11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 11:31–34

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے میں اور نہ میں غیب کی باتیں جانتا ہوں۔ نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ تمہاری آنکھوں میں جو حقیر اور کم تر ہیں ان کو اللہ کوئی بھلائی عطا نہ کرے گا۔ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے اسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ میں (ایسی بات کہہ دوں تو) ظالموں میں سے ہو جائوں گا۔

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اے نوح تم ہم سے خوب جھگڑے اور بحثیں کرچکے ۔ اگر تم سچے ہو تو وہ (عذاب) لے ہی آئو جس کی تم ہمیں دھمکیاں دے رہے ہو۔

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ اگر اللہ کو منظور ہوا تو وہ اس کو سامنے لائے گا اور تم اللہ کو بےبس نہ کرسکو گے۔

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اگر میں تمہاری بھلائی کرنا چاہتا ہوں تو میری خیر خواہی تمہارے کسی کام نہ آسکے گی جب کہ اللہ ہی نے تم سے توفیق کو چھین لیا ہے۔ وہی تمہارا رب ہے اور تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 31 تا 34 خزائن (خزانے) تزدری (تم حقیر، ذلیل سمجھتے ہو) اعین (عین) آنکھیں لن یوتی (وہ ہرگز نہ دے گا) انفس (نفس) ، جانیں) جادلت (تو جھگڑ چکا) جدال (جدل) جھگڑے ، بحثیں معجزین (عاجز کرنے والا، بےبس کرنے والا) نصحی (میری نصیحت) یغوی (وہ بھٹکاتا ہے) تشریح : آیت نمبر 31 تا 34 گزشتہ آیات میں حضرت نوح کا واقعہ ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنی قوم کو ایک طویل عرصہ تک اللہ کا پیغام پہنچانے کی ہر ممکن کوشش فرمائی ۔ حضرت ابن عباس کی روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کو چالیس سال کی عمر میں خلعت نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس وقت سے لے کر ساڑھے نو سو سال تک آپ مسلسل دین اسلام کی وضاحت و تبلیغ فرماتے رہے لیکن دنیا پرست ان کا کہنا ماننے کے بجائے ان کو اور ان کے ماننے والوں کو ہر طرح بےحقیقت سمجھتے رہے اور ہر طرح اعتراضات کا سہارا لے کر نافرمانیوں پر نافرمانی کرتے چلے گئے۔ حضرت نوح نے ان کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ تم جن صاحبان ایمان کو معمولی اور گھٹیا سمجھتے ہو وہ درحقیقت اللہ پر ایمان لانے والے ہیں اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری کرنے والے ہیں ایسے مومن و مخلص بندوں کو اگر میں اپنے پاس سے دور کروں گا یا تمہاری طرح ان کو ذلیل و خوار سمجھوں گا تو یہ نہ صرف انتہائی ظلم اور زیادتی ہوگی بلکہ کل قیامت میں مجھے اس کا جواب دینا ہوگا اور وہاں مجھے اللہ کے قہر سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ فرمایا کہ میرا کام اللہ کا پیغام پہنچاتا ہے اور بس، میں نہ تو غیب کے خزانوں کا مالک ہوں نہ عالم الغیب ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے جس نبی کو جتنا غیب کا علم عطا فرمانا چاہے فرما دیتا ہے لیکن ” عالم الغیب و الشھادہ “ صرف اللہ کی ذات ہے۔ فرمایا کہ میں نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جن صاحبان ایمان کو تم ذلیل و خوار سمجھتے ہوں ان کو اللہ تعالیٰ کوئی خیر اور بھلائی عطا نہیں فرمائے گا بلکہ اللہ تعالیٰ کا علم محیط ہے وہ بندوں کی ہر کیفیت کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اگر میں نے زیادتی کی تو میں ان ظالموں کی صف میں کھڑا ہوجاؤں گا جن کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔ حضرت نوح نے اپنی قوم کو ہر طرح سمجھنے کی کوشش کی مگر ان کی سمجھ میں کوئی بات نہیں آئی۔ ان تمام سچائیوں کو سن کر کہنے لگے کہ نوح ہم تمہاری باتیں سن سن کر تنگ آ چکے ہیں اگر واقعی ہم بدعمل لوگ ہیں اور تم کہتے ہو کہ اگر ہم نے تمہاری اطاعت نہ کی تو اللہ کا عذاب ہم پر آ کر رہے گا تو اے نوح اب تم اس عذاب کو لے کر آ جائو تاکہ یہ روز روز کا جھگڑا ختم ہوجائے۔ یہ سن کر حضرت نوح کا وہی پیغمبرانہ جواب تھا جو ہر نبی نے اپنی قوم کی ضد اور ہٹ دھرمی کے جواب میں فرمایا تھا کہ ہم نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا اب اگر اللہ رب العزت تم پر عذاب نازل فرمانے کا فیصلہ فرمائیں گے تو تم سب مل کر بھی اس عذاب کو اپنے اوپر سے ٹال نہ سکو گے۔ میں نے تمہیں ہر طرح باخبر کردیا۔ میں نے ہر طرح تمہاری بھلائی چاہی اب اگر تم اس مقام تک پہنچ چکے ہو جہاں اللہ بھی دلوں پر مہر لگا دیتا ہے تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ ایک من گھڑت اور میری طرف سے بنائی ہوئی کوئی بات ہے تو اس کی ذمہ داری میرے اوپر عائد ہوتی ہے۔ لیکن میں ان باتوں کا ذمہ دار نہیں ہوں اور میں اللہ کا مجرم نہیں ہوں۔ یہ تو حضرت نوح کی تبلیغ اور ان کی قوم کا انداز فکر تھا بالکل اسی طرح ضد اور ہٹ دھرمی پر وہ لوگ بھی قائم تھے جن کفار مکہ کو نبی کریم ﷺ اللہ کا پیغام پہنچا رہے تھے۔ ان کفار عرب کو یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ یہ تو اللہ کی رحمت اور اس کا کرم ہے کہ ان کو سمجھانے والے نبی ﷺ نرم مزاج اور رحمتہ اللعالمین ہیں جو ان کی گستاخیوں کو برداشت فرما رہے ہیں لیکن اگر کہیں ہمارے محبوب نبی کی زبان مبارک سے ایک لفظ بھی نکل گیا تو پھر ان کفار کی نجات اور عذاب الٰہی سے بچنے کا کوئی راستہ باقی نہ رہے گا۔
Ayahs 11:35–39

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ کیا وہ کہتے ہیں کہ اس (قرآن کو) آپ نے گھڑ لیا ہے۔ آپ کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اس کو خود سے بنا لیا ہے تو اس الزام کی ذمہ داری میرے اوپر ہے۔ اور جو تم جرم کر رہے ہو میں اس سے بری ہوں

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جن لوگوں کو ایمان لانا تھا وہ لا چکے۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس پر غم نہ کھائیے

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم سے ایک کشتی (جہاز) بنائیے اور کافروں کے بارے میں کوئی بات (سفارش) نہ کیجیے کیونکہ وہ سب غرق کئے جائیں گے۔

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

اور وہ (اللہ کے حکم سے) کشتی تیار کرنے لگے۔ ان کی قوم میں سے جب بھی کوئی سردار گذرتا تو وہ ان کا مذاق اڑاتا۔ (نوح نے ) کہا اگر تم ہمارا مذاقا ڑا رہے ہو تو ہم تم پر اسی طرح ہنسیں گے جس طرح تم (آج) ہنس رہے ہو۔

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

پھر بہت جلد تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ کون شخص ہے جس پر وہ عذاب آئے گا جو اس کو ذلیل و رسوا کر کے رکھ دے گا اور اس پر دائمی عذاب نال زہو گا۔

لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 39 اجرام (جرم، خطا، گناہ) لاتبتئس (تو غم نہ کر) اصنع (تو بنا لے) الفلک (کشتی، جہاز) باعیننا (2 ماری آنکھوں میں، نگرانی میں) لاتخاطب (تو متوجہ نہ کرنا) مر (گذرا) سخروا (مذاق اڑایا) یخزی (رسوا کرے گا) یحل (حلال کرے گا، نازل کرے گا) مقیم (قائم رہنے والا، دائمی تشریح : آیت نمبر 35 تا 39 سورئہ ہود کی ان آیات میں حضرت نوح کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ درمیان میں ان آیات کا رخ نبی کریم ﷺ کی طرف موڑ کر کفار مکہ کو یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ آج اگر تم نبی کریم ﷺ پر بہت سے اعتراضات کر رہے ہو۔ ان کا مذاق اڑا رہے ہو اور کہتے ہو کہ اس قرآن کریم کو انہوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے تو یہ اسی طرح کا مذاق ہے جس طرح حضرت نوح کو کشتی بناتے ہوئے دیکھ کر قوم نوح نے مذاق اڑایا تھا۔ ان آیات میں اس طرف اشارہ فرما دیا گیا ہے کہ جس طرح حضرت نوح کی قوم کو پانی میں غرق کردیا گیا تھا اور جو لوگ ایمان لائے ان کو کشتی نوح میں بٹھا کر نجات دیدی گئی تھی اسی طرح آج جو لوگ نبی مکرم ﷺ کا مذاق اڑا رہے ہیں ان کا انجام بھی مختلف نہ ہوگا اور جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی اطاعت و فرماں برداری اور محبت کے ساتھ ان کے دامن کو تھام لیا ہے ان کو کشتی نوح میں بیٹھنے والوں کی طرح نجات نصیب ہوگی۔ اسی لئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اگر میں نے قرآن کریم کو اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے تو ایسا اس لئے ممکن نہیں ہے کیونکہ اللہ نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ اگر کسی کو ذرا بھی شک و شبہ ہے تو وہ اس قرآن جیسا نہیں بلکہ قرآن کریم کی ایک سورت جیسی ہی بنا کرلے آئے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا ہے اب اگر تم اس کو تسلیم نہیں کرتے تو میرے اوپر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ اللہ تمہارا کیا انجام کرتا ہے وہی بہتر جانتا ہے۔ اس آیت کے بعد پھر حضرت نوح کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہے کہ اے نوح اب جس کو ایمان لانا تھا وہ لے آیا۔ اب آپ اس مجرم قوم پر کوئی افسوس نہ کیجیے ان کی آنکھوں کے سامنے ہماری نگرانی میں ایک کشتی بنائیے اور قوم کے لوگ کچھ بھی کہیں آپ ان کی باتوں پر توجہ نہ کیجیے کیونکہ ان سب کو غرق کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے چناچہ حضرت نوح اور آپ کے صحابہ نے کشتی بنانا شروع کی اور جس طرح اللہ کی طرف سے طریقہ بتایا جا رہا تھا آپ نے اس کشتی کو تیار کرنا شروع کردیا۔ لیکن جب بھی کفار و مشرکین اور ان کے سردار وہاں سے گذرتے تو طرح طرح سے ان کا مذاق اڑاتے اور کہتے کہ کیا خشکی پر کشتی چلائو گے ؟ یہ اور اسی طرح کی ہزاروں باتیں کر کے مذاق اڑاتے مگر حضرت نوح ان سے فرماتے کہ اگر تم آج ہمارا مذاق اڑا رہے ہو تو کوئی بات نہیں کل ہم بھی تمہارا اسی طرح مذاق اڑائیں گے۔ اور تمہیں بہت جلد اس عذاب الٰہی سے واسطہ پڑے گا جس سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ حضرت نوح نے ساڑھے نو سو سال تک مسلسل نسل در نسل لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف لانے کی کوشش کی مگر ان کی قوم کے چند لوگوں کے سوا کسی نے آپ کی بات کو تسلیم نہیں کیا۔ آپ کا مذاق اڑایا۔ پھبتیاں کسیں، دیوانہ و مجنوں کہا اور اس طرح پتھر برسائے کہ آپ خون سے لت پت ہوجاتے۔ غرضیکہ کوئی اذیت اور تکلیف ایسی نہ تھی جو انہوں نے اللہ کے نبی کو نہ پہنچائی ہو۔ مگر حضرت نوح قوم کی ان اذیتوں کے مقابلے میں صبر و تحمل سے کام لیتے رہے۔ آخر کار ایک دن حضرت نوح نے بد دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیئے کہ ” اے میرے پروردگار میں بہت کمزور اور بےبس کردیا گیا ہوں میری مدد کیجیے “ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول فرمایا اور حضرت جبرئیل کے ذریعہ پیغام پہنچا دیا کہ اے نوح ہماری نگرانی اور تعلیم کے مطابق آپ ایک ایسی کشتی تیار کیجیے جس میں اپنے سب ماننے والوں کو اور دوسرے جانداروں کو بٹھا لیجیے۔ حضرت نوح نے اللہ کی طرف سے وحی کے مطابق کشتی کو تیار کرنا شروع کیا۔ وہ ایک چھوٹی سی کشتی نہ تھی بلکہ موجودہ دور کا ایک لمبا چوڑا جہاز تھا جس کی تین منزلیں تھیں۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق اس جہاز کی لمبائی نو سو فٹ، چوڑائی ایک سو پچاس (150) فٹ اور اس کی اونچائی نوے (90) فٹ تھی ایک لق و دق صحرا میں جب حضرت نوح نے کشتی بنانا شروع کی تو ان کی قوم کے سرداروں نے اور عام لوگوں نے مذاق اڑانا شروع کیا اور دیوانوں اور مجنونوں کا کام قرار دیا کہ ” خشکی میں کشتی چلائی جائے گی ؟ “ حضرت نوح نہایت متانت و سنجیدگی سے یہی جواب دیتے کہا آج تم جتنا مذاق اڑا سکتے ہو اڑا لو لیکن کل جب تمہارے اوپر اللہ کا عذاب نازل ہوگا اس وقت ہم تمہارا مذاق اڑائیں گے۔ چناچہ پانی کا ایک زبردست طوفان آیا اور اس میں پوری قوم نوح کو غرق کردیا گیا اور صرف وہی لوگ بچ سکے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام کو تسلی دی جا رہی ہے کہ قوم نوح کی طرح آج کافر مکہ میں مسلمانوں کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن جس دن اللہ کا فیصلہ آجائے گا اس دن اپنی عقلوں پر ناز کرنے والے سب سے زیادہ بیوقوف اور احمق نظر آئیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے موقع پر ساری دنیا کو بتا دیا کہ صحابہ کرام کو بیوقوف سمجھنے والے خود ہی اپنی بوٹیاں نوچ رہے تھے اور ان کفار کو اپنی حماقت و جہالت کی آگ جھلسائے دے رہے تھی۔
Ayahs 11:40–47

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور (زمین) میں سے پانی ابلنا شروع ہوگیا تو ہم نے (نوح سے) کہا کہ تم (جانوروں میں) ہر قسم میں سے ایک نر اور ایک مادہ رکھ لو اور گھر والوں کو بھی سوار کرا دو ۔ سوائے اس کے جس پر اللہ کا حکم نافذ ہوچکا۔ اور ایمان والوں کو بھی سوار کرا دو اور نوح پر ایمان لانے والے بہت کم تھے۔

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ اس کشتی میں سوار ہو جائو اس کا چلنا اور ٹھہرنا اللہ ہی کے نام سے ہے بیشک میرا رب بہت مغفرت کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

وہ کشتی ان کو پہاڑ جیسی موجود (لہروں) میں لے کر چلنے لگی۔ نوح نے اپنے بیٹے کو جو ایک علیحدہ مقام پر تھا اس کو آواز دی کہ اے میرے بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہو جائو اور کافروں کے ساتھ مت رہو۔

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

اس نے کہا کہ میں پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا کہ آج اللہ کے قہر (عذاب) سے بچانے والا کوئی نہیں ہے سوائے اس کے جس پر وہ رحم کر دے اور پھر ان دونوں کے درمیان موج (بڑی لہر) حائل ہوگئی اور وہ غرق ہونے والوں میں سے ہو گیا

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور اللہ کی طرف سے زمین کو کہا گیا کہ اپنا سارا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا، پانی گھٹ گیا، فیصلہ کردیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر آٹھہری اور کہہ دیا گیا کہ ظالموں کی قوم دور کردی گئی۔

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

نوح نے اپنے رب کو پکارا کہ اے میرے رب یہ میرا بیٹا ہے میرے گھر والوں میں سے ہے۔ بیشک آپ کا وعدہ سچا ہے اور آپ حاکموں کے حاکم ہیں۔

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

اللہ نے کہا کہ اے نوح یہ تمہارے گھر والوں میں سے نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس کا کوئی عمل صالح نہیں ہے۔ مجھ سے ایسی بات کا سوال نہ کرو جس کا تمہیں علم نہیں ہے۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں سے نہ بنو۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

عرض کیا اے میرے رب میں اس بات سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں کہ آپ سے وہ سوال کروں جس کی مجھے خبر نہیں ہے۔ اگر آپ نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائوں گا۔

لغات القرآن آیت نمبر 40 تا 47 فار (جوش مارا) تنور (روٹیاں بنانے کے لئے وہ گڑھا جس میں آگ جلتی ہے) احمل (سوار ہوجا) زوجین (زوج) ، جوڑے اثنین (دودو) اھل (گھر والے) سبق (گذر گیا، فیصلہ ہوگیا) ارکبوا (سوار ہو جائو) مجری (چلنا) مرسی (ٹھہرنا، (ارساء سے بنا ہے) جبال (جبل) ، پہاڑ نادی (آواز دی) معزل (کنارہ) بینی (اے میرے بچے ) ساوی (میں پناہ لے لوں گا) یعصمنی (وہ مجھے بچا لے گا) عاصم (بچانے والا ) حال (آڑے آگیا) ابلعی (تونگل لے، پی جا) اقلعی (تورک جا، تھم جا) غیض الماء (پانی اترتا چلا گیا) قضی (فیصلہ کردیا گیا) استوت (برابر ہوگئی، ٹھہر گئی) جودی (جودی پہاڑ) بعداً (دور ہونا) لاتسئلن (تو مجھ سے سوال نہ کر) اعظ (میں نصیحت کرتا ہوں) اسئل (میں سوال کرتا ہوں) الا تغفرلی (اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا) ترحمنی (تو نے رحم (ن 2) کیا) تشریح :- آیت نمبر 40 تا 47 حضرت نوح کی تبلیغ و ہدایت کی طویل جدوجہد اور عظیم ایثار و قربانی اور دوسری طرف پوری قوم کی ضد، ہٹ دھرمی، کفر و شرک اور اللہ و رسول کی اطاعت سے مسلسل انکار تاریخ انسانی کا ایک بہت بڑا واقعہ ہے جس میں عبرت و نصیحت کے لاتعداد پہلو پوشیدہ ہیں۔ حضرت نوح نے ساڑھے نو سو سال تک جس صبر وت حمل اور برداشت سے پوری قوم کو اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کی طرف لانے کی کوشش کی اتنی ہی ان کی قوم نے نافرمانیوں کی انتہا کردی اور عذاب الٰہی تک کا مطالبہ کر بیٹھی جب حضرت نوح اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ جن لوگوں کو ایمان کی دولت سے مالا مال ہونا تھا وہ سعادت حاصل کرچکے ہیں اور بقیہ لوگ جسم کے اس گلے سڑے حصے کی طرح بن چکے ہیں جس کو کاٹ کر پھینک دینا ہی سارے جسم کی صحت و عافیت اور سلامتی کا ذریعہ ہے تو حضرت نوح نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا۔ الٰہی اب آپ اس نافرمان قوم کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ کر پھینک دیجیے تاکہ آنے والی نسلیں ان کے شر اور کفر سے محفوظ رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی دعا قبول کر کے ارشاد فرمایا کہ اب ہمارا فیصلہ آنے والا ہے۔ اے نوح ! آپ ان تمام اہل ایمان کے لئے جنہوں نے ایمان قبول کرلیا ہے ہماری ہدایت کی روشنی میں ایک ایسی کشتی تیار کیجیے جس میں ان کو اور خشکی کے نر و مادہ جانوروں میں سے ایک ایک جوڑے کو لے کر آپ بیٹھ سکیں۔ فیصلے کے مطابق بقیہ پوری ظالم قوم کو پانی کے طوفان میں غرق کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ چناچہ حضرت نوح نے دن رات لگ کر ایک ایسی ہی کشتی تیار کرنا شروع کردی۔ کفار و مشرکین اس بات کا ہر طرح مذاق اڑاتے کہ کیا اب خشکی پر بھی جہاز اور کشتیاں چلیں گی ؟ حضرت نوح ان کے استھزاء اور مذاق کے جواب میں صبر و تحمل سے کام لیتے آخر کار اللہ کا فیصلہ آگیا اور تنور سے جس میں روٹیاں پکانے کے لئے آگ جلائی جاتی ہے اس سے فوارے کی طرح پانی ابلنا شروع ہوگیا زمین کو پھڑا دیا گیا اور اس میں سے ہر طرح کے چشمے ہی چشمے پھوٹ پڑے۔ آسمان کے دروازے اس طرح کھول دیئے گئے کہ مسلسل اور تیز بارش نے طوفانی انداز اختیار کرلیا۔ لوگوں نے پہاڑوں کی طرف دوڑنا شروع کردیا تاکہ اپنے آپ کو بچا سکیں۔ ادھر کشتی نوح جس میں ایک روایت کے مطابق کل اسی (80) مسلمان مرد و عورت اور بچے تھے اور خشکی کے جانور جن کے نر و مادہ کو ساتھ رکھنے کا حکم دیا گیا تھا بقیہ کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا تھا۔ جیسے جیسے پانی نے طوفانی صورت اختیار کی کشتی نوح نے پانی پر تیرنا شروع کردیا۔ پہاڑ جیسی کشتی (جہاز) جب پانی پر محفوظ طریقفہ پر رواں دواں تھی ، اس وقت حضرت نوح کی نظر اپنے بیٹے کنعان پر پڑگئی جو اپنے آپ کو بچانے کے لئے پہاڑ کی طرف دوڑ رہا تھا حضرت نوح نے اس کو آواز دے کر کہا کہ بیٹے تم ایمان لا کر اور کفر کا ساتھ چھوڑ کر ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہو جائو۔ کنعان نے جواب دیا کہ مجھے آپ کی کشتی کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے میں پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر اپنے آپ کو بچا لوں گا۔ حضرت نوح نے فرمایا کہ بیٹا آج کے دن اللہ کے فیصلے سے کوئی محفوظ نہیں رہے گا۔ البتہ اگر وہ اپنا رحم و کرم نازل فرما دے تو اور بات ہے۔ یہ گفتگو جاری تھی کہ ایک پہاڑ جیسی موج نے بیٹے کو باپ سے جدا کردیا اور بیٹا پانی میں غوطے کھانے لگا۔ حضرت نوح نے اللہ کی بارگاہ میں درخواست پیش کی۔ الٰہی آپ نے تو یہ وعدہ فرمایا تھا کہ میرے گھر والوں کو بچالیں گے۔ یہ میرا بیٹا ہے اس کو بھی بچا لیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نوح یہ تیرے خاندان سے اس لئے نہیں ہے کہ اس کے اعمال صحیح نہیں ہیں اور اے نوح اس کے بعد ہماری بارگاہ میں ایسی درخواست پیش نہ کرنا جس کی حقیقت سے تم واقف نہ ہو۔ حضرت نوح جو ایک باپ کی حیثیت سے اپنی محبت کا اظہار فرما رہے تھے اس ارشاد کے بعد فوراً ہی اللہ کی بارگاہ میں جھک گئے اور توبہ و استغفار شروع کردی اور عرض کیا الٰہی ! اگر آپ نے میری اس بھول کو معاف نہ کیا تو میں سخت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤں گا۔ جب پوری قوم نوح پانی کے اس شدید طوفان کی نذر ہوگئی اور پوری قوم کو غرق کردیا گیا تو اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ اے زمین پانی کو نگل لے۔ بادلوں کو تھم جانے کا حکم دیا۔ کشتی نوح آہستہ آہستہ عراق کے شہر موصل میں واقع ” جو دی پہاڑی “ پر رک گئی اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس ظالم قوم اور ان کی ترقیات کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا اور اہل ایمان کو نجات عطا فرما دی۔ آپ نے حضرت نوح کے اس واقعہ کو ملاحظہ کیا۔ اب چند باتوں کی وضاحت پیش کی جا رہی ہے تاکہ اس مضمون کے باقی پہلو بھی سامنے آسکیں۔ 1) کشتی نوح : پہاڑ جیسی کشتی جو موجودہ دور میں ایک چھوٹے جہاز کی طرح تھی اس میں کافی گنجائش تھی۔ حضرت نوح نے اللہ کے حکم سے تمام اہل ایمان کو پانی کے شدید طوفان آنے سے پہلے حکم دیا کہ وہ اس کشتی پر سوار ہوجائیں اور خشکی پر بسنے والے جان داروں میں سے ایک ایک نر اور مادہ کو ساتھ رکھ لیں تاکہ نسل انسانی کے ساتھ جانوروں کی نسلیں بھی باقی رہیں۔ پانی کے جانوروں کے لئے یہ حکم اس لئے نہیں تھا کہ وہ پانی میں زندہ رہ کر اپنے وجود کو بچا سکتے ہیں۔ اس کشتی میں ایک روایت کے مطابق اسی (80) اہل ایمان تھے اور ایک رویات یہ بھی ہے کہ زندہ بچ جانے والوں کی تعداد تین سو تیرہ تھی۔ بہرحال اس دور کی معلوم دنیا کے تمام ہی لوگوں کو پانی کے اس طوفان میں غرق کردیا گیا تھا۔ اس موقع پر اس تاویل کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ تاریخی طور پر اس کا ثوبت ہے یا نہیں کیونکہ جب اللہ نے فرما دیا تو ہمارا اس بات پر ایمان ہونا چاہئے کہ قوم نوح پر پانی کا اتنا شدید عذاب آیا تھا کہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر پناہ تلاش کرنے والوں کو بھی پناہ نہ مل کسی ۔ دوسری بات یہ ہے کہ ابھی انسان کو ساری ترقیات کے باوجود اپنے پاؤں کے نیچے بچھے ہوئے ذرات کی پوری حقیقت کا علم نہیں ہے۔ اگر ان کو پورا علم ہوتا تو وہ تحقیقات کے نام پر کھنڈرات کی اینٹوں سے اور پتھروں سے مدد کیوں لیتے۔ میرا اس بات پر ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی ارشاد فرمایا ہے وہ سچ ہے آج انسان کو اس کی حقیقت کا علم نہیں ہے لیکن جب پوری تحقیق کے بعد معلومات حاصل کرلی جائیں گی تو وہ قرآن کریم کی تردید نہیں بلکہ تائید ہی کریں گی۔ 2) روایات کے مطابق کشتی نوح رجب المرجب کی کسی تاریخ کو رواں دواں ہوئی اور اس پر اہل ایمان سوار ہوئے اور چھ مہینے تک یہ کشتی پانی پر تیرتی رہی۔ جب یہ کشتی اس مقام پر پہنچی جہاں بیت اللہ شریف ہے تو اس کشتی نے اس کے گرد سات چکر لگائے۔ پھر دس (10) محرم کو یہ طوفان مکمل طور پر ختم ہوا اور ” جودی “ پہاڑ پر یہ کشتی ٹھہر گئی۔ بعض روایات کے مطابق عراق کے ایک شہر موصل میں ” جودی “ پہاڑی ہے جس پر یہ کشتی جا کر رک گئی۔ حضرت نوح نے اس دن روزہ رکھا اور تمام اہل ایمان کو اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ 3) حضرت نوح بڑے جلیل القدر پیغمبر ہیں اور آپ نے ساڑھے نو سو سال تک نہایت صبر و تحمل سے اللہ کا دین ہر شخص تک پہنچانے کی کوشش فرمائی۔ مگر بہت کم لوگوں نے ایمان قبول کیا ۔ یہاں تک کہ حضرت نوح کی بیوی اور آپ کے بیٹے نے بھی کفر سے توبہ نہیں کیا اور اسی پر وہ اس دنیا سے چلے گئے۔ اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں کہ : 1) انبیاء کرام کا اور ان لوگوں کا جواب کے طریقوں پر چلنے والے ہیں ان کا کام اللہ کا دین پہنچاتا ہے زبردستی کرنا نہیں ہے کیونکہ دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے اگر اکراہ اور زبردستی ہوتی تو حضرت ابراہیم کے والد آذر، حضرت نوح کا بیٹا اور بیوی، نبی کریم ﷺ کے چچا ابوطالب یہ سب مسلمان ہوتے لیکن ان سب کا خاتمہ کفر پر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ کسی نبی نے پیغام الٰہی کے پہچانے میں کمی نہیں فرمائی کسی طرح کی زبردستی بھی نہیں کی۔ یہی دین اسلام کی روح ہے۔ 2) دوسری بات یہ ہے کہ کفار و مشرکین اور گناہ پرستوں کی صحبت اتنی بری چیز ہے کہ وہ انسان کو بہت سی عظمتوں سے محروم کردیتی ہے۔ حضرت نوح کا بیٹا کنعان برے لوگوں کی صحبت میں بیٹھتا ہے اور اس کے اپنے گھر میں جو اللہ کی رحمت کا دریا بہہ رہا تھا وہ اس سے محروم رہا۔ اسی لئے علماء نے فرمایا ہے کہ ہر انسان کو سب سے پہلے اپنے بچوں کے اخلاق و کردار کی نگرانی کرنی چاہئے اور بری صحبتوں سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے تاکہ وہ بری صحبتوں میں بیٹھ کر خاندان کا نام بدنام نہ کریں۔ باقی تقدیر الٰہی کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ حضرت نوح نے اپنی بیوی اور اپنے بیٹے کو ہر ممکن نصیحت فرمائی مگر بری صحبتوں نے ان کو ایمان کے بجائے کفر کے مقام پر لاکھڑا کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام دینی معاملات کا دار و مدار ایمان عمل صالح اور تقویٰ پر ہے۔ خاندان ، نسب اور کسی بڑے باپ کی اولاد ہونے پر نہیں ہے۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے خاتون جنت حضرت فاطمہ (اور ملت اسلامیہ کی ہر بیٹی) سے فرمایا کہ اے فاطمہ تم یہ مت سمجھنا کہ تم بنت محمد ﷺ ہو اس لئے تمہاری نجات ہوگی۔ بلکہ تمہاری نجات بھی تمہارے اعمال صالحہ کی وجہ سے ہوگی۔
Ayahs 11:48–49

