10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayah 10:93

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور البتہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کے لئے بہت اچھا ٹھکانا عطا کیا اور ہم نے ان کو کھانے پینے کی بہترین چیزیں دیں اور انہوں نے باہم اختلاف کیا یہاں تک کہ ان کے پاس علم آگیا۔ یقینا آپ کا رب ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ قیامت کے دن کر دے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔

لغات القرآن آیت نمبر 93 بوانا (ہم نے ٹھکانا دیا) مبوا صدق (بہترین ٹھکانا) الطبیت (پاکیزہ چیزیں) اختلفوا (انہوں نے اختلاف کیا) العلم (علم (توریت) یقضی (وہ فیصلہ کرے گا) یختلفون (وہ اختلاف کرتے ہیں) تشریح :- آیت نمبر 93 آپ نے گزشتہ آیات میں ملاحظہ کرلیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے فرعون اور اس کے عظیم الشان لشکر کو غرق کر کے بنی اسرائیل کو نہ صرف فرعون کے ظلم و ستم اور اس کی غلامی سے نجات عطا فرما دی تھی بلکہ مکمل عافیت اور سلامتی کے ساتھ تمام بنی اسرائیل کو سمندر کے دوسرے کنارے پر پہنچا دیا تھا اور پھر اس صحرا میں اللہ نے نہ صرف اعلیٰ ترین غذاؤں اور کھانے پینے کا انتظام فرما دیا تھا بلکہ ان کی روحانی تسکین وتعلیم کیلئے توریت جیسی کتاب عطا فرما دی تھی۔ اس طرح دنیا و دنیا کی تمام نعمتوں سے ان کو نواز دیا گیا تھا مگر انہوں نے نافرمانی کے طریقے اختیار کر کے دین و دنیا کی ذلتوں کے طوق اپنے گلے میں ڈال لئے تھے۔ 1) اللہ تعالیٰ نے قوم بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کے ظلم و ستم سے نجات عطا فرما دی تھی۔ 2) ان کو بہترین ٹھکانا عطا فرمایا اور ملک شام اور مصر جیسے صاف ستھرے سرسبز و شاداب علاقوں کا وارث بنا دیا۔ 3) من وسلویٰ جیسا رزق حلال عطا فرمایا۔ 4) صحرا میں سب سے بڑی نعمت پانی ہوتا ہے۔ اللہ نے ایک پتھر سے بارہ چشمے جاری کر کے ہر قبیلے کو پانی کی سہولتیں عطا فرما دیں۔ 5) سب سے بڑھ کر روحانی اور اخلاقی تسکین و تکمیل کے لئے توریت جیسی کتاب عطا کی گئی جس میں ان کے لئے پوری طرح اس بات کی وضاحت کردی گئی تھی کہ زندگی گذارنے کا طریقہ کیا ہے ؟ آخرت اور اس کے تقاضے کیا ہیں ؟ کس طرح اپنی اور دوسروں کی اصلاح ممکن ہے ؟ ثواب کیا ہے گناہ کیا ہے ؟ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے ؟ 6) اور کونسی نعمت تھی جو ان کو عطا نہیں کی گئی تھی مگر انہوں نے اللہ و رسول کی فرماں برداری کے بجائے نافرمانیاں شروع کردیں۔ اتحاد و اتفاق کے بجائے انتشار پیدا کر کے کئی فرقے بنا ڈالے اور حق و صداقت کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے باطل اور باطل پرستوں کے طریقے اختیار کرنے شروع کردیئے۔ جب ان کو عمالقہ سے جہاد کرنے کیلئے کہا گیا تو انہوں نے نہ صرف صاف انکار کردیا بلکہ یہاں تک گستاخی کر ڈالی کہ اے موسیٰ ! تم اور تمہارا رب کفار سے جنگ کرلیں ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ہم فتح کے منتظر بیٹھے ہی فتح ہوجائے ہمیں اطلاع کردینا ہم قبضہ کرلیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی گستاخی کی یہ سزا دی کہ اس صحرا میں ان کو چالیس سال تک اس طرح بھٹکا دیا کہ وہ ہر روز راستہ تلاش کرتے تھے مگر صبح سے شام تک راستہ تلاش کرنے کی جدوجہد کے باوجود اگلے دن صبح کو دیکھتے کہ وہ وہیں پر ہیں جہاں سے چلے تھے۔ اس طرح ان سے راستہ گم کردیا گا تھا۔ وہ چالیس سال تک صحراؤں میں بھٹکتے رہے۔ اتنے طویل عرصہ میں بالآخر یہ قوم حضرت ہارون اور پھر حضرت موسیٰ سے بھی محروم کردی گئی ۔ حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کے انتقال کے بعد حضرت یوشع بن نون کے سمجھانے سے یہ قوم کچھ آگے بڑھی اور اس نے ارض فلسطین پر قبضہ کرلیا۔ مگر قوم بنی اسرائیل میں ہر خاندان نے اپنی اپنی حکومت قائم کرلی اور نہ صرف چھوٹے چھوٹے علاقوں میں بٹ گئے بلکہ توریت کا علم آجانے کے باوجود انہوں نے اتنے فرقے بنا لئے اور بحث و مباحثے کے ایسے دروازے کھول دیئے جس نے ان کو کسی قابل نہ رکھا۔ کفار اور مشرکین نے ان کے اختلافات سے فائدہ اٹھا کر آہستہ آہستہ اہل ایمان کو کفر کے راستے پر ڈال دیا اور ملک کے ہر حصے پر قبضہ کرتے چلے گئے۔ بخت نصر کے زمانہ میں تو انتہا یہ تھی کہ ایک دفع پھر قوم بنی اسرائیل اس کا فر حکومت کی یرغمال اور غلام بنا لی گئی تھی۔ کائنات کی یہ سب سے بڑی سچائی ہے کہ جو قوم اللہ کا دین چھوڑ کر عمل کرنے کے بجائے بحث و مباحثہ میں لگ جاتی ہے اور اتحاد کے بجائے انتظار کا راستہ اختیار کرتی ہے وہ قوم نہ صرف برباد ہوجاتی ہے بلکہ ان کے ہاتھوں سے ان کے گھر برباد اور تباہ ہوجاتے ہیں۔ ان میں اتنے فرقے بن جاتے ہیں کہ سوائے بحث و مباحثہ کے عمل کی کوئی روشنی نظر نہیں آتی۔ بنی اسرائیل کے زوال کی اس سے بڑی نشانی اور کیا ہوگی کہ جب ان ہی بنی اسرائیل میں سے بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰ تشریف لائے اور انہوں نے اعلان نبوت فرمایا تو نہ صرف ان بنی اسرائیل یعنی یہودیوں نے ان کا انکار کیا بلکہ بغاوت کا الزام لگا کر ان کو پھانسی کے پھندے تک پہنچا دیا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے حضرت عیسیٰ کو ان سے نجات عطا فرمائی اور ان کو آسمانوں پر اٹھا لیا جہاں وہ آج بھی زندہ ہیں۔ احادیث کی روشنی میں یہ بالکل واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ قیامت کے قریب نبی کریم ﷺ کے ایک امتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے۔ دجال کو قتل کریں گے ، صلیب کو توڑیں گے اور ایک وقت تک کے لئے اسلامی حکومت کو قائم فرما کر ان تمام اختلافات کو دور فرما دیں گے جو محض اس گمان پر قائم کردیئے گئے تھے کہ حضرت عیسیٰ کو پھانسی دیدی گئی ہے۔ حضرت عیسیٰ کے بعد یہ سارے اختلافات دور ہوجائیں گے اور دین میں جو انہوں نے فرقے بنا ڈالے تھے اور سچائی اور گمراہی کے جو جھوٹے معیار انہوں نے قائم کرلئے تھے ان کا فیصلہ قیامت کے دن کردیا جائے گا۔ ان آیات میں اس طرح اشارہ ملتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں بنی اسرائیل جو نبی آخر الزماں ﷺ کی مخالفت پر سر بستہ نظر آتے ہیں وہ کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے کیونکہ انہوں نے ہر نبی کے ساتھ اسی طرح کا معاملہ کیا تھا۔ وہ اگر آج ایمان کے مقابلے میں کفر کی حمایت کر رے ہیں تو یہ ان کے قومی مزاج کی بات ہے۔ اللہ نے اس طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ جس طرح انبیاء کرام کی مخالفت کی وجہ سے ان پر طرح طرح کے عذاب آئے اگر انہوں نے اللہ کے ان آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نافرمانی کی اور اطاعت قبول نہ کی تو قیامت تک ان کو راہ نجات حاصل نہ ہو سکے گی۔
Ayahs 10:94–97

