10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 10:59–60

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ کیا تم نے کبھی اس پر غور کیا ہے کہ اللہ نے تمہارے لئے جو رزق عطا کیا ہے۔ تم نے اس میں سے کسی کو حرام اور کسی کو حلال قرار دے دیا ہے۔ آپ کہہ دیجیے کہ کیا اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دے رکھی ہے یا تم اللہ پر جھوٹ گھڑ رہے ہو۔

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اللہ پر جھوٹ گھڑ رہے ہیں ان کا قیامت کے بارے میں کیا گمان ہے اللہ تو لوگوں پر فضل و کرم کرنے والا ہے لیکن اکثر وہ ہیں جو قدر نہیں کرتے۔

لغات القرآن آیت نمبر 59 تا 60 جعلتم (تم نے بنا لیا) اللہ (کیا اللہ نے ؟ ) اذن (اجازت دی ہے) تفترون (تم گھڑتے ہو، تم بناتے ہو) ظن (گمان خیال) ذو فضل (فضل و کرم والا) لایشکرون (وہ شکر نہیں کرتے ہیں، وہ قدر نہیں کرتے ہیں) تشریح آیت نمبر 59 تا 60 اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس بات کو بالکل واضح طریقہ سے ارشاد فرما دیا ہے کہ ” ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاً “ یعنی اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ اللہ نے تم سب کے لئے رزق کو نازل کیا ہے۔ یہاں رزق سے مراد صرف کھانے پینے کی چیزیں ہی نہیں بلکہ ہر وہ نعمت مراد ہے جس کو ہر شخص استعمال کرتا ہے۔ البتہ اس میں بعض چیزوں کے استعمال کو سختی سے منع کردیا۔ کونسی چیز انسان کے لئے منع ہے یا حرام ہے اللہ نے اس کی ایک فہرست بھی عطا فرما دی ہے۔ اس کے مطابق ہر وہ چیز حلال ہے جس کو اللہ اور اس کے رسول نے پسند فرمایا ہے اور جس چیز سے منع کردیا وہ قیامت تک ہر انسان کے لئے حرام ہے۔ کفار و مشرکین عرب اور یہودی علماء نے اپنی طرف سے حلال اور حرام کی ایک فہرست بنا رکھی تھی اور ان کا سراسر جھوٹا دعویٰ یہ تھا کہ ہم جس چیز کو حرام کہہ رہے ہیں وہ وہی چیزیں ہیں جن کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ مثلاً ٭… انہوں نے بحیرہ اور سائبہ جانوروں کو حرام قرار دے رکھا تھا۔ ٭… اپنی کھیتی باڑی کے ایک حصے کو بتوں کے نام مخصوص کر کے یہ کہتے کہ یہ ان بتوں کے لئے ہے اس میں سے کھانا یا استعمال کرنا قطعاً حرام ہے۔ ٭… بعض مردار جانوروں کو حلال قرار دے رکھا تھا۔ غرض یہ کہ بغیر کسی دلیل کے جس چیز کو چاہتے حرام قرار دے لیتے اور جس چیز کو چاہتے حلال بتا دیتے تھے اور الزم اللہ پر لگا دیتے اور کہتے کہ اس کا حکم ہمیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ یہ سب کچھ اللہ کا دیا ہوا رزق ہے اس میں تمہیں کس نے اس بات کا اختیار دے دیا ہے کہ اپنی طرف سے گھڑ کر جس چیز کو چاہا حلال قرار دیدیا اور جس چیز کو چاہا حرام قرار دے لیا۔ فرمایا کہ کیا اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے یا تم نے دوسروں پر دھونس جمانے کے لئے اللہ کے نام کا ناجائز استعمال کر رکھا ہے۔ یہ ایسی حرکت ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے اور اس جرم پر قیامت کے دن سخت سزا دی جائے گی۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر بےانتہا فضل و کرم کرتا ہے لیکن اکثر لوگ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے اور قدر نہیں کرتے۔
Ayahs 10:61–65

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ﷺ کسی حال میں ہوں اور قرآن کہیں سے بھی تلاوت کرتے ہیں اور لوگ کوئی بھی عمل کرتے ہوں اللہ اس جگہ موجود ہوتا ہے (اس کو ہر ایک کی خبر رہتی ہے) اور زمین آسمان کا چھوٹا بڑا ذرہ بھی اس رب کی آنکھوں سے چھپا ہوا نہیں ہے اور سب کچھ ” کتاب مبین “ میں محفوظ ہے

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

سنو ! بیشک جو لوگ اللہ کے دوست ہیں نہ ان پر خوف ہوگا نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا۔

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لئے دنیا و آخرت میں بشارت و خوش خبری ہے اللہ کی باتیں بدلا نہیں کرتیں اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کو ان کی باتیں رنجیدہ نہ کردیں۔ بیشک عزت و عظمت تو سب کی سب اللہ کے لئے ہے جو سنتا بھی ہے اور جانتا بھی ہے۔ )

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 65 ماتکون (تو نہیں ہوتا) شان (حال ، کیفیت) شھود (موجود ، گواہ ) تفیضون (تم کرتے ہو، تم مشغول ہوتے ہو) مایغرب (غائب نہیں رہتا ہے، دور نہیں ہوتا ہے) مثقال ذرۃ (ذرہ برابر، تھوڑا سا بھی) اصغر (چھوٹا، یہ لفظ اکبر کے مقابلہ میں ہے) کتاب مبین (کھلی کتاب (لوح محفوظ ؛ ) اولیاء (ولی) دوست ، حمایت کرنے والا لایحزنون (وہ رنجیدہ نہ ہوں گے) البشریٰ (خوش خبری) کلمت اللہ (اللہ کی باتیں، اللہ کے احکامات ، الفوزا العظیم (بڑی کامیابی ) العزۃ (عزت و عظمت ، غلبہ) تشریح : آیت نمبر 61 تا 65 گزشتہ آیات میں ارشاد فرمایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے غفلت میں پڑے ہوئے انسانوں کو بیدار کرنے اور ان کو راہ ہدایت پر چلانے کے لئے ایک ایسی عظیم کتاب (قرآن مجید) کو نازل فرمایا ہے جو نصیحت مو عظمت ، روح اور دلوں کی بیماریوں کے لئے شفاء سراسر ہدایت و رہنمائی اور اللہ کی رحمت و شفقت سے بھرپور اور قیامت تک آنے والے انسان کے لئے مشعل راہ ہے اور سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ اس نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ہر زمان و مکان کے لئے رحمتہ للعالمین بنا کرب یھجا ہے۔ یہ اللہ کی وہ نعمتیں ہیں جن پر اللہ ایمان جتنا بھی شکر ادا کریں اور خوشیاں منائیں وہ کم ہے۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں اللہ نے نعمت کے طور پر عطا فرمائی ہیں۔ زیر مطالعہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ نبی مکرم ﷺ کی تشریف آوری کے بعد ہونا یہ چاہئے تھا کہ کفار و مشرکین آپ کی اطاعت و فرماں برداری کرتے لیکن انہوں نے آپ کا دامن تھامنے کے بجائے خود ہی من گھڑت انداز سے جس چیز کو چاہا حلال قرار دے ڈالا اور جس کو چاہا حرام کردیا اور بجائے اطاعت کرنے کے انہوں نے آپ کو ہر طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں پہنچانا اپنا پیشہ بنا لیا ہے۔ طرح طرح کی افواہیں پھیلانا ہر جگہ اور ہر محفل میں مذاق اڑانا اور بےعزت کرنے کے طریقے اختیار کرنا انہوں نے اپنا شعار بنا لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی مکرم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ہماری آیات کی جب بھی تلاوت کرتے ہیں یا دین اسلام کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ کفار و مشرکین حق اور سچائی کو قبول کرنے کے بجائے الٹی سیدھی حرکتیں کرتے ہیں وہ سب کی سب اللہ کی نظروں میں ہیں اور اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے وہ دیکھ بھی رہا ہے اور سن بھی رہا ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اور آپ پر ایمان لانے والے صحابہ کرام کو کسی طرح پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس کائنات میں اللہ ہی کا قانون چلتا ہے جس میں تبدیلی نہیں آتی جو اہل ایمان کے لئے بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس کائنات میں اللہ کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ جو لوگ بھی تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی اختیار کرتے ہیں اور نیکیاں کرتے اور دوسروں کی بھلائی کے لئے دن رات کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیاں اور خوش خبریاں عطا کرتا ہے۔ وہ اللہ کے دوست اور محبوب بندے ہیں جن پر نہ اس دنیا میں خوف اور غم کی گھٹائیں چھائیں گی اور نہ ایسے لوگوں کو آخرت کا رنج و الم اور خوف و غم ہوگا۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو اس سچائی کے راستے کو چھوڑ کر کفر و نافرمانی کے طریقے اختیار کرتے ہیں وہ بظاہر دنیا میں کامیاب نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ناکام ہی ہیں اور آخرت میں تو ان کا کوئی حصہ نہیں ہے اور ابدی جہنم ہی ان کا مقدر ہے۔ فرمایا کہ قرآن کریم کے تمام اصول ابدی ہیں جو ہمیشہ سے ہیں ہمیشہ رہیں گے ان میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اور ان کی اطاعت کرنے والوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ان کفار کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں اور وہ لوگ ذلیل کرنے کے جو طریقے اختیار کر رہے ہیں ان سے دل تنگ نہ ہوں کیونکہ عزت و ذلت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کو حقیر سمجھنے والے خود ہی ذلیل و خوار ہو کر رہ گئے اور فتح مکہ کے دن وہ منظر بھی عجیب تھا جب کفار مکہ آپ کے رحم و کرم کے لئے گڑ گڑا رہے تھے اور آپ نے یہ فرما کر کہ ” تم سب آزاد ہو آج کسی سے کوئی انتقام نہیں لیا جائے گا “ دنیا کو حیرت میں ڈال دیا اور اس آیت کی سچائی سامنے آگئی کہ ساری عزت و عظمت اس ذات کے ہاتھ میں ہے جو سب کی سنتا اور سب کچھ دیکھتا ہے۔
Ayahs 10:66–70

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

سنو ! بیشک جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، ان سب کا مالک اللہ ہے اور جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت و بندگی کرتے ہیں اور ان کو شریک کرتے ہیں وہ محض اپنے خیال و گمان کی پیروی کر رہے ہیں جو سب بےحقیقت باتیں ہیں۔

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو اور دن کو دیکھنے بھالنے کے لئے بنایا ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں۔

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنا لیا ہے حالانکہ اس کی ذات تو ہر عیب سے پاک ہے وہ بےنیاز ہے (کسی کا محتاج نہیں ہے) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کی ملکیت ہے۔ تمہارے پاس (اللہ نے کسی کو بیٹا بنا لیا ہے) اس بات کی کوئی دلیل ہے ؟ اللہ پر ایسی باتیں کیوں لگاتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں ہے۔

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے ! بیشک وہ لوگ جو اللہ پر (جھوٹی باتیں) گھڑتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہ ہوں گے۔

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

دنیا کی زندگی کا یہ تھوڑا سا سامان (مزا) ہے لیکن انہیں ہماری طرف ہی لوٹ کا آنا ہے۔ پھر ہم ان کے کفر کی وجہ سے شدید عذاب کا مزا چکھائیں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 66 تا 70 یتبع (وہ اتباع کرتا ہے، وہ پیچھے چلتا ہے) یخرصون (وہ گمان کرتے ہیں، وہ اٹلک کے تیر چلاتے ہیں) لتسکنوا (تاکہ تم سکون حاصل کرو) مبصر (دیکھنے بھالنے کے لئے الغنی (بےنیاز جو کسی چیز کا محتاج نہ ہو) سلطن (دلیل) لایفلحون (وہ کامیاب نہیں ہوں گے) متاع (زندگی گذارنے کا سامان، مزے) نذیق (ہم چکھائیں گے) تشریح : آیت نمبر 66 تا 70 آسمانوں سے لے کر زمین تک اس پوری کائنات کی ایک ایک چیز زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ایک اللہ کی ذات ہے جس نے ہم سب کو پیدا کیا ہے وہی ہم سب کا مالک ہے اور جس نظام زندگی میں ہم لگے بندھے ہیں وہ اسی کے حکم سے ہے۔ لیکن پتھروں کے یہ بےجان بت اور وہ لوگ جو دھوکے اور فریب کے طریقوں سے لوگوں کے معبود بنے ہوئے ہیں نہ خود اپنی ذات پر اختیار رکھتے ہیں اور نہ وہ کسی کے نفع و نقصان کے مالک ہیں۔ اگر کچھ لوگ ان کو قابل پرستش سمجھتے یا مانیت ہیں تو وہ محض اپنے نفس اور خیال کے پجاری ہیں جن کی نہ کوئی اصل ہے اور نہ بنیاد۔ انہوں نے اپنے نفس اور وقتی فائدوں کی خاطر مصنوعی معبود بنا رکھے ہیں جن کی حیثیت و ہم و گمان سے آگے کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین اور کفار اس بات پر اگر ذرا بھی غور کرلیں تو یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ اللہ ہی ہے جس نے دن اور رات کو پیدا کیا چاند سورج اور ستارے ایک لگے بندھے نظام میں چل رہے ہیں۔ رات کو آرام کرنے کے لئے اور دن کو روزی پیدا کرنے کیلئے بنایا ہے۔ لوگوں کی بنئای ہوئی گھڑیاں خود سے ترتیب دیئے ہوئے نقشے آگے اور پیچھے ہو سکتے ہیں لیکن اللہ نے جس نظام کو بنایا ہے اس میں کبھی تبدیلی نہیں آتی اور نہ کوئی فرق پیدا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کونسی ذات ہے جو اس پورے نظام کو چلا رہی ہے۔ ذرا غور کیا جائے تو ساری حقیقت سامنے آسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ایک طرف تو کفار و مشرکین سے یہ فرمایا ہے کہ وہ کائنات کی جن چیزوں کو معبود بنائے ہوئے ہیں وہ ایک اللہ کی پیدا کی ہوئی مخلوقات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دوسری طرف نصاریٰ کو تنبیہ فرمائی ہے کہ انہوں نے ایک اللہ کو چھوڑ کر تین تین معبود بنا رکھے ہیں اور اللہ کے ایک بندے حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا بنا رکھا ہے وہ بھی بہت بڑی غلطی پر ہیں اگر وہ بھی ذرا غور کریں تو ان کو یہ حقیقت معلوم ہوجائے گی کہ اس پوری کائنات کو چلانے والی صرف ایک ہی ذات ہے جو کسی اولاد، بیٹے، بیوی اور وارث کی محتاج نہیں ہے۔ لفظ ” سبحان “ میں اس نے تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں : (1) وہ اپنی ذات میں تنا ہے اس کا کوئی ہم جنس نہیں (2) اللہ ہر تہمت سے پاک ذات ہے۔ (3) وہ لافانی ذات ہے اس کو کسی کی حاجت اور ضرورت نہیں ہے۔
Ayahs 10:71–73

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنائیے۔ جب انہوں اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم اگر تمہیں میرا رہنا اور اللہ کی آیات کی طرف متوجہ کرنا بھاری محسوس ہوتا ہے تو پھر میں اللہ پر بھروسہ (کر کے کہتا ہوں کہ) تم اور تمہارے شرکاء سب جمع ہو کر جو تدبیر کرنا چاہتے ہوں کہ گذریں اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دیں۔

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

پھر اگر تم نے میری اتباع نہ کی (تو مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے) میں نے تم سے کوئی اجرت تو نہیں مانگی۔ میری اجرت (اجر وثواب) تو صرف اللہ کے ذمے ہے مجھے تو اسی کا حکم دیا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں میں سے ہو جائوں

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

پھر انہوں نے نوح کو جھٹلایا، تب ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کو نجات عطا کی اور ان ہی کو ہم نے جانشین بنایا اور ہم نے ان سب کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا۔ پھر دیکھو تو سہی ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جنہیں ڈرایا گیا تھا۔

لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 73 اتل (تلاوت کر، پڑھ کر سنا نبا (خبر، واقعہ، قصہ) کبر (بڑا ہے، بھاری ہے) مقامی (میرا ٹھہرنا) تذکیری (میرا یاد دلانا) توکلت (میں نے بھروسہ کرل یا، تو کل کرلیا) اجمعوآ (تم سب جمع ہو جائو، تم پکاکر لو) غمۃ (کچھ شبہ، کچھ شک) اقضوا (کر گذرو، فیصلہ کرلو) لاتنظرون (تم مجھے مہت نہ دو ) ماسالت (میں نے نہیں مانگا) اجر (اجرت، مختانہ) امرت (مجھے حکم دیا گیا ہے) تشریح : آیت نمبر 71 تا 73 اس سورة کے آغاز ہی سے توحید و رسالت، قیامت و آخرت اور جزا و سزا کو تفصیل سے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ معقول اور بہتر دلائل اور نصیحتوں کے انداز میں یہ بتایا گیا کہ اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری سے انسان کو دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں عطا کی جاتی ہیں۔ زیر مطالعہ آیات سے کچھ انبیاء کرام کے واقعات کا ذکر کر کے یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ واقعات گواہ ہیں کہ جو لوگ ان قوانین کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے ان کا انجام بھیانک ہوا اور ان کی زندگیاں عبرت کا نشان بن گئیں۔ ان تین آیات میں سب سے پہلے حضرت نوح کے واقعہ کو نہایت مختصر اور جامع انداز میں ارشاد فرمایا گیا۔ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک حیات رہے اور انہوں نے ہر شخص تک اللہ کا دین پہنچایا۔ بالآخر جب چند لوگوں کے سوا سب نے نافرمانی کا طریقہ اختیار کیا تب حضرت نوح نے بد دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیئے۔ قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اللہ کا نبی اور رسول کسی قوم کے لئے بد دعا کرتا ہے تو وہ قبول کی جاتی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی بد دعا کو قبول کیا اور پانی کے عذاب سے اس وقت کی معلوم دنیا کے تمام نافرمانوں کو غرق کردیا۔ صرف وہی لوگ بچ سکے جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں سوار تھے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ذرا ان کو حضرت نوح کا واقعہ تو سنا دیجیے تاکہ کفار مکہ کو یہ حقیقت معلوم ہوجائے کہ انیباء کرام کی نافرمانی کا انجام کیا ہوتا ہے۔ حضرت نوح نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میرا بھروسہ تو اللہ کی ذات پر ہے میں کسی کی مخالفت یا اذیت سے نہیں ڈرتا، نہ تم سے میرا کوئی لالچ یا غرض وابستہ ہے۔ نہ میں تم سے کسی اجرت یا معاوضہ کی بات کرتا ہوں میرا کام اللہ کا دین پہنچانا ہے۔ اگر تمہیں میرا وجود نا گوار گذرتا ہے اور مجھے برداشت نہیں کرسکتے تو تمہارے دل میں جو آئے وہ تم کر گذرو۔ مجھے ذرا سی بھی مہلت نہ دو ۔ جب میرا بھروسہ اللہ پر ہے تو تم میرا کچھ بگاڑ نہ سکو گے یہ اور بات ہے کہ تم اپنے آپ کو تباہ و برباد کر ڈالو گے۔ چناچہ یہی ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرمائی اور بقیہ سب لوگوں کو غرق کردیا۔ فرمایا کہ آج وہ قوم اور ان کے غرور وتکبر کا وجود نہیں ہے۔ اب تم ان کی جگہ پر ہوا اگر تم نے بھی وہی طریقے اختیار کئے جو قوم نوح نے اختیار کئے تھے تو تمہارا انجام بھی ان سے مختلف نہ ہوگا۔ ان آیات میں ایک لطیف اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ جو شخص بھی بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح کرنا چاہتا ہو اس کا کردار ذاتی اغراض اور منفعتوں سے بہت بلند ہونا چاہئے۔ دنیا میں وہ لوگ قوموں کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو پار لگاتے ہیں جو اللہ کے سوا نہ تو کسی سے ڈرتے ہیں اور نہ دبتے ہیں، اللہ پر ہی ان کا بھروسہ ہوتا ہے۔ کفار کی اذیتوں پر صبر کرتے ہیں اور غیر اللہ سے خوف نہیں رکھتے۔ اپنی کوئی ذاتی غرض اور لالچ نہیں رکھتے۔ ایسے لوگ جب انبیاء کرام کی سیرت کو اپنا کر آگے بڑھتے ہیں تو بالآخر حق و صداقت کا بول بالا ہوتا ہے اور باطل پر جمنے والے تباہ و برباد ہو کر رہ جاتے ہیں۔
Ayah 10:74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کے (نوح) کے بعد ان کی قوم کی طرف بہت سے رسول بھیجے جو ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے مگر جس چیز کو انہوں نے پہلا جھٹلایا تھا اسے پھر مان کر نہ دیا۔ اسی طرح ہم حد سے بڑھنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیا کرتے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 74 بعثنا (ہم نے بھیجا) رسل (رسول) رسول پیغمبر جآء وا (وہ آئے) نطبع (ہم مہر لگا دیتے ہیں) المعتدین (حد سے بڑھنے والے) تشریح : آیت نمبر 74 ارشاد فرمایا گیا ہے کہ حضرت نوح کے بعد مختلف قوموں کی طرف مختلف نبی اور رسو ل بھیجے گئے جنہوں نے کفر و شرک کی دلدل میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نصیحت و موعظت فرمائی لیکن انہوں نے بھی وہی طریقہ اختیار کیا جو ان سے پہلی قوموں کا مزاج بن چکا تھا۔ اللہ کے دین اور انبیاء کا مذاق اڑانا۔ طرح طرح کی اذیتیں پہنچانا۔ حق کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنا اور ضد اور ہٹ دھرمی کے طریقے اختیار کرنا وغیرہ وغیرہ۔ حضرت نوح کے بعد حضرت صالح، حضرت ابراہیم، حضرت لوط اور حضرت شعیب جیسے عظیم اور برگزیدہ انبیاء اور رسول تشریف لائے انہوں نے اللہ کی واضح اور کھلی ہوئی آیات اور نشانیوں کو پیش کیا لیکن جو لوگ کفر اور جہالت کی تاریکیوں کے عادی ہوچکے تھے انہیں یہ روشنی پسند نہیں آئی اور انہوں نے بھی وہی طریقے اختیار کئے جس پر ان سے پہلی قومیں چل کر تباہ و برباد ہوچکی تھیں انبیاء کرام کی تعلیمات کے مقابلے میں انہوں نے ایمان کے بجائے کفر کا راستہ اختیار کیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہریں لگا دیں۔ مہر لگانا یہی ہے کہ جب وہ کفر و شرک کے اندھیروں میں ڈوب گئے تھے اور انہوں نے ہر اس بات کو ٹھکرا دیا تھا جو ان کے لئے دین و دنیا میں فلاح و کامیابی کا ذریعہ تھی۔ ضد ، ہٹ دھرمی اور دنیا داری ان پر اس طرح غالب آگئی تھی وہ حق بات سننا ہی نہیں چاہتے تھے تو اللہ نے ان کو کامیایب کی راہ سے محروم کردیا۔ یہی ان کے دلوں پر مہر لگانا ہے۔
Ayahs 10:75–85

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر ہم نے ان رسولوں کے بعد فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف موسیٰ و ہارون کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا۔ پھر فرعونیوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم قوم بن گئے۔

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے سچائی آگئی تو کہنے لگے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ جب تمہارے پاس سچائی آگئی تو اب تم کیا کہتے ہو۔ کیا یہ جادو ہے ؟ حالانکہ جادو کرنے والے تو کبھی فلاح و کامیابی نہیں پایا کرتے۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تم (دونوں) ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو جس طریقہ پر پایا تھا اس کو چھوڑ دیں اور تم دونوں کو ملک میں برتری حاصل ہوجائے اور ہم تم دونوں کو کبھی نہیں مانیں گے۔

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ میرے پاس تمام ماہر جادو گروں کو لائو

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

پھر جب جادوگر آگئے تو ان سے موسیٰ نے کہا کہ جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے (جادو کرنا ہے) وہ ڈال دو

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے جادو ڈال دیا تو موسیٰ نے کہا کہ جو کچھ تم نے جادو ڈالا ہے وہ یہ ہے بہت جلد اللہ اس جادو کہ تہس نہس کر ڈالے گا۔ بیشک اللہ فساد کرنے والوں کے عمل کو پسند نہیں کرتا

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور اللہ سچائی کو اپنے وعدے کے مطابق ثابت کر کے چھوڑے گا۔ اگرچہ یہ بات مجرموں کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ گذرے۔