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

کہا گیا اے نوح ہماری طرف سے آپ پر جو سلامتی اور برکتیں ہیں ان کے ساتھ (اس کشتی سے) اتر جائیے اور ان جماعتوں پر بھی رحمتیں ہیں جو تمہارے ساتھ ہیں۔ لیکن وہ گروہ جن کو ہم چند دنوں کے عیش و آرام دیں گے پھر ان کو ہماری طرف سے درد ناک عذاب دیا جائیگا۔

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم وحی کے ذریعہ آپ تک پہنچا رہے ہیں۔ نہ تو اس سے پہلے آپ جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم جانتی تھی۔ صبر کیجیے بیشک بہترین انجام اہل تقویٰ کے لئے ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 48 تا 49 قیل (کہا گیا) اھبط (اتر جا) سلم (سلامتی، عافیت) رکت (برکتیں) امم (امتیں، جماعتیں، گروہ) سنمتع (بہت جلد ہم فائدہ دیں گے) انباء (نبی) ، خبریں (نوحی) ہم وحی کرتے ہیں ) ماکنت (تو نہ تھا) تعلم (تو جانتا ہے) اصبر (صبر کر) العاقبۃ (انجام) تشریح :- آیت نمبر 48 تا 49 گزشتہ آیات میں ” طوفان نوح “ کی تفصیلات ارشاد فرمائی گئی تھیں اب آیات میں حضرت نوح کا واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ جب پانی کے زبردست طوفان کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ وہ اس سارے پانی کو اپنے اندر جذب کرلے۔ آسمان سے برسنے والے بادلوں اور زمین پر بہنے والے چشموں کو رک جانے کا حکم دیدیا تب اللہ نے ایک ایسی ہوا چلائی جس سے سطح زمین خشک ہونا شروع ہوگئی اور کشتیوں پر سوار حضرت نوح ان کے تینوں بیٹے، گھر والے اور اہل ایمان کو اس کشتی سے اتر جانے کا حکم دیا تاکہ زمین پر پھر سے زندگی کا آغاز ہوجائے۔ مسلسل چھ مہینے تک اس کشتی میں رہنے کے بعد جب اہل ایمان نے زمین پر قدم رکھا تو اللہ نے حضرت نوح کو خطاب فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ اے نوح اب تم اور تمہاری اتباع کرنے والے اس سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ زمین پر اتر جائیں اور کفار کو بتا دیا گیا کہ اگر تم نے اتنے بڑے طوفان اور عذاب کے بعد ان لوگوں کی روش زندگی کو اپنایا جو نافرمانی کے سبب ہلاک ہوچکے ہیں تو زیادہ عرصہ نہیں گذرے گا کہ تمہارا بھی وہی انجام ہوگا اور عذاب نازل کر کے تہس نہس کردیا جائے گا لیکن اگر اللہ و رسول کے احکامات پر عمل کیا گیا تو اللہ اس کی جزا اور بدلہ عطا فرمائے گا اور پھر سے زندگی کی تمام نعمتیں عطا فرمائے گا۔ آخر میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ یہ سب غیب کی خبریں ہیں جو وحی کے ذریعہ آپ تک پہنچائی جا رہی ہیں ورنہ ہزاروں سال پرانے اس واقعہ سے نہ آپ کی قوم واقف تھی اور نہ آپ کو اس کا علم تھا۔ فرمایا کہ صبر اور برداشت سے کام لیجیے کیونکہ ہر کام کا بہتر انجام ان ہی لوگوں کے لئے ہوا کرتا ہے جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔
Ayahs 11:50–57

