Ayahs 10:23–25لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 25
مثل (مثال) اختلط (رل مل گیا) نبات الارض (زمین کا سبزہ، پیداوار) الانعام (مویشی، چو پائے) اخذت (پکڑ لیا) زخرف (رونق) ازینت (آراستہ ہوگئی، سنور گئی) ظن (گمان کرلیا) اھل (مالک، (کاشتکار) امرنا (ہمارا حکم (فیصلہ) حصید (کٹا ہوا ڈھیر، کٹی ہوئی کھیتی ) لم تغن (آیا نہ رہی تھی، لم تغن جو اصل میں لم تغنا تھا آخر کا الف گر گیا تغن کا معنی ہیں آباد ہونا، رہنا سہنا۔ امس (جو کل گذر گئی اس کو امس کہتے ہیں) ۔ نفصل (ہم تفصیل (صاف صاف) بیان کرتے ہیں یدعوا (وہ بلاتا ہے، پکارتا ہے، دعوت دیتا ہے ۔ دار السلام (سلامتی کا گھر، (جنت ، آخرت) صراط مستقیم (وہ راستہ جو بالکل سیدھا (منزل تک پہنچانے والا ) ہو ۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 25
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جا بجا ایسی روزمرہ کی مثالیں بیان کر کے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے جس کو ہر شخص بہت آسانی اور سہولت سے سمجھ سکتا ہے ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہر شخص یہ دیکھتا ہے کہ زمین کا ایک ایسا خطہ ہے جہاں بارش نہ ہونے سے بےرونقی محسوس ہوتی ہے کہ اچانک بلندی سے زور دار بارش ہوتی ہے جس سے زمین میں ایک نئی زندگی پیدا ہوجاتی ہے ہر طرح سر سبزی و شادابی بکھر جاتی ہے، درختوں پر ایک خاص نکھار اور پھبن آجاتی ہے کھیت لہلہا اٹھتے ہیں اور کھیتوں میں جان پڑجاتی ہے۔ اب آدمی بڑا خوش ہوتا ہے اور اس تصور کے ساتھ پروگرام بناتا ہے کہ میری کھیتی تیار ہوگئی، باغ کے پھل ائٓیں گے، میوہ اور اناج کے ڈھیر ہوں گے، اس پر کبھی کبھی ایسا ناز اور غرور چھا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو دنیا کا خوش نصیب ترین آدمی سمجھنے لگتا ہے لیکن اچانک ایک دن یا رات میں اللہ کا فیصلہ آجاتا ہے اور اس کی راہ کھیتی نہ صرف برباد ہو کر رہ جاتی ہے بلکہ اس کے تصورات اور تمنائیں بھی بکھر کر رہ جاتی ہیں اس کے کھیت اجڑ جاتے ہیں کہ جیسے کل یہاں کچھ بھی نہ تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اس مثال کے ذریعہ یہ سمجھایا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ایسا اکثر ہوتا ہے کہ ایک شخص نے دن رات خوب محنت کر کے بہت سی دولت کمائی، دنیا کے ڈھیر لگا لئے اس کے پاس دنیا کی دولت کی اس طرح ریل پیل ہوگئی کہ وہ سمجھنے لگا کہ مجھے زندگی میں جو کچھ حاصل ہوا ہے وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا لیکن ایک دن اچانک زمین یا آسمانی حادثہ پیش آجاتا ہے اور وہ سب کچھ جس کو وہ اپنا سجھ رہا تھا اس کے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے یا موت کا ایک پنجہ اس سے سب کچھ چھین لیتا ہے اور وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ فرمایا کہ انسان جس چیز کو جس دنیا کو اور اس کے سامان کو یہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کا ہے وہ بہت بڑی بھول میں ہوتا ہے۔ ان اسباب اور چیزوں میں کوئی عافیت، سلامتی اور پائیدار نہیں ہے بلکہ ایک حد یا جا کر یہ چیزیں اس سے چھین لی جاتی ہے۔ سلامتی اور عافیت کا راستہ صرف وہ ہے جس طرف اللہ اپنے بندوں کو بلاتا ہے اس میں پائیداری ہے اور وہی صراط مستقیم ہے۔
دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کر لیجیے آپ کو ایک ہی بات ملے گی کہ کوئی بادشاہ یا دنیا کا طاقت ور ترین انسان ہو وہ موت کے سامنے بےبس ہے۔ جس دنیا نے اس کو فرعون، ہامان ، شد اد اور قارون بنا دیا، آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں ان کی سلطنتیں، درباری اور دولت کے ڈھیر بھی نہیں ہے اور وہ خاک کا پیوند بن چکے ہیں۔ اگر حکومت و اقتدار، مال و دولت بڑی بڑی بلڈنگوں میں سلامتی کا کوئی پہلو ہوتا تو وہ برقرار رہتیں لیکن آج ان کا غرور اور کرو فرسب خاک میں مل چاک ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے سلامتی اور اسلام کا راستہ اختیار کرلیا وہ اگرچہ اپنے زمانہ میں انتہائی غریب و مفلس تھے لیکن اسی سلامتی کے راستے کو اختیار کرنے سے، صراط مستقیم پر چلنے سے وہ اس مقام کے لوگ ہوگئے ہیں کہ جن کی طرف نسبت کرنے کو لوگ لائق فخر سمجھتے ہیں۔ پوری دنیا میں دیکھی لیجیے تاریخ کے صفحات کا مطالعہ کر لیجیے آج تک دنیا میں کوئی شخص اپنی نسبت فرعون، ہامان، شداداد اور قارون کی طرف نہیں کرتا۔ کوئی اس بات پر فخر نہیں کرتا کہ میں ابوجہل یا ابولہب کی اولاد ہوں۔ یہاں تک کہ اگر ان کی اولاد ہوتی تو وہ بھی اپنے آبا و اجداد پر فخر نہ کرتی ان کی طرف اپنے آپ کو منسوب نہ کرتی لن کی جن لوگوں نے دامن مصطفیٰ ﷺ کو تھام لیا آج ان کی طرف نسبت کرنے کو قابل فخر سمجھا جاتا ہے ۔ صدیقی ، فاروقی، عثمانی اور علوی لکھنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ سلامتی اور عافیت کا راستہ اور صراط مستقیم صرف وہی ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اور آپ کے رسول ﷺ بلا رہے ہیں۔ اس راستے کے علاوہ ہر راستہ وہ ہے جو انسان کو اس دنیا میں اور آخرت میں عزت کا حقیقی مقام نہیں دلاتا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پر سلامتی کے ساتھ چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
Ayahs 10:26–30لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 30
الحسنی (بھلائی، نیکی) لا یرھق (نہ ڈھانپ لے گی) فتر (سیاہی، اندھیرا) کسبوا (انہوں نے کمایا) السیئات (سیتہ) ، برائیاں عاصم (بچانے والا) اغشیت (ڈھانپ لی گئی) قطع (ٹکڑے) مظلم (سیاہی) نحشر (ہم جمع کریں گے) مکانکم (تم اپنی جگہ رہو) زیلنا (ہم پھوٹ ڈال دیں گے) ھنالک (اسی جگہ) اسلفت (اس نے پہلے سے کیا تھا) ضل (گم ہوگیا، گم ہوجائیں گے)
تشریح :- آیت نمبر 26 تا 30
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جہنم یعنی اچھے اور برے اعمال کے نتائج اور انجام کی وضاحت فرمائی ہے ۔ فرمایا کہ وہ دن جب سارے انسان میدان حشر میں جمع ہوں گے اس وقت اہل جنت کے چہرے تو چمک رہے ہوں گے جب کہ کفار، فساق اور مشرکین کے چہروں پر سیاہی اور تاریکی چھائی ہوئی ہوگی۔ اس دن ان پر یہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی کہ زندگی بھر وہ جن بتوں اور انسانوں کو اپنا معبود سمجھ کر ان کی عبادت و بندگی کرتے رہے ہیں وہ محض ان کے اپنے خیالات، توہمات اور خود ساختہ جذبات تھے۔ پھر بھی ان کے دلوں میں ایک نامعلوم سی امید ہوگی کہ آخر وہ معبود جن کی ہم زندگی بھر عبادت و بندگی کرتے رہے ہیں ہمارے کچھ تو اکم آئیں گے، خیالات کی اسی کشمکش میں ان کے جھوٹے معبود خود ہی بول اٹھیں گے کہ اے ہمارے پروردگار آپ اس بات کے گواہ ہیں کہ جو لوگ ہماری عبادت و بندگی کرتے تھے انہوں نے ہمیں اپنا معبود بنا رکھا تھا وہ ان کا اپنا فعل تھا۔ ہمیں تو پتہ بھی نہیں تھا کہ یہ لوگ ہمیں معبود کیوں بنائے ہوئے ہیں۔ ان کے فہم و فکر کی غلطی تھی۔ اگر یہ کہیں سے پتھر اٹھا کرلے آئے اور اس میں اپنے ہاتھوں سے شکل صورت بنا کر انہوں نے سجدے کرنے شروع کردیئے تو اس میں ہمارا کیا قصور ؟ اس کی سرا سر ذمہ داری ان کے سروں پر ہے یہ سنتے ہی اہل جہنم کے چہرے اور بھی سیاہ پڑجائیں گے کہ وہ معبود تو ہمارے کچھ بھی کام نہ آسکے۔ دوسری طرف اہل جنت ہوں گے جنہوں نے ایمان اور عمل صالح کے ساتھ زندگی گذاری ہوگی ان کے چہرے خوشی سے دمک رہے ہوں گے۔ اس دن ان پر اللہ کا خصوصی فضل و کرم ہوگا اور ان کے چہروں پر کسی طرح کی سیاہی یا ذلت و رسوائی کا شائبہ تک نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان پر جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ وہ بڑی عزت و سربلندی کے ساتھ ان جنتوں میں داخل ہوں گے اور یہ تصور ان کی خوشیوں میں اور اضافہ کر دے گا کہ یہ آخرت کا گھر یہ جنت کی راحتیں انہیں وقتی طور پر نہیں دی گئی ہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عطا کردی گئی ہیں۔
جہاں اہل جنت کے لئے یہ تصور بڑا حسین ہوگا کہ وہ ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے وہیں اہل جہنم کی مایوسیوں کی انتہا یہ ہوگی کہ اب وہ کبھی اس آگ سے باہر نکل سکیں گے۔
Ayahs 10:31–33لغات القرآن آیت نمبر 31 تا 33
امن (کون ہے وہ ؟ ) یملک (مالک ہے) یدبر (تدبیر کرتا ہے، کام چلاتا ہے) ذلکم (اسی میں) انی (کہاں ؟ ) تصرفون (تم پلٹ رہے ہو) حقت (ثابت ہوگی، سچ ثابت ہوئی) فسقوا (جنہوں نے نافرمانی کی)
تشریح : آیت نمبر 31 تا 33
انسان کی عقل اگر دنیاوی مفادات اور باپ دادا کی اندھی تقلید کے اثرات سے دھندلا نہ گئی ہو اور وہ خلوص سے اس کائنات کے نظام پر غور و فکر کرے گا تو اس کا دل و دماغ اور فکر چلا اٹھیں گے کہ اس کائنات کی ہر چیز کا بنانے والا، اس کا انتظام کرنے والا صرف ایک اللہ ہے جس کا نہ کوئی شریک ہے، نہ ساتھی ہے وہ کسی کام میں کسی کا محتاج نہیں ہے بلکہ کائنات کا ذرہ ذرہ بےکار پیدا نہیں کیا بلکہ ہر چیز ایک حکمت اور سلیقے سے بنائی گئی ہے۔ وہ خلاق ومالک ہے اور وہی ہر طرح کی اطاعت و فرماں داری کا مستحق ہے۔ انسان جتنا بھی غور کرتا جائے گا اس کا دل و دماغ ، عقل، قابلیت اور تفکر و تدبر کا ہر انداز اس کائنات کے پیدا کرنے والے اللہ کی ذات تک پہنچ جائے گا۔ دل و دماغ کی اس سچی آواز کے باوجود وہ پھر بھی اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے معبودوں اور پتھر کی مورتیوں کے سامنے اس غلط تصور کے ساتھ جھک جاتے ہیں ان سے مرادیں مانگتے ہیں کہ پیدا کرنے والا تو اللہ ہے مگر یہ سب ہمارے سفارشی ہیں اگر یہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش نہیں کریں گے تو نہ ہماری دعائیں قبول ہونگی نہ ہماری خواہش اور آرزوئیں پوری ہوں گی۔ قرآن کریم میں بار بار اس سچائی کو دھرایا گیا ہے کہ اس کائنات کا خالق ومالک اللہ ہے اس کو پکارنے کے لئے کسی کی سفارش یا واسطوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کو جہاں اور جس جگہ زور سے یا آہستہ سے پکارا جائے گا وہ ان کی پکار کو سن لے گا اور اس کو اس کا جواب بھی عطا فرمائے گا لہٰذا ایسے مہربان پروردگار سے جو کچھ مانگنا ہے براہ راست مانگا جائے۔ کفار مکہ اس بات کو اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے کہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے مگر ان کا گمان یہ تھا کہ ہم تو گناہ گار ہیں ہم اگر اللہ کی بارگاہ میں عرض کریں گے تو وہ ہماری نہیں سنے گا۔ ہماری مرادیں پوری نہ ہوں گی لیکن اگر یہ بت ہماری سفارش کردیں گے تو اللہ بھی ان کی بات ماننے پر مجبور ہوگا۔ یہ وہ غلط عقیدہ تھا جس نے اولاد ابراہیم کو بت شکن کے بجائے بت پرست بنا دیا تھا۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ نے سوالیہ انداز سے فرما کر اس کا جواب بھی دیدیا ۔
اللہ تعالیٰ نے پوچھا ہے کہ یہ بتائو کہ آسمان اور زمین سے رزق کون عطا کرتا ہے ؟ اس کی سننے اور دیکھنے کی طاقت کا مالک کون ہے ؟ کون ہے جو ایک بےجان سے جان دار اور جان دار سے بےجان کو پیدا کرتا ہے ؟ کون اس کائنات کے نظام کو چلا رہا ہے فرمایا کہ تم اور تمہارا دل چلا اٹھے گا کہ ان تمام چیزوں کو پیدا کرنے والی ذات صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے اللہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تمہارے دلوں میں سچائی ہے اور اس سچائی کو تم زبان سے بھی کہتے ہو تو پھر اپنی عقلوں سے کام کیوں نہیں لیتے۔ یہی ایک سچائی ہے کہ اس کائنات کا خلاق ومالک اور رازق صرف اللہ ہے۔ اس سچائی کے بعد تو صرف گمراہی اور جہالت ہی ہو سکتی ہے۔ فرمایا ہے کہ تم اس پر غور کیوں نہیں کرتے کہ ان حقائق اور سچائیوں کے باوجود آخر وہ کون لوگ ہیں جو تمہیں اپنی انگلیوں پر نچا رہے ہیں اور تمہاری حیثیت کٹھ پتلی سے زیاد نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف ارشاد فرما دیا کہ اللہ کے خلاق ومالک ہنے پر صرف دل ہی گواہ نہیں ہے بلکہ کائنات کا ذرہ ذرہ گواہی دے رہا ہے لیکن جو اللہ کے نافرمان ہیں اور جنہوں نے اپنی عقل و فکر کو دوسروں کے حوالے کردیا ہے وہ نہ تو ایمان لائیں گے اور نہ برے انجام سے بچ سکیں گے۔
Ayahs 10:34–36لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 36
یبدا (وہ ابتدا کرتا ہے) یعید (وہ لوٹاتا ہے، دوبارہ کرتا ہے) الخلق (مخلوق ، پیدا کرنا) احق (زیادہ حق دار ہے) ان یتبع (یہ کہ اس کی پیروی کی جائے، کہا مانا جائے) امن (یا وہ شخص) لایھدی (راستہ نہیں دکھاتا) تحکمون (تم فیصلہ کرتے ہو) الظن (گمان، خیال، بےبنیاد بات) لایغنی (بےنیاز نہیں کرتا، کام نہیں کرتا)
تشریح : آیت نمبر 34 تا 36
آج کے انسان کو ان ترقیات پر بڑا ناز ہے جو اس نے ایجاد کی ہیں۔ فضاؤں پر ہواؤں پر زمین و آسمان کی گہرائیوں پر اس کا کنٹرول ہے علمی اور تحقیقی انداز سے ان کی یہ کامیابیاں قابل قدر ہیں جو اس نے حاصل کی ہیں دین اسلام بھی ان ترقیات کا مخالف نہیں ہے لیکن ان چیزوں کی ایجادات سے انسان، اس کی تہذیب اور اخلاق کو جو نقصان پہنچ رہا ہے یا آئندہ پہنچنے کا امکان ہے اسلام ان کی شدید مخالفت کرتا ہے کیونکہ انسان نے کائنات کی چیزوں کو ترتیب دے کر بہت سی نئی اختراعات کی ہیں۔ لیکن جن چیزوں سے یہ سب کچھ بنایا گیا ہے ان میں سے ایک چیز بھی انسان نے نہیں بنائی مثلاً اس کائنات میں مادہ اور قوت و طاقت یہ دو بنیادی چیزیں ہیں۔ ان دونوں میں سے کسی چیز کو بھی انسان نے پیدا نہیں کیا۔ اگر اللہ تعالیٰ مادہ اور قوت کو فنا کر دے تو انسان کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ آج کے انسان نے آوازوں ، صورتوں اور شکلوں کو لہروں میں تبدیل کر کے لاکھوں کروڑوں میل بیٹھے ہوئے آدمی تک پہنچا دیا ہے۔ لیکن وہ خود ان لہروں کا خلاق نہیں ہے۔ وہ شہروں کو ترتیب دے سکتا ہے لیکن اگر اللہ کا حکم آجائے تو وہ شہروں اور ملکوں کو تہس نہس کر کے رکھ سکتا ہے مثلاً ایک پورا علاقہ ہے نہایت سرسبز و شاداب ، بلند وبالا عمارتیں ہیں، انسانوں کی حفاظت کے سارے سامان ہیں لیکن اچانک زلزلہ آجائے یا پورا علاقہ زمین میں دھنس جائے یا اس پر سمندر کا پانی چڑھ آئے تو ساری قوتوں اور طاقتوں کے باوجود انسان کچھ بھی نہیں کرسکتا مجھے تو کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے ایسا نہ ہو کہ آدھی دنیا سمندر کے نیچے آجائے اور انسانی تہذیب و ترقیات فنا ہوجائیں اور پوری قوت و طاقت کے دعوؤں کے باوجود انسان بےبس ہو کر رہ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان ایٓات میں ارشاد فرمایا ہے کہ کائنات کی ہر قوت و طاقت کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ وہی اس کو فنا کر کے دوبارہ پیدا کرے گا اس کے لئے نہ اول مرتبہ پیدا کرنا دشوار تھا اور نہ دوسری دفعہ یہ انسان کی بھول ہے کہ وہ اللہ کے خلاق ومالک ہونے کا اعتراف بھی کرتا ہے لیکن اپنی مرادیں پتھر کے ان بےجان بتوں یا مجبور انسانوں سے مانگتا ہے جو اللہ کے محتاج ہیں۔ فرمایا کہ کائنتا کی تخلیق میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ یہ انسان کی الٹی چال ہے کہ وہ اپنے حقیقی معبود کو چھوڑ کر غیر اللہ کے در سے آرزؤں کے پورا ہونے کی امید رکھتا ہے ہدایت کی امید ان سے رکھتا ہے جن کو خود اس راستہ کا علم نہیں ع ہے۔ اس طرح احبار، رھبان، مہنت، برہمن، گرو، یہ سب تو راستہ اور ہدایت کے لئے اللہ کے محتاج ہیں وہ کسی کو کیا راستہ دکھائیں گے۔ ان کے پیچھے چلنے کا انجام سوائے بھٹکنے کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ دوسری ایک خاص بات کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آج جن سے ہدایت و رہنمائی کی امیدیں لئے ہوئے بہت سے لوگ ان گمراہوں کے پیچھے چل رہے ہیں یہ خود یقین پر قائم نہیں ہیں بلکہ ان کے قائم کئے ہوئے تصوراتی خاکے ہیں جن کو انسان اپنے ہاتھوں سے بناتا ہے اور ان کے سامنے جھک جاتا ہے اور اس طرح وہ خود اپنے قائم کئے ہوئے خیالات کی پرستش کر رہا ہے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ انسان جب تک ظن و گمان کے اس دائرے سے نکل کر اس اللہ کی طرف نہیں آتا جس نے ان تمام چیزوں کو پیدا کیا اور وہ ان میں سے ہر چیز کی حکمت و مصلحت سے اچھی طرح واقف ہے۔ اس وقت تک انسان بھٹکتا ہی رہے گا۔
Ayahs 10:37–40لغات القرآن (آیت نمبر 37 تا 40)
یفتریٰ (گھڑا گیا، بنایا گیا) تصدیق (سچ بتانے والا) بین یدہ (اپنے ہاتھوں کے سامنے) تفصیل (تفصیل، وضاحت) قاتوا (پھر تم آئو (لے آئو) ادعوا (تم بلائو، تم پکارو) استطعتم (تمہاری طاقت ہو، ہمت ہو) لم یحیطوا (احاطہ نہیں کرتے، گھیر نہیں سکے) تاویل (انجام ، نتیجہ) عافیۃ (انجام) اعلم (زیادہ جاننے والا )
تشریح : آیت نمبر 37 تا 40
کفار اور مشرکین مکہ قرآن جیسی عظیم کتاب اور بلند تر مضامین کے سامنے جب بےبس ہوگئے اور انہوں نے دیکھ لیا کہ مکہ مکرمہ کے لوگ قرآن کریم کی عظمت کے سامنے گھٹنے ٹیک رہے ہیں اس وقت انہوں نے لوگوں کو متنفر کرنے کے لئے قرآن سے متعلق طرح طرح کی افواہیں پھیلانا شروع کردیں اور کہنا شروع کیا کہ یہ قرآن (نعوذ باللہ) نبی مکرم ﷺ نے خود گھڑ لیا ہے اور گزشتہ قوموں کی زندگی کو سن کر اپنے الفاظ میں ڈھال لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں کفار و مشرکین کی ان باتوں کا نہایت سادہ الفاظ میں یہ جواب دیا ہے کہ قرآن کریم یہ اللہ رب العالمین کا کلام ہے جو اس نے اپنے بندوں کی اصلاح و ترقفی کے لئے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دلیل کے طور پر فرمایا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی ان کے سامنے ہے جس میں انہوں نے کسی سے ایک لفظ تک نہیں پڑھا۔ پھر اچانک آپ کی زبان مبارک پر ایسا کلام آگیا جو اتنا بےمثال ہے کہ اگر تمام دنیا کے انسان اور جنات مل کر بھی اس قرآن جیسا لانے کی کوشش کریں گے تو وہ عاجز ہوجائیں گے۔ فرمایا کہ اگر کسی کو شوق ہو تو وہ اور دنیا بھر سے تمام لوگ مل کر قرآن جیسا نہیں بلکہ قرآن کی ایک سورت جیسی ہی بنا کرلے آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی بات کو قرآن کریم میں متعدد جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ ساری دنیا ملکر بھی قرآن کریم کی ایک سورت بنا کر نہیں لاسکتی۔ یہ بات چیلنج کے طور پر ان عربوں کے درمیان فرمائی جا رہی ہے جن کو اپنی زبان پر اس قدر ناز تھا کہ اپنے علاوہ ساری دنیا کو گونگا اور بےزبان کہتے تھے یہ ان شاعروں سے کہا اج رہا ہے جو ایک مجلس میں بےساختہ دو دو سوا ور تین تین سو اشعار کہتے چلے جاتے تھے۔ وہی شاعر اور ادیب اور زبان پر ناز کرنے والے اس قرآن کے سب سے بڑے دشمن تھے لیکن تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ اس زمانہ میں اور بعد کے زمانے میں ہزاروں کوششوں کے باوجود قرآن کریم کے اس چیلنج کا جواب نہ دے سکے۔
اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ اصل بامرری کی جڑ یہ ہے کہ اس کلام الٰہی کی عظمت کا اعتراف کرنے کے باوجود وہ اس کو اس لئے جھٹلاتے ہیں کہ یہ کلام الٰہی ان کے ذہنوں میں ٹھیک سے بیٹھ نہ سکا اور اس کے نتائج تک نہ پہنچنے کی وجہ سے وہ اس کا انکار کر بیٹھے۔ اگر وہ تعصبات کی عینک اتار کر اس قرآن کریم کی سچائی کو دیکھتے تو کبھی اس کا انکار نہ کرتے۔
اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ اصل بیماری کی جڑ یہ ہے کہ اس کلام الٰہی کی عظمت کا اعتراف کرنے کے باوجود اس کو اس لئے جھٹلاتے ہیں کہ یہ کالم الٰہی ان کے ذہنوں میں ٹھیک سے بیٹھ نہ سکا اور اس کے نتائج تک نہ پہنچنے کی وجہ سے وہ اس کا انکار کر بیٹھے۔ اگر وہ تعصبات کی عینک اتار کر اس قرآن کریم کی سچائی کو دیکھتے تو کبھی اس کا انکار نہ کرتے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ یہ کوئی ایسی نئی بات نہیں جو آپ کے ساتھ کی گئی ہو بلکہ آپ سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول آئے ہیں ان کو اور کلام الٰہی کو اسی طرح جھٹلایا گیا ہے اور پھر جن لوگوں نے اس سچائی کو جھٹلایا ان ظالموں کا انجام بڑا ہی بھیانک اور عبرت ناک ہوا ہے۔ ان ظالموں کے بلند وبالا شہروں اور عمارتوں کے کھنڈرات آج بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ اگر وہ کلام الٰہی کا انکار نہ کرتے تو وہ جنت کی ابدی راحتوں اور دنیا کی عزت و عظمت سے ہمکنار ہوتے ۔
اس جگہ قرآن کریم میں یہ پیشین گوئی فرمائی جا رہی ہے کہ آج جو لوگ اس قرآن کو جھٹلا رہے ہیں بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ وہی اس قرآن کو مان کر اہل ایمان کی صفوں میں شامل ہوجائیں گے لیکن جو بدقسمت ہیں جن کا کام ہی فساد کرنا ہے وہ اس نعمت سے محروم رہیں گے اللہ ایسے لوگوں کو بہت اچھی طرح جانتا ہے۔
Ayahs 10:41–44لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 44
بریتون (وہ بری ہیں، ذمہ دار ہیں) یستمعون (وہ غور سے سنتے ہیں) تسمع (تو سنوائے گا) الصم (بہرے) العمی (ادھے) لایبصرون (وہ نہیں دیکھتے ہیں) لایظلم (وہ ظلم و زیادتی نہیں کرتا)
تشریح :- آیت نمبر 41 تا 44
کفار و مشرکین ہر طرح کے حقائق اور سچائیوں کو جاننے کے باوجود جس طرح اپنے کفر و شرک پر ہٹ دھرمی، ضد اور تعصب پر جمے ہوئے تھے اور حق کی کسی بات کو ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔ بشریٰ تقاضا تھا کہ نبی مکرم ﷺ اس سے بد دل اور تنگ ہوجاتے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا اے نبی ﷺ ! آپ ان سے صاف صا کہہ دیجیے کہ میں جو کچھ کر ہا ہوں اس کا میں ذمہ دار ہوں لیکن عمل کی جس روش پر تم چل رہے ہو اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کون حق پر ہے اور کون نہیں ہے ؟ اس کا فیصلہ بہت جلد ہوجائے گا۔ ان آیات میں یہ اشارہ بھی فرمایا دیا گیا کہ یہ لوگ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ جو لوگ کان رکھنے کے باوجود بہرے بن جائیں، آنکھیں ہوتے ہوئے ہر حق و صداقت کی بات سے اندھے بنے رہیں ان کو سنانا ارور دکھانا کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ سنتا وہ ہے جو اپنے ضمیر و قلب کو لے کر آپس کے پاس آئے گا ۔ جس نے ہر نیک بات کو نہ سننے کا فیصلہ کرلیا ہو اور سننا ہی نہ چاہتا ہو اس کو ساری دنیا مل کر بھی سنانا اور دکھانا چاہے تو وہ سن نہیں سکتا دیکھ نہیں سکتا۔ ایسے اندھوں کو راستہ کیسے دکھایا جاسکتا ہے۔ اسی بات کو ایک جگہ قرآن کریم میں اس طرح فرمایا گیا ہے کہ ” بیشک اللہ تعالیٰ کسی قوم کے حالات کو اس وقت تک تبدیل نہیں کرتا جب تک وہ خود ہی اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کریں۔ “ اللہ تعالیٰ نے حق و صداقت اور گمرایہ کے ہر استہ کو کھول کر بیان کردیا ہے پھر بھی اگر کوئی ان چیزوں سے منہ پھیر کر چلتا ہے تو وہ خود ظالم ہے جو اپنے اوپر ظلم کر رہا ہے اس کا الزام اللہ رب العالمین کو نہیں دیا جاسکتا۔ اگر غور کیا جائے تو حقیقت سامنے آتی ہے کہ سننے کو تو جانور بھی سنتا ہے دیکھتا ہے لیکن وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے کے باوجود سوائے اپنے چارے اور کھانے پینے کے اور کسی طرف توجہ نہیں کرتا اس کو ہر حال میں اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے اس کو اچھے اور برے سے کوئی تعقل نہیں ہوتا یہی اس کی حیوانیت ہے۔ کفار اور مشرکین کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ کہ وہ ایک سچائی کو جاننے کے باوجود اس لئے قبول نہیں کرتے کہ اس سے ان کے مفادات پر ضرب پڑتی ہے۔ کفار مکہ جو قرآن کریم کے سب سے پہلے مخاطب ہیں وہ نبی کریم ﷺ کی زندگی کے ایک ایک لمحہ سے واقف تھے بچپن، جوانی اور ادھیڑ عمری کی زندگی کے وہ کونسے اوقات تھے جو ان کے سامنے نہ گذرے ہوں انہیں معلوم تھا کہ نبی مکرم ﷺ نے کسی سے ایک لفظ تک نہیں پڑھا۔ آپ کی زبان سے ایسا کلام کبھی نہیں سنا گیا لیکن اچانک آپ کی زبان مبارک پر وہ کلام جاری ہوگیا جو اپنی شان کے اعتبار سے اس قدر بلند اور باعظمت تھا کہ اس کے سامنے ساری دنیا عاجز اور مجبور ہو کر رہ گئی تھی۔ انہیں معلوم تھا کہ جس شخص نے پوری زندگی کبھی جھوٹ نہیں بولا وہ اللہ کے معاملے میں کیسے غلط بیانی کرسکتا ہے۔ نبی مکرم ﷺ کی دیانت، امانت اور صداقت سے وہ اچھی طرح واقف تھے لیکن اپنے رسم و رواج سے چمٹے ہوئے یہ لوگ کسی طرح اس سچائی کو ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔ اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ جب تک انسان کے اندر سے طلب پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک ساری دنیا مل کر بھی اس کو راہ ہدایت نہیں دکھا سکتی لیکن جب اندر سے اپنی اصلاح اور فکر آخرت کی طلب اور تڑپ پیدا ہوجاتی ہے تو پھر کبھی نہ کبھی اس کو ہدایت کی روشنی نصیب ہوجاتی ہے۔ اگر انسان اپنے دل و دماغ فکر و ذہن، کانوں اور آنکھوں پر وقتی مفادات کے پردے ڈال لیتا ہے تو پھر اس کو پوری روشنی کے باوجود کچھ سجھائی نہیں دیتا۔
Ayahs 10:45–49لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 49