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

پھر اگر آپ اس کتاب کی طرف سے شک میں ہیں جس کو ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے تو آپ ان لوگوں سے پوچھ لیجیے جو آپ سے پہلے کتاب کو پڑھتے تھے۔ بیشک آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے حق آگیا ہے۔ آپ شک کرنے والوں میں نہ ہوں

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا ۔ ورنہ پھر آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں کے حق میں آپ کے رب کی بات ثابت ہو چیت ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

خواہ ان کے پاس ہر نشانی بھی آجائے یہاں تک کہ وہ درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 97 ان کنت (اگر تو ہے) اسئل (تو سوال کر) یفرء ون (وہ پڑھتے ہیں) لاتکونن (تو ہرگز نہ ہونا) الممترین (شک کرنے والے) حقت (ثابت ہوگئی) حتی بروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں گے) تشریح : آیت نمبر 94 تا 97 جب نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ اپنے اولین مخاطب کفار عرب کے سامنے قرآن کریم، اس کی آیات، حقائق اور گزشتہ انبیاء کرام کے واقعات بیان فرماتے تو وہ لوگ حرصت زدہ رہ جاتے۔ ایک بات کے سمجھ میں آنے کے باوجود یا تو محض ضد، حسد ، ہٹ دھرمی اور تعصب کی بنا پر ان آیات کا انکار کردیتے یا شک و شبہ کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرنے تاکہ ان لوگوں کے قدم راہ حق سے ڈگمگا جائیں جو اس طرح بڑھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو سمجھانے کے لئے ایک بہت ہی لطیف انداز میں بظاہر نبی کریم ﷺ کو خطاب فرمایا ہے لیکن درحققتا یہ بات ان لوگوں سے کی جا رہی ہے جن کے دلوں میں قرآن کریم اور اس کی تعلیمات سے متعلق کچھ شکوک و شبہات پیدا ہو رہے تھے۔ نبی جو ایمان و یقین کا پیکر ہوتا ہے اور جس پیغام الٰہی کو وہ لوگوں تک پہنچاتا ہے اس پر سب سے پہلے وہ خود ایمان لاتا ہے اس پر شک نہیں کرتا لہٰذا نبی مکرم ﷺ کی طرف تو شک کی نسبت بھی نہیں کی جاسکتی۔ بعض احادیث میں آتا ہے کہ جب قرآن کریم کی کوئی بات آیات یا سورت نازل ہوتی تو آپ صحابہ کرام سے فرما دیا کرتے تھے کہ ” لا اشک ولا اسال “ یعنی نہ میں شک کرتا ہوں اور نہ کسی سے پوچھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے سورة ۃ بقرہ کی پہلی آیات ہی میں یہ فرمادیا کہ ” ذلک الکتب لاریب فیہ “ یہ وہ کتاب ہے جس میں شک کی گنجائش نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بالکل صاف اور واضح طریقہ پر یہ بتایا دیا ہے کہ اس قرآن کریم میں جس کو بھی کسی قسم کا شک و شبہ ہوا اس کے لئے تین راستے کھلے ہیں : 1) جن لوگوں کو شک و شبہ ہے کہ (نعوذ باللہ) یہ قرآن کریم نبی کریم ﷺ نے خود گھڑ لیا ہے تو وہ خود اور ساری دنیا کے سارے حمایتیوں کی مدد سے قرآن کریم کی ایک سورت جیسی سورت ہی بنا کرلے آئیں۔ ساری دنیا کو گونگا کہنے والے اور خود اپنے آپ کو زبان کا ماہر بتانے والے قرآن کریم کے سامنے کیوں گونگے بن کر رہ گئے ہیں۔ قرآن کریم کا یہ چیلنج آج سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے بھی تھا، ہمیشہ رہا ہے اور آج بھی ہے لیکن اس چیلنج کا جواب نہ کبھی دیا جاسکا ، نہ دیا گیا اور نہ دیا جاسکے گا۔ لہٰذا شک و شبہ کرنے والے اپنی آخرت تباہ و برباد نہ کریں۔ 2) دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کفار عرب جن کو اہل کتاب (یہودو نصاریٰ ) کے علم پر بہت اعتماد ہے ان سے پوچھ کر تحقیق کرلیں کہ یہ سچائی اور واقعات کس حد تک درست ہیں۔ یقیناً اگر ان لوگوں نے کسی تعصب کا مظاہرہ نہ کیا تو وہ صحیح بات بتا دیں گے اور اس طرح ساری حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔ 3) تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو سچ اور جھوٹ اچھے اور برے میں تمیز کرنا مشکل ہو تو وہ اللہ کی آیات، واقعات اور نشانیوں میں غور و فکر اور تدبر کر کے اس حقیقت کی گہرائی تک پہنچ جائے اس کے سامنے دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کر کے یہ بتایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! یہ قرآن کریم جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے وہ برحق ہے اس میں شک و شبہ کرنے والے اپنے ہاتھوں سے دنیا اور آخرت کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں وہ سراسر نقصان میں رہیں گے کیونکہ اگر ان لوگوں نے اس روش کو تبدیل نہ کیا تو ان کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ وہ ایمان کی دولت سے اس طرح محروم کردیئے جائیں گے کہ پھر ان کو ایمان کی توفیق ہی نصیب نہ ہو سکے گی۔ کیونکہ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود جو شخص شک و شبہ کرتا ہے اس کا انجام دنیا اور آخرت میں بہت بھیانک اور درد ناک ہوتا ہے۔ قرآن کریم کی بنیاد یقین پر اس لئے رکھی گئی ہے تاکہ کسی دل میں شک و شبہ کی گنجائش ہی نہ رہے کیونکہ جب کسی شخص کی دنیا و آخرت کی تباہی مقدر کردی جاتی ہے تو سب سے پہلے اس کے دل میں شک و شبہ پیدا ہوتا ہے، پھر آہستہ آہستہ انکار حق کا جذبہ پروان چڑھنے لگتا ہے۔ جب کوئی انسان انکار حق میں اگٓے بڑھ جاتا ہے تو پھر وہ گم راہ ہو کر نجات کی راہ کھو بیٹھتا ہے اور سچئای کی منزل اس سے دور ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ اگر اس کے سامنے کائنات کی ساری نشانیاں بھی لا کر رکھ دی جائیں تب بھی اس کو راہ ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ اہل ایمان سے فرمایا جا رہا ہے کہ وہ اللہ کے دین میں کسی طرح کا شک و شبہ نہ کریں اور نہ اس جذبے کو آگے بڑھنے دیں ورنہ ایسے لوگ اپنے ہاتھوں سے اپنی دنیا و آخرت کا شدید اور ناقابل تلافی نقصان کر بیٹھیں گے۔
Ayahs 10:98–103

