12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 12:109–110

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے ہیں وہ سب کے سب مرد ہی تھے۔ جو ان ہی بستیوں کے رہنے والے تھے جن کی طرف ہم نے وحی کی ہے۔ کیا پھر وہ زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھتے کہ ان سے پہلے (نافرمان) لوگوں کا انجام کیا ہوا اور آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ کیا پھر بھی وہ نہیں سمجھتے۔

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب رسول بھی مایوس ہوگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ وہ جھٹلائے جائیں گے تو ہماری مدد پہنچ گئی ۔ پھر ہم نے جس کو چاہا نجات عطا فرما دی اور ہمارا عذاب مجرموں سے ٹلا نہیں کرتا۔

لغات القرآن آیت نمبر 109 تا 110 ما ارسلنا ہم نے نہیں بھیجا رجال (رجل) مرد اھل القریٰ بستیوں والے لم یسیروا وہ نہیں چلے پھرے کیف کان کیسے تھے عاقبۃ انجام قبل پہلے الدارالاخرۃ آخرت کا گھر استیئس مایوس ہوگیا۔ ہوگئے الرسل (رسول) رسول ، پیغمبر ظنوا انہوں نے سمجھ لیا۔ گمان کیا قدکذبوا وہ یقینا جھٹلائے گئے نصرنا ہماری مدد فنجی پس ہم نجات دیتے ہیں لا یرد نہیں ہٹتا، نہیں ٹلتا باسنا ہمارا عذاب المجرمین جرم کرنے والے تشریح : آیت نمبر 109 تا 110 قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار مشرکین نے آخری بات یہی کی ہے کہ یہ سب کچھ تو ٹھیک ہے لیکن ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ایک ایسا شخص جو ہماری طرح ہے، ہماری طرح زندگی کے تقاضے رکھتا ہے وہ شادی کرتا ہے، اس کے بچے ہوتے ہیں، وہ کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں بھی آتا اور جاتا ہے وہ اللہ کا نبی کیسے ہو سکتا ہے۔ اللہ کا نبی تو اس کو ہونا چاہئے جو عام انسانوں کی طرح نہ ہو، اس کے ساتھ فرشتے ہوں، اس کے پاس خزانے ہوں اور وہ دنیاوی تقاضوں کا محتاج نہ ہو۔ قرآن کریم میں ہر جگہ اس کا ایک ہی جواب دیا گیا ہے کہ تمام انبیاء اور رسول انسان ہی ہوتے ہیں ان پر اللہ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے جو لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ کی طرف سے بھیجے گئے سچائی کے اصولوں کو پیش کرتے ہیں۔ جو ان کی بات مان لیتے ہیں ان کو نجات دیدی جاتی ہے اور جو نہیں مانتے ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔ اگر و ہ لوگ ان کھنڈرات کو دیکھیں جو دنیا کی عظیم ترین قوموں کے آثار ہیں کہ جب انہوں نے اللہ کی اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی تب ان پر عذاب نازل کیا گیا اور ان کے مال و دولت اونچی بلڈنگیں اور ترقیات ان کے کام نہ آسکیں۔ فرمایا کہ ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو آج بھی نافرمان قوموں کے ٹوٹے پھوٹے ویران مکانات کھنڈرات کی شکل میں موجود ہیں۔ اللہ نے انسان کو دنیاوی ترقیات سے نہیں روکا بلکہ عقل و فکر اور جسمانی محنتوں کے بدلے میں سب کچھ عطا کیا لیکن جب وہ اپنے خالق ومالک کو بھول گئے اور تکبر اور غرور کا وہ راستہ اختیار کرلیا جس میں اللہ کے رسولوں کا کہنا بھی ان کو گوارہ نہیں ہوا اور ان انبیاء کرام نے اس بات کو محسوس کرلیا کہ ہماری قوم ہماری بات کو مذاق میں اڑا رہی ہے اور اللہ کو اس طرح بھول گئی ہے کہ اس کے نزدیک اللہ کی تعلیمات بےحقیقت بن کر رہ گئی ہیں تو انبیاء کرام اللہ کی بارگاہ میں اپنی مایوسی اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں تب اللہ جس طرح چاہتا ہے اس قوم پر عذاب نازل کرتا ہے اور مجرموں کی ساری قوتیں اور طاقتیں مل کر بھی اس عذاب اور اللہ کے غصے کو ٹالنا بھی چاہیں تو ٹال نہیں سکتیں۔ یہی اللہ کا دستور ہے اور سنت اللہ ہے۔
Ayah 12:111

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

یقینا عقل و سمجھ رکھنے والوں کے لئے ان واقعات میں عبرت و نصیحت ہے۔ یہ کوئی گھڑی ہوئی بات نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے جو کتابیں آ چکی ہیں یہ اس کے مطابق ہے اور تصدیق کرنے والی ہے اور جس میں ہر چیز کی تفصیل موجود ہے اور جو لوگ صاحب ایمان ہیں ان کے لئے ہدایت و رحمت ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 111 قصص واقعات عبرۃ نصیحت اولی الالباب عقل و سمجھ رکھنے والے یفتری گھڑ لیا گیا، گھڑ لی گئی تصدیق سچ بتانے والا، بتانے والی بین یدی ہاتھوں کے درمیان سامنے، اپنی طرف سے تفصیل تفصیل ، وضاحت ھدی ہدایت رحمۃ رحمت، فضل و کرم تشریح : آیت نمبر 111 سورة یوسف کو اس مضمون پر مکمل کیا گیا ہے کہ حضرت یوسف کا قصہ یا کوئی بھی واقعہ جو قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے عقل اور سمجھ عطا فرمائی ہے وہ ان واقعات سے عبرت و نصیحت حاصل کریں۔ فرمایا کہ سیدھا راستہ دکھانا انبیاء کرام کا کام ہے۔ اب اگر کوئی نصیحت حاصل کرتا ہے تو اس کے لئے دنیا و آخرت کی نجات کا باعث ہے لیکن اگر وہ نافرمانی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اس کی دنیا اور آخرت دونوں ہی برباد ہو کر رہ جائیں گی۔ حضرت یوسف کا یہ واقعہ جس کو بیان کیا گیا ہے اس میں عبرت و نصیحت کے ہزاروں پہلو موجود ہیں جن میں سے ایک ایک بات سچائی پر مبنی ہے کوئی قصہ یا کہانی کی طرح گھڑی ہوئی بات نہیں ہے کہ ایک آدمی نے اپنے ذہن میں ایک قصہ بنایا اور اس کو رنگ آمیزی کے ساتھ بیان کردیا بلکہ جیتی جاگتی زندگی کے واقعات ہیں جن میں حضرت یوسف کو ہر طرح کی اخلاقی فتح و کامرانی حاصل ہوئی۔ اس کے برخلاف ان کے حاسد بھائیوں کو ہر طرح ذلت و رسوائی حاصل ہوئی۔ اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ آج مکہ مکرمہ میں سرکار دوعالم ﷺ اللہ کا دین پہنچانے کی ہر ممکن جدوجہد فرما رہ ہے ہیں وہ انبیاء کرام کے راستے پر چلنے والے آخری نبی ہیں جو کفار و مشرکین کو دنیا و آخرت کی بھلائی کی ہر بات بتا رہے ہیں چونکہ یہ آخری نبی اور آخری رسول ہیں اس لئے ان کفار کے لئے یہ آخری موقع ہے کہ وہ سنبھل جائیں ورنہ اب ان کی ہدایت کے لئے قیامت تک نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کوئی رسول آئے گا اگر کفار مکہ بھی اس روش پر چلے اور کفر کرتے رہے جس پر گزشتہ قومیں چلی تھیں تو ان کا انجام بھی ان قوموں سے مختلف نہ ہوگا۔ ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تمام انبیاء کرام اور نبی کریم ﷺ کی مکمل اطاعت و فرماں برداری کی توفیق عطا فرمائے اور ہر طرح کے کفر و شرک ، بدعات اور گمراہی کے راستے سے محفوظ فرمائے۔ آمین الحمد للہ سورة یوسف کی تفسیر و تشریح مکمل ہوگئی۔