18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayahs 18:91–92

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

حقیقت الحال یوں (تھی) اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہم کو اس کی خبر تھی

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر اس نے ایک اور سامان کیا

(91) ” کذلک “ بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے جس طرح سورج مغرب والوں کے لیے پہنچایا اسی طرح مشرق والوں کے لیے طلوع ہونے کی جگہ بنایا۔ صحیح مطلب یہ ہے کہ جس طرح ذوالقرنین نے سورج کو دلدلی چشمہ میں ڈوبتا محسوس کیا تھا اسی طرح دلدل سے برآمد ہوتے پایا تھا۔ ” وقد احطنا بما لدیہ خبرا “ جو ان کے پاس تھا اور جوان کے پاس لشکر تھا اور جنگی آلات ہیں۔
Ayah 18:93

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ دو دیواروں کے درمیاں پہنچا تو دیکھا کہ ان کے اس طرف کچھ لوگ ہیں کہ بات کو سمجھ نہیں سکتے

تفسیر (93)” حتیٰ اذا بلغ بین السدین “ ابن کثیر، ابو عمر، حفص نے السدین اور ” سدا “ پڑھا ہے۔ سین کے فتحہ کے ساتھ اور دوسرے قراء نے سین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور سورة یٰسین میں فتحہ کے ساتھ ہے اور وہاں پر باقی قراء نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ان میں سے بعض قراء کا قول ہے کہ ان دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ انسان کی بنائی ہوئی بندش کو سد کہتے ہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ” سد “ سین کے ضمہ کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ یہی ابو عمر و کا قول ہے۔ بعض نے کہا کہ ” سد “ فتحہ کے ساتھ ہے، مصدر ہے اور ضمہ کے ساتھ نام ہے۔ سدین سے مراد اس جگہ وہ دو پہاڑ ہیں جن کے درمیان ذوالقرنین نے ایک دیوار بنادی تھی۔ ” وجد من دونھما قوماً “ دونوں پہاڑوں کے سامنے ” لکا یکادون یفقھون قولا “ حمزہ اور کسائی کے نزدیک یاء کے ضمہ کے ساتھ اور کاف کے کسرہ کے ساتھ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ نہ وہ دوسرے کی بات سمجھتے تھے نہ کوئی دوسرا ان کی بات سمجھتا تھا۔
Ayah 18:94

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا کہ ذوالقرنین ! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں بھلا ہم آپ کے لئے خرچ (کا انتظام) کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے دریمان ایک دیوار کھینچ دیں ؟

