبول ہو۔ شوہر کو لازم ہے کہ اس کے بعد چھوٹی چھوٹی باتوں سے درگزر کرے اور خواہ مخواہ جھگڑا اور فساد پیدا نہ کرے۔ فریقین کے نمائندہ کا جو اصول یہاں پر قرآن نے پیش کیا ہے وہ اصول صرف خانگی اور ازدواجی جھگڑوں تک محدود ہے خلفائے راشدین ؓ نے اور ان کے بعد چند مسلم حکومتوں نے دیوانی مقدمات میں اس اصول کو اپنایا ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ پنچائیت، برادری یا کسی ذریعہ سے بھی دیوانی مقدمات کا فیصلہ سرکاری عدالت میں آنے سے پہلے ہی طے ہوجائے۔ لیکن جب مقدمہ ایک بار سرکار کی عدالت میں آگیا تو فیصلہ شریعت کے اصولوں کے مطابق طے کیا جائے گا۔ اس لئے سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ باہمی افہام و تفہیم سے کام لے کر گھر کی بات گھر ہی میں رہے تو بہتر ہے۔
Ayah 4:36

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ Open ayah 4:36 in the Quran reader

تم سب اللہ کی عبادت و بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور قرابت داروں کے ساتھ بھی، یتیموں ، محتاجون دور اور قریب کے پڑوسیوں کے ساتھ پاس بیٹھنے والوں ، مسافروں اور جو تمہاری ملکیت (غلام باندی ہوں) ان سب کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آؤ۔ بیشک اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو تکبر کرنے والے اور شیخی بگھارنے والے ہیں۔

آیت نمبر 36 لغات القرآن : اعبدوا، تم عبادت و بندگی کرو۔ لاتشرکوا، تم شریک نہ کرو۔ الجار، پڑوسی۔ الجار الجنب، اجنبی پڑوسی۔ الصاحب بالجنب، پہلو کا ساتھی۔ وابن السبیل، مسافر۔ مختال، تکبر اور بڑائی کرنے والے۔ فخور، شیخیاں بگھارنے والے ۔ تشریح : اس آیت میں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد پر بھی زور دیا گیا ہے بلکہ کسی قدر تفصیل کے ساتھ زور دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اس کی اطاعت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کیا جائے۔ حقوق العباد میں درجہ بدرجہ ذکر ہے۔ سب سے پہلے والدین کا، اس کے بعد اہل قرابت کا جس میں سارے رشتہ دار بھی آتے ہیں، پڑوسی والے بھی اور تعلقات والے بھی، پھر یتامی اور مساکین جن کی اگر وقت پر مدد کردی جائے تو آگے چل کر کنبے اور معاشرے بلکہ ملت کے لئے مفید ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد ہمسائے کا حق ہے خواہ وہ ہمسایہ جو گھر کے برابر رہتا ہو یا وہ ہمسایہ جو کچھ فاصلے پر رہتا ہو۔ اس سے میل ملاقات ہو یا نہ ہو۔ پھر ان لوگوں کا حق ہے جو ہم میں خواہ اتفاقاً یا مختصر وقفہ کے لئے۔ جن سے راہ چلتے یا کسی طور علیک سلیک ہوگئی ہو۔ یہ اسلام کی خوبی ہے کہ اس نے ان لوگوں کا بھی خیال کیا ہے جنہیں عام طور پر اہمیت نہیں دی جاتی۔ اس کے بعد حقوق میں لونڈی غلاموں کا نمبر آتا ہے۔ ان میں عظیم ہستیاں نکل سکتی ہیں جیسا کہ تاریخ اسلام شاہد ہے۔ جو شخص ان حقوق کو ادا نہیں کرتا۔ اپنی دولت کو اپنے ہی لئے یا صرف اپنے بال بچوں کے لئے مخصوص رکھتا ہے، اور جو عوام میں عوام بن کر گھل مل کر نہیں بیٹھتا وہ یقیناً شیخی باز ہے۔ مغرور ہے اور اپنی دولت یا عہدہ پر ناز کر رہا ہے۔ ایسا شخص اللہ کی نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔
Ayahs 4:37–40

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ Open ayah 4:37 in the Quran reader

وہ لوگ جو (کنجوسی) بخل کرتے ہوں اور دوسروں کو بھی بخل کرنا سکھاتے ہوں۔ اور جو کچھ اللہ نے ان کو اپنے فضل و کرم سے دیا ہے اس کو چھپاتے ہوں۔ ہم نے ایسے نافرمانوں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار رکھا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا Open ayah 4:38 in the Quran reader

اللہ کو وہ لوگ بھی پسند نہیں ہیں جو اپنے مال محض لوگوں کو دکھانے کیلئے خرچ کرتے ہیں نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ قیامت کے دن پر۔ اور بات یہ ہے کہ جس کا ساتھی شیطان ہوجائے وہ بدترین ساتھی ہے۔

وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا Open ayah 4:39 in the Quran reader

اور کیا ہوجاتا اگر وہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لے آتے اور جو کچھ اللہ نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے۔ اور اللہ ایسے لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:40 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر ایک چھوٹی سی نیکی بھی ہوتی ہے تو اللہ اس کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا کرتا ہے۔