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ھود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ اے میری قوم تم اس اللہ کی عبادت و بندگی کرو جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ تم نے (اپنی طرف سے) محض جھوٹ گھڑ رکھے ہیں۔

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے میری قوم ! میں تم سے اس پر کوئی بدلہ (اجرت) نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو اس اللہ پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگو ! تم اپنے رب سے بخشش (معافی) مانگو اور پھر اسی کی طرف رجوع کرو (توبہ کرو) وہ تمہارے اوپر خوب باشریں برسائے گا اور تمہاری قوت بڑھا دے گا اور تم مجرموں کی طرح منہ نہ پھیرو۔

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے ھود ! تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل (معجزہ) لے کر نہیں آئے۔ ہم تمہارے کہنے سے نہ تو اپنے معبودوں کو چھوڑیں گے اور نہ ہم تمہارے اوپر ایمان لائیں گے۔

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی معبود نے تمہیں کسی خرابی (بیماری) میں مبتلا کردیا ہے (حضرت ھود نے) کہا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہنا کہ میں ان تمام معبودوں سے نفرت کا اظہار کرتا ہوں جنہیں تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے۔

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

تم سب مل کر میرے خلاف جو کچھ کرنا چاہتے ہو وہ کر گذرو اور پھر مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو ۔

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں نے اس اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کی چوٹی اس کے ہاتھ (قبضہ) میں نہ ہو۔ یقینا میرا رب صراط مستقیم پر چلنے سے ملتا ہے۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

اگر تم اب بھی منہ پھیرتے ہو تو پھیر لو۔ میں تمہارے پاس جس پاغیم کے ساتھ بھیجا گیا ہوں وہ میں نے پہنچا دیا ہے۔ میرے رب (کی یہ طاقت ہے کہ ) وہ تمہاری جگہ دوسری قوم کو آباد کر دے اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔ بیشک میرا رب ہر چیز پر نگہبان و محافظ ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 57 اخا (اخ) بھائی مالکم (تمہارے لئے نہیں ہے) مفترون (گھڑنے والے) لا اسئل (میں نہیں مانگتا، میں سوال نہیں کرتا) اجر (اجرت، بدلہ، معاوضہ) فطرنی (جس نے مجھے پیدا کیا) استغفروا (تم معافی مانگو) یرسل (وہ بھیجے گا) مدرار (مسلسل برسنا، برسانا، بارشیں) ماجئتنا (تو نہیں ، (تو نہیں لایا) تاریکی (تارکین) ، چھوڑنے والے اعترک ت (تجھے مبتلا کردیا، پھنسا دیا) سوء (برائی، تکلیف، بیماری) اشھد (میں گواہ کرتا ہوں) بری (بیزاری، نفرت) من دونہ (اس کو چھوڑ کر) کیدونی (تم تدبیر کرو میرے خلاف) لا تنظرون (تم مجھے مہلت نہ دو ، موقع نہ دو ) توکلت (میں نے بھروسہ کرلیا، بھروسہ کر رکھا ہے) دابۃ (زمین پر چلنے والا جان دار اخذ (پکڑنے والا) ناصیۃ (پیشانی، چوٹی) ابلغت (میں نے پہنچا دیا) ارسلت (میں بھیجا گیا ہوں) یستخلف (وہ قائم مقام بنا دے گا) غیرکم (تمہارے علاوہ لاتضرون (تم بگاڑ نہ سکو گے) حفیظ (حفاظت کرنے والا، نگہبان) تشریح : آیت نمبر 50 تا 57 قرآن کریم سچائی کا وہ پیغام ہے جس کے اپنانے میں کامیابی اور اس کا کفر و انکار دین و دنیا کی تباہی ہے۔ قرآن کریم میں گزشتہ انبیاء کرام کے واقعات کو نہایت اختصار سے پیش کیا گیا ہے تاکہ عبرت و نصیحت کے تمام پہلو سامنے آسکیں۔ حضرت نوح کے عبرت انگیز واقعہ کو نہایت مختصر انداز سے سامنے رکھ کر یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت نوح نے ساڑھے نو سو سال تک اللہ کے دین کی سچائی اور توحید کے پیغام کو ملت کے ہر فرد کے سامنے خلوص اور بےغرضی سے پیش کیا۔ جن لوگوں نے اطاعت و فرماں برداری کا طریقہ اختیار کیا وہ کشتی نوح میں محفوظ رہے لیکن جن لوگوں کو اپنی دولت، بلند عمارتوں اور تہذیب و ترقی پر ناز تھا جب اللہ کا فیصلہ آگیا اور زمین و آسمان سے پانی کا طوفان آیا تو پہاڑ کی چوٹیوں پر چڑھ جانے والے بھی اپنے آپ کو نہ بچا سکے۔ قرآن کریم اسی بات کو ذہنوں میں تازہ کرنے کے لئے اپنے پغمبروں کے واقعات کو پیش کر کے عبرت و نصیحت کے ہر پہلو کو نمایاں کرتا ہے کیوں کہ سنبھل جانے کا ایک وقت ہوتا ہے۔ اگر کوئی قوم سنبھل نہ کسی تو پھر وہ تاریخ انسانی میں ایک عبرت کا نشان بن جایا کرتی ہے۔ حضرت نوح کے بعد عاد ابن ارم کی نسل سے قوم عاد ایک زبردست قوم بن کر ابھری، وہ اپنی دنیاوی ترقیات، مال و دولت اور تجارت کی کثرت ، بلند وبالا عمارتوں اور سرسبز و شاداب علاقوں کی وجہ سے ساری دنیا کے ذہن و فکر پر چھا گئی اور کم و بیش ایک ہزار سال تک دنیا پر حکمرانی کرتی رہی۔ لیکن ایک مورخ اس بات پر حیران و پریشان ہوجاتا ہے کہ جس طرح یہ قوم ابھر کر ساری دنیا کے ذہنوں پر چھا گئی تھی اسی طرح جب وہ مٹنے پر آئی تو دنیا سے اس کا وجود اس طرح ختم ہوگیا کہ آج اس قوم کے آثار، نشانات اور کھنڈرات بھی مشکل سے ملتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ دنیا کی اتنی ترقی یافتہ قوم اس طرح تاریخ میں عبرت کا نشان کیوں بن گئی ؟ وہ کونسی دیمک تھی جو اس قوم کی ترقیات کو چاٹ گئی ۔ قرآن کریم کی یہ آیات اس سوال کا بہترین جواب ہیں۔ سورة ہود میں اللہ تعالیٰ نے سات انبیاء کرام کی زندگی کو مختصر انداز سے بین کر کے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ : 1) جن لوگوں نے انبیاء کرام کی تعلیمات کو اپنایا اور اللہ کے رسولوں کی اطاعت و فرماں برداری کی وہ قومیں کامیاب ہوگئیں لیکن جن کو دنیا کی دولت، ترقی اور بلند وبالا عمارتوں پر ناز تھا اور انہوں نے انبیاء کرام کی بات کو تسلیم نہیں کیا وہ اس طرح دنان سے مٹ گئیں کہ آج ان کا کوئی نام لیوا تک موجود نہیں ہے۔ 2) قوموں کی تہذیب و ترقی کو چاٹ جانے والی دوسری چیز کسی قوم کا بےجا گھمنڈ، غرور وتکبر اور کمزوروں پر ظلم و ستم ہے۔ اگر کسی کے دماغ میں دولتا ور اقتدار کا نشہ اس طرح چھا جائے کہ وہ کمزور افراد اور مجبور قوموں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگے اور کسی ظلم و ستم کرنے میں کوئی رکاوٹ محسوس نہ کرے تو یہ غرور تکبر افراد اور قوموں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔ 3) قوموں کے گرنے کا ایک سبب یہ بھی ہوا کرتا ہے کہ وہ ایک اللہ کی عبادت و بندگی کے بجائے اپنے خیال اور گمان سے پتھروں کے بت بنا کر ان کو معبود کا درجہ دیدیتے ہیں اور انسانی مجسموں کو ابتداء میں عقیدت و محبت کا درجہ دیتے ہیں اور پھر ان کو اپنا معبود بنا لیتے ہیں۔ 4) چوتھا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کا وسیلہ اختیار کرنے لگ جاتے ہیں اور پتھروں کے بےجان بتوں اور مٹی کے ڈھیروں سے اپنی مرادیں مانگنے لگتے ہیں۔ یوں تو اور بھی اسباب ہیں جن سے قومیں برباد ہوتی ہیں لیکن اس موقع پر ان چند اسباب کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ قوم عاد کی بربادی میں سب سے بڑے اسباب یہی تھے کہ انبیاء کرام کی تعلیمات سے انکار، غرور وتکبر، کمزوروں پر ظلم و ستم، انسانی مجسموں کو معبود کا مقام دینا اور ان کے وسیلے سے اپنی حاجتوں کو مانگنا۔ حضرت ھود نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے توحید کا یہ پیغام پوری قوم تک پہنچایا اور ان کو بتایا کہ اے لوگو ! تم نے جن بےجان پتھروں کے بتوں کو اپنا معبود سمجھ رکھا ہے وہ ایک بہت بڑا دھوکہ اور فریب ہے۔ حقیقی معبود صرف ایک اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے یہ بت قصے، کہانیوں اور افسانوں سے زیادہ کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے۔ تم صرف اسی ایک اللہ کی بندگی کرو جس نے تم سب کو پیدا کیا ہے۔ حضرت ھود نے فرمایا کہ لوگو ! تم یہ مت سمجھنا کہ یہ سب کچھ کہنے سے میں تم سے کسی دولت یا دنیاوی عزت کا طالب ہوں بلکہ میں صاف اعلان کرتا ہوں کہ میرا اجر وثواب اللہ کے ذمے ہے میرا بھروسہ صرف اسی ذات پر ہے جو ہم سب کا معبود ہے۔ تم جن گناہوں میں مبتلا ہو ان سے معافی مانگو تاکہ خشک سالی جو تمہاری طرف بڑھتی چلی آرہی ہے وہ تمہیں اور تمہاری طاقت و قوت کو تباہ وبرباد کر کے نہ رکھ دے۔ اگر تم نے توبہ و استغفار کیا تو اللہ نہ صرف تمہارے گناہوں خطاؤں کو معاف کر دے گا بلکہ تمہاری قوت و طاقت میں اور بھی اضافہ فرما دے گا۔ اگر تم نے اللہ کی نافرمانی کو اپنا رکھا تو تم مجرم قوموں میں شامل ہو کر برے انجام سے دوچار ہو جائو گے۔ حضرت ہود نہایت خلوص، محبت، متانت و سنجیدگی سے اس پیغام کو ایک ایک گھر تک پہنچا رہے تھے مگر وہ بدقسمت قوم حضرت ہود کے اس پیغام توحید کو نہ سمجھ کسی اور کہنے لگی کہ اے ہود ہم تمہارے کہہ دینے سے ان معبودوں کو تو نہیں چھوڑ سکتے جو ہمارا سہارا ہیں جب کہ تمہارے ساتھ کوئی ایسا معجزہ بھی نہیں ہے جس کو دیکھ کر ہم اس بات کا یقین کرلیں کہ واقعی تم جو بات کہہ رہے ہو وہ سچ ہے۔ کہنے لگے کہ ہم تو یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اے ھود ! تم جو رات دن اٹھتے بیٹھتے ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہو کوئی معبود تم سے ناراض ہوگیا ہے اور اس نے تمہارے دل و دماغ پر ایسا برا اثر ڈالا ہے کہ تم بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو۔ حضرت ہود کا نہایت سادگی، متانت اور سنجیدگی کے ساتھ یہی پیغمبرانہ جواب تھا کہ اے میری قوم ! میں نے جو کچھ کہا ہے اس پر میں اللہ کی گواہی پیش کرتا ہوں وہی میرا گواہ ہے البتہ میں تمہارے کفر و شرک کے ہر انداز سے بیزار ہوں اور میں وہی سچی بات کہوں گا جس کا مجھے اللہ نے حکم دیا ہے۔ اگر تم میری بات نہیں مانتے اور تمہیں میری باتوں کا یقین نہیں ہے تو تم سب مل کر میرے خلاف جو کچھ کرسکتے ہو کر ڈالو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو ۔ میرا بھروسہ تو اس ذات بےنیاز پر ہے جو تمہارے اور میرا رب ہے اور ہر چیز اس کے اس طرح قبضے میں ہے کہ اس نے ہر چیز کو اس کی چوٹی سے پکڑ کر اور تھام کر رکھا ہے۔ اس پروردگار کا راستہ ہی صراط مستقیم ہے فرمایا کہ اے میری قوم ! میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم اس راستے کو اپناتے ہو یا نہیں۔ بہرحال اتنی بات تمہیں بتا دیتا ہوں کہ اگر تم نے اس صراط مستقیم کو نہیں اپنایا اور اسی طرح غیر اللہ کی عبادت و بندگی کرتے رہے تو دوسری قوموں کی طرح تمہیں بھی حرف غلط کی طرح مٹا دیا جائے گا۔ وہ اللہ جو کسی کا محتاج نہیں ہے تمہیں مٹا کر کسی دوسری قوم کو تمہاری جگہ پر لا کر آباد کر دے گا۔ تم اللہ کا تو کچھ نہ بگاڑ سکو گے کیونکہ وہ ہر چیز کا محافظ و نگراں ہے۔ البتہ تم اپنے لئے وہ خرابی ضرور پیدا کرلو گے جس کا کوئی علاج نہیں ہے اور تم اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکو گے۔ آپ اس کے بعد کی آیات میں ملاحظہ فرمائیں گے کہ اللہ نے قوم عاد کو کس طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیا اور دوسری قوم کو ان کا قائم مقام بنا دیا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ قوم عاد جو دنیا کی عظیم قوموں میں سے ایک قوم تھی کس طرح اس کو اس کے برے اعمال کے سبب تباہ و برباد کر کے رکھ دیا گیا۔ یہی تمام اخلاق کمزوریاں تم مکہ والوں کے اندر بھی موجود ہیں اگر تم نے اپنے گناہوں سے توبہ نہ کی تو تمہارا حشر بھی قوم عاد سے مختلف نہ ہوگا۔
Ayahs 11:58–60

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم پہنچ گیا تو ہم نے ھود کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لے آئے تھے اپنی رحمت سے ان کو ایک سخت عذاب سے بچا لیا

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

اور یہ تھی قوم عاد جنہوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ان تمام لوگوں کے سکھائے پر چلتے رہے جو ضدی اور ہٹ دھرم تھے۔

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

اس دنیا میں اور قیامت کے دن تک لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی ہے۔ سنو ! قوم عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا۔ خوب سن لو کہ قوم عاد کو رحمت سے دوری ہوئی جو کہ ھود کی قوم تھی۔

لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 60 امرنا (ہمارا حکم، ہمارا فیصلہ ) غلیظ (سخت) جحدوا (انہوں نے انکار کیا) عصوا (انہوں نے انکار کیا) عصوا (انہوں نے نافرمانی کی، کہا نہ مانا) اتبعوا (وہ پیچھے لگ گئے۔ انہوں نے اتباع کی) اتبعوا (وہ پیچھے لگ گئے، انہوں نے اتباع کی) جبار (زبردست، ضدی) عنید (ہٹ دھرم لوگ) اتبعوا (پیچھے لگا دی گئی) لعنۃ (لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری ) تشریح : آیت نمبر 58 تا 60 گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ” قوم عاد “ کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ” قوم عاد “ جو کئی ہزار کی تعداد میں تھے اور دنیاوی اعتبار سے خوش حال اور جسمانی لحاظ سے نہایت مضبوط واقع ہوئے تھے جب انہوں نے اللہ کی نافرمانی اور اپنے نبی کی اطاعت کا انکار کیا اور کفر و شرک میں انتہا تک پہنچ گئے تب اللہ نے ان پر اپنا عذاب نازل کیا اور اتنی مضبوط قوم کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ حضرت ہود اس قوم کو توحید و رسالت کی طرف متوجہ کرتے رہے مگر وہ قوم اپنی باغیانہ روش سے باز نہ آئی بالآخر اللہ کا وہ فیصلہ آگیا جو قوموں پر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے نافذ کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم کی سورة اعراف میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ سات راتوں اور آٹھ دنوں تک آندھی کا ایسا زبردست طوفان آیا جس نے ان کی آبادیوں کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ پھینکا، ان کے عالی شان مکانات گر گئے ، تیز ہواؤں کی وجہ سے چھتیں اڑ گئیں، درخت جڑوں سے اکھڑ گئے ایک ایسی زہریلی ہوا چلائی گئی جو کہ ان کی ناک میں داخل ہو کر ان کے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتی تھی۔ اس طرح یہ قوم اپنے کفر و شرک اور بد اعمالیوں کی وجہ سے تاریخ انسانی میں ” عبرت “ کا نشان بن کر رہ گئی۔ اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود اور ان لوگوں کو نجات عطا فرما دی جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور رسولوں کی رسالت پر ایمان لے آئے تھے۔ اگرچہ قوم عاد میں صرف حضرت ہود ہی پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے مگر چونکہ انبیاء کرام کا سلسلہ تو ابتدائے کائنات ہی سے جاری ہے اسی لئے ” رسل “ فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ ایک رسول کی اطاعت کا انکار درحقیقت تمام انبیاء کرام کا انکار ہوتا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے قوم عاد کے اہل ایمان کو نجات عطا فرما دیا ور نافرمانوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا گیا۔ ان آیات میں قرآن کریم کے مخاطب اول کفار و مشرکین مکہ کو بتایا جا رہا ہے کہ قوموں کی زندگی میں ان کا اچھا اور نیک کردار آنے والی نسلوں کے لئے باعث عبرت و نصیحت ہوا کرتا ہے۔ تاریخ انسانی گواہ ہے کہ اللہ نے صرف ان ہی لوگوں کو نجات عطا فرمائی ہے جو انبیاء کرام کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو نافرمانی اور بغاوت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ان کو کبھی نجات نہیں ملتی اور ان کی دنیاوی طاقت و قوت ان کے کسی کام نہیں آسکتی۔ فرمایا جا رہا ہے کہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جس پیغام الٰہی کو پہنچا رہے ہیں اگر ان کی اطاعت نہ کی گئی اور کفار مکہ اپنی باغیانہ روش سے باز نہ آئے تو وہ بھی کسی عبرت ناک انجام سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ سیرت نبوی ﷺ کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے صدقے میں اب وہ عذاب تو اس امت پر نہیں آئیں گے جو گزشتہ امتوں پر آئے تھے لیکن عذاب کی وہ شکلیں ضرور سامنے آئیں گی جو کفار و مشرکین کے وجود کو نشان عبرت بنانے کے لئے کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والوں کو نہ صرف نجات عطا فرمائی بلکہ دین و دنیا کی تمام بھلائیاں عطا فرما کر ان کو ساری دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنا دیا۔
Ayahs 11:61–63

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ثمود یک طرف ان کے بھائی صالح کو (پیغمبر بناکر) بھیجا گیا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم ! تم اس اللہ کی عبادت و بندگی کرو جس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی ہے جس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا۔ تمہیں اس میں آباد کیا، تم اس سے معافی مانگو اور اسی کی طرف پلٹ آئو۔ بیشک میرا رب قریب ہے اور قبول کرنے والا ہے۔

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اے صالح تم تو ہمارے اندر پہلے سے ان لوگوں میں سے تھے جن سے بڑی امیدیں تھیں۔ کیا تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جس کی عبادت و بندگی ہمارے باپ دادا کیا کرتے تھے اور جس دین کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو اس میں تو ہمیں سخت شبہ ہے۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

(حضرت صالح نے ) کہا اے میری قوم ! یہ بتائو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنی رحمت سے نوازا ہے (اس کے باوجود) اگر میں اس کی نافرمانی کروں گا تو اس سے مجھجے کون بچائے گا۔ تم تو میرا بڑا نقصان کر رہے ہو۔

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 63 انشا (اس نے اٹھایا، اس نے پیدا کیا) استعمر (اس نے آباد کیا) استغفروا (معافی مانگو، توبہ کرو) تو بوا (تم پلٹو، تم لوٹو) مجیب (جواب دینے والا، قبول کرنے والا) مرجو (مرکز امید، بہت سی وابستہ امیدیں ہیں) اتنھنا (کیا تو ہمیں روکتا ہے، منع کرتا ہے) اباونا (ہمارے باپ دادا) تدعونا (تو ہمیں بلاتا ہے) مریب (ریب) شک میں ڈالنے والا بینۃ (کھلی نشانی) اتنی (اس نے مجھے دیا) من ینصرنی (میری کون مدد کرے گا) ماتریدون (تم اضافہ نہیں کر رہے ہو) غیر تخسیر (سوائے نقصان کے) تشریح :- آیت نمبر 61 تا 63 اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور بلاوجہ کسی قوم کو یا اس کے افراد کو برباد بھی نہیں کرتا بلکہ انہوں نے جس طر رزندگی کو اپنے لئے پسند کر رکھا ہے اگر وہ غلط ہے تو اللہ ان کو سوچنے سمجھنے اور سنبھلنے کا پورا پورا موقع عطا کرتا ہے، ان کے احوال کی اصلاح کے لئے ان پاکیزہ نفوس (انبیاء کرام) کو بھیجتا ہے جو ان کو قوم قدم پر غلط روی کے برے نتائج سے آگاہ کرتے رہتے ہیں اور بالکل واضح طریقہ پر بتا دیتے ہیں کہ ان کی اصلاح اور سنبھلنے کے راستے کونسے ہیں۔ اگر وہ انبیاء کرام کی بات مان کر صراط مستقیم اختیار کرلیتے ہیں تو ان کو دین و دنیا کی تمام بھلائیوں کی سعادت نصیب ہوتی ہے ورنہ ان کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے۔ دنیا کی دولت، قوت و طاقت اور ظاہری اسباب ان کے کسی کام نہیں آتے۔ گزشتہ آیات میں آپ نے قوم عاد کے اس برے انجام کو ملاحظہ کرلیا ہے جس میں ان کا مال دولت اور دنیاوی ترقی ان کے کسیک ام نہ آسکے۔ قوم عاد کی طرح عرب کی قدیم ترین قوموں میں سے قوم ثمود بھی تھی جو حجاز اور شام کے درمیان ” الحجر ‘ کے مقام پر آباد تھی۔ یہ قوم جسمانی اعتبار سے نہایت قوی اور مضبوط تھی ان کی لمبی لمبی عمریں عظیم الشان فن تعمیر اس قوم ثمود کا نمایاں وصف تھا۔ اس قوم نے پہاڑوں کو تراش کر ایسی عالی شان اور بلند وبالا عمارتیں بنائی تھیں جن کے آثار اور کھنڈرات آج تموجود ہیں۔ غزوہ تبوک کے موقع پر جب نبی کریم ﷺ اور تیس ہزار صحابہ کرام قوم ثمود کی بستیوں کے پاس سے گذرے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں قوم ثمود آباد تھی مگر اپنی بد اعمالیوں کے سبب وہ دنیا سے مٹا دی گئی۔ نبی کریم ﷺ نے اس مقام سے جلد از جلد گذرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ سیر و تفریح کی جگہ نہیں بلکہ عبرت و نصیحت کی جگہ ہے۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو وہ کنواں جہاں سے حضرت صالح کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور وہ درہ بھی دکھایا جہاں سے یہ اونٹنی معجزہ کے طور پر پیدا کی گئی تھی اور وہاں سے پانی کنوئیں تک آتی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس جگہ صرف اس کنوئیں سے پانی پینا جہاں سے حضرت صالح کی اونٹنی نے پانی پیا تھا۔ اس کے علاوہ کسی کنوئیں سے پانی مت پینا۔ جب قوم ثمود مال و دولت کی کثرت، عیش و عشرت کی زندگی اور بلند وبالا عمارتوں سے پر ناز کرتے ہوئے پتھر کے بےجان بتوں کی عبادت و بندگی میں ڈوب گئی تب اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی اصلاح کے لئے حضرت صالح کو بھیجا تاکہ ان کو خواب غفلت سے بیدار کیا جاسکے۔ حضرت صالح نے بھی تمام انبیاء کرام کی طرح وہی بنیادی بات ارشاد فرمائی کہ اے میری قوم ! تم ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت و بندگی نہ کرو کیونکہ وہی ایک اللہ ہے جس نے انسان کو زمین کے بےجان ذرات سے پیدا کیا۔ پھر اس کو وہ صلاحیتیں عطا فرمائیں جن سے کام لے کر وہ اس دنیا میں اپنے رہنے بسنے اور زندگی گذارنے کا سلیقہ سیکھتا ہے۔ فرمایا کہ تم دنیا کے اسباب اور عیش و عشرت میں پھنس کر اپنے خلاق ومالک اللہ کو موت بھول جانا اور اسی کی طرف پلٹ کر آئو۔ وہ اللہ ایسا مہربان ہے کہ اپنے بندوں کی ہر فریاد سنتا ہے اور وہ ان سے بہت قریب ہے۔ سب کچھ سننے کے بعد کہنے لگے کہ اے صالح ہمیں تو آپ سے بہت کچھ امیدیں تھیں اب آپ کو کیا ہوگیا ہے کہ آپ ہمیں ان معبودوں کی عبادت و بندگی سے روکتے ہیں جن کی عبادت و بندگی ہمارے باپ داداے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ بات تو ہمارے سامنے ہیں لیکن آپ جس معبود کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں وہ ہے بھی یا نہیں ؟ ہمیں تو اس میں شک ہے حضرت صالح نے نہایت متانت اور سنجیدگی سے جواب یہ دیا کہ اے میری قوم ! مجھے یہ بتائو کہ جب اللہ نے مجھے اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے کھلی نشانیاں اور اس کی رحمتیں میرے سامنے ہیں۔ اگر میں ان سب کے باوجود اللہ کی نافرمانی کروں گا تو مجھے اللہ کے عذاب سے اور آخرت کے نقصان سے کون بچائے گا۔ یقینا تمہاری بات مان کر تو میں سوائے نقصان کے اور کچھ بھی حاصل نہ کرسکوں گا۔ حضرت صالح کے اس واقعہ کی مزید تفصیلات اس کے بعد کی آیات میں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
Ayahs 11:64–68