(94)” قالو یا ذوالقرنین “ سوال وہ تو کچھ بات سمجھتے نہیں تو پھر ان کو کیسے کہا ؟ جواب : ان کے ساتھ کلام کیا ترجمان کے ساتھ۔ اس پر دلیل حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت ہے کہ وہ کسی کی بات سمجھتے نہیں تھے، آپ نے ان کے علاوہ لوگوں کو کہا اے ذوالقرنین ” ان یاجوج وماجوج “ عاصم نے ان دونوں کو ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے بغیر ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اس میں دو لغتیں ہیں۔ یہ اصل میں ” اجیج النار “ ہے ۔ آگ کا شعلہ، بھڑک شرارہ کثرت تعداد کی وجہ سے ان کو آگے کے شعلوں اور چنگاریوں سے تشبیہ دی۔ یاجوج ماجوج کس نسل سے ہیں بعض نے کہا کہ یہ ہمزہ کے ساتھ یاجوج و ماجوج ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ عجمی ہیں۔ ہاروت و ماروت کی طرح یہ یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ضحاک کا قول ہے کہ وہ ترکوں کی نسل میں سے ہیں۔ سدی نے کہا کہ ترک یاجوج ماجوج کا ایک فوجی دستہ تھا جو نکل آیا تھا۔ جب ذوالقرنین نے دیوار بنادی تو وہ دستہ پہاڑوں سے ادھر ہی رہ گیا، تمام ترک اسی کی نسل سے ہیں۔ قتادہ کا قول ہے کہ یاجوج کے 22 قبائل تھے۔ ذوالقرنین نے سد بنائی تو ایک قبیلہ ادھر ہی رہ گیا۔ 21 قبائل اُدھر چلے گئے۔ اسی ایک قبیلہ کو ترک کہاجاتا ہے کیونکہ سد سے ورے اس کو ترک کردیا چھوڑ دیا گیا۔ اہل تاریخ نے لکھا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹے تھے سام، حام، یافث۔ ک سارے عرب، فارس اور روم والے سام کی نسل سے ہیں اور حام کی نسل سے حبش، زنج اور نوبہ کے لوگ ہیں اور یافث کی نسل سے ترک خزر ضقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں۔ ابن عباس ؓ نے عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ سارے آدمی تو ایک حصہ ہیں اور یاجوج ماجوج دس حصے ہیں۔ یاجوج ماجوج کی مختلف قسمیں حضرت حذیفہ ؓ کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یاجوج ایک الگ قوم ہے اور ماجوج دوسری قوم ہے۔ ہر ایک کی تعداد چار سو ہزار ( چار لاکھ) ہے وہ سب حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں، ان میں سے کوئی بھی اس وقت تک نہیں مرتا جب تک وہ اپنی پشت سے پیدا شدہ ایک ہزار آدمی ایسے نہ دیکھ لے جو ہتھیار اٹھانے کے قابل ہوں، یہ لوگ غیر آباد دنیا کی طرف پھیلتے جائیں گے۔ بعض نے کہا کہ یاجوج ماجوج تین طرح ہیں ایک قسم تو درخت ارز کے برابر ہے، ان میں سے ہر شخص کا قد ایک سو بیس ہاتھ لمبا ہے، دوسری قسم جن کا طول و عرض برابر ہوتا ہے ایک سو تیس ہاتھ لمبا اور اتنا ہی چوڑا ان کے سامنے کوئی پہاڑ بھی نہیں ٹھہر سکتا۔ تیسری قسم وہ ہے۔ جو ایک کان بچھاتے اور ایک کان اوڑھتے ہیں ( قیامت کے قریب جب یہ برآمد ہوں گے تو) جو گھوڑا یا خنزیر یا جنگلی وحشی جانور ان کے سامنے آجائے گا، اس کو بغیر کھائے نہیں چھوڑیں گے، ان میں سے جو کوئی مرجاتا ہے اس کو کھالیتے ہیں۔ ان کا اگل دستہ شام میں اور پچھلا حصہ خراسان میں ہوگا۔ مشرق کے ( تمام) دریائوں اور بحیرئہ طبریہ ( بحیرئہ مردار) کا پانی پی جائیں گے۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت علی ؓ نے فرمایا، ان میں سے بعض کا طول ایک بالشت اور عرض ایک ہاتھ ہے اور بعض بہت زیادہ لمبے ہیں۔ کعب احبار نے کہا وہ اولاد آدم میں ایک عجیب مخلوق ہیں۔ ایک روز حضرت آدم (علیہ السلام) کو احتلام ہوا اور نطفہ مٹی کے ساتھ مخلوط ہوگیا۔ اس نطفہ سے اللہ نے یاجوج و ماجوج کو پیدا کردیا، وہ باپ کی طرف سے تو ہمارے ( علاتی) بھائی ہیں لیکن ہماری ماں کی نسل سے نہیں ہیں۔ ذوالقرنین کا واقعہ بغوی نے وہب بن منبہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ذوالقرنین رومی تھا اور ایک بڑھیا کا بیٹا تھا، جو ان ہوا تو نیک مؤمن بندہ ہوا اور اللہ نے اس سے فرمایا میں تجھے ایسے قوموں ( کی اصلاح) کے لیے بھیجوں گا جن کی زبانیں مختلف ہوں گی۔ ان میں سے دو قومیں ایسی ہوں گی جن کے درمیان پوری زمین کے طول کا فاصلہ ہوگا۔ ایک غروب آفتاب کے مقام پر ہوگی جس کو ناسک کہا جائے گا اور دوسری سورج نکلنے کے مقام پر ہوگی جس کو منسک کہاجائے گا اور دو قومیں اور ہوں گی جن کے درمیان پوری زمین کا عرض فاصل ہوگا۔ جنوب کی طرف والی قوم کو ہاویل کہاجائے گا اور شمالی والی کو قاویل، باقی اقوام وسط ارض پر آباد ہوں گی جن میں جنات بھی ہوں گے اور انسان بھی اور یاجوج و ماجوج بھی۔ ذوالقرنین نے عرض کیا پھر کس قوم کو ساتھ لے کر میں ان سے قوت و کثرت میں مقابلہ کروں گا اور کس زبان میں ان سے گفتگو کروں گا، اللہ نے فرمایا میں تجھے طاقت عطا کروں گا، تیری زبان میں پھیلا دوں گا اور تیرا بازو مضبوط کردوں گا، تجھے کوئی چیز خوف زدہ نہ کرے گی، تجھے ہیبت کا لباس پہنائوں گا کہ تجھے کوئی شے روک نہ سکے گی، میں نور و ظلمت کو تیرا فرماں بردار بنادوں گا اور دونوں کو تیرا مدد گار کردوں گا۔ نور تجھے آگے آگے راستے دکھائے گا اور تاریکی پیچھے پیچھے سے تجھے گھیرے میں لیتی رہے گی۔ حسب الحکم ذوالقرنین چل دیا اور آفتاب کے غروب ہونے کے مقام تک پہنچ گیا۔ وہاں اس کو دشمنوں کی ایک جماعت ملی جو بیشمار تھی، ان کی گنتی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا۔ ذوالقرنین نے ظلمت سے مدد لے کر ان سے مقابلہ کیا، سب کو ایک جگہ جمع کرکے اللہ کی عبادت کی، ان کو دعوت دی، کچھ لوگوں نے دعوت کو مان لیا، کچھ کترا گئے جو لوگ رو گرداں ہوگئے ان پر ذوالقرنین نے ظلمت کو مسلط کردیا، تاریکی ان کے پیٹوں اور گھروں کے اندر گھس گئی۔ آخر وہ ذوالقرنین کی دعوت میں داخل ہوگئے۔ اسی جگہ مغرب والوں کا ذوالقرنین نے ایک لشکر تیار کیا اور اس کو ساتھ لے کر ہاویل ( جنوبی قوم کے پاس پہنچ گیا اور یہاں بھی وہی سلوک کیا جیسا ناسک کے ساتھ کیا تھا پھر منسلک کی طرف گیا جو طلوع آفتاب کے مقام کے قریب آبا تھے، یہاں پہنچ کر ذوالقرنین اور اس کے لشکر نے وہی عمل کیا جو مذکورہ دونوں قوموں کے ساتھ کرچکا تھا، پھر قاویل ( شمالی قوم) کی طرف رخ کیا اور ان سے بھی وہی معاملہ کیا جو مندرجہ بالا اقوام کے ساتھ کیا تھا۔ اس کے بعد وسطی اقوام کی طرف توجہ کی، مشرقی جانب ترکوں کی سرحد پر پہنچا تو وہاں نیک ایمان دار آدمیوں کا ایک گروہ اس کے پاس آیا اور کہا ذوالقرنین ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کی ایک مخلوق ایسی ہے جو بہائم ( چوپایوں) کی طرح ہے اور درنوں کی طرح ان کے نوکیلے دانت اور کچلیاں ہیں۔ سانپوں اور بچھوئوں کو کھا جاتے ہیں اور گھوڑوں گدھوں اور جنگلی جانوروں کو پھاڑ کھاتے ہیں، ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ کسی مخلوق کی اتنی تعداد نہیں ہے اور اتنی ہی ان کی افزائش نسل ہے کہ کسی مخلوق کی نہیں ہے، وہ ہماری سرزمین پر آجاتے ہیں، تسلط جماتے ہیں اور تباہی مچاہتے ہیں، کیا ہم آپ کے لیے چندہ جمع کردیں کہ آپ ہمارے ان کے درمیان ایک آڑ بنادیں۔ ذوالقرنین نے کہا کہ میرے رب نے مجھے طاقت و دولت وغیرہ) عطا فرمائی ہے وہ ( تمہارے چندہ سے) بہتر ہے، تم لوگ میرے لیے پتھر کی چٹانیں اور لوہا اور تانبا فراہم کردو اور میں جا کر ان کے حالات معلوم کرتا ہوں۔ یہاں سے ذوالقرنین ان لوگوں کے احوال دریافت کرنے کے لیے چلا اور ان کی بستیوں کے اندر داخل ہوگیا۔ اس نے دیکھا کہ سب لوگ ایک ہی قد کے ہیں، ہمارے متوسط القامت آدمی کے طول سے ان کا طول قامت آدھا ہے۔ ان کے پنجے اور نوکیلے دانت اور کچلیاں درندوں کی طرح ہیں اور سارے بدن پر سخت بال اتنی کثرت سے ہیں کہ جسم کو چھپائے ہوئے ہیں، سردی گرمی سے بچائو ان کو ان بالوں ہی کے ذریعے سے حاصل ہوتا ہے۔ ہر شخص کے دو بڑے بڑے کان جانوروں کی طرح جماع کرتے ہیں۔ ذوالقرنین یہ کیفیت دیکھ کر لوٹ آیا اور دونوں پہاڑوں کے درمیان پہنچ کر انہوں نے پیمائش کی، پھر نیچے پانی کی تہہ تک بنیاد کھودکر پتھر کی چٹانوں سے اس کو بھر دیا اور تانبا پگھلا کر اس سے مصالحہ کا کام لیا۔ اس طرح دیوار مکمل ہوگئی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے نیچے سے ایک پہاڑ پھوٹ آیا ہے۔ ” مفسدون فی الارض “ کلبی کا بیان ہے کہ ان لوگوں کا فساد یہ تھا کہ یہ لوگ موسم بہار میں نکلتے تھے، کوئی سبزہ بھی ان کو نظر آجاتا تو یہ کھا جاتے اور جو خشک چیز نظر آئے اس کو روند ڈالتے، یہ ان کی زمینوں میں داخل ہوگئے، یہ لوگوں کو بہت اذیت دیتے اور لوگوں کو قتل کردیتے۔ اور بعض نے کہا کہ ان کا فساد یہ تھا کہ یہ انسانوں کو کھا جاتے۔ بعض نے کہا کہ جب یہ نکلتے تو زمین میں فساد پھیلاتے۔ ” فھل نجعل لک خرجاً “ حمزہ اور کسائی نے (خراجاً ) الف کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے ” خرجاً “ پڑھا ہے بغیر الف کے دونوں لغتوں میں ان کا معنی ایک ہی ہے۔ مزدوری و اجرت۔ ابو عمرو نے کہا کہ خراج وہ چیز ہے جس کا ادا کرنا تم پر لازم ہو اور خرج وہ چیز ہے جس کو دے کر تم دوسرے کو راغب کرتے ہو۔ بعض نے کہا کہ خراج زمین کا ٹیکس اور خرج فی کس شخصی ٹیکس ہوتا ہے۔ عرب کا قول ہے کہ ” اوخرج راسک و خراج مدینتک “ کہ اپنی ذات کا خرچ ادا کرو اور اپنے شہرو کا خراج۔ بعض نے کہا کہ جو چیز زمین پر لازم ہو یا شخصی طورپر وہ خراج ہے۔
Ayah 18:95