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

پھر موسیٰ کی قوم میں سے کچھ لوگوں کے سوا فرعون اور اس کے سرداروں کے خوف سے کوئی ایمان نہ لایا کہ کہیں وہ کسی شدید تکلیف میں نہ پڑجائیں۔ کیونکہ فرعون زمین پر غلبہ رکھتا تھا اور بیشک (ظلم و ستم میں) حد سے گذر جانے والوں میں سے تھا۔

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم ! اگر تم اللہ پر ایمان لے آتے ہو اور اسی کے فرماں بردار ہو تو اسی پر بھروسہ کرو۔

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

پھر انہوں نے کہا کہ ہم اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اے ہمارے رب ہمیں ظالم قوم کی ہر آزمائش سے بچائے کھنا

لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 82 استکبروا (انہوں نے تکبر کیا، بڑائی کی) اجئتنا (کیا تو آیا ہے ہمارے پاس) لتلفتنا (تاکہ تو ہمیں ہٹا دے) الکبریاء (بڑائی، حکمرانی) ائتونی (آجائو، لے آئو، میرے پاس) القوا (تم ڈالو، تم پھینکو) سیطلہ (بہت جلد وہ اس کو برباد کر دے گا یحق (وہ ثابت کر دے گا) کرہ (برا سمجھا) تشریح : آیت نمبر 75 تا 82 مشرکین عرب نے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو حضرت نوح علیہ اسلام کی قوم نے ان کے ساتھ اور حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم نے کیا تھا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین عرب کے سامنے ان انبیاء کرام کے واقعات اور جو سلوک ان کی قوم نے کیا تھا سامنے رکھ کر صاف صاف فرما دیا کہ اگر اس وقت کفار اور مشرکین نے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا دامن نہیں تھا ما یعنی وہ ایمان نہیں لائے۔ ان کی اطاعت و فرماں برداری نہ کی تو ان کا انجام بھی گزشتہ قوموں سے مختلف نہ ہوگا۔ ان آیات میں حضرت موسیٰ کا وہ واقعہ بیان کیا گیا ہے جب آپ نے فرعون کے سامنے دین حق کی سچائیوں کو رکھا تو اس نے حضرت موسیٰ کی بات ماننے کے بجائے ان پر طرح طرح کے الزامات لگا دیئے۔ یہاں تک کہ آپ کے معجزات کو اس نے جادو قرار دے کر ساری مملکت کے جادوگروں سے مقابلہ کرا دیا۔ سورة اعراف، سورة شعراء اور سورة قصص میں اس واقعہ کی کافی تفصیل ارشاد فرمائی گئی ہے یہاں ایک مرتبہ پھر اس واقعہ کو مختصر کر کے بیان فرمایا گیا ہے تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہوجائے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے جب بھی حق و صداقت نکھر کر سامنے آتا ہے تو باطل اور جھوٹ مٹ جاتا ہے یا بےحقیقت ہو کر رہ جاتا ہے۔ فرعون کا اقتدار جو کئی نسلوں سے چلا آ رہا تھا حضرت موسیٰ کے زمانہ میں فرعون اقتدار کے نشے اور غرور وتکبر میں انتہا کو پہنچا وہا تھا کہ فرعون نے اپنے آپ کو ” رب اعلیٰ “ قرار دے لیا تھا، مفاد پرست درباریوں، امیروں اور وزیروں نے اس کے اس تکبر اور غرور کو اس حد تک بڑھا دیا تھا کہ جب حضرت موسیٰ نے اس کے بھرے دربار میں یہ اعلان کردیا کہ ایک بےبس انسان ” رب اعلیٰ “ نہیں ہو سکتا اور اس کو معبود کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ حضرت موسیٰ کے اس اعلان نے فرعون اور اس کے درباریوں کو ہلاک کر رکھ دیا اور اس نے وہی الزامات لگانے شروع کردیئے جو انسانوں کی گردن پر مسلط ظالم، جابر اور متکبر حکمراں کیا کرتے ہیں۔ اس نے کہا کہ موسیٰ کا مقصد صرف اس سرزمین پر اپنا اقتدار قائم کرنا ہے۔ معجزات دیکھ کر اس نے کہا کہ یہ جادو ہے اور میں اس جادو کا توڑ جادوگروں سے کرا سکتا ہوں۔ چناچہ اس نے لاتعداد جادوگروں کو بلا لیا اور انعام و اکرام کا لالچ دے کر ان سے یہ کہا کہ آج تم ایسا جادو دکھائو کہ موسیٰ بھرے دربار میں اپنی قیمت کھو بیٹھے۔ جادوگروں نے جمع ہو کر اپنے کمالات دکھانے شروع کردیئے لاٹھیاں، رسیاں اور چھڑیاں پھینکنی شروع کیں پورے دربار میں ہر جگہ محسوس ہوا جیسے سانپ ہی ساپن ہوں۔ اس کو عرف عام میں نظر بندی بھی کہتے ہیں۔ اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ بعض لوگ ایک خاص طریقہ پر محنت کر کے اپنی خیالی قوت کو اتنا مضبوط بنا لیتے ہیں کہ لوگوں کا خیال ان کے خیال اور تصور کے تابع ہوجاتا ہے۔ جب ایسا شخص کسی چیز کے خیال کو جما لیتا ہے تو ہر شخص کو وہی نظر آنے لگتا ہے جو وہ شخص چاہتا ہے۔ فرعون کے دربار میں ان جادوگروں نے اس کا مظاہرہ کیا۔ حضرت موسیٰ نے اور سب درباریوں نے اس منظر کو دیکھا تو درباری ان جادوگروں کے کمالات کے قائل ہوگئے لیکن حضرت موسیٰ نے اللہ کے حکم سے اپنے عصا کو زمین پر پھینکا تو وہ سچ مچ کا اژدھا بن گیا اور اس نے ان کے بناوٹی سانپوں کو نگلنا شروع کیا۔ اس وقت جادوگر سمجھ گئے کہ عصا کا اژدھا بن جانا جادو نہیں ہے بلکہ واقعی ایک کھلا ہوا معجزہ ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سب جادوگر اللہ کے سامنے سجدہ میں گر گئے اور وہ کفر سے توبہ کر کے ایمان کی دولت سے مالا مال ہوگئے۔ یہ واقعہ فرعون کی بہت بڑی ذلت اور توہین تھی اس نے جادوگروں کو جو صاحب ایمان ہوچکے تھے ہر طرح کی سزاؤں اور پھانسی پر لٹکا نے کی دھمکیاں دیں مگر ایمان کی خصوصیت یہ ہے کہ جب ایمان کسی کے دل میں آجاتا ہے تو اس کو سوائے اللہ کے خوف کے اور کوئی خوف نہیں رہتا۔ انسانوں کا خوف اسی وقت تک ہوتا ہے جب تک انسان ایمان کی دولت سے محروم رہتا ہے جب وہ اس نعمت کو حاصل کرلیتا ہے تو اس کی زبان سے وہی کلمات نکلتے ہیں جو اس وقت فرعون کرلیا ہے۔ “ نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت کے بعد کفار عرب نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا اور نبی مکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام پر یہ الزامات لگانے شروع کردیئے لیکن سچائی پھر سچائی ہے اور ایک وقت وہ آیا کہ ان کفار نے نبی مکرم ﷺ کے صحابہ کو ہر طرح ستایا پریشان کیا لیکن ان کے ایمان کی قوت نے ان کو اتناسربلند کیا کہ فرعون کی طرح غرور وتکبر کے نشے میں مست لوگوں کو حضور اکرم ﷺ کی عظمت کے سامنے جھکنے پر مجبور کردیا۔
Ayah 10:86

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور ہمیں اپنی رحمت کے ذریعہ کافروں کی قوم سے نجات عطا فرمائیے گا۔