آیت نمبر 37 – 40 لغات القرآن : رئاء الناس، لوگوں کو دکھانا۔ قرین، ساتھی، ہم نشین۔ ماذا، کیا ؟ ۔ مثقال ذرۃ، ذرا برابر۔ ان تک، اگر ہے۔ یضعفھا، وہ اس کو دوگنا کرتا ہے۔ یؤت، دیتا ہے۔ من لدنہ، اپنے پاس سے (من ، لدن، ہ) تشریح : گذشتہ آیات میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر زور دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد بھی درجہ بدرجہ کتنے اہم ہیں۔ آیات 37 تا 40 میں بخل پر بحث کی گئی ہے بخیل کی عام پہچان تو یہ ہے کہ وہ خود بھی خرچ نہیں کرتا اور دوسروں کو بھی روکتا ہے۔ وہ زرپرست ہوتا ہے اور یہ بات اس کی فطرت میں داخل ہوتی ہے ۔ لیکن اس سے بڑھ کر کنجوسی کی ایک قسم وہ ہے کہ اپنا مال چھپائے، کسی پر ظاہر نہ ہونے دے کہ اس کے پاس مال ہے تاکہ لوگ اس سے امید ہی نہ رکھیں اور طلب ہی نہ کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ان اللہ اذا انعم نعمۃ علی عبدہ احب ان یظھر اثرھا علیہ یعنی جب اللہ کسی بندے کو نعمت دیتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اس بندے کے رکھ رکھاؤ سے یہ نعمت ظاہر ہو۔ یہ نہ ہو کہ وہ صاحب نعمت ہو لیکن ظاہر میں مفلس اور پریشان نظر آئے۔ ایک طرف یہ حدیث جو کہ رہبانیت اور رسمی فقیری و درویشی کو روکتی ہے اور دوسری طرف لفظ نعمت سے صرف مال ہی مقصود نہیں بلکہ علم بھی اختیار بھی، صحت بھی ، جو بھی نعمت اللہ نے دی ہے وہ اسی لئے کہ استعمال کی جائے نہ صرف اپنے لئے بلکہ دوسروں کے لئے بھی۔ قرآنی نقطہ نظر سے بخیل وہ بھی ہے جو نام و نمود کے لئے خرچ کرتا ہو، اپنے علم یا دولت وغیرہ کی نمائش کرتا ہو۔ تاکہ لوگ اسے بڑا آدمی سمجھیں۔ آیات 39 اور 40 میں تاکید ہے کہ اگر تم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اللہ اور اس کے بندوں پر خرچ کرو۔ اسکے جو فوائد دنیا میں ہیں وہ تو ضرور ملیں گے لیکن آخرت میں اللہ اس کا اجر دو گنا بلکہ زیادہ اور بہت زیادہ دے گا صاف ظاہر ہے جو بخیل ہے وہ اللہ اور روز قیامت پر ایمان نہیں رکھتا۔ اور شیطان اسکا رفیق اور مشیر ہے
Ayahs 4:41–42

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ Open ayah 4:41 in the Quran reader

بھلا اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر ایک جماعت میں سے ایک ایک کو حالات بتانے کے لئے بلائیں گے اور (اے محمد ﷺ آپ کو ان لوگوں پر یعنی آپ کی امت پر گواہ کے طور پر لائیں گے

یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ١ؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:42 in the Quran reader

اس دن وہ لوگ جنہوں نے سچے دین سے انکار کیا اور رسول کی نافرمانی کی تھی۔ تمنا کریں گے کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں اور وہ اللہ تعالیٰ سے اس دن کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔

آیت نمبر 41-42 لغات القرآن : جئنا، ہم لے آئے۔ امۃ، جماعت، گروہ۔ شھید، گواہ۔ یود، پسند کرتا ہے۔ عصوا، انہوں نے نافرمانی کی۔ لوتسوی، کاش برابر ہوجائے۔ حدیث، بات۔ تشریح : یہ بات گزشتہ آیات میں کہہ دی گئی تھی کہ کنجوسی کرنے والا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔ وہ شیطان کی باتوں پر چلتا ہے۔ اس طرح وہ کفر سے قریب ہے۔ آیات 41-42 میں قیامت کا منظر کھینچا گیا ہے کہ میدان محشر میں باری باری ہر نبی کی امت آئے گی۔ وہ نبی بتائیں گے کہ انہوں نے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کی لیکن بہت سے لوگ کافر رہے۔ وہ ان کافروں کی نشان دہی کریں گے۔ سب سے آخر میں حضور نبی کریم ﷺ آئیں گے اور اپنی امت کے اعمال و افعال پر گواہی دیں گے کہ کس نے انہیں مانا اور کس نے کہاں تک نہیں مانا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ حضور ﷺ کی امت آپ کی بعثت سے لے کر قیامت تک آنے والے تمام انسان ہیں۔ اس وقت وہ لوگ جو کافر رہے یا کفر سے قریب رہے وہ اپنے سامنے دوزخ دیکھیں گے۔ اس سے بچنے کے لئے ہر ممکن جتن کریں گے اور تمام جتن ناکام ہوجائیں گے۔ پھر وہ یہی تمنا کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں۔ مگر یہ تمنا پوری نہ ہوگی اور اللہ تعالیٰ سے وہ اپنی کوئی حرکت چھپا نہ سکیں گے۔ آیت نمبر 41 ختم نبوت پر ایک دلیل بھی ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ حضور اپنی امت پر بھی اور تمام امتوں پر بھی گواہی دیں گے۔ شاہد اور شہید میں یہ فرق ہے کہ شاہد صرف ایک زمانہ کے لئے ہے لیکن شہید تمام زمانوں کے لئے۔ اور حضور ﷺ شہید (گواہ) بھی ہیں اور شاہد بھی۔ اگر آپ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو آپ کی حیثیت شہید کی نہ ہوتی۔ اور قرآن میں لفظ شہید آیا ہے جو آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کی بہت بڑی دلیل ہے۔
Ayah 4:43

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:43 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم نشے کی حالت میں ہو تو اس وقت تک نماز کے قریب نہ جاؤ جب تک زبان سے جو کچھ کہہ رہے ہو اسے سمجھنے نہ لگو۔ اسی طرح جنابت (شرعی ناپاکی) کی حالت میں بھی (نماز نہ پڑھو) جب تک غسل نہ کرلو۔ سوائے اس کے کہ تم راستہ سے گزرنے والے ہو اور اگر تم مریض ہو یا سفر کی حالت میں ہو تو تم میں سے کوئی شخص جائے ضرورت سے فارغ ہو کر آئے یا تم عورتوں سے ملے ہو اور پانی تمہیں دستیاب نہ ہو تو ایسی حالت میں پاک مٹی سے تیمم کرلیا کرو اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کرو۔ بیشک اللہ درگزر کرنے والا اور معاف کرنے والا ہے۔

