Ayahs 26:105–122لغات القرآن : آیت نمبر 105 تا 122 :
الارذلون (گھٹیا اور معمولی لوگ) ‘ لو تشعرون (کاش تم عقل و فہم سے کام لیتے) ‘ طارد (بھگانے والا۔ دھکے دینے والا) ‘ لم تنتہ (تو باز نہ آیا) ‘ افتح (کھول دے) ‘ المشحون ( بھری ہوئی۔ بھر پور) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 105 تا 122 :
سورۃ الشعراء میں سات انبیاء کرام کے واقعات زندگی میں سے موقع کی مناسبت اور عبرت و نصیحت کے بیشمار پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا گیا اور اب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانیوں اور ان پر عذاب کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک مسلسل اپنی قوکو درس توحید دیا لیکن ان کی قوم جو بت پرستی ‘ غیر اللہ کی عبادت و بندگی ‘ عیش و عشرت کی بد مستی میں اس طرح ڈوبی ہوئی تھی کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے ایک اللہ کی عبادت و بندگی ‘ بری رسموں سے پرہیز اور دیانت و امانت کی زندگی گزارنے کی بات کی تو پوری قوم نے آ پکا مذاق اڑانا ‘ ستانا ‘ حق و صداقت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کردیں۔ ان کی لائی ہوئی تعلیمات کو ماننے کے بجائے ان کا انکار اور حضرت نوح (علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں سے حقارت کا معاملہ شروع کردیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جب ان کو اللہ کا پیغام پہنچایا تو اس وقت آپ نے فرمایا کہ
1۔ اے میری قوم تمہیں کیا ہوگیا ہے تم اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے ؟
2۔ میں پوری دیانت وامانت سے اللہ کا پیغام تم تک پہنچارہا ہوں۔
3۔ تم سے میں کوئی صلہ ’ بدلہ یا اجرت تو نہیں مانگ رہا ہوں۔
4۔ تمہیں صرف اس ایک اللہ سے ڈرنا چاہیے جو ہم سب کا خالق اور مالک ہے۔
5 تمہیں میری اطاعت و فرماں برداری کرنا چاہیے۔
قوم کا جواب یہ تھا کہ اے نوح (علیہ السلام) ہم آپکے پاس کیسے آئیں جب کہ معاشرہ کے وہ لوگ آپ کے ارد گردموجود ہیں جن کا معاشرہ میں کوئی مقام نہیں ہے۔ ان کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اگر تمہاری باتوں میں واقعی کوئی صداقت یا بھلائی ہوتی تو ہمارے معاشرے کے بڑے لوگ جو انتہائی ذہین ہیں اور ہر بات کی گہرائی تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ سب سے پہلے ایمان لاتے وہ آپ کا کہا مانتے لیکن معاشرے کے ان لوگوں کے برابر ہم کیسے بیٹھ کر آپ کی باتیں سن سکتے ہیں جن کے پاس بیٹھنا ہماری توہین ہے ہمارے مرتبے اور مقام کے خلاف ہے۔ ٹھیک یہی صورت حال نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی تھی جب کفار اور سردار ان قریش یہ کہتے تھے کہ بلال حبشی ‘ عمار اور صہیب رومی جیسے غلام اور غریب و مفلس لوگ آپ کیا رد گرد بیٹھے رہتے ہیں یہ ہماری شان کے خلاف ہے کہ ہم ایسے معمولی لوگوں کے برابر بیٹھیں اور آپ کی باتیں سنیں۔ پہلے آپ ان کو اپنی مجلس سے نکال دیجئے پھر ہم آپ کی بات سننے پر غور کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة انعام میں اس کا یہ جواب دیا ہے کہ
اے نبی ﷺ ! جو لوگ رات دن محض اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اس کو پکارتے ہیں ان کو اپنے پاس سے نہ ہٹا ئیے کیونکہ ان میں سے کسی کا حساب آپ کے ذمے نہیں ہے۔ اگر آپ نے ایسا کیا تو آپ کا شمار بےانصافوں میں ہوجائے گا۔ ہم نے تو اسی طرح بعض لوگوں کو بعض لوگوں سے آزمایا ہے تاکہ وہ یہ کہنے لگیں کہ ” کیا ہم میں سے صرف یہی لوگ رہ گئے تھے جن پر اللہ اپنا فضل وکرم نازل کرتا ہے “ فرمایا ہاں ہاں ‘ کیوں نہیں ‘ کیا اللہ اپنے ایسے شکر گزار بندوں سے واقف نہیں ہے۔ (الانعام آیت 52)
حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان بت پرستوں کو وہی جواب دیا جو ہر نبی سے اس طرح کی باتیں کرنیوالوں کو دیا گیا ہے کہ ۔
1۔ مجھے اس سے کوئی بحث یا مطلب نہیں ہے کہ (ایمان لانے والے مخلص) کیا کرتے ہیں۔ ان کا مشغلہ یا پیشہ کیا ہے ؟
2۔ وہ دل سے ایمان لائے ہیں وہ اپنا حساب خود دیں گے میرے ذمے ان سے حساب لینا نہیں ہے۔
3۔ تمہارے کہنے سے میں ان صاحبان امیان کو دور نہیں پھینک سکتا جو ایمان لے آئے ہیں کیا تمہیں اتنا بھی شعور نہیں ہے۔
4۔ میں تو صرف اللہ کے احکامات کے ذریعہ برے اعمال کے برے انجام سے کھول کر ڈرانے والا ہوں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کے اس دو ٹوک جواب سے مایوس ہوکر وہ جاہلانہ دھمکیوں پر اتر آئے۔ کہنے لگے کہ اے نوح (علیہ السلام) اگر تم اپنی باتوں سے باز نہ آئے یعنی ہمارے بتوں اور رسموں کو برا کہنا نہ چھوڑا تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیں گے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) قوم کی نافرمانیوں اور دھمکیوں کے باوجود اللہ کے دین کی طرف دعوت دیتے رہے۔ علماء مفسرین نے فرمایا ہے کہ ساڑھے نو سو سال میں حضرت نوح علیہ اسلام کی جدوجہد کے نتیجے میں ایک سو آدمیوں سے بھی کم لوگوں نے ایمان قبول کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے نے بھی ایمان قبول نہیں کیا اور اس قوم نے نافرمانیوں کی حد کردی۔ اللہ تعالیٰ انبیاء کرام (علیہ السلام) میں صبر ‘ برداشت اور بےانتہا عمل کی قوت عطا فرماتا ہے اس لئے وہ دن رات جدوجہد کرتے اور اپنی قوم کی بد عملی پر روتے اور گڑ گڑاتے رہے ہیں۔ وہ اپنی امت کے سب سے زیادہ مخلص ہوتے ہیں لیکن اگر وہ مایوس ہو کر اللہ کی بار گاہ میں ہاتھ اٹھادیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا کو قبول کرلیتا ہے چناچہ قوم سے قطعاً مایوس ہو کر ایک دن حضرت نوح (علیہ السلام) نے بار گاہ الہی میں درخواست پیش کردی کہ الہی ! میری قوم مجھے مسلسل چھٹلا رہی ہے اور کہتی ہے کہ اے نوح (علیہ السلام) اس روز روز کے جھگڑے کو ختم کرو اور تم جس عذاب کی باتیں کرتے ہو وہ لے آئو۔ اے اللہ ان کے اور میرے درمیان آپ سے بہتر فیصلہ کون کرسکتا ہے ؟ مجھے اور میرے ساتھ ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرمادیجئے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں دوسری جگہ اس کی تفصیل آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے فرمایا کہ اے نوح تم ایک ایسی کشتی تیار کرو جس میں تمام اہل ایمان اور تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا رکھا جاسکتا ہو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جب کشتی (جہاز) بنانا شروع کی تو کفار نے ہر طرح مذاق اڑایا مگر حضرت نوح (علیہ السلام) اور اہل ایمان ان لوگوں سے بےپرواہ ہو کر اس کشتی کو تیار کرنے میں لگے رہے۔ جب کشتی مکمل ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے عذاب کو بھیجا۔۔۔۔ ۔۔ ۔ گیا۔ زمین سے پانی نکلنا شروع ہوا اللہ نے پانی کے چشموں کو ابل پڑنے اور بادلوں کو برسنے کا حکم دیا۔ پانی اس قدر تیزی سے پڑھنا شروع ہوا کہ منکرین تیزی سے پہاڑروں کی طرف دوڑنے لگے مگر بتدریج پانی نے بڑھنا شروع کیا تو پہاڑوں کی چوٹیاں بھی پائی میں ڈوب گئیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس نافرمان قوم اور ان کی عیش پرستی کی ہر نشان کو مٹاکررکھ دیا۔ اہل ایمان جو ان کشتی میں سوار تھے ان سب کو اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو نجات عطا فرمادی۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں بھی اس آیت کو دھرایا ہے کہ بیشک (اس واقعہ میں ) عبرت و نصیحت کے بیشمار پہلو موجود ہیں۔ لیکن اکثر لوگ وہ ہیں کہ سب کچھ دیکھتے بھالتے بھی ایمان کی نعمت سے محروم رہتے ہیں۔ یہ تو اللہ کا فضل و کرم ہے ورنہ اللہ جب چاہے ان کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے۔
Ayahs 26:123–140لغات القرآن : آیت نمبر 123 تا 140 :
اتبنون ( کیا تم تعمیر کرتے ہو) ‘ ریع (بلندی اونچائی) ‘ تعبثون ( بلا ضرورت کام کرتے ہو) ‘ مصانع (شان دار۔ مضبوط) تخلدون (تم ہمیشہ رہوگے) ‘ بطشتم (تم نے پکڑا۔ گرفت میں لیا) ‘ جبار ین ( زبردستی کرنے والے۔ ظالم لوگ) ‘ امدکم (اس نے تمہاری مدد کی) ‘ انعام (مویشی جانور) بنین (بن) بیٹے ‘ سوائ (برابر) ‘ وعظت (تونے نصیحت کی) ‘ خلق (عادتیں۔ رسمیں۔ اخلاق) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 123 تا 140 :
سورۃ الشعراء میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی دین اسلامی کی سربلندی کے لئے جدوجہد ‘ کچھ لوگوں کا ایمان لا کر نجات پانا اور ان کی قوموں کی نافرمانیوں اور انکار کی وجہ سے جو شدید ترین عذاب آئے ان کا ذکر کرنے کے بعد اب قوم عاد کا ذکر کیا جارہا ہے جن کی اصلاح اور ہدایت کیلئے اللہ نے حضرت ہود (علیہ السلام) کو بھیجا تھا۔ قوم عاد جو عظیم الشان تہذیب و تمدن ‘ حکومت و سلطنت اور بےپناہ قوت و طاقت کی مالک تھی وہ بنیادی طور پر اللہ کی ہستی اور اس کی قدرت و طاقت کا انکار تو نہ کرتی تھی مگر اپنے ہاتھوں سے بنائے گئے ان بیشمار بتوں کو اپنا مشکل کشا اور سفارشی سمجھتی تھی جن کے متعلق ان کا یہ گمان تھا کہ اس دنیا میں اور آخرت میں یہ بت ہی ان کے کام آئیں گے اور سفارش کر کے جہنم سے نجات دلائیں گے۔ انہوں نے اپنی ہر خواہش اور تمنا کے لئے الگ الگ بت بنارکھے تھے جن سے اپنی منتیں اور مرادیں مانگا کرتے تھے۔ اللہ کے پیغمبر حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان کی رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم ایک اللہ کی عبادت و بندگی چھوڑ کر ان بیشمار بتوں کی عبادت و پرستش نہ کرو۔ یہ گمراہی ہے اس راستے کو چھوڑدو۔ برسوں سے ان بتوں کی پوجا کرنیوالے حیران و پریشان ہو کر کہنے لگے کہ کیا ہم اپنے ان معبودوں کی عبادت چھوڑ کر ایک بن دیکھے معبود کی عبادت و بندگی کریں۔ جبکہ ہمارے باپ دادا ان بتوں سے پانی حاجات اور مرادیں مانگ کر کامیاب ہوئے تھے۔ ان کا گمان تھا کہ ان کو جو طاقت وقوت اور عظمت ملی ہے وہ ان کے بتوں کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔ وہ ان بتوں کو چھوڑ کر ایک اللہ کی عبادت و اطاعت قبول کرنے کو اپنے باپ دادا کی توہین سمجھتے تھے۔ کیونکہ ان کے باپ دادا اسی گمراہی میں مبتلا رہے تھے۔ جب حضرت ہود (علیہ السلام) نے ہر جگہ اور ہر مجلس میں ان باتوں کو کہنا شروع کیا تو قوم عاد کے لوگوں کا غصہ بڑھنا شروع ہوگیا۔ ابتداء میں ان لوگوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ بھبتیاں کسیں ‘ دیوانہ اور مجنون کہا جب ان لوگوں نے تحریک کی سنجیدگی اور پھیلائو کو دیکھا تو اہل ایمان کو ستانا شروع کردیا۔ انہیں اپنی قوت و طاقت پر بڑا ناز اور گھمنڈ تھا کہنے لگے کہ اے ہود (علیہ السلام) ! ” من اشد منا قوۃ “ یعنی ہم سے زیادہ قوت و طاقت والا اور کون ہے ؟ کہنے لگے کہ تم جس عذاب کی دھمکیاں دیتے رہے ہو اسکی کوئی حقیقت نہیں ہے اس سے پہلے بھی ہم نے بہت سے لوگوں کی ایسی باتیں سنی ہیں۔ اگر تم واقعی سنجیدہ ہو اور سچ کہہ رہے ہو تو اس عذاب کو لے آئو جس کو تم بیان کرتے ہو تاکہ روز روز کی دھمکیوں سے جان چھوٹ جائے جسنے ہمارا جینا دو بھر کردیا ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ واقعی تمہارے اعمال ایسے ہی ہیں کہ تمہارے اوپر عذاب آنے میں دیر نہیں لگنی چاہیے اور آخر کار اس قوم پر اتنا شدید عذاب آیا جس نے ان کو صفحہ ہستی سے مٹادیا۔
روایات میں آتا ہے کہ قوم عاد جسمانی طور پر مضبوط ‘ نہایت لمبے چوڑے ‘ طاقتور ‘ حسین و خوبصورت بہادر اور جنگ جو لوگ تھے۔ خوش حالی ‘ مال و دولت کی ریل پیل اور کثرت ‘ سرسبز و شاداب علاقے بلندو بالا ستونوں والی عمارتیں ‘ شاندار ترقیات نے ان کو نفس پرستی اور مادہ پرستی میں اس قدر ڈوبو دیا تھا کہ دنیا کی چیزوں اور فضول بلڈنگوں کی دوڑ نے ایک جنون کی شکل اختیار کرلی تھی۔
ان کی بلند وبالا عمارتوں کا مقصدمحض ایک دوسرے کو دکھا کر فخر و غرور کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ وہ معیار زندگی کو بلند کرنے کی تگ ودو میں انسانی ہمدردی۔ معیار اخلاق اور انسانیت کی حدود کو پھلانگ کر اس قدر کمزور ‘ پست اور ذلیل ہوچکے تھے کہ وہ غریبوں ‘ محتاجوں ‘ بےکسوں پر ظلم و ستم کرنے میں ذرا بھی شرم محسوس نہ کرتے تھے ان کے نزدیک ایک غریب آدمی کسی ہمدردی اور انصاف کا مستحق نہیں تھا۔ لہٰذا وہ کمزوروں کے حقوق کو غصب کرنا اور ان پر ہر طرح کے ظلم و ستم کو جائز سمجھتے تھے ۔ وہ لوگ دولت کینشے میں سخت گیر ‘ ظالم ‘ جابر اور غرور وتکبر کے پیکر بن چکے تھے۔ قوم عاد کے اس فخر و غرور ‘ تکبر اور جھوٹے اعتماد نے بھی ان کو پیغمبر برحق حضرت ہود (علیہ السلام) کی بات سننے سے دور کردیا تھا۔ تاریخی اعتبار سے قوم عاد کا زمانہ حضرت عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش سے تقریباً دو ہزار سال پہلے تھا۔ قرآن کریم میں ” من بعد قوم نوح “ کہہ کر ان کو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد آنے والی قوم میں شمار کیا ہے۔ قوم عاد کی بستیاں حضرت موت اور یمن میں خلیج فارس کے ساحلوں سے عراق کی حدود تک پھیلی ہوئی تھیں اور یمن ان کا دارالحکومت تھا۔
جب قوم عاد کا اخلاقی بگاڑ اور روحانی گمراہی اپنی انتہاؤں پر پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو خواب غفلت سے جگانے ‘ آگاہ کرنے اور صراط مستقیم پر چلانے کے لئے حضرت ہود (علیہ السلام) کو بھیجا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کوئی اجنبی شخص نہ تھے بلکہ اس قوم کے وطنی اور قومی بھائی تھے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) جن کی عمر مبارک تقریباً پونے پانچ سو سال کی ہوئی۔ پوری زندی لوگوں کو فکر آخرت ‘ قیامت کی ہولناکی اور توحید و رسالت کی عظمت بیان کرن کے ساتھ ساتھ بےجا فخر و غرور ‘ تکبر ‘ مال و دولت پر گھمنڈ ‘ فضول بلڈنگوں کی تعمیر اور ظلم و ستم سے روکنے کی بھر پورکوشش فرماتے رہے مگر قوم کی بےحسی ‘ بےعملی کا یہ حال تھا کہ وہ آپ کی باتوں کا اثر لینے کے بجائے مذاق اڑاتے ‘ طرح طرح سے ستاتے اور حضرت ہود (علیہ السلام) کو دیوانہ سمجھتے تھے ۔
حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ میں نہایت دیانت کے ساتھ اللہ کا پیغام تم تک پہنچانے آیا ہوں۔ تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت و فرماں برداری اختیار کرو۔ فرمایا یہ سب کچھ کہنے اور سمجھانے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ میں اس اصلاحی کام پر تم سے کسی صلہ ‘ بدلہ یا اجرت کا طلب گار ہوں کیونکہ میرا اجر تو اللہ رب العالمین کے ذمے ہے وہی بہترین بدلہ دینے والا ہے۔ فرمایا کہ دنیا دکھاوے ‘ شہرت اور نام و نمود کے لئے اونچے اونچے ٹیلوں پر بلند وبالا عمارتیں ‘ مینار اور سیر گاہیں اور فضول اور بےضرورت بلڈنگیں بنانا یہ تمہارے کام نہ آئے گا۔ اپنے اعمال کی فکر کرو کیونکہ اگر تمہاری نافرمانیوں کی وجہ سے وہ عذاب آگیا جو قوموں کو ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے تباہ و برباد کرکے رکھ دیتا ہے تو یہ تمہاری بلند وبالا بلڈنگیں اور مال و دولت تمہارے کسی کام نہ آسکیں گے۔ تمہیں تو اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ نے تمہیں صحت مند اور تندرست بنایا۔ اولاد کی نعمتوں ‘ خوبصورت باغات ‘ بہتے چشموں اور خوش حالیوں سے نوازا ہے۔ اس پر اگر شکر کرو گے تو اللہ تمہیں اس سے بھی زیادہ عطا فرمائے گا بلکہ آخرت کی کامیابیاں بھی عطا فرمائے گا۔ لیکن اگر تم نے اپنی روش زندگی کو تبدیل نہ کیا اور اسی طرح اللہ کی کھلی ہوئی نافرمانیوں میں لگے رہے تو مجھے ایک بہ تبڑے دن کی عذاب کا اندیشہ ہے۔
قوم عاد کا جواب یہ تھا کہ اے ہود (علیہ السلام) ! تم ہمیں نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے یکساں ہے تم جو کچھ کہہ رہے ہو وہ پہلے کے لوگ بھی کہتے آئے ہیں۔ ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ تم جس عذاب کی باتیں کررہے ہو وہ ہمارے اوپر نہیں آئے گا کیونکہ قوت و طاقت میں ہم سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے۔ اس طرح وہ حضرت ہود (علیہ السلام) کو مسلسل جھٹلاتے رہے اور کہنے لگے کہ اے ہود (علیہ السلام) ! اگر واقعی کوئی عذاب آنے والا ہے تو ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے۔ تم وہ عذاب بس لے ہی آئو جس کی دھمکیاں سن سن کر ہمارے کان پک گئے ہیں۔
حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تمہیں ہر طرح سمجھا چکا ہوں مگر تمہاری نافرمانیاں اس بات کی علامت ہیں کہ اللہ کا وہ عذاب تم سے دور نہیں ہے۔ اللہ نے ان کی ان نافرمانیوں پر فوراً ہی اپنا عذاب نازل نہیں کیا بلکہ ان کو آگاہ کرنے کے لئے ان پر خشک سالی کا عذاب مسلط کیا۔ بارش برسنا بند ہوگئی جس سے ان کی کھیتیاں اس طرح خشک ہوگئیں کہ ان کے کھیتوں میں سوائے کانٹے دار درختوں کے کچھ بھی نہ اگ سکا۔ اس عذاب سے گھبراکر انہوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) سے اس قحط سالی کے دور ہونے کے لئے دعا کی درخواست کی چونکہ اللہ کے پیغمبر اپنی قوم پر انتہائی شفیق ‘ مہربان اور انکے خیر خواہ ہوتے ہیں لہٰذا انہوں نے قوم کی اس مشکل کے دورہونے کی دعا کی جو قبول کرلی گئی۔ اس طرح وقتی طور پر قحط کا خطرہ ٹل گیا مگر ان کے کھیتوں کی رونقیں بحال نہ ہوئیں۔ ہر روز وہ امید بھری نظروں سے آسمان کی طرف دیکھتے کہ شاید بارش ہوجائے مگر یہ خشک سالی بڑھتی گئی۔ ایک دن اچانک آسمان پر بادل آنا شروع ہوگئے اور وہ بادل گہرے ہوتے چلے گئے۔ اس وقت بھی وہ اللہ کا شک ادا کرنے کے بجائے اپنے کھیل کود ‘ رنگ رلیوں اور بدمستیوں میں لگ کر خوشیاں منانے لگے مگر اس وقت ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا جب ان بادلوں سے بارش برسنے کے بجائے تیز ہواؤں کے جھونکے آنا شروع ہوگئے اور آہستہ آہستہ اس ہوا نے آندھی اور طوفان کی شکل اختیار کرلی۔ تیز طوفانی ہواؤں سے گھروں کی چھتیں اڑگئیں ‘ بڑے بڑے درخت ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے اور جڑوں سے اکھڑنے لگے۔ آندھی کی شدت کا یہ عالم تھا کہ اس نے لوگوں کو اٹھا اٹھا کر پتھروں سے ٹکرادیا جس سے ان کی گردنیں ٹوٹ گئیں۔ مکانوں کی دیواریں اور چھتیں گر کر اڑنا شروع ہوگئیں۔ غرضیکہ اس آندھی اور طوفان کی شدت نے ان کے فخر و غرور کی ہر چیز کو تہس نہس کرڈالا۔ یہ آندھی اور طوفان مسلسل آٹھ دن اور سات راتوں تک جاری رہا۔ جب تک اس قوم کا نافرمان ایک ایک فرد ختم نہ ہوگیا اس وقت تک اس طوفان کی شدت میں کمی نہیں آئی۔ اللہ نے بتادیا کہ اس نافرمان قوم کی ترقیات ‘ تہذیب و تمدن ‘ بلندو بالا عمارتیں کسی کام نہ آسکیں اور کھنڈر بن کر ان کے انجام کی داستانیں سنانے کے لئے کھڑ رہ گئیں۔ اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان پر ایمان والوں کو نجات عطا فرمادی اور ان کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس واقعہ میں عبرت و نصیحت کے بیشمار پہلو موجود ہیں۔ لیکن ان نشانیوں کے باوجود جو لوگ ان سچائیوں کو نہیں مانتے جن پر تاریخ کے اوراق بھی گواہ ہیں تو یہ ان کی بدنصیبی ہے مگر اللہ تعالیٰ جو ساری طاقتوں کا مالک ہے اپنے بندوں کو سنبھلنے کی مہلت دیئے چلا جارہا ہے۔ اگر انہوں نے ان واقعات سے عبرت و نصیحت حاصل کرلی تو دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیاں ان کے قدم چو میں گی۔
ان آیات میں کفار مکہ اور قیامت تک آنے والے لوگوں کو بتادیا گیا ہے کہ جب تک انسان کے پاس توبہ کا وقت موجود ہے تو وہ توبہ کر کے ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کرلے۔ لیکن اگر یہ وقت نکل گیا تو پھر سوائے پچھتانے اور شرمندہ ہونے کے کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا۔ اگر کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ کی اطاعت و فرماں برداری نہ کی اور تاریخ کی ان سچائیوں سے عبرت حاصل نہ کی تو پھر ان کا انجام گزری ہوئی قوموں سے مختلف نہیں ہوگا۔