12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 12:69–76

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب وہ یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تیرا بھائی ہوں۔ وہ جو کچھ کرتے تھے تو اس پر رنجیدہ نہ ہو۔

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

پھر جب ان کا سامان تایر ہوگیا تو اس نے اپنے ھبائی کے سامان میں پینے کا (شاہی) پیالہ رکھ دیا۔ پھر ایک منادی کرنے والے نے پکارا کہ اے قافلہ والے تم چور ہو۔

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

انہوں نے ان کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ تم کیا گم کر بیٹھے ؟

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم شاہی پیالہ نہیں پا رہے ہیں اور جو شخص اس کو لا حاضر کرے گا اس کو ایک اونٹ کا بوجھ (انعام) دیا جائے گا اور میں اس کا ذمہ لیتا ہوں۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ تم جانتے ہو ہم اس لئے نہیں آئے کہ زمین فساد مچائیں اور نہ ہم چور ہیں۔

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

انہوں نے کہا اگر تم جھوٹے نکلے تو پھر اس کی کیا سزا ہے ؟

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں وہ پایا جائے پس وہی اس کا بدلہ ہے ہمارے ہاں ظالموں کو اسی طرح سزا دی جاتی ہے۔

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پھر ان کے سامان کی تلاشی اپنے بھائی کے سامان سے پہلے لی گئی ۔ پھر اس کو اپنے بھائی کے سامان سے برآمد کرلیا گیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کیلئے تدبیرکر دی (کیوں کہ) یوسف اپنے بھائی کو اس بادشاہ کے قانون کے ذریعہ نہیں لے سکتے تھے۔ مگر یہ کہ اللہ ہی کو یہ بات منظور تھی وہ جس کے درجات کو بلند کرنا چاہتا ہے کردیتا ہے اور وہ تمام علم رکھنے والوں سے بڑھ کر علم رکھنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 76 (اوی اس نے ٹھکانا دیا۔ (پاس بٹھایا) ( لاتبتئس تو رنجیدہ نہ ہو ) (جھز تیار کردیا) ( جھاز سامان ) (السقایۃ جس سے پانی پیا جاتا ہے۔ پیالہ ) (رحل سامان) ( اذن پکارا) ( موذن پکارنے والا ) (ایتھا اے العیر : قافلہ ) (سارقون چوری کرنے والے ) (اقبلوا وہ متوجہ ہوئے، سامنے ہوئے) ( ماذا حرف سوال، حرف استفہام) ( تفقدون تم گم پاتے ہو ) (صواع پیمانہ، جس سے چیزوں کو تولا جاتا ہے) ( جاء بہ جو اس کو لے آئے گا ) (حمل بعیر ایک اونٹ کا بوجھ، جتنا سامان ایک اونٹ پر آتا ہے) ( زعیم ذمہ داری لینے والا ) (تاللہ اللہ کی قسم) ( ماجئنا ہم نہیں آئے ) (ماجزاء کیا بدلہ ہے ؟ کیا سزا ہے ؟ ) (وجد پایا گیا) ( نجزی ہم بدلہ دیتے ہیں۔ ہم سزا دیتے ہیں) ( بدا شروع کیا) ( او عیۃ سامان، بوری) ( کدنا ہم نے تدبیر کردی ) (دین الملک بادشاہ کا قانون) تشریح : آیت نمبر 69 تا 76 گزشتہ آیات میں اس کی تفصیل ارشاد فرمائی گئی ہے کہ برادران یوسف نے اپنے والد حضرت یعقوب کو پکی قسمیں کھا کر اس بات کا یقین دلایا تھا کہ وہ اپنے بھائی بن یا مین کی ہر طرف حفاظت کریں گے۔ حضرت یعقوب کی اس نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہ وہ سب بھائی ایک دروازے سے داخل نہیں ہوں گے بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں گے تاکہ ان جوان اور صحتمندوں پر کسی کی نظر نہ بیٹھ جائے یا اتنے بھائیوں کو ایک ساتھ دیکھ کر کچھ لوگ حسد میں مبتلا ہو کر کوئی سازش نہ کر بیٹھیں۔ چناچہ ان سب بھائیوں نے اس پر عمل کیا حضرت یوسف جو اپنے بھائی بن یا میں سے ملنے کے لئے بےچین تھے ان پر جیسے ہی حضرت یوسف کی نظر پڑی تو انہوں نے اپنے بھائی کو گلے لگا لیا، عزت کے مقام پر بٹھایا اور ان کے کان میں چپکے سے کہہ دیا کہ میں تمہارا حقیقی بھائی یوسف ہوں۔ تم بقیہ بھائیوں کی باتوں پر نہ تو دھیان دینا اور نہ کسی طرح گھبرانا کیونکہ ان کو جو کچھ کرنا تھا وہ کرچکے اب تم وہاں آرام سے رہو۔ حضرت یوسف کو بن یا میں سے ملنے کے بعد اس بات کی فکر تھی کہ میرا بھائی مجھ سے جدا نہ ہوجائے۔ چناچہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی بن یا مین کو ورکنے کی ایک تدبیر کی۔ شاہی پیالہ یا وہ پیمانہ جس سے لوگوں کو ناپ کر غلہ دیا جاتا تھا اس کو بن یا مین کے سامان میں رکھوا دیا۔ حضرت یوسفک و معلوم تھا کہ دین ابراہیمی کا یہ قانون ہے کہ اگر کوئی شخص چوری کرے اور سامان اس کے پاس سے برآمد ہوجائے تو وہ اس شخص کا ایک سال تک غلام بن کر رہے گا جس کی چوری کی ہے۔ حضرت یوسف کو اس بات کا اندازہ تھا کہ مصر کے قانون میں اس کی کوئی گنائش نہیں ہے صرف دین ابراہیمی کا یہ اصول ہے۔ جب برادران یوسف غلہ اور سامان لے کر روانہ ہوگئے اور ابھی کچھ ہی دور چلے تھے کہ بادشاہ مصر کے کسی آدمی نے پکار کر کہا کہ اے چورو ! رک جاؤ تم نے چوری کی ہے۔ وہ سب بائی رک گئے اور پوچھا کہ کیا معاملہ ہے ؟ اور کیا چیز گم ہوگئی ہے ؟ ان کو بتایا گیا کہ بادشاہ کا قیمتی پایلہ گم ہوگیا ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ جو بھی اس پیالہ کو لے کر آئے گا اس کو ایک اونٹ کا بوجھ یعنی غلہ انعام میں دیا جائے گا۔ اس نے کہا کہ اس انعام کے سلسلے میں، میں پوری طرح ذمہ دار ہوں۔ برداران یوسف نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم نہ تو فساد کرنے والے لوگ ہیں اور نہ کسی چوری میں ملوث ہیں۔ بادشاہ کے آمیوں نے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ اگر کسی نے چوری کی ہو تو اس کی تمہارے ہاں سزا کیا ہے ؟ انہوں نے دین ابراہیم کا یہ اصول بیان کردیا کہ جس کے پاس بھی چور یکا سامان نکل آئے گا وہ ایک سال تک غلام بنا کر رکھا جائے گا۔ چناچہ بادشاہ کے لوگوں نے سب سے پہلے سب بھائیوں کے سامان کی تلاشی لینا شروع کی کسی کے پاس کچھ نہ نکلا جب بن یا مین کے سامان کی تلاشی لی گئی تو اس میں سے وہ شاہی پیالہ نکل آیا اور اس طرح بن یا مین بظاہر حضرت یوسف کے غلام بنا کر ان کے پاس لے آئے گئے اور اللہ تعالیٰ نے دونوں بھائیوں کے ایک ساتھ رہنے کی بہترین تدبیر فرما دی۔ یقیہ واقعہ کی تفصیل تو اگلی آیات میں آرہی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو اپنے سگے بھائی بن یا میں سے ملانے کے تمام اسباب پیدا فرما دیئے اور اس طرح بن یا مین کے درجہ کو بلند کردیا گیا اور فرمایا کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہر علم والے پر ایک علم والے کو رکھا ہے لیکن سب جاننے والوں سے بڑا جاننے والا اللہ ہے یعنی اللہ ہی نے اپنے علم اور فضل و کرم سے بنی اسرائیل کے فلسطین سے مصر آنے کے راستے ہموار فرما دیئے۔ و جانتا ہے کہ کس کام کی کیا مصلحت ہے اور نتائج کیا ہیں۔
Ayahs 12:77–79

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

(یوسف کے بھائیوں نے) کہا اگر اس نے چوری کی ہے تو (تعجب نہیں ہے) بلکہ اس سے پہلے اس کا بھائی بھی چوری کرچکا ہے۔ یوسف اس بات کو اپنے دل میں چھپا گئے اور اس کو ظاہر نہ ہونے دیا۔ اس نے (دل میں کہا) کہ تم تو بہت برے لوگ ہو۔ اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم بیان کر رہے ہو۔

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

کہنے لگے اے عزیز اس کا باپ بہت بوڑھا ہے۔ تم اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو لے لو۔ بیشک ہم آپ کو احسان کرنے والوں میں سے پاتے ہیں۔

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا اللہ کی پناہ کہ ہم کسی کو (کسی کی جگہ) پکڑ لیں سوائے اس کے جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم ظالموں میں سے ہوجائیں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 79 (یسرق چوری کرتا ہے ) ( اسر اس نے چھپا لیا ) ( فی نفسہ اپنے نفس میں، اپنے دل میں ) (لم یبدظاہر نہ کیا) ( انتم تم) ( شر مکان برا ٹھکانا، برے درجے کے لوگ) ( تصفون تم بیان کرتے ہو) ( شیخ کبیر بہت زیادہ بوڑھا) ( خذ تو پکڑے، تولے لے ) (احدنا ہم میں سے ایک) ( مکانہ، اس کی جگہ ) (نرک ہم دیکھتے ہیں تجھے) ( معاذ اللہ اللہ کی پناہ) ( ان ناخذ یہ کہ ہم لے لیں) ( عندہ، اس کے پاس) ( اذا اس وقت) تشریح : آیت نمبر 77 تا 79 جب حضرت یوسف کے سگے بھائی بن یمین کے سامان میں سے وہ شاہی پیالہ نکل آیا جس کی تلاش تھی تب حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے دلی غبض اور نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اس سے پہلے اس کا بھائی یوسف بھی چوری کرچکا ہے۔ یہ ایک ایسا زخم تھا جس پر حضرت یوسف جو کہ بادشاہ وقت بھی تھے ان کو شدید غصے میں آ کر کسی بڑی سے بڑی سزا کا اعلان کردینا چاہئے تھا مگر جہان اللہ نے ان کو اقتدار عطا فرمایا تھا وہیں شان پیغمبری اور اس کا حلم و برداشت بھی عطا فرمایا تھا۔ شاید اللہ کی طرف سے اس بات کا اشارہ نہیں ملا تھا کہ حضرت یوسف اپنے آپ کو اپنے سوتیلے بھائیوں پر ظاہر کردیں اس لئے آپ نے تحمل اور برداشت سے کام لیتے ہوئے مکمل خاموشی اختیار فرمائی اور دل میں صرف اتنا کہا کہ تم کتنے برے لوگ ہو۔ حالانکہ اللہ خوب جانتا ہے کہ جو کچھ تم الزام لگا رہے ہو وہ غلط ہے۔ دین ابراہیمی کے قانون کے مطابق اب بن یا مین حضرت یوسف کے غلام بنا لئے گئے تھے۔ جب برادران یوسف نے دیکھا کہ اب اپنے بھائی کو واپس لے جانے کی ہر کوشش بےکار ہوگی تب انہوں نے سب سے پہلے یہ تجویز رکھی کہ اے عزیز مصر ! تم ہم میں کسی ایک بھائی کو بن یمین کے بدلے میں رکھ لو۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں اور وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر پائیں گے۔ آپ تو بہت ہی نیکی کرنے والے ہیں حضرت یوسف نے کہا کہ اللہ کی پناہ میں کسی بےگناہ شخص کو پکڑ لوں۔ جس کے پاس سے سامان نکلا ہے۔ ہم اس کو پکڑ سکتے ہیں جس کے پاس سے سامان برآمد نہیں ہوا ہم اس کو کیسے پکڑ سکتے ہیں اگر ہم نے بن یا مین کے بدلے میں کسی بےگناہ کو پکڑ لیا تو یہ سخت ناانصافی اور ظلم ہوگا۔ ۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی بن یا مین کو اپنے پاس روک رکھنے کی ایک تدبیر کی اور دین ابراہیمی کی قوانین کے مطابق فیصلہ کیا تھا ورنہ مصر کے قانون میں اس کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اس طرح کے کسی معاملہ کو ” توریہ “ کہتے ہیں۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی ایسا کام کیا جائے یا کوئی بات کہی جائے جو دیکھنے اور سننے والے کے ذہن میں ایک ظاہری اور قریبی مطلب سمجھا جائے جب کہ اس کہنے والے اور کرنے والے کی نیت کچھ اور ہو۔ اب مثلاً حضرت یوسف جانتے تھے کہ ان کے بھائی بن یا میں نے چور ہیں نہ ان سے کسی زیادتی کی امید کی جاسکتی ہے مگر حضرت یوسف نے ایک ایسی تدبیر کی جس سے بن یا مین رک جائیں اور دیکھنے والوں کو اس بات کا اندازہ ہی نہ ہو سکے کہ کیا معاملہ ہے۔ علماء نے فرمایا ہے کہ اگر نیک مقصد کیلئے تو ریہ کیا جائے تو وہ جائز ہے لیکن اگر ناجائز کام کے لئے ہو تو حرام ہے۔
Ayahs 12:80–82

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

پھر جب وہ اس سے مایوس ہوگئے تو آپس کے مشورے کے لئے الگ بیٹھ گئے۔ ان میں سے ایک بڑے (بھائی) نے کہا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ تم نے اپنے والد سے اللہ کی پکی قسم کھا کر وعدہ کیا تھا جب کہ اس سے پہلے تم یوسف کے معاملے میں زیادتی کرچکے ہو۔ میں تو اس سر زمین سے اس وقت تک نہ لوٹوں گا جب تک مجھے میرے والد جازت نہ دیں یا اللہ تعالیٰ کوئی تدبیر پیدا نہ کریں اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والے ہیں۔

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

اپنے والد کی طرف لوٹ جاؤ اور پھر کہو کہ تمہارے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم وہی بیان کریں گے جو ہمیں معلوم ہے اور ہم غیب کی حفاظت و نگہبانی کرنے والے تو نہیں ہیں۔

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اس بستی والوں سے پوچھ لیجیے جس میں ہم تھے اور ان قافلے والوں سے پوچھ لیجیے جس میں ہم آئے ہیں کہ بیشک ہم سچے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 80 تا 82 استیئسوا وہ مایوس ہوگئے خلصوا وہ الگ جا بیٹھے نجی خفیہ بات کرنے والا کبیر بڑا الم تعلموا کیا تمہیں معلوم نہیں موثق پختہ، پکا فرطتم تم نے زیادتی کی ہے لنابرح میں ہرگز نہ چھوڑوں گا، نہیں ٹلوں گا حتی یاذن جب تک اجازت دیتا ہے یحکم وہ فیصلہ کرتا ہے ارجعوا لوٹ جاؤ ابنک تیرا بیٹا اسئل پوچھ لے العیر قافلہ اقبلنا ہم سامنے آئے تشریح آیت نمبر 80 تا 82 جب برادران یوسف اپنی تدبیر اور کوشش میں ناکام ہوگئے اور انہوں نے اچھی طرح اندازہ کرلیا کہ بادشاہ بن یا مین کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑے گا اور اس نے بن یا مین کو اپنا باقاعدہ غلام بنا لیا ہے تب برادران یوسف اس تصور سے بےچین ہوگئے کہ ہم نے اپنے والد سے قسمیں کھائی تھیں پکے وعدے کئے تھے کہ جس طرح یوسف کے ساتھ ہوا تھا اب وہ معاملہ نہیں ہوگا۔ اور ہم اپنا سب کچھ قربان کر کے بھی اپنے بھائی بن یا مین کی حفاظت کریں گے۔ اب ہم اپنے والد کو کیا جواب دیں گے اور کیا منہ لے کر اپنے ملک واپس جائیں گے۔ کوئی نتیجہ نکالنے کے لئے سب سوتیلے بھائی آپس میں مشورہ کرنے کے لئے ایک طرف ہٹ گئے اور مشورہ شروع کردیا۔ کسی نے کہا کہ ہمیں اپنے وطن لوٹ جانا چاہئے جو ہوگا۔ دیکھا جائے گا۔ کسی نے مشورہ دیا کہ وطن لوٹ کر والد صاحب کو ساری بات کھول کھول کر بتا دیا جائے اور ان کو بتا دیا جائے کہ ہم نے ہر ممکن کوشش کی مگر ہمارا بس نہ چل سکا۔ غرضیکہ ہر ایک نے اپنا اپنا مشورہ پیش کردیا۔ یہ سب بھائی اس بات سے سخت شرمندہ تھے کہ یوسف کے بعد بن یا مین کا واقعہ پیش آگیا ۔ اب ہمارا منہ نہیں ہے کہ ہم اپنے والد سے آنکھیں بھی ملا سکیں۔ سب سے بڑے بائی نے مشورہ دیا کہ تم سب واپس لوٹ جاؤ اور والد کو سچ سچ بتا دو کہ تمہارے بیٹے نے چوری کی ہے اور بادشاہ نے اس کو اپنے پاس غلام بنا کر روک لیا ہے اور یہ بھی کہہ دینا کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس میں جھوٹ کا کوئی دخل نہیں ہے کیونکہ بہت سے وہ لوگ جو ہمارے ساتھ تھے وہ اس بات کے گواہ ہیں ان سے پوچھ لیا جائے کہ ہم بالکل سچ سچ کہہ رہے ہیں۔ مشورہ کرنے کے بعد وہ اپنے ملک لوٹ گئے اور ساری صورتحال اپنے والد کو بتا دیا۔ حضرت یعقوب نے جب یہ سنا تو اپنا دل پکڑ کر رہ گئے اور آپ نے فرمایا کہ میں صبر جمیل ہی کرسکتا ہوں اور اللہ پر چھوڑتا ہوں جو کچھ انہوں نے مجھ سے بیان کیا ہے۔
Ayahs 12:83–87

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

اس نے (یعقوب نے) کہا۔ تم نے یہ بات اپنے دل سے گھڑ لی ہے۔ تو میں بہترین صبر کرتا ہوں اللہ سے امید ہے کہ وہ شاید ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ وہی جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

اس نے ان سے منہ پھیرلیا اور کہا ہائے افسوس یوسف پر اور غم پیتے پیتے اس کی آنکھیں سفید ہوگئیں۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

(برادران یوسف نے ) کہا۔ اللہ کی قسم (اے ابو جان ) آپ یوسف کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یا بیمار ہوجائیں گے یا اپنی جان گھلا ڈالیں گے۔

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

اس نے (یعقوب نے) کہا میں اپنے رنج و غم کی شکایت صرف اللہ سے کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

اے میرے بچو ! تم جاؤ، یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ کی رحمت سے تو وہی لوگ مایوس وہا کرتے ہیں جو کافر ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 87 سولت بنا لی ہے، گھڑ لی صبر جمیل ایسا صبر جس میں کوئی شکایت نہ ہو عسی شاید، امید ہے کہ ان یا تینی یہ کہ وہ لائے میرے پاس تولی اس نے منہ پھیرلیا یا سفی ہائے افسوس ابیضت سفید ہوگئی ( ہوگئیں) عینہ اس کی آنکھیں الحزن رنج و غم کظیم گھٹنے والا (غم برداشت کرنے والا) تذکر ذکر۔ یاد کرنا حرض کمزور ، بےجان اشکوا فریاد کرتا ہوں بثی میرا غم تحسوا تلاش کرو۔ کھوج لگاؤ لاتایئسوا تم مایوس نہ ہو روح اللہ اللہ کی رحمت تشریح : آیت نمبر 83 تا 87 گزشتہ آیات میں حضرت یعقوب کے گیارہ بیٹوں کا واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ جب ایک بہانے سے حضرت یوسف نے اپنے سگے بھائی بن یا مین کو روک لیا اور وہ تمام بھائی جو اپنے والد حضرت یعقوب کو اس بات کا یقین دلا کر بن یا مین کو اپنے ساتھ لائے تھے کہ ہم ان کی ہر طرح حفاظت کریں گے وہ سخت ناکام ہوگئے تب انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ تمام صورت حال سے اپنے والد کو مطلع کردیتے ہیں کہ ان کے بیٹے نے چوری کی ہے اور اب وہ بادشاہ مصر کا غلام بن چکا ہے۔ بڑے بھائی نے یہ کہہ کر مصر سے کنعان واپس جانے سے انکار کردیا کہ تم لوگ چلے جاؤ اور پوری صورتحال کی وضاحت کر دو میں یہیں رک جاتا ہوں۔ نو بھائی مصر سے کنعان پہنچے اور اپنے والد حضرت یعقوب کو یہ سارا واقعہ سنایا حضرت یعقوب نے فرمایا ایسا لگتا ہے کہ تم نے یہ بات اپنے دل سے گھڑ لی ہے ہر بحال میں صبر جمیل کرتا ہوں اور میں اللہ سے اس بات کی امید رکھتا ہوں کہ وہ سب کو میرے پاس لے آئے۔ اب اس امحتان میں اور کیا حکمتیں اور مصلحتیں پوشید ہیں وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اس کے بعد حضرت یعقوب نے سب سے رخ پھیرلیا اور حضرت یوسف کو یاد کر کے رونا شروع کردیا۔ ابھی تک تو صرف حضرت یوسف کی جدائی کا غم تھا اب حضرت یوسف ، بن یا مین اور تیسرے بیٹے کا غم بھی بڑھ گیا اور حضرت یوسف کی جدائی کا غم اتنا بڑھ گیا کہ غم پیتے پیتے اور آنسو بہاتے بہاتے آنکھیں بھی سفید ہوگئیں۔ جب والد کی یہ حالت دیکھی تو برادران یوسف نے کہا کہ اے ابا جان اللہ کی قسم ایسا لگتا ہے کہ یوسف کی یاد میں آپ یا تو شدید بیمار ہوجائیں گے یا اس طرح اپنی جان کو گھلا ڈالیں گے۔ حضرت یعقوب کا پیغمبرا نہ جواب تھا کہ میں اگر رو رہا ہوں یا گریہ وزاری کر رہا ہوں تو وہ صرف اپنے اللہ کی بارگاہ میں کر رہا ہوں وہی میری سننے والا ہے۔ مجھے وہ بہت کچھ معلوم ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں رونے اور مانگنے سے کیا کچھ نہیں مل جاتا۔ اس حقیقت سے میں اچھی طرح واقف ہوں تم اپنا کام کرو۔ مجھے یقین ہے کہ یوسف زندہ ہیں تم ان کو اور ان کے بھائی کو تلاش کرو میں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوں حقیقت یہ ہے کہ اس کی رحمت سے تو صرف کفار و مشرکین اور اس کے نافرمان ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔
Ayahs 12:88–93

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

پھر جب (برادران یوسف) اس کے سامنے پہنچے تو کہا کہ اے عزیز (مصر) ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو سخت اذیت پہنچ چکی ہے اور ہم ایک معمولی سی رقم لے کر حاضر ہوئے ہیں تو آپ ہمیں غلہ دیدیجیے اور ہم پر کچھ صدقہ کردیجیے۔ بیشک اللہ صدقہ کرنے والوں کو بہتر اجر عطا فرماتا ہے۔

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

اس نے (یوسف نے) کہا کیا تمہیں یاد ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا جب تم نادانی کر رہے تھے۔

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

کہنے لگے کیا تو یوسف ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر احسان کیا ہے۔ بیشک جو تقویٰ اختیار کرتا ہے صبر کرتا ہے تو اللہ ایسے نیکی کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کیا کرتا ۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اللہ کی قسم۔ اللہ نے تجھے ہمارے اوپر فضیلت عطا کی ہے اور بیشک ہم ہی خطا وار تھے۔

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا کہ آج کے دن تمہارے اوپر کوئی ملامت نہیں (کرتا) اللہ تمہیں معاف فرمائے گا۔ وہ سب رحم کرنے والوں میں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

میری یہ قمیص لے جاؤ۔ اس کو میرے والد کے چہرے پر ڈالو تو ان کی بینائی واپس آجائے گی اور میرے پاس تم اپنے سب گھر والوں کو لے کر آؤ۔

لغات القرآن آیت نمبر 88 تا 93 مسنا ہمیں پہنچی، ہمیں چھولیا الضر سختی اور پریشانی مزجۃ بیکار، معمولی اوف پورا کر تصدق صدقہ کر دے، نیکی کر ھل علمتم کیا تمہیں معلوم ہے، کیا تمہیں یاد ہے مافعلتم تم نے کیا کیا من اللہ اللہ نے احسان کیا من یتق جو تقویٰ اختیار کرتا ہے لایضیع ضائع نہیں کرتا اثر اختیار کیا، منتخب کرلیا لاتثریب الزام نہیں ہے یات بصیراً آنکھوں کی روشنی آئے گی ۔ تشریح آیت نمبر 88 تا 93 جب برادران یوسف نے اپنے والد کی یہ حالت دیکھی اور ان کی طرف سے حکم ہوا کہ تم جاؤ اور یوسف کو تلاش کرو تب یہ نو بھائی تیسری مرتبہ کنعان سے مصر پہنچ گئے۔ بادشاہ مصر کی خدمت میں پہنچے اور نہایت عاجزی اور انکساری سے یہ کہا کہ اے عزیز مصر ! ہمیں اور ہمارے اہل خاندان کو موجودہ صورتحال سے شدید تکلیف پہنچ رہی ہے کیونکہ قحط سالی بھی ہے اور بھائی کی جدائی کا غم بھی والد انتہائی کمزور ہوچکے ہیں یہ معمولی ساہد یہ قبول کر لیجیے، ہمیں غلہ بھی دیجیے اور ہمارے ساتھ بہتر معاملہ فرمائیے۔ تفسیر قرطبی اور تفسیر مظہری میں حضرت ابن عباس سے یہ بھی ایک روایت ہے کہ حضرت یعقوب نے عزیز مصر کے نام ایک خط لکھ کردیا جس کا مضمون یہ ہے۔ ” اے عزیز مصر ! ہمارا پورا خاندان بلاؤں اور آزمائشوں میں معروف ہے۔ میرے دادا حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کو نمرود کی آگ سے آزمایا گیا۔ میرے والد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کا شدید امتحان لیا گیا۔ پھر میرے بیٹے کے ذریعہ میری آزمائش کی گئی جو مجھے سب سے زیادہ عزیز تھا یہاں تک کہ اس کی جدائی میں میری آنکھوں کی روشنی جاتی رہی۔ اس کے بعد اس کا چھوٹا بھائی میرے دل کی تسلی کا سامان تھا جس کو آپ نے چوری کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔ میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہم اولاد انبیاء کرام ہیں نہ ہم نے کبھی چوری کی اور نہ ہماری اولاد میں کوئی چور پیدا ہوا۔ والسلام “۔ جب حضرت یوسف کے سامنے اس خط کو پڑھا گیا تو ضبط اور برداشت کے بندھن ٹوٹ گئے۔ والد کا خط پڑھ کر کانپ اٹھے۔ اب وہ وقت آگیا تھا جہاں اللہ کے حکم سے آپ نے اپنے آپ کو ظاہر کردینا ہی مناسب سمجھا۔ حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ تمہیں کچھ یاد ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا معاملہ کیا تھا اس سوال سے برداران یوسف پر اللہ نے کھول دیا اور ان کی زبان سے بےساختہ نکل گیا کہ کیا تم ہی یوسف ہو ؟ حضرت یوسف نے فرمایا کہ ہاں میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرے بھائی بن یا مین ہیں۔ اللہ نے ہم پر خصوصی رحم و کرم نازل کیا ہے اور وہ اللہ ہر اس شخص پر اپنا کرم نازل فرماتا ہے جو اس سے ڈرتا ہے اور حالات پر صبر کرتا ہے اللہ، و رحیم و کریم ہے جو کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا۔ سب بھائیوں نے کہا اللہ کی قسم اس نے آپ کو ہمارے اوپر فضیلت و بڑائی عطا کی ہے اور ہمیں اس بات کا پوری طرح احساس ہے کہ ہم خطا اور قصور وار تھے حضرت یوسف نے فرمایا کہ آج تمہارے اوپر کوئی ملامت اور الزام نہیں ہے اللہ تمہاری خطاؤں کو معاف کرنے والا سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ یہ شان پیغمبری ہے کہ اپنے بھائیوں کو ان کے ظلم و ستم یاد نہیں دلاتے بکلہ ان کو معاف کردیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ دعا بھی دیتے ہیں کہ وہ اپنی خطاؤں کو اللہ کی بار گاہ میں پیش کریں وہ ارحم الراحمین تمہاری ہر خطا کو معاف کر دے گا۔ فتح مکہ کے دن نبی کریم ﷺ بھی اس شان پیغمبری کا مظاہرہ فرماتے ہیں اور اپنے دشمنوں کو جو خون کے پیاسے تھے اور جنہوں نے اکیس سال تک مسلسل ایسے ظلم و ستم کئے تھے جن کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے۔ آپ نے فرمایا، میں بھی وہی بات کہتا ہوں جو میرے بھائی حضرت یوسف نے کہی تھی کہ ” جاؤ تم سب آزاد ہو آج کے دن تمہارے ظلم معاف ہے اور تم سے کوئی انتقام نہیں لیاجائے گا۔ “ حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں کی ساری خطائیں معاف کردیں اور فرمایا کہ میری یہ قمیص لے جاؤ اور والد صاحب کی آنکھوں پر ڈال دو ان کی بینائی واپس آجائے گی اور تمام اہل خانہ یہیں مصر میں آجائیں۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ وہی قمیص تھی کہ جب برادران یوسف نے حضرت یوسف کو کنعان کے کنوئیں میں اس طرح پھینکا تھا کہ ان کی قمیص اتار لی تھی اور اس پر جھوٹا خون لگا کر والد کے پاس لے گئے تھے۔ اس وقت اللہ کے حکم سے حضرت جبرائیل جنت سے ایک قمیص لے کر آئے اور حضرت یوسف کو پہنا دی تھی۔ حضرت یوسف نے یہی قمیص اپنے والد کو بھیج دی تھی کیونکہ یہ قمیص اللہ کی طرف سے آئی تھی۔ اس نے اندھے کنوئیں میں بھی روشنی کی تھی اور حضرت یوسف کو یقین تھا کہ اس قمیص کی برک سے اللہ ان کے والد کی آنکھوں میں روشنی عطا فرما دے گا۔
Ayahs 12:94–98

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب قافلہ روانہ ہوا تو ان کے والد (یعقوب) نے کہا کہ بیشک میں یوسف کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں تم کہیں یہ نہ کہنے لگو کہ میں (بڑھاپے میں) بہک رہا ہوں۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

انہوں نے کہا اللہ کی قسم بیشک آپ تو پرانے وہم میں مبتلا ہیں۔

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

پھر جب خوشخبری لے کر آنے والا آیا اور اس کی قمیص کو ان کے چہرے پر ڈالا تو ان کی بینائی واپس لوٹ آئی۔ انہوں نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے بہت کچھ وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

(برادران یوسف نے) اے ہمارے ابا جان ! ہمارے لئے ہمارے گناہ کی بخشش مانگ لیجیے۔ بیشک ہم ہی خطا وار تھے۔

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

اس نے کہا میں اپنے رب سے تمہارے گناہوں کی مغفرت مانگوں گا۔ بیشک وہ بہت مغفرت کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 98 فصلت جدائی ہوئی، جدا ہوا العیر قافلہ اجد میں پاتا ہوں تفندون تم مجھے بہکا ہوا نہ سمجھو ضلل بہکنا القدیم پرانا البشیر خوش خبری دینے والا القہ اس نے ڈالا وجھ چہرہ ارتد لوٹ آیا بصیر دیکھنا، بینائی لم اقل میں نے نہیں کہا استغفر بخشش مانگ لے ذنوب گناہ خطیئین خطا کرنے والے، گناہ کرنے والے سوف بہت جلد، عنقریب تشریح آیت نمبر 94 تا 98 گزشتہ آیات میں حضرت یوسف کا یہ جملہ نقل کیا گیا ہے کہ تم میری قمیص لے کر جاؤ اور ان کے (حضرت یعقوب کے) چہرے پر ڈالو تو ان کی بصارتو اپس آجائے گی اور اس کے بعد تم سب یہیں مصر میں آجانا، چناچہ یہ قمیص مصر سے روانہ ہوئی ادھر حضرت یعقوب کو حضرت یوسف کے قمیص کی خوشبو آنا شروع ہوگئی یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جب حضرت یوسف کو ان کے بھائیوں نے کنعان کے ایک اندھے کنوئیں میں پھینک دیا تھا جو حضرت یعقوب سے بہت دور نہ تھا اس وقت تو ان کو یہ نہ معلوم ہوسکا کہ ان کا لخت جگر ان سے چند میل کے فاصلے پر نہایت کسمپرسی کی حالت میں ایک اندھے کنوئیں میں پڑا ہوا ہے لیکن جب ہزاروں میل دور سے حضرت یوسف کا پیرھن روانہ کیا جاتا ہے تو ان کو اس کی خوشبو آنے لگتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ اللہ کا نظام ہے کہ اللہ اپنے نبیوں کو جتنا اور جس وقت جو بھی علم دینا چاہے وہ دے دیتا ہے اور جب نہیں دینا چاہتا تو قریب کی چیز بھی نظر نہیں آتی۔ جس طرح صلح حدیبیہ کے موقع پر یہ افواہ اڑا دی گئی کہ حضرت عثمان غنی جو کہ مکرمہ میں کفار مکہ کو سمجھانے گئے تھے ان کو شہید کردیا گیا ہے ۔ اس افواہ کے سنتے ہی تمام مسلمانوں میں ایک بےچینی پھیل گئی اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے اپنے دست مبارک پر تمام مسلمانوں سے بیعت لی جس کو ” بیعت رضوان “ کہا جاتا ہے اور طے کیا گیا کہ جب تک خون عثمان کا بدلہ نہیں لیں گے اس وقت تک ہم یہاں سے نہیں جائیں گے۔ کچھ دیر کے بعد معلوم ہوا کہ حضرت عثمان زندہ ہیں اور کسی نے ان کے متعلق غلط افواہ اڑا دی تھی۔ یہ سن کر سب مسلمان اور نبی کریم ﷺ خوش ہوگئے۔ اس واقعہ میں اگر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ جب آپ ﷺ حضرت عثمان کے لئے بیعت لے رے تھے اس وقت آپ کو معلوم نہ تھا کہ حضرت عثمان غنی زندہ ہیں یا نہیں۔ اسی طرح کے اور بہت سے واقعات بھی پیش کئے جاسکتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ انبیاء کرام کو اللہ ہی علم عطا فرماتا ہے ان کو اتنا ہی علم حاصل ہوتا ہے جو اللہ ان کو دینا چاہتا ہے وہ خود عالم الغیب نہیں ہوتے۔ سب سے زیادہ غیب کا علم نبی کریم ﷺ کو دیا گیا ہے اگرچہ آپ ﷺ غیب کے سب سے زیادہ جاننے والے تھے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ خود ہی عالم الغیب تھے بلکہ اللہ کی ذات ہی وہ ذات ہے جو غیب اور شہادہ کو جانتا ہے اور اللہ کی ذات ہی عالم الغیب ہے۔ حضرت یعقوب کو جب حضرت یوسف کے پیرھن کی خوشبو آنا شروع ہوئی تو انہوں نے اپنے گھرو الوں سے کہا کہ میں یوسف کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں کہیں تم یہ نہ کہنے لگنا کہ میں بڑھاپے میں بہک رہا ہوں۔ سب نے کہا کہ اب یوسف کو مرے ہوئے بھی عرصہ ہوگیا اب یوسف اور اس کے پیرھن کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے ایسا لگتا ہے کہ وہی پرانا وہم اور خیال پھر سے تازہ ہوگیا ہے۔ لیکن جب کچھ ہی عرصہ کے بعد حضرت یوسف کا پیرھن لایا گیا اور ان کے چہرہ پر ڈالا گیا تو ان کی بینائی واپس آگئی اور فرمایا کہ دیکھو میں نہیں کہتا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ بہت کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ حضرت یعقوب کی مراد یہ تھی کہ مجھے اس بات کا یقین تھا کہ یوسف زندہ ہیں کیونکہ انہوں نے جو خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر تو ابھی سامنے آئی نہیں اور بنی اسرائیل کی سربلندی کے لئے جو اللہ کا وعدہ ہے وہ نعمت تو ابھی پوری ہوئی نہیں۔ لہٰذا میرا دل کہتا ہے کہ یوسف زندہ ہیں۔ جب حضرت یعقوب کی بینائی واپس آگئی اور حضرت یعقوب کے چہرے پر پھر وہی مسکراہٹ آگئی تو سب بھائیوں نے اپنے والد سے عرض کیا کہ واقعی ہم خطا کار ہیں ہم سے بہت بڑی بھول ہوئی۔ اب آپ رب سے ہمارے گناہوں کی معافی کی درخواست کردیجیے کہ وہ ہمیں معاف فرما دے ہمیں اپنے گناہوں کا اعتراف ہے۔ اس کے جواب میں حضرت یعقوب نے یہ نہیں فرمایا کہ میں دعا کرتا ہوں بلکہ آپ نے فرمایا کہ میں بہت جلد تمہارے لئے دعائے مغفرت کروں گا۔ وجہ یہ تھی کہ یہ تمام بھائی جہاں اپنے والد کو شدید اذیت پہنچانے کے ذمہ دار تھے وہیں حضرت یوسف کو اذیتیں دینے کے بھی مجرم تھے اس لئے ممکن ہے کہ آپ نے یہ سو چاہو کہ جب یوسف معاف کردیں گے تو میں بھی اللہ سے ان کی معافی کے لئے درخواست کروں گا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ والد یہ دیکھنا چاہتے ہوں کہ ان کے بیٹوں نے جس ندامت کا اظہار کیا ہے وہ وقتی جذبہ ہے یا وہ واقعی اپنے کئے پر شرمندہ ہیں۔
Ayahs 12:99–100

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

پھر جب وہ سب یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا کہ مصر چلئے او اگر اللہ نے چاہا تو امن اور چین سے رہئے۔

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اس نے والدین کو تخت شاہی پر بٹھایا اور وہ سب کے سب اس کے آگے جھک گئے او اس نے کہا کہ اے ابا جان یہ ہے میرے خواب کی وہ تعبیر جو بہت عرصہ پہلے میں نے دیکھا تھا اس کو میرے رب نے سچ کر دکھایا اور اللہ نے مجھ پر احسان فرمایا جب اس نے مجھے قید سے نکالا اور دوسرے یہ کہ اس کے بعد شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈالوا دیا تھا۔ بیشک میرا رب بہتر کرتا ہے جو کچھ وہ چاہتا ہے۔ بیشک وہی بہت جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 99 تا 100 اوی اس نے ٹھکانا دیا، بٹھایا ادخلوا داخل ہوجاؤ امنین امن و سکون میں رہنے والے رفع بلند کیا، اونچی جگہ کیا العرش تخت خروا وہ گر پڑے سجد سجدہ کرنا، جک جانا یابت اے میرے ابا جان تاویل تعبیر رویائی میرا خواب، السجن جیل خانہ، قید البدو دیہات، گاؤں نزغ گھس گیا۔ ڈال دیا ، لطیف باریکی سے دیکھنے والا آسان کرنے والا یشآء وہ چاہتا ہے۔ تشریح آیت نمبر 99 تا 100 اصل میں انسان کا اخلاق، برتاؤ اور معاملہ اس وقت زیادہ قیمتی بن جاتا ہے جب اس دنیا کی ساری طاقتیں اور عظمتیں حاصل ہوں اور پھر بھ یاس میں عاجزی و انکساری ہو اور اپنے سے کمزوروں پر ظلم کرنے اور زیادتیوں کا بدلہ لینے کے بجائے عفو و درگزر کا معاملہ کرنے والا ہوں اور اپنے ہر کمال اور دنیاوی عزت و برلندی کو اپنی طرف اور اپنے کمال کی طرف موڑنے کے بجائے اس کو اللہ کا فضل و کرم قرار دیتا ہو۔ یہی بات حضرت یوسف فرما رہے ہیں، انکو مصر کی بادشاہت اور پوری قوتیں حاصل ہیں لیکن اپنے بھائیوں سے جنہوں نے ظلم و ستم کی انتہا کردی تھی ان سے انتقام اور بدلہ لینے کے بجائے نہ صرف ان کو معاف کر رہے ہیں ۔ بلکہ حسن اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس عمل کو بھی شیطانی عمل قرار دے رہے ہیں جو ان کے ھبائیوں سے سر زد ہوا تا۔ حضرت یوسف نے اپنا پیرھن اپنے والد محترم کی خدمت میں ارسال کر کے درخواست کی کہ اس کو اپنی آنکھوں پر ڈالتے تو آپ کی بصارت واپس آجائے گی۔ اس کے بعد حضرت یوسف نے اپنے والد محترم اور اہل خاندان کو کنعان (فلسطین) سے مصر لانے کے لئے متعدد اونٹنیاں بھیجیں تاکہ سب افراد سہولت سے مصر پہنچ جائیں۔ روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت یوسف کے والدین اور اہل خاندان جن کی تعداد ستر کے لگ بھگ تھی مصر پہنچے تو حضرت یوسف نے پر جوش خیر مقدم کیا، والدین کو اپنے پاس پورے احترام کے ساتھ اپنے تخت پر ٹھا دیا۔ اس وقت سارے بھائی ان کے سامنے جھک گئے۔ حضرت یوسف نے فرمایا کہ میں نے جو خواب دیکھا تھا یہ اس کی تعبیر ہے جس کو پروردگار نے سچ کر دکھایا۔ اب اس موقع پر حضرت یوسف تین باتیں فرما رہے ہیں جو ان کے عظیم اخلاق کا مظہر ہیں ۔ (1) پہلی بات یہ ہے کہ اللہ کا کتنا بڑا فضل و کرم ہے کہ اس نے مجھے جیل خانے سے نکال کر عزت و سربلندی کی جگہ بٹھا دیا۔ (2) دوسرے یہ کہ ایک گاؤں اور چھوٹے سے شہر سے مصر جیسے بڑے شہر میں پہنچا دیا۔ (3) تیسرے یہ کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈالوا دیا تھا ورنہ ایسا نہ ہوتا۔ یعنی اس میں میرے بھائیوں کا قصور نہیں ہے بلکہ شیطان نے ہمارے درمیان اختلافات پیدا کردیئے تھے۔ سبحان اللہ کیا شان ہے اللہ کے بندے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیتے اور اپنے عظیم اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کو بھی جب فتح مکہ کے موقع پر پوری قوت و طاقت حاصل ہوگئی تو آپ نے سب کو معاف کردیا تھا اور کسی ایسی بات کا اعلان نہیں کیا جس سے مکہ کے لوگوں کی گردنیں جھک جاتیں۔ دین اسلام، شان پیغمبری اور ان کے اخلاق اور کفار و مشرکین کی زندگی کو سامنے رکھیں اور تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ عجیب حقیقت سامنے آئے گی کہ جب ساری طاقتیں، قوتیں اقتدار اور فوج اہل ایمان کے ہاتھ میں آتی ہے تو وہ اپنے سے کمزوروں پر بہت مہربان ہوجاتے ہیں اس کے برخلاف کفار و مشرکین کے ہاتھ میں جب بھی اقتدار اور قوت ہوتی ہے تو وہ مظلوموں کے خلاف اس کو دریغ استعمال کرتے ہیں اور مظلوموں کو صفحہ ہستی سے مٹانے میں کسر نہیں چھوڑتے۔ ہم تو تاریخ کے حوالے سے یہ بات دیکھتے ہیں کہ انبیاء کرام کی شان تو بہت ارفع و اعلیٰ ہے اور ان کے اخلاف کی بلندی کا تو اندازہ لگانا مشکل ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عام مسلمانوں کے ہاتھ میں بھی جب طاقت و قوت آئی تو انہوں نے کبھی اپنی اقلیتوں اور کمزور مظلوموں پر ظلم و ستم نہیں کیا بلکہ ان پر مہربانیوں کی انتہا کردی۔ اس موقع پر ایک بات کی اور وضاحت ضروری ہے کہ کیا انسان انسان کو سجدہ کرسکتا ہے جب کہ سجدہ اللہ کے لئے مخصوص ہے۔ تو عرض ہے کہ جو چیز حرام ہے وہ ہر شریعت میں حرام رہی ہے اس کی تاویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سجدہ سے مراد آداب شاہی کے ساتھ جھکنے کے لئے جاسکتے ہیں یہ وہ سجدہ نہیں جیسا سجدہ ہم اللہ کو کرتے ہیں۔
Ayahs 12:101–104

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

اے میرے رب آپ نے مجھے سلطنت عطا کی اور مجھے باتوں کی گہرائی تک پہنچنے کی اہلیت عطا کی اے آسمان اور زمین کے بنانے والے آپ ہی اس دنیا اور آخرت میں میرے کار ساز ہیں آپ مجھے اپنی فرماں برداری میں اس دنیا سے اٹھائیے گا اور مجھے نیک لوگوں میں شامل فرمائیے گا۔

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ یہ سب غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں اور آپ اس وقت ان کے پاس نہ تھے جب انہوں نے اپنا کام پکا کرلیا تھا اور وہ اپنی تدبیروں میں لگے ہوئے تھے۔

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اگرچہ آپ کی شدید خواہش ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ اس پر ان سے کوئی اجرت تو نہیں مانگ رہے ہیں۔ یہ تو سارے جہان والوں کے لئے نصیحت ہے۔

لغات آیت نمبر 101 تا 104 اتیتنی تو نے مجھے دیا الملک سلطن، حکومت علمتنی تو نے مجھے سکھایا الاحادیث باتیں، خواب فاطر پیدا کرنے والا ، بنانے والا ولی میرا مالک، میرا حمایتی توفنی تو نے مجھے وفات دی، اٹھایا الحقنی مجھے ملا دے، مجھے شامل رکھئے گا انباء خبریں لدیھم ان کے پاس اجمعوا انہوں نے جمع کیا یمکرون وہ تدبیریں کرتے ہیں حرصت تو نے لالچ کیا، تو نے خواہش کی ماتسئل تو نہیں مانگتا اجر اجرت، بدلہ ذکر دھیان دینے کی چیزیں تشریح آیت نمبر 101 تا 104 قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ انبیاء کرم علہیم السلام کو دنیاوی اور علمی اعتابر سے کتنا ہی عروج اور رتبہ میں بلندی نصیب ہوجائے وہ اپنے علم اور کمالات پر نہ تو فخر کرتے ہیں اور نہ اس کی نسبت اپنی طرف کرتے ہیں۔ سورة یوسف کی ان آخری آیات میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو جو بھی عروج اور ترقی عطا فرمائی تھی وہ اس پر فخر کرنے کے بجائے شکر کے طور پر یہ کہتے ہیں کہ اے اللہ ! آپ نے اپنے فضل و کرم سے مجھے سلطنت عطا فرمائی اور آپ نے مجھے باتوں کی گہرائی اور خواب کی تعبیر جیسا علم عطا فرمایا ہے اور درخواست کرتے ہیں کہ اے آسمان و زمین کے خالق ومالک دنیا اور آخرت میں آپ ہی میرے کار ساز ہیں۔ آپ مجھے اپنی فرماں برداری میں اس دنیا سے اٹھائیے گا اور مجھے صالحین میں اٹھائیے گا۔ اگر غور کیا جائے تو حضرت یوسف نبوت کے مقام پر ہونے کے باوجود نہایت عاجزی و انکساری سے اللہ کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ سنت انبیاء یہی ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ مقام کے باوجود اپنے آپ کو اللہ کا محتاج سمجھنا، اسی کو اپنا کار ساز اور حاجت روا ماننا اور ہر آن اسی کی بارگاہ میں جھکے رہنا ان کی شان ہے کیونکہ اللہ ہی سب کا حاجت روا اور سب کی سننے والا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت یوسف اس کے باوجود کہ آپ کو اپنے سوتیلے بھائیوں سے سخت اذیتیں پہنچیں لیکن آپ ان کو شرمندہ کرنے کے بجائے اس فعل کو شیطان کی طرف منسوب کر رہے ہیں کہ یہ سب کام شیطان کا ہے جس نے ہم بھائیوں کے درمیان غلط فہمیوں کو پیدا کیا یعنی اپنے بھائیوں کے لئے ایک بھی حرف شکایت زبان پر نہیں لا رہے ہیں۔ یہ بھی اخلاق کا ایک اعلیٰ ترین درجہ ہے ۔ فتح مکہ کے دن نبی کریم ﷺ چاہتے تو ان کفار مکہ کو جنہوں نے ہر طرح سے کے ظلم و ستم کئے تھے ان کو قتل کرنے، ان کی جائیدادوں کو ضبط کرنے، ان کو اور ان کے بیوی بچوں کو غلام بنانے کے احکامات جاری فرما سکتے تھے، کم از کم ان کے ظلم و ستم پر ان کو شرمندہ کرسکتے تھے اس کے برخلاف آپ نے بغیر کچھ کہے ہوئے سب کو معاف فرما دیا اور کسی سے کوئی شکایت نہیں فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نبی کریم ﷺ اور انبیاء کرام جیسے عظیم اخلاق عطا فرمائے، آمین ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ اے نبی حضرت یوسف کا واقعہ اور حقائق یہ سب کے سب وہم وحی کے ذریعہ آپ کو بتا رہے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ کون کیا کر رہا تھا۔ فرمایا کہ اے نبی ! اس کے باوجود آپ نے کفار مکہ کو حضرت یوسف کا واقعہ سنا دیا ہے اور آپ کی شدید خواہش ہے کہ اب کفار مکہ ایمان لے آئیں اور اس میں آپ کی کوئی ذاتی غرض بھی نہیں ہے نہ آپ ان سے اس پر کوئی معاوضہ یا بدلہ مانگ رہے ہیں لیکن یہ اللہ کا نظام ہے کہ وہ ان کو ہدایت دے یا نہ دے آپ کا کام پورا ہوچکا آپ نے تمام اہل جہان کو اللہ کے دین کا پیغام پہنچا دیا ان کو آگاہ کردیا کہ اگر اب بھی وہ ایمان نہیں لاتے تو یہ ان کی بدنصیبی ہے۔
Ayahs 12:105–108

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن کے اوپر سے وہ گذرتے ہیں لیکن ان پر دھیان نہیں دیتے

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور ان میں سے اکثر تو وہ ہیں جو ایمان نہیں لاتے اور شرک کرنے والے ہیں۔

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا وہ اس بات سے بےخوف بیٹھے ہوئے ہیں کہ ان پر اللہ کی طرف سے اچانک کوئی آفتآ پڑے یا ان پر اچانک قیامت آجائے اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ یہ میرا راستہ ہے۔ میں تمہیں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ میں اور میرے ساتھ وہ لوگ جو میری اتباع کرتے ہیں ایک صدانائی کی) دلیل پر قائم ہیں۔ اللہ کی ذات پکا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔

لغات القرآن آیت نمبر 105 تا 108 کاین کتنے ہی کتنی ہی، ایۃ نشانی یمرون وہ گذرتے ہیں معرضون وہ منہ پھیرنے والے ہیں ان تاتی یہ کہ آجائے غاشیۃ ڈھانپ لینے والی ، آفت الساعۃ قیامت، گھڑی بغتہ اچانک لایشعرون وہ شعور نہیں رکھتے ہیں سبیلی میرا راستہ ادعوا میں بلاتا ہوا بصیرۃ دیکھ بھال کر، غور و فکر انا میں اتبعنی میری اتباع کی، میرے پیچھے چلے سبحن پاک ذات، بےعیب ذات تشریح آیت نمبر 105 تا 108 قرآن کریم میں متعدد مقامات پر ہر انسان کو غور و فکر اور تدبر کرنے پر زور دے کر فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے کائنات میں قدم قدم پر اپنی اتنی نشانیاں بکھیر دی ہیں کہ اگر انسان ان پر ذرا بھی غور کرے تو اللہ کی ذات وصفات کا ماننا نہایت آسان ہوجائے گا اور ہر طرح کی الجھن دور ہوجائے گی۔ انسان دن رات ان نشانیوں کو دیکھتا ہے ان نشانیوں کے درمیان رہتا ہے، ان کے اوپر سے گذرتا ہے مگر ان پر دھیان نہیں دیتا، چاند سورج کی گردش، وسیع آسمان، چمکتے ستارے ، چاروں طرف پھیلی ہوئی زمین، ہوائیں، فضائیں، فضا میں تیرتے ہوئے بادل، اڑتے پرندے، اونچے اونچے پہاڑ، دریا، سرسبز و شاداب درخت ، لہلہاتے ہوئے کھیت، ہر رنگ اور مزے کے میوے، غلے، اناج، خود انسان کا وجود، کائنات کی مخلوق کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں، دماغی سربلندیاں اور ہزاروں صلاحیتیں اللہ نے انسان کو عطا کی ہیں اگر کچھ دیر اس بات پر غور کر کے اتنے بڑے جہان کو چلانے والی یقینا کوئی ذات ہے ورنہ اپنے اختیار سے تو ایک تنکا بھی اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا۔ خالصہ یہ ہے کہ اللہ نے ہر طرف ہزاروں نشانیاں بکھیر دی ہیں جن کی موجودگی میں کسی دلیل کی بھی ضرورت نہیں ہے، انسان غور و فکر کرے گا تو اس کائنات کے ذرہ ذرہ سے درس توحید مل جائے گا۔ کفار مکہ جس طرح نبوت کے منکر تھے اسی طرح وہ منکرین توحید بھی تھے او اس بات کا مطالبہ کرتے تھے کہ ہم اس وقت تک اللہ کو نہیں مان سکتے جب تک آپ ہمیں کوئی معجزہ نہیں دکھائیں گے۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کی توحید کی گواہی دے رہا ہے صرف غور و فکر کرنے کی رورت ہے ان انشانیوں کے باوجود آخر وہ کس نشانی کی بات کرتے ہیں۔ جس کو سچائی کی حقیقت کو ماننا ہے وہ ہر طرح من لیتا ہے لیکن جس نے ضد، ہٹ دھرمی اور کفر و شرک پر جمنے کا فیصلہ کرلیا ہو اس کو سوائے اللہ کے اور کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ فرمایا کہ اے نبی ! آپ ان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کردیجیے کہ وہ اللہ کی نشانیوں پر غور فکر کریں اور حس نعملی کی طرف آئیں۔ یہی چیز ان کے کام آنے والی ہے لیکن اگر وہ کفار اپنی ضد پر اپڑے رہتے ہیں تو ان کو گزشتہ قوموں کا وہ بھیانک انجام سامنے رکھنا چائے کہ جب وہ نافرمان لوگ رات کو گہری اور بدمست نیند کے مزے لے رہے تھے اس وقت ان پر شدید عذاب آیا اور ان کو دنیا سے مٹا دیا گیا۔ نافرمانی کی وجہ سے ان کے بڑے بڑے محل، تجارتیں، عمارتیں اور تہذیب و تمدن کام آیا اور نہ کوئی ان کو عذاب الٰہی سے بچانے آیا۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ اب بھی اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ان پر پچھلی قوموں کی طرح اچانک کوئی آفت یا اچانک عذاب آسکتا ہے اور یہ عذاب بھی اس قدر خاموشی سے آئے گا کہ ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا اور اللہ ان کے نیچے سے زمین کو کھینچ لے گا۔ فرمایا کہ اے نبی ؐ آپ بالکل وضاحت سے کہہ دیجیے کہ سچی بات بتانا ہے اور برے انجام سے ڈرانا یہ میرا کام تھا، میں اور میرے ماننے والے اسی راستے پر ہیں جو ہمیں اللہ نے ہدایت فرمائی ہے کفر و شرک کی ہر ادا اور انداز سے ہمیں نفرت ہے لہٰذا جو شخص بھی اللہ کے حکم کی تعمیل میں زندگی گذارے گا کامیاب و بامراد ہوگا لیکن جس نے اللہ کی نافرمانی کا طریقہ اختیار کیا ہو سکتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت اللہ کے عذاب کا شکار ہوجائے اور اس کو بچانے والا کوئی نہ ہو۔ فرمایا اے نبی ﷺ آپ اس بات کا اعلان کردیجیے کہ اللہ کی ذات ہر اس شرک سے پاک ہے جو انسانوں نے اس کے ساتھ شریک کر رکھے ہیں، میں اور میرے ماننے والے سب توحید خالص پر ہیں اور ہر طرح کے کفر و شرک سے دور ہیں۔