23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 23:81

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

بات یہ ہے جو اگلے (کافر) کہتے تھے، اسی طرح کی (بات یہ) کہتے ہیں۔

81۔ بل قالو مثل ماقال الاولون۔ انہوں نے جھٹلایا جیسے کہ پہلوں نے جھٹلایا۔
Ayah 23:82

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے اور استخوان (بوسیدہ کے سوا کچھ) نہ رہے گا تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے ؟

82۔ قالواء اذامتنا وکناترابا وعظاماء انا لمبعوثون۔ ہم ان کو جمع کریں گے یہ سوال انکاری بطور تعجب کے ہے۔
Ayah 23:83

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

یہ وعدہ ہم سے اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی ہوتا چلا آیا ہے (اجی) یہی تو صرف اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

83۔ لقد وعدنا نحن وآباء نا ھذا۔ وعدہ جو ہم نے تم سے پہلے اگلوں سے کیا تھا۔ من قبل ، ان لوگوں کے وہم کے مطابق یہ کہتے تھے کہ ہم سے پہلے ہمارے بڑوں سے بھی یہ وعدہ چلاآرہا ہے یہ کچھ نہیں محض بےسند باتیں ہیں اس کی کوئی حقیقت نہیں ، ان ھذا الااساطیرالاولین، پہلوں کی من گھڑت کہانیاں ہیں۔
Ayah 23:84

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب کس کا مال ہے ؟

84۔ قل، اے محمد آپ اہل مکہ کو جواب دیتے ہوئے کہہ دیجئے، لمن الارض ومن فیھا، مخلوقات میں سے، ان کنتم تعلمون، اگر تم اس کی پیدائش اور ملکیت کے بارے میں جانتے ہو۔
Ayahs 23:85–86

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

جھٹ بول اٹھیں گے کہ خدا کا کہو پھر سوچتے کیوں نہیں

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ سات آسمانوں کا مالک کون ہے ؟ اور عرش عظیم کا (کون) مالک (ہے)

85۔ سیقولون للہ۔ اور یہ بات ان کے لیے کہنا لازمی ہے کیوں کہ وہ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی مخلوق ہیں۔ قل ، جب وہ اس بات کا اقرار کریں، تو اس وقت آپ ان سے کہہ دیں۔ افلاتذکرون، وہ یہ جانتے ہیں کہ جوان سب کو پہلی مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ مرنے کے بعددوبارہ ان کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔
Ayah 23:87

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

بےساختہ کہ دیں گے کہ یہ (چیزیں) خدا ہی کی ہیں کہو کہ پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

87۔ سیقولون للہ۔ عام قراء نے للہ پڑھا ہے اور اہل بصرہ نے اسکو اللہ پڑھا ہے۔ اس طرح اہل بصرہ اور دوسرے تمام مصاحف میں الف کے ساتھ لکھا ہے ، قل افلاتتقون، اور تم ڈرتے ہو۔
Ayah 23:88

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

کہو اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اسکے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا ؟

88۔ قل من بیدہ ملکوت کل شئی۔ ملکوت کا معنی ہے حکومت، عزت، غلبہ، ملکوت میں واؤ اور تاء مبالغہ کے لیے ہے وھویجیر ، وہ جس کو چاہتا ہے برائی سے بچاتا ہے۔ ولایجار علیہ، اور جس کو اللہ پناہ نہ دے اور اس کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا، اللہ جس کو دکھ پہنچانا چاہے تو اس کو دکھ پہنچنے سے کوئی بچا نہیں سکتا، اور کوئی شخص اللہ کو ضرر پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ان کنتم تعلمون، اس کا معنی یہ ہے کہ تم اگر جانتے ہو تو پھر جواب دو ۔
Ayah 23:89

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

فوراً کہہ دیں گے کہ (ایسی بادشاہی تو) خدا ہی کی ہے تو کہو پھر تم پر جادو کہاں سے پڑجاتا ہے