آیت نمبر 43 لغات القرآن : لا تقربوا، تم قریب نہ جانا۔ سکاری، نشے کی حالت (سکر، نشہ) ۔ ما تقولون، تم کیا کہہ رہے ہو۔ جنبا، جب غسل کی حاجت ہو (ناپاک ہو) ۔ عابدی، گزرنے والا۔ حتی تغتسلوا، جب تک غسل نہ کرو۔ مرضی، مریض۔ الغائط، قضائے حاجت۔ لمستم، تم نے چھوا (صحبت کی ہو) ۔ لم تجدوا، تم نے نہیں پایا۔ ماء، پانی۔ یتمموا، تم تیمم کرلو۔ صعید، مٹی۔ طیب، پاک۔ امسحوا، مسح کرو۔ وجوہ، چہرے (وجہ، چہرہ) ۔ ایدیکم، اپنے ہاتھ۔ تشریح : اس آیت میں بہت سے مسئلے طے ہوجاتے ہیں۔ اگرچہ اس آیت میں نشہ مطلقاً حرام نہیں کیا گیا بلکہ اس کے متعلق حرام ہونے پر ذہنوں کو تیار کیا گیا ہے یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب مکمل طور پر شراب کو حرام نہیں کیا گیا تھا۔ صرف شراب ہی نہیں بلکہ ہر قسم کا نشہ کیونکہ نشہ میں انسان عقل سے بہک جاتا ہے اور کچھ کا کچھ بولنے لگ جاتا ہے ۔ یہ چیز نماز کے آداب و شرائط کے خلاف ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ لوگوں سے نشہ کی عادت چھڑانے کے لئے نماز عجیب نسخہ ہے۔ نماز اور نشہ آپس میں ضد ہیں۔ نماز میں اللہ سے لو لگائی جاتی ہے ۔ لیکن نشہ کی کیفیت میں یہ ممکن نہیں۔ اس آیت میں دوسری اہم بات تیمم کی اجازت ہے۔ یہ اجازت وضو اور غسل کا بدل ہے لیکن مشروط ہے۔ پہلی اجازت یہ ہے کہ سفر یا حضر کی حالت میں اگر انسان ناپاک ہوجائے تو اس وقت تیمم کرسکتا ہے جب تک غسل یا وضو کے لئے پانی نہ ملے۔ دوسری اجازت شدید مرض کی حالت میں دی گئی ہے جب پانی نقصان کرتا ہو۔ اگر کسی نے اپنی بیوی سے قربت کی ہے ان حالات میں اگر غسل کے لیے پانی نہ مل سکے تو تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا ہے۔ اس آیت میں تیمم کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے۔ اللہ انسان کی مجبوریوں کو دیکھتا ہے اور اسے ضروری حد تک چھوٹ دیتا ہے۔ اس آیت میں نماز کی اہمیت اور وقت پر ادائیگی پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ اگر کوئی ناپاک ہوگیا ہے اور غسل کیلئے یا وضو کیلئے پانی نہ ملے یا مرض میں پانی چھونے سے نقصان کا خطرہ ہو تو تیمم جائز ہے اور اللہ اس سلسلے کی مجبوری کو معاف فرمائے گا وہ مغفرت والا ہے۔ اس کی مزید تفصیل فقہ کی کتابوں میں موجود ہے جس کو ملاحظہ کرلیا جائے۔
Ayahs 4:44–47

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 4:44 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کے حالات پر غور کیا جن کو کتاب (توریت) کے علم سے ایک حصہ دیا گیا ہے مگر وہ لوگ گمراہی خرید رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی صحیح راہ سے بھٹک جاؤ۔

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا Open ayah 4:45 in the Quran reader

اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور اللہ کا مددگار اور حامی ہونا ہی کافی ہے۔

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

یہود میں سے کچھ لوگ تو وہ ہیں جو بات کو اپنی جگہ سے بدل دیتے ہیں اور طعنہ زنی کرنے کے لئے اپنی زبانوں کے الٹ پھیر سے یوں کہتے ہیں۔ ہم نے سن لیا اور ہم نے نافرمانی کی۔ اور وہ کہتے ہیں کہ تو سن کہ تو سننے کے قابل ہی نہ رہے اور راعنا کو زبان دبا کر کہتے ہیں۔ اگر وہ لوگ یوں کہتے۔ ” سمعنا واطعنا اسمع اور انظرنا “ تو ان کے حق میں بہتر اور مناسب ہوتا۔ لیکن ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر رکھا ہے۔ لہٰذا ان میں سے تھوڑے لوگوں کے سوا ایمان نہیں لائیں گے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

اور اے وہ لوگو ! جن کو کتاب دی گئی ہے اسے مان لو جو ہم نے نازل کیا ہے جو تمہاری اس کتاب کی تصدیق کرنے والا ہے جو تمہارے پاس ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم ان کے چہرے بگاڑ دیں اور ان کو ان کی پیٹھ کی طرف پھیر دیں۔ یا ان پر لعنتیں برسا دیں جس طرح ہم نے سبت والوں پر لعنتیں کی تھیں۔ اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہتا ہے۔