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

(صالح نے کہا کہ) اے میری قوم یہ ایک اونٹنی ہے۔ جو تمہارے لئے اللہ کی نشانی ہے تم اس کو زمین پر آزاد چھوڑے رکھنا تاکہ وہ اللہ کی زمین سے (آزادی کے ساتھ) کھاتی پھرے اور اس کو برائی (کی نیت) سے ہاتھ مت لگانا ورنہ بہت جلد عذاب تمہیں آپکڑے گا

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

اور پھر انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا۔ تب صالح نے کہا کہ تم تین دنوں تک اپنے اپنے گھروں کو اور برت لو۔ یہ وہ وعدہ ہے جو جھوٹا ہونے والا نہیں ہے (پورا ہو کر رہے گا) ۔

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت سے نجات عطا فرما دی اور اس دن کی رسوائی سے بچا لیا۔ بیشک آپ کا رب زبردست اور بڑی قوت والا ہے۔

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور ان ظالموں کو ایک چنگھاڑنے آپکڑا پھر وہ صبح کے قوت اپنے گھروں میں اس طرح اوندھے پڑے رہ گئے

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

جیسے وہ ان گھروں میں کبھی آباد ہی نہ تھے۔ قوم ثمود نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا۔ خوب سن لو ! کہ قوم ثمود کی رحمت سے دور جا پڑی۔

لغات القرآن آیت نمبر 64 تا 68 ناقۃ (اونٹنی) ذرو (چھوڑ دو ، چھوڑے رکھو) تاکل (وہ کھائے) ارض اللہ (اللہ کی زمین) لاتمسوا (تم ہاتھ نہ لگانا) بسوء (برائی سے، بری نیت سے) عقروا (انہوں نے قتل کر ڈالا) تمتعوا (تم فائدہ اٹھا لو) ثلثۃ ایام (تین دن) غیر مکذوب (جھوٹا ہونے والا نہیں ہے ) خزی (رسوائی، ذلت) الصیحۃ (چنگھاڑ، بہت تیز آواز) اصبحوا (وہ ہوگئے) دیار (دیر) گھر جثمین (اوندھے پڑے رہنے والے) تشریح : آیت نمبر 64 تا 68 جب حضرت صالح قوم ثمود کے سرداروں سے فرما چکے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا خالق ومالک ہے اسی ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرو۔ میں اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔ میری بات مانو۔ کہنے لگے کہ ہم اس بات کا کیسے یقین کرلیں کہ واقعی تمہیں اللہ نے پیغمبر بنا کر بھاجب ہے اگر تم سچے ہو تو سامنے پہاڑ ہے اس سے ایک ایسی اونٹنی پیدا کر ائو جو کہ گابھن ہو اور وہ پیدا ہوتے ہی بچہ پیدا کرے۔ حضرت صالح نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قوم کی اس فرمئاش کو پیش کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح کی اس درخواست کو قبول کیا اور پہاڑ سے گابھن اونٹنی کو پیدا کیا جس نے کچھ دیر کے بعد ایک بچہ جنم دیا۔ اس اتنے بڑے معجزے کو دیکھ کر کسی نے بھی ایمان قبول نہیں کیا۔ کہتے ہیں کہ ان سب لوگوں میں سے صرف ایک شخص نے ایمان قبول کیا۔ بقیہ سب کے سب اپنے کفر پر قائم رہے۔ حضرت صالح نے پوری قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تم نے اللہ سے ایک اونٹنی کا مطالبہ کیا اور اللہ نے معجزے کے طور پر اس اونٹنی کو پیدا فرما دیا تو یہ اونٹنی تمہارے کنوئیں سے پانی پئیے گی لیکن اس دن تمہارے جانور پانی نہیں پئیں گے اس طرح ایک دن اونٹنی پانی پئے گی اور دوسرے دن تمہارے جانور پانی پی سکیں گے۔ ابتدا میں تو وہ سب اس کے لئے تیار ہوگئے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے جانوروں کو پانی نہیں مل رہا ہے اور ایک دن پانی نہ ملنے سے ان کے جانور مر رہے ہیں تو انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ اس اونٹنی کو مار دیا جائے تاکہ اس مشکل سے نجات مل جائے۔ حضرت صالح نے فرمایا کہ دیکھو یہ اونٹنی معجزہ کے طور پر تمہیں دی گئی ہے اس کو ستانا یا قتل کرنا تمہیں تباہ کر دے گا۔ مگر یہ نافرمان قوم باز نہ آئی اور ایک دن انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ جب حضرت صالح کو معلوم ہوا کہ اونٹنی کو مار دیا گیا ہے تب حضرت صالح کو یقینی ہوگیا کہ اب اس قوم پر عذاب نازل ہونے والا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس قوم کے لوگ تین دن تک اپنے گھروں میں بسر کرلیں۔ اس کے بعد اس قوم کو اس کی نافرمانی کی سزا مل کر رہے گی۔ چناچہ تیسرے دن ایک ہیبت ناک آواز پوری گھن گھرج کے ساتھ سنائی دی ۔ اس آواز سے ان کے کانوں کے پردے پھٹ گئے۔ ان کے دلوں کی دھڑکنیں بند ہوگئیں، جب کہ وہ میٹھی نیند کے مزے لے رہے تھے، اسی حالت میں ہلاک کردیئے گئے ان کا مال و دولت ، بلند وبالا عمارتیں ان کے کسی کام نہ آسکیں اور اس طرح قوم ثمود اپنے برے انجام کو پہنچ گئی۔ اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح اور ان پر ایمان لانے والوں کو اس عذاب سے محفوظ رکھا اور ان کو نجات عطا فرما دی گئی۔ جب حضرت صالح نے دیکھا کہ پوری قوم مردہ حالت میں پڑی ہوئی ہے تو کہہ اٹھے۔ ” اے میری قوم میں نے اللہ کا پیغام اور نصیحت پہنچا دی تھی لیکن ت میں تو وہی لوگ برے لگتے تھے جو تمہیں صنیحت کرتے تھے (سورۃ الاعراف) “ قرآن کریم کا یہی ایک اسلوب بیان ہے کہ اللہ نے ہر نبی کو اور اس کے ماننے والوں کو عذاب سے محفوظ رکھا اور ان قوموں کو اور ان کے افراد کو تہس نہس کردیا جنہوں نے نافرمانی کا طریقہ اختیار کر رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نبی کریم ﷺ اور تمام انبیاء کرام پر ایمان کامل کی توفیق عطا فرمائے اور ہر طرح کے برے انجام سے محفوظ فرمائے آمین۔