19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 19:81–87

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ Open ayah 19:81 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے ایک اللہ کو چھوڑ کر اور معبود تجویز کر رکھے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے عزت کا سبب ہوں۔

كَلَّا١ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠ Open ayah 19:82 in the Quran reader

(اللہ نے فرمایا) ہرگز نہیں۔ وہ (جھوٹے معبود) تو خود ان کی عبادت کا انکار کردیں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ Open ayah 19:83 in the Quran reader

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کفار پر (آزمائش کے لئے) چھوڑ رکھا ہے تاکہ وہ ان کو ابھارتے رہیں۔

فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ Open ayah 19:84 in the Quran reader

تو آپ ان کیلئے (عذاب کی) جلدی نہ کیجیے۔ ہم ان کی باتوں کو شمار کر رہے ہیں۔

یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ Open ayah 19:85 in the Quran reader

جس دن ہم تقویٰ والوں کو رحمٰن کی طرف مہمان بنا کر جمع کریں گے

وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ Open ayah 19:86 in the Quran reader

اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسا ہانکیں گے۔

لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ Open ayah 19:87 in the Quran reader

وہاں کسی کی سفارش کا اختیار نہ ہوگا سوائے ان لوگوں کے جنہیں رحمٰن کی طرف سے اجازت دیدی جائے گی۔

لغات القرآن آیت نمبر 81 تا 87 توز وہ ابھارتا ہے۔ از ابھارنا، ہلانا۔ نعد ہم گن رہے ہیں۔ عد گنتی۔ وفد مہمان بنانا۔ نسوق ہم چلائیں گے۔ ورد پیاسا۔ عھد عہد، وعدہ۔ تشریح : آیت نمبر 81 تا 87 ان آیات میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) پہلی بات تو یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور بہت سے معبود گھڑ رکھے ہیں تاکہ وہ قیامت کے دن ان کی سفارش کر کے ان کو عزت و سربلندی کے مقام پر بٹھائیں گے ان کی حمایت کریں گے، کوئی مصیبت پڑی تو وہ ان کو بچا لیں گے فرمایا کہ یہ جھوٹے معبود تمہاری عزت و سربلندی کا ذریعہ نہیں بلکہ تمہاری ذلت، رسوائی اور محرومی کا سبب بنیں گے کیونکہ وہ قیامت کے دن صاف انکار کردیں گے اور کہہ دیں گے کہ اے پروردگار ہمیں کیا معلوم کہ وہ ہماری عبادت و بندگی کیوں کرتے تھے۔ ہم نے تو ان سے نہیں کہا تھا کہ وہ ہمارے سامنے جھکیں اور ہماری عبادت و بندگی کریں۔ فرمایا کہ یہ معبود تمہارے دوست نہیں بلکہ دشمن ثابت ہوں گے۔ (2) دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گی ہے کہ جو لوگ اللہ کو اپنا معبود نہیں مانتے ہم ان پر شیطانوں کو مسلط کردیتے ہیں جو ان کو ہر وقت نافرمانیوں ، غل کاموں اور گناہوں پر اکساتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ نتیجہ سے بےپرواہ ہر طرح کے غلط کاموں میں لگے رہتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ہر حرکت کو دیکھنے والا یا اس پر گرفت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ حالانکہ یہ اللہ کی طرف سے ڈھیل اور مہلت دی جاتی ہے تاکہ وہ سنبھل کر اور توبہ کر کے ایمان اور عمل صالح کی طرف آجائیں۔ اس عرصہ میں اللہ ایسے لوگوں کے ایک ایک لمحے اور ہر سانس کو گنتا رہتا ہے او ان کے نامہ اعمال میں لکھتا چلا جاتا ہے قیامت میں جب اللہ ان کے نامہ اعمال اور حرکتوں کے ریکارڈ کو ان کے سامنے رکھے گا تب ان کو اس بات کا صحیح اندازہ ہوگا۔ کہ انہوں نے غیر اللہ کی اور شیطان کی پیروی کر کے اپنی آخرت کو برباد کر ڈالا ہے۔ لہٰذا اے نبی ﷺ ! آپ ان کے بارے میں کسی فیصلے کے لئے جلد نہ کیجیے وہ بہت جلد اپنے اعمال کی سزا بھگتنے کے لئے ہمارے پاس ہی آئیں گے۔ فرمایا کہ جب ہم ان مجرموں کو جہنم کی طرف دھکیل دیں گے۔ جب بھوک پیاس سے نڈھال یہ لوگ جہنم کے گھاٹ کی طرف دوڑیں گے تاکہ وہاں سے اپنی پیاس کو بجھا لیں تو ان کو یہ دیکھ کر سخت مایوسی ہوگی کہ وہاں ان کی ضیافت اور مہمان داری کے لئے سوائے گندے پانی کے کچھ بھی نہ ہوگا۔ فرمایا کہ یہ تو اللہ کی مرضی ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں میں سے کچھ لوگوں کو سفارش کی اجازت عطا فرما دیں گے لیکن جو ایمان سے محروم ہیں ان کے لئے تو کسی کو زبان ہلانے کی بھی اجازت نہ ہوگی۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جنہوں نے اللہ کا تقویٰ اور خوف الٰہی کے ساتھ زندگی گزاری ہوگی ان کی مہمان نوازی اللہ کی طرف سے کی جائے گی اور ان کو جنت کی ابدی راحتوں اور آسائشوں سے ہم کنار کیا جائے گا۔
Ayahs 19:88–98

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ Open ayah 19:88 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ رحمٰن نے بیٹا بنا رکھا ہے۔

لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّاۙ Open ayah 19:89 in the Quran reader

بلاشبہ تم (یہ کہہ کر) ایک سخت اور بھاری چیز میں پھنس گئے ہو۔

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ Open ayah 19:90 in the Quran reader

قریب ہے کہ تمہاری اس بات سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور پہاڑ ڈھے کر گر پڑیں

اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ Open ayah 19:91 in the Quran reader

اس وجہ سے کہ یہ لوگ رحمٰن کے لئے بیٹا تجویز کرتے ہیں۔

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ Open ayah 19:92 in the Quran reader

حالانکہ رحمٰن کی شان یہ نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے

اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ Open ayah 19:93 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں ایسا کوئی شخص نہیں ہے جو (قیامت کے دن) اس کا بندہ بن کر حاضر نہ ہو۔

لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ Open ayah 19:94 in the Quran reader

وہ سب پر چھایا ہوا ہے اور اس نے ان کو شمار کر رکھا ہے

وَ كُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا Open ayah 19:95 in the Quran reader

اور ہر ایک قیامت کے دن اس کے سامنے اکیلا اور تنہا آئے گا۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا Open ayah 19:96 in the Quran reader

یقینا وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں اور وہ عمل صالح کرتے ہیں بہت جلد رحمٰن ان کے دلوں میں محبت عطا فرمائے گا۔

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا Open ayah 19:97 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان (عربی میں) اس لئے نازل کیا ہے تاکہ آپ تقویٰ اختیار کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیں

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ١ؕ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠ Open ayah 19:98 in the Quran reader

اور جھڑا لو لوگوں کو اس سے ڈرائیں۔ ان سے پہلے ہم (نافرمان) قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ کیا آپ ان میں سے کسی کو دیکھتے ہیں یا یہ ان کی آہٹ بھی سنتے ہیں ؟

لغات القرآن آیت نمبر 88 تا 98 اِد سخت، بھاری چیز۔ تکاد قریب ہے۔ یتفطرن پھٹ پڑیں گے۔ تنشق ٹکڑے ہوجائیں گے۔ تخر ڈھے پڑیں، گر جائیں۔ ھد دھڑام سے گرنا۔ ماینبغی شایان شان نہیں ہے۔ احصی اس نے شمار کر رکھا ہے۔ عد گنتی۔ ود محبت لد جھگڑالو آدمی۔ رکز آہٹ، سرسراہٹ۔ تشریح :- آیت نمبر 88 تا 98 سورة مریم کی آیات کو نصاریٰ کے اس قول اور عقیدے پر ختم کیا گیا ہے جس میں انہوں نے نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو (جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں) اللہ کا بیٹا ثابت کرنے کی مجرمانہ کوشش کی ہے۔ حالانکہ اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے گہوارے ہی میں اس بات کا اعلان کردیا تھا کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ جس طرح نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دے رکھا تھا اسی طرح یہودیوں نے حضرت عزیز علیہ ا السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دے رکھا تھا نیز مشرکین مکہ نے تو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں تجویز کر رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان گمراہوں کے اس تصور کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین کا یہ قول اس قدر بےہودہ، گستاخانہ اور احمقانہ ہے کہ اگر اللہ نے اپنی ہر صفت پر صفت حلم و تحمل اور صفت رحمل کو غالب نہ کر رکھا ہوتا تو اس گستاخی پر زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی، آسمان پھٹ پڑتے اور پہاڑ ریت کے ذروں کی طرح بکھر جاتے۔ یہ تو اللہ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے کہ آج تک وہ اللہ کے غضب سے بچے ہوئے ہیں۔ سب اس کے بندے اور غلام ہیں۔ قیامت میں ہر ایک کو اس کا بندہ بن کر اس کے سامنے پیش ہونا وہ سب کا پروردگار ، خالق ومالک ہے اس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس نے انسان کے ایک ایک لمحے کا حساب محفوظ کر رکھا ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ اس کی قدرت و طاقت اور علم سے باہر ہے۔ گستاخیاں کرنے والے ہوں یا اس کی اطاعت و فرماں برداری کرنے والے اس نے سب کو شمار کر رکھا ہے۔ فرمایا کہ ایک طرف تو یہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنی حاجتوں کے لئے اپنے ہزاروں معبود بنا رکھے ہیں اور اس گستاخی میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا یا بیٹی بنا رکھا ہے ان کا انجام تو بہت برا ہے۔ اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو وہ اللہ کے غصہ اور غضب کا شکار ہو کر رہیں گے۔ لیکن ان کے برخلاف وہ لوگ جنہوں نے ایمان، عمل صالح اور تقویٰ کی زندگی اختیار کر رکھی ہے اللہ ان کے درمیانی سی محبت و الفت پیدا کر دے گا کہ فرشتے بھی ان سے محبت کرنے لگیں گے اور اللہ اپنی قدرت سے تمام لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کر دے گا۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ اے نبی ﷺ ! ہم نے اس قرآن حکیم کو آپ کی زبان میں نازل کیا اور اس کو اس قدر آسان بنا دیا کہ اس کی تعلیمات پر عمل کرنا، ایمان، عمل صالح اورت قویٰ کی زندگی اختیار کرنا نہایت سہل ہے۔ جو لوگ ایسی زندگی اختیار کریں گے ان کا انجام بھی بہتر ہے اور ان کے لئے جنت کی ابدی نعمتوں کی خوش خبریاں ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو اتنی آسان، سہل اور سادہ تعلیمات کے باوجود کفر و شرک میں مبتلا اور غلط عقیدوں کی ہٹ دھرمی اور گندگیوں میں ملوث ہوں گے جن کا مزاج ہی جھگڑا لو اور فسادی ہے ان کا بہت برا انجام ہوگا۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اہل تقویٰ کو خوش خبریاں اور باطل پرستوں کو ان کے برے انجام سے آگاہ کرتے ہوئے بتا دیجیے کہ تمہیں گزشتہ قوموں کے واقعات کو یاد رکھنا چاہئے جنہوں نے دین کا اور اس کے رسولوں کا مذاق اڑایا۔ اسلام کی سچی تعلیمات کی پرواہ نہیں کی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زبردست ترقیات اور قوت و طاقت کے باوجود ان کے برے اعمال کی وجہ سے ان کو تہس نہس کردیا گیا۔ دنیا کی چیزیں ان کے قطعات کام نہ آسکیں اور آخر کار اپنے ہر عمل کی سزا پا کر اس طرح دنیا میں تباہ و برباد ہو کر رہے کہ آج ان کی آہٹ بھی سنائی نہیں دیتی۔ ایسی قوموں کے کھنڈرات اور ویران بستیاں نشان عبرت بن چکی ہیں۔ اللہ اپنے طریقوں کو اور سنت کو تبدیل نہیں کرتا۔ اگر موجودہ نسل نے بھی وہی کیا جو گزشتہ قوموں نے کیا تھا تو ان کا انجام بھی گزشتہ قوموں سے مختلف نہ ہوگا۔ ۔ اللہ تعالیٰ ہمارا انجام نیک اور پرہیز گار لوگوں کے ساتھ فرمائے اور ہمیں برے انجام سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔ الحمد اللہ سورة مریم کی آیات کا ترجمہ اور تشریح مکمل ہوگئی ہے۔ اللہ قبول فرمائے۔ آمین۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین