26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 26:34–51

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

فرعون نے اپنے اردگرد کے سرداروں سے کہا کہ یہ تو کوئی بڑا ماہر جادوگر ہے۔

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

وہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ذریعہ تمہیں تمہاری سرزمین سے نکا ل دے۔ تم سب کا کیا مشورہ ہے۔

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اسکو اور اس کے بھائی (ہارون)ؐ کو مہلت دیدے۔ اور دوسرے شہروں سے (جادو گروں کو) اکٹھا کرنے والوں کو بھیج دے۔

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو لے آئیں۔

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

چناچہ تمام جادوگر ایک متعین دن اور متعین وقت جمع ہوگئے۔

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

لوگوں سے پوچھا کہ کیا تم بھی جمع ہو گے ؟

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

تاکہ اگر جادوگر چھا جائیں تو ہم ان ہی کے راستے پر رہیں۔

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

جب جادوگر آگئے تو انہوں نے فرعون سے پوچھا کہ اگر ہم غالب آگئے تو کیا یقینی طور پر ہمارے لئے انعام ہوگا ؟

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں کیوں نہیں۔ اس وقت تم میرے مقربین میں سے ہو جائو گے۔

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ تم جو کچھ ڈالنا چاہتے ہو ڈالو۔

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

پھر انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں اور انہوں نے کہا کہ فرعون کے جاہ و جلال کی قسم بیشک ہم ہی غالب ہونے والے ہیں۔

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو اچانک اس نے ان کے بنائے ہوئے (سانپوں کو) نگلنا شروع کردیا۔

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

جادو گر سب کے سب سجدے میں گر پڑے

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ ہم ” رب العالمین “ پر ایمان لے آئے

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

جو موسیٰ و ہارون کا رب ہے۔

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ تم میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے ہو ؟ (ایسا لگتا ہے کہ ) یہ تم سب کا استاد ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے (اس کے نتیجے کو) تم بہت جلد جان لو گے۔ یقینا میں تمہارے ہاتھ اور پائوں مخالف سمتوں سے کاٹ کر تم سب کو پھانسی پر چڑھا دوں گا۔

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

کہنے لگے کہ کوئی حرج نہیں ہے۔ ہم اپنے رب کے پاس لوٹ کر جانے والے ہیں۔

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہماری خطائیں معاف فرمادے گا کیونکہ ہم پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 34 تا 51 : ساحر علیم (ماہر جادو گر۔ بہت جاننے والا جادوگر) ‘ ماذا تامرون (تم کیا مشورہ دیتے ہو۔ تم کیا کہتے ہو) ‘ ارجہ (چھوڑدے اس کو۔ اس کو مہلت دے) ‘ حشرین (جمع کرنے والے۔ ہر کارے) ‘ میقات (مقرر وقت۔ مقرر جگہ) مجتمعون ( جمع ہونے والے) ‘ المقربین (قریب بیٹھنے والے) ‘ حبال (حبل) رسیاں ‘ عصی (لاٹھیاں) ‘ تلقف (نگلنے لگا) ‘ یا فکون ( وہ کھیل کھلونے بناتے ہیں) ‘ کبیر کم ( تمہارا بڑا۔ تمہارا استاد) ‘ اقطعن ( میں ضرور کاٹ ڈالوں گا) ‘ ایدی (ایدین) دونوں ہاتھو ‘ ارجل (رجل) پاؤں ‘ اصلبن (میں ضرور پھانسی چڑھادوں گا) ‘ لاضیر (کوئی حرج نہیں) ‘ منقلبون (پلٹ کر جانے والے) نطمع ( ہم توقع رکھتے ہیں۔ ہم لالچ رکھتے ہیں) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 34 تا 51 : فرعون اور اسکیدرباریوں نے اپنی کھلی آنکھوں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس عصا کو جو ایک بڑا سانپ یعنی اژدھا بن گیا تھا اور وہ ید بیضا یعنی چمک دار ہاتھ جو پاند اور سورج کی طرح چمک رہا تھا دیکھ لیا تھا۔ جب بڑی بڑی ڈینگیں مارنے والے فرعون اور فخر و غرور کے پیکر وزیروں اور درباریوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ان معجزات کو دیکھا تو سب کی سب انتے خوف زدہ ہوگئے کہ اپنی جان بچانے کے لئے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ اور فرعون کو تنہا چھوڑ گئے۔ جب اس بڑے سانپ نے فرعون کی طرف رخ کیا تو دہشت کیمارے فرعون تخت شاہی کے پیچھے چھپ کر کہنے لگا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اس مصیبت کو ہم سے دور کرو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اژدھے کے منہ میں ہاتھ ڈالا تو وہ پھر سے عصا (لاٹھی ) بن گیا۔ ایک دفعہ پھر دربار لگایا گیا اور ان تمام درباریوں سے جوان کھلے ہوئے معجزات کو دیکھ کر بہت متاثرہو چکے تھے۔ اس اثر کو زائل کرنے کے لئے فرعون کہنے لگا کہ لوگو ! جو کچھ تم نے دیکھا ہے یہ معجزات نہیں ہیں بلکہ ایک کھلا ہوا دادو ہے۔ یہ سب کچھ دکھا کر دراصل موسیٰ اور ہارون تمہاری سرزمین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمہاری بےمثال تہذیب اور ترقیات کو ختم کرکے ان پر اپنی اجارہ داری قائم کرلیں۔ اس نے درباریوں اور مشیروں سے پوچھا کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ کیونکہ اس طرح تو موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون کی ہمتیں بڑھتی چلی جائیں گی۔ درباریوں نے کہا کہ اس معاملے میں سختی کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ ان دونوں کو کچھ وقت تک نظر انداز کرکے کچھ مہلت دے دو ۔ جادو کا جواب جادو سے ہی ہو سکتا ہے۔ ملک میں ایسے ماہر جادو گروں کی کمی نہیں ہے جو ان کے جادو کا توڑ کرسکتے ہیں۔ چناچہ فرعون نے پورے ملک کے جادو گروں کو جمع کرنے کا حکم دیا اور لوگوں سے کہا کہ تم سب بھی جمع ہو جائو۔ اور اس کے لئے وہ دن زیادہ بہتر ہے جب کہ ہمارا سب سے بڑا میلہ ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی یہ بتایدا کہ ” یوم الزینہ “ یعنی میلے والے دن تمہارا اور جادوگروں کا مقابلہ ہوگا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے چیلنج کو قبول کرلیا۔ جب میلے والے دن صبح کے وقت سب ماہر جادو گر جمع ہوگئے تو جادو گر کہنے لگے کہ اگر ہم غالب آگئے تو ہمارا انعام کیا ہوگا ؟ فرعون نے کہا نہ صرف تمہیں انعام و اکرام سے نوازا جائے گا بلکہ تمہیں قرب شاہی بھی عطا کیا جائے گا۔ یہ دن چونکہ قبطیوں کے قومی عید کا دن تھا اس لئے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوتے گئے۔ اس موقع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پورے مجمع سے اور خاص طور پر جادو گروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگو ! تم اللہ کے دین پر آجائو اور اس پر جھوٹی باتیں نہ گھڑو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اوپر اللہ کا عذاب آجائے جو تمہیں بنیادوں سے اکھاڑ کر پھینک دے گا حق و صداقت کی بات میں ہمیشہ ایک جان اور قوت ہوتی ہے سب کے دلوں پر اثر ہوا اور خاص طور پر جادو گر بھی کافی متاثر ہوچکے تھے مگر دنیاوی لالچ اور فرعون کے قرب کی تمنا ان کو راہ حق سے روک رہی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جادو گر کہنے لگے کہ اے موسیٰ ٰ تم جادو ڈالنے کی ابتداء کرتے ہو یا ہم کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت سادگی سے جواب دیا کہ تم پہل کرو۔ جادو گر جنہیں اپنے کمالات پر بڑا ناز تھا انہوں نے نہایت فخر کے ساتھ اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکنا شروع کیں جن پر وہ جادو کا منتر پڑھتے جاتے تھے جس سے ایسا محسوس ہوا جیسے پورا میدان چھوٹے بڑے سانپوں سے بھر گیا ہے۔ جادو گرجانتے تھے کہ حقیقت میں وہ سانپ نہ تھے بلکہ نظر بندی کا کھیل تھا جو لوگوں کو سانپ نظر آرہے تھے مگر جادو گروں کو رسیاں اور لاٹھیاں ہی نظر آرہی تھیں۔ جب پورا میدان سانپوں سے بھر گیا تو بشری تقاضے کے تحت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کچھ پریشان ہوگئے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) آپ نہ گھبرائیں اب آپ اپنا عصا پھینکئے اور ہماری قدرت دیکھئے۔ جیسے ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ایک زبردست اژدھا بن گیا جس نے جادو گروں کے پھیلائے ہوئے سانپوں کو نگلنا شروع کیا۔ پھوڑی دیر میں پورا میدان صاف ہوگیا۔ جب لوگوں نے یہ منظر دیکھا تو وہ بوکھلا گئے۔ لیکن جادو گرجواب تک نظر بندی کا کھیل دکھا رہے تھے جب انہوں نے اس عصا کو اژدھا بنتے دیکھا تو وہ سمجھ گئے کہ یہ واقعی معجزہ ہے نظر بندی یا فریب نظر نہیں ہے۔ وہ تمام جادو گر فوراً اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑے اور انہوں نے اعلان کردیا کہ ہم موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے پروردگار پر ایمان لے آئے۔ کیونکہ وہ رب العالمین ہے۔ اس العان سے پورے مجمع پر سنا ٹھا چھا گیا۔ فرعون اپنی بےعزتی برداشت نہ کرسکا اور کہنے لگا کہ تم نے میری اجازت کے بغیر ہی ایمان قبول کرلیا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ تمہاری ملی بھگت ہے یہ موسیٰ تم سب کا استاد ہے جس نے تمہیں جادوسکھایا ہے۔ تہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ اس غداری کی سزا کتنی سخت ہے۔ میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ کر تمہیں سولی پر لٹکا دوں گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اور سچائی کی طاقت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ وہی جادو گر جو کچھ دیر پہلے تک انعام و اکرام اور بادشاہ کے قرب کیلئے بےقرار تھے جب سچائی ان کے سامنے آگئی اور انہوں نے ایمانقبول کرتے ہوئے فرعون کی دھمکیوں کو نظر انداز کرکے کہنا شروع کیا کہ اے فرعون ! تو جو کچھ کرسکتا ہے وہ کر ڈال اس میں ہمارا کوئی نقصان نہیں ہے۔ اگر ہم قتل کردیئے جائیں گے یا سولی پر چڑھادیئے جائیں گے تو ہم اپنے پروردگار ہی کے پاس جائیں گے جو ہمیشہ جنت کی ابدی راحتوں میں رکھے گا۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہماری خطاؤں کو معاف کردے گا کیونکہ اس وقت ہم تمام لوگوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں۔ اس واقعہ کی تفصیل تو اگلی آیتوں میں آرہی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب تک انسان میں سچا ایمان گھر نہیں کرلیتا اس وقت تک وہ دنیاوی لالچ اور عہدوں کی فکر میں لگا رہتا ہے لیکن جب ایمان کے نور سے دل روشن ومنور ہوجاتے ہیں تو پھر ان دلوں میں سوائے اللہ کے خوف کے کسی دوسرے کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔ نبی کریم ﷺ نے جب اعلان نبوت فرمایا تو لوگوں نے آپ کو ہر طرح تنگ کیا لیکن جن سعادت مندوں کے حصے میں ایمان کی دولت آگئی تھی تو وہ اسی طرح کفر کے مقابلے میں ڈٹ گئے تھے جس طرح فرعون کے مقابلے میں ایمان لانے والے جادو گر ڈٹ گئے تھے اور انہوں نے اپنی جان و مال اور گھر بار کی کوئی پرواہ نہیں کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ کو دنیا میں بھی عزت و سربلندی عطا فرمائی اور آخرت میں ان کا وہ عظیم مقام ہوگا جس کا اس دنیا میں تصور بھی ممکن نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایمان کی حلاوت و عظمت نصیب فرمائے ۔ آمین
Ayahs 26:52–68

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جائو بیشک تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

پھر فرعون نے شہروں میں ہر کارے بھیجے

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

( اور کہلا بھیجا کہ ) یہ لوگ ایک چھوٹی سی جماعت ہیں

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

اور بیشک یہ لوگ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں۔

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور ہم ان سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

(اللہ نے فرمایا) پھر ہم نے (فرعون اور اس کے ماننے والوں) کو باغات سے چشموں سے

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

خزانوں اور عمدہ ٹھکانوں سے نکال باہر کیا

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

اور اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا مالک بنا دیا۔

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

پھر انہوں نے سورج نکلنے تک ان کا پیچھا کیا۔

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

پھر جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا یقینا ہم تو پکڑے گئے

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں، بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے، (وہ مجھے بچ نکلنے کے لیے جلد) راستہ دکھا دے گا۔

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

پھر جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ تم اپنا عصا سمندر پر مارو۔ چناچہ وہ سمندر پھٹ کر بڑے بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا۔

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

پھر ہم نے اسی جگہ دوسروں کو (فرعونیوں کو) بھی قریب لے آئے۔

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے سب کو بچا لیا۔

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسروں (فرعونیوں) کو غرق کردیا۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

بیشک اس میں ایک نشانی ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا پروردگار بڑی قوت والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 52 تا 68 : اوحینا (ہم نے وحی کی) ‘ اسر (راتوں رات نکل جا) متبعون ( پیچھا کئے جانے والے) ‘ ارسل ( بھیج دے) ‘ مدائن (مدینۃ) شہروں ‘ شرذمۃ (جماعت۔ گروہ) غائظون (غصہ دلانے والے) حذورن (احتیاط کرنے والے۔ بچنے والے) ‘ عیون (عین) چشمے ‘ کنوز (کنز) خزانے ‘ مقام کریم (عمدہ پاکیزہ ٹھکانے) اور ثنا (ہم نے وارث (مالک) بنادیا ‘ مشرقین (سورج نکلنے (والے ) کی جگہ ‘ مدرکون (پکڑے جانے والے) ‘ انفلق (پھٹ پڑا) ‘ کل فرق (ہرحصہ) طودالعظیم (پہاڑ کی طرح بڑا حصہ) ‘ ازلفنا (ہم نے قریب کردیا) ‘ ثم (اسی جگہ) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 52 تا 68 : جب نبی کریم ﷺ نے مکہ میں دین اسلام پھیلانے کی جدوجہد کا آغاز کیا تو کفار مکہ نے ہر طرح مذاق اڑایا۔ ایمان لانیوالوں کو طرح طرح سے ستایا اور دین کی سچائیں سے دور بھاگنے اور بےعملی کی زندگی گذارنے کے لئے ایسی ایسی باتیں پھیلانے کی کوششیں کی گئیں جن سے نبی کریم ﷺ اور دین اسلام کی روشنی پھیکی پڑجائے۔ علاوہ اور کوششوں کے ایک کوشش یہ تھی کہ کفار مکہ ہر روز نئے نئے معجزات دکھانے کی فرمائشیں کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دو جوابات عنایت فرمائے ایک تو یہ کہ نبی کریم ﷺ کی یہ آخری امت ہے۔ اگر ان کفار کی فرمائشوں پر کوئی معجزہ دکھا دیا گیا اور دیکھنے کے باوجود وہ ایمان نہ لائے تو اللہ کے دستور کے مطابق تمام منکرین کو تہس نہیس کردیا جائے گا اور ان پر شدید عذاب آجائے گا جو اللہ کی مصلحت اور اصول کیخلاف ہوگا۔ کیونکہ اللہ آخری نبی کی آخری امت کو قیامت تک باقی رکھنا چاہتا ہے جو انشاء اللہ قیامت تک رہنمائی و رہبری کا فرض سرانجام دیتی رہے گی۔ معجزات دکھانے کے سلسلہ میں دوسرا جواب یہ یہ عنایت فرمایا ہے کہ جس کو ایمان لاکر عمل صالح اختیار کرنا ہے اس کو کسی ظاہری معجزہ کی ضرورت نہیں ہوتی اور جس کو ایمان اور عمل صالح سے فرار اختیار کرنا ہے وہ معجزات دیکھ کر بھی ایمان قبول نہیں کرتا ۔ سوائے ان لوگوں کے جن پر اللہ اپنا فضل وکرم فرمادیں۔ چنانچہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے واقعہ کو ایک مرتبہ پھر ارشاد فرمایا ہے۔ فرعون جو اپنے اقتدار حکومت و سلطنت اور ذاتی مفادات سے چمٹا ہوا تھا جب بھرے دربار میں اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا تو اس نے اپنے درباریوں سے مشورہ کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو عصا اور ید بیضا کا معجزہ دکھایا ہے اس کا مقابلہ کیسے کیا جائے ؟ درباریوں نے مشورہ دیا کہ کچھ دن ایسا ہی رہنے دیاجائے اور پورے ملک سے ماہر جادو گروں کو جمع کیا جائے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کو سب کے سامنے ذلت ہوگی تو ہمارا مسئلہ حل جائے گا۔ چناچہ قبطیوں کے قومی دن کے میلے میں مقابلہ طے ہوا مگر وہاں فرعون اور اس کے ساتھیوں کو جس شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اس پر وہ اور بھی پریشان ہوگئے۔ اس سے بڑی شکست اور کیا ہوگی کہ جن جادوگروں کی مہارت پر ناز تھا وہ سب کے سب ایمان قبول کرکے فرعون ‘ اس کی طاقت و قوت اور دھمکیوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے تھے جس سے پورے ملک میں ایک ہنگامہ بپا ہوگیا تھا۔ اور لوگوں کے سامنے سچائی کھل کر آگئی تھی۔ فرعون نے پورے ملک کے کونے کونے میں اپنے نمائندے اور ہر کارے بھیج کر اعلان کرادیا کہ موجودہ حالات میں گھبرانے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے موسیٰ اور اس کے ماننے والوں کی تعداد بہت تھوڑی سی ہے جو ہماری طاقت و قوت کا مقابلہ نہیں کرسکتی بہت جلد ان پر ہما قہر نازل ہونے والا ہے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ نہایت خاموشی سے راتوں رات پورے بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف نکل جائیں۔ فرعونی اور اس کے ساتھی تمہارا پیچھا کریں گے مگر اس کی پروانہ کرنا کیونکہ ہم نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ فرعون اور اس کے ماننے ولوں کو ان کے لہلہاتے باغوں ‘ بہتے چشموں ‘ خزانوں اور بلند وبالا محلات سے محروم کرکے بنی اسرائیل کو ان کا مالک بنادیں گے۔ لاکھوں کی تعداد میں بنی اسرائیل رات کے آخری حصے میں نہایت خاموشی سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ فلسطین جانے کے لئے روانہ ہوگئے۔ جب صبح ہوئی اور حکمران طبقے کے قبطیوں نے دیکھا کہ وپرامیدان صاف ہے تو اصل حقیقت جان کر پوری قوت و طاقت لے کر فرعون بنی اسرائیل کا پیچھا کرتے ہوئے اس طرف روانہ ہوگیا جس طرف بنی اسرائیل جارہے تھے۔ جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ پوری فوج اور قوت کے ساتھ فرعون نہایت تیزی سے ان کی طرف آرہا ہے تو سارے بنی اسرائیل بوکھلا اٹھے اور کہنے لگے کہ پیچھے فرعون اور اس کا لشکر ہے اور آگے سمندر ہے ہم تو بری طرح مارے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ اپنے عصا کو پانی پر ماریں اور ہماری قدرت کا تماشہ دیکھیں۔ جیسے ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پانی پر مارا تو وہ پانی پہاڑوں کی طرح کھڑا ہوگیا جس میں بارہ راستے بن گئے۔ چونکہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے لہٰذا وہ نہایت نظم و ضبط سے ہر راستے سے گذر کر دوسری طرف کنارے پر پہنچ گئے۔ جب فرعون اور اس کے ساتھی سمندر کے کنارے پہنچے تو انہوں نے بھی اپنیگھوڑے اور سواروں کو سمندر کے ان راستوں میں اتار دیا۔ ابھی وہ پانی کے درمیان ہی میں تھے کہ اللہ نے پانی کو پھر سے آپس میں مل جانے کا حکم دیا اور اس طرح فرعون اور اس کے تمام ساتھی اس سمندر میں ڈوب کر ہلاک و برباد ہوگئے۔ اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم اور حکومت و سلطنت سے نجات مل گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ فرعون کے اس واقعہ میں عبرت و نصیحت کے بیشمار پہلو ہیں مگر ان کو دیکھ کر بھی بہت سے لوگ ایمان قبول نہیں کرتے اور اپنی روش زندگی کو درست سمجھتے ہیں اور بدنصیبی کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نییہ فرمادیا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو ان سچائیوں کو دیکھ کر بھی جو ایمان نہیں لائے ان کو ہلاک و برباد کردیتا لیکن وہ ہر طرح کی قدرت و طاقت کے باوجودنہایت مہربان ہے اور وہ ان کو مہلت پر مہلت دیئے جارہا ہے تاکہ وہ سنبھل کر اور سمجھ کر اللہ کے دین کی سچائیوں کو قبول کرلیں۔ یہ اللہ کی قدرت ہے کہ اگر انہوں نے گذشتہ قوموں جیسا طریقہ اختیار کیا اور سیدھی سچی راہ کو نہ اپنا یا تو ان کا انجام بھی گذری ہوئی قوموں سے مختلف نہ ہوگا۔ پھر یہ ان کی دولت بڑے بڑے محل ‘ مال و دولت اور سرداریاں ان کے کام نہ آسکیں گی۔ ا ان آیات میں نبی کریم ﷺ اور جان نثار صحابہ کرام ؓ کو بھی تسلی دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ موجودہ حالات سے رنجیدہ اور پریشان نہ ہوں کیونکہ اس طرح کے حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ بہت جلد اسلام کا بول بالا ہو کررہے گا۔ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت کی کامیابیاں عطا کی جائیں گی اور کفار و مشرکین کی دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو کر رہیں گی۔