لغات القرآن آیت نمبر 93 تا 86 ذریۃ (اولاد، لوگ) ان یفتھم (یہ کہ وہ کسی آزمائش یا تکلیف میں نہ پڑجائیں) عال (غلبہ وقوت رکھنے والا) المسرفین (حد سے بڑھنے والے) تو کلوا (تم بھروسہ کرو، تو کل کرو) لاتجعلنا (تو ہمیں نہ بنانا نجنا (ہم کو نجات دے ) تشریح : آیت نمبر 83 تا 86 حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص تن تنہا اتنی جرأت نہیں رکھتا کہ وہ معاشرہ کے ہر جھوٹ اور باطل سے ٹکرا جائے لیکن جب بھی حق اور سچائی کی بات کہی جاتی ہے تو کچھ سعادت مند لوگ اس سچائی کو دل سے قبول کرلیتے ہیں وہ اس کا اظہار تو نہیں کرسکتے لیکن جب ماحول سازگار ہوتا ہے تو وہ اس قلبی کیفیت کا اظہار کرتے ہیں اور پھر فوج در فوج اس تحریک کو قبول کرتے چلے جاتے ہیں۔ فرعون ایک انتہائی ظالم و جابر حکمراں تھا جس نے ظلم و ستم بربریت اور بد اخلاقی کے ہر ہتھیار کو بنی اسرائیل کے خلاف بےدریغ استعمال کیا، بین اسرائیل کی نسل کو ختم کرنے کے لئے اس نے ماؤں کی گود سے ان کے بیٹوں کو چھین چھین کر ذبح کرنا شروع کردیا، وہ لڑکوں کو ذبح کرتا تھا اور لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا۔ اس کے ظلم و ستم سے بنی اسرائیل اس قدر فوف زدہ تھے کہ اتنے بڑے ظلم و جبر کے سامنے وہ اف تک کرنے کی جرأت نہیں رکھتے تھے اور تڑپ کر رہ جاتے تھے مگر اللہ کا قانون یہ ہے کہ جب ظلم اپنی حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر اس کو مٹانے کے لئے اہل ایمان اور حق و صداقت کے پیکر صاحب کردار لوگوں کو کھڑا کر دیات ہے وہ اگرچہ بظاہر کمزور ہوتے ہیں لیکن ان کے دل میں ایمان کی روشنی سے وہ طاقت آجاتی ہے جس سے وہ بڑی سے بڑی طاقت کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔ ان کے ایمان و اخلاص کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ وہ اسباب پیدا فرما دیتا ہے جس سے ان کے راستے کی ہر رکاوٹ دور ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے اس ظلم و بربریت کے مقابلے میں حضرت موسیٰ اور ان کے بڑے بھائی حضرت ہارون کو بھیج دیا۔ حضرت موسیٰ نے ایک ہی بات فرمائی کہ ایمان ہی وہ قوت ہے جس کے ذریعے فرعون کے ظلم کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے مگر بنی اسرائیل سچائیک و ماننے کے باوجود اس قدر خوف و دہشت میں مبتلا تھے کہ وہ حضرت موسیٰ کا کھل کر ساتھ نہیں دے سکتے تھے جب فرعون کے دربار میں جادوگروں نے برملا اپنے ایمان کا اظار کیا اور انہوں نے سزا کا ہر خوف دل سے نکال کر اپنے مومن ہونے کا اعلان کیا تو فرعون اس جرأت و ہمت پر حیران رہ گیا اور پھر اس نے اور اس کے سرداروں نے بھی کھل کر ظلم کی انتہا کردی اور وہ مظالم ڈھائے جس کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے۔ حضرت موسیٰ ان صاحبان ایمان بنی اسرائیل کو ایک ہی بات سمجھاتے کہ اگر تم مومن ہو تو گھبرانے کی بات نہیں ہے۔ اللہ بہت طاقت والا ہے۔ اس کی طاقت کے سامن کسی کی کوئی طاقت و قوت نہیں ہے۔ اس پر بھروسہ کرو، وہی سننے والا اور تمہاری مدد کرنے والا ہے۔ ان اہل ایمان کا بھی یہی جواب ہوتا تھا کہ ہم اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں اور یہ دعائیں کرتے تھے کہ اے اللہ ہمارے وجود کو خیر اور سلامتی کا ذریعہ بنا دے اور ہمیں ان ظالموں کا چارہ بننے سے محفوظ فرما۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس فریاد کو سن کر ان کو وہ طاقت عطا فرمائی کہ فرعون اور اس کی خوشامدی درباری خاک میں مل گئے۔ ان آیات میں فرعون کے جس ظلم و ستم، بربریت اور انسانیت سوز حرکتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے وہیں ان آیات میں کفار عرب کو یہ اشارہ بھی دے دیا ہے کہ ایمان و اخلاص کے سامنے فرعون جیسی طاقت تباہ و برباد ہوگئی۔ اگر تم بھی فرعون کے راستے پر چلتے ہوئے نبی مکرم ﷺ اور ان کے جاں نثار صحابہ کرام پر ظلم و ستم کرو گے تو یاد رکھو یہ ظلم کی کالی رات بہت جلد ختم ہونے والی ہے اللہ پر ایمان اور تولک رکھنے والے اگرچہ خالی ہاتھ ہوتے ہیں ان کے پاس دنیاوی کوئی طاقت نہیں ہوتی لیکن وہ بڑی سے بڑی طاقت کو ملیا میٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اللہ کی سنت یہی ہے کہ وہ مظلوموں کے ذریعہ ظالموں اور ان کے ظلم کو مٹا کر چھوڑتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں اعلان نبوت کے بعد نبی مکرم ﷺ اور صحابہ کرام پر کفار و مشرکین نے جو مظالم ڈھائے اور ظلم کی انتہا کردی صحابہ کرام کے ایمان کی طاقت ایک سیلاب بن کر ان کفار کو بہا کرلے گئی اور فتح مکہ کے دن وہ ظالم اپنی سزا کے اعلان کے منتظر تھے مگر نبی مکرم ﷺ نے جو پیغمبر انسانیت ہیں یہ کہہ کر سب کو حیرت میں ڈال دیا کہ ” جائو تم سب آزاد ہو، آج تم سے کوئی انتقام اور بدلہ نہیں لیاج ائے گا۔ “ اللہ نے یہ دکھا دیا کہ بالآخر وہی لوگ کامیاب و بامراد ہوتے ہیں جو ایمان، عمل صالح اور تقویٰ پر پرہیز گاری کے پیکر ہوتے ہیں۔
Ayahs 10:87–89

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی کی طرف وحی کی تم دونوں اپنی قوم کے لئے شہر میں کوئی گھر بنا لو اور تم اپنے گھروں میں نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو اور نماز کو قائم کرو اور اہل ایمان کو خوش خبری سنا دو ۔

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

موسیٰ نے عرض کیا اے ہمارے رب آپ نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیاوی زندگی کی خوبصورتیاں اور مال و دولت سے نواز رکھا ہے۔ اے رب کیا یہ اس لئے ہے کہ وہ لوگوں کو تیرے راستے سے بھٹکاتے رہیں اے ہمارے رب ان کے مالوں کو برباد کر دے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دے کہ یہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک یہ درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی۔ تم دونوں ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کے راستے کو نہ اپنانا جو علم نہیں کھتے۔

