Ayahs 11:69–76لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 76
رسلنا (ہمارے بھیجے گئے، بھیجے ہوئے) البشری (خوش خبری) سلام (سلام، سلامتی) مالبت (نہیں ٹھہرا) عجل (بچھڑا) حنید (بھنا ہوا) را (اس نے دیکھا) ایدیھم (ان کے ہاتھ) لاتصل (نہیں پہنچ رہے ہیں) نکر (اوپرا، عجیب سا لگا) او جس (اس نے محسوس کیا) خیفۃ (خوف) لاتخف (ڈر مت) قائمۃ (کھڑی ہونے والی) ضحکت (ہنس پڑی) وراء (پیچھے) یویلتی (ہائے افسوس) ء الد (کیا میں جنوں گی، (میرے یہاں ولادت ہوگی) عجور (بڑھیا، زیادہ عمر کی ہوجانا) بعلی (میرا شوہر) شیخ (زیادہ بوڑھا ہونا) اتعجبین (کیا تم تعجب کر رہی ہو ؟ ) اھل لبتک (گھر والے) حمید (تمام تعریفوں والا) مجید (تمام عظمتوں والا) الروع (گھبراہٹ) یجادلنا (وہ ہم سے جھگڑنے لگا ) حلیم (بہت برداشت کرنے والا) اواہ (نرم دل) منبی (بہت رجوع کرنے والا) اعرض (در گذر کرو، جانے دو ) غیر مردود (ہٹنے والا نہیں ہے)
تشریح : آیت نمبر 69 تا 76
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح، حضرت ھود اور حضرت صالح اور ان کی قوموں کے واقعات کو بیان فرمان کے بعد حضرت ابراہیم اور حضرت لوط کے دو واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی قدرت کاملہ کو بیان فرمایا ہے۔ بڑھاپے کی عمر میں حضرت ابراہیم کو حضرت اسحاق جے سو فرزند کی خوشخبری اور حضرت لوط کی قوم کی نافرمانی کے سبب قوم لوط پر عذاب کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے جو آپ کے ساتھ عراق سے ہجرت کر کے تشریف لائے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط کو نبی بنا کر بھیجا جو شام و فلسطین کے علاقے میں بسنے والی قوم کی اصلاح فرماتے رہے۔ موجودہ دور میں اسرائیل اور اردن کے درمیان بحرمیت (DEAD SEA) کے نام سے ایک سمندر ہے جس کے لئے یہ مشہور ہے کہ اس سمندر میں گہرائی کے باوجود کوئی چیز ڈوبتی نہیں اور نہ اس میں کسی طرح کے جان دار زندہ رہ سکتے ہیں کسی وقت یہ سمندر نہیں بلکہ انسانوں کی جیتی جاگتی بستیاں تھیں جو کو سدوم اور عامورہ کی بستیاں کہا جاتا تھا۔ جب قوم لوط کی مسلسل نافرمانیوں اور غیر فطری اعمال کی وجہ سے اس قوم پر عذاب نازل کیا گیا تب یہ بستیاں زلزلوں کے جھٹکوں کی وجہ سے تباہ و برباد کردی گئیں۔ نہ صرف یہ بستیاں الٹ دی گئیں بلکہ سطح سمندر سے چار سو میٹر نیچے چلی گئیں۔ یہ سمندر جو کہ وادی غوار میں واقع ہے جس کو بحرمیت کہا جاتا ہے آج بھی ساری دنیا کے لئے نشان عبرت ہے۔
قوم لوط میں بدترین بےحیائیوں اور بےشرمیوں کا اس طرح رواج ہوگیا تھا کہ پوری قوم کے نزدیک ” عمل لواطت “ ایک فیشن بن گیا تھا وہ عورتوں کے بجائے لڑکوں اور مردوں سے اختلاط رکھتے تھے۔ حضرت لوط نے اپنی قوم کو اس برے اور بدترین عمل سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن یہ قوم اپنی حرکتوں سے باز نہ آئی اور آخر کار اس قوم پر وہ عذاب نازل ہوا جو اس سے پہلے کسی قوم پر نازل نہ ہوا تھا۔ ان پر آسمان سے پتھر برسائے گئے اور ان کی بستیوں کو اس طرح الٹ دیا گیا کہ آج ان کے شہر اور ان کی بستیاں سمندر کے نیچے چلی گئیں اور غرق کردی گئیں۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی مسلسل نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو تباہ و برباد کرنا چاہا تو چند فرشتوں کو لڑکوں کی شکل میں بھیجا ۔ یہ وہ فرشتے تھے جو سب سے پہلے حضرت ابراہیم کے پاس حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کی پیداش کی خوش خبری لے کر آئے تھے۔ جب یہ فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس پہنچے تو آپ ان کو اجنبی مہمان سمجھ کر فوراً گھر کی طرف تشرفی لے گئے ایک بچھڑا تھا اس کو ذبح کر کے اور اس کو بھون کر مہمانوں کے پاس لے آئے اور فرمایا کہ یہ کھانا کھا لیجیے۔ جب حضرت ابراہیم نے دیکھا کہ وہ اجنبی مہمان کھانے کی طرف اپنا ہاتھ نہیں بڑھا رہے ہیں تب ان کو اندیشہ ہوا کہ یہ کیا معاملہ ہے ؟ کیونکہ اس زمانہ میں رواج یہ تھا کہ جب کوئی کسی کا دشمن ہونا تھا تو وہ اس کے گھر کھانا نہیں کھاتا تھا۔ حضرت ابراہیم اس سوچ میں تھے کہ اس دوران اجنبی مہمانوں نے حضرت ابراہیم کو بتایا کہ وہ کھانا اس لئے نہیں کھا رہے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے فرشتے ہیں جو آپ کو حضرت اسحاق و یعقوب (علیہ السلام) کی خوش خبری دینے اور قوم لوط کو برباد کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔
بیٹے کی خوش خبری سن کر حضرت ابراہیم اور آپ کی بیوی حضرت سارہ حیران رہ گئے۔ حضرت سارہ اس تصور سے ہنس پڑیں کہ حضرت ابراہیم تو بوڑھے ہوچکے ہیں اور میں بانجھ ہوں جس کے ہاں اولاد ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ فرشتوں نے کہا کہ اے اہل بیت رسول کیا تمہیں اللہ کی رحمت واقع ہونے میں تعجب ہو رہا ہے حالانکہ اس کی قدرت سے تو کوئی چیز بھی باہر نہیں ہے ادھر حضرت ابراہیم اس تصور سے افسردہ ہوگئے کہ قوم لوط نے توبہ نہیں کی اور بالآخر ان کا بھیانک انجام سامنے آگیا ہے۔ حضرت ابراہیم جو نہایت حلیم الطیع اور نرم مزاج تھے اللہ کے سامنے فریاد کرنے لگے تاکہ قوم لوط پر عذاب کا جو فیصلہ کرلیا ہے وہ ٹل جائے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرمایا گیا کہ اب اس قوم پر عذاب کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جس کو ٹلایا نہیں جاسکتا اور یہ عذاب آ کر رہے گا۔
اس موقع پر قرآن کریم کا مطالعہ کرنے والوں کے ذہن میں یہ سوال ابھر سکتا ہے کہ جب اللہ کے فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس آئے کیا ان کو اس بات کا علم تھا کہ یہ فرشتے ہیں ؟ اگر علم تھا تو بھنا وہا بچھڑا کیوں لے کر آئے اسی طرح جب یہ فرشتے لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط کے پاس پہنچے ہیں کیا ان کو اس بات کا علم تھا کہ یہ فرشتے ہیں ؟ یہ ایک سوال ہے جس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کرام کو جتنا علم عطا فرماتے ہیں ان کو اتنا ہی علم حاصل ہوتا ہے۔ اللہ ہی کی ذات ہے جو عالم الغیب وا لشھادہ ہے جو موجود اور غیب کا جاننے والا ہے اللہ کے سوا کسی کو عالم الغیب کہنا قرآن تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔
Ayahs 11:77–83لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 83
سیء (رنجیدہ ہوا) ضاق (تنگ ہوگیا) یوم عصیب (بھاری دن۔ مشکل وقت ) یھرعون (وہ دوڑتے ہیں) السیئات (سیئۃ ) برائیاں بناتی (میری بیٹیاں) اطھر (زیادہ پاک باز، صاف ستھری) لاتخزون (تمجھے مجھے رسوا نہ کرو) ضیفی (میرے مہمان) رجل (مرد) رشید (زیادہ بہتر، زیادہ سمجھ دار) اوی (لینے والا) رکن شدید (مضبوط سہارا) لن یصلوا (وہ ہرگز نہ پہنچیں گے) اسر (رات کو نکل جا) قطع (حصہ) اللیل (رات) لایلتفت (توجہ نہ کرنا) امراتک (تیری بیوی) عالیھا (اس کے اوپر کو) سافلھا (اس کے نیچے) امطرنا (ہم نے برسایا) سجیل (پکی اینٹ) منضود (پتھر) مسومۃ (نام لکھا ہوا، متعین و مقرر)
تشریح : آیت نمبر 77 تا 83
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے حضرت ابراہیم کو حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی پیدائش کی خوش خبری دے کر حضرت لوط کے پاس چند نوجوان اور خوبصورت لڑکوں کی شکل میں پہنچے۔ اب اس کی تفصیل ارشاد فرمائی جا رہی ہے۔
حضرت لوط ان فرشتوں کو پہچان نہ سکے اور عام نوجوان سجھ کر اس تصور سے پریشان ہوگئے کہ ان کی قوم ان لڑکوں کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے کیونکہ وہ اپنی قوم کے مزاج سے اچھی طرح واقف تھے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لوط کی بیوی جس نے ایمان قبول نہیں کیا تھا اور اپنے کفر پر قائم تھی اس نے قوم لوط کو اس بات کی اطلاع دیدی تھی کہ حضرت لوط کے پاس چند خوبصورت نوجوان لڑکے بطور مہمان آئے ہوئے ہیں۔ چناچہ پوری قوم کے سارے بدکار لوگ حضرت لوط کے گھر پر ٹوٹ پڑے اور ان سے یہ مطالبہ کیا کہا ن لڑکوں کو ان کے حوالے کردیا جائے۔ حضرت لوط اس تصور سے سخت پریشان ہوگئے کہ یہ لوگ میری بےعزتی کرنے سے باز نہیں رہیں گے اور زبردستی کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ حضرت لوط نے ان کو وعظ و نصیحتک رتے ہوئے دو باتیں ارشاد فرمائیں کہ دیکھو اپنی بدکرداریوں کو چھوڑ کر نیک اور بہتر راستہ اختیار کرو، تم جس بد عملی میں راحت تلاش کرنے کی کوشش کر رہے وہ وہ تمہیں برباد کر کے رکھ دے گی۔ کیا قوم کی بیٹیاں موجود نہیں ہیں جن سے نکاح کر کے تم پاکیزہ زندگی گذار سکتے ہو۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں ایک بھی سمجھ دار آدمی نہیں ہے۔ حضرت لوط کے وعظ و نصیحت کو سن کر کہنے لگے کہ لوط تم جانتے ہو کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں اور عورتوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے تمہیں معلوم ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں اب تم ان مہمانوں کو ہمارے حوالے کر دو اور بس۔ حضرت لوط پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے اور وہ قوم کی بےحسی پر تڑپ کر رہ گئے اور کہہ اٹھے کہ اگر میرے اندر طاقت و قوت ہوتی یا کوئی مضبوط پناہ گاہ ہوتی جہاں میں پناہ لے لیتا اور یہ رسوائی کا دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ قوم کی بدکرداری اور بےحسی اور حضرت لوط کی پریشانی دیکھ کر ان فرشتوں نے کہا کہ اے لوط آپ پریشان نہ ہوں ہم اللہ کے فرشتے ہیں جو اس بدکردار قوم کو تباہ کرنے کیلئے بھیجے گئے ہیں۔ آپ تک یہ لوگ نہ پہنچ سکیں گے۔ آپ رات کے کسی حصے میں سوائے اپنی بیوی کے اپنے اہل خانہ اور مومنین کو لے کر نکل جائیے اور پیچھے پلٹ کر نہ دیکھیے کیونکہ اس قوم پر عذاب کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اب یہ قوم اس عذاب سے بچ نہ سکے گی۔ حضرت لوط جو اپنی قوم کے انتہائی مخلص تھے یقینا یہ سن کر اور بھی پریشان ہوگئے ہوں گے۔ پھر بھی قوم کو سمجھاتے رہے لیکن وہ بدقسمت قوم اپنے برے انجام سے بیخبر اپنی ناجائز خواہشات اور تمناؤں میں الجھی رہی ۔ رتا کے آخری حصے میں حضرت لوط اور ان کے اہل ایمان گھر والے اور مومنین روانہ ہوگئے۔ ان کے چلے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آگیا۔ ان پر آسمان سے پتھر برسائے گئے اور ان کی بستیوں کو الٹ دیا گیا اور وہ پوری قوم اپنی بد عملی کے نتائج کا شکار ہوگئی۔
دراصل غیر فطری اعمال اللہ کو اس قدر ناپسند ہیں کہ جو قوم اور اس کے افراد اس خرابی اور گندی میں مبتلا ہوتے ہیں ان کو تہس نہس کر کے رکھ دیا جاتا ہے اور ایسی قوم اللہ کے فیصلے سے بچ نہیں سکتی۔ ہم اپنے اس دور میں دیکھ رہے ہیں کہ بعض ترقی یافتہ قومیں بڑی تیزی سے اس ” عمل بد “ کو قانونی تحفظ دے رہی ہیں۔ قانونی تحفظات کی وجہ سے عجب نہیں کہ ان کے لئے اللہ کا فیصلہ آجائے۔ امریکہ، کینیڈا، اور یورپ میں جس طرح اس فعل بد کو قانونی تحفظ دیا جا رہا ہے اس سے ایک تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ پوری قوم اس مرض میں مبتلا ہو چیک ہے اسی لئے قانونی تحفظ کی ضرورت پڑ رہی ہے دوسرے یہ کہ اس مرض کے عام ہونے سے ایسی ایسی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں جو ناقابل علاج ہیں۔ چناچہ ایڈز جیسی بیماری بھی اس فعل بد کا نتیجہ ہے ممکن ہے قانون کا تحفظ دینے والے اسی عذاب کا شکار ہوجائیں یا ان کی بستیوں پر سمندر اس طرح چڑھ دوڑے گا کہ وہ اپنی عمارتوں اور شہروں کو اس عذاب سے نہ بچا سکیں گے۔ ہر بحال میری نگاہیں تو یہ دیکھ رہی ہیں کہ اب ان قوموں کے بچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جس دن اللہ کا یہ عذاب آجائے گا اس دن ساری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی اس سے نجات حاصل نہ کرسکیں گی۔ اب بھی توبہ کا وقت ہے۔ وقت نکل گیا تو پھر ہر چیز الٹ کر رہ جائے گی۔
Ayahs 11:84–88لغات القرآن آیت نمبر 84 تا 88
لاتنقصوا (تم کمی نہ کرو) المکیال (ماپ) المیزان (تول) انی اری (بےشک میں دیکھ رہا ہوں) بخیر (خیر سے، بھلائی سے، اچھا حال) یوم محیط (گھیر لینے والا دن ) القسط (انصاف، برابری) لاتبخسوا (نہ گھٹائو، کمی نہ کرو) اشیاء (چیزیں) لاتعثوا (تم نہ پھرو، نہ گھومو) بقیت اللہ (اللہ کا بچایا ہوا) حفیظ (نگہبان، نگران) تامرک (تجھے حکم دیتی ہے) ان نترک (یہ کہ ہم چھوڑ دیں) ان نفعل (یہ کہ ہم کریں) نشآء (ہم چاہیں) رزقنی (اس نے مجھے دیا) انھی (میں منع کرتا ہوں، روتکا ہوں) ارید (میں چاہتا ہوں) استطعت (میں طاقت رکھتا ہوں) توفیق (عطاء، توفیق) توکلت (میں نے بھروسہ کرلیا) انیب (میں لوٹتا ہوں)
تشریح : آیت نمبر 84 تا 88
گزشتہ آیات میں چند انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر خیر فرمایا گیا ہے اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں حضرت شعیب اور ان کی نافرمان قوم کا ذکر فرمایا ہے۔
حضرت شعیب جن کو نبی کریم ﷺ نے ” خطیب الانبیاء “ کے مبارک لقب سے یاد فرمایا ہے نہایت متین، سنجیدہ اور خوش بیان تھے۔ انہوں نے ہر طرح اپنی قوم کو سجھایا مگر وہ قوم آپ کی بات ماننے کے لئے تیار نہ تھی۔
حضرت شعیب کی قوم بنیادی طور سے ایک تجارت پیشہ قوم تھی۔ نہایت خوش حال اور بلند وبالا قدو قامت کی مالک۔ حسین و جمیل علاقوں میں عیش و آرام کی زندگی گذار رہی تھی۔ مگر ماپ تول میں کمی، بےایمانی، بد دیانتی، خریدو فروخت میں دھوکے بازی سود خوری اور سٹہ بازی ان کا مزاج بن چکا تھا۔ تجارتی کامیایبوں اور دولت کی ریل پیل نے ان میں چند ایسی بنیادی خرابیاں پیدا کردی تھیں جنہوں نے اس قوم کو اخلاقی تباہی کے کنارے پہنچا دیا تھا۔
(1) ماپ تول میں کمی۔ یعنی لینے کے پیمانے اور تھے دینے کے اور جو آدمی جتنی بےایمانی کرسکتا تھا وہ اس کیلئے عیب نہیں بلکہ تجارتی کامیابی سمجھی جاتی تھی۔ رزق حرام کمانا ان کا اس طرح مزاج بن چکا تھا کہ ” رزق حلال “ ان کو راس ہی نہ آتا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے جہاں رزق حلال میں سات گنا برکت رکھی ہے وہیں ” رزق حرام “ میں ایسی بےبرکتی رکھی ہے کہ سب کچھ ہونے کے باوجود ایسا انسان خلای ہاتھ ہی رہتا ہے۔ اس کے کام میں برکت نہیں ہوتی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کو گھر میں اور گھر سے باہر ” سکون قلب “ حاصل نہیں ہوتا اور آخر کار یہ دولت اس سے چھین لی جاتی ہے۔
2) حرام کمئای بہت دکھائی دیتی ہے اسی لئے اس میں ان برئایوں کا مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ بہترین سواریاں، بلند وبالا عمارات سرسبز و شادات باغیچے اور روشیں ، خوبصورت لباس اور جھک جھک کر سلام کرنے والوں کی کثرت انسان کو اس وہم میں مبتلا کردیتی ہے کہ وہ نہایت کامیاب انسان ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک فرد غرور تکبر کا پیکر بن جاتا ہے اور اپنے سامنے کسی کو پانے سے بلند نہیں سجھتا بلکہ سب کو اپنے سے کم تر اور حقیر سمجھنے لگتا ہے، ضد ہٹ دھرمی اور تکبر اس کا مزاج بن جاتا ہے۔
3) ایسے لوگوں کی اخلاقی گراوٹ اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ ایک اللہ کو چھوڑ کر پتھر کے بےجان بتوں کو اپنا معبود اور حاجت روا سمجھ بیٹھتے ہیں اور توحید کی تعلیمات کو بھلا کر کفر و شرک کی دل دل میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔
حضرت شعیب جن کو اہل مدین کی اصلاح اور درستی کے لئے بھیجا گیا تھا انہوں نے اپنی قوم کی اصلاح کے لئے ایک اللہ کی بندگی اور اطاعت کا درس دیا یہ وہی تعلیم تھی جو تمام انبیاء کرام نے کفر و شرک میں مبتلا قوموں کی دی تھی۔ کیونکہ ہر نبی اور رسول بنیادی طور پر تو حد خلاص کی طرف متوجہ کرتا ہے اور تمام تر تمدنی ترقی کے باوجود اگر ایک قوم کفر و شرک اور بری عادات میں مبتلا ہوجاتی ہے تو ان کا تمدن اور ان کی تہذیب ان کے کسی کام نہیں آتی۔ حضرت شعیب نے فرمایا کہ میری قمو کے لوگو ! تم اس ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرو جس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی تمہارا خالق ومالک اور کار ساز ہے۔ ان کی اخلاقی اصلاح کے لئے فرمایا کہ تم ماپ تول میں کمی نہ کرو ورنہ مجھے یہ ڈر ہے کہ تمہاری ان بےایمانیوں کے نتیجے میں اللہ کا وہ عذاب آجائے گا جس سے بچ کر نکلنا ممکن ہی نہ ہوگا۔ ان کے معاشرہ کی اصلاح کے لئے فرمایا کہ تم فساد فی الارض نہ کرو کیونکہ اللہ کو فساد کرنے والے پسند نہیں ہیں۔ ان کے ایمان کی تقویت کے لئے فرمایا کہ حلال ذریعوں سے جو بھی رزق تمہارا مقدر ہے اس پر گذارہ کرو اور ہوس اور لالچ کے ہر انداز کو چھوڑ دو ۔ حضرت شعیب نے ان کے تمدن، تہذیب ، اخلاق اور ایمان کی اصلاح کے بہترین اور مخلصانہ طریقفے ارشاد فرمائے۔ پوری قوم کا یہی جواب تھا کہ اے شعیب کیا تمہاری نماز اور عبادت تمہیں یہی سکھاتی ہے کہ تم ہم سے ایسی باتیں کرو اور ہمارا وہ مال جس میں ہمیں ہر طرح کے تصرف کا حق حاصل ہے اسے اپنی مرضی سے خرچ نہ کریں اور کیا ہم اپنی کاروباری زندگی کو رزق حلال کے چکر میں تباہ و برباد کر ڈالیں ؟ ہمیں آپ جیسے باوقار اور حلیم الطبع انسان سے ایسی توقع نہیں تھی۔ حضرت شعیب کا یہی جواب تھا کہ میں نے تمہارے اصلاح و ترقی کے لئے جو کچھ کیا وہ اس بنیاد پر ہے کہ اللہ نے میری رہنمائی فرمائی ہے۔ میں اس کے بھروسے پر تم سے ہر وہ بات کروں گا جس سے تمہاری اصلاح ہوجائے۔ اگر تم مانتے ہو تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اگر تم اس کو تسلیم نہیں کرتے تو میں تمہارا محتاج نہیں ہوں۔ میری کوئی ذاتی غرض نہیں ہے میرا مکمل بھروسہ اللہ کی ذات پر ہے۔ جب یہ قوم ماپ تو ل میں کمی ، حرام کمائی کی خوگر اور غیر اللہ کی عبادت میں حد سے گذر گئی تب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب نازل کیا۔ ان کو اور ان کی تہذیب و ترقیات کو تہس نہس کردیا۔
Ayahs 11:89–95لغات القرآن آیت نمبر 89 تا 95
لایجرمن (مجرم نہ بنا دے) شقاق (ضد، ہٹ دھرمی) ان یصیب (یہ کہ پہنچے گی) ودود (محبت کرنے والا) مانفقہ (ہم نہیں سمجھتے ) ضعیف (کمزور) رھط (خاندان، قبیلہ) رجمنا (ہم رجم کرتے (پتھر مار مار کر ہلاک کرنا) عزیز (زبردست، قوت و طاقت والا) اعز (زیادہ طاقتور، زیادہ قوت والا) اعز (زیادہ، طاقتور، زیادہ قوت والا) ظھری (پشت، پیٹھ) محیط (گھیرنے والا) عامل (کام کرنے والا) مکان (جگہ) یخزی (رسوا کر دے گا) کاذب (جھوٹ بولنے والا) ارتقبوا (نگرانی کرو، انتظار کرو) رقیب نگران الصیحۃ (چنگھاڑ تیز آواز) اصبحوا (وہ رہ گئے) جثمین (اوندھے پڑے رہنے والے) لم یغنوا (آباد نہ تھے) بعدت (دور ہوگئی)
تشریح : آیت نمبر 89 تا 95
جیسا کہ آپ نے حضرت شعیب کے متعلق گزشتہ آیات میں پڑھا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو اللہ کی نافرمانی کرنے پر ٹوکتے ہوئے فرمایا تھا اے لوگو ! اپنے گناہوں سے معافی مانگو، کفر و شرک اور ہر طرح کی نافرمانیوں سے باز آ جائو، ماپ تول میں کمی نہ کرو اللہ کی طرف رجوع کرو، اس کے حکم پر چلو وہ اللہ تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا کیونکہ وہ اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اسے بندوں کی معافی اور استغفار بہت پسند ہے کوئی کتنا ہی بڑا مجرم کیوں نہ ہو اگر وہ سچے دل سے توبہ کر کے اللہ سے معافی مانگتا ہے تو وہ اپنے بندوں کے بڑے سے بڑے گناہ کو معاف کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
لیکن اگر تم نے کفر و شرک کے راستے کو نہیں چھوڑا تو وہ اللہ تمہیں جڑ و بنارد سے اکھاڑ کر پھینک دے گا اور اس کی گرفت اور پکڑ سے تمہیں کوئی بھی بچا نہ سکے گا۔ ان ہی آیات میں حضرت شعیب نے اپنی قوم سے فرمایا ہے کہ اے میری قوم ! اگر تم اسی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی قوم نوح، قوم ھود، قوم صالح اور قوم لوط کی طرح سخت عذاب میں مبتلا ہو کر اپنا سب کچھ تباہ کر بیٹھو۔ حضرت شعیب نے فرمایا کہ حضرت لوط کا وہ علاقہ جہاں ان کی بستیوں کو ان پر الٹ دیا گیا تھا وہ تم سے بہت دور نہیں ہیں زمانہ اور علاقہ بہت قریب کا ہے تو اس سے عبرت حاصل کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جس طرح قوم نوح کو پانی میں غرق کردیا گیا قوم ھود کو آندھی اور ہوا کے طوفان سے ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا، قوم صالح کو ہیبت ناک آوازوں اور زلزلہ سے برباد کیا گیا اور قوم لوط پر ان کی بستیوں کو الٹ دیا گیا اور آج ان کا نام و نشان تک مٹ گیا ہے۔ کہیں تمہارا بھی حشر ایسا ہی نہ ہو۔
حضرت شعیب جو تمام انبیاء کرام میں بہترین خطیب بھی تھے جب اپنی بات سے فارغ ہوگئے تو قوم کے سردار کہنے لگے کہ اے شعیب ! تمہاری باتیں ہماری سمجھ سے باہر ہیں ہماری سمجھ میں نہیں آرہی ہیں۔ آخر ہم اتنے مضبوط ہیں ہمارا انجام گزشتہ قوموں کی طرح کس طرح ہو سکتا ہے۔ کہنے لگے اے شعیب تمہارے خاندان کا لحاظ آڑے آجاتا ہے ورنہ تمہاری ان باتوں پر جی یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پتھروں سے کچل دیا جائے اور پتھر برسائے جائیں اور ہمارے لئے ایسا کرنے میں کوئی دشواری بھی نہیں ہے لنکح ہمیں تمہارے خاندان کا خیال آجاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے نزدیک کیا میرا خاندان میرے اللہ سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔ یاد رکھو تم اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہو وہ تمہیں جب بھی گھیرنا چاہے گا تم اس سے بچ کر نہیں نکل سکتے۔ حضرت شعیب نے آخری بات یہ فرما دی کہ ٹھیک ہے میں نے تمہیں تمہارے برے انجام سے مطلع کردیا ہے اگر تم اپنے گناہوں سے توبہ نہیں کرتے تو اس وقت کا انتظار کرو جب تک اللہ کا فیصلہ نہ آجائے، میں اپنے عمل میں لگا ہوا ہوں تم اپنی غفلتوں میں لگے رہو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کا عذاب کس کو روسا اور ذلیل کر کے رکھ دے گا۔ جب پوری قوم کفر و شرک پر جمی رہی اور ماپ تول میں کمی پر شرمندہ نہیں ہوئی تو ایک سخت چنگھاڑ اور آواز سے اس قوم کے ہر فرد کے کانوں کے پردے پھٹ گئے، دلوں کی دھڑکنیں بند ہوگئیں اور جن بلند وبالا مکانات پر انہیں ناز تھا اس طرح برباد ہو کر رہ گئے کہ جیسے کل تک یہاں کوئی آباد ہی نہ تھا اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب اور ان کی بات ماننے والوں کو نجات عطا فرما دی۔ اس طرح قوم کے نافرمانوں کو ان کے کیفرکردار تک پہنچا دیا گیا۔ ان آیات کی روشنی میں چند باتیں سامنے آتی ہیں۔
1) اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر بہت ہی شفیق اور مہربان ہے۔ جب کوئی قوم نافرمانیوں کی انتہا تک پہنچ جاتی ہے تو اللہ اپنے نیک بندوں کو بھیجتا ہے جو اللہ کے حکم سے کفر و شرک پر جمے ہوئے لوگوں کو ان کے برے انجام سے مطلع کرتے ہیں جو لوگ انبیاء کرام کی بات کو تسلمک کرتے ہیں ان کو نجات مل جاتی ہے اور نافرمانوں کو برے انجام سے دوچار کردیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں ہر جگہ اپنے رسولوں اور نبیوں کو اصلاح احوال کے لئے بھیجا اور آخر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھیج کر قیامت تک آنے والے انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ بنا دیا۔ اب آپ کے بعد کسی نئے رسول یا نبی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ تو یہ بھی اللہ کا کرم اور مہربانی ہے کہ وہ اپنے بندوں کی اصلاح کے لئے اپنے نیک بندوں کو بھیجتا رہا ہے۔ دوسری بڑی مہربانی یہ ہے کہ وہ بہت سی خطاؤں کے باوجود اپنے بندوں کی فوری طور پر گرفتن ہیں کرتا بلکہ ان کو توبہ کرنے کا موقع اور مہلت عطا فرماتا ہے پھر بھی اگر کوئی باز نہیں آتا تو اس کو سخت سزا دیتا ہے۔ اللہ کو اس کا شوق نہیں ہے کہ وہ اپنے بندوں کو سزا دے بلکہ اللہ نے تو مہربانی کرنے کو اپنے اوپر فرض کرلیا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے ایک موقع پر جب کہ کچھ جنگی قیدی لائے گئے ان میں ایک عورت ایسی بھی تھی کہ جس کا دودھ پیتا بچہ اس سے چھوٹ گیا تھا بچے کی جدائی میں اس ماں کا یہ حال ہوچکا تھا کہ ہر دودھ پیتے بچے کو وہ اپنی چھاتی سے چمٹا کر دودھ پلانا شروع کردیتی۔ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام سے پوچھا کہ کیا تم اس ماں سے اس کی توقع کرسکتے ہو کہ وہ اپنے بچے کو اپنے ہاتھوں سے آگ میں پھینک دے گی۔ صحابہ کرام نے عرض کیا ہرگز نہیں۔ بلکہ اگر یہ بچہ آگ میں گرنے لگے گا تو وہ ماں اس بچے کو آگ سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر اس ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔ یعنی ایک ماں جس طرح اپنے بچے کے لئے بےقرار ہے۔ اللہ بھی اپنے بندوں کی نجات کا اس سے زیادہ خواہشمند ہے مگر انسان ہی نافرمانیاں کر کے اپنی مہبران اللہ کو ناراض کردیتا ہے۔
2) دوسری بات یہ ہے کہ جس طرح حضرت شعیب کی قوم نے یہ کہا تھا کہ اے شعیب ! اگر ہمیں تمہارے معزز خاندان کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم تمہیں پتھر مار کر ہلاک کردیتے بالکل یہی بات کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے بھی کہی تھی کہ اے محمد ﷺ اگر ہمیں تمہارے خاندان کی عزت کا خیال نہ ہوتا تو ہم تمہارے ساتھ برا معاملہ کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کفر کا مزاج ایک ہی ہے۔ کفر کا روہ مزاج جاں بھی ہو جس زمانہ میں بھی ہو۔
3) تیسری بات یہ ہے کہ کفر و شرک تو ایک بہت بڑا گناہ ہے جس سے قومیں اور ان کی تہذیب اور تمدن دنیا سے مٹ کر رہ گیا لیکن ماپ تول میں کمی بھی اللہ کے نزدیک ایک بہت بڑا جرم ہے۔
سورئہ مطففین میں اللہ نے فرمایا ہے :
بڑی خرابی اور بربادی ان لوگوں کے لئے ہے جو ماپ تول میں کمی کرتے ہیں۔ جب لوگوں سے اپنا حق لیتے ہیں تو زیادہ لیتے ہیں اور جب دیتے ہیں تو ماپ تول میں گھٹا کردیتے ہیں۔
حضرت شعیب بھی اپنی قوم کو اسی بےایمانی سے توبہ کرنے کی تلقین فرما رہے ہیں وجہ یہ ہے کہ خریدو فروخت میں دوسرے کے حق کو پورا نہ دینا، اس میں گھٹائو کرنا انسانی زندگی کا ایک بہت بڑا روگ اور بیماری ہے کیونکہ اس کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔ یہ بد اخلاق بڑھتے بڑھتے تمام حقوق العباد کو تلف کر کے رکھ دیتی ہے۔ اسی طرح اس سبے ایمانی کے عمل سے انسانی شرافت اخوت و محبت اور ہمدردی کے تمام رشتے کٹ کر لوگوں میں لالچ ، حرص و طمع ، خود غرضی، رذالت اور کمینگی کے جذبات کو پروان چھڑنے کا موقع ملتا ہے۔ چونکہ اس سے معاشرہ تباہ ہو کر رہ جاتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب کو ان کی اصلاح کے بھیج کر یہ بتا دیا کہ کفر و شرک ناقابل معافی جرم ہے لیکن ماپ تول میں کمی بھی کفر و شرک سے کم نہیں ہے۔
4) چوتھی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کو ایک وقت تک مہلت دیتا ہے جب وہ مدت گزر جاتی ہے تب اس قوم کے برے انجام کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ یہ تو نبی کریم ﷺ کا صدقہ ہے کہ آج ہم ہزاروں ان گناہوں کے باوجود جن کی وجہ سے گزشتہ قومیں برباد کردی گئی تھیں پھر بھی اللہ کے عذابوں پر غصے سے بچے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سچی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر طرح اللہ کے غصے اور ناراضگی سے محفوظ فرمائے آمین۔
حضور اکرم ﷺ کے صدقے اب گزشتہ قوموں کے جیسے عذاب تو نہیں آئیں گے لیکن گناہوں کی سزا مختلف شکلوں میں آج بھی مل سکتی ہے۔ زلزلے، طوفان، آپس کی خانہ جنگی، بےبرکتی، بےسکونی، اولاد کی نافرمانی اگر دیکھا جائے تو یہ باتیں بھی اللہ کی نافرمانیوں کی ایک سزا ہیں۔ اللہ ہمیں دین پر چلنے اور برے انجام سے محفوظ فرمائے آمین
Ayahs 11:96–101لغات القرآن آیت نمبر 96 تا 101
سلطن مبین (کھلی ہوئی دلیل، روشن دلیل) ملاء (سردار) امر فرعون (فرعون کی بات) یقدم (وہ آگے ہوگا) اورد (وہ پہنچائے گا، لاکھڑا کرے گا) الورد (پہنچنے کی جگہ، گھاٹ) المورود (پہنچائے گئے) انباء (خبریں) الرقد (انعام) المرفود (انعام جو دیا گیا) حصید (کٹ جانے اور مٹ جانے والی ) القریٰ (بستیاں) ما اعنت (کام نہ آئی، فائدہ نہ دیا) یدعون (وہ پکارتے ہیں) غیر تثبیب (سوائے تباہی و بربادی کے)
تشریح :- آیت نمبر 96 تا 101
قرآن کریم گزشتہ انبیاء کرام کے واقعات کو نہایت مختصر انداز سے پیش کر کے عبرت و نصیحت کے ہزاروں پہلو کھول کر رکھ دیتا ہے۔
سورئہ ھود میں سات انبیاء کرام کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ حضرت نوح ، حضرت ھود ، حضرت صالح ، حضرت ابراہیم، حضرت لوط اور حضرت شعیب اب آخر میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کا ذکر خیر فرمایا جا رہا ہے۔
سورة ھود میں سات انبیاء کرام کے مختصر واقعات کا خلاصہ یہ ہے کہ :
1) ہر نبی نے اپنی امت سے بنیادی بات یہی فرمائی ہے کہ جب تک قوم توحید خالص پر نہیں آئے گی، کفر و شرک اور دنیاوی بد معاملگیوں کی اصلاح نہیں کرے گی اس کو راہ نجات نصیب نہیں ہوگی۔ اگر کفر و شرک اور ماپ تول میں کمی سے توبہ کرلی جائے گی تو اللہ جو اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے وہ نہ صرف ان کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیگا بلکہ دین و دنیا کی تمام بھلائیوں سے ان کے دامن کو بھر دے گا۔
2) لیکن اگر قوم نے کفر و شرک اور ماپ تول میں کمی سے توبہ نہ کی اور اپنی ہٹ دھرمی اور ضد پر قائم رہی تو پھر وہ اس عذاب الٰہی سے نہیں بچ سکتی جو گزشتہ تمام قوموں پر آچکا ہے۔
چونکہ قرآن کریم کے اول مخاطب مکہ کے وہ کفار تھے جو پچھلی قوموں کے طرز عمل پر چل رہے تھے۔ ان واقعات کے ذریعہ ان کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ آج ان کے درمیان اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ موجود ہیں جن کے بعد قیامت تک کوئی نبی اور کوئی رسول نہیں ہے۔ اگر انہوں نے ان کے دامن سے وابستگی اختیار کرلی تب تو ان کی نجات ہے ورنہ قیامت تک ان کو ہدایت نصیب نہیں ہوگی۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی زندگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ حضرت موسیٰ جو اللہ کے محبوب پیغمبروں میں سے ایک ہیں ان کو توریت جیسی کتاب دی گئی جو امت کے لئے مینارہ نور اور راہ ہدایت تھی ان کو بہت سے معجزات دئے گئے جو ظاہری آنکھوں سے دیکھے جاسکتے تھے لیکن ان سب کے باوجود ان کی قوم نے فرعون اور اس کے اقتدار اور دولت کی چمک دمک کے سامنے حضرت موسیٰ کے بجائے فرعون کی پیروی کی۔ حالانکہ فرعون کی پیروی کا کوئی جواز نہیں تھا۔ نتیجہ یہ تھا کہ پوری قوم ذلت و رسوائی کا پیکر بن کر رہ گئی تھی۔ لنکب جب انہوں نے حضرت موسیٰ پر ایمان قبول کیا تو اللہ نے فرعون اور اس کی سلطنت کے تمام نافرمانوں کو سمندر کے پانی میں غرق کردیا۔
فرمایا یہ جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے جو کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتا لوگ خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لیتے ہیں ورنہ وہ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اس کے بندوں کی دنیا اور آخرت سنور جائے اور ان کو نجات مل جائے۔
مکہ کے کفار اور قیامت تک آنے والوں کو یہی بتایا جا رہا ہے کہ اللہ کی سنت اور اس کا طریقہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔ آج حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جس نور و ہدایت (قرآن کریم) کو لے کر آئے ہیں یہ ان کی نجات اور کامیابی کے لئے آخری کتاب ہدایت ہے۔ جس نے بھی اس کو مان لان اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دامن سے وابستگی اختیار کرلی اس کی نجات ہے لیکن جس نے حضرت محمد ﷺ کے طریقوں کو چھوڑ کر خود اپنے لئے راستے بنا لئے وہ کبھی منلز مراد پر نہیں پہنچ سکتے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ سنبھل جائیں۔ لیکن جب وہ ان کو گرفت میں لے لیتا ہے تو پھر ان کو اس سے چھڑانے والا کوئی نہیں ہوتا۔