تفسیر۔ 89۔ سیقولون للہ قل فانی تسحرون، وہ اس بارے میں دھوکہ دیتے ہیں اور اللہ کی توحید اور اس کی اطاعت میں اصراف کرتے ہیں یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ توپھرتم حق کو باطل کس طرح خیال کرتے ہو۔
Ayah 23:90

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے پاس حق پہنچا دیا ہے اور جو (بت پرستی کئے جاتے ہیں) بیشک جھوٹے ہیں

90۔ بل اتیناھم بالحق۔ حق سے مراد صدق ہے۔ وانھم لکاذبون ، جو یہ لوگ ہمارے بارے میں شرک اور ولد کے بارے میں دعوی کررہے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہیں۔
Ayah 23:91

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

خدا نے نہ تو (اپنا) کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اسکے ساتھ کوئی اور معبود ہے ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لے کر چلتا اور ایک دوسرے پر غالب آجاتا یہ لوگ جو کچھ (خدا کے بارے میں) بیان کرتے ہیں خدا اس سے پاک ہے

91۔ ماتخذاللہ من ولد وماکان معہ من الہ، وہ شریک سے پاک ہے۔ اذالذھب کل الہ بماخلق، اس نے مخلوقات کو اکیلے میں پیدا کیا، اللہ تعالیٰ اس بات پر راضی نہیں کہ اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا جائے اور اللہ تعالیٰ اس بات سے بےنیاز ہیں کہ ان کا کوئی مددگار ہو مخلوقات کے پیدا کرنے میں۔ ولعلا بعضھم علی بعض ، بعض لوگ بعض پر غلبہ پاتے ہیں جیسا کہ دنیاوی بادشاہوں کا طریقہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس سے برات کی ہے۔ سبحان اللہ عمایصفون۔
Ayah 23:92

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

وہ پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے اور (مشرک) جو اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں اسکی شان اس سے بلند ہے۔

92۔ عالم الغیب والشھادۃ۔ اہل مدینہ کوفہ نے عالم کے میم پر ضمہ پڑھا ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے۔ دوسرے قراء نے مجرور پڑھا ہے ۔ اس صورت میں یہ صفت ہوگی، ماقبل آیت، سبحان اللہ عمایصفون۔ سے فتعالی عمایشرکون۔ ان چیزوں کی تعظیم کرتے ہیں وہ جن کو وہ لوگ شریک ٹھہراتے ہیں ۔ اس آیت کا معنی ہے کہ وہ لوگ جس صفت کے ساتھ موصوف کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے کہیں بلند وبالا ہے۔
Ayah 23:93

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ کہو کہ اے پروردگار جس عذاب کا ان (کفار) سے وعدہ ہوا ہے اگر تو میری زندگی میں ان پر نازل کر کے مجھے دیکھائے

93۔ قل رب اماترینی مایوعدون۔ اگر وہ عذاب مجھے دکھاوے جوان لوگوں کے ساتھ عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے۔
Ayah 23:94

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تو اے پروردگار مجھے (اس سے محفوظ رکھیے اور) ان ظالموں میں شامل نہ کیجیو

94۔ رب، اے میرے رب۔ فلاتجعلنی فی القوم الظالمین، ان کے ہلاک ہونے کے ساتھ مجھے نہ ہلاک کردینا۔
Ayah 23:95

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

جو وعدہ ہم ان سے کر رہے ہیں ہم تم کو دکھا کر ان پر نازل کرنے پر قادر ہیں

95۔ واناعلی ان نریک مانعدھم ، ان کو عذاب کے وقت ، ، لقادرون۔
Ayah 23:96

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

اور بری بات کے جواب میں ایسی بات کہو جو نہایت اچھی ہو اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے

96۔ ادفع بالتیھی احسن، سب سے اچھی خصلت سے مراد ہے درگزر کرنا، رخ پھیرلینا، صبر کرلینا، اور بھلائی کرنا۔ ” السئیہ، ان کی برائی پر یعنی ان کی برائی کے مقابلے میں اپنی طرف سے ان کے ساتھ بھلائی کرو۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اذیت پر مومنون کو صبر کرنے اور ان کے ساتھ قتال کرنے سے روکنایہ آیت سیف سے منسوخ ہے۔ نحن اعلم بمایصفون ، وہ اس کو جھٹلاتے ہیں اور وہ اس سے شرک کرتے ہیں۔
Ayah 23:97

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور کہو کہ اے پروردگار ! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں

97۔ وقل رب اعوذبک، ان کو مجھ سے روک دے اور ان کے شر سے بچا۔ من ھمزات الشیاطین، ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد شیطان کے دھوکے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد وساوس شیطان ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ ان کا پھونکنا، اہل معانی نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ ان کو معاصی کی طرف اغوا کرلینا۔ ھمز، اصل میں کسی چیز کی سختی کے لیے بولاجاتا ہے یا اس کو معنی ہے زور سے دھکا دینا۔
Ayah 23:98

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور اے پروردگار ! اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں

98۔ واعوذبک رب ان یحضرون، اور میں اپنے امور میں ان سے پناہ طلب کرتا ہوں۔ یہاں (حضور) کا لفظ ذکر کیا مطلب یہ ہے کہ شیطان جب بھی حاضر ہوتا ہے تو وہ وسوسہ ڈالتا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کفار کے متعلق خبر دی جو بعث کے منکر ہیں وہ موت کے وقت دنیا میں واپس لوٹنے کا سوال کریں گے۔
Ayah 23:99

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

(یہ لوگ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی تو کہے گا اے پروردگار ! مجھے پھر (دنیا میں) واپس بھیج دے

تفسیر۔ 99۔ حتی اذاجاء احدھم الموت قال رب ارجعون، ارجعنی نہیں کہا، عرب کی عادت یہ تھی کہ جب وہ رب کو پکارتے تو واحد کا صیغہ ذکر کرتے اور کبھی کبھار واحد کے صیغہ کو جمع کے ساتھ تعظیم کرنے کی وجہ سے ذکر کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے، انانحن نزلناالذکر وانالہ لحافظون، اور اسی طرح قرآن میں بہت ساری جگہوں پر واحد کے صیغہ کو جمع کے ساتھ ذکر کیا ہے بعض حضرات کا قول ہے کہ رب اور روح قبض کرنے والے ملائکہ سب کو خطاب ہے۔ اول سب کو مخاطب بنایا کیونکہ فریاد اصل میں اس سے کی، پھر ملائکہ سے درخواست کی کہ وہ دنیا میں پھر لوٹادیں۔
Ayah 23:100

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں ہرگز نہیں یہ ایک ایسی بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہوگا اور (اسکے ساتھ) عمل نہیں ہوگا اور ان کے پیچھے برزخ ہے (جہاں وہ) اس دن تک کہ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے (رہیں گے )

100۔ لعلی اعمل صالحا فیماترکت۔ کہ میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان لاالہ الا اللہ کو ضائع کردیا۔ بعض نے کہا کہ اللہ کی اطاعت کروں گا اور اعمال صالحہ کروں گا، قتادہ کا قول ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال اور اپنے خاندان کی طرف جانے کی تمنا نہیں کرے گا۔ ارونہ ہی مال جمع کرنے اور نفسانی شہوات کو پورا کرنے کی وجہ سے وہ تمنا نہیں کرے گا، بلکہ اس کی تمنا صرف یہی ہوگی کہ وہ اللہ کی اطاعت کے مطابق عمل کرے گا، اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم کرے جو ای سے عمل کی تمنا کرے جس کی کافر کررہا ہے جب وہ رب کے عذاب کو دیکھ لیتا ہے۔ کلا، یہ کلمہ ردع اور زجر کے لیے ہے۔ یعنی اس کی طرف نہیں لوٹایاجائے گا۔ انھا اس کے لوٹنے کا سوال ، کلمہ ھوقائلھا، وہ اس مراد کو نہیں پہنچ سکتا۔ ومن وراء ھم برزخ، اس کے سامنے اور اس کے پیچھے ایک آڑ ہے۔ الی یوم یبعثون، برزخ دوچیزوں کے درمیان رکاوٹ وحائل ہے اس کے معنی آئمہ مفسرین کا اختلاف ہے۔ مجاہد نے کہا کہ ان لوگوں کے اور واپسی کے درمیان حجاب ہے قتادہ کا بیان ہے برزخ سے مراد ہے دنیا کی باقی عمر، ضحاک کا قول ہے کہ اس سے مراد برزخ ہے موت سے قیامت تک کی مدت، بعض نے کہا کہ برزق سے مراد قبر ہے۔
Ayahs 23:101–103

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو نہ تو ان میں قرابتیں رہیں گی اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

تو جن کے (عملوں کے) بوجھ بھاری ہوں گے وہ فلاح پانے والے ہیں

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کے بوجھ ہلکے ہوں گے وہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تیئیں خسارے میں ڈالا ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

101۔ فاذا نفخ فی الصور فلاانساب بینھم، اس نفخہ کے متعلق مفسرین آئمہ کے مختلف اقوال ہیں۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے کہ صور پھونکنے جانے سے مراد اس جگہ پہلانفخہ صور ہے جس کے متعلق ارشاد ہے۔ ونفخ فی الصور ، ،۔۔۔ پھر دوسرا نفخہ صور پھونکاجائے گا، اس وقت سب کھڑے کھڑے دیکھ رہے ہوں گے اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے سوال کریں گے۔ ابن مسعود نے فرمایا قیامت کے دن بندے یابندی کا ہاتھ پکڑ کر علی الاعلان سب اگلوں اور پچھلوں کے سامنے کھڑا کیا جائے گا، اور ایک منادی ندا دے گا، یہ فلاں بن فلاں ہے۔ اس کی طرف کسی کا حق ہو تو وہ اپنا حق لینے آجائے۔ اس وقت جس شخص کا اپنے باپ یا بیٹے یابی بی یا بھائی پر کوئی حق ہوگا وہ خوش ہوگا، اور اپناحق وصول کرے گا، اس کے بعد حضرت ابن مسعود نے آیت فلاانساب پڑھی۔ عطاء کی روایت میں ہے حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول بھی آیا ہے کہ اس جگہ نفخہ سے مراد دوسرانفخہ ہے۔ ” فلاانساب بینھم، یعنی دنیا میں شرافت نسب پر ایک دوسرے پر فخر کرتے تھے۔ قیامت کے دن کوئی کسی پر نسبی فخر نہیں کرسکے گا، اور نہ ہی تو اصل والا سوال ایک دوسرے سے کرے گا۔ جیسا کہ دنیا میں ایک دوسرے سے سوال کرتے تھے کہ تو کون ہے تمہار کس قبیلہ سے تعلق ہے۔ دوسوال اور انکے جوابات۔ سوال : حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن تمام رشتے خواہ سببی ہوں یانسبی سب منقطع ہوجائیں گے آپ نے فرمایا میرے نسبی اور سسرالی رشتہ کے علاوہ ؟۔ جواب : بعض حضرات نے اس کا جواب دیا ہے کہ قیامت کے دن کوئی ذریعہ اور نسب سود مند نہیں ہوگا، سوائے رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ اور نسبت کے یعنی سوائے قرآن اور ایمان کے۔ سوال : اس آیت میں فرمایا کہ ولایتساء لون، جبکہ دوسری آیت میں ارشاد فرمایا ، واقبل بعضھم علی بعض یتساء لون ؟ جواب : حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ قیامت کے احوال اور مواقع مختلف ہوں گے کسی مقام پر تو اتناخوف طار ی ہوگا کہ کوئی کسی کونہ پوچھے گا اور بعض مواقع ایسے بھی ہوں گے کہ ذرا افاقہ اور سکون ہوگا۔ اس وقت ایک دوسرے کی حالت دریافت کرے گا۔
Ayah 23:104

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

آگ ان کے مونہوں کو جھلس دے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھائے ہوں گے

تفسیر۔ 104۔ تلفح وجوھھم النار، ان کو جھلسادے گا۔ بعض نے کہا کہ آگ ان کو جلادے گی، وھم فیھاکالحون ، ان کی شکلیں بگڑ جائیں گی ، حضرت ابوسعید سے روایت ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا، وھم فیھاکالحون، کہ آگ ان کو بھون ڈالے گی کہ اوپر کا ہونٹ بالائی جانت کو اتنا اٹھ جائے گا کہ سر کے وسط تک پہنچ جائے گا اور نچلا ہونٹ اتنالٹک جائے گا کہ ناف سے جا کے لگ جائے گا۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ کافر کے جسم کی چوڑائی سات رات چلنے کے بقدر ہوگی۔ پس اس کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی اور ان کے ہونٹ ایسے ہوں گے جیسے پکی ہوئی سری جس کے دانت باہر نکل آئے ہوں اور ہونٹ سکڑ گئے ہوں اور وہ کالے رنگ کے قبیح شکل والے ہوں گے۔
Ayah 23:105

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟ (نہیں) تم ان کو سنتے تھے (اور) جھٹلاتے تھے

105۔ الم تکن آیاتی تتلی علیکم، اس قرآن کے ذریعے ہم تمہیں ڈراتے ہیں۔ فکنتم بھاتکذبون۔
Ayah 23:106

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ہم پر ہماری کم بختی غالب ہوگئی اور راستے سے بھٹک گئے

106۔ قالواربناغلبت علینا شقوتنا، حمزہ اور کسائی نے شقاوتنا ، پڑھا ہے شین کے فتحہ کے ساتھ ، اس میں دونوں لغات جائز ہیں یعنی ہم نے تمہارے لیے بدبختی لکھ دی۔ پس تمہیں کوئی ہدایت نہیں دے گا۔ وکناقوماضالین، ہدایت سے بہرور ہیں۔
Ayah 23:107

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے پروردگار ! ہم کو اس میں سے نکال دے اگر ہم پھر (ایسے کام) کریں تو ظالم ہوں گے

107۔ ربنااخرجنا منھا، اس آگ سے فان عدنا ، اگر ہم دوبارہ اس کی طرف لوٹے۔ فاناظالمون۔
Ayah 23:108

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو

108۔ قال اخسوا ، دور ہوجاؤ، فیھا جیسا کہ کتے کو دور کرنے کے وقت کہاجاتا ہے۔ اخسوا ، در، ولاتکلمون ، اور جو عذاب ہم نے تم پر کیے ہیں ان عذاب کو دور کرنے کی بات مت کرو، یہ عذاب تم سے کبھی کم نہیں کیا جائے گا، اس کلام کے بعد وہ ہر قسم کی امید سے ناامید ہوجائیں گے اور ہمیشہ کے لیے مایوس ہوجائیں گے۔ دوزخیوں کی پکارداروغہ جہنم کا جواب۔ حسن کا قول ہے کہ دوزخیوں سے یہ آخری کلام ہوگا، اس کے بعد وہ کلام نہ کرسکیں گے سوائے دم گھٹنے اور آہیں بھرنے کے اور کوئی بات نہ کرسکیں گے کتوں کی طرح بھونکیں گے نہ خود بات سمجھیں گے نہ اپنی بات سمجھاسکیں گے حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ کہ دوزخی مالک کو پکاریں گے اور کہیں گے مالک۔ جہنم کا داروغہ چالیس سال ان کا جواب نہیں دے گا۔ پکاریں اور کہیں گے ، ربنااخرجنا منھا فان عدنا فاناظالمون۔ اللہ ان کو دنیا کی مدت سے دگنی مدت تک کوئی جواب نہیں دے گا، یوں ہی پڑا رہنے دے گا اس مدت کے بعد جواب دے گا تو فرمائے ، اخسوا فیھاولاتکلمون، اس وقت وہ بالکل مایوس ہوجائیں گے اور کوئی بات نہیں کرسکیں گے سوائے دم گھٹنے اور گرگڑ کرنے کے ایک کلمہ بھی ان کے منہ سے نکل نکلے گا ۔ قرطبی کا قول ہے کہ جب ان سے ، اخسوا فیھاولاتکلمون، کہاجائے گا توان کی ساری امیدیں کٹ جائیں گی اور ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے بھونکیں گے اس وقت دوزخ اوپر سے بند کردی جائے گی۔
Ayahs 23:109–110

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

میرے بندوں میں ایک گروہ تھا جو دعا کیا کرتا تھا کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لائے تو تو ہم کو بخشدے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تو تم ان سے تمسخر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پیچھے میری یاد بھی بھول گئے اور تم (ہمیشہ) ان سے ہنسی کیا کرتے تھے

تفسیر۔ 109۔ انہ کان فریقا من عبادی، اس سے مراد مومنین ہیں۔ یقولون ربناآمنا فاغفرلنا وارحمنا وانت خیرالراحمین۔ فاتخذتموھم سخریا، قراء اہل مدینہ حمزہ وکسائی نے سین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اسی طرح سور ہ ص میں بھی پڑھا ہے۔ اور باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور سو رہ زخرف میں سب نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ خلیل نحوی کا قول ہے کہ اس میں دونوں لغات ہیں۔ جیسے کہ لجی، لام کے ضمہ کے اور، لجی، لام کے کسرہ کے ساتھ ۔ جیسے ، کوکب دری، اور دری، دونوں طرح پڑھا جاسکتا ہے۔ فراء اور کسائی کے نزدیک کسرہ کی صورت میں استہزاء بالقول والا معنی ہوگا اور ضمہ کی صورت میں اس کا معنی ہوگا اس کو روک دیایا مجبور کردیا۔ ایسے کام کا مکلف کیا جو وہ کرنا نہیں چاہتا۔ ” حتی انسوکم، اس مشغلہ استہزاء نے تم کو ہماری یاد بھلادی۔ ذکر وکنتم منھا تضحکون، اس کی نظیر یہ آیت ہے ، ان الذین اجرموا، مقاتل نے کہا کہ اس آیت کا نزول فقراء صحابہ کے متعلق ہوا جیسا عمار، حضرت صہیب، حضرت سلیمان، حضرت حباب، ان صحابہ کے متعلق کفار قریش استہزاء کرتے تھے۔
Ayah 23:111

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

آج میں نے ان کو ان کے صبر کا بدلہ دیا کہ وہ کامیاب ہوگئے

111۔ انی جزیتھم الیوم بماصبروا۔ تمہاری اذیتوں اور تمہاری استہزاء کی بنا پر جو انہوں نے دنیا پر کیا۔ انھم ھم الفائزون۔ حمزہ اور کسائی نے ، انھم، ہمزہ کے زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت مین یہ جملہ مستانفہ ہوگا۔ دوسرے قراء نے ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ اس صورت میں یہ مفعول ثانی ہوگا، یعنی آج کے دن ان کے صبر کے بسبب ان کو بدلہ دوں گا جو جنت کی صورت میں ہوگا۔
Ayah 23:112

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

(خدا) پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے ؟

112۔ قال کم لبثتم۔ حمزہ اور کسائی کا قول ہے۔ کہ یہ قل ان، ہے اور امرونہی کے معنی میں ہے۔ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ آپ کہیے اے کافرو، یہاں پر کلام کو واحد کے قائم مقام قرار دیتے ہیں مراد اس سے جماعت ہے ۔ جب اس کا معنی مفہوم ہو اوریہ بھی جائز ہے ک ہخطاب ان میں سے ہر ایک کو ہو۔ ای قل یا ایھا الکافرون۔ ابن کثیر نے پڑھا ہے۔ بعض نے کہا کہ یہ خبر ہے کیونکہ دوسرا جملہ اس کا جواب ہے اور دوسرے قراء نے ان دونوں کو ای سے ہی پڑھا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کفار سے کہیں گے کہ تم کتناعرصہ دنیا میں ٹھہرے ہو۔ فی الارض، دنیا اور قبر میں۔ عدد سنین۔
Ayah 23:113

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے ہم ایک یا ایک روز سے بھی کم رہے تھے شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے

113۔ قالوالبثنایوما او بعض یوم، وہ دنیا میں رہنے کی مدت عذاب کے خوف کی وجہ سے بھول جائیں گے۔ فسئل العادین، اس سے مراد فرشتے ہیں جو بنی آدم کے اعمال کو لکھتے اور شمار کرتے ہیں۔
Ayah 23:114

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ (وہاں) تم (بہت ہی) کم رہے کاش تم جانتے ہوتے

114۔ قال ان لبثتم، جتنی مدت تم دنیا میں ٹھہرے ہو ۔ الاقلیلا ، اس کو قلیل اس وجہ سے کہا گیا کہ اگرچہ دنیا میں کتنی مدت ہی وہ ٹھہرے ہوں تو وہ قیامت وآخرت کے مقابلے میں دنیا کی مدت کو قلیل ہی سمجھیں گے اور قبراس کامنتہی ہے۔ لوانکم کنتم تعلمون جتنی مقدرا میں تم دنیا میں ٹھہرے ہو۔
Ayah 23:115

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے

115۔ افحسبتم انماخلقناکم عبثا۔ لہو ولعب کے لیے نہ کہ اس کی حکمت کے لیے منصوب ہے حال ہونے کی وجہ سے۔ بعض نے کہا کہ اس کو عبث پیدا نہیں کیا تاکہ تم اسمیں کھیلو کودو، بیکار زندگی گزاروجیسا کہ چوپایوں کو پیدا کیا گیا نہ ان کے لیے ثواب ہے اور نہ ہی عقاب۔ یہ اس قول کے مثل ہے، ایحسب الانسان ان یترک سدی۔ بلکہ اللہ نے تمہیں عبادت کے لیے پیدا فرمایا اور اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل کرنے اور نواہی سے بچنے کے لیے ۔ ونکم الینالاترجعون۔ کیا تم گمان کرتے ہو کہ آخرت میں تم کو ہماری طرف نہیں لوٹایاجائے گا، بدلہ لینے کے لیے ۔ حمزہ کسائی ، یعقوب نے لاترجعون پڑھا ہے۔ تاء کے فتحہ کے ساتھ اور جیم کے کسرہ کے ساتھ۔ حضرت عبداللہ بن ہبیرہ نے خنش سے روایت نقل کی ہے کہ ایک مجنون کو حضرت ابن مسعود کے پاس لایا گیا، آپ نے ان کے دونوں کانوں میں آیت، افحسبتم، انماخلقناکم، آخر تک دم پڑھ کر دم کردی، اللہ نے اس کو اچھا کردیا۔ رسول اللہ نے ابن مسعود سے فرمایا تم اس کے کانوں میں کیا دم کیا تھا۔ حضرت ابن مسعود نے واقعہ عرض کیا، حضور نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کوئی شخص ا سکوپہاڑ پر دم کردے توپہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو اس چیز سے منزہ قرار دے دیاجس کی طرف مشرکین موصوف کرتے تھے۔
Ayah 23:116

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

تو خدا جو سچا بادشاہ ہے (اس کی) شان اس سے اونچی ہے اسکے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش بزرگ کا مالک ہے

116۔ فتعالی اللہ الملک۔۔۔ تا۔ الکریم۔ اچھاٹھکانا۔ بعض نے کہا بلندمقام۔
Ayahs 23:117–118

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو شخص خدا کے ساتھ اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کچھ سند نہیں تو اس کا حساب خدا ہی کے ہاں ہوگا کچھ شک نہیں کہ کافر رستگاری نہیں پائیں گے

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

کہ میرے پروردگار مجھے بخش دے اور (مجھ پر) رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

117۔ ومن یدع مع اللہ ، ، نہ اس کے پاس کوئی حجت ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی دلیل ہے اس شرک کے دعوی میں۔ فانما حسابہ، اس کا بدلہ ، عندربہ، اس کے عمل کا بدلہ اس کو دے گا۔ ثم ان علینا حسابھم ، انہ لایفلح الکافرون۔ نہ تو وہ کوئی دلیل وحجت ان کے کام آئے گی اور نہ ہی ان کا جھوٹ ۔ الحمدللہ سورة مومنون مکمل ہوئی۔