لغات القرآن آیت نمبر 87 تا 89 اوحینا (ہم نے وحی کی) تبوا (تم دونوں ٹھکانا بنا لو، مقرر کرلو اقیموا (تم قائم کرو) زینۃ (دنیاوی زیب وزینت) سبیل (راستہ) اطمس (تباہ کر دے) اشدد (سختی کر) حتی یروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں) اجیبت (قبول کرلی گئی) دعوتکما (تم دونوں کی دعا استقیما (تم دونوں ثابت قدم رہنا ) لاتتبغن (تم دونوں پیروی نہ کرنا) تشریح : آیت نمبر 87 تا 89 جب سے حضرت موسیٰ نے اعلان نبوت فرما کر اللہ کے حکم سے کچھ معجزات دکھائے اس وقت سے فرعون کو ہر روز ذلت و روسائی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ، خاص طور پر فرعون کے بھرے دربار میں تمام جادوگروں کا اسلام قبول کر کے فرعون کے ظلم و ستم سے بےنیاز ہوجانا فرعون کی اتنی بڑی شکست تھی جس سے وہ ایک زخمی سانپ بن کر بنی اسرائیل کے ہر شخص کو تباہ و برباد کرنے پر تل گیا تھا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ بنی اسرائیل اور فرعون کی سلطنت کے کمزور ترین لو اس طرح اس کے مقابلے میں کھڑے ہوجائیں گے۔ اس کے بعد فرعون نے ظلم و ستم کی وہ انتہا کردی جس پر انسانیت بھی شرما کر رہ گئی۔ اس نے بنی اسرائیل کے ہر لڑکے کو پیدا ہوتے ہی ذبح کرنے کا حکم دے دیا اور لڑکیوں کو زندہ رہین دیا گیا تاکہ بنی اسرائیل کی نسل ہی ختم ہو کر رہ جائے۔ اس نے بنی اسرائیل کی تمام عباتگاہوں اور گھروں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تھا۔ فرعونیوں کے ان بےپناہ مظالم کے سامنے بنی اسرائیل اتنے بےبس ہو کر رہ گئے تھے کہ ہر شخص مصر سے بھاگ جانا چاہتا تھا۔ اس مایوسی میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کی طرف وحی بھیجی کہ وہ ظلم و جبر کم قابلے میں صبر و استقامت سے جمے رہیں اور قوم کو ادھر ادھر منتشر نہ ہونے دیں۔ اپنے بکھرے ہوئے شیرازے کو اکٹھا کر کے کچھ گھروں کو عبادت کے لئے مخصوص کرلیں اور ان میں نمازوں کے نظام کو قائم کریں۔ اکٹھے ہو کر نمازیں ادا کریں تاکہ سب میں اتحاد و اتفاق کی فضا پیدا ہوجائے اور اللہ پر بھروسے اور اعتماد میں اور اضافہ و ترقی ہوجائے۔ عمل کا یہی انداز ان تباہ حال بنی اسرائیل کے لئے خوش خبری سے کم نہ تھا۔ اسی لئے فرمایا کہ جب قوم اللہ پر بھروسے، عبادت ، توکل اور ایمان کی پختگی پر آجائے تو اے موسیٰ ان اہل ایمان کو ہر طرح کی کامیابیوں کی خوش خبری دیدیجیے۔ فرعون اور آل فرعن کے ظلم و ستم کو دیکھ کر حضرت موسیٰ رنجیدہ ہوگئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا الٰہی ! یہ فرعن اور اس کا ساتھ دینے والے جو دنیا کی تمام راحتوں، آرام اور دولت سے نوازے گئے ہیں ۔ ان پر ناز کرتے ہوئے انسانیت سوز مظالم کر رہے ہیں اے اللہ اگر یہ ایمان ہیں لاتے اور لوگوں کو اسی طرح گمراہ کرتے رہیں گے تو اے اللہ ! ان ظالموں کے ہاتھوں سے وہ مال و دولت چھین لے جو انسانیت پر ظلم و ستم کا ذریعہ بن رہا ہے۔ جب تک یہ ایمان نہ لائیں اس وقت تک ان پر اپنے عذاب کو مسلط کئے رکھے گا۔ اللہ تعالیٰ جو اپنے پیغمبروں کی دعاؤں کو رد نہیں کرتا اس نے فرمایا کہ اے موسیٰ تمہاری دعا قبول کرلی گئی۔ اب اس ظالم قوم سے اللہ انتقام لے گا۔ فرمایا کہ اے موسیٰ آپ اور آپ کے ماننے والے ثابت قدمی سے جمے رہیں اور وہ راستہ اختیار نہ کریں جو دوسرے لاعلم لوگوں نے اختیار کر رکھا ہے۔ ان آیات میں حضرت موسیٰ کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے چند اصولی باتیں ارشاد فرما دی گئی ہیں : 1) اپنے بڑوں اور رہبروں کا کہنا ماننا۔ 2) صبر و تحمل سے ہر ظلم و تم کا مقابلہ کرنا 3) تنظیم قائم کرنا۔ 4) بکھرے ہوئے شیرازے کو جمع کرنے کیلئے مسجدوں کا قائم کرنا۔ 5) نماز با جماعت کا اہتمام کرنا۔ 6) ہر حال میں اللہ پر ہی بھروسہ کرنا اسی سے مدد مانگنا۔ 7) عبادت و بندگی میں کوتاہی نہ کرنا۔ یہ وہ مضبوط ہتھیار ہیں جن سے اللہ و رسول کے دشمنوں کو شکست دینا بہت آسان ہے ۔ جس قوم میں اپنے بڑوں کا احترام نہ کیا جائے اور اپنے معاملات کے لئے تنظیم سے کام نہ لیا جائے اس وقت تک کسی کامیابی کا تصور ممکن نہیں ہے۔ ہر تحریک کی جانب تنظیم ہی ہوا کرتی ہے لیکن جب مضبوط اور مربوط تنظیم کے لے کوئی مرکز نہ ہو وہ تنظیم اپنا اثر نہیں دکھا سکتی۔ اہل ایمان کی تنظیم کے لئے مسجدیں بنانا اور ان میں عبادت و بندگی کے نظام کو قائم کرنا بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت موسیٰ کے واقعہ ہی میں غور کر لیجیے کہ ان مٹھی بھر مسلمانوں کا مقابلہ فرعون اس کے سرداروں اور حکومتی مظالم سے تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ صبر و ضبط اور تنظیم سے اس کا مقابلہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب مسجدیں بنا کر ان میں نمازوں کے نظام کو قائم کیا جائے۔ یہاں تک فرمایا کہ اگر فی الحال مسجدیں قائم کرنا ممکن نہ ہو تو چند گھروں کو عبادت کر لئے مخصوص کرلیا جائے تاکہ ملت کو ایک رکھنے اور ان کو ایک مرکز سے وابستہ رکھنے کی کوشش کی جاسکے۔ دراصل مساجد ہی مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ کے کافروں اور مشرکوں کے ظلم و ستم کے باوجود ”’ ار اقرم “ کو جو حضرت ارقم کا گھر تھا مسجد قرار دیا اور اس عبادت و بندگی کے نظام کو قائم فرمایا۔ جب آپ نے ہجرت فرمائی تو مدنیہ منورہ میں آپ نے مسجد قبا کو اپنا مرکز بنایا اور بہت تھوڑے عرصے میں مسجد نبوی کی بنیاد رکھ دی گی۔ پھر اسلام کے تمام نظام کی بنیاد مسجد کو بنا دی گیا۔ یہی مساجد ہماری عدالتیں فوجی چھائونیاں اور تمام معاملات کا مرکز تھیں۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ جب تک ہمارے دین کے تمام کاموں کے مرکز مساجد تھیں تو اسلام کا سیدھا سچا اور سادہ نظام اسلام کی روح کے مطابق چلتا رہا لیکن جب جین اور اس کے تمام معاملات مسجدوں سے نکل کر بلند وبالا عمارتوں اور حکومتی ایوانوں میں پہنچائے اس وقت سے رسم اذاں تو رہ گئی لیکن روح بلالی نہ رہی ” آج بھی اگر ہمیں کامیابی نصیب ہوگی تو ہمیں اسی مسجد کے نظام کی طرف لوٹنا ہوگا جس میں ہماری قوم کی زندگی اور اس کی کامیابی پوشیدہ ہے۔
Ayahs 10:90–92

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پاراتار دیا۔ پھر ان کے پیچھے فرعون اور اس کا لشکر ظلم اور زیادتی کے ارادے سے چل پڑا۔ یہاں تک کہ جب وہ غرق ہونے لگا۔ اس نے کہا کہ میں اس بات پر ایمان لے آیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں (میں بھی ایمان لاتا ہوں) اور میں فرماں برداروں میں داخل ہوتا ہوں۔

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

(اللہ نے فرمایا کہ) اب تو ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے تو سرکشی کرنے اور فساد کرنے والوں میں سے تھا

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

پس آج کے دن ہم تیری لاش کو بچائیں گے تاکہ تیرا وجود بعد کی نسل والوں کے لئے نشان عبرت بن جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگ ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 92 جاوزنا (ہم نے پارا تار دیا) البحر (سمندر، دریا) اتبع (پیچھے چلا) جنود (لشکر) بغی (زیادتی) عدو (دشمنی) ادر کہ (اس نے اس کو پا لیا) عصیت (تو نے نافرمانی کی) ننجی (ہم نجات دیں گے) خلف (پیچھے) غفلون (غفلت کرنے والے، پروانہ کرنے والے) تشریح :- آیت نمبر 90 تا 92 اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول اپنی امت کے خیر خواہ بن کر تشریف لاتے ہیں جن کا کام ہی یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو جو دنیا کی چمک دمک کر تکبر اور غرور کا پیکر بن جاتے ہیں ان کو راہ راست پر لائیں۔ ان کو وہ راستہ دکھائیں جس پر چل کر وہ نجات کی منزل تک پہنچ جائیں۔ لیکن جب کفر، شرک، فسق و فجور ضد اور ہٹ دھرمی اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ ان کی اصلاح ممکن ہی نہ رہے تب انبیاء کرام اللہ کی بارگاہ میں آنے والی نسلوں کو بچانے کے لئے یہ درخواست کرتے ہیں کہ اے اللہ اب ایسا لگتا ہے کہ ان کے غرور تکبر اور کفر و شرک میں ڈوب جانے کی وجہ سے ان کی اصلاح ممکن نہیں ہے لہٰذا آپ ان پر اپنا فیصلہ نافذ فرما دیجیے۔ اللہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی دعا کو قبول کر کے اپنی مشیت کے مطابق اپنا عذاب اس قوم پر مسلط کردیتا ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے زمانہ میں بھی یہی ہوا کہ وہ قوم کی اصلاح کے لئے جدوجہد اور کوشش فرماتے رہے اور یہ بتاتے رہے کہ فرعون اور قوم فرعون جس طرح بنی اسرائیل پر ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں اگر وہ باز نہ آئے تو ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا مگر فرعون اور اس کی قوم اپنی حرکتوں اور سازشوں سے باز نہ آئی۔ جب فرعون اور سا کے متکبر سرداروں کا ظلم و ستم اپنی حدوں کو پار کر گیا تب حضرت موسیٰ نے یہ دعا فرما دئی کہ اے اللہ ! آج فرعون اور اس کے لشکری دولت و اقتدار کے نشے میں اندھے بن چکے ہیں وہ غرور تکبر کے اس مقام تک پہنچ چکے ہیں جہاں وہ خود بھی گمراہ ہوچکے ہیں اور دوسروں کو بھی راہ حق سے بھٹکا کر گمراہ کر رہے ہیں اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایمان کی دولت سے محروم رہیں گے اے اللہ ! ان کے وہ مال و دولت جن کی وجہ سے یہ لوگ ہر طرح کے ظلم و ستم کر رہے ہیں یہاں تک کہ ماؤں کی گود سے ان کے معصوم بچوں کو چھین کر ذبح کر رہے ہیں اے اللہ ! ان کے مال و دولت کو تباہ و برباد کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی مہریں لگا دے جن سے ان کو ایمان لانا نصیب ہی نہ ہو حضرت موسیٰ اس نافرمان قوم کے لئے بد دعا فرما رہے تھے اور حضرت ہارون آمین کہتے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ اے موسیٰ و ہارون تمہاری دعا قبول کرلی گی لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی فرما دیا گیا کہ تم دونوں اپنے اس سچے اور نیک مشن اور مقصد میں لگے رہو اور ان نادانوں کی طرح نہ ہوجانا جو ہر کام میں جلدی کرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کے لئے یہ حکم آگیا کہ تم دونوں بنی اسرائیل کو مصر سے فلسطین کی طرف لے کر کوچ کر جائو۔ چناچہ اشارہ الٰہی ملتے ہی حضرت موسیٰ تمام قوم بنی اسرائیل کو لے کر روانہ ہوگئے ہیں تو اس کو یہ فکر لاحق ہوگئی کہ اب مملکت اور اس کے نظام کا کیا ہوگا کیونکہ ان ہی کی بناادوں پر تو حکومت کا کاروبار چل رہا تھا۔ اس نے فوری طور پر ایک بہت بڑا لشکر ترتیب دیا اور اپنی پوری قوت و طاقت کے ساتھ اس طرف روانہ ہوگیا جس راستے سے بنی اسرائیل فلسطین کی طرف رواں دواں تھے۔ کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو بحر قلزم کی طرف سے لے کر جا رہے تھے۔ جب سمندر کے کنارے پہنچ گئے تو فرعون بھی بڑی تیزی سے قوم بنی اسرائیل کے قریب پہنچ گیا۔ اب قوم بنی اسرائیل گھبرا گئی کہ آگے بڑھتے ہیں تو سمندر، رکتے ہیں تو فرعون کا لشکر ان کو کچلنے کے لئے سر پر پہنچ گیا ہے اس وقت ان کو چاروں طرف سے اپنی موت نظر آرہی تھی۔ حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے یہی فرمایا کہ صبر سے کام لو جس اللہ کے حکم سے ہم سب نکلے ہیں وہی کوئی راستہ نکالے گا چناچہ اللہ کی طرف سے حکم آیا کہ اے موسیٰ اپنا عصا پانی پر ماریئے چناچہ جیسے ہی حضرت موسیٰ نے اپنے عصا کو پانی پر مارا سمندر کا پانی دیواروں کی طرح کھڑا ہوگیا اور درمیان سے راستہ بن گیا جس سے گذر کر سہولت کے ساتھ دوسرے کنارے پر پہنچا جاسکتا تھا۔ چونکہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے تو اللہ نے سمندر میں بارہ ہی راستے بنا دیئے جن سے بنی اسرائیل کا ہر خاندان بغیر کسی دشواری کے دوسرے کنارے پر پہنچ گیا۔ ادھر فرعون اور اس کا زبردست لشکر جب سمندر کے کنارے پہنچا اور اس نے سمندر میں راستوں کو دیکھا تو وہ خود اور اس کا لشکر بھی سمندر کے ان راستوں میں اتر گیا۔ لیکن اللہ کا حکم آتے ہی سمندر پھر اپنی اصلی حالت پر آگیا اور فرعون کا پورا لشکر اس پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا۔ جب فرعون نے موت کو سامنے پایا تب اس کی زبان پر یہ جملہ آگیا ” سچا معبود تو وہی ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اب میں بھی اس معبود پر ایمان لاتا ہوں اور میں اللہ کے فرماں برداروں میں شامل ہوتا ہوں “ اس وقت اللہ کی طرف سے فرشتوں کے ذریعہ یہ جواب دیا گیا کہ اے فرعون ! تو اب ایمان لاتا ہے ؟ جب کہ موت کے فرشتے تیرے سامنے کھڑے ہیں۔ تیری پوری زندگی تو غفلت، نادانی اور کفر و شرک میں گذری ہے اب موت کو سامنے دیکھ کر تجھے اللہ یاد آگیا۔ فرمایا کہ ہمارا قانون یہ ہے کہ جب موت کا فرشتہ سامنے آجائے تو پھر کسی کی دعا اور توبہ قبول نہیں کی جاتی۔ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب تک موت کے فرشتے یا اللہ کا عذاب سامنے نہ آجائے اس وقت تک توبہ قبول کی جاتی ہے۔ اگر کوئی اس سے پہلے توبہ کرلے تو ممکن ہے اس کی مغفرت کا سامان ہوجائے۔ لکنئ وقت گذرنے کے بعد یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی کی توبہ قبول کی جائے۔ چونکہ فرعون نے ڈوبنے سے پہلے معافی مانگ لی تھی تو اس کی توبہ تو قبول نہیں ہوئی البتہ دنیا میں عبرت و نصیحت کے لئے اس کے بدن کو باقی رکھنے کا وعدہ فرمایا گیا تاکہ دنیا دیکھ لے کہ موت اور حیات سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہے زندگی دے جس کو چاہے موت دے جس کے بدن کو چاہے مچھلیوں کی غذا بنا دے اور جس کے بدن کو باقی رکھنا چاہے باقی رکھے۔ چنانچہ فرعون کو بھی اس پانی میں ڈبو دیا گیا لیکن اس کی لاش کو سمندر کے کنارے پھینک دیا۔ جب قوم فرعون نے فرعون کی لاش کو دیکھا تو وہ بہت شرمندہ ہوئے اور انہوں نے شرمندگی سے بچنے کے لئے فرعون کی لاش کو کچھ مصالحے لگا کر چھپا دیا کیونکہ مصریوں کو ایسے مصالحوں کا علم تھا جس سے وہ لاشوں کو باقی رکھ سکتے تھے۔ چناچہ انیسویں صدی میں جب مصر میں آثار قدیمہ کی کھدائی کی گئی تو ان دونوں فرعونوں کی لاشیں نکلیں جو حضرت موسیٰ کے زمانے کے فرعون تھے گویا اللہ تعالیٰ کی پیشین گوئی جو قرآن کریم میں موجود ہے برسوں کے بعد ساری دنیا کے سامنے ظاہر ہو کر رہی۔ انگلینڈ اور مصر کے عجائب گھروں میں ان فرعونوں کی لاشیں موجود ہیں جن کو دیکھا جاسکتا ہے۔ کئی سال پہلے جب میں مصر گیا تو مصر کے عجائب گھر میں میں نے اپنی آنکھوں سے ” فرعونوں کی اس ممی “ کو دیکھا جو دنیا کے سامنے عبرت کا نشان ہے۔ ان لاشوں کو دیکھ کر یہ احساس پوری طرح زندہ ہوجاتا ہے کہ واقعی انسان انتہائی بےبس ہے۔ اس کا اپنے وجود پر بھی اختیار نہیں ہے مگر وہ دنیا کی وقتی چمک دمک اور دولت کی ریل پیل میں اتنا گم ہوجاتا ہے کہ اس میں تکبر اور غرور کی بری عادتیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ فرعون اور اس کے ماننے والے جو اپنے غرور تکبر میں حد سے گزر چکے تھے اللہ کے فیصلے کے سامنے وہ کچھ نہ کرسکے اور بالآخر ذلت کی موت سے دوچار ہوئے۔ اللہ کا قانون یہی ہے کہ وہ ان سروں کو کچل دیتا ہے جن میں غرور تکبر اپنی انتہا کے ساتھ بھر جاتا ہے۔ ان آیات کے مطالعہ کے بعد چند سوالات جو ذہنوں میں ابھرتے ہیں ان کے جوابات پر بھی غور کرلیا جائے۔ 1) حضرت موسیٰ جو اللہ کے جلیل القدر اور محبوب پیغمبروں میں سے ہیں اور بھٹکے ہوئے انسانوں کی اصلاح کے لئے تشریف لائے تھے بیشک وہ فرعون اور اس کی قوم کے لوگوں سے مایوس تھے مگر کیا اللہ کے ایک پیغمبر کی یہ شان ہوسکتی ہے کہ وہ جن کی اصلاح کے لئے تشریف لائیں ان ہی کے لئے بد دعا فرمائیں ؟ 2) فرعون کے بدن کو کیوں محفوظ رکھا گیا اس میں بظاہر اللہ کی کیا مصلحت ہے ؟ 3) فرعون تو مصر کے ایک حکمران خاندان کا لقب تھا۔ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں جو فرعون تھا اس کا کیا نام تھا ؟ ان تینوں سوالوں کا جواب ترتیب دار عرض ہے : 1) انبیاء کرام بلاشک و شبہ اس قوم کے خیر خواہ اور مخلص ہوتے ہیں جن کی طرف وہ بھیجے جاتے ہیں اور وہ زندگی کے آخری لمحے تک اپنے اس مشن اور مقصد میں لگے رہتے ہیں لیکن قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب قوم کی اصلاح و تبلیغ کرنے کے باوجود غرور، تکبر، ضد اور ہٹ دھرمی پر وہ قوم جم جاتی ہے اور ان کی اصلاح کی کوئی امیدن ہیں رہتی تب انبیاء کرام کے ہاتھ اس بددعا کے لئے اٹھ جاتے ہیں کہ اے اللہ ! اب بظاہر اس قوم کی اصلاح کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اب آپ فیصلہ فرما دیجیے۔ اور اللہ اپنے نبیوں کی دعا کو رد نہیں فرماتا اور اس طرح اس قوم پر عذاب نازل ہوجاتا ہے سوائے اس کے کہ وہ پوری قوم عذاب آنے سے پہلے توبہ کرلے تو پھر عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے جیسے حضرت یونس کی قوم کو جب اس بات کا پوری طرح اندازہ ہوگیا کہ حضرت یونس شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں اور عذاب آنے ہی والا ہے تب پوری قوم نے سچے دل سے توبہ کی اور اس طرح اللہ کا وہ عذاب جو قوم یونس کو تباہ و برباد کردیتا وہ ان سے ان کی توجہ کی وجہ سے ٹل گیا۔ حضرت نوح نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی امت کی اصلاح کرنے کی کوشش کی مگر وہ قوم اپنے کافرانہ کردار سے باز نہیں آئی تب حضرت نوح نے بد دعا فرمائی اور پھر وہ طوفان آیا جس میں سوائے ان لوگوں اور جانداروں کے جو سفینہ نوح میں تھے روئے زمین کا ہر فرد غرق کردیا گیا۔ دراصل ان آیات میں کفار عرب کو یہ بات بتائی جا رہی ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ وہ اپنے کفر و شرک اور غرور تکبر سے توبہ کرلیں ورنہ ایسا نہ ہو کہ رحمتہ للعالمین ﷺ تمہارے لئے بد دعا کے لئے ہاتھ اٹھاویں اور تم تباہ و برباد ہو کر رہ جائو۔ نبی مکرم ﷺ پر امت کے لئے رحم و کرم کا وہ جذبہ غالب تھا کہ آپ نے نادانوں کی ہر بات کو برداشت فرمایا اور کبھی کسی کے لئے بد دعا نہیں فرمائی۔ لیکن اگر آپ چاہتے تو بد دعا فرما سکتے تھے مگر اللہ نے آپ کو سراپا رحمت بنا کر بھیجا تھا اور آپ قیامت تک پوری امت اور دنیا بھر کے لئے رحمت ہی رحمت ہیں۔ 2) دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ اللہ کا یہ نظام ہے کہ وہ اس کائنات میں جس طرح چاہتا ہے کرتا ہے کسی کو فنا کے گھاٹ اتار دیتا ہے اور کسی کو عبرت کے لئے باقی رکھتا ہے۔ فرعون کے بدن کو باقی رکھا گیا تاکہ آنے والے لوگ یہ دیکھ لیں کہ وہ لوگ جو مال و دولت، اقتدار، فوج اور اولاد کی کثرت کے گھمنڈ اور غرور تکبر میں مست رہ کر اپنے سے بڑا کسی کو نہیں سمجھتے ان کی حیثیت اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے۔ لہٰذا تکبر کا سر ہمیشہ نیچے کردیا جاتا ہے۔ فرمایا گیا کہ اللہ کو عاجزی اور انکساری بہت پسند ہے لیکن غرور تکبر سخت ناپسند ہے۔ آج بھی جو شخص فرعون کے راستے پر چلے گا اس کا انجام فرعون سے مختلف نہیں ہوگا۔ لیکن جو شخص نبی مکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کی جیسی زندگی اختیار کرے گا اس کو دین و دنیا کی تمام بھلائیاں عطا فرمائی جائیں گی۔ 3) تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم میں فرعون کا ذکر تو فرمایا گیا لیکن حضرت موسیٰ کے زمانہ میں کونسا فرعون تھا اس کا نام نہیں لیا کیونکہ اس کی ضرورت بھی نہ تھی۔ اصل میں تو اس کردار کو سامنے لایا گیا ہے جس کا انجام برا رہوا۔ عبرت و نصیحت کے لئے یہی کافی ہے۔ البتہ معلوماتی اعتبار سے اس سلسلہ میں چند باتیں سامنے رہیں تو اچھا ہے۔ فراعنہ مصر کا خاندان تقریباً تین ہزار سال سے مصر پر حکمرا تھا اور ہر وہ شخص جو اس تخت پر بیٹھتا تھا اس کو فرعون کہا جاتا تھا حضرت موسیٰ کے زمانہ میں دو فرعون گذرے ہیں جن کے نام تاریخ میں آتے ہیں ایک رعمسیس تھا جس کے محل میں حضرت موسیٰ کی پرورش ہوئی۔ اس کے مرنے کے بعد رعمسیس کا بیٹا اس تخت پر بیٹھا اس کا نام منفتاح تھا جو اس کا جانشین تھا جس کے دربار میں حضرت موسیٰ نے عصا کا معجزہ دکھایا اور تمام جادوگروں نے اس سچائی کو دیکھ کر جادو سے توبہ کی اور حضرت موسیٰ کی تعلیمات کو قبول کر کے اللہ پر ایمان لے آئے۔ فرعون کے ڈرانے اور دھمکانے کے باوجود یہ راہ سے نہ ہٹے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسی ایمانی راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور گمراہوں کے ہر راستے سے محفوظ فرمائے۔ (آمین)