Ayahs 12:36–40لغات القرآن آیت نمبر 36 تا 40
دخل داخل ہوا فتین (فتی) دونوجوان احدھما ان دونوں میں سے ایک اعصر میں نچوڑ رہا ہوں خمر شراب احمل میں اٹھاتا ہوں راسی اپنا سر خبز روٹی تاکل الطیر پرندے کھا رہے ہیں نبئنا ہمیں بتا دے تاویلہ اس کی تعبیر لا یا تیکما تم دونوں کے پاس نہیں آئے گا ترزقنہ جو رقز تمہیں دیا جاتا ہے نبات میں بتا دوں گا علمنی اس نے مجھے سکھایا ترکت میں نے چھوڑا ملۃ ملت، طریقہ یصاحبی اے میرے دونوں ساتھیوں ارباب (رب) ، مختلف پروردگار القھار زبردست اسماء نام سمیتموا تم نے نام رکھے سلطن کوئی دلیل، کوئی سند، ایاہ اسی کی القیم سیدھا، سچا
تشریح : آیت نمبر 36 تا 40
بے گناہی کے باوجود جب حضرت یوسف کو نامعلوم مدت تک قید کردیا گیا تھا۔ اس دوران حضرت یوسف کا قید کے ساتھیوں کے ساتھ طرز عمل نہایت عالیٰ اور بےمثال تھا۔ حضرت یوسف تمام قیدیوں کی مزاج پرسی کرتے۔ اگر کوئی بیمار ہوجاتا تو اس کی عیادت فرماتے، کسی کو پریشان حال دیکھتے تو اس کو تسلی دیتے اور صبر و تحمل کی تلقین فرماتے۔ غرضیکہ آپ کا معاملہ ہر ایک کے ساتھ نہایت دوستانہ ہوتا جس سے تمام قیدیوں میں حضرت یوسف کی عزت اور احترام اور ان کے علم وتقویٰ کا بہترین اثر مرتب ہونا شروع ہوگیا۔ اسی دوران دو نئے قیدی لائے گئے جو بادشاہ کو کھانا کھلانے اور خدمت پر مامور تھے دونوں پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے کھانے پینے میں زہر ملا کر بادشاہ کو ہلکا کرنے کی کوشش کی ہے۔ دونوں کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ جاری تھا۔ دونوں قیدیوں نے ایک ایک خواب دیکھا حضرت یوسف کے علم وتقویٰ کی بنا پر دونوں نے ان سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی ایک نے خواب میں یہ دیکھا تھا کہ وہ بادشاہ کے لئے شراب نچوڑ رہا ہے۔ دوسرے نے بتایا کہ وہ اپنے سر پر روٹیوں کا ٹو کرا رکھے ہوئے ہے اور اس سے پرندے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ ان دونوں نے درخواست کی کہ اے یوسف ہمیں ان خوابوں کی تعبیر بتا دیجیے جو آپ جیسے نیکو کار ہی بتا سکتے ہیں۔ حضرت یوسف فوراً ہی جواب دے سکتے تھے لیکن آپ نے فرمایا کہ اس سے پہلے کہ تمہارا کھانا تمہارے سامنے لایا جائے میں تمہیں اس مختصر مدت میں ان خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا۔ ان خوابوں کی تعبیر اللہ نے مجھے سکھائی ہے لیکن میں سب سے پہلے تمہیں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں نے ایک ایسی قوم کو چھوڑا ہے جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتی تھی بلکہ وہ کفر میں مبتلا تھی۔ لیکن میں نے اپنے باپ دادا کے دین کو اختیار کیا ہے۔ یہ وہی دین ہے جس پر حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب چلتے تھے اور وہ یہ تھا کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں کیونکہ اللہ نے ہم سب پر اور تمام لوگوں پر فضل و کرم فرمایا ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے واقف ہونے کے باوجود اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ حضرت یوسف نے فرمایا کہ اے میرے قید کے ساتھیو ! یہ بتاؤ کہ وہ اللہ جو ایک ہے اور ساری قوتوں کا مالک ہے وہ بہتر ہے یا وہ جو تم نے بہت سے معبود بنا رکھے ہیں۔ محض کچھ نام ہیں جو تم نے رکھ چھوڑے ہیں جن کی کوئی مضبوط دلیل بھی موجود نہیں ہے۔ دلیل اور حکم تو اس اللہ کے پاس سے جس کا کائنات کے ذرے ذرے پر حکم چلتا ہے جس نے تمہیں اس بات کا کا حکم دیا ہے کہ اس اللہ کے سوا کسی کی عبادت و بندگی نہ کرو۔ فرمایا کہ یہی سچا دین ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔
حضرت یوسف نے اس کے بعد دونوں قیدیوں کو ان کے خوابوں کی تعبیر بتا دی جو اسی طرح ہو کر رہی۔ اس کی تفصیل اگلی آیات میں آرہی ہے۔
ان آیات کے سلسلے میں چند باتیں عرض ہیں تاکہ ان آیات کا مفہوم پوری طرح سمجھ میں آسکے :
1) پریشانیوں کے باوجود اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور ان کو برے حالات میں تسلی دینا سنت پیغمبری ہے۔ جس طرح حضرت یوسف نے اپنے قید کے ساتھیوں سے اچھا اور بہتر معاملہ فرمایا۔ نبی کریم ﷺ بھی ہر موقع اور ہر مشکل وقت میں صحابہ کرام کی ہمت بڑھاتے اور نہایت سادگی کے ساتھ حسن سلوک فرمایا کرتے تھے۔
2) اگر حضرت یوسف چاہتے تو دونوں قیدیوں کے خوابوں کی تعبیر اسی وقت بتا سکتے تھے لیکن آپ نے اس موقع پر فوراً تعبیر بتانے کے بجائے پہلے اللہ کی وحدانیت اور دین اسلام کی سچائی کو بتاتے ہوئے کفر اور بتوں کی مذمت کی ہے تاکہ ہر شخص اس بات کو جان لے کہ انسان کی اصل کامیابی اللہ کو ماننے میں ہے
وہی شخص کامیاب ہے جس نے اللہ کے پیغمبروں کا راستہ اختیار کر کے صراط مستقیم پر چلنا سیکھ لیا ہے۔ وہ شخص ہزار کامیابیوں کے باوجود ناکام ہے جس نے اللہ کا راستہ چھوڑ کر غیر اللہ کا راستہ اختیار کرلیا۔
3) حضرت یوسف نے اس پور عرصہ میں کسی پر یہ ظاہر نہیں فرمایا کہ وہ کون ہیں اور ان کا رشتہ کن انبیاء کرام سے وابستہ ہے لیکن اچانک آپ کا یہ فرمانا میں ایک ایسی قوم کو چھوڑ کر آیا ہوں جو اللہ کی نافرمان تھی یقینا یہ سب کچھ آپ کو وحی کے ذریعہ بتایا گیا ہوگا۔ چونکہ حضرت یوسف تو اس وقت اندھے کنوئیں میں پھینکے گئے تھے جو وہ بہت معصوم اور چھوٹے سے تھے۔
Ayahs 12:41–42لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 42
(یسفی پلائے گا، سیراب کرے گا) (یصلب پھانسی دیا جائے گا) (تاکل الطیر پرندے کھائیں گے) ( قضی فیصلہ کردیا گیا) ( تستفتین تم دونوں پوچھتے ہو) (ظن گمان کیا) (ناج نجات پانے والا) (بضع سنین چند سال)
تشریح : آیت نمبر 41 تا 42
گزشتہ آیات میں اس بات کو وضاحت سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ قید کے دوران مزید دوق یدیوں کو لایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک تو بادشاہ کا ساقی تھا جو اس کو شراب پلایا کرتا تھا۔ دوسرا باورچی تھا دونوں پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے باہمی سازش سے کھانے میں زہر ملا کر بادشاہ کو مارنے کی سازش کی ہے ان دونوں کے خلاف تحقیقات جاری تھیں اور ان دونوں کو کوئی فیصلہ ہونے تک قید کردیا گیا تھا۔ ان دونوں نے خواب دیکھے تھے۔ ایک نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بادشاہ کے لئے انگور نچوڑ رہا ہے، دوسرے نے خواب میں دیکھا کہ اس کے سر پر روٹیوں سے بھرا ہوا دستر خوان ہے جس سے پرندے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ حضرت یوسف نے خواب کی تعبیر بتانے سے پہلے اللہ کی وحدانیت اور غیر اللہ کی عبادت و بندگی نہ کرنے کی تفصیل ارشاد فرما کر پھر دونوں کے خوابوں کی تعبیر بتاتے ہوئے فرمایا۔ اے میرے قید کے ساتھیو ! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلائے گا یعنی نوکری پر بحال ہوجائے گا، جب کہ دوسرے کو پھانسی دیدی جائے گی اورپ رندے اس کے سر کو نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ کچھ عرصہ کے بعد بالکل وہی تعبیر سامنے آئی ان میں سے ایک رہا کردیا گیا اور باورچی پر زہر دینے کا الزام ثابت ہوگیا اور اس کو پھانسی دیدی گئی جس کے جسم کو پرندوں نے نوچ نوچ کر کھایا۔ جب حضرت یوسف نے تعبیر بتا دی تب آپ نے اس شخص سے جس کے متعلق یہ گمان تھا کہ اس کو رہائی مل جائے گی فرمایا کہ بادشاہ سے میرا ذکر کر کے اس کو یاد دلا دینا (کہ ایک بےگناہ قید میں پڑا ہے) جب ساقی کو رہائی مل گئی اور اپنی اسی نوکری پر بحال ہوگیا تو اسے یاد بھی نہ رہا اور شیطان نے اس کو اس طرح غافل کردیا کہ اس نے بادشاہ سے حضرت یوسف کا ذکر ہی نہیں کیا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت یوسف کو چند سال اور قید میں رہنا پڑا۔
اس موقع پر مفسرین نے اس بات پر کافی بحث کی ہے کہ حضرت یوسف نے (ایک تدبیر کے طور پر) اس ساقی سے فرمایا تھا کہ بادشاہ سے میرا بھی ذکر کردینا۔ یہ کہہ دینا مناسب تھا یا نہیں ؟ بعض مفسرین نے نبی کریم ﷺ اس حدیث کو بنیاد بنایا ہے جس میں آپ کا ارشاد گرامی ہے کہ اگر حضرت یوسف نے یہ بات نہی کہی ہوتی جو انہوں نے کہی ہے، تو قید میں مزید کئی سال تک نہ رہتے۔ بعض مفسرین نے اس پہلو کو لیا ہے کہ یہ مذکورہ حدیث ضعیف ہے اور حضرت یوسف نے اگر تدبیر کے طور پر ایسا کہہ دیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اپنے حق میں کوئی بھی تدبیر کرنا ایک جائز فعل ہے۔ چند سال اور قید میں رہنا اس بنا پر تھا کہ اس ساقی کو شیطان نے بھلا دیا تھا۔ مفسرین نے اپنی جو بھی رائے دی ہے وہ سب قابل احترام ہے۔ لیکن اگر ہم اس کو عام نقطہ نظر سے دیکھیں تو انشاء اللہ کوئی الجھن نہیں ہوگی۔ آپ نے دیکھا ہوگا۔ کبھی کبھی کوئی شخص اپنی اس ذرا سی بات پر جو اللہ کو پسند نہیں ہے پکڑ لیا جاتا ہے او اس کو اس کی سزا بھی مل جاتی ہے یہ تو اللہ کے ایک عام بندے کی بات ہے لیکن انبیاء کرام اللہ کے صرف بندے ہی نہیں بلکہ اس کے نمائندے بھی ہوتے ہیں جو اللہ کی طرف سے بندوں کی ہدایت و رہنمائی کے اعلیٰ ترین مقام پر مقرر ہوتے ہیں۔ وہ خطا اور غلطیوں سے معصوم ہوتے ہیں لیکن اگر ان سے ذرا سی بھی ایسی بات ہوجائے جو اللہ کو پسند نہیں ہے تو فوراً اللہ کی طرف سے ان کی رہنمائی کی جاتی ہے۔ کیونکہ ان کی زندگی ہر شخص کے لئے ایک مثال، ماڈل اور نمونہ ہوتی ہے اس لئے ان کی ذرا سی بات پر فوراً گرفت ہوجاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کپڑا جتنا صاف شفاف ہوتا ہے اس پر ہلکا سا گردو غبار بھی بہت نمایاں ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً نبی کریم ﷺ سے کفار مکہ نے اصحاب کہف ، ذوالقرنین اور روح کے متعلق سوال کیا آپ نے ان کے سوالات سنے اور یہ سوچ کر کہ کل جبرائیل وحی لے کر آئیں گے ان سے پوچھ کر بتادوں گا فرمایا کہ میں اس کا جواب کل دیدوں گا۔ لیکن اس کے بعد پندرہ دن تک وحی کا سلسلہ بند ہوگیا جس سے آپ کو بھی پریشانی ہوئی اور دشمنوں کو مذاق اڑانے کا موقع مل گیا۔ سورة کہف نازل کی گئی جس میں کفار مکہ کے تمام سوالات کے جوابات موجود ہیں اسی سورة میں یہ بھی فرمایا گیا ” ولا تقولن لشای انی فاعل ذلک غدا الا ان یشاء اللہ “ (سورۃ کہف آیت نمبر 23) ترجمہ :-” آپ کسی کام کے متعلق یہ نہ کہا کیجیے کہ میں اس کو کل کروں گا جب تک انشاء اللہ نہ کہہ دیں۔ “ اگر غور کیا جائے تو آپ کا یہ ارشاد فرمانا کہ میں کل بتادوں گا ایسی کوئی بات نہ تھی کیوں کہ وحی کا سلسلہ جاری تھا، آپ نے سوچا تھا کہ جب جبرائیل آئیں گے تو میں ان سے پوچھ لوں گا اور کفار مکہ کو بتا دوں گا۔ لیکن اللہ نے پندرہ دن تک وحی کے سلسلہ کو بند فرما دیا اور یہ اصولی بات ارشاد فرمائی کہ جب تک انشاء اللہ نہ کہہ لیا جائے اس وقت تک مستقبل کی کوئی بات نہ کہی جائے۔
اسی طرح ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے سردار ان مکہ کو دعوت دے کر بلایا اور اس دوران آپ نے سرداران مکہ کے سامنے اسلام کی حقانیت پر تقریر فرمائی۔ اسی دوران ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم تشریف لائے اور یہ دیکھے بغیر کہ رنگ محفل کیا ہے انہوں نے حسب معمول حضور اکرم ﷺ سے دین سے متعلق سوالات کرنا شروع کردیئے۔ آپ نے نرمی سے فرمایا کہ عبداللہ میں مت ہیں ابھی بتاتا ہوں۔ اس کے بعد حضور اکرم ﷺ نے پھر تقریر شروع کردی اور آپ ﷺ کی دلی خواہش تھی کہ اگر مکہ کے سرداروں نے اسلام قبول کرلیا تو سارا عرب مسلمان ہوجائے گا۔ آپ کا جذبہ تبلیغ بلندیوں پر تھا کہ حضرت عبداللہ جو دیکھ نہیں سکتے تھے انہوں نے پھر سوال کیا۔ آپ ﷺ کو ناگوار گذرا اور آپ کی پیشانی پر کچھل بل پڑگئے اور آپ ﷺ نے ذرا سی سختی سے فرمایا عبداللہ ذرا ٹھر جاؤ میں تمہیں بتا دیتا ہوں۔ حضور اکرم ﷺ نے پھر سرداران مکہ سے خطاب شروع فرما دیا۔
حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم یہ سمجھے کہ شاید میرے آقا مجھ سے ناراض ہیں وہ آہستگی سے اٹھے اور پانے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب نبی کریم ﷺ کا خطاب مکمل ہوگیا تو سردار ان مکہ اٹھ کر چل یگئے۔ نبی کریم ﷺ اس بات سے بہت خوش تھے کہ آج میں نے اللہ کا دین عرب کے سرداروں تک پہنچا دیا۔ اس وقت جبرائیل امین ” سورة عبس “ لے کر نازل ہوئے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ! آپ ﷺ نے پیشانی پر بل ڈال لئے اس لئے کہ ایک نابینا آگیا تھا آپ کو معلوم تھا کہ اگر آپ اس کی رہنمائی فرما دیتے تو وہ اس سے اپنے دل کو مانجھ لیتا۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور ﷺ تیزی سے اٹھے اور چادر گھسیٹتے ہوئے اس نابینا صحابی کے گھر پہنچ گئے۔ جیسے ہی انہوں نے آپ کی آواز سنی تڑپ کر باہر نکلے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے عبداللہ آؤ میرے ساتھ آؤ۔ آپ ان کو لے کر گھر تشریف لائے اپنی چادر مبارک بچھا دی اور اس پر نابینا صحابی کو بٹھا کر فرمایا کہ اے عبداللہ اب تم سوال کرو میں تمہارے ہر سوال کا جواب دوں گا۔ اس کے بعد جب بھی یہ صحابی آت یتو آپ بڑی محبت سے اپنی چادر مبارک پر بٹھاتے اور سب سے پہلے ان کے سوالات کے جوابات دیتے ۔ اس واقعہ میں بظاہر ایسی کوئی بات نہ تھی مگر قابل غور ایک بات تھی کہ کہیں کوئی ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کے متعلق یہ نہ کہہ دے کہ سرداروں او امیروں کے مقابلے میں ایک غریب کو اہمیت نہیں دی گئی۔ یہ ہے وہ رہنمائی جو اللہ کی طرف سے انبیاء کرام کو دی جاتی ہے اس طرح حضرت یوسف نے بظاہر ایک تدبیر فرمائی اور رہا ہونے والے شخص سے فرمایا کہ بادشاہ سے میرا ذکر کردینا۔ یہ بات اللہ کو پسند نہیں آئی کیونکہ انبیاء کرم تو صرف اللہ سے فرمایا کیا کرتے ہیں وہ تو غیر اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتے اس لئے اللہ نے ایسا انتظام فرمایا کہ وہ ساقی حضرت یوسف کا ذکر کرنا ہی بھول گیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے حضرت یوسف کو تنبیہ فرما دیا اور اس طرح اشارہ کردیا کہ ہر شخص کو شیطان وسوسوں سے بچنا چاہئے کیوں کہ شیطان اس راستے سے زبردست حملہ کرتا ہے، اس سے وہی لوگ بچتے ہیں جو خوش نصیب ہوتے ہیں اور ہر حال میں اللہ سے ہی مانگتے ہیں ورنہ شیطان تو انسان کو دنیا کے معاملات میں اس طرح دھنسا دیتا ہے کہ وہ نیکی کے کاموں سے بیخبر اور غافل ہو کر رہ جاتے ہیں۔
Ayahs 12:43–49لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 49
الملک بادشاہ سبع سات بقرات (بقرۃ) ، گائیں سمان موٹی تازی، فربہ عجاف دبلی پتلی سنبلت (سنبلۃ) گیہوں کی بالیں جس میں دانہ ہوتا ہے خضرت ہرا بھرا یبست خشک افتونی مجھے بتاؤ رویائی میرا خواب تعبرون تم تعبیر دیتے ہو اضغاث پریشان خیالات ، فضول خیالات احلم (حلم) ۔ خیالات اداکر یاد کیا بعدامۃ مدت کے بعد ارسلون مجھے بھیج دے ارجع میں لوٹوں گا تزرعون تم کھیتی باڑی کرو گے داب لگاتار مسلسل حسدتم تم نے کھیتی کاٹی ذروہ اس کو چھوڑ دو سبع شداد سخت سات (سال) قدمتم تم نے آگے بھیجا تحصنون تم بچاؤ گے عام سال یاغث بارش برسائی جائے گی یعصرون وہ نچوڑیں گے
تشریح : آیت نمبر 43 تا 49
کائنات میں ہونے والے ہر عمل اور اس کے نتائج کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے وہ جس طرح چاہتا ہے کسی کی عزت و ذلت، سربلندی اور پستی کے اسباب پیدا کردیتا ہے جس کی طرف انسان کا دھیان بھی نہیں جاتا۔ جب اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ حضرت یوسف کو باع زت رہائی مل جائے اور علم نبوت کے ساتھ ساتھ دنیاوی عزت و سربلندی بھی حاصل ہوجائے تو اس کا سبب یہ پیدا فرمایا کہ مصر کے بادشاہ نے ایک خواب دیکھا کہ سات موٹی تازہ گائے ہیں جن کو سات دبلی پتلی گائیں کھا گئیں اور سات بالیں ہیں جو ہری بالوں پر لپٹ کر ان کو خشک کر رہی ہیں۔ اگلے دن اس نے تمام دربار کے معتبر اور کاہنوں سے اس خواب کی تعبیر پوچھی۔ کسی نے اپنی سمجھ کے مطابق تعبیر بتائی اور بعضوں نے کہا کہ یہ پریشان خیالات ہیں جن کی کوئی اہمیت نہیں۔ بادشاہ کو سب کے کہنے کے باوجود ایک بےچینی سی محسوس ہوتی رہی اور وہ اس خواب کی تعبیر کے لئے سخت بےقرار رہنے لگا۔ اب ساقی کو جو حضرت یوسف کے ساتھ قید تھا اس کو یاد آیا کہ اس خواب کی تعبیر تو صرف حضرت یوسف ہی بتا سکتے ہیں۔ اس نے بادشاہ سے دخواست کی کہ اگر مجھے قید خانے میں جانے کی اجازت دی جائے تو میں ایک ایسے نیک اور پارسا شخص سے اس خواب کی تعبیر معلوم کرسکتا ہوں جس کو اللہ نے خوابوں کی تعبیر کا علم عطا فرمایا ہے۔ اس ساقی نے قید خانہ میں جا کر بادشاہ کا خواب سنایا اور اس کی تعبیر پوچھی۔ حضرت یوسف نے کہا کہ سات موٹی گائیں اور ہری بالیں سات سال ہیں جن میں خوب خوش حالی رہے گی یعنی خوب پیداوار ہوگی لیکن اس کے بعد مسلسل سات سال تک قحط پڑے گا۔ خواب کی تعبیر کے ساتھ آپ نے ایک تدبیر بھی بتا دی کہ جب خوش حالی کا زمانہ ہو تو جتنا کھانا ہو وہ کھالیا جائے لیکن ساتھ ساتھ بچت بھی کی جائے تاکہ قحط سالی کے زمانہ میں یہ کام آئے۔ پھر فرمایا کہ سات سال کی مسلسل قحط سالی کے بعد خوش حالی کا زمانہ آئے گا۔ اس میں خوب بارشیں ہوں گی، کھیتی باڑی پھل اور میوے بڑی کثرت سے ہوں گے، جانوروں کے تھن دودھ سے بھر جائیں گے اور خوب انگور نچوڑنے کے قابل چیزوں سے خوب نچوڑیں گے۔
بادشاہ کے اس خواب کی تعبیر جب اس کو بتائی گئی تو وہ بہت خوش ہوا اس کی تفصیلات اگلی آیات میں آرہی ہیں۔
Ayahs 12:50–53لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 53
(ائتونی : میرے پاس لاؤ) ( الرسول قاصد، بھیجا گیا) ( ارجع لوٹ جا) ( اسئل پوچھ ) (مابال کیا واقعہ) ( ما خطبکن تم کیا کہتی ہو ) (سوء برائی) ( آلئن اب) ( حصحص ظاہر ہوگیا ) (لم اخن میں نے خیانت نہیں کی) ( لایھدی وہ ہدایت نہیں دیتا) ( الخائنین خیانت کرنے والے) ( ما ابرئی میں بری نہیں کرتا) ( امارۃ حکم دینے والا ) (رحم ربی میرے رب نے رحم کردیا)
تشریح آیت نمبر 50 تا 53
گزشتہ آیات میں تفصیل سے ارشاد فرمایا گیا تھا کہ جب بادشاہ کا ساقی حضرت یوسف کے پاس بادشاہ مصر کے خواب کی تعبیر پوچھنے گیا تو حضرت یوسف نے نہ صرف خواب کی وہ تعبیر بتائی جس سے بادشاہ کی دلی بےچینی دور ہوگئی بلکہ شدید قحط پڑنے کی صورت میں کیا کیا جائے اس کی تدبیر بھی ارشاد فرما دی۔ بادشاہ مصر حضرت یوسف کے علمی مقام اور ذہانت کو نس کر حیران رہ گیا اور ان سے ملنے کا اشتیاق ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کو میرے پاس لاؤ تاکہ ان سے مل کر مزید باتیں اور مشورے کرسکوں۔ بادشاہ نے اس کام کے لئے جس قاصد کو بھجیا تھا حضرت یوسف نے اس سے فرمایا کہ میں اس وقت تک قید سے باہر نہیں آؤں گا جب تک میری بےگناہی ثابت نہیں ہوجاتی۔ ان عورتوں سے بلا کر پوچھا جائے جنہوں نے حیرت اور محویت کے عالم میں مجھے دیکھ کر اپنی انگلیاں زخمی کرلی تھیں۔ آپ نے یہ بھی فرما دیا کہ میرا رب تو ان حالات اور سچائی کو اچھی طرح جانتا ہے کہ ان عورتوں نے کیا فریب کیا اور کس طرح انہوں نے مجھے بےگناہ ہونے کے بوجود اس قید خانے تک پہنچا دیا تھا۔ اس موقع پر حضرت یوسف زلیخا کا نام لے کر کہہ سکتے تھے کہ یہ ساری شرارت عزیز مصر کی بیوی زلیخا کی ہے جس نے کمرے کے دروازے بند کر کے ان کو گناہ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور پھر بدنامگی سے بچنے کے لئے حضرت یوسف جیسے پکا باز انسان پر تہمت لگانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں بیگمات مصر نے طعنے دینے شروع کئے اور زلیخا نے سب بیگمات کو دعوت دے کر بلایا جس میں وہ حضرت یوسف کو دیکھ کر ان کے حسن جمال سے اتنی متاثر ہوئیں کہ پھل کاٹتے کاٹتے انگلیاں زخمی کر بیٹھیں اور محویت کے عالم میں ان کو پتہ ہی نہیں چلا کہ ان کی انگلیوں سے خون بہہ رہا ہے۔ حضرت یوسف نے ان بیگمات کے واقعہ کی طرف اشارہ کیا تاکہ عزیز مصر اور اس کی بیوی کا براہ راست نام نہ لیا جائے کیونکہ عزیز مصر نے حضرت یوسف کے ساتھ بہت شریفانہ برتاؤ کیا تھا۔ اس احسان کو مان کر عزیز مصر کی رسوائی کا خیال کر کے مصر کی بیگمات کا ذکر فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص پر کسی کا احسان ہو اس کو اس شخص کی عزت و آبرو کا خیال رکھنا چاہئے۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یوسف نے قید سے اس وقت تک رہا ہونے سے انکار کردیا جب تک ان کی پوزیشن صاف نہ ہوجائے۔ بادشاہ مصر نے زلیخا کو اور ان تمام بیگمات کو طلب کرلیا۔ سب بیگمات اور زلیخا کے آنے کے بعد بادشاہ نے صرف اتنا سوال کیا کہ جب تم نے یوسف کو اپنے نفس کی طرف مائل کرنا چاہا تو تم نے ان کو کیسا پایا ؟ سچ تو سچ ہوتا ہے سب بیگمات نے ایک زبان ہو کر کہا کہ اللہ کی قسم ہم نے ان میں بدنیتی اور بدچلنی کا شائبہ تک نہیں پایا۔ یعنی وہ بےقصور، نیک ، پرہیز گار اور اعلیٰ ترین کردار کے مالک ہیں۔ تمام عورتوں کی گواہی کے بعد زلیخا اس تصور سے شرم و ندامت سے زمین میں گڑ گئی کہ یوسف کتنے بلند کردار اور اعلیٰ اخلاق کے مالک ہیں کہ انہوں نے زلیخا کا نام تک نہیں لیا۔ وہ چلا اٹھی کہ اب سچائی کھل کر سامنے آگئی ہے تو میں سب کے سامنے اس بات کا اقرار کرتی ہوں کہ یوسف بالکل بےگناہ ہیں۔ میں نے ہی ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر انہوں نے میری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ واقعی یوسف سچائی کا پیکر ہیں۔
جب حضرت یوسف کے بےگناہ ہونے کی تمام گواہیاں سامنے آگئیں تو اس موقع پر حضرت یوسف نے کسی فخر و غرور کا مظاہرہ نہیں فرمایا بلکہ نہایت عاجزی سے دو باتیں فرمائیں۔
1) پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے یہ سب کچھ اس لئے کیا ہے تاکہ عزیز مصر کو اس بات کا پختہ یقین ہوجائے کہ اس کی غیر حاضری میں، میں نے اس کی امانت میں خیانت نہیں کی یعنی اس کی آبرو کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا بلکہ اپنے محسن کی عزت و آبرو کا پورا پورا احترام کیا۔ اس موقع پر یہ اصول بھی ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کبھی راہ ہدایت عطا نہیں فرماتا جو مکر و فریب کے جال بن کر خیانت و بد دیانتی کرتے ہیں۔
2) دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ ” نفس “ تو ہر انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ اگر پروردگار کا رحم و کرم نہ ہو تو کوئی بھی انسان نفس کی شرارتوں سے بچ نہیں سکتا۔ گویا آپ یہ فرما رہے ہیں کہ اللہ نے جس امتحان سے مجھے گذار کر سرخ رو فرمایا ہے اس میں میرا ذاتی کمال نہیں ہے بکلہ یہ سراسر اللہ تعالیٰ کا رحم و کرم ہے۔ اگر اس کا رحم و کرم نہ ہوتا تو میرا نفس بھی مجھے لے ڈوبتا ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سبحان اللہ کتنی اعلیٰ ظرفی اور کردار کی بلندی کی بات ہے کہ اتنے بڑے کارنامے پر دنیا داروں کی طرح فخر اور ذاتی بڑائی نہیں کی ہے بلکہ اس کی نسبت اللہ کی طرف کر کے اپنی انتہائی عاجزی و انکساری کا اظہار فرما رہے ہیں۔ یہی شان پیغمبری اور ان کا اسوہ حسنہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسی طرح عاجزی و انکساری کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
Ayahs 12:54–57لغات القرآن آیت نمبر 54 تا 57
(کلم کلام کیا، بات کی) ( لدینا ہمارے پاس ) (مکین معزز، باعزت ) (امین معتبر، ایماندار، امانت دار) ( اجعلنی مجھے بنا دے ) (خزائن خزانے ) (حفیظ حفاظت کرنے والا، محافظ ) (علیم بہت جاننے والا) ( مکنا ہم نے ٹھکانا دیا، جما دیا ) (یتنبوء وہ ٹھکانا بتاتا ہے، با اختیار بناتا ہے) ( نصیب ہم پہنچاتے ہیں) ( لانضیع ہم ضائع نہیں کرتے) ( اجر اجر خیر زیادہ)
تشریح آیت نمبر 54 تا 57
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کی زندگی کے اس پہلو کو نمایاں فرمایا ہے جہاں سے ان کی دنیاوی زندگی کا عروج شروع ہوتا ہے۔ یہ اس واقعہ کا اہم ترین پہلو بھی ہے مگر اس بات کو بھی ذہن میں رکھ لیجیے کہ محض ایک خواب کی تعبیر بیان کردینے اور زمین کے خزانوں (پیداوار) کی ذمہ داری قبول کرنے سے زندگی کا عروج شروع نہیں ہوا بلکہ اس واقعے کے پورے پس منظر کو سامنے رکھ کر دیکھیے تو اس میں انسانی کردار کی وہ بلندیاں سامنے آتی ہیں جہاں ایک انسانی سچائی اور حق کے لئے ہر طرح کے مصائب اور پریشانیاں برداشت کر کے دلوں کو فتح کرلیتا ہے اور ہر شخص اس انسان کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ حضرت یوسف نے اپنی پاک دامنی کے لئے برسوں قید میں رہنا پسند کیا لیکن اس راستے پر چلنے سے صاف انکار کردیا جہاں ان کے دامن عصمت پر ایک دھبہ بھی لگ جانے کا اندیشہ تھا۔ حضرت یوسف کے اس واقعہ پر شروع سے نظر ڈالی جائے تو کردار کی یہ بلندی اور عروج کے دور کی ساری باتیں بہت آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہیں۔
1) حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے اپنی حسد کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ان کو ایک اندھے کنوئیں میں پھینک دیا۔ پھر بعد میں مدین کے ایک قافلے والوں کے ہاتھ چند درھموں کے بدلے میں فروخت کردیا تھا اور وہ اس بات سے مطمئن تھے کہ ان کی اور ان کے والد کی محبت میں اب کوئی آڑے نہ آسکے گا۔
2) جب مصر کے بازار میں ایک غلام کی حیثیت سے ان کو فروخت کیا گیا تو ان کے ظاہری چہرے اور شخصیت کی یہ عظمت ہے کہ عام غلاموں کی طرح ان کی قیمت نہیں لگائی گئی جو اس بازار میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں فروخت کئے جاتے تھے بلکہ خریدنے والوں کے مقابلے کا یہ حال تھا کہ ایک دوسرے سے بڑھ کر بولی لگا رہے تھے۔ بالاخر حضرت یوسف کے وزن کے برابر سونا اور مشک کے بدلے ملک کے وزیر اعظم اور فوجوں کے سپہ سالار عزیز مصر نے خرید کر ان کو اپنے گھر میں بیٹوں کی طرح رکھا۔ اس واقعہ نے آپ کی شہرت کو پورے ملک میں پہنچا دیا اور یقینا گھر گھر میں اس کا چرچا اور شہرت پہنچ گئی ہوگی۔
3) جب حضرت یوسف نے جوانی میں قدم رکھا اور ان کا حسن و جمال پوری نکھر کر سامنے آگیا تو عزیز مصر کی بیوی اپنے دل پر قابو نہ رکھ کسی اور ایک دن اس نے اپنے کسی خصوصی کمرے میں بلا کر دروازے بند کر لئے اور ان کو اپنی خواہش نفس کی طرف بلایا۔ حضرت یوسف کی اللہ نے مدد فرمائی اور وہ اس کی نیت اور ارادے کو بھانپ کر دروازے کی طرف دوڑے اللہ نے ہر دروازے کو اور ہر راستے کو ان کے لئے کھول دیا۔ زلیخا آپ کے پیچھے دوڑی۔ باہر کے دروازے پر عزیز مصر نے اس کیفیت کو دیکھا۔ زلیخا نے حضرت یوسف پر الٹا الزام لگا دیا کہ اے عزیز مصر ! اس غلام نے تیری بیوی کی آبرو پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ جیسا کہ گزشتہ آیات میں اس کی تفصیل آ چکی ہے کہ جب عزیز مصر کے سامنے ساری حقیقت کھل گئی تو وہ اس چال کو سمجھ گیا اور اس نے زلیخا سے کہا کہ مجھے عورتوں کے اس مکروہ فریب کا اچھی طرح اندازہ ہے۔ عزیز مصر نے حضرت یوسف سے اپنی عزت کی خاطر یہ کہا کہ اے یوسف تم اس واقعہ کو نظر انداز کر دو میں ساری بات سمجھ گیا ہوں تم اس کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ لیکن یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو شاہی محل سے نکل کر مصر کے ہر گھر میں پہنچ گیا اور اس کی اچھی خاصی شہرت ہوگئی۔
4) جب یہ واقعہ ملک میں ہر جگہ مشہور ہوگیا تو مصر کی عورتوں نے یہ طعنے دینے شروع کردیئے کہ عزیز مصر کی بیوی کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اپنے غلام پر جان دے رہی ہے۔ زلیخا نے یہ سنا تو مصر کی تمام بیگمات کو اپنے گھر بلا کر زبردست دعوت کا انتظام و اہتمام کیا۔ اس زمانہ کی تہذیب کے مطابق فرش بچھا کر تکئے لگا دیئے۔ گئے سب کے سامنے ایسے پھل رکھ دیئے گئے جو چاقو سے کاٹ کر کھائے جاتے ہیں۔ سب نے پھل ہاتھ میں لے کر کھانے کے لئے کاٹنے شروع کئے ادھر حضرت یوسف کو اچانک سامنے لایا گیا۔ حضرت یوسف کے حسن و جمال کو دیکھ کر یہ بیگمات مصر اس قدر کھو گئیں کہ ان کے ہاتھ چاقوؤں سے زخمی ہوگئے، خون رسنے لگا اور ان کو پتہ ہی نہ چلا اور وہ کہہ اٹھیں کہ یہ انسان نہیں کوئی بہت ہی معزز فرشتہ ہیں۔ الیخا کی یہی خواہش تھی کہ مصر کی ہر عورت اس بات کو اچھی طرح جان لے کہ اگر وہ ان پر فدا وہ گئی ہے تو اس کے دل کا کوئی قصور نہیں ہے۔
5) حضرت یوسف ، زلیخا اور بیگمات مصر کی خواہش بھری نظروں کو اچھی طرح محسوس کر رہے تھے۔ ایک دن انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھا کر عرض کردیا۔ الٰہی ! یہ عورتیں مجھے جس طرف لے جانا چاہتی ہیں اس سے مجھے بچا لے۔ اگر اس کے بدلے مجھے قید کی صعوبتیں اور تکلیفیں برداشت کرنا پڑیں تو وہ مجھے زیادہ پسند ہیں۔
6) جب زلیخا کی دعوت میں آئی ہوئی بیگمات مصر بھی حضرت یوسف کے حسن و جمال کے سامنے بےبس سی ہوگئیں اور وہ دل و جان سے قربان ہوگئیں اور ان کے حسن و جمال اور زلیخا کی محبت کے چرچے گھر گھر ہونے لگے تو عزیز مصر نے بدنامی سے بچنے کے لئے حضرت یوسف کو جیل بھیج دیا۔
7) جیل خانے میں حضرت یوسف نے تمام قیدیوں کے ساتھ جو حسن سلوک کیا اور ہر ایک کی خبر گریی کی تو اس قید خانے کے منتظم اعلیٰ نے قید خانے کے سارے انتظامات ان کے حوالے کردیئے۔ حضرت یوسف کے حسن انتظام اور کردار کی بلندی کی شہرت بھی آہستہ آہستہ پھیلتی چلی جا رہی تھی۔
8) ایک دن دو قیدی لائے گئے جن میں سے ایک بادشاہ کا باورچی تھا دوسرا ساقی تھا جو بادشاہ کو شراب پلانے پر مقرر تھا۔ دونوں پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے بادشاہ کو زہر دے کر مارنے کی کوشش کی ہے۔ تحقیقات جاری تھیں اور اس عرصے میں ان کو قید کردیا گیا تھا تاکہ پوری تحقیق کرلی جائے اور کوئی فیصلہ کردیا جائے۔ حضرت یوسف نے ان دونوں کے ساتھ بھی حسن سلوک فرمایا۔ یہ دونوں قیدی نے خواب دیکھے۔ حضرت یوسف نے ان کو جو تعبیر دی وہ اسی طرح پوری ہو کر رہی کہ ایک کو پھانسی کی سزا ہوگئی اور دوسرے کو جو بادشاہ کا ساقی تھا اس کو بےگناہ قرار دے کر رہا کردیا گیا۔ وہ شخص جو بادشاہ کا ساقی تھا اور رہا کردیا گیا تھا حضرت یوسف نے اس سے کہا کہ بادشاہ کو یاد دلا دینا یعنی یہ کہ ایک شخص جو بےگناہ ہے اور عرصہ سے قید خانے میں پڑا ہوا ہے اس کا خیال کیا جائے۔ جب وہ ساقی رہا ہو کہ اپنی نوکری پر بحال ہوگیا تو وہ اس بات کو بھول گیا کہ وہ بادشاہ سے حضرت یوسف کا ذکر کرے تاکہ وہ بھی رہا ہوجائیں۔
9) ایک رات بادشاہ مصر نے خواب دیکھا کہ سات موٹی گائیں ہیں ان کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات ہری بالیں ہیں جن پر سات سوکھی بالیں لپٹی ہوئی ہیں۔ صبح کو اٹھ کر اس نے اپنے دربار کے تمام کاہنوں سے اس خواب کی تعبیر پوچھی۔ کسی نے کچھ بتایا کسی نے کچھ اور بعض نے تو اس کو محض تصوراتی اور خیالی خواب بتا کر اس کی تعبیر سے عذر کردیا۔ اس موقع پر بادشاہ کے اس ساقی نے جس کو حضرت یوسف نے خواب کی تعبیر بتائی تھی اس کو خیال آیا کہ اس خواب کی تعبیر حضرت یوسف ہی بتا سکتے ہیں اس نے بادشاہ سے کہا کہ اگر مجھے قید خانے میں جانے کی اجازت دی تو میں ایسے شخص سے واقف ہوں جس کو اللہ نے خوابوں کی تعبیر کا خاص علم عطا فرمایا ہے۔ وہ شخص قید خانے میں حضرت یوسف کے پاس پہنچا اور اس نے اس خواب کی تعبیر پوچھی حضرت یوسف نے فرمایا کہ اس خواب کی اہمیت یہ ہے کہ است سال تک خوب پیداوار ہوگی پھر خشک سالی کے سات سال ہیں۔ اس کے بعد اس خشک سالی سے بچنے کی ایک تدبیر ارشاد فرمائی۔ حالانکہ اس تدبیر سے اس خواب کا تعلق نہیں تھا لیکن حضرت یوسف نے حسن تدبیر بتا کر اپنی ذہانت کا مظاہرہ فرمایا۔ خواب کی اس تعبیر سے بادشاہ کو نہ صرف اطمینان ہوا بلکہ حضرت یوسف کے علم و فضل کا پوری طرح اندازہ ہوگیا۔ بادشاہ نے خواہش کا اظہار کیا کہ میں ایسی شخصیت سے ملنا چاہتا ہوں تاکہ ایسے باصلاحیت انسان کو اپنے سے قریب کر کے ملک کے لئے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔
10) بادشاہ مصر نے ایک قاصد بھیجا جس نے بادشاہ کی اس خواہش کا اظہار کیا کہ بادشاہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ اس موقع پر حضرت یوسف نے یہ کہہ کر رہا ہونے سے صاف انکار کردیا کہ جب تک یہ بات صاف نہیں ہوجاتی کہ مجھے اتنے عرصے کیوں قید میں رکھا گیا۔ پہلے ان تمام عورتوں کو بلا کر اس سے پوچھا جائے جنہوں نے حضرت یوسف کو دیکھ کر اپنی انگلیاں زخمی کرلی تھیں بادشاہ نے زلیخا اور مصر کی ان تمام بیگمات کو طلب کر کے ان سے اصل واقعہ بیان کرنے کا حکم دیا۔ زلیخا اور تمام بیگمات مصر نے اس بات کا اعتراف واقرار کیا کہ حضرت یوسف قطعاً بےگنا ہیں۔ ہم نے ان کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی مگر ان کا دامن عصمت بالکل پاک ہے۔ اس واقعہ نے بادشاہ کے دل میں حضرت یوسف کے اعلیٰ کردار ، تقویٰ و پرہیزگاری کی عظمت کو اور بھی اجاگر کردیا اور وہ ان سے ملنے کے لئے بےچین ہوگیا۔
جب حضرت یوسف بادشاہ کے پاس پہنچے تو اس نے یہ محسوس کیا کہ اللہ نے ان کو جتنا ظاہری حسن عطا فرمایا ہے اس سے کہیں زیادہ ان کو کردار کی بلندی عطا فرمائی ہے۔ اس خواب کے حوالے سے بادشاہ نے یہ پوچھا کہ اگر یہ قحط نازل ہوتا ہے تو اس سے بچنے کی تدبیر کیا ہے یقینا اس موقع پر بادشاہ نے اس خواہش کا اظہار کیا ہوگا۔ کہ اگر اس کی ذمہ داری ان پر ڈال دی جائے تو یقینا دو قحط سے بچنے کی بہتر تدبیر کرس کتے ہیں۔ اس کے پوچھنے پر حضرت یوسف کے لئے دنیاوی عروج تک پہنچنے کے تمام انتظامات فرما دیئے۔ حضرت یوسف نے ایسے اعلیٰ انتظامات کئے کہ بادشاہ اور پوری مملکت کا ہر فرد آپ کے حسن انتظام ذہانت اور امانت کا قائل ہوگیا۔ روایات میں آتا ہے کہ ان کے اس اعلیٰ کردار اور حسن انتظام کو دیکھ کر بادشاہ گوشہ نشین ہوگیا اور حضرت یوسف پوری مملکت کے بادشاہ بن گئے جب حضرت یوسف مصر پہنچے تھے اس وقت ان کی عمر سات سال کی تھی اور جب وہ مصر کے سربراہ بنے ہیں اس وقت ان کی عمر مبارک تیس سال تھی۔ گویا اللہ نے تئیس سال میں ایک ایسے نوجوان کو جو کبھی نہایت غربت کے عالم میں مصر کے بازار میں ایک غلام کی حیثیت سے فروخت کیا گیا تھا۔ تئیس سال میں اپنے کردار کی ان بلندیوں پر پہنچا دیا تھا جہاں ہر شخص ان کے اخلاق و کردار کا غلام بن چکا تھا۔
جیسا کہ سورة یوسف کی تفسیر کی ابتدا میں بتایا گیا تھا کہ نبی کریم ﷺ اور حضرت یوسف کے حالات زندگی میں بہت مشابہت ہے تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ حضرت یوسف کو بھی تمام مرحلوں سے گذرنے میں تئیس سال لگے اور قرآن کریم کی تعلیمات کی تکمیل میں بھی تئیس سال لگے۔ ان آیات میں کفار مکہ کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو دنیاوی عروج کی بلندیوں تک پہنچا دیا تھا۔ آج مکہ میں حضور اکرم ﷺ جو باظہر بےسرو سامان ہیں اسی طرح ان کو بھی تئیس سال میں دنیاوی عروج و سربلندی حاصل ہوجائے گی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ حضرت یوسف کی حکومت ان کی زندگی تک محدود تھی لیکن نبی کریم ﷺ کے کردار اور سیرت کی بلندی کا سلسلہ قیامت تک جار ری ہے گا اور آپ قیامت میں اپنی امت ہی کے نہیں بلکہ ساری امتوں کی گواہی دے کر ان کے بھی کام آئیں گے۔ نبی کریم ﷺ اس لئے سرور کونین ہیں کہ اس دنیا اور آخرت میں آپ کی رحمت ہی کام آئے گی۔ وما ارسلنک الارحمۃ للعالمین
Ayahs 12:58–61لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 61
(جآء آیا ) (اخوۃ بھائی) ( دخلوا وہ داخل ہوئے ) (عرف اس نے پہچان لیا) ( منکرون نہ پہچاننے والے) (جھز اس نے تیار کی، تیار کردیا) ( جھاز سامان) ( اوفی میں پورا دیتا ہوں) ( سنراود ہم درخواست کریں گے) ( لفعلون البتہ ضرور کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 58 تا 61
کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے حضرت یوسف کا واقعہ اور وہ سب معلوم کیا تھا جس کی بنا پر حضرت یعقوب، حضرت یوسف اور ان کے اہل خاندان فلسطین سے مصر پہنچ کر وہاں آباد ہوگئے تھے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ حضرت یوسف کا واقعہ اور ان اسباب کا ذکر فرمایا ہے کہ جب یہ خاندان جو بنی اسرائیل کہلاتا تھا ہجرت کر کے مصر پہنچا۔ ان آیات میں صرف اس واقعہ کو ہی بیان نہیں کیا گیا بلکہ نصیحت کے لاتعداد پہلوؤں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو فکر کی راہوں کو کھول دیتا ہے۔
جب حضرت یوسف پوری مملکت مصر کے بادشاہ بنا دیئے گئے تو حضرت یوسف نے شان پیغمبری اور عدل و انصاف کی ایسی بےمثال حکومت قائم کی جس سیپ ورے علاقے میں خوش حالی اور ترقی شروع ہوگئی۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت یوسف نے حکم جاری فرما دیا کہ جب تک ملک بھر میں شدید ترین قحط ہے گھر میں ایک وقت کا کھانے پکایا جائے۔ چناچہ نہایت سادگی سے ایک وقت میں ایک سالن پکایا جاتا تھا۔ عوام تو وہی کرتے ہیں جو وہ اپنے حکمران کو دیکھتے ہیں چناچہ مملکت کا ہر شخص بھوک پریشانی اور بد حالی کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوگیا۔ جب پہلے سات سال خوش حالی کے تھے اس میں قحط سالی کے سات سالوں کی فکر کر کے بچت کی گئی اور بیشمار غلہ کا ذخیرہ کرلیا گیا۔ جب قحط کا زمانہ شروع ہوا ہوا تو پوری معلوم دنیا کو قحط نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہر شخص پریشان ہوگیا لیکن مصر کی سلطنت میں معمولی سی پریشانیوں کیساتھ خوش حالی برقرار رہی۔ قحط کے زمانہ میں مصر کی خوش حالی کی اطلاع جب آس پاس کے ملکوں میں پھیل گئی اور بادشاہ کی نرم دلی اور حسن اخلاق کے چرچے ہونے لگے تو حضرت یوسف کے بھائی بھی فلسطین سے مصر آگ ئیا ور بادشاہ سے درخواست کی کہ ہمیں بھی غلہ دیا جائے تاکہ اس شدید قحط سے بچا سکے۔ حضرت یوسف نے نہ صرف ان میں سے ہر ایک کو اونٹ بھر غلہ دیا بلکہ ان کی خوب خاطر مدارت کی گئی۔ جیسے ہی یہ بھائی حضرت یوسف کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا لیکن ان کے بھائیوں نے حضرت یوسف کو نہیں پہچانا کیونکہ ان کے تو ذہن اور خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ وہ ننھے منے یوسف جن کو ایک اندھے کنوئیں میں پھینکا گیا تھا وہ چند برسوں میں اس ملک کے بادشاہ بن گئے ہوں گے۔ پھر یہ کہ بچپن اور جوانی کی عمر میں چہروں میں بھی فرق آجاتا ہے شاید اس لئے بھی وہ حضر یوسف کو نہ پہچان سکے ہوں غرضیکہ حضرت یوسف نے شان پیغمبری کا مطاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف ان کی خبر گیری کی بلکہ نہایت فیاضی، سخاوت اور حسن اخلاق کا مظاہرہ فرماتے ہوئے ان کے اونٹوں پر غلہ لدوادیا گیا۔ شاید ان کے بھائیوں کی زبان سے نکل گیا ہو کہ ہمارے والد اور ایک بھائی بھی ہیں جو اس وقت نہ آسکے لہٰذا ان کے حصے کا غلہ بھی دیدیا جائے۔ اس پر حضرت یوسف نے فرمایا کہ جب تم دوبارہ غلہ لینے آؤ تو اپنے بھائی کو ضرور ساتھ لانا۔ تاکہ اس کی تصدیق ہوجائے کہ واقعی تمہارا کوئی اور بھائی ھبی ہے۔ والد تو چونکہ ضعیف اور کمزور ہیں لیکن بھائی تو آسکتا ہے اس کو ضرور لے کر آنا۔ اگر تم اس بھائی کو نہیں لائے تو پھر تم بھی مت آنا کیونکہ جھوٹ بولنے والے مجھے پسند نہیں ہیں یہ بات ان بھائیوں کیلئے بڑے امتحان کی تھی کہ اگر وہ اپنے بھائی بن یا مین کو نہیں لائے تو آئندہ غلہ لینے کا سلسلہ بند ہوجائے گا اور اگر والد صاحب سے بن یا مین کے لئے اجازت لیتے ہیں تو وہ حضرت یوسف کا زخم کھائے ہوئے ہیں ان بھائیوں پر اعتماد نہیں کریں گے۔ اس لئے ان بھائیوں نے صرف اتنا کہا کہ ہم یہ ضرور کریں گے لیکن یہ اس وقت ممکن ہے جب ہمارے والد اس کی اجازت دیں گے۔ اگر انہوں نے نہ دی تو پھر ہم کچھ نہ کرسکیں گے۔ اس کی بقیہ تفصیل آنے والی آیات میں بیان کی جائے گی۔ اس موقع پر بعض مفسرین نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر حضرت یوسف چاہتے تو اپنے حال کی اطلاع اپنے والد کو کرا سکتے تھے۔ کسی کے ذریعہ کہلا سکتے تھے پھر کیا وجہ ہوئی کہ انہوں نے اپنے والد، والدہ اور گھر والوں کو اطلاع نہیں دی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے موجودہ دور میں ہمیں اطلاعات کے بہت سے ذرائع حاصل ہیں اس زمانہ میں نہیں تھے۔ دوسرے یہ کہ اگر تمام روایات پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ تیس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے آپ کو اتنا وقت ہی نہیں ملا کہ آپ اس مسئلہ پر غور فرماتے وجہ اس کی یہ ہے جب آپ سات سال کے تھے اس وقت بھائیوں نے ان کو ایک غلام کی حیثیت سے مدین کے قافلے والوں کے ہاتھ فروخت کردیا تھا۔ مصر میں عزیز مصر کے گھر رہے ۔ بھری جوانی میں آپ کو نو سال تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑا۔ رہا ہوئے تو قحط کے حالات نے آپ کو دن رات مصروف کردیا اور آپ نے انتھک محنت سے ان حالات کو سنبھالا۔ بادشاہ بننے کے بعد اس کی شدید ترین ذمہ داریاں آپ کے سر آپڑیں۔ اگر غور کیا جائے تو اس عرصہ میں آپ کو اطلاع کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ نہیں آیا۔ دوسرے یہ کہ حضرت یوسف محض ایک بادشاہ ہی نہیں بلکہ اللہ کے نبی بھی ہیں اور انبیاء کرام کے تمام معاملات کو اللہ جس طرح حل فرمانا چاہتے ہیں فرماتے ہیں۔ ممکن ہے اس طرح کی اطلاع اللہ کی مصلحت کے خلاف ہو اور اللہ نے حضرت یوسف کو اس طرف متوجہ ہی نہ ہونے دیا ہو۔ بہرحال اس معاملہ کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
Ayahs 12:62–66لغات القرآن آیت نمبر 62 تا 66
(فتین نوجوان، خدمت کرنے والے) ( اجعلوا ڈالد و، کرو) ( بضاعۃ سامان، پونجی) ( رحال اسباب، سامان، کجاوا ) ( یعرفون وہ پہچانتے ہیں) ( انقلبوا وہ پلٹے اھل گھر والے) ( رجعوا وہ لوٹے) ( منع منع کردیا گیا ) (نکتل ہم ماپ لیں گے، ماپ کر لائیں گے) ( امن میں بھروسہ کروں گا ) (خیر بہترین) ( حافظ حفاظت کرنے والا) ( ارحم بہت رحم کرنے والا ) (فتحوا انہوں نے کھولا) ( متاع سامان) (وجدوا انہوں نے پایا ) (ردت لوٹا دیا گیا) ( مانبغی ہم کیا چاہتے ہیں ؟ ) ( نمیر (میر) مدد لائیں، گھر والوں کے لئے سامان لانا) ( نزداد ہم اضافہ کریں گے، زیادہ لائیں گے) ( بعیر اونٹ ) (کیل یسیر آسان بوجھ ) (موثق پکا وعدہ، پختہ قول ) (ان یحاط یہ کہ گھیر لیا جائے) ( وکیل کام بنانے والا، نگراں )
تشریح : آیت نمبر 62 تا 66
حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا تھا لیکن کسی مصلحت یا اللہ کے حکم سے آپ اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے اور یہ بھی چاہتے تھے کہ ان کے بھائی دوبارہ آئیں تاکہ یہ سلسلہ ختم نہ ہونے پائے۔ حضرت یوسف نے اپنے ملازمین سے یہ کہا کہ وہ تمام قیمت یا چیزیں جو غلہ کے بدلے میں دی گئیں ہیں واپس ان کے سامان میں رکھ دیں تاکہ وہ اس بات کو سمجھ جائیں کہ بادشاہ ان پر مہربان ہے اور وہ ان کے لئے اپنے دل میں احسان اور نیکی کرنے کا جذبہ رکھتا ہے، ممکن ہے حضرت یوسف کے بھائیوں نے ان کے ساتھ جو کچھ کیا تھا اس کا بدلہ بھالئی سے دینا چاہتے ہوں۔ بہرحال ان تمام کارروائیوں کا مقصد یہ تھا کہ یہ بھائی دوبارہ آئیں اور ان کو بادشاہ متاثر کرسکے۔ چناچہ جب یہ بھائی واپس کنعان پہنچے اور اپنے غلہ میں تمام ان چیزوں کو دیکھا جو قیمت کے طور پر بادشاہ کی خدمت میں پیش کی گئی تھیں تو وہ نہ صرف حیران رہ گئے بلکہ بادشاہ کی عنایتوں کے اور بھی قائل ہوگئے۔ انہوں نے اپنے والد حضرت یعقوب سے بادشاہ کی مہربانیوں اور بہترین اخلاق کی بہت تعریف کی جس سے حضرت یعقوب نے ان کو ڈھیروں دعائیں دیں اور بےانتہا خوش ہوئی۔ برادران یوسف نے والد صاحب کی خدمت میں وہ پوری تفصیل بھی بتائی جو بادشاہ نے ان سے کہی تھی کہ اگر آئندہ آتے وقت تم اپنے گیارہویں بھائی کو ساتھ نہیں لائے تو تم خود بھی یہاں مت آنا اور تمہارے ساتھ کوئی مہربانی کا معاملہ نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہم پر مکمل بھروسہ کیجیے ہم بن یا مین کی پوری طرح حفاظت و نگرانی کریں گے۔
حضرت یعقوب نے فرمایا کہ کیا میں تمہارے اوپر اس طرح بھروسہ کروں جس طرح یوسف کے بارے میں کیا تھا، حفاظت کے وعدوں کے باوجود تم اس کی حفاظت نہ کرسکے۔ میں تمہارے اوپر اعتماد اور بھروسہ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے بادشاہ مصر کی مہربانیوں کا کر کرتے ہوئے کہا کہ جس نے ہماری وہ تمام پونچی اور قیمت واپس کردی ہے اس سے کوئی نقصان پہنچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حضرت یعقوب کو جب تمام بھائیوں نے پکی قسمیں کھا کر اس بات کا یقین دلایا کہ وہ اپنی جان سے زیادہ بن یا مین کی حفاظت کریں گے تب حضرت یعقوب نے بن یا مین کو ساتھ لے جانے کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ میں اصلی بھروسہ اس سب سے زیادہ مہربان اللہ پر کرتا ہوں جو سب سے زیادہ اور بہتر حفاظت کرنے والا ہے۔ اس طرح انہوں نے اپنے بیٹوں کے ساتھ اپنے گیارہویں بیٹے بن یا مین کو جانے کی اجازت دیدی اور یہ نصیحت فرمائی کہ تم سب بھائی الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا ایک ہی دروازے سے مت جانا اس کی تفصیل اگلی آیات میں ارشادات فرمائی گئی ہے۔
Ayahs 12:67–68لغات القرآن آیت نمبر 67 تا 68
لاتدخلوا تم داخل مت ہو باب واحد ایک دروازہ متفرقۃ الگ الگ، جدا جدا ما اغنی میں نہیں بچا سکوں گا الحکم فیصلہ المتوکلون بھروسہ کرنے والے امر اس نے حکم دیا حاجۃ ضرورت، ایک منصوبہ قضی اس نے فیصلہ کیا ، ظاہر کیا علمنا ہم نے سکھایا
تشریح آیت نمبر 67 تا 68
گزشتہ آیات میں اس کی تفصیل بیان کی جا چکی ہے کہ برادران یوسف نے اپنے والد حضرت یعقوب کو اس بات کا یقین دلایا تھا کہ اگر وہ کہیں کسی قدرتی آفت کا شکار نہ ہوگئے تو وہ اپنی پوری قوت و طاقت سے اپنے بھائی بن یا مین کی حفاظت کریں گے۔ حضرت یعقوب نے اللہ پر بھروسہ کر کے اس بات کی اجازت دیدی کہ وہ بن یا مین کو اپنے ساتھ لے کر جائیں لیکن اس بات کی تاکید اور نصیحت بھی کردی کہ سب بھائی ایک ساتھ ایک دروازے سے داخل نہ ہوں بلکہ داخلہ کے وقت مختلف دروازے استعمال کئے جائیں تاکہ ان جوان اور صحت مندوں پر نظر نہ بیٹھے جائے۔ ممکن ہے یہ نصیحت اس بنا پر کی ہوتا کہ وہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ کیونکہ دنیا بھر سے لوگ ایک ہی مقصد کے لئے آ رہے ہوں تو مفادات کے ٹکراؤ کیوجہ سے ان کے خلاف کوئی سازش بھی ہو سکتی ھتی او بادشاہ تک نہ پہنچ پاتے۔ چناچہ سارے بھائیوں نے والد کی نصیحت پر پوری طرح عمل کیا اور الگ الگ دروازوں سے مصر میں داخل ہوگئے۔ حضرت یعقوب نے احتیاط اور ظاہری تدبیر کے طور پر یہ نصیحت کی تھی ورنہ اللہ کے حکم کے آگے کس کی چلتی ہے۔ ہر انسان کو اپنی ظاہری تدبیر کے ساتھ مکمل بھروسہ اور اعتماد اللہ ہی کی ذات پر کرنا چاہئے۔
بعض مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ حضرت یعقوب نے یہ تاکید اس لئے کی تھی کہ یہ سب بھائی انتہائی خوبصورت، جوان اور صحت مند تھے کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر کسی کی نظر بیٹھے جائے۔ دلیل کے طور پر انہوں نے یہ فرمایا ہے کہ نظر بد ایسی چیز ہے جس سے نبی کریم ﷺ نے بھی پناہ مانگی ہے۔ ایک واقعہ بہت مشہور ہے۔ نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی حضرت ابو سہل بن حنیف جو بہت خوبصورت تھے ایک مرتبہ غسل فرما رہے تھے، عامر بن ربیعہ کی نظر جب ان کے جسم پر پڑی تو ان کے منہ سے نکل گیا کہ میں نے تو اتنا حسین و خوبصورت بدن آج تک نہیں دیکھا۔ ابو سہل جب گھر پہنچے تو ان کو بخار آگیا۔ بخار اتنی شدت اختیار کر گیا کہ نبی کریم ﷺ کو اطلاع کی گئی آپ ﷺ تشریف لائے اور دیکھ کر سمجھ گئے کہ ان پر نظر بد بیٹھ گئی ہے۔ آپ نے پوچھا کہ ان کو کسی نے دیکھ کر تعریف تو نہیں کی تھی۔ آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ عامر بن ربیعہ نے ان کے بدن کی تعریف کی تھی۔ آپ ﷺ نے عامر بن ربیعہ کو بلا کر فرمایا کہ وہ اپنے وضو کا پانی کسی برتن میں جمع کر کے اس کو ابوسہل کے بدن پر ڈالیں۔ ایسا ہی کیا گیا اور وہ کچھ دیر بعد صحت مند ہوگئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی اپنے بھائی کو کیوں قتل کرتا ہے۔ تم نے ایسا کیوں نہ کہ جب ان کا بدن تمہیں بہت اچھا لگا تو تم اس کے لئے برکت کی دعا کرتے۔ یعنی ” ماشاء اللہ ولاقوۃ الا باللہ “ کہتے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ نظر بد کا الگ جانا حق ہے اور یہ ایک سچائی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ نظر بد ایسی چیز ہے کہ اگر آدمی کو لگ جائے تو اس کو قبر میں اور اونٹ کو لگ جائے تو اس کو ہاڈی میں پنچا دیتی ہے۔ علماء نے فرمایا ہے کہ آدمی جب بھی کسی ایسی چیز کو دیکھے جو اس کو پسند آجائے تو کہے ” ماشاء اللہ ولاقوۃ الا باللہ “ اس سے انشاء اللہ نظر بد کا اثر نہیں ہوگا۔ ۔