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

(ذوالقرنین نے) کہا کہ خرچ کا جو مقدور خدا نے مجھے بخشا ہے وہ بہت اچھا ہے تم مجھے قوت (بازو) سے مدد دو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط اوٹ بنادوں گا

تفسیر (95)” قال “ ان کو ذوالقرنین نے کہا ہے۔” مامکنی فیہ “ ابن کثیر نے ” مکننی “ پڑھا ہے دونوں کے ساتھ اور دوسرے قراء نے ایک نون کے ساتھ پڑھا ہے ادغام کرکے، وہ چیزیں جو مجھے اس بارے میں قوت دے دیں۔ ” ربی خیر “ جو میرے لیے اس نے بنایا ہے۔ ” فاعینونی بقوۃ “ میری مدد کرو۔ مال کے علاوہ اپنے ہاتھ پائوں کے ساتھ اور اپنی قوت کے ساتھ۔ ” اجعل بینکم وبینھم ردما “ تاکہ میں ایک دیوار بناسکوں۔ وہ کہنے لگے کون سی قوت آپ کو چاہیے ؟ فرمایا معمار، مزدور ، کارکن جو تعمیر میں اچھا ک اگر ثابت ہوں اور اس قسم کے آلات۔ انہوں نے کہا کہ کون سے آلات فرمایا۔
Ayah 18:96

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

تو تم لوہے کے (بڑے بڑے) تختے لاؤ (چنانچہ کام جاری کردیا گیا) یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان (کا حصہ) برابر کردیا اور کہا کہ (اب اسے) دھونکو یہاں تک کہ جب اسکو (دھونک دھونک کر) آگ کردیا گیا تو کہا کہ (اب) میرے پاس (تانبا) لاؤ کہ میں اس پر پگھلا کر ڈال دوں

(96)” اتونی “ ابوبکر نے ” ائتونی “ پڑھا ہے کہ میرے پاس تم لے آئو۔ ” زبر الحدید “ لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے۔ اس کی واحد ” زبرۃ “ ہے۔ ان کو میرے پاس لے آئو اور لکڑیاں بھی لے آئو، لوگ لوہے کی چادریں یا ٹکڑے لے آئے، لکڑیاں اور کوئلے بھی ساتھ لے آئے، ذوالقرنین نے لوہے لکڑی اور کوئلوں کو تہ بہ تہ چنا اوپر لوہا، نیچے لکڑی، پھر کوئلے، پھر لوہا۔ پھر لکڑی۔ ” حتی اذا ساوی بین الصدفین “ ابن کثیر، ابن عامر، ابو عمرو اور یعقوب نے صاد کے ضمہ اور دال کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابوبکر نے دال کے جزم کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دونوں پہاڑیوں کے نام ہیں ساوی : ان دونوں پہاڑیوں کے طرفوں کو ملادیا۔ ” قال انفخوا “ انہوں نے تانبے کو لوہے پر ڈالا اور جب لکڑی کوئلہ سب جمع ہوگئے اور اس پر تانبا ڈالا فرمایا کہ اب اس کو پھونکو۔ ” حتیٰ اذا جعلہ نارا “ وہ لوہا آگ بن گیا۔ ” قال اتونی “ حمزہ اور ابوبکر نے وصلاً پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے الف کے بغیر پڑھا ہے۔ ” افرغ علیہ قطراً “ کہ اس پر تانبا لے آئو افراغ کہتے ہیں بٹونا، بہادینا، قطر پگھلا ہوا تانبا۔ لوگ تانبا لے کر آئے، پھر پگھلا ہوا تانبا دہکتے ہوئے لوہے پر ڈال دیا، آگ سے لکڑی اور کوئلہ جل گیا، پگھلے ہوئے تانبے نے اس کی جگہ لے لی۔ اسی طرح لوہے کی اینٹیں پگھلے ہوئے تانبے کے مصالحہ سے باہم پیوست ہوگیا اور آہنی دیوار پہاڑ بن کر کھڑی ہوگئی۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس دیوار کی چوڑائی پچاس ذرائع اور اسک ی بلندی سو ذرائع اور اس کی لمبائی ایک فرسخ ہے۔
Ayah 18:97

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں

(97)” فما اسطاعو ا ان یظھروہ “ وہ دیوار بلند ہونے اور چکنی ہونے کی وجہ سے وہ اس پر نہیں چڑھ سکتے۔ ” وما استطاعو ا لہ نقباً “ اس دیوار کے سخت ہونے کی وجہ سے اس میں سوراخ نہیں کرسکیں گے۔ حمزہ نے ” فما استطاعوا “ پڑھا ہے طاء کی تشدید کے ساتھ اور تاء کے ادغام کی وجہ سے۔
Ayah 18:98

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

بولا کہ یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے جب میرے پروردگار کا وعدہ آپہنچے گا تو اس کو (ڈھا کر) ہموار کر دے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے

(98)” قال “ ذی القرنین نے کہا ” ھذا “ یہ دیوار ” رحمۃ “ نعمت ہے۔ ” من ربی فاذا وعد ربی “ اس سے مراد قیامت کا دن ہے اور بعض نے کہا کہ یاجوج ماجوج کے نکلنے کا وقت مراد ہے۔ ” جعلہ دکائ “ اہل کوفہ نے ” دکائ “ مد کے ساتھ پڑھا ہے اور ہمرہ کے ساتھ۔ یعنی زمین پر پھیلا کر اس کو ہموار کردے گا اور دوسرے قراء نے اس کو مد کے بغیر پڑھا ہے۔ اس کو زمین کے ساتھ ہموار کردے گا۔ ” وکان وعد ربی حقا “ یاجوج ماجوج کا خروج قرب قیامت میں ہوگا حضرت ابوہریرہ ؓ کا مرفوع بیان نقل کیا ہے کہ یاجوج و ماجوج روز دیوار کو کاٹتے ہیں اور اتنا کھودتے ہیں کہ سورج کی کرنیں ( دوسری طرف کی) چمکنے کے قریب ہوجاتی ہیں تو ان کا سردار کہتا ہے اب لوٹ چلو، باقی کل کو کھود لیں گے لوگ چلے جاتے ہیں، رات میں اللہ دیوار کو پھر حسب سابق کردیتا ہے۔ دوسرے دن آ کر وہ پھر کھودتے ہیں اور اتنا کھودتے ہیں کہ دوسری طرف کی روشنی نظر آنے کے قریب ہوجاتی ہے تو سردار روک دیتا ہے اور کہتا اب واپس چلو کل کو اس کی تکمیل کرلیں گے، سب واپس چلے جاتے ہیں۔ اللہ رات میں پھر دیوار کو پہلے کی طرح کردیتا ہے، روزانہ ایسا ہی کرتے ہیں، جب مقررہ وقت آجائے گا اور حسب معمول دیوار کو کھود کر اتنا کردیں گے کہ ایک ورق رہ جائے گا، قریب ہوگا کہ پار کی روشنی نظر آجائے اور سردار ان سے کہے گا اب واپس چلو کل کو ان شاء اللہ ہم اس کو کھودیں گے۔ ان شاء اللہ کہنے کا یہ اثر ہوگا کہ واقعی دوسرے دن آکر دیکھیں گے کہ دیوار کو جس طرح ( ورق کے برابر) چھوڑ کر گئے تھے ویسی ہی ہے۔ پس بقیہ دیوار کو بھی کھوددیں گے اور پارک نکل آئیں گے اور جہاں جہاں پانی ہوگا ان مقامات کی تلاش کرکے پہنچیں گے ( سارے تالابوں، چشموں، کنوئوں، جھیلوں اور دریائوں کا پانی پی جائیں گے) لوگ ان کے خوف سے قلعہ بند ہوکر بیٹھ رہیں گے، وہ آسمان کی طرف تیر چلائیں گے اور اللہ ان کے تیروں کو ایسا سرخ کرکے لوٹا دے گا جیسے وہ خون آلود ہوں) اور کسی شکار کے لگ کر واپس لوٹے ہوں) وہ خوش ہوکر کہیں گے ہم زمین والوں پر بھی غالب آگئے اور آسمان والوں پر بھی۔ اس کے بعد اللہ ان کی گدیوں ( گردونوں کے پچھلے حصہ) میں گلٹیاں ( یعنی وہ کیڑے جو اونٹ بکری وغیرہ کی ناک میں پیدا ہوکر باعث ہلاکت ہوتے ہیں اور انسان کی گردن بغل وغیرہ میں داخل ہوکر گلٹیوں اور سرطانی زخموں کی شکل میں برآمد ہوتے ہیں) برآمد کردے گا، سب مرجائیں گے دجال کے نکلنے کے بارے میں چند احادیث امام مسلم نے حضرت نواس بن سمعان ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بار صبح کے وقت دجال کا ذکر کیا ( دوران ذکر میں) حضور ﷺ کی آواز پست بھی ہوجاتی تھی اور بلند بھی جاتی تھی یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ دجال ( یہیں) نخلستان میں موجود ہے۔ پھر ( دوسرے وقت) جب ہم حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ( خوف کا اثر ہمارے اندر پہچان لیا اور) فرمایا تم لوگوں کا کیا حال ہے ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے دجال کا تذکرہ کیا تھا اور حضور ﷺ کی آواز میں پستی بھی تھی اور بلندی بھی، اس سے ہمارا خیال ہوا کہ کہیں ( اس جگہ) نخلستان میں ہی ہے۔ فرمایا دجال کے علاوہ ایک اور چیز ہے جو تمہارے لیے زیادہ خوفناک ہے، دجال تو میری زندگی میں اگر برآمد ہوگیا تو تمہاری طرف سے میں اس کا مقابلہ کرلوں گا اور میں نہ ہوا تو اس وقت ہر شخص خود اپنی طرف سے اس کا مقابلہ کرے گا اور اللہ میری طرف سے ہر مسلمان کا محافظ ہے۔ دجال ایسا نوجوان ہوگا، اس کی ایک آنکھ پٹ ہوگی، میرے نزدیک وہ عبدالغریٰ بن قطن سے ملتا جلتا ہوگا جو شخص اس کو پائے تو سورة کہف کی ابتدائی آیات اس کے سامنے پڑھے، وہ عراق اور شام کے درمیان برآمد ہوگا اور دائیں بائیں لوٹ اور تباہی مچائے گا، اللہ کے بندو ! تم ( ایمان پر) ثابت قدم رہنا۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس کا قیام زمین پر کتنی مدت رہے گا، فرمایا چالیس دن۔ جن میں ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا۔ ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن ایک ہفتہ کے برابر اور باقی ایام تمہارے دنوں کی طرح ہوں گے۔ ہم نے عرض کیا جو دن سال کے برابر ہوگا کیا اسمیں ہمارے لیے صرف ایک دن کی نمازیں کافی ہوں گی ؟ فرمایا نہیں مقدار کا اندازہ کرلینا۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس کی سرعت رفتار کی کیا حالت ہوگی ؟ فرمایا جیسے بادل جس کے پیچھے آندھی ہو۔ کچھ لوگوں کی طرف سے اس کا گزر ہوگا، ان کو وہ اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دے گا وہ مان لیں گے۔ دجال آسمان کو حکم دے گا ان پر بارش ہوجائے، فوراً بارش ہوجائے گی، زمین کو حکم دے گا سبزہ پیدا کر، فوراً زمین سرسبز ہوجائے گی، ان کے اونٹ جنگل سے چر کر واپس لوٹیں گے تو ان کے کوہان خوب اونچے، تھن خوب لمبے دودھ سے بھرے ہوئے اور کوکھیں ( چارہ کھانے کی وجہ سے ) پھولی ہوئی ہوں گی۔ اس کے بعددجال کا گزر ایک اور قوم کی طرف ہوگا اور وہ ان کو دعوت دے گا وہ لوگ دجال کی دعوت کو ردّ کردیں گے، جب دجال ان کے پاس سے لوٹے گا تو فوراً وہ سب قحط زدہ ہوجائیں گے، کوئی چیز ان کے مال میں سے باقی نہیں رہے گی، دجال ویرانے کی طرف سے گزرے گا اور حکم دے گا اپنے دفینے برآمد کردے، فوراً ویرانے سے دفینے نکل کر شہد کی مکھیوں کی طرح اس کے پیچھے پیچھے ہوجائیں گے۔ پھر دجال ایک شخص کو طلب کرے گا جو جوانی سے بھرپور ہوگا اور تلوار سے اس کے دو ٹکڑے کرکے علیحدہ علیحدہ دو طرف کو رسائی تیر کے فاصلے پر رکھ دے گا اور ( اس شخص کو) آواز دے گا ( دونوں ٹکڑے جڑ کر) وہ شخص زندہ ہوجائے گا اور ہنستا کھلکھلاتا چلا آئے گا۔ دجال اسی حال میں ہوگا کہ اللہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو بھیج دے گا۔ آپ (علیہ السلام) دمشق کے مشرقی جانب سفید میناروں پاس ( یا منارے پر) دو فرشتوں کے بازوئوں پر اپنے ہاتھ رکھے اتریں گے، سر جھکائیں گے تب اور سر اٹھائیں گے تب پسینے کے قطرے چاندی کے موتیوں کی طرح آپ کے چہرے سے لڑھک کر گریں گے، آپ کے سانس کی خوشبو وہاں تک پہنچے گی جہاں آپ کی نگاہ پہنچے گی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دجال کی تلاش کریں گے اور لد ( ایک بستی کا نام جو فلسطین میں ہے) کے پاس پہنچ کر دجال کو قتل کریں گے۔ اسکے بعد آپ ان لوگوں کے پاس پہنچیں گے جن کو اللہ نے دجال کے شر سے محفوظ رکھا ہوگا، ان کے چہروں سے غبار صاف کریں گے اور جنت میں ان کے درجات جو اللہ نے مقرر فرمائے ہیں اس کو بشارت دیں گے۔ اسی دوران میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس وحی آئے گی کہ میں ( ( سدذوالقرنین سے) اپنے ان بندوں کو نکال کرلے آیا ہوں جن سے لڑنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے ( یعنی سد ٹوٹ گیا اور یاجوج و ماجوج اندر آگئے) آپ میرے بندوں کو کوہ طور پر لے جا کر حصار بند ہوجائیں۔ حضر ت عیسیٰ (علیہ السلام) حکم کی تعمیل کریں گے۔ یاجوج و ماجوج آجائیں گے، ہر ٹیلہ کی آڑ سے نکل کر پھیل پڑیں گے، ان کا اگلا گروہ بحیرۂ طبریہ ( بحیرۂ مردار) پر پہنچ کر تمام پانی پی جائے گا، پچھلا گروہ جب بحیرئہ طبریہ پر پہنچے گا تو وہ کہے گا یہاں کبھی پانی ضرور تھا (یعنی صرف نمی کو دیکھ کر ان کی یہ رائے ہوگی کہ یہاں کبھی پانی ضرور تھا) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے ساتھیوں کو لیے حصار بند رہیں گے ( اور پہاڑ پر اتنی غذائی قلت ہوجائے گی کہ) جتنی سو دینار کی تم لوگوں کی نظر میں آج قیمت تھی، اس سے زیادہ اس زمانہ میں گائے، بیل کی ایک سری کی ان کی نظر میں قدر ہوگی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی اللہ سے دعا کرتے رہیں گے۔ آخر اللہ یاجوج و ماجوج کی گردنوں میں جراثیمی پھنساں پیدا کردے گا جن کی وجہ سے وہ سب کے سب (یکدم) ایک آدمی کی طرح مرجائیں گے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ساتھیوں کو لے کر پہاڑ سے نیچے اتریں گے لیکن ان کو زمین پر ایک بالشت جگہ بھی ایسی نہیں ملے گی جس میں ( یاجوج و ماجوج کی لاشوں کی) عفونت اور سڑاند پھیلی ہوئی نہ ہو، آپ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھ دعا کریں گے ایسے پرندے بھیج دے گا جو بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے ہوں گے، یہ پرندے تمام لاشوں کو اٹھا کر وہاں پھینک دیں گے۔ جہاں اللہ کی مرضی ہوگی، پھر بحکم خدا ایک عظیم بارش ہوگی جو ہر گھر میں پہنچے گی، ڈیرہ، خیمہ ہو یا مٹی کا بنا ہوا مکان بارش کو کوئی آڑ روک نہ سکے گی، بارش سے ساری زمین دھل کر صاف چکنی ہوجائے گی، پھر اللہ کے حکم سے زمین میں غلہ اور پھلوں کی خوب پیداوار ہوگی اور حاصل ارضی میں بڑی برکت ہوگی اور یہ حالت ہوجائے گی کہ ایک انار ایک گروہ کے کھانے کے لیے کافی ہوگا اور اس کا چھلکا ایک جماعت کے لیے سائبان کا کام دے گا، دودھ میں بھی بڑی برکت ہوگی، ایک اونٹنی کا دودھ ڈھیروں آدمیوں کے لیے کافی ہوگا اور ایک گائے کا دودھ پورے قبیلہ کو ایک بکری کا دودھ قبیلہ کی ایک شاخ کے لیے کفایت کرے گا۔ اسی حالت میں اللہ ایک خوشگوار خوشبو دار ہوا چلا دے گا اور یہ ہوا ہر شخص کے بغل کے نیچے ( یعنی پہلو پر) لگے جو مومن اور مسلم ہوگا اس کی روح ہوا کا جھونکا لگتے ہی پرواز کرجائے گی اور صرف برے لوگ زمین پر رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح اپنی شہوت پوری کریں گے اور آپس میں لڑتے رہیں گے انہی پر قیامت برپا ہوگی۔ مسلم کی دوسری روایت میں اتنا اور آیا کہ طبریہ جھیل پر پہنچ کر پچھلا گروہ کہے گا یہاں کبھی پانی تھا۔ اس کے بعد یاجوج و ماجوج کوہ خمرہ پر پہنچیں گے، کوہ خمرہ بیت المقدس کے ایک پہاڑ کا نام ہے وہاں پہنچ کر کہیں گے ہم نے زمین والوں کو تو قتل کردیا آئو اب آسمان والوں کو قتل کریں، یہ کہہ کر آسمان کی طرف چھوٹے تیر پھینکیں گے، اللہ ان کے تیروں کو خون سے رنگین کرکے لوٹا دے گا۔ ( تیروں کو خون سے رنگا ہوا دیکھ کر وہ خوش ہوجائیں گے) ۔ ترمذی کی روایت میں ہے کہ پرندے ان کی لاشوں کو اٹھا کر گڑھوں اور غاروں میں پھینک دیں گے اور مسلمان ان کے تیروں، کمانوں اور ترکشوں کو سات برس تک ایندھن کے طورپرجلائیں گے۔ بغوی نے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ وہب نے بیان کیا پھر یاجوج و ماجوج سمندر پر پہنچ کر اس کا پانی پی جائیں گے اور سارے سمندری چوپائے اور جانور کھا جائیں گے یہاں تک کہ لکڑیاں اور درخت بھی اور جو آدمی ان کے پنجے میں آجائے گا اس کو بھی کھا جائیں گے لیکن مکہ، مدینہ اور بیت المقدس میں نہیں پہنچ سکیں گے۔ بخاری نے حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یاجوج و ماجوج کے بعد کعبہ کا حج اور عمرہ کیا جائے گا۔ ذوالقرنین کے قصہ میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ذوالقرنین ظلمات میں گھس گیا، پھر لوٹ کر آیا تو شہر زور میں اس کی وفات ہوگئی۔ بعض کا قول ہے کہ ذوالقرنین کی عمر کچھ اوپر تیس برس کی ہوئی۔
Ayah 18:99

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

(اس روز) ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ (روئے زمین پر پھیل کر) ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو جمع کرلیں گے

(99)” وترکنا بعضھم یومذ یموج فی بعض “ بعض علماء نے کہا یہ واقعہ اس وقت ہوگا جب یاجوج و ماجوج سد کو توڑ چکے ہوں گے یعنی دیوارتوڑ کر یاجوج و ماجوج پانی کی طرح لہریں مارتے داخل ہوں گے، کثرت اور ریل پیل کی وجہ سے ہر ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہے گا اور آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں گے۔ بعض کا قول ہے کہ ایسا واقعہ اس وقت ہوگا کہ قیامت بپا ہوجائے گی اور لوگ قبروں سے باہر آجائیں گے اور جنات بھی انسانوں کے ساتھ گڈ مڈ ہوجائیں گے اور سب حیرت میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ ” وانفخ فی الصور “ یاجوج ماجوج کا خروج قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے اور یہ قرب قیامت ظاہر ہوں گے۔ ” فجمعناھم جمعاً “ ایک میدان میں جمع کریں گے۔
Ayah 18:100

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اور اس روز جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے

تفسیر (100)” وعرضنا “ اس دن ہم سامنے لے آئیں گے۔ ” جھنم یومذ للکافرین عرضا “ یہاں تک کہ وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیں گے۔
Ayah 18:101

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھیں اور وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے

(101)” الذین کانت اعینھم فی غطائ “ غطاء کسی چیز کو چھپانے والا پردہ۔ ” عن ذکری “ ذکر سے مراد ایمان اور قرآن ہے۔ ہدایت اور بیان ہے۔ بعض نے کہا کہ ذکر سے مراد دلائل وبراہین کو دیکھنا ہے۔ ” وکانوا لا یستطیعون سمعا “ قبولیت والا سماع نہیں سن سکتے اور ایمان اس وجہ سے نہیں لاسکتے کہ ان پر بدبختی غالب آئی ہوئی ہے۔ بعض نے کہا کہ وہ شعور نہیں رکھتے اور بعض نے کہا کہ وہ اس بات پر قادر نہیں کہ جو رسول اللہ ﷺ پڑھتے ہیں اس کو اچھی طرح سمجھ سکیں، یہ ان کی شدت عداوت کی وجہ سے ہے۔ جیسا کہ کوئی شخص یہ کہے کہ میں فلاں شخص کی بات دشمنی کی وجہ سے نہیں سن سکتا۔
Ayah 18:102

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا Open ayah 18:102 in the Quran reader

کیا کافر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے بندوں کو ہمارے سوا (اپنا) کار ساز بنائیں گے (تو ہم خفا نہیں ہوں گے) ؟ ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے جہنم کی (مہمانی) تیار کر رکھی ہے

(102)” افحسب “ ان کافروں کا گمان ہے۔ ” الذین کفروا ان یتخذو ا عبادی من ذونی اولیائ “ اس سے مراد ارباب ہیں۔ عبادی سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور فرشتے ہیں بلکہ یہ معبودان باطلہ جن کو اپنا معبود بنا تے ہیں اور دوست رکھتے ہیں، یہ ان کے دشمن ہیں اور قیامت کے دن ان سے برأت کرلیں گے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شیطان ہیں جن کی اطاعت اللہ کے سوا کفار کرتے ہیں۔ مقاتل (رح) کے نزدیک بت مراد ہیں، بتوں کو اس جگہ اصنام کہا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” ان الذین تدعون من دون اللہ عباداً امثالکم “ اس استفہام کا جواب مخذوف ہے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد کہ ان کو چاہیے کہ وہ اپنے نفسوں پر ملامت کریں۔ کہتے ہیں کہ کیا وہ لوگ جو کافر ہیں گمان کرتے ہیں کہ وہ ان کے علاوہ کو اپنا مددگار بنالیں گے اور میں نہ اپنے لیے غضب کروں گا اور نہ ہی اس کا انجام برا ہوگا اور بعض نے کہا کہ کیا وہ اس بات پر گمان کرتے ہیں کہ ان کو نفع دیاجائے گا کہ میرے بندوں نے میرے سوا معبود اور کارساز پکڑ لیے۔” انا اعتدنا جنھم للکافرین نزلا “ اس سے مراد منزل ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس کا ٹھکانہ مراد ہے۔ بعض نے کہا کہ مقام نزول یا طعام مہمانی ہے۔
Ayah 18:103

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ Open ayah 18:103 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہم تمہیں بتائیں جو عملوں کے لحاظ سے بڑے نقصان میں ہیں

(103)” قل ھل نبئکم بالاخسرین اعمالاً “ وہ لوگ جنہوں نے اپنے نفسوں کی پیروی ایسے عمل کے ساتھ کی جن سے وہ فضل کے امیدوار تھے، ان کی ساری محنتیں ہلاک اور اکارت ہوگئیں۔ جیسا کہ کسی شخص نے کوئی سامان خریدا اور اس سامان میں نفع کا امیدوار تھا لیکن اس کو سراسر خسارہ اٹھانا پڑا۔ آیت میں خسارہ پانے والے لوگوں سے کون مراد ہیں۔ ابن عباس ؓ اور سعد بن ابی وقاص ؓ نے فرمایا کہ اس سے مراد یہود و نصاری ہیں اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد رھبان ہیں جو اپنے خیال میں آخرت کے طالب اور لذائذ دنیا سے روگرداں ہیں حالانکہ وہ شریعت اسلامیہ کے منکر ہیں، ان کی یہ ساری کوششیں سراب اور ناکارہ ثابت ہوگئیں۔
Ayah 18:104

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا Open ayah 18:104 in the Quran reader

وہ لوگ جن کی سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اچھے کام کر رہے ہیں

(104)” الذین “ وہ لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو عبادت گاہوں میں مقید کردیا۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا حروراء والے۔ ” ضل سعیھم “ ان کے اعمال باطل اور ان کی کوشش رائیگاں چلی جائے گی۔ ” فی الحیوۃ الدنیا وھم یحسبون انھم یحسنون صنعا “ ان کے اعمال کا بدلہ ان کو دیا جائے گا۔
Ayah 18:105

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا Open ayah 18:105 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کے سامنے جانے سے انکار کیا تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور ہم قیامت کے دن ان کے لیے کچھ بھی وزن قائم نہیں کریں گے

(105)” اولئک الذین کفروا بایات ربھم ولقالہ فحیطت “ ان کے اعمال باطل ہوجائیں گے۔ ” اعمالھم فلا … لھم یوم القیامۃ وزنا “ قیامت کے دن ان کے لیے کوئی حصہ یا کوئی وزن نہیں ہوگا ۔ جیسا کہ عرب کا قول ہے کہ میرے پاس فلاں کے لیے کوئی قدر یعنی کوئی وزن نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ایک موٹے تازے آدمی کو لایاجائے گا۔ اس کا وزن اللہ کے نزدیک ایک مچھ کے برابر نہیں ہوگا، فرمایا اس کی تصدیق کے لیے پڑھو ” فلا نفسم لھمیوم القیامۃ وزنا “ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن لوگ اپنے اعمال لے کر آئیں گے وہ اعمال اتنے بڑے ہوں گے جیسے تہامہ کے پہاڑ۔ لیکن تولنے کے بعد ان کا کوئی وزن نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کا مطلب یہی ہے۔ فلا نفسم لھم یوم القیامۃ وزنا “
Ayah 18:106

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا Open ayah 18:106 in the Quran reader

یہ انکی سزا ہے (یعنی) جہنم اس لیے کہ انہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور ہمارے پیغمبروں کی ہنسی اڑائی

تفسیر (106) ” ذلک “ جو ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں ان کے اعمالکا حیوط اور ان کی گھٹیا حرکت کی وجہ سے۔ ” جزاء ھم جھنم بما کفروا واتخذو ا آیاتی “ آیات سے مراد قرآن ہے۔” ورسلی ھزوا “ ان کے ساتھ مذاق اور استہزاء کیا۔
Ayahs 18:107–110

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ Open ayah 18:107 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کیے ان کے لئے بہشت کے باغ مہمانی ہوں گے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا Open ayah 18:108 in the Quran reader

ہمیشہ ان میں رہیں گے (اور) وہاں سے مکان بدلنا نہ چاہیں گے

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا Open ayah 18:109 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں کے (لکھنے کے) لیے سیاہی ہو تو قبل اس کے کہ میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہوجائیں اگرچہ ہم ویسا ہی اور (سمندر) اس کی مدد کو لائیں

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ Open ayah 18:110 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں (البتہ) میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود (وہی) ایک معبود ہے تو جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھے چاہئے کہ عمل نیک کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے

جنت الفردوس کے بیان میں (107)” ان الذین آمنو ا وعملو الصالحات کانت لھم جنت الفردوس “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم اللہ سے مانگا کرو تو فردوس ملنے کی دعا کیا کرو کیونکہ وہ جنت کے وسط میں ہے اور دوسری جنتوں سے اعلیٰ ہے، اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ حضرت کعب کا قول ہے کہ جنت میں فردوس سے اونچی کوئی جنت نہیں ہے، بھلائی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے اسی میں داخل ہوں گے۔ قتادہ کا قول ہے کہ فردوس ربوۃ الجنتۃ کو کہتے ہیں۔ کعب کا بیان ہے کہ فردوس اس باغ کا نام ہے جس میں انگور ہوں۔ مجاہد کا قول ہے کہ وہ باغ جو رومی کہلتا ہے اس کو فردوس کہاجاتا ہے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ حبشہ کی زبان میں باغ کو کہا جاتا ہے جس میں گھنے درخت ہوں۔ زجاج کا قول ہے کہ یہ لفظ رومی ہے، منقول ہوکر عربی زبان میں میں مستعمل ہونے لگا۔ ضحاک کا قول ہے کہ فردوس اس گھنے باغ کو کہتے ہیں جس کے درخت باہم گھنے ہوں۔ بعض حضرات نے کہا کہ ہر پسندیدہ خوبصورت باغ کو فردوس کہاجاتا ہے۔ بعض کے نزدیک فردوس ایسے باغ کو کہتے ہیں جس میں طرح طرح کا سبزہ اگا ہوا ہو، فردوس کی جمع فرادیس آتی ہے۔” نزلا “ اس سے مراد منزل ہے۔ وہ ایسی جگہ اتریں گے جس میں پھل اور اس میں طرح طرح کی نعمتیں ہوں گی۔ ” کانت لھم “ کا معنی یہ ہے کہ اس کا علم اس وقت بھی اللہ کو تھا جب یہ لوگ پیدا نہیں ہوئے تھے۔ ” خالدین فیھا لا یبغون “ وہ طلب نہیں کرتے۔” عنھا حولا “ ان کو اس سے دور کوئی نہیں ہٹا سکے گا۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ وہ اس بات کا ارادہ کریں کہ وہ اس کو پھیر لیں ۔ جیسا کہ کسی کو ایک جگہ موافق نہیں آتی تو وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح یہاں نہیں ہوگا۔ ” قل لو کان البحر مدادا لکلمات ربی “ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہودیوں نے کہا تھا کہ آپ کا خیال ہے کہ ہم کو حکمت عطا کی گئی ہے اور آپ ہی کی کتاب میں یہ بھی ہے کہ اس کو حکم دی گئی اس کو خیر کثیر عطا کردی گئی۔ پھر فرمایا ” وما اوتیھم من العلم الا قلیلا “ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور بعضنے کہا کہ جب یہ آیت ” وما اوتیتھم من العلم الا قلیلا “ نازل ہوئی تو یہودیوں نے کہا کہ ہمیں تورات دی گئی اور اس میں ہر چیز کا علم ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ” قل لو کان البحر مدادا “ اس کو مداد کے ساتھ مسمی اس لیے کیا کہ یہ کاتب کو لکھنے کے لیے مدد پہنچائی جاتی ہے۔ اس کا اصل زیادتی ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ اگر سب سمندر سیاہی بن جائیں قلموں کے لیے اور قلم لکھنے لگیں۔ ” لنفد البحر “ اس کا پانی ختم ہوجائے۔ ” قبل ان تنفد “ حمزہ اور کسائی نے اس کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ فعل کی تقدیم کی وجہ سے اور دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا۔” کلمات ربی “ کلمات سے مراد اس کا علم و حکمت ہے۔ ” ولو جننا بمثلہ مددا “ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر ساری مخلوق لکھنا شروع ہوجائے تو پھر بھی اللہ کی صفات کے کلمات ختم نہیں ہوں گے۔ اگرچہ اس سے بھی زیادہ اس کے مثل پیدا کئے جائیں ، پھر بھی اللہ کی تعریف ختم نہیں ہوگی ۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان ” لو ان ما فی الارض من شجرۃ اقلام والبحر یمدہ من بعد سبعۃ ابحر ما نفدت کلمات اللہ “ یعنی جو کچھ زمین میں درخت ہیں اگر ان کی قلمیں بنائی جائیں اور سمندر کو سیاہی بنائی جائے اور اس سمندر کے بعد سات سمندر مزید سیاہی بن جائیں تو اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوں گے۔ ” قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی انما الھم الہ واحد “ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو تواضع کی تعلیم دی تا کہ آپ مغرور نہ ہوجائیں اور حکم دیا کہ اپنے آدمی ہونے کا اقرار کریں لیکن اقرار بشریت کے ساتھ یہ بھی ظاہر کردیں کہ میرے اندر صاحب وحی ہونے کی خصوصیت بھی ہے ، میرے پاس وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود اکیلا معبود ہے اس کا کوء شریک نہیں ۔ ” فمن کان یرجوا القاء ربہ “ اس تک پہنچنے کے لیے اللہ سے خوف رکھیں اور بعض نے کہا کہ اپنے رب کی رئویت پر غور و تامل فرمائیں ۔ جاء کا معنی خوف بھی ہے اور امید بھی ہے جیسا کہ شاعر کا قول ہے : فلا کل ما ترجو من الخیر کائن ولا کل ما ترجو من الشر واقع یہ ضروری نہیں کہ جس خیر کے تم امیدوار ہو وہ ہو ہی جائے اور نہ یہ لازم ہے کہ جس شر سے تم ڈرتے ہو وہ شر واقع ہی ہوجائے۔ یہاں پر دونوں معنوں کو جمع کیا گیا ۔ ” فلیعمل علما صالحا ً ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدًا “ اپنے اعمال کسی کو دکھانا مقصود نہ ہو ۔ حضرت جندب سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص لوگوں کو سنانے کے لیے نیکی کرتا ہے اللہ بھی اس کے ساتھ سنانے کا برتائو کرتا ہے اور جو شخص لوگوں کو دکھانے کے لیے ( نیکی) کرتا ہے اللہ بھی اس کے ساتھ دکھاوے کا برتائو کرتا ہے۔ ایک رویت میں نبی کریم ﷺ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنی امت پر خوف شرک اصغر کا ہے ، صحابہ ؓ نہم نے فرمایا کہ شرک اصغر کیا ہے ؟ فرمایا ( اعمال صالحہ کا دکھاوا کرنا) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں شرک سے سب سے زیادہ بےنیاز ہوں ہوں جو شخص کسی عمل میں میرے ساتھ کسی کو ساجھے دار بناتا ہے میں اس کو اس کے شرک کے ساتھ چھوڑ دیتا ہوں ۔ حضرت ابو دراء ؓ کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جو شخص سورة کہف کی پہلی دس آیات یاد کرے گا اس کو دجال کے فتنہ سے محفوظ کیا جائے گا ۔ ابن معاذ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے سورة کہف کی اول و آخرپڑھی تو اس کے قدم اور سر تک نور ہی نور ہوگا اور جو پوری سورت پڑھے گا اس کے لیے زمین سے آسمان تک نور ہوگا ۔