آیت نمبر 44-47 لغات القرآن : الم تر، کیا تو نے نہیں دیکھا ؟ ۔ یشترون، خریدتے ہیں۔ اعداء، دشمن (عدو کی جمع ہے) ۔ مواضع، موقع و محل (موضع، جگہ، موقع) ۔ غیر مسمع، نہ ہو سننے والا۔ لی، مروڑنا۔ السنۃ، زبانیں (لسان کی جمع ہے) ۔ طعن، طعنہ دینا، عیب لگانا۔ اقوم، زیادہ بہتر۔ نطمس، ہم مٹا دیں ہم بگاڑ دیں۔ نرد، ہم پھیر دیں۔ ادبار، پیٹھ (دبر، پیٹھ) ۔ اصحاب السبت، ہفتہ والے (بنی اسرائیل میں سے جن کو مچھلیوں کے شکار سے آزمایا گیا) ۔ امر اللہ، اللہ کا حکم۔ تشریح : ان آیات میں مجلسی آدب بتائے گئے ہیں۔ جان بوجھ کر ذومعنی الفاظ کہنا سخت منع ہے جو بظاہر احترام اور عزت کے ہیں لیکن حقیقتاً حقارت اور ذلت کے الفاظ ہیں اور محض تلفظ کے الٹ پھیر سے معنی کہیں سے کہیں چلے جاتے ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کی محفل میں منافق بھی ہوا کرتے تھے جب حضور کوئی بات فرماتے تو وہ سمعنا کہتے یعنی ہم نے سن لیا لیکن ساتھ ہی ساتھ چپکے سے عصینا بھی کہتے یعنی ہم نہیں مانیں گے۔ کچھ اس طرح زبان لچکا کر لفظ عصینا کو ادا کرتے کہ سننے میں اطعنا بھی آتا یعنی ہم مانیں گے اسی طرح وہ حضور ﷺ کو اور مسلم حاضرین محفل کو یقین دلانے کی کوشش کرتے کہ ہم نے سن لیا ہے اور ہم عمل کریں گے لیکن حقیقت میں وہ یہی کہتے کہ ہم نے سن لیا ہے لیکن ہم ہرگز عمل نہیں کریں گے۔ اور اسطرح اپنے دل کا غبار نکالتے رہتے تھے۔ اس طرح راعنا کہا کرتے۔ عین کو زبان سے د با کر کہتے اور اس طرح اس کے معنی کو تذلیل و تحقیر کی طرف لے جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ان کی ان تمام حرکتوں کو سب کے سامنے کھول کر رکھ دیا کہ کوئی دھوکا نہ کھائے اور ان کا فریب سب پر ظاہر ہوجائے۔ ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتا دیا کہ ذو معنی الفاظ کا استعمال کرنا سخت گناہ ہے جو ظاہر میں کچھ ہیں اور باطن میں کچھ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ کون سے صحیح الفاظ کا استعمال کرنا چاہئے جن سے سوائے عزت اور تعظیم کے کوئی دوسرے معنی نہ نکلتے ہوں۔ اس قسم کے ذو معنی الفاظ صرف وہی بول سکتے ہیں جن کے اندر ایمان نہیں اور ان پر اللہ کی پھٹکار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو مخاطب کرکے یہ بھی ہوشیار کردیا ہے کہ ایمان لاؤ ورنہ ایک دن اللہ کا عذاب آجائے گا۔ تمہارا سامنے کا چہرہ بگاڑ کر پیچھے کی طرف کردیا جائے گا۔ یا تمہیں اس طرح سے لعنت زدہ کرکے بندر بنا دیا جائے گا جس طرح سبت والوں کے ساتھ ہوا جس کا ذکر سورة بقرہ میں ہے۔ اللہ نے یہ بھی خبردار کردیا ہے کہ ہمارا حکم نافذ ہو کر رہے گا۔
Ayahs 4:48–50

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو معاف نہیں کرے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے اس کے علاوہ جس چیز کو چاہے وہ معاف کرسکتا ہے۔ اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے گا اس نے ایک بہت بڑا بہتان باندھنے کا گناہ کیا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

اے نبی ﷺ کیا آپ نے ان لوگوں کا حال دیکھا ہے جو بڑے پاک باز بنتے ہیں ۔ حالانکہ اللہ جس کو چاہے پاک بازی عطا کردے۔ اور ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں ہوگا۔

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

دیکھو تو سہی یہ اللہ پر کیسا جھوٹ بہتان لگا رہے ہیں اور ایسی بات کھلے ہوئے گناہ کی دلیل ہے۔

آیت نمبر 48-50 لغات القرآن : لایغفر، معاف نہیں کرے گا۔ ان یشرک، یہ کہ شریک کیا جائے۔ مادون ذلک، اس کے علاوہ۔ افتری، اس نے گھڑ لیا۔ یذکون، وہ پاک باز بنتے ہیں۔ فتیلا، دھاگہ برابر۔ تشریح : یہاں شرک کی حقیقت کھول کر بیان کردی گئی ہے کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے بلکہ تمام گناہوں کی جڑ ہے۔ اس لئے بالکل صاف صاف بیان فرما دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی ایک گناہ کو معاف نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ جس گناہ کو چاہے معاف کرسکتا ہے شرک کیا ہے ؟ اللہ کے علاوہ کسی اور کو معبود تسلیم کرلینا جب کہ وہ اللہ ایک ہے اس کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک کرنا گناہ عظیم ہے۔ جس نے اس وحدت کو خراب کیا وہ مشرک ہے ۔ کافر اور مشرک میں فرق یہ ہے کہ کافر کھلم کھلا اللہ اور رسول کو نہیں مانتا۔ مشرک چالاکی سے اللہ اور رسول ﷺ کو مانتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ کسی اور جاندار یا بےجان ہستی کو بھی صاحب اختیار اور صاحب حکم مانتا ہے۔ اس نے الوہیت یا رسالت میں شریک پیدا کر لئے اپنے مفاد کو دیکھتے ہوئے جہاں پر جی چاہا اللہ اور رسول ﷺ کا حکم مان لیا اور جہاں پر جی چاہا اپنے خود ساختہ معبودوں کا سہارا لے لیا اس طرح بندہ کے ہاتھ میں اختیار آگیا کہ وہ کس اللہ کا یا کس نبی کا حکم مانے، کب مانے اور کس معاملے میں مانے۔ کفر اپنا کھیل صاف صاف کھلیتا ہے اور سامنے سے وار کرتا ہے لیکن شرک مار آستین بن کر چھپ کر وار کرتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ دوست نما دشمن سے بچنا زیادہ مشکل ہے۔ اسی لئے شرک کو سب سے بڑا اور ناقابل معافی جرم قرار دیا گیا ہے۔ اہل کتاب یہی شرک کا کھیل کھیلتے تھے اور ان کے مذہبی سردار اور علماء بظاہر بڑے مقدس بنتے تھے لیکن در حقیقت اپنی اپنی گدیوں سے شرک کا کاروبار چلاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں پر واضح کردیا کہ ظاہری تقدس پاکیزگی اور اخلاق سے دھوکا نہ کھایا جائے۔ فرض کرلیا جائے کہ ان مذہبی ٹھیکہ داروں میں بہت سی خوبیان موجود ہیں پھر بھی ایک تنہا شرک کا گناہ ان کی سب خوبیوں کو لے ڈوبے گا اور ان کے جہنمی ہونے کے لئے یہی ایک گناہ کافی ہے۔
Ayahs 4:51–57

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا Open ayah 4:51 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا جنہیں آسمانی کتاب سے ایک حصہ دیا گیا تھا یہ لوگ اس کے باوجود بتوں پر اور شیطانوں پر ایمان لاتے ہیں اور یہ کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ کفار مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ سیدھے راستے پر ہیں۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:52 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ ہی لعنت کر دے تو اے نبی ﷺ آپ اس کا کسی کو مددگار نہیں پائیں گے۔

اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ Open ayah 4:53 in the Quran reader

کیا ان کا سلطنت میں کوئی حصہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگ تو کسی کو ذرا سئ چیز بھی نہ دیتے۔

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا Open ayah 4:54 in the Quran reader

یا یہ کہ اللہ نے اپنے فضل سے لوگوں کو جو کچھ عطا کیا ہے اس پر حسد کرتے ہیں۔ یقیناً اس سے پہلے بھی ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان والوں کو کتاب و حکمت دی گئی ہے اور ہم نے ان کو بڑی سلطنت بھی عطا کی تھی

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا Open ayah 4:55 in the Quran reader

پھر لوگوں میں سے کچھ تو اس پر ایمان لے آئے اور کچھ لوگوں نے اس سے منہ پھیرلیا۔ اور جہنم کی دھکتی آگ ان کے لئے کافی ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:56 in the Quran reader

بیشک جنہوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا ہم عنقریب ان کو جہنم میں جھونک دیں گے۔ جب بھی ان کی کھالیں جل جائیں گی تو ہم ان کھالوں کی جگہ دوسری کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا اور بڑی حکمت والا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا Open ayah 4:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم عنقریب ان کو ایسی جنتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان جنتوں میں ان کے لئے پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور ہم ان کو بہت زیادہ گھنی چھاؤں میں داخل کریں گے۔

آیت نمبر 51-57 لغات القرآن : الجبت، بت، ساحر، دیوتا، اوھام۔ الطاغوت، شیطان (اور شیطانی قوتیں) ۔ اھدی، زیادہ ہدایت پر۔ لایؤتون، وہ نہیں دیں گے۔ نقیر، تل برابر، ذرہ برابر۔ یحسدون، وہ حسد کرتے ہیں، جلتے ہیں۔ صد، وہ رک گیا۔ نضجت، جل گئی (جل جائیں گی) ۔ جلود، کھالیں، (بدن کی کھال) ۔ لیذوقوا، تاکہ وہ چکھیں۔ ظلال ظلیلا، گھنا سایہ، گھنی چھاؤں۔ تشریح : یہود کے علماء کا ذکر ہے ۔ بیشک وہ الکتاب کا علم رکھتے تھے مگر مختصر، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ علم ایمان کی گارنٹی نہیں ہے یعنی ضروری نہیں ہے کہ عالم مومن بھی ہو۔ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگ دنیاوی علوم کے ماہر ہوتے ہیں مگر وہ عقیدہ کی بہت سی گندگیوں میں ملوث ہوتے ہیں ۔ اور شیطانوں کے راستے اختیار کئے ہوئے ہوتے ہیں اور دین کا بہت مختصر علم رکھتے ہیں۔ مختصر علم رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ یا تو ساری کتاب پر حاوی نہیں ہوتے۔ بس ادھر ادھر سے کچھ پڑھ پڑھا کر اپنا کلام چلا لیتے ہیں ۔ اس کے یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ وہ سطحی مطالعہ کرتے ہیں۔ حقیقت کی روح اور گہرائی تک نہیں پہنچتے۔ اس کے دو ثبوت دئیے گئے ہیں کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر جبت اور طاغوت کو مانتے ہیں۔ دوسرے یہ کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ مومنوں کے مقابلے میں زیادہ صحیح راستے پر ہیں۔ جبت اور طاغوت کیا ہیں ؟ حضرت عمر ؓ کا قول ہے کہ جبت سے مراد سحر ہے اور طاغوت سے مراد شیطان۔ یعنی اللہ کے سوا جس کی بھی عبادت اور پرستش کی جائے اسے جبت یا طاغوت کہتے ہیں۔ جبت ایک بت تھا۔ آگے چل کر اس کے معنی غیر اللہ اور معبود کے ہوگئے۔ جبت اور طاغوت تقریبا ہم معنی الفاظ ہیں۔ جن لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے ان میں وہ بھی شامل ہیں جو کم علمی بلکہ کم عقلی کی وجہ سے شرک کرتے ہیں اور شیطان کی پیروی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کفار زیادہ صحیح راستے پر ہیں۔ یہاں پر لعنت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس پر اللہ لعنت کر دے پھر اس کا کوئی مددگار نہیں۔ ملعونوں کے متعلق ایک جگہ قرآن میں فرمایا ہے کہ ” جن پر اللہ کی لعنت ہے وہ جہاں کہیں بھی ملیں ان کی گردن اڑا دی جائے “ ۔ یہود اسلام کے اتنے دشمن کیوں تھے ؟ اس پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ وہ حسد کر رہے ہیں کیوں کہ نبوت اور سلطنت بنی اسمعیل کے حصہ میں آگئی ہے جب کہ ان کے گمان کے مطابق اسے بنی اسرائیل کے حصہ میں آنا چاہئے تھا۔ اس کا جواب صاف صاف یہ ہے کہ اللہ نے کتاب اور ملک عظیم تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بخشی تھی۔ اور اس کے بعد ان کی مومن اولاد کو۔ اب بنی اسمعیل نے ایمان کو قبول کرلیا ہے اور بنی اسرائیل کافر ہی رہ گئے۔ بنی اسرائیل کی کنجوسی کا حال یہ ہے کہ اگر اللہ صرف انہیں ہی مال و دولت اور سلطنت سے نوازتا تو دوسروں کو ایک پھوٹی کوڑی تک نہ دیتے۔ کافروں کو عذاب کی وعید دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آیت 56 میں نقشہ کھینچا ہے کہ جہنم میں کیا کچھ ہوگا۔ فرمایا ہے کہ جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی اور اس میں حس پیدا ہوجائے گی تو اس گلی ہوئی کھال کی جگہ تازہ کھال پہنا دی جائے گی تاکہ جلنے کا احساس قائم رہے حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ یہ کھال کی تبدیلی دن میں ستر ہزار بار ہوگی اور ہر دن ہوگی ہمیشہ ہمیشہ۔ آیت نمبر 57 میں جنت کی جھلک دکھائی گئی ہے ۔ یہ جنت ان ہی لوگوں کے لئے ہے جو ایمان بھی لائیں گے اور ایمان کی تصدیق میں عمل صالح بھی پیش کریں گے۔ ایسے لوگ ان باغوں میں داخل ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہاں وہ ابدالا باد تک یعنی ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے لئے وہ بیویاں ہوں گی جن کا ظاہر بھی پاک ہوگا اور باطن بھی۔ اور اس جنت میں بہترین درخت ہوں گے اور ان کی گھنی گھنی چھاؤں ہوگی۔
Ayah 4:58