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

کوئی بستی ایمان نہ لائی کہ ایمان لانا ان کو نفع دیتا سوائے یونس کی قوم کے۔ جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے ان پر سے دنیا کی زندگی کا عذاب ٹال دیا اور ان کو ایک مدت تک سامان زندگی عطا کیا۔

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو روئے زمین پر ہر شخص ایمان لے آتا۔ کیا پھر آپ لوگوں پر زبردستی کریں گے کہ وہ ایمان لے آئیں۔

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

حالانکہ اللہ کی اجازت کے بغیر کسی شخص کا ایمان ممکن ہی نہیں ہے اور اللہ کا طریقہ تو یہ ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

وہ ان کو گندگی میں دھکیل دیتا ہے ۔ آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ تم آسمانوں اور زمین میں غور کرو کہ وہ کیا ہیں اور جو لوگ ایمان لانا نہیں چاہتے ان کو دلیلیں اور دھمکیاں کچھ کام نہیں دیتیں

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

وہ لوگ شاید اس انتظار میں ہیں کہ ان سے پہلے جو لوگ گذر چکے ہیں ان پر ان ہی جیسے حالات آجائیں آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ تم انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

پھر ہم نے اپنے پیغمبروں کو اور ان کو جو ایمان لے آئے تھے نجات عطا کی۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایمان والوں کو نجات عطا کریں۔