یحشر (وہ جمع کرے گا) لم یلبثوا (وہ نہ ٹھہریں گے) ساعۃ (ایک گھڑی، کچھ مدت) خسر (نقصان اٹھایا) نرین (ہم ضرور دکھائیں گے) نعد (ہم وعدہ کرتے ہیں) نتوفین (ہم وفات دیں گے، موت دیں گے) شھید (گواہ) قضی (فیصلہ کردیا گیا) القسط (انصاف، پورا پورا) لا املک (میں مالک نہیں ہوں) اجل (مدت ، موت) لایستاخرون (وہ دیر نہیں کرتے ہیں) لایستقدمون (وہ آگے نہیں بڑھتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 49
وہ دن جب کہ اللہ تعالیٰ اس نظام کائنات کو توڑ کر ایک ایسی نئی زمین تیار فرمائیں گے جس میں ابتدائے کائنات سے قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کو ایک جگہ جمع فرمائیں گے۔ اسی کو میدان حشر کہا اجتا ہے۔ حشر کے اس دن جہاں ایمان و عمل صالح رکھنے والوں کو ان کی اپنی منزل مل جائے گی اور ان کی کامیابی کا دن ہوگا وہی کفار و مشرکین اور بےدینوں کے لئے بڑا ہیبت ناک اور دل و دماغ کو جھلسانے والا دن ہوگا۔ دنیا کی اس عارضی قیام گاہ میں عیش و عشرت، رنگ رلیوں، راحت و آرام اور سیر و تفریح میں مگن، آخرت کی زندگی سے بےپرواہ لوگ جن کو نہ تو فکر آخرت تھی اور نہ ان کو اس بات کا یقین تھا کہ ایک دن مر کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے جب وہ غور کریں گے تو ان کو دنیا کی زندگی اور اس میں گذارے ہوئے لمحے اور دن رات ایسے محسوس ہوں گے جیسے وہ کسی جگہ ایک گھڑی بھر کے لئے رک گئے تھے۔ رشتہ داریاں ، تعلقات اور زندگی کے سامان جن پر وہ جان دیتے تھے آج ان کے کسی کام نہ آسکیں گے۔ رشتہ اور تعلق والے ایک دوسرے کو پہنچانیں گے مگر وہ کسی کی کوئی مدد نہ کرسکیں گے کیونکہ ان کو خود اپنی فکر کھائے جا رہی ہوگی۔ ہر شخص کے سامنے اس ہولناک دن میں ایک طرف تو وہ چند سال ہوں گے جو وہ اپنی زندگی کی صورت میں گذار کر آیا ہے اور دوسری طرف کبھی نہ ختم ہونے والی اس لا محدود زندگی کا تصور ہوگا جسے وہ جنت یا جہنم میں گذارے گا۔ وہ جھوٹے معبود جن کے سامنے وہ جھکا کرتا تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ وہ آخرت میں کام آئیں گے وہ بھی ان کے کام نہ آسکیں گے۔ وہ جھوٹے معبود جن کے سامنے وہ جھکا کرتا تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ وہ آخرت میں کام آئیں گے وہ بھی ان کے کام نہ آسکیں گے۔ اس دن تو اس کے صرف اپنے اعمال ہی کام آئیں گے۔ جس نے اپنا مضبوط رشتہ اللہ اور اس کے رسول سے جوڑا ہوگا وہی اس کا سہارا ہوں گے لیکن جس نے اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری سے منہ پھیرا ہوگا ان کے لئے سوائے حسرت و افسوس کے کچھ بھی نہ ہوگا۔ ان آیات میں اسی طرح متوجہ فرمایا گیا ہے اور اس میں چند باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
1) دنیا میں گذارے ہوئے لمحے آخرت کے مقابلے میں اس قدر معمولی ہوں گے کہ ہر شخص یہ محسوس کرے گا کہ اس نے دنیا کو جب سب کچھ سمجھ رکھا تھا اس کی حیثیت پل دو پلے کے وقت سے زیادہ نہ تھی کاش کہ وہ ان لمحات کی قدر کر کے اپنے دن رات کو قیمتی بنا لیتا ۔
2) رشتہ وتعلق والے ایک دوسرے کو اچھی طرح پہچانیں گے مگر کوئی کسی کے اس لئے کام نہ آسکے گا کیونکہ ہر شخص کو اپنی اپنی فکر پڑی ہوئی ہوگی کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔
3) نقصان میں صرف وہی لوگ رہیں گے جنہوں نے آخرت کی فکر کرنے کے بجائے دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھ کر اس بات کو فراموش کردیا تھا کہ ایک دن ان کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جا کر اپنے ایک ایک لمحہ کا حساب دینا ہے۔
4) اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ اے ہمارے نبی ﷺ ! یہ تو آخرت کا معاملہ ہے جسے وہ دیکھیں گے لیکن بد اعمال لوگوں کو بہت کچھ سزا تو اس دنیا میں بھی دیدی جاتی ہے۔ یہ کفار و مشرکین جو اپنی سرداریوں، اولاد اور دنیا کی حقیر سی دولت اور چیزوں پر ناز کرتے ہوئے آپ ﷺ کو معمولی سمجھ رہے ہیں اور آپ کی اطاعت کا انکار کر رہے ہیں یہ آپ کی دنیاوی زندگی میں یا آپ کے بعد خود اس عذاب کا کچھ مزا چکھ لیں گے جس کا یہ برابر انکار کر رہے ہیں۔ آخرت کا معاملہ اس کے بعد کا ہے۔
5) ہر امت کے لئے ایک رسول ہے۔ جب وہ رسول آجاتا ہے اور لوگ اس کی نافرمانی کرتے ہیں تو پھر فیصلہ کردیا جاتا ہے لیکن کسی کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں کی جاتی اور پورا پورا انصاف کیا جاتا ہے۔ نبی اور رسول میں فرق یہ ہے کہ رسول اس کو کہتے ہیں جو صاحب کتاب و شریعت ہو اور نبی وہ ہوتا ہے جو صاحب کتاب و شریعت نہیں ہوتا، مگر اللہ کی طرف سے انسانوں کی ہدایت کے لئے مقرر کیا جاتا ہے اور وہ کسی کتاب و شریعت رسول کی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچاتا ہے۔ ہر رسول نبی ہوتا ہے لین ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تین سو تیرہ یا تین سو پندرہ رسول انسانوں کی اصلاح کے لئے تشریف لائے اور ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی تشریف لائے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیا اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھیجا جو اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں جن کے بعد نبوت و رسالت کا سل سلہ قانمت تک کے لئے بند ہوچکا ہے۔ اب آپ کے بعد جو بھی نبوت و رسالت کا دعویٰ کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔ فرمایا یہ جا رہا ہے کہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے اور اس نے اپنے آخری نبی و رسول حضرت محمد ﷺ کو بنا کر بھیج دیا ہے جس طرح گزشتہ رسولوں اور نبیوں کی امتوں نے ان کی اطاعت و فرماں برداری کر کے اپنی آخرت کو سنوارا ہے اور ان کی نافرمانی کر کے اپنی دنیا و آخرت کو برباد کر ڈالا ہے اب یہ آخری موقع ہے جب کہ اللہ کے رسول ﷺ تشریف لائے ہیں ان کی اطاعت کر کے اپنی آخرت کو اور دنیا کو سنوارا جاسکتا ہے لیکن اگر یہاں ناکامی ہوگئی تو قیامت تک اصلاح کرنے کیلئے کوئی نیا نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ اب آپ کے ماننے والے ہی امتی کہلائیں گے۔ اور ان ہی کی نجات ہوگی۔
6) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ اس کے انبایء اور رسولوں کا اور ان کی تعلیمات کا مذاق اڑایا گیا ہے اور یہ کہا جاتا رہا ہے کہ یہ اللہ کے نبی جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہیں نعوذ باللہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے یہ محض ایک دھمکی ہے۔
ان کی جرأت و ہمت یہاں تک بڑھ گئی کہ جس طرح اور انبیاء کرام سے کہا گیا۔ نبی مکرم ﷺ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہہ دیا گیا کہ اے محمد ﷺ ! تم جس عذاب کے آنے کی باتیں کرتے ہو اب تم اس دھمکی کو عملی جامہ پہنا دو اور اس عذاب کو لے آئو۔ آخر وہ عذاب کب آئے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس گستاخی کا یہ جواب مرحمت فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے اصول کی ایک بات بتا دیجئے کہ کس قوم پر عذاب آئے گا یا نہیں ؟ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے وہ جب چاہے گا عذاب نازل کر دے گا۔ اگر نہیں چاہے گا تو عذاب نہیں آئے گا مجھے اس کا اختیار نہیں دیا گیا۔ میں تو خود اپنی ذات کے لئے کسی نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ چاہے ۔ جب میں اپنے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں بلکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے تو میں کسی کے نفع اور نقصان کا مالک کیسے ہو سکتا ہوں ۔ میرے اختیار میں یہ بات ہے کہ میں اللہ کا پیغام ساری دنیا تک پہنچا دوں۔ جو مانتا ہے وہ سعادت مند ہے اور جو نہیں مانتا اس کی دنیا اور آخرت دونوں تباہ و برباد ہو کر رہ جائیں گی وہ پیغام میں پہنچا چکا ہوں۔ اب اس کے بعد اللہ کا اپنے بندہ کے ساتھ کیا معاملہ ہے مجھے نہیں معلوم البتہ اللہ کا یہ قانون ہے کہ جب کسی قوم پر عذاب آتا ہے تو اس کے لئے جو وقت مقرر کردیا جاتا ہے اس میں ایک لمحہ کے لئے نہ جلدی ہوتی ہے اور نہ اس میں تاخیر کی جاتی ہے۔
Ayahs 10:50–53لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 53
ارء یتم (کیا تم دیکھتے ہو، کیا تمہیں خبر ہے، بھلا بتائو تو) بیات (رات کو، رات گزارنا) یستفعجل (وہ جلدی مچاتا ہے) آلئن (اب، اسی وقت) ذوقوا (چکھو) الخلد (ہمیشہ) تجزون (تم بدلہ دیئے جائو گے) یستنبونک (وہ آپ سے خبر پوچھتے ہیں، معلوم کرنا چاہتے ہیں ) ای و ربی (ہاں ہاں میرے رب کی قسم)
تشریح :- آیت نمبر 50 تا 53
اللہ تعالیٰ کا دستور اور قانون یہ ہے کہ وہ انسانوں کی توبہ کو اس وقت تک قبول فرماتا ہے جب تک موت کے فرشتے سامنے نہ آجائیں یعنی اس پر جاں کنی شروع نہ ہوجائے۔ لیکن جب موت کے فرشتے سامنے آجاتے ہیں تو پھر کسی طرح اس کی توبہ قبول نہیں کی جاتی۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرتا ہی رہتا ہے لیکن جب اس پر موت طاری کردی جاتی ہے یعنی اس کی جاں کنی کا وقت ہوتا ہے تو اس کے لئے توبہ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ قرآن کریم میں فرعون کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اس کی تفصیل ارشاد فرمائی گی ہے کہ جب حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو سمندر کے اندر راستوں سے نکال کر دوسرے کنارے پر لے آئے۔ بعد میں فرعون اپنے لشکر کے ساتھ جب ان راستوں کے اندر پہنچ گیا جو اللہ نے حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کے لئے سمندر میں راستے بنا دیئے تھے تو سمندر کا پانی آپس میں پھر مل گیا اور فرعون اور اس کے لشکری ڈوبنے لگے اس وقت فرعون کو عقل آئی اور اس نے کہا :
امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنوآاسرائیل و آنا من السلمین
ترجمہ :- میں اس اللہ پر ایمان لاتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس رب پر میں ایمان لاتا ہوں اور میں اللہ کے فرماں برداروں میں سے ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے دستور کے مطابق فرعون کی توبہ کو قبول نہیں کیا کیونکہ جب ایمان لانے کا وقت تھا اس وقت تو وہ خود ہی معبود بنا ہوا تھا غرور تکبر اور کفر میں سب سے آگے تھا لیکن جب اس کو موت نظر آئی تو اس کو بنی اسرائیل کا پروردگار یاد آنے لگا۔ اللہ نے اس کی اس توبہ کو نامنظور فرما دیا۔
اس کے برخلاف حضرت یونس کی قوم کو جب اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہوگیا کہ حضرت یونس اپنے اہل خانہ کے ساتھ یہ کہہ کر چلے گئے ہیں کہ اب تم اللہ کے عذاب کا انتظار کرو اور انہیں یقین ہوگیا کہ اگر ہم نے توبہ نہ کی تو واقعی اللہ کا عذاب ہمیں آ گھیرے گا۔ اس وقت پوری قوم نے اپنے کفر و شرک سے توبہ کی چونکہ عذاب آنے سے پہلے ہی انہوں نے توبہ کرلی تھی تو ان کی توبہ قبول ہوگئی ۔ اگر وہ عذاب آنے کے بعد توبہ کرتے تو ان کی توبہ قبول نہ کی جاتی۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسی دستور اور قانون کو بیان فرمایا ہے کہ آج یہ کفار مکہ جس عذاب الٰہی کو نظر انداز کر رہے ہیں اور اپنے کفر و شرک سے توبہ نہیں کرتے۔ اگر وہ عذاب آگیا تو پھر توبہ کے دروازے بند کردیئے جائیں گے۔
نبی کریم ﷺ جب کفار مکہ کے سامنے یہ ارشاد فرماتے کہ قیامت آنے والی ہے۔ اس دن تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ان کو جزا اور سزا دی جائے گی۔ آپ فرماتے کہ اچھے اعمال پر اجر وثواب عطا کیا جائے گا لیکن برے اعمال پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔ آپ کے ارشادات کے جواب میں وہ آپ کی باتوں کا مذاق اڑاتے اور یہ کہتے کہ اے نبی ﷺ تم جس عذاب کی باتیں کرتے ہو وہ آخر کب آئے گا ؟ تم اس کو فوراً ہی ہمارے اوپر مسلط کیوں نہیں کرا دیتے ؟ اس طنز و استھزاء کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے واضح الفاظ میں کہہ دیجیے کہ صبح و شام کسی بھی وقت جب اللہ کا عذاب آئے گا نہ تو تم اس سے بچ سکو گے اور نہ اللہ کو عاجز و بےبس کرسکو گے۔ پھر تو اللہ کی طرف سے ایک ہی اعلان ہوگا کہ تم اب تک جو کچھ کرتے رہے ہو اس کا عذاب چکھو۔
فرمایا گیا کہ اے نبی ﷺ ! جب وہ آپ سے یہ پوچھتے ہیں کہ کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے تو آپ کہہ دیجیے کہ اللہ کی قسم یہ سب کچھ برحق اور سچ ہے اللہ کو اس کے کرنے پر پوری قدرت و طاقت حاصل ہے۔ اللہ کا ہاتھ کوئی نہیں پکڑ سکتا۔ جب وہ کسی قوم کو ان کے برے اعمال کی سزا دیتا ہے تو اس کو کوئی روک نہیں سکتا اور اچھے اعمال پر بہترین بدلہ عطا فرماتا ہے تو اس کو کوئی منع کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
Ayahs 10:54–56لغات القرآن آیت نمبر 54 تا 56
نفس (جان، ذات) ، افتدت (بدلہ دیا یعنی بدلہ میں دے دے گا) اسروا (انہوں نے چھپایا، وہ چھپائیں گے) الندامۃ (شرمندگی ، ندامت) راو (انہوں نے دیکھا، وہ دیکھیں گے) یحییٰ (وہ زندہ کرتا ہے) یمیت (وہ موت دیتا ہے، مارتا ہے)
تشریح آیت نمبر 54 تا 56
یہ ساری کائنات اور اس کا ذرہ ذرہ اللہ نے پیدا کیا ہے وہی اس کا مالک ہے وہی نگہبان ہے اس نے اس دنیا کو ایک خاص وقت تک استعمال کرنے کی انسان کو اجازت دی ہے کہ وہ دنیا اور اس کے وسائل کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کی روشنی میں استعمال کرے۔ لیکن اگر اس نے یہ سمجھ لیا کہ جو کچھ میرے پاس ہے میں اس کا مالک ہوں جس طرح چاہوں میں اس میں تصرف کرسکتا ہوں اس کو استعمال کرسکتا ہوں۔ اس تصور کے ساتھ ہی انسان کا مزاج بگڑنا شروع ہوجاتا ہے اور وہ دنیا کی ظاہری چمک دمک اور مال و دولت کی کثرت میں اس طرح مگن ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے اس مالک حقیقی کو بھول جاتا ہے جس نے یہ سب کچھ اس کو عطا کیا ہے۔ اللہ کے وسائل سے اللہ کی زمین پر وہ ظلم و زیادتی کرتا ہے، نافرمانیوں کا طریقہ شروع کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو اصلاح کرنے اور ان کے بھولے ہوئے سبق کو یاد دلانے کے لئے اپنے پاکیزہ نفس باعظمت بندوں (انبیاء کرام) کو بھیجتا ہے مگر انسان کی غفلت کی انتہا یہ ہوجاتی ہے کہ وہ اللہ کے نبیوں کی بات جاننے اور ان کی اطاعت کرنے کے بجائے ان کا مذاق اڑانا شروع کردیتا ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنی دنیا اور آخرت کو برباد کر ڈالتا ہے۔ اگر وہ اپنے کفر و شکر سے توبہ کرلیتا ہے تو اس کی دنیا بھی بہتر ہوجاتی ہے اور آخرت بھی سنور جاتی ہے لیکن اس کی نافرمانی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ دنیا میں اللہ کے عذاب کا شکار ہوجاتا ہے اور آخرت میں سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر شرمندگی ، حسرت اور افسوس کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا اور وہی دنیا کا مال و دولت جس پر وہ جان دیتا تھا وہ چاہے گا کہ یہ سب کچھ لے کر بھی اگر اللہ اس کو معاف کر دے تو یہ سودا گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا مگر آخرت میں یہ چیزیں اس کے کام نہ آسکیں گی۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اس طرح ارشاد فرمایا ہے کہ :
انسان نے روئے زمین پر جو جو زیادتیاں اور ظلم کئے ہیں وہ چاہے گا کہ اس کا سب کچھ لے کر اس کو چھوڑ دیا جائے ۔ وہ شرمندہ ہوگا۔ لیکن اللہ تعالیٰ اس کی نافرمانیوں کے باوجود اس کے ساتھ پورا پورا انصاف فرمائیں گے اور کوئی زیادہ نہیں فرمائیں گے۔ اس کا وعدہ سچا وعدہ ہے۔ درحقیقت زندگی اور موت سب اس کے ہاتھ میں ہے اور اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ ایک دن وہ آئے گا جب تمام انسانوں کو اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اپنی نافرمانیوں، زیادتیوں اور ظلم و ستم کا حساب دینا ہوگا اور نج لوگوں نے اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری کی ہوگی ان کو بہترین انعامات سے نوازا جائے گا۔
Ayahs 10:57–58لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 58
موعظۃ (نصیحت) شفآء (شفا، بہتری) الصدور (صدر) سینے ، دل) فلیفرحوا (پس انہیں خوش ہونا چاہئے) خیر (زیادہ بہتر) یجمعون (وہ جمع کرتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 57 تا 58
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دنیا بھر کے تمام انسانوں کو خطاب رکتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے لوگو ! تمہارے پروردگار نے تمہیں ایک ایسی کتاب ہدایت عطا فرما دی ہے جو قیامت تک تمام انسانوں کی رہبری اور رہنمائی کرتی رہے گی۔ اب اس کتاب کے بعد کسی اور کتاب ہدایت کی ضرورت نہیں ہے۔ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام نے اس کتاب ہدایت پر عمل کر کے ساری دنیا میں وہ انقلاب برپا کردیا جس سے بیمار دلوں کو شفا مل گئی اور شکوک و شبہات، جہالت و گمراہی، غلط عقائد، بغض و حسد، نفاق وتکبر اور اخلقا رذیلہ میں پھنسے ہوئے انسانوں کو ہدایت کی وہ روشنی مل گئی جس نے ان کے تن مردہ میں دوبارہ جان ڈال دی تھی۔ قرآن کریم کی تو لاتعداد خوبیاں ہیں لیکن اس جگہ خصوصی طور پر چار خوبیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
1) موعظۃ : یعنی قرآن کریم تمام انسانوں کے لئے ایک دل نشین، دل گداز انداز میں زندگی گذارنے اور بسر کرنے کے اصولوں کی وہ کتاب ہے جو رب العالمین کی طرف سے عطا فرمائی گئی ہے جو بغیر کسی جبر و ا اکراہ کے نصیحت ہی نصیحت اور بندوں کی خیر خواہی کا ذریعہ ہے۔
2) شفاء لما فی الصدور : یعنی ظاہر و باطن ، دل و دماغ اور کفر و شرک جیسی روحانی بیماریاں جو دلوں کی دنیا کو اجاڑ کر کھ دیتی ہیں ان سے شفا کا ذریعہ یہ کتاب ہے۔
درحقیقت قرآن کریم ہر اعتبار سے سرچشمہ ہدایت ہے۔ اس سے جس طرح بھی فائدہ اٹھایا جائے وہ سرا سر شفاہی شفا ہے۔ احادیث سے ثابت ہے کہ قرآن کریم کو پڑھ کر سمجھنا اور عمل کرنا یہ تو اصل مقصد ہے لیکن قرآن کریم کے ہر حرف پر دس نیکیاں اور درجات کا ملنا بھی ثابت ہے یہاں تک کہ اگر کوئی شخص محض قرآن کریم کے الفاظ و حروف کو دیکھتا ہے اس پر بھی اجر وثواب کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کیپ اس کوئی صحابی تشریف لائے اور سینے میں درد کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا کہ قرآن کریم پڑھو اللہ اس تکلیف سے نجات عطا فرمائے گا۔ اسی طرح ایک موقع پر حضرت واثلہ بن اسقع نے حاضر خدمت ہو کر حلق میں تکلیف کی شکایت کی آپ نے ان سے بھی فرمایا کہ قرآن کریم کی تلاوت کرو اس سے شفا عطا کی جائے گی۔
قرآن کریم تمام ظاہری اورب اطنی بیماریوں کے لئے نسخہ شفا ہے۔ اس قرآن نے ان لوگوں کی زندگیوں کی کایا پلٹ دی تھی جو کفر و شرک میں ڈوب کر انسانیت اور اخلاق کے ہر اصول کو بھول چکے تھے۔ کفر و شرک ہی جن کی زندگی بن چکی تھی۔
لیکن تاریخ انسانی کا یہ عظیم واقعہ ہے جہالت و ظلم میں ڈوبے ہوئے یہ لوگ قرآن کریم کی برکت سے انسانیت کے دوست اور خیر خواہ بن گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جو راہزن تھے وہ راہبر بن گئے اور کفر و شرک اور نفاق کی تاریکیوں میں بھٹکنے والے ساری دنیا کو ہدایت کی روشنی میں لانے کا ذریعہ بن گئے قرآن کریم ڈیڑھ ہزار سال پہلے بھی یہی تاثیر رکھتا تھا۔ آج بھی ہے اور قیامت تک رہے گا بات صرف عمل کرنے کی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام نے قرآن کریم اور اپنے نبی ﷺ کی سنت پر عمل کیا تو وہ ساری دنیا پر چھا گئے، ہر وقت و طاقت ان کی غلام بن کر رہ گئی۔ آج بھی ہماری نجات اور کامیابی اورب یماریوں کا علاج قرآن و سنت ہی میں پوشیدہ ہے۔
3) ھدی : یعنی یہ قرآن حکیم ہدایت ہی ہدایت ہے۔ یہی وہ کتاب ہے جس نے ان تمام اصولوں کی وضاحت فرما دی ہے جن سے انسان گمرایہ سے نکل کر راہ ہدایت اختیار کرسکتا ہے۔ ہدایت یعنی راستہ دکھانا اور منزل تک پہنچانا یہی قرآن کریم کی تعلیمات کی برکت ہے۔ قرآن کریم یہ بھی بتاتا ہے کہ منزل تک پہنچنے کا راستہ کونسا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ منزل کہاں ہے۔ قرآن کریم تئیس سال (23) میں حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا نازل فرمایا گیا۔ قرآن کریم کی جو آیات بھی نازل ہوتیں نبی کریم ﷺ ان آیات کی مراد بتاتے اور ان آیات پر عمل کر کے صحابہ کرام کے سامنے زندگی کے اس نمونے کو پیش رفماتے جو بہترین نمونہ زندگی ہے۔ صحابہ کرام نے اس نمونہ زندگی کو اپنایا یہاں تک کہ بنی آخر الزماں خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے صحابہ کرام کو یہ سند عطا فرما دی کہ ” میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جس کا دامن بھی تھام لو گے راہ ہدایت حاصل کرلو گے۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم جو سرا سر ہدایت ہے اس کا نور اسی وقت کھل سکتا ہے جب کہ ہم اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے کس آیت کا کیا مطلب بتایا اور کس طرح اس پر عمل کر کے دکھایا۔ صحابہ کرام جن کے سامنے قرآن کریم نازل ہوا اور ان آیات پر نبی کریم ﷺ کو عمل کرتے دیکھا انہوں نے قرآن و سنت پر اپنی زندگیوں کو اس طرح ڈھال لیا تھا کہ وہ خود دنیا کے لئے ہدایت و روشنی کا ذریعہ بن گئے تھے۔ لہٰذا ہدایت کا یہ اصول سامنے آیا کہ قرآن کریم سراسر ہدایت ہے۔ لیکن اس ہدایت کا مفہوم کیا ہے اس پر کیسے عمل کیا جائے اس کے لئے ہمیں نبی کریم ﷺ کے قول و عمل اور احکامات کو سامنے رکھنا ہوگا۔ پھر ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ صحابہ کرام نے قرآن کریم اور سنت رسول پر کس طرح عمل کیا۔ یہی راہ ہدایت ہے۔ بعض وہ لوگ جو اپنی جہالت و نادانی سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ بس ہمیں قرآن کافی ہے اور سنت رسول اللہ ﷺ اکابرین ملت کی تشریحات کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسے لوگ درحقیقت قرآن پر نہیں بلکہ اپنی نفسانی خواہشات کے لئے قرآن کریم اور اس کی آیات کو ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہدایت نہیں بلکہ گمراہی ہے۔ مگر ان اندھیروں میں بھٹکنے والے ہر روشنی کا انکار کر کے زندگی بھر خود فریبی میں مبتلا رہتے ہیں۔ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی راہ ہدایت سے بھٹکانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
ہمارا ایمان ہے کہ قرآن کریم ایک مکمل کتاب ہے۔ اس کا نور کامل نور ہے۔ کوئی چیز باہر سے لا کر اس کو مکمل نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن قرآن کریم کا نور اور اللہ کی مراد کھل کر اس وقت تک سامنے نہیں آسکتی جب تک ہم نبی کرم ﷺ کے عمل اور حکم یعنی احادیث رسول ﷺ کو سامنے نہ رکھیں۔ آپ کا اسوہ حسنہ انسانیت کا کامل ترین نمونہ زندگی ہے لیکن اس کو سمجھنے کے لئے ہمیں صحابہ کرام کی زندگیوں کو سامنے رکھنا ہوگا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے تئیس سال (23) میں ہر طرح کی تکلیفیں اٹھا کر لاکھوں صحابہ کرام کے ذہن و فکر کی جو تربیت فرمائی تھی ان صحابہ کرام کی زندگی بھی آپ کے طفیل کائنات میں بہترین نمونہ زندگی ہے۔ اس کو کسی حال میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، ورنہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کو سمجھنا مشکل بلکہ ناممکن ہوجائے گا۔
4) قرآن کریم کی چوتھی صفت یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ یہ قرآن رحمت ہی رحمت ہے۔
قرآن کریم جس دور میں نازل ہوا اگر اس کو پیش نظر رکھا جائے تو واقعی مکہ والوں کے لئے رحمت ہی تھا ورنہ وہ ہمیشہ کفر و شرک اور جہالت کی تایرکیوں میں بھٹکتے رہتے۔ آج کا انسان بھی بہت سی ترقیات کے باوجود قرآن کریم کی رحمت کا محتاج ہے اور قرآنی اصول ہی ان کے لئے رحمت و کرم کا ذریعہ بن سکتے ہیں اور قیامت تک یہ قرآن ساری انسانیت کے لئے رحمت ہی رحمت ہے۔
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس آیت میں فضل سے مراد قرآن کریم ہے اور رحمت سے مراد اس کے پڑھنے سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق ہے یہی مضمون حضرت براء بن عازب اور حضرت ابو سعید خدری سے بھی نقل کیا گیا ہے۔
حضرت عباس کی ایک روایت کے مطابق فضل سے مراد قرآن کریم ہے اور رحمت سے مراد نبی کریم رحمتہ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔
5) قرآن کریم ایک مکمل دستور العمل ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا میں بعض چیزیں وہ ہیں جن سے رک جانا انسان کے حق میں بہتر ہے اور بعض وہ چیزیں ہیں جن کے کرنے سے دین و دنیا کی ساری بھلائیاں عطا کی جاتی ہیں۔ قرآن کریم کی یہ تعلیمات ایسی ہیں جو انسانوں کو راہ راست اور راہ ہدایت پر چلانے کا ذریعہ ہیں لہٰذا ایسی عظیم کتاب کے نازل ہونے پر انسان جتنی بھی خوشی کا اظہار کرسکتا ہے اس کو کرنا چاہئے۔ جتنی اس کی قدر کر سکات ہو وہ کرے اور اس کی سب سے بڑی قدر یہ ہے کہ قرآن کریم جن سچائیوں کو دنیا میں قائم کرنے کیلئے نازل کیا گیا ہے ان کو قائم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم اور سنت رسول اللہ ﷺ پر عمل کرنے اور صحابہ کرام کو معیار حق و صداقت ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)