26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 26:176–191

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

اصحاب الا یکہ (بن والوں) نے رسولوں کو جھٹلایا۔

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:177 in the Quran reader

جب شعیب نے ان سے کہا کہ تم (اللہ سے ) ڈرتے نہیں ہو۔

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:178 in the Quran reader

بیشک میں تمہارے لئے امانت دار پیغمبر ہوں۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:179 in the Quran reader

پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:180 in the Quran reader

اور اس پر میں تم سے کوئی اجرت (صلہ) نہیں مانگتا میرا اجر تو اللہ رب العالمین کے ذمے ہے۔

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

تم ماپ تول پورا کرو اور نقصان پہنچانے والوں میں سے نہ بنو۔

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

صحیح اور سیدھے ترازو سے تولو

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو ۔ اور زمین پر فساد مچانے والے نہ بنو۔

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

اور اس سے ڈرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلوں کو پیدا کیا۔

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

کہنے لگے کہ (اے شعیب) تجھ پر کسی نے جادو کردیا ہے

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

اور تو ہم جیسا ہی بشر ہے اور ہم تجھے جھوٹے لوگوں میں سے سمجھتے ہیں۔

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

اگر تو سچے لوگوں میں سے ہے تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا ہی گرادے۔

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا پروردگار جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

پھر انہوں نے اس کو جھٹلایا۔ اور انہیں سائبان (چھتری) والے عذاب نے گھیر لیا۔ بیشک وہ بڑے سخت دن کا عذاب تھا۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

بیشک اس میں ایک نشانی ہے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا پروردگار قوت والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 176 تا 191 : اصحاب الایکۃ (بن والے۔ جنگل والے) ‘ اوفوا (تم پورا کرو) الکیل (ماپ تول۔ پیمانہ) المخسرین (نقصان دینے والے) ‘ وزنوا (تم وزن کرو) ‘ القسطاس (ترازو) ‘ لا تبخسوا (تم نہ گھٹائو) ‘ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ‘ مفسدین (فساد کرنے والے) ‘ الجبلۃ (مخلوق) ‘ اسقط (گرادے) ‘ کسفا (ٹکڑے ٹکڑے) ‘ یوم الظلۃ (سائبان والا۔ چھتری والا (دن) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 176 تا 191 : جب کوئی قوم ضد ‘ ہٹ دھرمی ‘ سرکشی اور نافرمانی کو اپنا مزاج بنا لیتی ہے تو اس میں یہ احساس مٹ جاتا ہے کہ وہ کس قدر کمزور ‘ ناقابل اعتبار اور غلط بنیادوں پر اپنی زندگی کی تعمیر کررہی ہے۔ اس کو ہر وہ شخص سخت ناگوار گزرتا ہے جو صحیح رخ پر چل رہا ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ صراط مستقیم پر چلنے والوں کو بےحقیقت ظاہر کرنے کی ہر ممکن جدوجہد کرے ‘ وہ قوم اپنے حال پر اس طرح مطمئن ہوتی ہے کہ وہ غبط تاویلیں کرکے اپنی اصلاح کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتی۔ سورۃ الشعراء میں سات انبیاء کرام اور ان کی دعوت کو قبول کر کے ایمان لانے والوں اور کفر و شرک اور انکار رسالت پر جم جانے والوں کا حال بیان کیا گیا ہے جس میں اسی حقیقت کی طرف واضح اشارے کئے گئے ہیں۔ ان آیات میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر کیا گیا ہے جن کو ” اصحاب الایکہ “ فرمایا گیا ” ایکہ “ کے متعلق مفسرین نے مختلف معنی بیان کئے ہیں۔ ایکہ تبوک کا پرانا نام ہے اسی قوم کی اصلاح کے لئے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا تھا۔ (2) ایک جنگل ‘ بن ‘ سر سبز و شاداب اور درختوں کے جھنڈ والے علاقے کو کہتے ہیں۔ (3) ایکہ۔ والے ایک درخت کو اپنا معبود مانتے تھے جو ان کے قریب کے بن کا ایک درخت تھا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اس قوم کی اصلاح کے لئے تشریف لائے تھے۔ (4) حضرت شعیب (علیہ السلام) جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اودلاد سے تھے پوری زندی اس قوم کی اصلاح کرتے رہے جو اپنے خوش حالی کی وجہ سے تمام اخلاقی اور معاشرتی خرابیوں میں مبتلا ہوچکی تھی۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) جس قوم کی اصلاح کے لئے تشریف لائے تھے وہ نہایت متمدن خوش حال اور تجارت پیشہ قوم تھی جو ایسے علاقے میں رہتی تھی جو نہایت سرسبز و شاداب جھاڑیوں ‘ درختوں کی کثرت اور پر فضا مقام پر عیش و عشرت کی زندگی گزار رہی تھی۔ پورا علاقہ نہروں ‘ چشموں اور درختوں کی کثرت کی وجہ سے نہایت حسین نظر آتا تھا۔ خاص طور پر خوشبودار پھولوں کے چمن تھے جو بڑا خوبصورت نظارہ پیش کرتے تھے چونکہ یہ قوم تجارت پیشہ تھی اس لئے مال و دولت کی کثرت نے ان کو دنیاوی زندگی کا ایا دیوانہ بنا دیا تھا کہ وہ بہت سی اخلاقی اور معاشرتی خرابیوں میں مبتلا ہوچکے تھے۔ انہوں نے تجارتی بد دیانتی کو اختیار کرکے ” میزان “ یعنی تو ازن و عتدال کو چھوڑ دیا تھا اور بےایمانی کرنے اور کم تولنے کو اپنا مزاج بنا لیا تھا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ ان میں خود غرضی ‘ لالچ اور کردار کی ہزاروں کمزوریاں پیدا ہوچکی تھیں۔ مذہبی اعتبار سے اس قوم میں مشرکا نہ رسمیں اس قدر کثرت سے پھیل چکی تھیں کہ ان کے نزدیک وہی اصل دین تھا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے جب ان کو بتایا کہ وہ خریدو فروخت میں بددیانتی ‘ مشرکانہ رسمیں اور تجارت کے رستوں کو دوسروں پر بند کرنے کی عادت چھوڑ دیں اور صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کریں جس نے یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں نہایت دیانت وامانت والا رسول ہوں مجھے تم سے دنیا کی کوئی چیز بدلہ اور صلہ میں نہیں چاہیے وہ تو میرے رب العالمین کے ذمے ہے میں تو یہ چاہتا ہوں کہ تم میری بات مانو ‘ پورا تولو ‘ اس میں کمی نہ کرو ‘ ترازو کو سیدھا رکھو ‘ لوگوں کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچائو۔ فسادی لوگوں کی اتباع نہ کرو۔ تمہارا اور تم سے پہلے لوگوں کا خالق صرف ایک اللہ ہے جو تمام عبادتوں کا مستحق ہے۔ اگر تم نے میری بات نہ مانتی ‘ میری اطاعت نہ کی تو تمہارے اوپر تمہاری بد اعمالیوں کی وجہ سے سخت عذاب آسکتا ہے۔ اس برے انجام سے ڈرو۔ سورۃ الاعراف میں اس واقعہ کو کافی تفصیل سے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) جو نہایت شیریں بیان اور عظیم مقرر تھے جن کو علماء نے ” خطیب الانبیائ “ کا لقب دیا ہے جب اپنی بات کہہ چکے تو پوری قوم غیظ و غضب سے پاگل ہوگئی ‘ آپ کی قوم کے لوگوں نے کہا کہ اے شعیب ہم تو تم سے بہت اچھی امیدیں وابستہ کئے ہوئے تھے مگر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ہماری ان رسموں کو برا کہہ رہے ہو جس پر ہمارے باپ دادا چلتے آئے ہیں۔ تم ہمیں تجارتی آداب سکھانے آگئے ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے جس سے ایسی بہکی بہکی باتیں کررہے ہو۔ تم ہم جیسے آدمی ہو یعنی اللہ کو اگر اپنا نبی بنا کر بھیجنا تھا تو کسی فرشتے کو نبی بنا کر بھیجتے۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو وہ سب جھوٹ ہے۔ کہنے لگے کہ اگر تمہارے اندر طاقت وقوت ہے تو آسمان کا کوئی ٹکڑا ہی ہمارے اوپر گرادو۔ غرضیکہ حضرت شعیب (علیہ السلام) دن رات ان کو سمجھاتے رہے مگر وہ اپنی حرکتوں اور غیر اللہ کی عبادت و بندگی سے باز نہ آئے ‘ بالآخر اللہ نے ان پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ فرمایا۔ اس قوم پر عذاب کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ سات دن تک پورے علاقے میں اس قدر شدید گرمی پڑی کہ پوری قوم بوکھلا اٹھی ۔ وہ ہر طرف اس دھوپ کی آگ سے بچنے کی کوشش کرتے مگر ان کو گھر میں یا گھر سے باہر کہیں سکون نہ ملتا تھا۔ جب مسلسل سات دن تک شدید دھوپ اور گرمی پڑی تو ایسا لگتا تھا کہ آسمان آگ برسارہا ہے کہ اچانک آسمان پر ایک گہری گھٹا اور بادل چھا گئے۔ گرمی سے پریشان حال لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ خوشیاں منانا شروع کردیں اور سب کے سب گھروں سے باہر نکل پڑے اور بادلوں کے سائے میں آگئے۔ اس کی بعد ان لوگوں نے دیکھا کہ ابر پھٹا اور اس میں سے آگ برسنا شروع ہوگئی۔ زمین ہلنے اور زور زور سے جھٹکے لینے لگی۔ ایک زور دار اور ہیبت ناک آواز آئی جس سے کانوں کے پردے پھٹنے لگے۔ یہ عذاب اتنا بڑھتا گیا کہ نافرمانوں میں سے کوئی بھی اس عذاب سے نہ بچ سکا۔ اس کیبرخلاف اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) اور آپ کی بات مان کر ایمان لانے والوں کو پوری طرح نجات عطا فرمادی۔ اس عذاب کو ” یوم الظلہ “ فرمایا گیا ہے جو عذاب سائے کی طرح ان پر مسلط کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ پر آخر میں بھی ان ہی دو آیات کو ارشاد فرمایا ہے کہ اس واقعہ میں عبرت و نصیحت کی نشانیاں موجود ہیں۔ لیکن ان نشانیوں کو دیکھنے کے باوجود بھی اکثر و بیشتر لوگ وہ ہیں جو کسی واقعہ سے نصیحت حاصل نہیں کرنا چاہتے اور اپنی روش زندگی میں کسی تبدیلی کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ فرمایا کہ اس کائنات میں ساری قوت و طاقت کا مالک صرف اللہ ہے جو اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ اور بالاخر سب کو اس کی پاس لوٹ کر جانا ہے جہاں وہ فیصلہ فرمادے گا۔
Ayahs 26:192–213

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

اور بیشک (یہ قرآن) رب العالمین نے نازل کیا ہے

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

جس کو جبرئیل امین لے کر نازل ہوتے ہیں

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

آپ کے قلب پر تاکہ آپ ڈر سنانے والوں میں سے ہوجائیں۔

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

روشن اور واضح عربی میں ہے

وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:196 in the Quran reader

اور بیشک اس کا ذکر پہلے پیغمبروں کے صحفیوں میں بھی ہے۔

اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:197 in the Quran reader

کیا ان کے لئے یہ نشانی کافی نہیں ہے کہ علماء بنی اسرائیل بھی اس کو جانتے ہیں۔

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ Open ayah 26:198 in the Quran reader

اگر ہم اس (قرآن) کو عجمیوں میں سے کسی پر نازل کرتے

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 26:199 in the Quran reader

پھر وہ اس کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ ایمان لانے والے نہ تھے۔

كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 26:200 in the Quran reader

اس طرح ہم نے مجرموں کے دلوں میں انکار داخل کردیا ہے۔

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ Open ayah 26:201 in the Quran reader

وہ اس پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب کو (اپنی آنکھوں سے) نہ دیکھ لیں گے۔

فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 26:202 in the Quran reader

جو ان پر اچانک آئے گا اور ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔

فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ Open ayah 26:203 in the Quran reader

پھر وہ کہیں گے کہ کیا ہمیں کچھ مہلت مل سکتی ہے ؟

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 26:204 in the Quran reader

کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ؟

اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:205 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ کیا آپ نے دیکھا۔ اگر ہم ان کو برسوں فائدہ پہنچائیں۔

ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 26:206 in the Quran reader

پھر ان پر وہ عذاب آجائے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ Open ayah 26:207 in the Quran reader

وہ جس سے فائدہ اٹھاتے تھے ان کے کچھ بھی کام نہ آئے گا۔

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ Open ayah 26:208 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی کو اس وقت تک ہلاک نہیں کیا جب تک ہم نے ڈرانے والے نہ بھیج دیئے ہوں۔

ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 26:209 in the Quran reader

ہم ظالم نہیں ہیں۔

وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ Open ayah 26:210 in the Quran reader

اس قرآن کو لے کر شیطان نازل نہیں ہوئے

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ Open ayah 26:211 in the Quran reader

نہ ان کی یہ مجال ہے اور نہ وہ ایسا کرسکتے تھے۔

اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ Open ayah 26:212 in the Quran reader

بیشک وہ سننے کی جگہ سے بھی دور کردیئے گئے ہیں۔

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:213 in the Quran reader

پس تم اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو مت پکارو کہ تم عذاب میں مبتلا لوگوں میں سے ہو جائو گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 192 تا 213 : روح الامین (حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) ) ‘ لسان (زبان) ‘ زبر (صحیفے۔ کتابیں) ‘ اعجمین (عجمی لوگ۔ گونگے) ‘ سلکنا (ہم نے چلایا (داخل کیا) ‘۔ حتی یروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں) ‘ بغتۃ (اچانک) ‘ منظرون (مہلت دیئے گئے) یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ‘ متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) ‘ ما اغنی (کام نہ آیا) یمتعون ( وہ فائدہ اٹھاتے ہیں) ‘ منذرون (ڈرانے والے) ‘ ذکری (نصیحت۔ یاددھانی) ‘ ماینبغی (مناسب نہیں ہے۔ شان نہیں ہے) ‘ یستطیعون (وہ طاقت رکھتے ہیں) ‘ معزولون (دور کردیئے گئے) ‘ لاتدع (نہ پکار) ‘ المعذبین (عذاب میں مبتلا کئے گئے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 192 تا 213 : اللہ تعالیٰ نے سورة الشعراء میں سات انبیاء کرام کا ذکر فرمایا ہے تاکہ ان کی قوم کی مسلسل نافرمانیوں اور ان پر جو عذاب سے تباہی و بربادی آئی تھی اس سے عبرت و نصیحت حاصل کی جاسکے۔ اب فرمایا جارہا ہے نبی کریم ﷺ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی اسی سلسلہ کی آخری کڑی ہیں۔ اللہ نے جو قرآن کریم نازل فرمایا ہے وہ ایک معتبر اور امانت دار فرشتے جبرئیل کے ذریعہ قلب مصطفیٰ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے جو نہایت صاف اور واضح عربی زبان میں ہے ۔ شیطانوں کی یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ اتنے عظیم قرآن کریم کو لے کر نازل ہوتے یا انپے کاہنوں کو بتاتے کیونکہ یہ وحی اس قدر محترم ہے کہ شیطانوں کو اس سے روک دیا گیا ہے کہ وہ اسکلام کی سن گن بھی لے سکیں۔ یہ قرآن کریم ایک ایسی سچائی ہے جسکو سارے نبی کہتے چلے آئے ہیں ان کی کتابیں اس پر گواہ ہیں۔ اس کی سب سے روشن اور واضح دلیل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے اہل علم اس سے اچھی طرح واقف ہیں مگر اپنی ضد اور ہٹ دھرمی اور وقتی مفادات کی وجہ سے وہ بہانے کر رہے ہیں۔ فرمایا کہ یہ قرآن کریم جو نبی کریم ﷺ پر نازل کیا گیا ہے اگر کسی ایسے شخص پر اس کو نازل کردیا جاتا جو عربی سے واقف تک نہ ہوتا عجمی ہوتا پھر وہ اسکو نہایت فصاحت و بلاغت سے پڑھ کر ان کو سنا دیتا تو پھر بھی وہ ایمان نہ لاتے کیونکہ نہ ماننے کے سو بہانے ہو کرتے ہیں۔ فرمایا کہ اب تو انکو اس وقت ہی یقین آسکتا ہے جب اچانک ان کی بیخبر ی میں ایسا شدید عذاب آجائے جس سے ان کی بنیادیں تک ہل جائیں۔ اس وقت یہ رو کر چلا کر فریاد کریں گے کہ اگر ان کو کچھ اور مہلت مل جاتی تو وہ اپنے اعمال کی اصلاح کرلیتے۔ فرمایا کہ اگر اللہ ان کو کچھ اور مہلت دے کر عیش و عشرت کی زندگی عطا کردیتا تو یہ ان کے کسی کام نہ آتی کیونکہ جو لوگ ایک طویل عرصہ رہنے کے باوجود اپنی اصلاح کی فکر نہ کرسکے چند دنوں میں وہ اپنی اصلاح کا کیا کام کریں گے۔ یہ تو کہنے کی باتیں اور بہانے ہیں۔ ماننے والوں کو کسی مہلت اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس بات کو ان آیات میں بیان فرمایا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے نبی ﷺ ! یہ قرآن مجید جسے اللہ رب العالمین نے آپ کے قلب مبارک پر ایک امانت دار اور معتبر فرشتے (جبرئیل امین) کے ذریعہ صاف اور واضح عربی میں نازل کیا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ لوگوں کو ان کے برے اعما کے برے نتائج سے آگاہ فرمادیں۔ یہ وہ عظیم کتاب ہے جس کی سچائیوں کا ذکر ہر آسمانی کتاب میں موجود ہے۔ اس سے بڑھکر اور کیا دلیل ہوگی کہ علماء بنی اسرائیل اس سے اچھی طرح واقف ہیں۔ فرمایا کہ اگر ہم اس قرآن کریم کو کسی ایسے شخص پر نازل کرتے جو عربی زبان سے ناواقف ہوتا۔ پھر وہ اسکو پڑھ کر سناتا تب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے (تاریخ انسانی گواہ ہے کہ) ایسے مجرم لوگ اسی طرح کا طرز عمل اختیار کیا کرتے ہیں۔ یہ لوگ اس وقت تک اس پر ایمان نہ لائیں گے جب تک یہ لوگ دردناک عذاب کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں گے جو عذاب اچانک انکے سروں پر آکر کھڑا ہوجائے گا جس کی انہیں خبر تک نہ ہوگی۔ اس وقت یہ لوگ کیں گے کہ کیا ہمیں کچھ اور مہلت مل سکتی ہے۔ (تاکہ ہم اپنی اصلاح کرسکیں) فرمایا کہ کیا یہ لوگ وہی نہیں ہیں جو اس بات کا مطالبہ کرتی تھے کہ ان پر جس عذاب کو آنا ہے جلد ہی آجائے۔ فرمایا کہ اگر ہم ان کو کچھ برسوں تک کچھ اور مہلت دے بھی دیں تاکہ وہ عیش و عشرت سے زندگی گزار سکیں اور پھر ان وہی عذاب آجائے جس سے ڈرایا گیا تھا تو کیا یہ مہلت ان کے کسی کام آسکے گی ؟ فرمایا کہ ہم اپنے بندوں پر ظلم و زیادتی نہیں کرتے بلکہ کسی بستی پر اس وقت تک عذاب نہیں بھیجتے جب تک ان میں کوئی برے اعمال کے برے نتائج سے آگاہ کرنے والا (ڈرانے والا) نہ بھیج دیں چناچہ اللہ تعالیٰ ہر دور میں اپنے نیک بندوں کو بھیجتا رہا ہے اور اس نے آخر میں نبی کریم ﷺ کو قیامت تک آنے والے لوگوں کی ہدایت کیلئے بھیج دیا ہے اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات کو امت کے سینوں اور ذہنوں میں محفوظ کردیا ہے تاکہ ہر شخص اس سے اچھی طرح آگاہی حاصل کرتا رہے۔ فرمایا کہ یہ قرآن کریم جس کو جبرئیل قلب مصطفیٰ ﷺ پر لے کر نازل ہوتے ہیں یہ ایک محفوظ کلام ہے۔ شیطانوں کی یہ مجال اور طاقت نہیں ہے کہ وہ اس کلام کو لاسکیں ‘ یا اس کے پاس بھی پھٹک سکیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ قرآن کریم قیامت تک کے لئے محفوظ ہے اور نبی کریم ﷺ کی نبوت و رسالت بھی قیامت تک کے لئے محفوظ ہے۔ جس طرح قرآن کریم کو شیطانوں سے محفوظ کیا گیا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی شان ختم نبوت کو بھی محفوظ کردیا ہے آپ کے بعد کوئی شیطان ہی نبوت کا دعوی کرسکتا ہے ورنہ کسی انسان کی مجال نہیں ہے۔ کہ وہ آپ جیسے عظیم نبی و رسول ﷺ کے بعد کسی طرح کی نبوت کا اعلان کرسکے۔