Ayahs 19:41–50لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 50
یابت اے میرے ابا جان۔ سوی سیدھا، برابر۔ عصی نافرمان۔ ان یمسک یہ کہ تجھے پہنچے۔ یہ کہ تجھے پکڑے۔ اراغب کیا تو منہ پھیرتا ہے۔ (کیا تو رغبت رکھتا ہے۔ ) لم تنتہ تو باز نہ آیا۔ ارجمن میں ضرور پتھر ماروں گا۔ اھجرنی مجھے تنہا چھوڑ دے۔ ملی ایک وقت، مدت۔ استغفر میں دعائے مغفرت کروں گا۔ حفی مہربان۔ اعتزل میں الگ ہوتا ہوں۔ میں چھوڑتا ہوں۔ ادعوا میں پکاروں گا۔ شقی محروم۔ وھبنا ہم نے عطا کیا۔ لسان صدق سچی زبان، ذکر جمیل، علی نہایت بلند۔ اللہ تعالیٰ کی صفت
تشریح : آیت نمبر 41 تا 50
سورة مریم میں حضرت عیسیٰ حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے حضرت ابراہیم جو خلیل اللہ اور ابوالانبیا کا شرف رکھتے ہیں انہوں نے ایک اسے گھرانے میں آنکھ کھولی تھی جہاں دنیاوی عزت و عظمت مال و دولت اور طرح کا عیش اور آرام تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد جن کا نام آذر تھا وہ اپنے ہاتھ سے مٹی اور پتھر کے خوبصورت بت بنایا کرتے تھے۔ ان کے اس کمال فن کی وجہ سے نمرود بادشاہ کے دربار میں وہ ایک اعلیٰ مقام رکھتے تھے۔ اپنے ہاتھوں سے بت بنا کر ان کے سامنے خود بھی سجدے کرتے اور دوسروں کو بھی اس گمراہی کے راستے پر ڈالتے تھے ۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ بچپن ہی سے یہ دیکھتے آ رہے تھے کہ آذر اور اس زمانے کے لوگ صرف پتھر یا مٹی کے بت ہی نہیں بلکہ چاند سورج اور ستاروں کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان لوگوں کو چاند سورج ستاروں اور بتوں کی عبادت و بندگی کرتے دیکھتے تو یہی سوچتے تھے کہ یہ چیزیں کیا ہمارا معبود ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں ؟ کیونکہ چاند سورج اور ستارے تو روزانہ نکلتے ہیں اور ڈوب جاتے ہیں غائب ہوجاتے ہیں یقینا یہ کسی اور کے تابع ہیں چناچہ ایک دن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہہ اٹھے کہ یہ سب چیزیں میرے معبود نہیں ہو سکتے میں اس ایک رب کی طرف اپنا رخ پھیرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین چاند، سورج اور ستاروں کو پیدا کیا ہے۔ جو ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں ہر طرف سے منہ پھیر کر صرف ایک اللہ کا بندہ ہونے کا اقرار کرتا ہوں یہ درحقیقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وہ سچی فطرت تھی جس نے ان کو یہ سب کچھ سوچنے پر مجبور کردیا تھا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ذریعے حضرت ابراہیم کی رہنمائی فرمائی۔ ایک دن آپ نے نہایت ادب و احترام کے ساتھ اپنے والد سے اس طرح گفتگو فرمائی جس میں اپنے والد کو برا بھلا کہنے کے بجائے ان معبودوں اور عقیدوں کی برائی بیان کی جن کی وہ عبادت بندگی کرتے تھے چار مرتبہ ” یا ابت “ (اے میرے ابا جان) فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ والدین اگرچہ کافر ہی کیوں نہ ہوں ان کے ادب و احترام کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد آذر سے کہا اے ابا جان آپ جن بتوں کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہیں یہ تو اندھے بہرے گونگے ہیں ان کو چھوڑیئے اور اللہ نے مجھے جو کچھ علم عطا فرمایا ہے اس کی پیروی کیجیے اسی سے نجات ہوگی فرمایا کہ یہ چاند سورج اور ستارے ان میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں ہے جن کو معبود بنایا جاسکے اے ابا جان میری بات مانئے اگر آپ نے اس گمراہی کے راستے کو چھوڑ کر میری بات کو مان لیا تو اس سے نہ صرف دنیا میں بکلہ آخرت میں بھی نجات نصیب ہو جائیگی اور ہر طرح کی بھلائیاں آپ کو عطا کی جائیں گی۔ حضرت ابراہیم نے کھل کر کہا کہ ان بتوں اور غیر اللہ کی عبادت درحقیقت شیطان کی پیروی ہے وہ شیطان جو اللہ کا سخت نافرمانی ہے مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ آپ کی گرفت نہ کرلیں اور آپ کسی کام کے نہ رہیں اور کھلم کھلا شیاطن کے ساتھی اور رفیق بن جائیں۔ یہ تمام باتیں حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے نہایت ادب و احترام اور نرمی سے کہی تھی کیونکہ انبیاء کرام کا یہی طریقہ رہا ہے کہ وہ کسی کو دھمکی اور دھونس میں لانے کے لئے سخت لہجہ اختیار نہیں کرتے بلکہ نرمی اور محبت سے دین کی سچائی اور صداقت کی طرف دعوت دیتے ہیں اس کے برخلاف جو لوگ دنیا داری اور جھوٹے معبودوں کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں وہ ذرا ذرا سی بات پر ھڑک اٹھتے اور دھمکیوں پر اتر آتے ہیں حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی دو ٹوک باتوں کے جواب میں آذر نے جاہلانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا اے ابراہیم کیا تیرا یہ خیال ہے کہ میں تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑ دوں گا۔ ڈانتے ہوئے کہا کہ اگر تم ان باتوں سے باز نہ آئے تو میں تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کر ڈالوں گا۔ بہتر یہ ہے کہ تم میری نظروں سے دور ہوجاؤ۔ اتنی سخت اور دھمکی آمیز لہجے کے باوجود حضرت ابراہیم نے اپنے ادب اور احترام کے لہجے میں فرق نہ آنے دیا بلکہ یہ کہا کہ میں اپنے پروردگار سے آپ کے گناہوں کی معافی کے لئے درخواست کروں گا کیونکہ وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا مہربان ہے۔ مجھ پر اس کی نظر کرم ہے شاید وہ اللہ میری دعاؤں کو آپ کے حق میں قبول کرلے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک عراق سے فلسطین کی طرف ہجرت فرما گئے اور کہنے لگے کہ میں تمہیں اور تمہارے معبودوں (جن سے میں بیزار ہوں) کو چھوڑ کرجاتا ہوں۔ فلسطین پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے اٹھارہ سال بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق جیسا بیٹا عطا فرمایا حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے گھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو پیدا کیا جن کا لقب اسرائیل تھا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اللہ نے بارہ بیٹے عطا فرمائے جن کو بنی اسرائیل (یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد) کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نہ صرف حضرت اسماعیل، حضرت اسحقٰ جیسے بیٹے عطا کئے بلکہ ان کے پوتے حضرت یعقوب اور بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) کو نبوت کی دولت سے سرفراز فرمایا۔ وہ باپ کتنے خوش نصیب تھے جن کی اولاد کو ان کی زندگی میں شان نبوت سے سرفراز فرمایا گیا اور سلسلہ نبوت نبی کریم ﷺ پر جا کر مکمل ہوا۔ چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سینکڑوں نبی اور رسول آئے ہیں۔ بلکہ ایک روایت کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں میں سے چوبیس ہزار پیغمبر صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہوئے ہیں۔ اسلئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ابوالانبیاء کہا جاتا ہے۔
ان آیات کا خلاصہ یہ ہے۔
(1) والدین خواہ مسلم ہوں یا کافر ان کا ہر حال میں ادب و احترام کرنا لازم ہے۔ حضرت ابراہیم نے اپنے والد سے جو صرف کفر ہی نہ کرتے تھے بلکہ دوسروں کو گمراہ کرنے کے لئے بتوں کی طرف مائل کرنے میں اپنی صلاحیتوں کو لگائے ہوئے تھے ان سے سخت لہجے یا بےادبی کے انداز میں گفتگو اور تبلیغ نہیں فرمائی بلکہ ان کے ادب کا بھی پوری طرح خیال فرمایا۔ پوری گفتگو میں آخرت سے ڈرایا گیا لیکن کہیں بھی دھمکی یا جارحانہ انداز گفتگو کو نہیں اپنایا گیا۔ اگر غور کیا جائے تو پورے قرآن کریم میں سارے نبیوں کا اور رسولوں کا انداز مشفقانہ ہوا کرتا ہے اس میں دھمکی کا کوئی انداز نہیں ہوتا وہ صبر تحمل اور برداشت سے کام لیتے ہیں جب کہ مشرکین کفار اور فساق اور فجار کی گفتگو میں زبردستی دھاندلی دھونس اور دھمکی کا انداز نمایاں ہوا کرتا ہے جیسے نمرود ، فرعون اور آذر وغریہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کی سختی کا جواب سخت سے نہیں دیا بلکہ اخلاق کریمانہ کا مظاہرہ کرتے ہئے فرمایا کہ میں اللہ سے آپ کے گناہوں کی معافی کی درخواست ضرور کروں گا شاید میرا اللہ میری دعاؤں کو سن لے یہاں اس بات کو ذہن میں رکھ لیجیے کہ کافر والدین کا ادب و احترام تو لازم ہے لیکن ان کے لئے دعائے مغفرت کی اجازت نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ اس وقت فرمایا تھا جب آپ والد سے رخصت ہو رہے تھے لیکن بعد میں جب اللہ کا فیصلہ آگیا کہ کفار کے لئے دعائے مغفرت کرنے کی اجازت نہیں ہے تو آپ نے ان کے لئے دعائے مغفرت نہیں فرمائی۔
(2) دوسری بات یہ ہے کہ حقیقی علم وہی ہے جو اللہ نے حضرت انبیاء کرام کے ذریعے سے انسانوں کو عطا کیا ہے یہی راہ ہدایت اور راستے کی روشنی ہے۔ لیکن شیطان کا راستہ گمراہی اور ضلالت کا راستہ ہے جس میں کسی رطرح کی نجات نہیں ہے۔
(3) دین اسلام کی تبلیغ کا بہترین طریقہ حلم و تحمل صبر و برداشت اور دین کی سچائیوں کو پہنچانے کی مسلسل جدوجہد کرنا ہے۔ بےصبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے طریقے اختیار نہ کئے جائیں جن سے لوگوں کے ذہن دین اسلام کی طرف آنے کے بجائے اکھڑ جائیں۔ نرمی اور شفقت تبلیغ دین کی بنیاد ہے۔ جاہلانہ اور جارحانہ انداز گفتگو سے کبھی مفید نتائج نہیں نکلتے اسی لئے انبیاء کرام حلم و تحمل کے ذریعے دین کی سچائیوں کو دلوں میں اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔
(4) جب اللہ کے دین کے لئے قربانیاں دی جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اولاد صالح اور ہر طرح کی خیر و برکت سے نواز دیا کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور آل ابراہیم کو ہر طرح کی خیر و برکت سے نواز کر حضرت ابراہیم کو دنیا کے تمام اہل مذہب کا پیشوا اور رہنما بنا دیا ہے اور آج ساری دنیا کے مذاہب اپنے اپنے انداز پر حضرت ابراہیم کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو اپنا رہنما مانتے ہیں۔ عرب کے سارے قبائل کو اس بات پر ناز تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ماننے والے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات کو بھلا دیا تھا اسی لئے قرآن کریم کے ذریعے ان کی رہنمائی فرمائی گئی اور ان کو دین ابراہیمی کی طرف راغب فرمایا گیا۔
Ayahs 19:51–58لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 58
مخلصاً منتخب کیا ہوا، چنا ہوا۔ نادینا ہم نے آواز دی۔ الایمن داہنی جانب۔ نجی خاموشی سے راز بتانا۔ صادق الوعد سچا وعدہ کرنے والا۔ مرضی پسندیدہ۔ رفعنا ہم نے بنلد کیا۔ انعم اس نے انعام کیا۔ کرم کیا۔ اسرائیل حضرت یعقوب کا لقب تھا۔ اجتبنا ہم نے منتخب کیا۔ خروا وہ گر پڑے۔ ب کیا (بکی) روتے ہوئے۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 58
سورة مریم کی ان آیات میں حضرت موسیٰ ، حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کی کچھ اہم خصوصیات کا ذکر کر کے فرمایا گیا کہ جب اہل ایمان کے سامنے اللہ کہ یہ آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور ان میں اللہ کے سامنے جھک جانے کا حکم آتا ہے تو وہ نہایت عاجزی و انکساری سے اللہ کے سامنے سجدہ میں جھک جاتے ہیں ۔ ان انبیاء کا اور اس سے پہلے حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور خاص طور پر حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیھم السلام کا ذکر کر کے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو حق و صداقت، ہدایت و رہنمائی اور رسالت و نبوت کے منصب پر فائز کیا تھا لیکن یہ سب اللہ کے فرماں بردار اور نیک بندے ہیں اور اعلیٰ ترین مقام پر ہونے کے باوجود وہ سب کے سب اللہ کی عبادت و بندگی میں کامل مقام رکھتے تھے۔ ان کا یہ حال تھا کہ جب وہ اللہ کا کلام سنتے تھے تو وہ کلام اللہ سن کر خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ کے سامنے سجدہ میں گر پڑتے تھے۔
ان آیات میں سب سے پہلے حضرت موسیٰ کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے عظیم پیغمبر اور حضرت یعقوب کی اولاد میں سے ہیں۔ وہ ایک منتخب نبی اور رسول ہیں۔ اللہ نے ان کو کوہ طور کی داہنی جانب سے پکارا، اپنی قربت عطا کی، آپ سے کلام فرمایا اور صاحب کتاب بنایا، توریت جیسی عظیم کتاب عطا فرمائی۔ ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو جو خود بھی اللہ کی طرف سے نبی تھے ان کا معاون و مددگار بنایا۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں اللہ کے حکم سے فرعون کے دربار میں پہنچے اور اس کی بڑائی کو چیلنج کیا کہ وہ اپنی سرکشی، تکبر اور غرور سے باز آجائے اور بنی اسرائیل پر ہر طرح کے ظلم و ستم کو بند کر دے تاکہ نبی اسرائیل ملک مصر سے فلسطین عافیت کیس اتھ پہنچ جائیں۔ لیکن فرعون نے اپنے ظلم و زیادتی کا سلسلہ بند نہیں کیا بلکہ اس میں ایسی شدت آگئی تھی جس سے اہل ایمان کا اس سر زمین پر رہنا مشکل ہوگیا تھا آخر کار اللہ نے فرعون اور اس کے اس کے تمام حمایتیوں کو پانی میں غرق کردیا اور بن یاسرائیل کو ایک بہت بڑے ظالم سے نجات دلا دی۔ حضرت موسیٰ کے بعد حضرت اساعیل (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سب سے بڑے بیٹے ہیں جن کا لقب ذبیح اللہ ہے ان کے بعد حضرت ابراہیم کے گھر اٹھارہ سال بعد حضرت اسحاق پیدا ہوئے۔ حضرت اسحاق کے گھر حضرت یعقوب پیدا ہوئے جن کو اسرائیل بھی کہا جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد ان کو بارہ بیٹوں کی دولت سے مالا مال فرمایا گیا جن کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ حضرت اسماعیل کے متعلق فرمایا گیا کہ وہ اس قدر عزم و ہمت اور حق و صاقت کا پیکر تھے جنہوں نے دین اسلام کی سربلندی کے لئے طرح طرح کی تکلیفیں اٹھائیں۔ ان کے صبر و استقلال کا یہ عالم تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے لگاتار تین روز تک ایک ہی خواب دیکھا کہ وہ حضرت اساعیل کو اللہ کی راہ میں ذبح کر رہے ہیں۔ جب ان کو اس بات کا یقین کامل ہوگیا کہ خواب نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے حکم ہے تو انہوں نے نہایت ضبط و تحمل کے ساتھ اس بات کا ذکر حضرت اسماعیل سے کردیا۔ حضرت اسماعیل نے عرض کیا ابا جان ! آپ وہ کیجیے جس کے کرنے کا آپ کو اللہ نے حکم دیا ہے۔ آپ مجھے انتہائی صابر پائیں گے۔ اس طرح انہوں نے اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے کا فیصلہ کرلیا۔ حضرت ابراہیم حضرت اسماعیل کو منی کی طرف لے کر چلے۔ شیطان نے بہکانے کی کوششیں کیں مگر حضرت اسماعیل نے ہر مرتبہ شیطان کے جال میں پھنسنے کے بجائے اس پر کنکر برسائے اور لعنت بھیجی ۔ ادھر جب حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ نے حضرت اسماعیل کی جگہ ایک مینڈھا بھیج کر فرمایا کہ اے ابراہیم ہم آپ کے بیٹے کو ذبح کرانا نہیں چاہتے تھے آپ کے عزم و ہمت کا امتحان لینا چاہتے تھے جس میں آپ کامیاب ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے باپ بیٹے کی قربانی کو قبول کرتے وہئے اس کو ایک یادگار بنا دیا اور اب قیامت تک ہر صاحب نصاب مسلمان پر دس ذی الحجہ سے بارہ ذی الحجہ کی عصر تک ایک جانور ذبح کرنے کی سنت کو جاری فرمایا تاکہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی یہ قربانی کا جذبہ قیامت تک یاد رکھا جاسکے۔
حضرت اسماعیل جن کی اولاد میں سے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ قرآن کریم میں حضرت اسماعیل کی شان یہ بیان کی گئی ہے کہ (1) حضرت اسماعیل بہترین اخلاق کے مالک تھے (2) وہ جس سے جو وعدہ کرلیتے اس کو ہمیشہ پورا کیا کرتے تھے (3) ایسے عزم و ہمت کے پیکر تھے کہ اپنے والد حضرت ابراہیم کے کہنے سے اللہ کے حکم پر ذبح ہونے کے لئے تیار ہوگئے ۔ (4) آپ ہمیشہ اپنے گھر والوں کو نماز ڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے کی تاکید فرمایا کرتے تھے (5) آپ اللہ کے پسندیدہ نبی تھے۔
حضرت موسیٰ اور حضرت اسماعیل کا ذکر کرنے کے بعد حضرت ادریس (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا گیا ہے ارشاد ہے کہ وہ ایک نیک اور سچے انسان تھے اور اللہ کی طرف سے نبوت کے منصب پر فائز تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو مخصوص علوم اور فنون میں ایک خاص مقام عطا فرمایا تھا۔ ان کا دنیا میں بھی رتبہ بلند ہے اور آخرت میں بھی ان کی ایک خاص شان ہوگی۔ کہتے ہیں کہ حضرت ادریس علیہ السلام، حضرت آدم اور حضرت نوح کے درمیانی زمانہ میں تشریف لائے اور گمراہ انسانوں کو راہ ہدایت دکھانے میں ہر طرح کی تکلیفیں برداشت کیں۔ قرآن کریم میں حضرت ادریس علیہ ال سلام کا ذکر صرف دو جگہ آیا ہے ایک تو زیر مطالعہ آیات میں اور دوسری مرتبہ سورة انبیاء میں۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں علم و حکمت، علم حساب، علم کتابت یعنی قلم سے لکھنا، کپڑوں کو سینا، ماپ تول کے پیمانے اور بعض اسلحہ بنانے کے طریقے حضرت ادریس (علیہ السلام) نے سکھائے ہیں۔
بہرحال یہ تمام انبیاء کرام علیھم السلام وہ تھے جو اپنی تمام تر عظمت اور شان کے اللہ کی عبادت و بندگی اور اللہ کے بندوں کی ہدایت کیلئے دن رات کوششیں کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دین اسلام کی خدمت کرنے اور عبادت و بندگی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ جب ان کو اللہ کے سامنے جھک جانے کا حکم ہوتا تو وہ پورے ادب و احترام سے سجدے میں گر پڑتے تھے۔ سورة مریم کی اس آیت پر پہنچنے کے بعد ہر سننے والے پر سجدہ کرنا واجب ہے۔ اگر اس وقت سجدہ نہ کرسکے تو جلد از جلد اس سجدے کو ادا کرے۔
Ayahs 19:59–65لغات القرآن آیت نمبر 59 تا 65
خلف قائم مقام ہوا۔ خلف نالائق، ناخلف۔ اضاعوا انہوں نے برباد کیا، ضائع کردیا۔ اتبعوا پیچھے لگ گئے، انہوں نے پیروی کی۔ یلقون وہ ڈالیں گے۔ غی گمراہی۔ عدن ہمیشہ رہنے کی جگہ، ایک بہت کا نام۔ ماتی آنے والا، آنے کی جگہ۔ لغو بےہودہ۔ فضول۔ مانتنزل ہم نہیں اترتے۔ نسی بھول جانا۔ اصطبر ثابت قدم رہو۔ سمی ہم نام، ہم پلہ
تشریح : آیت نمبر 59 تا 65
اللہ تعالیٰ نے گزشتہ انبیاء کرام علیھم السلام اور ان کی امتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ان کے بعد آنے والوں نے نیک لوگوں کا راستہ چھوڑ کر ان کے قائم مقام ہونے کا حق ادا نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی خواہشات نفس اور دنیا کے وقتی فائدوں کے پیچھے چل کر نماز جیسی عبادت کو ضائع کردیا۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو ان کی گمراہی پر معاف نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کے اعمال کے مطابق ان کو سخت سزا دی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز اللہ کی عبادت کا سب سے اہم اور احسن طریقہ ہے جو گزشتہ انبیاء کرام وعلیھم السلام کی امتوں پر بھی فرض کیا گیا تھا جو دین اسلام کی بنیادوں کو مضبوط اور مستحکم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز سے امتوں کو مرکزیت ملتی رہی ہے۔ جن لوگوں نے اس فریضہ سے غفلت اختیار کی اس کے آداب کا خیال نہیں رکھا اور اس کو ضائع کردیا ان کو دنیا اور آخرت میں رسوائی اور ذلت نصیب ہوئی اور ان کو اس بدعملی پر سخت سزا دی گئی۔
گزشتہ امتوں کی طرح نبی کریم ﷺ کی امت پر بھی نماز کو فرض کیا گیا ہے اگر نماز جیسی عبادت سے غفلت اور کوتاہی اختیار کی گئی تو گزشتہ قوموں سے ان کا انجام مختلف نہ ہوگا۔ اس لئے نبی کریم ﷺ نے نماز کو سب سے اہم عبادت قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ کفر او اسلام کے درمیان نماز ہی سب سے بڑا فرق ہے۔ نماز کو چھوڑنا یا اس سے غفلت اختیار کرنا امت کے زوال کا سب سے اہم سبب ہے۔ نماز درحقیقت اللہ اور بندہ کے درمیان وہ مضبوط رشتہ ہے جو اس کو اللہ کی رحمتوں سے جوڑے رکھتا ہے۔ جس نے اس رشتہ اور تعلق کو توڑ دیا وہ حق و صداقت سے کٹ کر ضلالت و گمراہی میں مبتلا ہوگیا۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ آپ نے فرمایا جس نے نماز کا اہتمام نہیں کیا اس کے لئے قیامت کے دن نہ تو نور ہوگا۔ نہ اس کے پاس کوئی چھت ہوگی اور نہ اس کی نجات کا کوئی اور ذریعہ ہوگا۔ اس کا حشر فرعون ، ہامان اور (منافق) ابی ابن خلف کے ساتھ ہوگا۔ ۔
خاتم الانبیاء ﷺ نے فرمایا جو شخص نماز نہیں پڑھتا اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے اور بغیر وضو کے نماز نہیں ہوتی۔
آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ دین بغیر نماز کے کچھ بھی نہیں ہے۔
نبی مکرم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے موذن کی آواز سنی اور نماز کے لئے نہیں گیا اس نے سراسر ظلم کیا۔ اس نے کفر اور نفاق کا عمل کیا۔
نماپز ڑھنے کے لئے احادیث میں بہت تاکید آئی ہے لیکن وہ لوگ جو بلا کسی عذر کے مسجدوں کے بجائے ھگروں پر نماز پڑھتے ہیں درحقیقت وہ بھی نماز کا حق ادا نہیں کرتے اور رحمت دوعالم ﷺ نے اس کو انتہائی ناپسند فرمایا ہے۔ ایک موقع پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ چند نوجوانوں سے کہوں کہ بہت سا ایندھن جمع کر کے لائیں اوپ ھر میں ان لوگوں کے پاس جاؤں جو بلا کسی عذر کے گھروں پر نماز پڑھتے ہیں اور میں جا کر ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔ ایک حدیث میں آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے چھوٹے بچوں اور عورتوں کا خیال نہ ہوتا تو میں عشاء کی نماز میں مشغول ہوتا اور خادموں کو حکم دیتا کہ گھروں پر نماز پڑھنے والوں کو ان کے مال و اسباب سمیت آگ لگا دیں۔
نماز کی اس تاکید کی وجہ سے صحابہ کرام اور بزرگان دین نے فرمایا ہے کہ نمازوں کا اہتمام نہ کرنے والے ین کے بقیہ تمام احکامات کو ضائع کردینے والے ہیں۔
سیدنا عمر فاروق نے اپنے دور حکومت میں اپنے اعمال حکومت کو ایک ہدایت نامہ بھجوایا تھا کہ وہ کس طر حکوت کے کاموں کو سرانجام دیں مگر ساتھ ہی ساتھ یہ تحریر فرمایا کہ
” میرے نزدیک تمہارے سب کاموں سے زیادہ اہم کام نماز ہے تو جو شخص نماز کو ضائع کرتا ہے وہ دور سے تمام احکام دین کو بھی ضائع کرے گا (موطا امام مالک)
ایک مرتبہ حضرت حذیفہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز تو پڑھ رہا ہے لیکن رکوع، سجود اور قیام میں کوتاہی کر رہا ہے آپ نے اس سے پوچھا کہ تم کب سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہو ؟ اس نے کہا چالیس سال سے حضرت حذیفہ نے فرمایا کہ اگر تم اس طرح نمازیں پڑھتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوجاتے تو یاد رکھو تم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ (کے طریقے کے) خلاف مرتے۔ حضرت حذیفہ کا یہ ارشاد اس حدیث کے مطابق ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص نماز میں اعتدال اختایر نہیں کرتا اس کی نماز نہیں ہوتی اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص رکوع اور دونوں سجدوں کے درمیان یا کھڑے ہونے یا صحیح بیٹھنے کا اہتمام نہیں کرتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔
(ترمذی)
ان ہی ارشادات کی روشنی میں علماء نے فرمایا ہے کہ ” اضاعت صلوٰۃ “ یعنی نماز کو ضائع کرنا یہ ہے کہ نماز کو اس کے وقت سے موخر کر کے پڑھنا۔ (جمہور مفسرین)
بغیر کسی شدید عذر کے مسجدوں کے بجائے گھروں پر نماز پڑھنا، کوتاہی کرنا، غفلت برتنا۔
نماز کے آداب و شرائط میں کوتاہی کرنا۔
نماز کے متام ارکان میں تعدیل اور تو ازن قائم نہ رکھنا۔
نمازوں کو چھوڑ کر زندگی کے کاروبار کو اہمیت دینا۔
بے جا خواہشات اور تمناؤں میں الجھ کر نمازوں سے غفلت اختیار کرنا یہ درحقیقت نمازوں کو ضائع کرنا ہے۔ اسی بات کو ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ انبیاء کرام اور ان کی امتوں کے بعد آنے والوں نے نالائقی کا ثبوت پیش کیا اور نماز جیسی اہم عبادت کو ضائع کر کے اپنی خواہشات اور شہوات کے پیچھے لگ گئے۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں نے اگر توبہ کر کے ایمان اور عمل صالح کا طریقہ اختیار نہ کیا تو ان کو ” غی “ میں جھونک دیا جائے گا۔
” غی “ کے معنی خرابی، بربادی اور نقصان کے آتے ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود سے روایت ہے کہ جہنم کے اندر ” غی “ ایک ایسی وادی کا نام ہے جو بہت گہری اور خون اور پیپ سے بھری ہوئی ہے۔ یعنی ایک ایسی وادی اور گھاٹی کا نام ہے جو بدترین جگہ ہے۔ جہاں نفس پرستوں اور خواہشات کے پیچھے چلنے والوں کو جھونک دیا جائے گا یہ ان کی سخت ترین سزا ہوگی۔ البتہ اگر انہوں نے مرنے سے پہلے توبہ کرلی یعنی ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کرلیا تو ان کے پروردگار کا ان سے یہ پکا وعدہ کے کہ اگرچہ انہوں نے جنت کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا اور اس دنیا میں اس کی راحت و آرام کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا لیکن تقویٰ اور پرہیز گاری اور اطاعت و فرماں برداری اختیار کرنے والوں کو ہمیشہ کے لئے ان جنتوں کا وارث ومالک بنا دیا جائے گا۔ وہ جنتیں ایسی ہوں گی کہ جہاں غلط، لغو، فضول اور بےہودہ باتوں کے بجائے ہر طرف پاکیزگی، ستھرائی اور سلامتی ہی سلامتی کی آوازیں صدائیں ہوں گی جہاں صبح و شام ان کی خواہش کے مطابق ہر طرح کی نعمتیں عطا کی جائیں گی۔
آگے کی آیات میں فرشتوں کی اطاعت و فرماں برداری کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے۔ فرمایا کہ ایک طرف تو انسان ہے جو نافرمانیوں اور خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے پیغام کو بھول کر گناہ کے کاموں میں لگا رہتا ہے۔ اس کے برخلاف فرشتوں کا یہ حال ہے کہ وہ اللہ کے اطاعت گزار اور فرماں بردار ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھاتے۔ ان کو اللہ کا کام دے کر بھیجا جاتا ہے تو وہ اس کو پوری دیانتداری سے اللہ کے بنیوں تک پہنچا دیتے ہیں اور اس میں وہ ذرہ برابر کوتاہی نہیں کرتے۔ وہ اللہ بھی ایسا پروردگار ہے جو موجودہ ، آئندہ اور ماضی کے تمام احوال سے واقف ہے۔ اس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے وہ حکم دے کر اس کو بھول نہیں جاتا یا جو اس کا وعدہ ہے وہ اس کو بھولتا نہیں ہے۔ بلکہ وہ علیم وبصیر ہے اور اپنے بندوں کے تمام احوال سے اچھی طرح واقف ہے۔
روایت میں آتا ہے کہ جبرئیل امین روزانہ وحی لے کر آتے تھے۔ وحی الٰہی سے آپ کو جو روحانی سکون اور سرور نصیب ہوتا تھا آپ کی خواہش تھی کہ جبرائیل جتنا بھی آتے ہیں وہ اس سے بھی زیادہ آئیں۔ اس سلسلے میں دوسری روایت یہ ہے کہ کچھ دنوں تک حضرت جبرائیل امین تشریف نہیں لائے تو آپ نے حضرت جبرئیل سے اس کیفیت کو بیان فرمایا اس پر حضرت جبرئیل نے کہا کہ ہم تو اس وقت ہی آتے ہیں جب ہمیں اللہ کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے۔ اپنی مرضی اور خواہش سے نہیں آتے۔ اب وہ اللہ جو علم وبصیر ہے۔ وہ ہر طرح کی کیفیات سے اچھی طرح واقف ہے۔ نہ اس کا جیسا کسی کا نام ہے نہ اس کے جیسا کسی کا حکم ہے۔ لہٰذا ہم تو اللہ کے حکم کے تابع ہیں جیسا حکم دیا جاتا ہے ہم ویسا ہی کرتے ہیں۔
اس مقام پر اگر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ شیطان کا کام نافرمانی، تکبر اور غرور ہے جب کہ فرشتوں کا کام مکمل اطاعت و فرماں برداری ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو شیطان کے راستے پر چل کرنا فرمانی کررہے ہیں اور اگر ان کے پاس کچھ مال و دولت آجاتا ہے تو وہ تکبر اور غرور کرنے لگتے ہیں اور دوسری طرف فرشتے ہیں جو اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ نے تمام لوگوں کے سامنے یہ دونوں مثالیں رکھ دی ہیں۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ شیطان کی طرح نافرمان بننا چاہتا ہے یا فرشتوں کی طرح اطاعت گزار اور فرماں بردار۔ دونوں راستوں کا انجام بالکل واضح ہے۔ ہر انسان اپنے اچھے اور برے انجام پر اس دنیا میں غور کرلے کیونکہ آخرت کی زندگی عمل کرنے کی نہیں بلکہ ہر بات کا نتیجہ نکالنے کے لئے ہے۔ یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے یہ زندگی اور اس کا عمل اس کھیتی کا موسم ہے لیکن جب کھیتی کو کاٹنے کا موسم آئے گا تو اس وقت انسان کی محنت کا نتیجہ اس کے سامنے ہوگا۔ کھیتی باڑی کرنے کا موسم نہ ہوگا۔ ۔
Ayahs 19:66–72لغات القرآن آیت نمبر 66 تا 72
مت میں مر گیا۔ نحشرن ہم ضرور جمع کریں گے۔ نحضرن ہم ضرور حاضر کریں گے۔ حول اردگرد۔ جثی گھٹنوں کے بل۔ ننزعن ہم ضرور نکالیں گے۔ شیعۃ فرقہ، گروہ۔ عتی سرکش، نافرمان۔ صلی اندر داخل ہونا۔ وارد آنے والا۔ مقضی مقرر کیا ہوا۔ نذر ہم چھوڑ دیں گے۔
تشریح : آیت نمبر 66 تا 72
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر کفار و مشرکین کے متعلق بیان کیا گیا ہے جس میں انہوں نے قرآن کریم کی آیات کو سن کر بڑے تعجب اور حیرت سے یہ سوال کیا ہے کہ جب ہم مر کر خاک ہوجائیں گے ۔ ہماری ہڈیاں چورہ چورہ ہو کر ہمارا وجود کائنات میں بکھر جائے گا تو کیا دوبارہ زندہ کئے جائیں گے ؟ ہمارے وجود کے اجزاء جمع ہو سکیں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے اس قول کا نہایت سادہ اور باوقار جواب دیا ہے کہ انسان کو یہ سوال کرنے سے پہلے اس بات پر غور کرلینا چاہئے کہ جب انسان کا وجود ہی نہ تھا بلکہ وہ قابل ذکر شے ہی نہ تھا جب اس وقت اللہ نے اس کو وجود عطا کیا۔ زندگی کے مختلف مرحلوں سے گزار کر، ماں باپ کی شفقت کے سائے میں اس کو جوان بنایا۔ اس کے لئے وہ تمام اسباب پیدا کئے جس سے وہ زندگی کو مناسب طریقہ پر گزار سکے تو کیا اس اللہ کو یہ قدرت حاصل نہیں کہ وہ اس انسان کے بلکہ کائنات کے تمام انسانوں کے اجزاء کو جمع کر کے دوبارہ جیتا جاگتا انسان بنا دے۔ کسی چیز کو پہلی مرتبہ پیدا کرنا اور بنانا بظاہر مشکل نظر آتا ہے لیکن اس کو اسی جیسا دوسرا وجود عطا کرنا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اس بات کو ارشاد فرمایا ہے کہ انسان یہ کہتا ہے کہ جب ہم مر جائیں گے تو کیا ہم دوبارہ پیدا کئے جائیں گے۔ اللہ نے اپنی ذات کی قسم کھا کر فرمایا کہ ہم صرف ان کو ہی زندہ کر کے نہیں بلکہ ان شیطانوں کو بھی جہنم کے گرد جمع کریں گے جو ان کو بہکایا کرتے تھے۔ جب دوزخ ان کے سامنے ہوگی تو وہ دہشت اور خوف سے گھٹنوں کے بل گر جائیں گے اور ان سرکش اور نافرمانوں کو گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جن کے دل میں اللہ کا خوف اور تقویٰ موجود ہوگا۔ ان کو جنت کی ابدی راحتوں اور آرام سے ہمکنار کرایا جائے گا۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہر شخص کو جہنم کے پاس سے گزرنا ہوگا۔ یہاں تک کہ اہل ایمان کو بھی اسی راستے سے جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جہنم کے اوپر ایک پل بنایا جائے گا (جس کو ” پل صراط “ کہتے ہیں) اس پر ہر ایک کو گذرنا ہوگا۔ جو اہل ایمان و اہل تقویٰ ہیں وہ تو اپنے اعمال کے حساب سے صحیح سلامت گزر جائیں گے۔ فرمایا کہ پل صراط سے گزرنے والے بعض تو وہ ہوں گے جو نہایت تیز رفتاری اور بجلی کی طرح اس سے گزر جائیں گے۔ بعض ہوا کی طرح، بعض تیز رفتار گھوڑے کی طرح ، بعض تیز رفتار اونٹوں کی طرح اور بعض لوگ تیز رفتار پیدل چلنے والے کی طرح اس پل سے گزر جائیں گے۔ یہاں تک کہ سب سے آخر میں جو شخص اس پل صراط سے گزرے گا وہ ہوگا۔ جس کے صرف پیر کے انگوٹھے پر نور ہوگا۔ وہ گرتا پڑتا نجات پا جائے گا۔ اس کے برخلاف جو کفار اور مشرکین ہیں وہ الجھ کر جہنم میں گر جائیں گے۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد اہل ایمان اپنے اپنے اعمال کے مطابق اور بعض انبیاء اور صالحین کی شفاعت سے نجات پائیں گے جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا۔ ان کو ھبی ان کے گناہوں کی سزا دے کر اللہ تعالیٰ اپنا رحم و کرم فرمائیں گیا ور ان سزا یافتہ گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کردیا جائے گا اور جہنم کا منہ بند کردیا جائے گا۔
اس جگہ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ہم چند روز جہنم میں جلیں گے اس کے بعد جنت کی ابدی راحتیں ہمارا انتظار کر رہی ہوں گی۔ علماء مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہودیوں کا عقیدہ یہ تھا کہ اول تو ہم جن ہم میں جائیں گے ہی نہیں اور اگر ہم میں سے کسی کو جہنم میں جانا پڑا تو زیادہ سے زیادہ تین دن آگ میں جل کر تکلف اٹھا کر پھر جنت کی ساری راحتیں ہمیں عطا کردی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عقیدے کی جگہ جگہ تردید فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ اللہ نے کسی کے لئے جنت کو اس کی میراث نہیں بنایا ہے۔ بلکہ انسان کا ایمان اور حسن عمل اس کو جنت کا مستحق بنا سکتا ہے۔ یہودیوں کا خیال ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ کرنا چاہیں کرتے رہیں آخرت کی راحتیں انہیں تشتریح میں سجا کر دیدی جائیں گی۔ لہٰذا یہ دنیا اور وہ دنیا صرف ہمارے لئے ہے۔
اہل ایمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صالح مومن کی نجات فرمائیں گے۔ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہے وہ اپنی سزا بھگت کر آخر کار جنت میں داخل کیا جائے گا۔ ہمارا اس بات پر بھی یقین ہے کہ نبی کریم ﷺ اور گزشتہ انبیاء اور صالحین اللہ کے ہاں سفارش فرمائیں گے اور ان کی شفاعت پر اللہ کا کرم بھی ہوگا۔ لیکن اگر ان حقائق کی موجودگی میں ہمارا انداز فکر یہودیوں جیسا ہوجائے کہ ہم اس دنیا میں جو چاہیں کرتے رہیں اور یہ سمجھنے لگیں کہ آخرت تو ہمارے لئے ہے ہمارے زبرگ ہمیں جہنم سے نکال لے جائیں گے۔ بیشک شفاعت پر ہمارا ایمان ہے لیکن اس کے لئے ایمان کی بھی شرط ہے خواہ وہ ذرہ برابر ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن ہمارے پاس ایسا کوئی آلہ نہیں ہے جس سے ہمیں یقین ہوجائے کہ واقعی ہمارا ایمان بھی سلامت ہے یا نہیں۔ اگر ایمان سلامت ہے تو انشاء اللہ اس ایمان کی برکت سے ضرور نجنات ہوگی لیکن اگر ہم نے بدعات و خرافات میں مبتلا ہو کر اپنا ایمان کھو دیا ہو تو پھر ہماری نجات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لہٰذا ہم جیسے ہر شخص کو ایمان اور عمل صالح کی ہر وقت فکر کرنا چاہئے ورنہ درمیان اور یہودیوں کی خوش فہمیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں رہے گا۔
Ayahs 19:73–80لغات القرآن آیت نمبر 73 تا 80
تتلی تلاوت کی گئی، ای کون۔ احسن ندیا بہترین مجلس۔ قرن گروہ، جماعت۔ اثات سامان۔ رءی نمود و نمائش ، سروسامان۔ یمدد وہ بڑھائے گا۔ اضعف کمزور ترین ۔ جنۃ لشکر، مددگار۔ مرد انجام، آخری ٹھکانا۔ اوتین مجھے ضرور دیا جائے گا۔ فرد تنہا، اکیلا۔
تشریح : آیت نمبر 73 تا 80
انسان دنیا کی اظہری زیب وزینت ، چمک دمک اور عاضری رونقوں کو دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ دنیا کی یہ رونقیں ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گی۔ اولاد کی کثرت اور دولت کی ریل پیل سے آدمی دھوکا کھا جاتا ہے اور اپنے مقابلے میں دوسروں کو ذلیل و خوار اور کم تر سمجھنے لگتا ہے۔ چناچہ نزول قرآن کے وقت جب اہل ایمان کو کامیاب اور سچا اور کافروں کو ناکام اور جھوٹا ثابت کر کے اہل ایمان کے لئے جنت کی دائمی نعمتوں اور رحمتوں کا ذکر سنتے تو کفار مکہ اہل ایمان کا مذاق اڑانے کے لئے کہتے تھے کہ یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ لوگ جو اپنے آپ کو صاحب ایمان کہتے ہیں دنیا اور آخرت میں کیسے کامیاب ہوں گے جب کہ دنیا میں تو ان کا یہ حال ہے کہ پھٹے ہوئے کپڑے، فاقہ زدہ چہرے، غلاموں، غریبوں اور مفلسوں کی بھیڑ اور بےرونق محفلیں ہیں اور دوسری طرف ہمارے مال و دولت، طاقت و قوت، محفلوں کی رنگینیاں، عمارتوں کی بلندیاں، بہترین سواریاں اور چاروں طرف پھیلے ہوئے ہمارے مددگار ہیں۔ ہم دنیا کے کامیاب ترین لوگ ہیں اور ہم اس کی توقع کرسکتے ہیں کہ آخرت میں بھی ہماری یہی شان و شوکت ہوگی۔ دنیا اور آخرت میں ہم ہی کامیاب وبامراد ہوں گے۔ ان ایمان کے دعوے داروں کو نہ دنیا میں کچھ ملا ہے اور نہ آخرت میں ملنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ کفار کی ان باتوں اور طعنوں سے اہل ایمان ناگوار محسوس کرتے تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے دل کے سکون کے لئے ان آیات کو نازل فرمایا
ارشاد ہے کہ یہ کفار بڑے نادان اور تاریخ انسانی سے ناواقف ہیں اگر تاریخی اعتبار سے دیکھتے تو ان کو پوری طرح یقین ہوجاتا کہ اللہ نے ہمیشہ اہل حق کو سربلند فرمایا ہے اور وہ لوگ جن کو اپنی طاقت و قوت پر ناز تھا جن کے سجے ہوئے مکانات، پر رونق محفلیں اور شاندار عمارتیں تھیں جب انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مسلسل نافرمانیاں اور گناہ کئے تو اللہ نے ان کو صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا اور کفار و مشرکین کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ کر پھینک دیا اور ان اہل ایمان کو جو دنیاوی اعتبار سے بےبس اور کمزور تھے ان کو طاقتوروں پر غالب اور مسلط کردیا اور ان کفار کی بلند وبالا عمارتیں اور محلات ایسے بےرونق کھنڈرات میں تبدیل ہوگئے کہ لوگ ان کے قریب دن کی روشنی میں بھی جاتے ہوئے گھبراتے ہیں اور خوف محسوس کرتے ہیں۔ اللہ کا یہ نظام ہے کہ وہ ظالموں، نافرمانوں اور گناہ گاروں کو مہلت اور ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے جس سے نافرمان اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ان کے مقابلے میں نہ کوئی شخص عزت و آبرو و والا ہے اور نہ ان کے مال و دولت اور قوت و طاقت کا کوئی مقابلہ کرسکتا ہے۔ لیکن جب اللہ کا فیصلہ آجاتا ہے تو پھر مال و دولت ، اولاد، رشتہ دار اور ان کے مددگار جن پر انہیں ناز ہوتا ہے وہ سب کے سب ان کے اردگرد سے بھاگ جاتے اور دور ہوجاتے ہیں اور وہ لوگ جس دھوکے میں مبتلا تھے فریب کے پردے ان کی آنکھوں سے اتر جاتے ہیں۔
اس کے برخلاف وہ لوگ جو راہ راست اور صراط مستقیم پر چل کر اپنی زندگی گزارت یہیں اللہ تعالیٰ نہ صرف ان کی ہدایت میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے بلکہ ان کے تمام نیک اعمال کو قبول فرما کر ان کے لئے دنیا کی ہر تین کامیابیاں اور آخرت میں اپنے انعامات سے نوازتا ہے اور ان کو کامیاب و بامراد کردیتا ہے فرمایا کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آج جو دولت و ثروت ان کو حاصل ہے وہ ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی بلکہ آخرت کی راحتیں بھی ان کا مقدر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں سے سوال کیا ہے کہ ان کو آگے کی زندگی کے متعلق کیا علم غیب حاصل ہوگیا ہے ؟ یا اللہ نے ان سے کوئی معاہدہ کرلیا ہے ؟ کہ یہ مال و دولت ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گا۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو اپنی غلط فہمی دور کر لینی چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس جو کچھ ہے وہ اس دنیا میں رہ جائے گا اور اگر انہوں نے ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار نہ کیا تو آخرت میں بھی یہ خالی ہاتھ رہ جائیں گے اور وہاں کوئی ان کے کام نہ آسکے گا۔ ایسے لوگ تن تنا اللہ کے پاس پہنچیں گے تب ان کو پوری طرح اندازہ ہوگا۔ کہ دنیا اور آخرت دونوں انہوں نے برباد کر ڈالیں۔
فرمایا کہ اللہ کا اہل ایمان سے یہ وعدہ ہے کہ ان کی دنیا میں سنور جائے گی اور آخرت میں دائمی رحمتیں اور نعمتیں ان کی منتظر ہیں۔