لغات القرآن آیت نمبر 98 تا 103 قریۃ (بستی ، آبادی) کشفنا (ہم نے کھول دیا، ہٹا دیا ) الخزی (رسوائی) متعنا (ہم نے سامان دیا) حین (زمانہ، مدت) تکرہ (تو زبردستی کرے گا) یجعل (وہ بناتا ہے، ڈالتا ہے) الرجس (گندگی) لایعقلون (سمجھ نہیں رکھتے ہیں انظروا (تم دیکھو ) ماتغنی (کام نہیں آئی) النذر (ڈرانا، دھمکانا) ینتظرون (وہ انتظار کر رہے ہیں تشریح : آیت نمبر 98 تا 103 اللہ تعالیٰ نے انسان کو خشکی اور تری میں برتری اور اس کائنات کی ہر مخلوق سے زیادہ عظمت عطا فرمائی ہے لیکن اس کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ وہ دنیا کے معاملات میں الجھ کر اس قدر غافل ہوجاتا ہے کہ اس کو آخرت کی یاد ہی نہیں آتی اور بھول کر وہ اپنے خالق ومالک سے دور ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ کی ذات وصفات کا یا انکار کردیتا ہے یا شرک کی اس انتہا تک پہنچ جاتا ہے جہاں رب العالمین کے ساتھ سینکڑوں جھوٹے معبودوں کو شریک کرلیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پھر بھی اپنے پاکیزہ نفس انسانوں کو ان کی ہدایت کے لئے بھیجتا ہے تاکہ ان کی آنکھوں سے غفلت اور بےحسی کے پردے ہٹ جائیں اور قعل و فکر اور سجھ سے کام لے کر ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرلیں۔ لیکن جب وہ قوم اور اس کے افراد مسلسل انکار اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کسی طرح بھی ایمان اور عمل صالح پر نہیں آتے تب اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی بد دعاؤں کو قبول کر کے اس قوم پر عذاب مسلط کر دیات ہے۔ اگر کوئی شخص یا قوم عذاب، اور موت کے فرشتے کے سامنے آنے سے پہلے پہلے توبہ کرلیتی ہے اور اپنے اعمال کی اصلاح کرلیتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے عذاب ہٹا لیتا ہے ورنہ ان کو ایسی کڑی سزا دیتا ہے جس کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے جو لوگ اس فرصت عمل سے فائدہ اٹھا کر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری اختیار کرلیتے ہیں ان کو نہ صرف اس دنیا کی کامیابیاں عطا کردی جاتی ہیں بلکہ آخرت کی تمام نعمتوں سے نواز دیا جاتا ہے ابھی آپ نے گزشتہ آیات میں ملاحظہ کرلیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے فرعون کو ہر طرح سمجھایا ، معجزات دکھائے مگر وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی اور جما رہا بالآخر اللہ تعالیٰ نے قوم بنی اسرائیل کو جس سمندر میں راستے بنا کر دوسرے کنارے پر پہنچا دیا تھا اسی سمندر اور اس کے راستوں میں فرعون کے سارے لشکر اور فرعون کو ڈبو دیا تھا۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اس نے یہ دیکھ لیا کہ اب موت کے فرشتے سامنے ہیں اس وقت اس نے توبہ کرنے کی کوشش کی اور اور بنی اسرائیل کے رب پر ایمان لانے اور مسلم بن جانے کی درخواست کی مکر اللہ کے قانون کے مطابق اب تو بہ کا وقت نکل چکا تھا۔ اس کی توبہ قبول نہیں کی گئی اس کو تو نجات نہیں ملی مگر اللہ نے آنے والی نسلوں کے لئے یہ سامان عبرت ضرور مہیا کردیا کہ اس کے بدن کو نجات دیدی تاکہ ہر شخص اس فرعون کی بےبسی کا تماشا کرسکے جس نے خود اپنے آپ کے لئے ” رب اعلیٰ “ کا نعرہ بلند کیا تھا۔ اس کے برخلاف قوم یونس جس نے عذاب کے آثار دیکھ کر پہلے ہی توبہ کرلی تھی ایمان اور عمل صالح پر قائم رہنے کا وعدہ کرلیا تھا تو اس قوم کو اللہ کے عذاب سے نجات مل گئی تھی۔ حضرت یونس نے نینوا کے لوگوں کو ہر طرح سمجھایا کہ وہ کفر و شرک سے توبہ کرلیں مگر ان پر غفلتوں کے پردے پڑے ہوئے تھے اور انہوں نے حضرت یونس کی کوئی بات نہ سنی آخر کار اس قوم سے مایوس ہو کر انہوں نے پروردگار کی بارگاہ میں یہ عرض کردیا کہ الٰہی یہ لوگ کس طرح کفر و شرک سے باز نہیں آتے اب آپ ان کا فیصلہ فرما دیجیے اللہ جو بندوں پر زبردستی نہیں کرتا بلکہ ان کو مہلت عمل اور ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے جب اللہ کے نبی ان سے مایوس ہو کر فیصلے کی درخواست کرتے ہیں تو وہ ان کی دعا کو قبول کرلیتا ہے اور اس قوم کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔ دعا کرکے حضرت یونس نے فرما دیا کہ تین دن اور رات کی مہلت دی گئی ہے۔ اگر تم نے توبہ نہ کی تو اللہ کا عذاب تمہارے اوپر مسلط کردیا جائے گا۔ حضرت یونس اس دن جب کہ عذاب مقدر کردیا گیا تھا اپنے اہل خانہ کے ساتھ یہ سوچ کر نکل کھڑے ہوئے کہ اب تو اس قوم پر عذاب آنے والا ہے یہاں سے نکل جانا چاہئے۔ چناچہ حضرت یونس اپنے اہل خانہ کے ساتھ کسی دوسرے بستی کے لئے روانہ ہوگئے۔ ادھر اللہ کے فیصلے کا دن آگیا آسمان پر قیامت خیز سیاہ اور ہیبت ناک بادل چھا گئے جو آہستہ آہستہ ان کی آبادیوں کے قریب آتے جا رہے تھے۔ اب اس قوم کو فکر ہوئی پہلے تو انہوں نے حضرت یونس کو تلاش کیا جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ حضرت یونس جا چکے ہیں تو ان پر اور بھی گھبراہٹ طایر ہوگئی پوری قوم نے عذاب کے آثار کو محسوس کرلیا تھا لہٰذا اس قوم کے سارے مرد عورتیں بچے اپنے مویشی لے کر ایک بہت بڑے میدان میں جمع ہوگئے۔ وہاں انہوں نے رونا چلانا اور چیخنا شروع کردیا اور اللہ سے معافی مانگنی شروع کردی۔ وہ روتے چلاتے چیخیں مارتے اخلاص سے اللہ کو پکار رہے تھے اللہ تعالیٰ کو ان پر رحم آگیا اور وہ عذاب جو چند لمحوں میں آنے والا تھا اس کو روک دیا گیا۔ کیونکہ پوری قوم نے اجتماعی طور پر اپنے گناہوں ، کفر و شرک پر شرمندگی کا اظہار کر کے ایمان و عمل صالح کا وعدہ کرلیا تھا۔ پھر بعد میں حضرت یونس بھی بہت سی تکلیفیں اٹھا کر اپنی قوم میں واپس آگئے اور قوم کی اصلاح کی جدوجہد میں لگ گئے۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ بیشک آپ کی تمنا اور خواہش یہ ہے کہ سارے عرب والے ایمان لا کر اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار بن جائیں اور یہ آپ کی کوئی بات نہیں سنتے لیکن آپ ان کی بدعملیوں پر رنجیدہ یا مایوس نہ ہوں کیونکہ اللہ کا یہ قانون موجود ہے کہ وہ کسی پر زبردستی نہیں کرتا اگر وہ چاہتا تو ساری دنیا کے انسان فرشتوں کی طرح صرف اہل ایمان ہوتے لیکن اللہ نے انسان کو غور و فکر اور تدبر کرنے کے لئے عقل جیسی نعمت عطا فرمائی ہے اگر وہ گزشتہ انبیاء کرام کے واقعات سے عبرت و نصتحہ حاصل نہیں کرتا تو اس کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کی سنتا ور طریقہ آج بھی تبدیلی نہیں ہوا اگر وہ اپنے کفر و شرک سے توبہ نہیں کریں گے تو اللہ ان کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ پھینکے گا۔ وہ اللہ کا کچھ بھی نہ کرسکیں گے۔ وہ اپنے نبی ﷺ اور ان کے ماننے والے اطاعت گذاروں کو نجات عطا فرما دے گا۔ اس میں کفار عرب سے بھی کہا جا رہا ہے کہ اب اللہ کے آخر نبی اور رسول بھیج دیئے گئے ہیں۔ ان کو سنبھلنے کا آخری موقع دیا گیا ہے۔ اگر انہوں نے اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا اپنی غفلتوں اور کفر و شرک میں اسی طرح لگے رہے جس طرح پہلی قوموں کو نجات نصیب نہیں ہوئی تمہیں بھی نصیب نہ ہوگی۔ ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ : 1) دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے نہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور نہ اس کے رسول کی طرف سے ہر طرح کے نتائج پر غور کر کے ہر شخص ایمان لائے یا نہ لائے بہرحال اس کے اعمال کے مطابق فیصلہ کیا اجئے گا۔ 2) ایمان جیسی نعمت و دولت کا حاصل کرنا اللہ کے اذن پر منحصر ہے۔ لیکن یہ اذان کے لئے ہے جو اپنی فہم و فراست اور عقل و فکر کو استعمال کرتے ہیں۔ 3) لیکن وہ لوگ جو اپنی آنکھوں، کانوں اور دل و دماغ پر غفلت کے پردے ڈالے ہوئے ہیں ان کو نجات اور گندگی میں مبتلا رہنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ 4) اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ کفار و مشرکین کو آخر کار ان کے انجام تک پہنچا دیتا ہے اور وہ لوگ جو اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری اختیار کرتے ہیں ان کو نجات عطا فرما دیتا ہے۔ 5) جو لوگ گزشتہ قوموں کے واقعات پر غور نہیں کرتے اور اپنی روش زندگی کو تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! ان سے کہہ دیجیے کہ ہم بھی انتظار کرتے ہیں تم بھی انتظار کرو۔ وہ وقت دور نہی ہے جب اللہ تعالیٰ کفار و مشرکین کو ان کے برے انجام تک پہنچا دے گا اور اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کو دنیا اور آخرت میں نجات عطا فرما کر ہر نعمت سے نواز دے گا۔
Ayahs 10:104–107

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو ! جس دین کو میں لے کر آیا ہوں۔ اگر تمہیں اس میں شک ہے تو میں تمہارے ان معبودوں کی عبادت و بندگی نہ کروں گا جنہیں تم نے اللہ کو چھوڑ کر اپنا معبود بنا رکھا ہے بلکہ میں تو اسی رب کی عبادت و بندگی کروں گا جو تمہیں موت دیتا ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ایمان لانے والوں میں سے رہوں

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور اس کا بھی حکم دیا یا ہے کہ (اے نبی ﷺ آپ یکسو ہو کر اپنے آپ کو اس دین پر قائم رکھیں اور آپ مشرکوں میں سے نہ ہوں

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکاریں جو نہ تو نفع دے سکے اور نہ نقصان پہنچا سکے ۔ پھر بھی اگر آپ نے ایسا ایسا کیا تو آپ بےانصافوں میں سے ہوجائیں گے

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ کسی کو کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو اس کو اس سے دور کرنے والا اور کون ہے اور اگر وہ کسی کو راحت پہنچانا چاہے تو اس کے فضل و کرم کو ہٹانے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے نواز دے ۔ وہ بہت مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 104 تا 107 لا اعبد (میں عبادت نہ کروں گا) یتوفی (وہ موت دیتا ہے) امرث (مجھے حکم دیا گیا ہے ) ان اکون (یہ کہ میں ہوجاؤں) اقم (قائم کیجیے) وجھک (اپنا چہرہ) حنیف (یکسو، سب سے کٹ کر محض اللہ کی عبادت کرنے والا) لاتدع (تونہ پکار) ان یمسک (اگر تجھے پہنچائے) بضر (کوئی نقصان (کاشف کھولنے والا) یردک (تجھے چاہے) بخیر (بھلائی) راد (لوٹانے والا ، ٹالنے والا) یصیب (وہ پہنچاتا ہے) تشریح : آیت نمبر 104 تا 107 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ اس نے انسانوں کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے کہ اگر وہ ان کو گننا چاہے تو شمار نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جسم اور رو ح کی تسکین کے لئے جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان کا ذکر سورة رحمٰن میں بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے جنات اور انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے اکتیس مرتبہ اس جملے کو دھرایا گیا ہے کہ تم اے جن و انس اس کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو سب سے بڑی نعمت قرآن کریم اور پھر حسن بیان عطا فرمایا ہے۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ اس بات کو وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ زمین و آسمان ، چاند ، سورج، ستارے اونچے اونچے پہاڑ، خوبصورت دریا اور ان کے سنگم درخت ان کے پھل ، سمندروں کے موتی یہ سب کچھ جنات اور انسانوں کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ زمین و آسمان، چاند، سورج اور ستارے اللہ کے حکم سے چل رہے ہیں۔ دنیا کی گھڑیاں غلط ہو سکتی ہیں لیکن اللہ نے چاند، سورج اور ستاروں کی جو رفتار مقرر کردی ہے اس میں ایک لمحہ کا بھی فرق نہیں پیدا ہوتا۔ یہ تمام چیزیں اپنے وجود میں سا قدر بےبس اور مجبور ہیں کہ یہ کسی کا نہ کچھ بگاڑ سکتی ہیں اور نفع پہنچا سکتی ہیں۔ انسان کی کتنی بڑی بھلو ہے کہ وہ ان بےبس اور عاجز مخلوقات کو اپنا معبود بنا کر ان سے توقع رکھتا ہے پتھروں کے بےجان بت جو اپنے وجود میں بھی انسانی ہاتھوں کے محتاج ہیں وہ کسی کو کیا دے سکتے ہیں اور کیا چھین سکتے ہیں۔ اگر کوئی شخص حضرت ابراہیم کی طرح بت خانہ میں گھس کر سارے بتوں کو توڑ پھوڑ کر رکھ دے تو وہ اپنے وجود کو بچا نہیں سکتے۔ ان کو معبود بنانا درحقیقت شرف انسانیت کی سب سے بڑی توہین ہے اور ایک جاہلانہ فعل ہے لیکن جو اپنے خیالات کے پوجنے والے ہوتے ہیں ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ساری دنیا ان کی طرح بےجان بتوں کو اپنا حاجت روا بنا لے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے صاف اعلان کروا یا ہے کہ ” اے لوگو اگر تمہیں اس دین میں شک و شبہ ہے جو میں لے کر آیا ہوں تو یہ تمہارا اپنا فعل اور خیال ہے مجھ سے یا میرے ماننے والوں سے تم کبھی اس بات کو توقع مت کرنا کہ ہم ان کی عبادت و بندگی کریں گے جن کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ہے۔ کیونکہ مجھے تو میرے اس اللہ نے جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت کا اختیار ہے یہ حکم دیا ہے کہ میں اللہ کے ان بندوں میں رہوں جو ایک اللہ پر یقین رکھتے ہیں۔ مجھے اللہ نے یہحکم دے رکھا ہے کہ میں اپنی ذات کو ہمیشہ اس دین حنیف کی طرف جھکائے رکھوں جو اللہ نے عطا فرمایا ہے اور کبھی شرک کے قریب بھی نہ جاؤں ۔ کیونکہ وہ جن کے ہاتھ میں میں نہ کسی کو نفع پہنچانے کا اختیار ہے اور نہ وہ کسی کو نقصان پہنچانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اگر کوئی مصیبت آجائے تو وہ اس کو دور کرنے سے عاجز ہیں ان کے سامنے جھکنے اور ان کی عبادت و بندگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اللہ تو وہ صاحب اختیار ہستی ہے کہ اگر کسی کو بھلائی عطا فرمانا چاہے تو کوئی بھی اتنی طاقت و قوت نہیں رکھتا کہ اس کو اس بھلائی کے دینے سے روک دے۔ وہ بہت زیادہ مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے اور اپنی قدرت سے جو کچھ کرنا چاہے وہ کرتا ہے۔ وہ کسی کے سامنے بےبس اور مجبور نہیں ہے۔
Ayahs 10:108–109

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آگیا۔ جو شخص راہ ہدایت پر آئے گا تو سیدھے راستے پر ایمان لانا اس کو نفع دے گا اور جو گمراہی کو اختیار کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا اور میں تمہارے اوپر مسلط نہیں کیا گیا ہوں۔

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ اس کی اتباع کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے۔ صبر کیجیے یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آجائے۔ وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 108 تا 109 اھتدیٰ (جس نے ہدایت حاصل کی) ضل (بھٹک گیا) وکیل (کام بنانے والا) اتبع (اتباع کیجیے ، پیچھے چلئے) یوحی (وحی کی گئی ہے) یحکم (وہ فیصلہ کرے گا) خیر الحکمین (بہترین فیصلہ کرنے والا ) تشریح : آیت نمبر 108 تا 109 سورئہ یونس میں اللہ تعالیٰ نے خیر اور شرق حق اور باطل کی تمام حقیقتوں کو کھول کر بیان کردیا ہے۔ ایک طرف فرعون، اس کے تکبر اور برے انجام کو بیان فرمایا ہے دوسری طرف حضرت نوح ، حضرت موسیٰ اور حضرت یونس کے واقعات کو مختصر انداز میں بیان کر کے اس بات کی وضاحت فرما دی ہے کہ انسان کے لئے نجات کا راستہ صرف ایک ہی ہے کہ ہر انسان اللہ تعالیٰ اس کے رسول اور اس کی بھیجی ہوئی تعلیمات پر پوری طرح عمل کرے، اس راستے کے علاوہ نجات کی کوئی اور شکل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھیج کر ایک مرتبہ پھر حق کی راہ سے بھٹکے ہوئے انسانوں کی ہدایت کے لئے مقرر فرما دیا ہے۔ اب اگر کوئی بھی شخص گمراہی یا گمراہوں کا راستہ اختیار کرے گا تو اس کا انجام فرعون، ہامان اور شداد سے مختلف نہ ہوگا لیکن جس نے نبی مکرم ﷺ کی اطاعت و محبت کا حق ادا کر کے ان کے راستے کو منتخب کرلیا تو دنیا اور آخرت میں اس کی کامیابی یقینی ہے۔ جس کے لئے نبی کریم ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام کی زندگیاں بطور مثال پیش کی جاسکتی ہیں جنہوں نے نبی مکرم ﷺ کے ہر طریقے اور سنت سے اتنا پیار کیا کہ وہ کائنات کی عظمت کے نشان بن گئے لیکن وہ لوگ جنہوں نے آپ کے طریقہ سے منہ پھیر اور اس بڑی طرح ناکام ہوئے کہ آج ان کا نام لیوا ابھی تک کوئی نہیں ہے ، وہ تاریخ انسانی کے بدنما داغ بن گئے۔ صحابہ کرام کو تو یہ عظمت حاصل ہے کہ اگر کوئی ان کی اولاد ہے تو وہ ان کی نسبت پر بھی فخر کرتی ہے لیکن وہ کتنے بدقسمت ہیں جن کی اولادیں بھی ایسے لوگوں کی طرف اپنی نسبت / توہین سمجھتی ہیں۔ سورئہ یونس کی ان دو آیتوں میں نبی کریم ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ اس بات کا اعلان فرما دیجیے کہ حق و صداقت کا ہر راستہ واضح ہو کر تمہارے سامنے آچکا ہے۔ جو شخص راہ ہدایت پر چلے گا اس کا فائدہ وہ حاصل کرسکے گا لیکن جو گمراہی کے راستے پر چل پڑا ہے وہ اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ میں اس کے اعمال کا ذمہ دار نہیں ہوں۔ میں نے ہر سچی بات ہر انسان تک پہنچا دی ہے۔ آخر میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے واسطے سے قیامت تک آنے والے ہر شخص سے فرما دیا گیا ہے کہ ہر شخص اپنے بھلے برے کا خود ذمہ دار ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ یہ دیکھیے بغیر کہ کون وحی کی پیروی کر رہا ہے اور کون نہیں کر رہا ہے آپ وحی الٰہی کی پیروی کیجیے۔ لوگوں کی باتوں پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیجیے یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ اور حکم آجائے ۔ یقینا وہ اللہ ایک دن ان کے درمیان فیصلہ فرما دے گا کیونکہ وہی بہترین فیصلہ کنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ درخواست ہے کہ اللہ ہم سب کو نبی کریم ﷺ اور آپ کی لائی ہوئی تعلیمات پر پوری طرح سے عمل کرنے اطاعت و فرماں برداری کرنے کی توفیقف عطا فرمائے اور جس طرح حضور نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام کامیاب و بامراد ہوئے اللہ ہمیں دین و دنیا میں کامیاب فرما کر ہماری نجات فرما دے ۔ آمین ثم آمین الحمد للہ سورة یونس کا ترجمہ و تشریح مکمل ہوئی اللہ ہم سب کو حسن عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین