23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 23:41

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

تو ان کو وعدہ برحق کے مطابق زور کی آواز نے آپکڑا تو ہم نے ان کو کوڑا کر ڈالا پس ظالم لوگوں پر لعنت ہے

41۔ فاخذتھم الصیحہ، عذاب کی چیخ و پکار ، بالحق، بعض نے کہا کہ ہلاک کرنے والی چیخ اور بعض نے کہا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے چیخ ماری جس کے ذریعے سے ان کے دل پھٹ گئے۔ فجعلناھم غثائ، ہم نے ان کو ہلاک کردیاجی سے سیلابکے اوپر کوڑا کرکٹ بہہ کر آجاتا ہے ہم نے اس کوڑے کی طرح ان کو کردیا۔ فبعداللقوم الظالمین۔
Ayah 23:42

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے اور جماعتیں پیدا کی

42۔ ثم انشانا من بعد ھم قرونا اخرین۔ اس کے بعد ہم نے دوسری قومیں پیدا کیں۔
Ayah 23:43

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

کوئی جماعت اپنے وقت سے نہ آگے جاسکتی ہے اور نہ پیچھے رہ سکتی ہے

43۔ ماتسبق من امۃ اجلھا، جو مدت ان کے لیے مقرر تھی اس سے تقدیم و تاخیر نہیں ہوئی۔ من صلہ، ہے اس کی ہلاکت کے وقت ، ومایستاخرون ، اور نہ ہی ہلاکت سے پہلے ان کو موخر کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 23:44

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر ہم پے درپے پیغمبر بھیجتے رہے جب کسی امت کے پاس اس کا پیغمبر آتا تھا تو وہ اسے جھٹلاتے تھے تو ہم بھی بعض کو بعض کے پیچھے (ہلاک کرتے اور ان پر عذاب) لاتے رہے اور ان کے افسانے بناتے رہے پس جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان پر لعنت

44۔ ثم ارسلنا تری، تواتر اور متواترہ چیزوں کا پے درپے یعنی ایک کے بعد دوسرے کا اور دوسرے کے بعد تیسرے کا آنا اور بغیر کسی اجتماعیت کے تسلسل قائم ہونا اور اس وجہ سے کہ دونوں نبیوں کے درمیان ایک طویل زمانہ ہے۔ اصمعی کا قول ہے کہ ، واترت الخبر، اس وقت کہاجاتا ہے جب ایک کے پیچھے دوسری خبر دی جائے اور دونوں کے درمیان کچھ وقفہ ہو۔ قراء کا اس بارے میں اختلاف ہے ، ابوجعفر ابن کثیر ابوعمرو نے تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اور یعقوب نے الف کے ساتھ پڑھا ہے ابوعمرو حالت وقف میں آخرالف کے ساتھ نہیں پڑھتے تھے جیسے ، رایت زیدا، میں آخر الف ہے اور باقی قراء نے اس کو بلاتنوین کے ساتھ پڑھا ہے ہمارے نزدیک اس کے آخر میں یاء کے ساتھ وقف ہے اور اسی کی طرف حمزہ اور کسائی گئے ہیں ان کا قول غضبی وسکری کی طرح ہے اور یہ اسم جمع ہے جیسے شتی، دونوں ق راتوں کی صورت میں تاء اولی واؤ سے بدل کر آئی ہے۔ تتری، اصل میں تری، تھا، متواترہ قراء کے ساتھ واؤ اور تاء تقوی اور تکلان کی طرح ہے۔ ” کلما جاء امۃ رسولھا کذبوہ فاتبعنا بعضھم بعضا، بعض کو بعض کے ذریعے سے ہلاک کردیا، یعنی جس طرح ہم نے پیغمبروں کو یکے بعد دیگرے بھیجا، اسی طرح امتوں کو بھی ایک کے بعد دوسرے کو ہلاک کردیا۔ وجعلناھم احادیث، یعنی ہم نے ا نکوکہانیاں بنادیا، ان کی داستانیں اور ہلاکت کے قصے رہ گئے جن کو لوگ بطور داستان بیان کرتے ہیں اور عبرت آموز دماغوں والے ان سے عبرت حاصل کرتے ہیں احادیث احدوثہ کی جمع ہے۔ احدوثہ وہ قصہ ہے جس کو لوگ دل بہلانے کے لیے تعجب کے ساتھ پڑھتے ہیں اور بیان کرتے ہیں۔ اخفش کا بیان ہے یہ لفظ احدوثہ اور احادیث کا استعمال شر کے موقع پر ہوتا ہے اور خیر کے موقع پر یہ نہیں کہا جاسکتا ک ہہم نے ان کو احادیث بنادیا بلکہ یوں کہاجاتا ہے کہ فلاں شخص حدیث (ایک افسانہ یاواقعہ) ہوگیا، فبعدالقوم لایومنون، ،۔
Ayah 23:45

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور دلیل ظاہر دے کر بھیجا

تفسیر۔ 45۔ ثم ارسلنا موسیٰ واخاہ ہارون بایاتنا وسلطان مبین۔ واضح دلیل کے ساتھ یعنی یدبیضاء اور عصی کے ساتھ اور اس کے علاوہ دوسرے معجزات کے ساتھ۔
Ayah 23:46

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور اس کی جماعت کی طرف تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے

46۔ الی فرعون وملائہ فاستکبروا ، وہ ایمان کی تعظیم اور ماننے سے تکبر کرنے لگے۔ وکانوا قوماعالین، یعنی وہ لوگ مغرور تھے لوگوں پر جبر اور طلم کیا کرتے تھے۔
Ayah 23:47

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

کہنے لگے کہ کیا ہم ان اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی قوم کے لوگ ہمارے خدمت گار ہیں ؟

47۔ فقالوا، یعنی فرعون اور اس کی قوم نے کہا، انومن لبشرین مثلنا، اس سے حضرت ہارون وموسی (علیہ السلام) مراد ہیں کہ کیا ہم ان پر ایمان لے آئیں۔ وقومھمالناعابدون، وہ ان کی اطاعت کرنے والے اور عاجزی کرنے والے ہیں۔ عرب لوگ ہراس شخص کو عابد کہہ دیتے ہیں جو کسی کا خدمتی اور حکم بردار ہو۔
Ayah 23:48

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

تو ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی سو (آخر) ہلاک کر دئیے گئے

48۔ فکذبوھما فکانوا من المھلکین، وہ سب غرق کردیے گئے۔
Ayah 23:49

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تاکہ وہ لوگ ہدایت پائیں

49۔ ولقد اتینا موسیٰ الکتاب۔ اس سے مراد توریت ہے۔ لعلھم یھتدون، تاکہ اس کی قوم ہدایت یافتہ ہوجائے۔
Ayah 23:50

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور مریم کے بیٹے (عیسی) اور ان کی ماں کو (اپنی) نشانی بنایا تھا اور ان کو ایک اونچی جگہ پر جو رہنے کے لائق تھی اور جہاں (نتھرا ہوا) پانی جاری تھا پناہ دی تھی

50۔ وجعلناابن مریم وامہ آیہ۔ ہماری قدرت کی نشانی۔ یہاں پر آیتان نہیں ۔ فرمایا بعض نے کہا کہ ان دونوں کی شان یہ ہے کہ ہم نے ان دونوں کو نشانی بنایا اور بعض حضرات نے کہا اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے ان دونوں کو نشانی بنایا ہے۔ کلتا الجنتین آتت اکلھا، وآوینا ھماالی ربوۃ ، ربوۃ بلند مقام کو کہاجاتا ہے۔ ربوہ مقام کی تفصیل۔ اس میں آئمہ کرام کا اختلاف ہے۔ 1) عبداللہ بن سلام نے فرمایا کہ یہ دمشق تھا۔ 2) سعید بن مسیب اور مقاتل کا بھی یہی قول ہے۔ 3) ضحاک کا قول ہے کہ غوطہ دمشق مراد ہے۔ 4) حضرت ابوہریرہ نے فرمایا ربوہ سے مراد رملہ ہے عطاء کی روایت میں ہے حضرت ابن عبا س کا قول آیا ہے کہ ربوہ سے مراد بیت المقدس ہے یہی قول قتادہ اور کعب کا ہے۔ 6۔ کعب نے کہا کہ ربوہ کا حصہ بہ نسبت دوسری زمین کے اٹھارہ میل آسمان کے قریب تھا۔ 7) ابن زید کے نزدیک مصرمراد ہے۔ 8) ابن زید کا قول ہے کہ اس سے مراد مصر ہے۔ 9) سدی کے نزدیک فلسطین کی سرزمین مراد ہے ، ذات قرار ، ہموار زمین جس پر رہنے والے ٹھہر سکیں ۔ ومعین ، معین جاری پانی کو کہتے ہیں جو ظاہرا جاری ہوتا ہے۔
Ayah 23:51

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

اے پیغمبرو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو جو عمل تم کرتے ہو میں ان سے واقف ہوں

51۔ یا ایھا الرسل، حسن مجاہد اور قتادہ اور سدی کلبی کا اور ایک جماعت کا قول ہے کہ اس سے مراد حضرت محمد ہیں عرب کے نزدیک واحد کا اطلاق جماعت پر ہوتا ہے۔ بعض نے کہا اس سے مراد حضرت عیسیٰ ہیں بعض حضرات نے کہا کہ اس سے تمام انبیاء کرام مراد ہیں۔ کلو من الطیبات جو تمہارے لیے حلال ہیں۔ واعملواصالحا، صلاح کہتے ہیں شریعت کے وجوب کردہ احکام کو صحیح طریقے سے چلنا۔ انی بماتعملون علیم۔
Ayah 23:52

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور یہ تمہاری جماعت (حقیقت میں) ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو مجھ سے ڈرو

52۔ وان ھذہ، اہل کوفہ ان میں الف کے کسرہ کے ساتھ ہے اور باقی قراء نے الف کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن عامر نے نون تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور بعض نے ان کو صلہ قرار دیا ہے۔ دوسرے قراء نے نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہاں پر عبارت محذوف ہے۔ بان ھذہ امتکم اس سے مراد تمہاری ملت و شریعت جس پر تم ہو۔ ” امتکم امۃ واحدہ۔ ملت واحدہ سے مراداسلام ہے۔ واناربک فاتقون، یعنی میں چونکہ تمہارا رب ہوں س لیے مجھ سے ڈرو۔ اس کا معنی یہ ہے کہ میں تمہیں اسی بات کا حکم کرتا ہوں جو حکم پہلے بھیجے ہوئے انبیاء کرتے تھے ہم سب کا حکم (تبلیغ ) ایک ہی ہے۔
Ayah 23:53

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

تو پھر آپس میں اپنے کام کو متفرق کر کے جدا جدا کردیا جو چیز جس فرقے کے پاس ہے وہ اسی سے خوش ہو رہا ہے

تفسیر۔ 53۔ فتقطعوا امرھم، اپنے اپنے دین میں نئے نئے الگ الگ طریقے ایجاد کرلیے۔ بینھم انہوں نے آپس میں تفرقہ پیدا کردیاتو وہ آپس میں یہودی نصرانی اور مجوسی ہوگئے۔ زبرا، وہ گروہ گروہ ہوگئے فرقہ فرقہ، ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے اس کا واحد زبور ہے۔ زبور کا معنی ہے ٹکڑا، فرقہ، اس سے زبرالحدید) لوہے کے ٹکڑے ۔ وہ فرقے فرقے ہوگئے جیسے لوہے کے ٹکڑے ہوجاتے ہیں بعض اہل شام کے قراء نے زبراباء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ بعض نے کہا کہ انہوں نے کتاب کے مختلف حصے بنالیے ہیں وہ بعض پر ایمان لاتے اور بعض کا انکار کرتے تھے اور بعض نے کہا کہ بعض کتاب کی تحریف کی ۔ کل حزب بمالدیھم ، ہر گروہ کے پاس جو کچھ دین ہے وہ اسی پر اترائے ہوئے ہیں۔ فرحون، وہ تعجب اور خوشی کرتے ہیں۔
Ayah 23:54

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

تو ان کو ایک مدت تک ان کی غفلت ہی میں رہنے دو

54۔ فذرھم فی غمرتھم، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ اس کا معنی ہے کفر و گمراہی میں اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے غفلت، حتی حین، ایک مقررہ مدت تک جب تک ان کو موت نہ آجائے۔
Ayah 23:55

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں کی مدد دیتے ہیں

55۔ ایحسبون انما نمدھم بہ من مال وبنین، جو کچھ ہم ان کو مال واولاد دیتے چلے آتے ہیں توہم ان کو جلدی جلدی زیادہ فائدہ دے رہے ہیں۔
Ayah 23:56

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

(تو اس سے) ان کی بھلائی میں جلدی کر رہے ہیں ؟ (نہیں) بلکہ یہ سمجھتے ہیں ہیں

56۔ نسارع لھم فی الخیرات۔ ہم ان کو جلدی جلدی فائدہ دے رہیں اور ان کے ثواب کو مقد م کریں گے ان کے نیک اعمال کے سبب اور ان کی رضامندی کے سبب۔ بلالایشعرون، ہم ان کو جلدی جلدی فائدہ پہنچا رہے ہیں
Ayah 23:57

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

جو لوگ اپنے پروردگار کے خوف سے ڈرتے ہیں

57۔ ان لذین ھم من خشیۃ ربھم مشفقون۔ وہ خوف رکھتے ہیں ۔ اشفاق کا معنی خوف سے کیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ مومنین جو اللہ سے خوف رکھتے ہیں اور اس کی سزا سے ڈرتے ہیں۔ ’ حسن بصری (رح) کا قول ہے کہ مومن نیکی بھی کرتا رہے اور پھر ڈرتا بھی رہتا ہے اور منافق بدی کرتا ہے اور پھر بےفکر بھی رہتا ہے۔
Ayahs 23:58–59

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

اور جو اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

اور جو اپنے پروردگار کے ساتھ شریک نہیں کرتے

58۔ والذین ھم بایات ربھم یومنون۔ اس کا معنی ہے وہ تصدیق کرتے ہں۔
Ayah 23:60

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور جو دے سکتے ہیں وہ دیتے ہیں اور ان کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے

60۔ والذین یوتون ما آتوا، وہ عطا کرتے ہیں جو زکوۃ اور صدقات سے دیتے ہیں۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے آیت، والذین یوتون ما آتوا، جو اعمال کرتے ہیں نیک اعمال۔ وقلوبھم وجلۃ، وہ اللہ کے عذاب سے نجات نہیں پاتے ان کے اعمال قبول نہیں کیے جاتے۔ انھم الی ربھم راجعون۔ اس لیے کہ وہ اس پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کے حضور ایک دن ضرور حاضر ہونا ہے۔ حسن بصری کا قول ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور کوشش کے ساتھ کرتے ہیں پھر بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کی طاعت ردنہ کی جائے ۔ حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ سے اس آیت، والذین یوتون، ، کے متعلق دریافت کیا اور عرض کیا یہ وہ لوگ جو شراب پیتے اور چوری کرتے ہیں فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ، بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں نماز پڑھتے اور خیرات کرتے ہیں اور پھر بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کی یہ طاعت رد نہ کی جائے یہی وہ لوگ ہیں جو بھلائیوں میں تیزی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔
Ayah 23:61

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

یہی لوگ نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی ان کے لئے آگے نکل جاتے ہیں

تفسیر۔ 61۔ اولئک یسارعون فی الخیرات۔ جو نیک اعمال میں آگے بڑھتے ہیں۔ وھم لھاسابقون، اور وہ اس کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔ جیسا ک اللہ کا فرمان ہے، لمانھوا، ابن عباس کا قول ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سعادت پہلے ہی سے مقدر ہوچکی ہے کلبی کا بیان ہے یہ تمام امتوں پر اعمال صالحہ کے لحاظ سے سبقت کرگئی۔
Ayah 23:62

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

اور ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس کتاب ہے جو سچ سچ کہہ دیتی ہے اور لوگوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا

62۔ ولانکلف نفسا الاوسعھا۔ اس کی طاقت کے بقدر جو شخص قیا م پر قادر نہیں تو وہ بیٹھ کر نماز پڑھے اور جو شخص روزے کی طاقت نہ رکھے اسے چاہیے کہ وہ افطار کرے۔ ولدینا کتاب ینطق بالحق، وہ لوح محفوظ ہے وہ حق بات کرتے ہیں اور سچ کو واضح کرتے ہیں اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم نے کسی نفس کو اس کی وسعت سے بڑھ کرمکلف نہیں بنایا مگر جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور ہم نے ا سکولوح محفوظ میں ثابت رکھا ہے بعض نے کہا کہ اس سے مراد بندوں کے اعمال ہیں جو حفاظت کے فرشتے لکھتے ہیں۔ وھم لایظلمون، ان کی نیکیوں کو کم نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی برائیاں بڑھائی جائیں گی ، پھر اس کے بعد کفار کا تذکرہ کیا۔
Ayah 23:63

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

مگر ان کے دل ان (باتوں) کی طرف سے غفلت میں (پڑے ہوئے) ہیں اور اسکے سوا اور اعمال بھی ہیں جو یہ کرتے رہتے ہیں

63۔ بل قلوبھم فی غمرۃ، چھاجانے والی غفلت۔ اور جہالت۔ من ھذا، اس قرآن سے ، ولھم اعمال من دون ذالک، کفار کے اعمال خبیثہ جوان مومنین کے اعمال سے ہٹ کر ہیں۔ وہ اعمال جو اللہ نے پہلے ذکر کیے ہیں۔ ان الذین ھم من خشیہ ربھم مشفقون، ھم لھاعاملون۔ ان کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ جو وہ اعمال بد کرتے ہیں ان کے بسبب وہ دوزخ میں چلے جائیں گے کیونکہ ان پر شقاوت اور بدبختی غالب آگئی یہی قول اکثر مفسرین کا ہے۔
Ayahs 23:64–65

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان میں سے آسودہ حال لوگوں کو پکڑ لیا تو وہ اس وقت چلائیں گے

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

آج مت چلاؤ ! تم کو ہم سے کچھ مدد نہیں ملے گی

64۔ حتی اذا اخذنا مترفیھم، کہ ہم انکوپکڑ لیتے ہیں ان کے اغنیاء اور ان کے سرداروں کو۔ بالعذاب۔ مترفیھم بالعذاب سے کون سا عذاب مراد ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد بدر کا دن ہے۔ ضحاک کا قول ہے کہ وہ قحط مراد ہے جو رسول اللہ کی بددعا سے ان پر پڑا تھا۔ حضور نے فرمایا تھا اے اللہ قبیلہ مضر سخت قحط نازل فرما، اور ان پر حضرت یوسف کے زمانے کے قحط کی طرح قحط ڈال دے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قحط کی مصیبت میں مبتلا ہوگئے۔ یہاں تک کہ کتوں کو اورمردار کو اورجلی ہوئی ہڈیوں کو بھی کھاگئے۔ اذاھم یجئرون وہ جزع فزع کرنے لگے اور مدد طلب کرنے لگے جاراصل میں عاجزی کے ساتھ آواز کو بلند کرنے کو کہتے ہیں۔ ” لاتجاروالیوم، تم لوگ مت چلاؤ، انکم منالاتنصرون، تم سے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور نہ ہی تمہیں وہ نفع دے گا تمہاری اس عاجزی اور چیخ و پکار کو۔
Ayah 23:66

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں اور تم الٹے پاؤں پھر پھرجاتے تھے

تفسیر۔ 66۔ قد کانت آیاتی تتلی علیکم، اس سے مراد قرآن ہے۔ فکنتم علی اعقابکم تنکصون، وہ الٹے پاؤں واپس لوتے جاتے ہیں۔ قہقری کہتے ہیں کہ وہ ایمان سے پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں۔
Ayah 23:67

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

ان سے سرکشی کرتے، کہانیوں میں مشغول ہوتے اور بےہودہ بکواس کرتے تھے

67۔ مستکبرین بہ۔ اس کنایہ میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ ان کے قصے واضح ہیں۔ ان کامرجع بیت الحرام قرار دیا ہے اور کنایہ مذکور نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اس بات سے تکبر کرتے ہیں کہ ہم ہی بیت اللہ کی تعظیم کرنے والے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ہی اہل ہیں اسکے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم پر کوئی خوف نہیں اور تمام لوگوں میں سے وہ اپنے آپ کو امن میں سمجھتے تھے۔ بعض نے کہا کہ وہ قرآن سے تکبر کرتے تھے اس پر ایمان نہیں لاتے تھے پہلاقول واضح اور ظاہر ہے ۔ سامرا، منصوب ہے حال ہونے کی وجہ سے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ رات کے وقت داستانیں ، قصے ، کہانیاں کرتے کعبہ کے اردگرد حلقے بناتے اور اس میں یہ قصے گوئیاں کرتے ۔ تھجرون ، نافع نے تھجرون ، تاء کے ضمہ جیم کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اھجار، سے کلام میں بہت زیادہ فحش گوئی ، یاتورسول اللہ کی شان میں یاقران کی شان میں بےہودہ بکتے تھے۔ بعض نے کہا کہ ہجر سے ہے بمعنی کٹ جانا۔ بعض نے کہا کہ وہ اپنی زبانوں سے ایسے الفاظ نکالتے تھے جوان کو خود معلوم نہ ہوتا کہ وہ کیا نکالتے ہیں جیسے کوئی شخص نیند میں بول رہا ہو۔
Ayah 23:68

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کلام میں غور نہیں کیا ؟ یا ان کے پاس کچھ ایسی چیز آئی ہے جو ان کے اگلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی

68۔ افلم یدبروا، ، وہ اس پر غور وفکر کرے۔ القول، کیا وہ اس قول پ رغورفکر نہیں کرتے قران پر غور فکر نہیں کرتے۔ اگر غور و فکر کرتے رہتے ہیں تو وہ ان دلائل کی وجہ سے محمد کی سچائی جان چکے ہوتے۔ ام جاء ھم مالم یات آباء ھم الاولین۔ انہوں نے اس کا انکار کردیا، اس سے مراد یہ کہ ہم نے آپ سے پہلے بھی ان کی طرف رسول بھیجئے، اسی طرح آپ کو بھی ان کی طرف رسول بناکربھیجا ہے۔ بعض نے کہا کہ ام یاں بل کے معنی میں ہے۔ یعنی ہم نے ان کے آباواجداد کی طرف پہلے انبیاء ورسول بھیجے ہیں لیکن ان لوگوں نے انکا انکار کیا۔
Ayah 23:69

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا یہ اپنے پیغمبر کو جانتے پہچانتے نہیں اس وجہ سے ان کو نہیں مانتے

69۔ ام لم یعرفوا رسولھم۔ رسول سے مرادمحمد ﷺ ہیں۔ فھم لہ منکرون، حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ کیا انہوں نے حضرت محمد کو بچپن ، بڑے میں اور ان کے نسب ان کی صداقت اور ان کی امانت اورا ن کے عہدو وفا کو نہیں جانتے ان سب باتوں کے ہوتے ہوئے بھی ان پر ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 23:70

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے سودا ہے (نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق کو لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں

70۔ ام یقولون بہ جنہ۔ وہ آپ کو مجنون زدہ کہتے ہیں حالانکہ آپ ایسے نہیں۔ بل جاء ھم بالحق۔ وہ سچی بات لے کر آئے ہیں۔ آپ کی بات کسی کے سامنے مخفی نہیں کہ وہ صحیح ہی ہے ہر عاقل شخص اس کو سمجھ سکتا ہے ، واکثرھم للحق کارھون۔
Ayah 23:71

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر (خدائے) برحق ان کی خواہشوں پر چلے تو آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں سب درہم برہم ہوجائیں بلکہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت (کی کتاب) پہنچا دی ہے اور اپنی (کتاب) نصیحت سے منہ پھیر رہے ہیں

71۔ ولواتبعالحق اھواء ھم۔ ابن جریج ، مقاتل ، سدی اور اہل حق کی ایک جماعت کے نزدیل الحق سے مراد اللہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی مراد کے مطابق عمل کرلیتا، بعض نے کہا کہ اگر اللہ ان کی مراد کی موافقت کرتا اور دسروں کو اپناشریک بنالیتایا اپنے لیے اولاداختیار کرلیتا جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں ، لفسدت السماء والارض، فراء اور زجاج کا قول ہے کہ حق سے مراد قران ہے ک ہاگر میں ان کی مراد کے مطابق قران نازل کرتا یعنی شریک یاولد، بناتا ان کے اعتقاد کے مطابق تو آسمان و زمین اور جو کچھ اس میں ہے فساد برپا ہوجاتا۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے، لوکان فیھما الھہ، الا اللہ لفسدتا۔ جو کچھ ہم بیان کرچکے ہیں۔ حضر تابن عباس نے فرمایا ذکر ہم سے مراد ہے۔ وہ کتاب جس میں ان کی بزرگی اور شرف کا بیان ہے یعنی قران مجید۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ، لقدانزلنا الیکم کتابا فیہ ذکرکم۔ یعنی ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی جس میں تمہارے لیے شرف اور بزرگی ہے دوسری جگہ ارشاد فرمایا اس میں تمہارے لیے بزرگی اور تمہاری قوم کے لیے بھی بزرگی ہے فھم عن ذکرھم معرضون۔ وہ ایسی کتاب کی طرف بھی التفات نہیں کرتے جوان کے لیے باعث شرف ہے۔
Ayah 23:72

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

کیا تم ان سے (تبلیغ کے صلے میں) کچھ مال مانگتے ہو ؟ تو تمہارے پروردگار کا مال بہت اچھا ہے اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

تفسیر۔ 72۔ ام تسئلھم، ، جو لوگ تم لے کر آئے ہو، خرجا ، اجروسامان، فخراج ربک خیر، یعنی جو کچھ اللہ نے تمہیں رزق میں سے اور ثواب میں سے دیا وہ بہتر ہے۔ وھوخیرالرازقین، حمزہ اور کسائی نے ، خراجا، پڑھا ہے ان دونوں کو ہمزہ کے ساتھ ذکر کیا ہے ، ابن عامر نے ان دونوں کو الف کے بغیر دوسرے قراء نے بغیر الف کے پڑھا ہے۔
Ayah 23:73

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور تم تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہو

73۔ وانک لتدعوھم الی صراط مستقم، صراط مستقیم سے مراد دین اسلام ہے۔
Ayah 23:74

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ راستے سے الگ ہو رہے ہیں

74۔ وان الذین لایومنون بالاخرۃ عن الصراط، اس سے مراد دین حق ہے۔ لنکبون، وہ عادل اور ان کی طرف مائل ہوں گے۔
Ayah 23:75

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو تکلیفیں ان کو پہنچ رہی ہیں وہ دور کردیں تو اپنی سرکشی پر اڑے رہیں (اور) بھٹکتے (پھریں )

75۔ ولورحمناھم وکشفنا مابھم من ضر، اس سے مراد قحبط ہے ۔ للجواتب بھی یہ اڑے رہے۔ فی طغیانھم یعمھون، اور وہ اس سے چھٹکارا نہیں پاسکیں گے۔
Ayah 23:76

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو عذاب میں بھی پکڑا تو بھی انہوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی اور وہ عاجزی کرتے نہیں ہیں

76۔ ولقد اخذناھم بالعذاب ، نبی کریم نے قریش کے لیے یہ دعا کی کہ اللہ ان پر یوسف کے زمانے کی طرح ان پر قحط نازل فرما۔ اللہ نے ان پر قحط مسلط کردیا۔ ابوسفیان نے خدمت گرامی میں حاضر ہوکر عرض کیا، محمد میں تم کو اللہ کا اور قرابت داری کا واسطہ دیتا ہوں۔ اب توہم اون اور خون بھی کھانے لگے بھوک سے انتہائی مجبور ہوگئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ فمااستکانوا لربھم۔ انہوں نے توبہ کی اور نہ ہی انہوں نے اللہ کے سامنے عاجزی کی۔ ومایتضرعون، یعنی انہوں نے اپنے رب سے عاجزی اور خشوع نہیں کیا۔
Ayah 23:77

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر عذاب شدید کا دروازہ کھول دیا تو اس وقت وہاں ناامید ہوگئے

77۔ حتی اذافتحنا علیھم بابا ذا عذاب شدید۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اس سے مراد یوم بدر میں قتال ہے۔ یہی قول مجاہد کا ہے بعض نے کہا کہ اس سے مراد موت ہے بعض نے کہا کہ اس سے مراد قیامت ہے ، اذاھم فیہ مبلسون، ہر بھلائی سے مایوس ہے۔
Ayah 23:78

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے لیکن تم کم شکر گزاری کرتے ہو

تفسیر۔ 78۔ وھوالذی انشالکم السمع۔ تمہارے لیے کان سننے کے لیے پیدا کیے۔ والابصار والافئدۃ۔ تاکہ تم اس کو سنو اور دیکھو اور پھر اس پر غور و فکر کرو۔ قلیلا ماتشکرون، ان نعمتوں پر وہ شکرادا نہیں کرتے۔
Ayah 23:79

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں پیدا کیا اور اسی کی طرف تم سب جمع ہو کر جاؤ گے

79۔ وھوالذی ذراکم ، تمہارے لیے پیدا کیا، فی الارض والیہ تحشرون، تمہیں اٹھائے گا مرنے کے بعد ۔
Ayah 23:80

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

اور وہی جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے اور رات اور دن کا بدلتے رہنا اسی کا تصرف ہے کیا تم سمجھتے نہیں ؟

80۔ وھوالذی یحی ویمیت ولہ اختلاف اللیل والنھار۔ رات اور دن کی تدبیر زیادتی اور نقصان کے ساتھ۔ فراء کا قول ہے کہ اللہ نے دومختلف اشیاء پیدا کی ہیں اور دونوں سفید اور کالے میں بھی تفاوت ہے ۔ افلاتعقلون کیا تم نہیں دیکھتے اللہ کی اس کارگردگی کو اور پھر اس پر غور و فکر نہیں کرتے۔