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 4:58 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کو ادا کردیا کرو اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے لگو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا کرو۔ جس بات کی اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے وہ بہت ہی عمدہ بات ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے۔

آیت نمبر 58 لغات القرآن : تؤدوا، تم ادا کر دو ۔ الامنت، امانتیں۔ الی اھلھا، اس کے مالکوں کی طرف۔ حکمتم، تم نے فیصلہ کیا (تم فیصلہ کرنے لگو) ، ان تحکموا، یہ کہ تم فیصلہ کرو۔ العدل، انصاف۔ نعما، بہترین۔ یعظکم، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔ تشریح : اس آیت میں مومنوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جنہیں کتاب حکمت اور حکومت سے نوازا گیا ہے ان مومنوں کے لئے کتاب حکمت اور حکومت ایک آزمائش ہے۔ سلطنت کا انتظام اگر کیا جائے گا تو اس حکمت اور ان احکام کے تحت جنہیں اللہ کی کتاب نے پیش کیا ہے۔ تمام حکومتوں کے مقابلے میں مومن کی حکومت ایک خاص امتیاز رکھتی ہے یعنی یہاں پر عہدہ، دولت، روپیہ اور ہر چیز اللہ کی امانت ہے۔ انسان صرف خلیفۃ اللہ فی الارض ہے۔ یہاں پر دو احکام ارشاد فرمائے گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سلطنت کی بقاء و ترقی اور خوش حالی کا انحصار ان ہی دو احکام پر ہے۔ نمبر (ایک) عہدے یا پر مٹ یا الاٹمنٹ یا ٹھیکہ وغیرہ صرف ان ہی لوگوں کے حوالے کیا جائے جو اس کام کو امانت سمجھ کر انجام دیں۔ جن کا شعور تیز ہوکر اللہ دیکھ رہا ہے اور آخرت میں ذرہ ذرہ کی جواب دہی کرنی ہوگی۔ ظاہر ہے کہ یہ صفت صرف مومنوں میں ہوگی۔ (دوسرا حکم یہ ہے) کہ فیصلہ کرو تو بےلاگ۔ کوئی لالچ خوف تعصب اقربا پروری اور مفاد پرستی نہ ہو۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی۔ دنیا پکار اٹھے کہ زمین و آسمان جس انصاف پر قائم ہیں وہ یہی ہے فرمایا کہ خبردار انصاف کا پلہ ایک طرف نہ جھک جائے۔ بنی اسرائیل کو بھی حاکمانہ اقتدار سے صدیوں نوازا گیا تھا۔ وہ بھی کتاب ، حکمت اور نبوت کے حامل رہے۔ لیکن چند خاص زمانوں میں چھوڑ کر وہ ہمیشہ اخلاقی انحطاط میں مبتلا رہے۔ ان کی سلطنت کے زوال کی خاص وجہ یہ ہی تھی کہ وہ تمام عہدے اور مراعات اور انعام و اکرام اپنے محبوب اور مرغوب دوستوں اور رشتہ داروں میں تقسیم کرتے تھے خواہ وہ کتنے ہی خائن، چور، راشی اور ابے ایمان ہوں۔ عہدوں اور دوسری ذمہ داریوں کو عیش و عشرت کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ دوسری خرابی ان میں یہ تھی کہ بااثر اور با اختیار لوگ اگر جرم کرتے تھے تو چھوڑ دئیے جاتے تھے یا ان کے ساتھ خاص نرمی برتی جاتی تھی لیکن کمزور اور بےآسرا لوگوں پر ظلم کی تلوار خوب چلتی تھی۔ کہا گیا ہے کہ اللہ تمہیں بہت عمدہ نصیحت کرتا ہے ۔ اسی میں حکمت بھی ہے فلاح بھی اور دنیاوی ترقی بھی۔ اور تم خوب سوچ لو اور سمجھ لو کہ اللہ کی نگاہوں سے تمہارا کوئی فعل پوشیدہ نہیں ہے۔
Ayah 4:59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی پیروی کرو اور ان کی بھی جو تم میں سے صاحب امر ہوں۔ پھر اگر کسی بات میں باہمی جھگڑے کی نوبت آجائے تو اس بات کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دیا کرو اگر تم اللہ اور قیامت کے دن پر یقین رکھتے ہو۔ یہی طریقہ بہتر اور انجام کے اعتبار کے اعتبار سے بھی عمدہ ہے۔

آیت نمبر 59 لغات القرآن : اولی الامر، صاحب اختیار۔ تنازعتم، تم آپس میں جھگڑ پڑے۔ ردوہ، اس کو لوٹاؤ۔ احسن، بہترین تاویل، انجام، جزا۔ تشریح : یہ آیت تمام آئین و قوانین اسلام کی جان ہے۔ اسلامی دستور کی حیثیت سے اول و آخر ہے۔ انسان کے بنائے ہوئے آئین کب اس کی خاک کو پہنچ سکتے ہیں۔ اسلامی دستور سارے کا سارا سمیٹ کر اور لپیٹ کر اٹھائیس الفاظ میں حل کردیا گیا ہے۔ اس کا تعلق ظاہری احکام سے بھی ہے اور اس روح مقصد سے بھی ہے جسے ایمان کہتے ہیں۔ یعنی اس میں ظاہر بھی ہے اور باطن بھی۔ اگر باطن میں ایمان نہیں ہے تو ظاہری احکام کو آدھے دل سے ٹالنے کے لئے مان لینا اچھا نتیجہ نہیں دکھا سکتا۔ اس آیت کے مطابق اسلامی دستور کی چار بنیادیں ہیں۔ (1) قرآن میں واضح احکامات ہیں، ان کا ماننا اور ان پر بلاچون و چرا عمل کرنا شرط اول ہے پھر ان اللہ یامر سے ارشاد کردیا کہ اصل حکم اللہ تعالیٰ کا ہے لہٰذا اقتدار اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ (2) رسول مقبول ﷺ نے جو احکامات اثبات یا نفی میں دئیے ہیں یا جو احکام قرآنیہ کی تفصیلات طے کی ہیں ، یعنی جو کچھ الفاظ و اعمال سے ہدایت بخشی ہے، وہ سب وحی غیر متلو ہیں۔ سب حق تعالیٰ کے حکم اور مرضی سے ہیں۔ ان کا ماننا گویا اللہ کا حکم ماننا ہے۔ ان کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے۔ (3) زمین پر انسان کی حکمرانی نائب و امین کی حیثیت سے ہے لہٰذا قانون سازی ایسے اصول پر مبنی ہوگی جو قرآن و حدیث سے متصادم نہ ہو۔ (4) اس حاکم وقت کا حکم ماننا جو تم میں سے ہو۔ ” تم میں سے ہو “ کے معنی ہیں کہ مومن ہو۔ اگر وہ واقعی مومن کی بصیرت اور حکمت رکھتا ہے تو اس کے احکام بھی اللہ اور رسول ﷺ کے احکام کی روشنی میں ہوں گے۔ یہ ممکن ہے کہ وہ اجتہادی غلطی کر جائے لیکن اگر اس کے احکام کی بنیاد اسلام ہے تو اس کا حکم ماننا ضروری ہے۔ اگر احکام و امراء کا حکم ایسے معاملات کے بارے میں ہے جو کتاب و سنت کی روشنی میں جائز چیزوں کی قسموں میں سے ہیں اور اس میں آپ حکام کو غلطی پر سمجھتے ہیں تو اختلاف رائے کیا جاسکتا ہے، مشورے دئیے جاسکتے ہیں۔ احتجاج کیا ہوسکتا ہے لیکن حکم حاکم سے دم مارنے کی گنجائش نہیں ہے۔ حکم حکم ہے اور تسلیم کرنا پڑے گا۔ ورنہ انتظام کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ اگر وہ غلطی عظیم ہے اور بنیادی اہمیت کی ہے اس لئے کہ حاکم کا حکم عدل و انصاف کے خلاف ہے تو پھر اس میں امیر کی اطاعت نہیں ہے بلکہ اس میں تو حاکم اور محکوم دونوں کو اللہ کا حکم ہے کہ اجتہاد پر، قرآن و حدیث کی روشنی میں نظرثانی کریں۔ اگر دونوں طرف دل میں خلوص ہوگا، ایک دوسرے کی خیرخواہی ہوگی تو انشاء اللہ قرآن و حدیث کی روشنی میں نظر ثانی اور نظر ثالث مفاہمت کا دروازہ کھول دے گا۔ دوسرے الفاظ میں یہ حاکم کی طرف سے ظلم و ستم کی اجازت ہے جو محکوم کی طرف سے بغاوت اور ہنگامے کی۔ آیت یوں ختم ہوتی ہے ” اگر تم واقعی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی کا صحیح طریقہ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی حسن و خوبی کا مظہر ہے “ ۔ یہاں پر ” اولی الامر “ کا لفظ اپنے اندر بہت ہی وسیع معنی رکھتا ہے۔ سربراہ مملکت اور اس کے مقرر کردہ انتظامی حکام سے لے کر کنبہ کے سربراہ یعنی والدین اور شوہر تک اس میں شامل ہیں۔ اس آیت کی رو سے ہر طرح کا فتنہ و فساد، سازش، خونی انقلاب، مطالبات منوانے کے لئے بھوک ہڑتال ، ناجائز ہڑتالوں، پستول ، بم، سب ہتھکنڈے منع ہیں۔ ہاں پر امن تحریک چلائی جاسکتی ہے۔ اور حدود اسلامی کے اندر مفاہمت کا ہر موقع استعمال کیا جاسکتا ہے۔
Ayahs 4:60–64

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:60 in the Quran reader

اے نبی ﷺ کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا جو یہ دعوے کرتے ہیں کہ جو کچھ آپ پر نازل ہوا وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کتابوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ سے پہلے نازل ہوئیں لیکن وہ اپنے مقدمات کے فیصلے شیطانوں سے کرانا چاہتے ہیں حالانکہ ان کو شیطان کو حکم نہ ماننے کے لئے کہا گیا ہے۔ شیطان کی تو یہی خواہش ہے کہ وہ صحیح راستے سے بھٹکا کر بہت دور لے جائے۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ Open ayah 4:61 in the Quran reader

جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اللہ کے نازل کئے ہوئے حکم اور رسول کی اطاعت کی طرف آجاؤ تو آپ ان منافقین کو دیکھتے ہیں کہ وہ اس بات سے بےرخی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔

فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا Open ayah 4:62 in the Quran reader

پھر اس وقت ان کا کیا حال ہوتا ہے کہ جب ان پر ان کے ہاتھوں کئے ہوئے کاموں کی وجہ سے کوئی مصیبت پڑتی ہے تو پھر وہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد تو صرف بھلائی اور باہمی میل ملاپ تھا

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا Open ayah 4:63 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کے دلوں کا حال اللہ خوف جانتا ہے ۔ آپ ان سے درگزر کیجئے ان کو نصیحت کرتے رہئے اور ان کے حق میں وہ بات کہیے جو ان کے نفسوں پر اثر انداز ہو۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:64 in the Quran reader

اور ہم نے ہر ایک رسول کو اسی لئے بھیجا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس کی پیروی کی جائے۔ اگر وہ لوگ اسی وقت جب کہ انہوں نے اپنے حق میں برا کیا تھا آپ کے پاس آتے، اللہ سے بخشش مانگتے اور رسول بھی ان کے لئے دعائے مغفرت کرتے تو یہ لوگ ضرور اللہ تعالیٰ کو بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا پاتے۔

آیت نمبر 60-64 لغات القرآن : یزعمون، دعوی کرتے ہیں، گھمنڈ رکھتے ہیں۔ یتحاکموا، وہ فیصلہ کے لئے جائیں۔ امروا، حکم دیا گیا۔ ضلال بعیدا، گم راہی میں دور۔ تعالوا، آؤ۔ رایت، تو نے دیکھا (تو دیکھے گا) ۔ صدود، اٹک کر، روک رک کر۔ یحلفون، وہ قسم کھاتے ہیں۔ توفیق، باہمی میل ملاپ۔ لیطاع، تاکہ اطاعت کی جائے۔ لوجدوا، البتہ وہ پاتے۔ تشریح : اس حکم کے بعد کہ حکومت کے عہدے عیش و عشرت کے لئے نہیں بلکہ امانت داری کے لئے ہیں اور ان پر وہی مقرر کئے جائیں گے جو انہیں اللہ کی امانت سمجھیں گے۔ فرمایا گیا کہ اس حکم کے بعد جب کسی معاملہ کا فیصلہ کرنے لگو تو بےلاگ اور بےلوث کرو۔ پھر اس حکم کے بعد اللہ کا حکم مانو، رسول کا حکم مانو اور اپنے حکام و امراء کا حکم مانو اور اگر شدید اختلاف ہوجائے تو پھر قرآن و حدیث کی روشنی میں دوبارہ غوروفکر کرو۔ اتنے احکام کے بعد اگر کوئی بظاہر مسلمان اسلامی عدالت میں اپنا مقدمہ نہ لے جائے خصوصاً جب کہ خود حضور پر نور ﷺ بہ نفس نفیس عدالت کی کرسی پر تشریف فرما ہوں، اور اس کے باوجود کسی کافر کے پاس فیصلے کے لئے اپنا مقدمہ لے جائے تو وہ منافق نہیں تو اور کیا ہے۔ ایسا ایک واقعہ حضور ﷺ کے زمانے میں پیش آیا ہے جبکہ بشرنامی ایک بظاہر مسلمان اپنا مقدمہ آپ کی عدالت میں لے جانے کے بجائے ایک یہودی سردار کے پاس لے گیا۔ چونکہ وہ قصور وار تھا اسے آپ کی عدالت سے سزا پانے اور ذلیل ہوجانے کا خطرہ تھا۔ مقدمہ بہر حال حضور ﷺ کی عدالت میں پہنچا۔ وہاں آپ نے بشر کے خلاف یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ بشر آہ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہوا اور فیصلے کے لئے حضرت عمر ؓ کے پہنچا۔ حضرت عمر ؓ نے یہ سن کر کہ بشر حضور ﷺ کے فیصلہ سے مطمئن نہیں ہوا۔ اس کی گردن اڈا دی کہ یہ منافق ہے۔ آیت مذکورہ تصدیق کرتی ہے کہ ایسے لوگ جو اللہ کے رسول کا فیصلہ نہیں مانتے وہ کافر ہوتے ہیں۔ یہ تو صرف ایک واقعہ تھا لیکن ایسے متعدد واقعات ہوئے ہیں ۔ وہ لوگ جو بظاہر یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ہم ایمان لائے ہیں اپنا مقدمہ حضور کی عدالت میں لانے سے کتراتے تھے چونکہ وہ انصاف میں لگی لپٹی ناجائز رعایت چاہتے تھے ۔ پھر جب وہ حضور ﷺ کے پاس آتے تو اپنے ایمان کی بہت ساری قسمیں کھاتے اور طرح طرح کے بہانے پیش کرتے اور ہمیشہ اپنے آپ کو نیک نیت اور خیرخواہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے۔ لیکن اس آیت نے فیصلہ کردیا کہ ہر وہ بظاہر مسلمان جو اپنا مقدمہ آپ کی عدالت میں نہیں لاتا ہے ، ہزار قسمیں کھا کھا کر اپنے ایمان کو پیش کرتا ہے، وہ منافق ہے۔ اسے چاہیے تھا کہ آپ کے فیصلہ کو تسلیم کرتا اور ذرا بھی تنگی محسوس نہ کرتا۔ ہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے رحمت خاص سے یہ بھی فرما دیا ہے کہ اگر یہ منافقین ایسی غلطی کرنے کے بعد جناب رسالت ماب ﷺ کے پاس آتے ۔ اپنے گناہ پر سجے دل سے توبہ کرتے اور خود حضور بھی اس کی مغفرت کے لئے دعا کرتے تو اللہ تعالیٰ ضرور بخش دیتا اور انہیں پھر ایمان کی زندگی کا موقع دیتا۔ اس آیت نے غیر اسلامی عدالت کو طاغوت قرار دیا ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو غیر اسلامی عدالتوں میں اپنا مقدمہ لے جانے سے ہوشیار رہنا چاہیے۔