Ayahs 11:102–109لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 109
اخذ (لیا) المد شدید (شدید اور درد ناک) خاف (ڈر) یوم مجموع (جمع ہونے کا دن) یوم مشھود (حاضری کا دن) نوخر (ہم دیر کرتے ہیں۔ موخر کرتے ہیں) معدود (گنتی، مقرر) لاتکلم (بات نہ کرے گا) شقی (بدنصیب) سعید (خوش نصیب) زقیر (چیخنا، زور سے آواز لگانا) شھیق (دھاڑنا) فعال (بہت کرنیوالا) عطاء (بخشش، عطا کرنا) غیر مجذوذ (نہ منقطع ہونے والا) لاتک (لاتکن) تو نہ ہونا) مریدۃ (شک) مرفوا (پورا دینے والا) نصیب (حصہ) غیر منقوص (نہ گھٹنے والا)
تشریح : آیت نمبر 102 تا 109
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اسی لئے وہ لوگوں کے برے اعمال پر فوراً ہی سزا نہیں دیا کرتا بلکہ ان کو مہلت اور ڈھیل دیتا رہتا ہے۔ اگر کوئی شخص یا گروہ اپنے برے اعمال میں لگا رہتا ہے اور توبہ نہیں کرتا تو پھر اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں کہ پھر ان سے چھڑانے کی کسی میں ہمت و طاقت نہیں ہوتی۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو اپنے برے اعمال اور بد عملی کی زندگی سے توبہ کرلیتے ہیں وہ ابدی راحتوں کے مستحق بن جاتے ہیں ایسے ہی لوگوں کو ” سعید اور اس کے مقابلے میں شقی “ فرمایا گیا ہے ۔
سعید وہ اہل ایمان ہیں جو قدم قدم پر نیک اعمال کو اپنا کر صراط مستقیم پر چلتے ہیں اور اپنے ہر کام میں اللہ کی رضا و خوشنودی تلاش کرتے ہیں ان کے لئے جنت کی وہ ابدی راحتیں ہیں جو ان سے کبھی منقطع نہ ہونگی۔ اس کے برخلاف وہ لوگ
جنہوں نے کفر و شرک کا راستہ اختیار کر رکھا تھا اور کسی سمجھانے والے کی بات کو نہ سمجھتے تھے وہ شدید کرب و اذیت میں مبتلا ہوں گے۔ ان کو ایسی آگ میں جھونک دیا جائے گا جس میں ان کو ہمیشہ ہمیشہ جلتے رہنا ہوگا اگر کسی شخص نے ایمان قبول کرلیا لیکن اس نے اعمال صالح کو اپنی زندگی نہیں بتایا۔ قیامت کے دن اگر اس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہوگا تو وہ اپنی بد عملی کی سزا بھگت کر جنت میں جائے گا اور اس میں ہمیش رہے گا۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ایمان لانے کے بعد ہم عمل کریں یا نہ کریں آخر کار ہماری بخشش ہوجائے گی۔ یہ تصور یہودیوں والا تصور بن جائے گا۔ کیونکہ ان کو اسی بات پر ناز تھا کہ ہم کچھ بھی کرتے رہیں جنت ہماری ملکیت ہے دو تین دن سزا بھگت کر پھر جنت میں چلے جائیں گے اور اگر اللہ نے چاہا تو یہ سزا بھی بھگتنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں سے فرمایا ہے کہ ایسے لوگ دنیا کی زندگی میں تو ہزار ہزار سال جینے کی تمنا رکھتے ہیں جب کہ ان کا یہ گمان ہے کہ جنت ان کی ملکیت ہے۔ اللہ نے ایسے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر جنت تم لوگوں کے لئے ہے تو پھر دنیا کی مصیبتیں کیوں برداشت کر رہے ہو موت کی تمنا کرو اور جنت میں پہنچ جائو۔ حالانکہ یہ ان لوگوں کا خیال ہی خیال ہے۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اہل ایمان کے لئے ہم جو بات کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص صاحب ایمان ہے لیکن وہ ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل نہ کرسکا تو اس کو بدعملی پر سزا تو ضرور ملے گیا ور اگر رائی کے برابر بھی ایمان ہوگا تو اس کی نجات ہوگی۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ نیک عمل کرے یا نہ کرے وہ جنت میں ضرور جائے گا یہ اس کی بھول ہوگی۔ وجہ یہ ہے کہ یہ نجات کا وعدہ رائی برابر ایمان کے ساتھ مشروط ہے۔ کیا خبر ہے کہ وہ شخص جو سمجھتا ہے کہ اس کی بخشش تو ہو ہی جائے گی خواہ وہ کچھ بھی کرتا پھرے اس کا ایمان بھی سلامت ہے یا نہیں۔ اگر اس کا ایمان سلامت ہے تو اس کی بخشش ضرور ہوگی لیکن اگر اس نے بد دعادات و خرافات اور شرکیہ اعمال میں پڑ کر اپنا ایمان ہی کھو دیا ہے تب اس کی نجات نہیں ہو سکتی۔ انسان کو ہر وقت اس بات سے ڈرتیر رہنا چاہئے کہ اس کا ایمان اور اس کے اعمال اللہ کے ہاں قبول بھی ہیں یا نہیں ؟
اگر ایمان کے ساتھ اس کے معملوی اعمال بھی برقرار ہیں تو انشاء اللہ وہ جنت میں ضرور جائے گا اور وہ ابدی راحتوں سے ہم کنار ہوگا۔
Ayahs 11:110–113لغات القرآن آیت نمبر 110 تا 113
اختلف (اختلاف کیا گیا) کلمۃ (حکم) سبقت (گذر گیا، گذر گئی) قضی (فیصلہ کردیا گیا) مریب (شبہ میں ڈالنے والا) کل (ہر ایک، سب کے سب) لیوفین (پورا کئے جائیں گے) استقم (سیدھا رہ) امرت (تجھے حکم دیا گیا ) تاب (متوجہ ہوا ، توبہ کی) لاتطغوا (نافرمانی نہ کرو) لاترکنوا (تم مائل نہ ہو) تمس (پہنچے گی ) اولیاء (ولی) ، دوست، حمایتی ) لاتنصرون (تم مدد نہ کئے جائو گے)
تشریح :- آیت نمبر 110 تا 113
کفار و مشرکین اور مناقفین کو جب بھی موقع ملتا وہ دین اسلام اور نیب کریم ﷺ کی ذات پاک پر کیچڑ اچھالنے اور اسلام کی تعلیمات کو لوگوں کی نگاہوں میں بےوقعت اور بےقیمت بنانے میں کسر نہ چھوڑتے، کبھی مذاق اڑاتے، کبھی بےبنیاد پروپیگنڈا کرتے اور کبھی قرآن کریم کی بعض آیات کی تصدیق کرتے اور کبھی انکار ان باتوں سے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کو شدید ذہنی تکلیف پہنچتی تھی۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے نبی مکرم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ ان ظالموں کی باتوں کی پرواہ نہ کریں اور اللہ کے دین کو پہنچانے میں اپنی صلاحیتوں کو کام میں لائیں۔ یہ اسلام کے دشمن خود ہی صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔ اس جگہ پر بھی اللہ تعالیٰ نبی مکرم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرما رہے ہیں کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں کی پرواہ نہ کریں جو قرآن کریم میں اختلاف کر رہے ہیں یہ تو ان لوگوں کا وہ مزاج ہے جس پر یہ ہمیشہ سے چلے آئے ہیں۔ حضرت موسیٰ کو توریت جیسی عظیم کتاب دی گئی تھی لیکن انہوں نے اس میں بھی کجی اور ٹیڑھ پن تلاش کرنے میں کسر نہیں چھوڑی تھی۔ فرمایا آج اگر یہ اسی روش پر چلتے ہوئے قرآن کریم میں اختلاف کر رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آپ ان کی پرواہ نہ کیجیے۔ اللہ جب چاہے گا ان کے لئے فیصلہ کر دے گا لیکن اس اللہ نے ایک مدت مقرر کی ہوئی ہے جس میں ان کی جہالتوں کا ان کو بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ نے اگر یہ فیصلہ نہ کیا ہوا ہوتا تو ان کو وہ کسی بھی وقت تہس نہس کرسکتا تھا۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ خود اور وہ حضرات جنہوں نے کفر و شرک سے توبہ کر کے ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرلی ہے اپنی جگہ پوری استقامت سے عمل کرتے رہیں اور ان کی طرف نہ دیکھئے جن کے لئے جہنم مقدر کردی گئی ہے اور ان کا بھیانک انجام ہے۔
اصلم میں مخالفت کے طوفانوں میں عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق، معاشرت اور کسب معاش میں اس طرح سے ڈٹ جانا کسی حال میں اس ڈگر سے نہ ہٹنا اور جم کر کفر، شرک ، منافقت اور بد دعات و خرافات کا مقابلہ کرنا نہیات مشکل کام ہے لیکن وہ لوگ جو ہر طرف سے منہ پھیر کر اللہ و رسول کی فرماں برداری میں حالات کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں اور بڑے سے بڑا لالچ اور تمنا ان کے پائے استقلال میں لرزش بھی پیدا نہیں کرتی تو وہی کامیاب و بامراد ہیں۔
نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثاروں کو کفار و مشرکین نے ایسی ایسی تکلیفیں پہنچائیں اور ظلم و ستم کی انتہا کردی جن کے تصور سے روح بھی کانپ اٹھتی ہے لیکن ان کے قدموں میں ذرا بھی لرزش پیدا نہیں ہوئی۔ آج نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرم کی اسی استقامت نے دین اسلام کو دنیا کے ایک ایک کونے میں پہنچا دیا اور ان ہی کے صدقے میں آج ہم مسلمان ہیں۔ اگر وہ استقامت نہ دکھاتے تو صورتحال مختلف ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ یہی فرما رہے ہیں کہ اے نبی ﷺ آپ اور آپ کے جاں نثار صبر و استقامت کے ساتھ حق و صداقت کیلئے ڈٹ جائیں، ان کفار کو اپنا کام کرنے دیں۔ انہوں نے نہ تو کل اللہ کے دین کو تسلیم کیا تھا اور نہ آج کریں گے۔ لیکن جو خوش نصیب ہیں وہ اسلام کی دولت سے ضرور مالا مال ہوں گے اور کفار و مشرکین اس دنیا میں اور آخرت میں سوائے برے انجام کے اور کچھ بھی حاصل نہ کرسکیں گے۔
Ayahs 11:114–117لغات القرآن آیت نمبر 114 تا 117
اقم (قائم کیجیے) طرفی (طرفین) دونوں طرف، دو کنارے النھار (دن) زلف (زلفۃ کی جمع) ، رات کا حصہ جو دن سے ملا ہوا ہو الیل (رات) الحسنت (الحسنۃ) نیکیاں یذھبن (جائیں گی (لے جائیں گی) السیئات (السئنۃ) برائیاں ذکری (دھیان) اصبر (صبر کیجیے) لایضیع (ضائع نہیں کرتا) اجر (بدلہ) المحسنین (نیکیاں کرنے والے) القرون (قومیں) اولوبقیۃ (صاحبان خیر، نیکیاں کرنے والے) اترفوا (مزہ پایا، فائدہ حصال کیا) مصلحون (اصلاح کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 114 تا 117
سورة ھود میں اللہ تعالیٰ نے سات انبیاء کرام کی دین کی سربلندی کے لئے ان کی جدوجہد اور ان سعادت مندوں کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے اطاعت انبیاء اور ایمان کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش کی اور وہ لوگ جنہوں نے انیباء کرام کی اطاعت و فرماں برداری کا اناکر کر کے اللہ کے غضب کو دعوت دی تھی تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اس سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی وساطت سے ساری امت کے لئے چند اصولی باتیں ارشاد فرمائی ہیں :
1) پہلی بات تو یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ ان ظالموں کو ان کے حال پر چھوڑ دیجیے اور صبح و شام اور رات کی تاریکیوں میں نہایت خشوع اور خضوع سے اللہ کی بندگی و اطاعت کے لئے نمازیں قائم کیجیے نماز ہی نجات کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جو برائیوں کو دور کرکے برائی کی ہر صورت کو اچھائیوں میں تبدیل کردیتی ہے۔ یہ ایک ایسا نور ہے جس سے ہر ظلمت اور تاریکی چھٹتی چلی جاتی ہے۔ قرآن کریم کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ صبر اور صلوۃ کامیابی اور کامرانی کی کنجی ہے۔ قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر صبر و صلوۃ کے ذریعہ استقامت حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔
2) دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ فساد فی الارض کی کوئی بھی شکل ہو اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ فرمایا گیا کہ ایسا کیوں نہ ہوا کہ ہر قوم میں سے وہ لوگ آگے بڑھ کر فساد کو جڑ و بنیاد سے کھود کر رکھ دیتے جن کو اللہ نے دین کی عقل اور سجھ عطا فرمائی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امت کے ہر اس فرد کی ذمہ داری ہے (جس کو اللہ نے راہ ہدایت عطا فرمائی) کہ وہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے فرض کو سرانجام دینے کی ممکن کوشش کرے۔ امت محمدیہ ﷺ میں خیر امت کے ہر فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ پوری دنیا کے لوگوں کو ہر برائی سے روکنے اور ہر اچھائی پر قائم کرنے کی جدوجہد کرے اور فساد کی کوئی بھی شکل ہو اس کو دور کرنے کی جدوجہد میں سب سے آگے بڑھ کر کام کرے۔
3) تیسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ گزشتہ قوموں کی تباہی میں سب سے بڑا سبب یہی تھا کہ اللہ نے ان کو ہر نعت سے نوازا، خوش حالی اور عیش و عشرت کا ہر سامان عطا فرمایا مگر انہوں نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے بدمستی اور جرائم کا ایسا ارتکاب کیا کہ وہ قوم کفر و شکر اور مصیبت و گناہ میں غرق ہوتی چلی گئیں۔ ہر وہ شخص جو ان کو نصیحت کرتا ان کے لئے دنیا و آخرت کی بھلائی کی بات کرتا وہ ان کے لئے بارگراں بن کر رہ گیا تھا اور انہوں نے اپنی عیاشیوں کے سامنے انبیاء کرام کی تعلیمات تک کو نظر انداز کردیا تھا نتیجہ یہ ہوا کہ جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری کی ان کو تو نجات مل گئی لیکن جنہوں نے نافرمانی کا طریقہ اختیار کیا ان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا گیا اور وہ اللہ کے شدید عذاب کی نظر ہو گے۔
4) چوتھی بات یہ ارشاد فرمائی گئی کہ اگر کوئی جماعت اپنی اصلاح میں لگ جاتی ہے تو اللہ کی لغزشوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ اللہ جو اپنے بندوں پر نہایت مہربان اور رحم کرنیوالا ہے اس کو یہ شوق نہیں ہے کہ اپنے بندوں کو عذاب میں مبتلا کر دے بلکہ وہ بھی اپنی اصلاح کی فکر کرتا ہے اللہ اس کو پورا پورا موقع عطا فرماتے ہیں۔
Ayahs 11:118–123لغات القرآن آیت نمبر 118 تا 123
شآء (اس نے چاہا) لجعل (البتہ وہ بنا دیتا) امۃ واحدۃ (ایک جماعت) لا یزالون (ہمیشہ) رحم (رحم کیا) خلق (اس نے پیدا کیا) املئن (میں بھردوں گا) نقص (ہم بیان کرتے ہیں نثبت (ہم جما دیتے ہیں) فواد (دل) موعظۃ (نصیحت) ذکری (دھیان، توجہ دینے کی چیز) انتظروا (تم انتظار کرو) توکل علیہ (اس پر بھروسہ کیجیے)
تشریح : آیت نمبر 118 تا 123
سورة ھود کی ان آخری آیات میں چند بہت ہی بنیادی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جو درحقیقت اس سورت کا خلاصہ بھی ہیں۔
1) پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت اور ایک ہی ملت بنا دیتی کبھی ان کے درمیان اختلاف پیدا نہ ہوتا وہ سب کے سب ایک ہی مرکز کے گرد گھومتے رہتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انسانوں زمین، آسمان، چاند ، سورج، ستاروں، پہاڑوں اور دریاؤں کی طرح ان کو بےاختیار نہیں رکھا بلکہ انسانوں کو اختیار اور انتخبا کی آزادی دے کر اس کی قدرت بخش دی کہ وہ اچھے یا برے اعمال میں سے جس راستے کا چاہیں انتخبا کرلیں اچھائی اور برائی، جنت اور جہنم دونوں کے راستے کھول دیئے۔ اب یہ انسان کی اپنی پسند ہے کہ وہ ان میں سے کس راستے کا انتخاب کرتا ہے اسی پر فیصلہ ہوگا۔ اسی آزادی انتخاب کی وجہ سے اختلافات ہونا، عمل اور طبیعتوں میں فرق پیدا ہونا فطری بات ہے۔ نتیجہ یہ کہ کچھ لوگ سچے دین سے بھی اختلاف کرتے ہیں اور یہ سلسلہ قائم رہے گا۔
اس جگہ اور اختلاف کا فرق سمجھنا ضروری ہے۔ خلاف کے معنی ہیں ضد ہٹ دھرمی اور اپنی ہر بات پر بےجا اصرار جب کہ اختلاف کے معنی اس کے برعکس ہیں یعنی کسی علمی، فکری معاملہ میں اتجہادی اختلاف کرنا۔ درحقیقت قرآن و سنت کے خلاف کرنا، ضد اور ہٹ دھرمی پر جم جانا یہ خلاف شریعت ہے جبکہ اختلاف کرنا یہ رحمت ہے اسی لئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔ اختلاف امتی رحمتہ میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔ صحابہ کرام، علماء کرام اور ائمہ مجتہدین کے اختلافات سے علم کے ہزاروں پہلو نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں کیونکہ اس اختلاف میں ضد نفسانیت ، غرور اور تکبر نہیں تھا بلکہ عاجزی، انکساری اور علمی فکر بنیاد ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ ائمہ مجتھدین کے نزدیک ایک بات بہت اہم ہوتی ہے جس پر ان کی رائے ہوتی ہے لیکن جب دلائل سے ان کو یہ بتایا جاتا ہے کہ قرآن و سنت کے مطابق فلاں اصول بنتا ہے تو انہوں نے کھی خلاف نہیں کیا بلکہ اپنی رائے سے فوراً رجوع کرلیا۔ اس کی سینکڑوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ خلاف اور اختلاف میں یہی بنیادی فرق ہے۔
2) سورة ھود میں سات انبیاء کرام اور ان کی امتوں کا ذکر خیر نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام کو یہ تسلی دینے کے لئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کے نبیوں اور رسولوں کی بات کو مان کر دین اسلام کی سچائیوں کو قبول کیا نجات ان ہی لوگوں کو نصیب ہوئی لیکن جن لوگوں نے اس کے برخلاف ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیا ان کی دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو کر رہیں۔ ان واقعات پر سرسری نظر ڈالی جائے تو چند باتیں نکھر کر سامنے آتی ہیں۔
(الف) نبی کریم ﷺ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ اس بات سے یقینا آپ کو سکون قلب اور اطمینان حاصل ہوجائے گا کہ اللہ کا دین پہنچانے میں انبیاء کرام کو کس قدر مشکلات اور پریشانیاں اٹھانا پڑی ہیں۔ جاہلوں اور لا علم لوگوں کی اذیت پر انہوں نے کس قدر تحمل اور برداشت سے کام لیا تھا مگر انجام یہ ہوا کہ اللہ نے ان پر ایمان لانے والوں کو دنیا اور آخرت میں سرخ روا اور کامیاب فرمایا اور جنہوں نے ان کی اطاعت و فرماں برداری سے انکار کیا اور غرور تکبر کا طریقہ اختیار کیا اللہ نے ان کو اور ان کی تہذیب کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا۔
(ب) حق و صداقت کی بات اور آواز کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو آخر کار کامیابی اور سرفرازی حق و صداقت کی راہ اختیار کرنے والوں ہی کو نصیب ہوتی ہے اور وہی کمزور آواز قوت و طاقت بن جاتی ہے۔
ْ (ج) امت محمدیہ ﷺ کو بتایا جا رہا ہے کہ وہ ان تمام باتوں سے بچنے کی ہر ممکن تدبیر کریں جن سے گزشتہ انبیاء کرام کی امتیں تباہ و برباد کردی گئیں۔
( ’) نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! آپ واضح الفاظ میں ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو آپ کے مخاطب ہیں کہ اگر تم نے صراط مستقیم کو اختیار نہیں کیا اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر جمے رہے تو برے انجام کے لئے تم تیار رہو اور انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں اور آخری بات یہ فرمائی گئی کہ زمین و آسمان کے تمام غیب کا علم اللہ کو ہے وہ جانتا ہے کہ اس کی بنائی ہوئی کائنات کو کس طرح چلایا جاتا ہے وہ اس میں کسی کا محتاج نہیں ہے اور کوئی بھی شخص اللہ کو اپنا محتاج نہ سمجھے بلکہ ہر بات اور ہر معاملہ اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جائے گا وہ اس کے مطابق فیصلہ فرمائے گا لہٰذا اے نبی ﷺ آپ اسی ایک اللہ کی عبادت و بندگی کیجیے اور زندگی کے ہر معاملہ میں اسی ایک ذات پر بھروسہ کیجیے وہ ایک ایک انسان کے ہر عمل سے ہر آن واقف ہے اور اس کا پورا پورا بدلہ عطا فرمائے گا۔
الحمد للہ سورة ھود کا ترجمہ و تشریح مکمل ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کریم پر عمل کرنے اور سنت انبیاء کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین