Ayah 18:53(53)” ورأی المجرمون “ مجرمین سے مراد مشرکین ہیں۔” فظنوا “ وہ یقین کرتے تھے۔ ” انھم مواقعوھا “ وہ اس میں داخل ہونے والے ہیں اس میں گرنے والے ہیں۔ ” ولم یجدوا عنھا مصرفاً “ عدول کرنے والے پھرنے والے نہیں ہوں گے کیونکہ وہ ان کو ہر طرف سے گھیرے میں لینے والی ہوگی۔
Ayah 18:54(54)” ولقد صرفنا “ ہم نے اس کو کھول کر بیان کردیا۔ ” فی ھذا القرآن للناس من کل مثل “ تاکہ تم اس سے نصیحت حاصل کرو۔ ” وکان الانسان اکثرشیء جد لا “ باطل چیزوں میں وہ جھگڑتے تھے۔
حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد نضر بن حارث ہے جو قرآن کے متعلق جھگڑا کرتا تھا۔ کلبی کا بیان ہے کہ اس سے مراد أبی بن خلف جمحی ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد کفار ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” ویجادل الذین کفروابالباطل “ اور بعض نے کہا کہ یہ اپنے عموم پر ہے اور یہی اصح ہے۔
حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ میرے اور اپنی صاحبزادی کے پاس آپہنچے اور فرمایا تم دونوں رات کو نماز نہیں پڑھتے ہو، میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! (ﷺ) ہماری جانیں اللہ کے قبضے میں ہیں، وہ جب آپ کو اٹھانا چاہتا ہے ہم کو اٹھا دیتا ہے۔ میری اس گزارش کے بعد رسول اللہ ﷺ واپس چلے گئے، مجھے کوئی جواب نہیں دیا اور پشت پھیری ہی تھی کہ میں نے سنا کہ ران پر ہاتھ مار کر فرما رہے تھے۔ ” وکان الانسان اکثر شیء جدلا “
Ayah 18:55(55)” وما منع الناس ان یؤمنو ا اذا جاء ھم الھدی “ ان سے مراد قرآن، اسلام اور اللہ عزوجل کی طرف سے بیان ہے۔ بعض کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی ذات مراد ہے۔ ” ویستغفرو اربھم الا ان تاتیھم سنۃ الاولین “ ہمارا پہلوں میں یہ طریقہ رائج رہا ہے کہ جو ایمان نہیں لاتے تو ہم ان کو ہلاک کردیتے ہیں اور بعض نے کہا کہ ہم پہلوں کی طرح کہ جب وہ عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں تو پھر ہم ان کے طلب کرنے پر عذاب بھیجتے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ اگر آپ کا یہ لایا ہوا دین برحق ہے تو ہم پر پتھر برسایا دردناک عذاب لے آ۔ ” او یاتیھم العذاب قبلا “ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ اس کا معنی رودررو سامنے آنا۔ مجاہد (رح) کا قول ہے اس کا معنی ناگہانی۔ ابو جعفر اور اہل کوفہ کا قول ہے کہ ” قبلا “ قاف کے ضمہ اور باء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ قبیل کی جمع ہوگی، ان پر عذاب کی قسمیں نوع درنوع آئیں گی۔
Ayah 18:56تفسیر (56)” وما نرسل المرسلین… تا… بالباطل “ وہ اس بات کے متعلق جھگڑا کرتے تھے کہ کیا اللہ نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا ” ولولا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم “ کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں اتارا گیا، یہ بھی کافروں نے کہا تھا کہ جو تم ذبح کرتے ہو وہ حلال ہے اور جو اللہ مار دے وہ حلال نہیں ۔ ” لید حضوا “ کہ وہ اس کو باطل کردے۔ ” بہ الحق “ دحض اصل میں کہا جاتا ہے پھسلنے کو، وہ باطل کے ذریعے سے جھگڑا کرکے حق کو اس کی جگہ سے ہٹا دیں۔ ” واتخذو ا ایاتی و ما انذرواھزواً “ آیات سے مراد وہ ہیں جو قرآن میں نازل کی گئی ہیں۔ ” ھزوا “ اس کا ٹھٹھا کرتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں۔
Ayah 18:57(57)” ومن اظلم ممن ذکر “ جس کو نصیحت کی گئی ہو۔ ” بایات ربہ فاعرض عنھا “ اس سے پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں اور اس کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے۔” ونسی ما قدمت یداہ “ اور جو وہ اس سے پہلے معاصی میں سے کرچکے تھے۔ ” انا جعلنا علی قلوبھم اکنۃ “ ان کے کانوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ ” ان یفقھوہ “ رب کی طرف سے آیات کے سمجھنے سے عاجز آگیا ۔ ” وفی آذا نھم وقرا “ ان کے کانوں پر ڈاٹ اور بوجھ پڑے ہوئے ہیں۔ ” وان تدعھم “ اے محمد ! (ﷺ) ” الی الھدی “ دین کی طرف۔ ” فلن یھتدوا اذا ابدا “ ان قوموں کے متعلق جانتے تھے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayah 18:58(58)” وربک الغفور ذوالرحمۃ “ اس سے نعمت والا ہونا مراد ہے۔ ” لویواخذھم “ کفار کا مؤاخذہ ان کا تعاقب ” بما کسبوا “ گناہوں میں سے جو کچھ انہوں نے کمایا۔ ” لعجل لھم العذاب “ دنیا میں عذاب کو جلدی طلب کرتے ہیں۔” بل لھم موعدھم “ بعث اور حساب کتاب کے لیے۔ ” لن یجدوا من دونہ موئلاً “ اس کا ٹھکانا۔
Ayah 18:59(59)” وتلک القریٰ اھلکناھم “ اس سے مراد قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط اور اس کے علاوہ اور قومیں مراد ہیں۔ ” لما ظلموا “ جب انہوں نے کفر کیا۔ ” وجعلنا لمھلکھم موعداً “ مدت معیاد مقرر ہے۔ ابوبکر نے ” لمھلکھم “ میم اور لام کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حفص نے میم کے فتحہ اور لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اسی طرح سورة نمل میں ذکر کیا گیا۔” مھلک “ ان کی ہلاکت کے وقت دوسرے قراء نے میم کے ضمہ اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 18:60(60)” واذا قال موسیٰ لفتاہ لا ابرح حتی ابلغ مجمع البحرین “ عام اہل علم کے نزدیک ان کے باپ کا نام موسیٰ بن عمران ہے اور بعض نے کہا کہ یہ موسیٰ بن میشا، یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا خضر (علیہ السلام) کی تلاش میں سفر
بخاری اور مسلم نے لکھا ہے سعید جبیر ؓ نے فرمایا میں نے حضرت ابن عباسی ؓ سے عرض کیا نوف بکالی کا خیال ہے کہ خضر والے موسیٰ بنی اسرائیل والے موسیٰ (علیہ السلام) نہ تھے ( دونوں الگ الگ تھے) فرمایا دشمن خدا جھوٹ کہتا ہے ہم سے ابی بن کعب نے بیان کیا کہ انہوں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ (ایک روز) موسیٰ بنی اسرائیل کے سامنے تقریر کرنے کھڑے ہوئے کسی نے سوال کرلیا۔ (آج) سب سے زیادہ عالم کون ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا، میں۔ اللہ کو موسیٰ کی یہ بات ناپسند ہوئی کیونکہ انہوں نے اللہ کی طرف جاننے کی نسبت نہیں کی ( اور یوں نہیں کہا کہ اللہ جانے کون سب سے بڑا عالم ہے) اللہ نے وحی بھیجی، موسیٰ (علیہ السلام) تم سے زیادہ عالم میرا ایک اور بندہ ہے جو دو سمندروں کے سنگم میں ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا میرے رب اس سے میری ملاقات کیسے ہوگی ؟ اللہ نے فرمایا ایک ٹوکری میں اپنے ساتھ ایک مچھلی رکھ لو ( اور کنارے کنارے چل دو جہاں مچھلی (اُچھل کر پانی میں چلی جائے اور) غائب ہوجائے وہیں تمہاری ملاقات ہوگی۔
موسیٰ (علیہ السلام) توشہ دان یا ٹوکری میں ایک مچھلی (جو بھی ہوئی تھی) لے کر چل دئیے اور ان کے خادم یوشع بن نون بھی ساتھ ہوگئے، چلتے چلتے ایک پتھر کے قریب پہنچے وہاں ٹھہر گئے اور پتھرپر سر رکھ کر دونوں سو گئے۔ مچھلی تڑپ کر ٹوکری سے نکل کر دریا میں جا گری اور پانی کے اندر اس نے اپنا راستہ ( سرنگ کی طرح) بنا لیا، اللہ نے پانی کی رفتار کو روک دیا اور پانی کی محراب بن گئی۔ ( اس واقعہ کے وقت یوشع بیدار تھے اور ان کی نظر کے سامنے مچھلی سمندر میں جا گری تھی) موسیٰ (علیہ السلام) بیدار ہوئے تو دن کے باقی حصہ میں بھی چلتے رہے ( یعنی سو کر اٹھے اور چل دئیے اور شام تک چلتے رہے) یوشع اس واقعہ کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ذکر کرنا بھول گئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) دن بھر چلتے رہے اور رات بھر بھی چلتے رہے، دوسرے دن کی صبح ہوئی تو یوشع سے کہا ہم اس سفر سے تھک گئے، کھانا لائو، جب تک موسیٰ (علیہ السلام) مچھلی کے تڑپنے کے مقام سے آگے نہیں ب ڑھے تھے آپ کو تھکان نہیں ہوئی تھی۔ جب اس جگہ سے آگے بڑھے تو تھکان کا احساس ہوا۔ یوشع نے کہا حضرت جب ہم پتھر کے پاس ٹھہرے تھے ( وہاں مچھلی تڑپ کر سمندر میں جا گری تھی) میں آپ سے مچھلی کا تذکرہ کرنا بھول گیا۔ شیطان نے مجھے بھلا دیا۔ مچھلی نے تو سمندر کے اندر عجیب طرح سے اپنا راستہ لے لیا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اسی (جگہ) کی تو ہم تلاش میں تھے، پھر دونوں اپنے نقش قدم پر لو ٹ پڑے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کی ملاقات
یہاں تک کہ مقررہ پتھر کے مقام پر آگئے وہاں ایک آدمی ملا جو کپڑے سے منہ چھپائے ہوئے تھا، موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو سلام کیا۔ خضر (علیہ السلام) نے کہا تمہاری اس زمین میں سلام کا طریقہ کہاں ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں موسیٰ (علیہ السلام) ہوں۔ خضر (علیہ السلام) نے کہا نبی بنی اسرائیل والے موسیٰ (علیہ السلام) ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا جی ہاں۔ میں آپ کے پاس اس غر ض سے آیا ہوں کہ جو علم آپ کو دیا گیا ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی بتائیں۔ خضر (علیہ السلام) نے کہا موسیٰ (علیہ السلام) آپ میرے ساتھ ٹھہر نہ سکیں گے، مجھے اللہ کی طرف سے وہ علم دیا گیا ہے جس سے آپ واقف نہیں اور جو علم اللہ نے آپ کو دیا ہے اس سے میں واقف نہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ان شاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔ میں آپ کے حکم کے خلاف نہیں کروں گا۔ خضر (علیہ السلام) نے کہا اگر آپ میرے ساتھ چلنا ہی چاہتے ہیں تو جب تک میں خود بیان نہ کروں آپ مجھ سے ( کسی پیش آنے والے واقعہ کے متعلق) کچھ دریافت نہ کریں۔
عہدو پیمان کے بعد دونوں چل دئیے۔ چلتے چلتے سمندر کے کنارے پہنچے، اُدھر سے ایک کشتی گزری، کشتی والوں سے ان بزرگوں نے سوار کرلینے کے لیے کہا ، کشتی والے خضر کو پہچانتے تھے، انہوں نے بغیر کرایہ کے دونوں کو سوار کرلیا۔ سوار ہوگئے ( اور چل دئیے تو اثناء راہ میں) اچانک موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ خضر (علیہ السلام) بسولے سے کشتی کا ایک تختہ توڑ رہے ہیں، کہنے لگے آپ یہ عجیب حرکت کر رہے ہیں، ان لوگوں نے تو ہم کو بغیر کرایہ کے سوار کرلیا اور آپ ان کی کشتی کو پھاڑ رہے ہیں کہ سب کشتی والے ڈوب جائیں۔ خضر (علیہ السلام) نے کہا کیا میں نے پہلے ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں بھول گیا تھا، آپ بھول چوک پر میری پکڑ نہ کیجئے اور میرے معاملہ میں مجھ پر تنگی اور دشواری نہ ڈالئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلی حرکت بھول کر ہوئی تھی اور دوسری حرکت بطور شرط اور تیسری حرکت قصداً یا لاراہ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک چڑیا آکر کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی اور چونچ ڈال کر دریا سے اس نے پانی پی لیا۔ خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا میرا اور آپ کا علم، علم خدا کے مقابلہ میں اس سے زیادہ نہیں جتنا اس چڑیا نے چونچ سے سمندر کا پانی لیا۔ اس چڑیا نے چونچ میں پانی لے کر سمندر کے پانی میں کوئی کمی نہیں کردی ( میرا اور آپ کا علم بھی اللہ کے علم کے بجربے کراں میں کوئی کمی نہیں کرسکتا) پھر ( کشتی سے اتر کر) دونوں چل دئیے۔
خضر (علیہ السلام) کو راستہ میں ایک لڑکا نظر آیا جو لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ خضر (علیہ السلام) نے اس کو پکڑ کر اس کا سر اپنے ہاتھ سے اکھاڑ دیا اور قتل کردیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا آپ نے یہ بری حرکت کی، ایک معصوم کو بےقصور قتل کردیا۔ خضر (علیہ السلام) نے کہا کیا میں نے آپ سے نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ رُک نہیں سکیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خضر (علیہ السلام) کی یہ حرکت پہلی حرکت سے زیادہ سخت تھی ( اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) نے بےتاب ہوکر دریافت کر ہی لیا) موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگر اس کے بعد میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا، آپ کے لیے میری طرف سے معذرت کا کوئی موقع نہیں رہے گا۔ اس کے بعد پھر دونوں چل دئیے۔ ایک گائوں میں پہنچے۔ بستی والوں سے کھانا مانگا، انہوں نے کچھ کھانے کو نہیں دیا، وہاں ایک دیوار نظر آئی جو گرنے ہی والی تھی۔ خضر (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اس کو ٹھیک کردیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ہم اس بستی میں آئے، بستی والوں سے کھانا مانگا، کسی نے کھانا نہیں دیا نہ ہماری میزبانی کی ( اور آپ نے ان کی دیوار ٹھیک کردی) اگر آپ چاہتے تو اس کی مزدوری ان سے لے سکتے تھے۔
خضر (علیہ السلام) نے کہا اب میرے اور آپ کے درمیان فراق ہے ( اس کے بعد اپنی تینوں حرکتوں کی مصلحت و حکمت بیان کی) اور کہا یہ ان باتوں کی تشریح ہے جن کو پوچھے بغیر آپ رہ نہ سکے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کاش ! موسیٰ (علیہ السلام) صبر کیے رہتے ( اور آئندہ اور واقعات ظہور پذیر ہوتے) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہم کو ان کی تفصیل سے آگاہ فرماتا۔
” ذلک تاویل مالم تستطیع علیہ صبرا “ سعید بن جبیر ؓ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ یہ پڑھا کرتے تھے کہ ان کے سامنے ایک بادشاہ تھا جو ہر نیک صالح شخص کی کشتی کو چھین لیتا تھا اور حضرت ابن عباس ؓ پڑ تھے تھے کہ رہا غلام وہ تو کافر تھا اور اس کے والدین مومنین تھے۔
سعید بن جبیر ؓ سے ایک اور روایت مروی ہے کہ جو ابن عباس ؓ نے ابی بن کعب ؓ سے نقل کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کھڑے ہوئے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے لگے۔ جب قوم والوں کے آنسو بہنے لگے اور ان کے دل کمزور پڑگئے تو ایک آدمی سامنے آیا اور اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) آپ سے زیادہ بھی اس دنیا میں کوئی عالم ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا کہ نہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا کیونکہ اس نہ جاننے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں نہیں فرمائی۔ ان سے کہا گیا کہ کیوں نہیں میرا بندہ خضر ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا کہ وہ کہاں ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا دو دریائوں کے ملنے کی جگہ۔ فرمایا کہ لو ایک مچھلی۔ جب اس کے اندر روح پھونکی جائیتو سمجھ لینا کہ یہی تمہارا ٹھکانا ہے اور ایک روایت میں آیا کہ ان سے کہا گیا کہ ایک بھنی ہوئی مچھلی لیں جہاں پر آپ وہ مچھلی گم پائیں وہ مطلوبہ جگہ ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مچھلی لی اور اس کو اپنے توشہ دان میں رکھا۔ اس کی تفسیر اس آیت میں مذکور ہے۔ ” واذ قال موسیٰ لفتاہ “ اس سے مراد حضرت یوشع بن نون ہیں۔ ” لا ابرح “ میں ہمیشہ سفر کرتا رہوں گا۔ ” حتی ابلغ مجمع البحرین “ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد بحر فارس، بحر روم ہے جو مشرق کی جانب ہے۔
محمد بن کعب نے کہا کہ اس سے مراد طبخہ ہے۔ حضرت ابی بن کعب ؓ کے نزدیک افریقیہ مراد ہے۔ ” او امضی حقبا “ اس سے مراد طویل زمانہ ہے۔ اس کی جمع احقاب، حقب اور حقبا آتی ہے۔ عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا کہ حقب اسّی (80) سال کو کہا جاتا ہے۔ اپنے توشہ دان میں روٹی اور بھی ہوئی مچھلی لی۔ یہاں تک کہ وہ اس چٹان پر پہنچے جہاں دو دریائوں کے ملنے کی جگہ ہے۔ وہاں رات کے وقت پہنچے۔ اس چٹان کے پاس نہر حیات تھی، اس کا پانی جس مردہ چیز پر پہنچ جاتا تو وہ زندہ ہوجاتی۔ جب اس مچھلی پر پانی پہنچا تو وہ توشہ دان میں تڑپی اور اچھل کر دریا میں چلی گئی۔
Ayah 18:61تفسیر (61)” فلما بلغ “ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور یوشع بن نون وہاں پہنچے۔ ” مجمع بینھما “ ان دونوں فریقوں کے ملنے کی جگہ پر یا دونوں ( دریائوں) کے درمیان۔ ” نسیا “ بھول گئے یعنی ان دونوں نے اس کو وہیں چھوڑ دیا۔ ” حوتھما “ وہ مچھلی حضرت یوشع کے پاس تھی جس کو وہ بھول گئے۔ نسیان کی اضافت ان دونوں کی طرف کردی کیونکہ ان دونوں نے سفر کے لیے زاد راہ باندھا تھا۔ جیسے کہاجاتا ہے فلاں لوگ سفر کو نکلے اور کھانے کے لیے انہوں نے کھانا ساتھ لے لیا حالانکہ ساتھ لینے والا اور اٹھانے والا صرف ایک آدمی ہوتا ہے لیکن رکھنے والے سب ہوتے ہیں۔ اس لیے سب کی طرف ساتھ لینے اور اٹھانے کی نسبت کردی جاتی ہے۔ ” فاتخذو “ بنا لیا مچھلی نے سوراخ ” سبیلہ فی البحر سربا “ راستہ بنالیا۔
حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مچھلی کے پانی میں چلے جانے کی وجہ سے اس پانی کو روک دیا گیا۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس راستے سے چلے جہاں سے مچھلی نے راستہ بنایا تھا۔ وہاں انہوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو پا لیا۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب مچھلی نے سمندر میں چھلانگ لگائی تو سمندر کا پانی اس کو نہیں لگا اور نہ ہی وہ پانی سے گیلی ہوئی۔ کلبی کا بیان ہے کہ یوشع بن نون نے نہر حیات کے پانی سے وضو کیا۔ اس وضو کا پانی مچھلی پر چھڑکائو کیا جس کی وجہ سے وہ زندہ ہوگئی اور پانی میں چلی گئی۔ وہ مچھلی جس طرف اپنا پَر مارتی تو وہ جگہ خشک ہوجاتی اور ایک روایت میں آتا ہے کہ جب یہ دونوں اس چٹان پر پہنچے تو ان دونوں کو نیند آگئی اور دونوں سو گئے۔ مچھلی توشہ دان میں تڑپی اور وہاں سے نکل گئی اور سمندر میں اپنا راستہ بنا لیا۔ اس مچھلی کے چلے جانے کی وجہ سے پانی میں خشک راستہ بنالیا، جب وہ اپنی نیند سے جاگے تو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی ان کو بتلانا بھول گئے۔ یہاں تک کہ دوسرا دن آگیا۔
Ayah 18:62(62)” فلما جاوزا “ اس جگہ اور وہ دو دریائوں کے ملنے کی جگہ ہے۔ ” قال “ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ” لفتاہ آئنا غداء نا “ ہمارا کھانا لے آئو، غذا اس کھانے کو کہتے ہیں جو صبح کے وقت کھایا جاتا ہے اور عشاء کہتے ہیں شام کے وقت کھانے کو۔
” لقد لقینا من سفرنا ھذ ا نصباً “ تھکاوٹ اور سختی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مقررہ پتھر سے آگے بڑھے تو اللہ کی طرف سے آپ پر بھوک کا دورہ پڑا تاکہ کھانے کی خواہش ہو اور مچھلی یاد آجائے اور اپنے مقصد کی طرف لوٹ آئیں۔ صحیحین کی حدیث میں آیا کہ جب تک مقررہ مقام سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آگے بڑھے نہیں تھے آپ کو تھکان نہیں ہوئی تھی۔
Ayah 18:63تفسیر (63)” قال “ خادم نے یاد کرکے کہا ” اراء یت اذا اوینا الی الضخرۃ “ وہ پتھر جس کے پاس ہم سوئے ہوئے تھے۔ معقل بن زیادہ کا قول ہے کہ وہ پتھر وہی تھا جو دریائے زیت سے ورے تھے۔
” فانی نسیت الحوت “ اس کو وہاں چھوڑ دیا اور گم کر آئے۔ حضرت یوشع بن نون نے جب یہ واقعہ دیکھا تو کھڑے ہوگئے تاکہ اس کی خبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بتلائیں، وہ اس پر بھول گئے یہاں تک کہ وہ ایک دن رکے رہے حتیٰ کہ دوسرے دن ظہر کا وقت آگیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کھانا طلب فرمایا تو حضرت یوشع بن نون کو مچھلی یاد آگئی اور آپ نے عذر پیش کیا۔
” وما انسانیہ الا الشیطان ان اذکرہ “ کہ مجھے اس مچھلی کے غائب ہونے کا واقعہ نہیں بھلایا مگر شیطان ہی نے۔ حفص (رح) نے اس کو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
” علیہ اللہ “ ھاء کے ضمہ کے ساتھ اور بعض نے کہا کہ مجھے بھلا دیا گیا کہ میں اس کو یاد کروں۔ ” واتخذ سبیلہ فی البحر عجباً “ یہ حضرت یوشع بن نون کا قول ہے کہ وہ کہنے لگے کہ اس مچھلی نے دریا میں راستہ بنالیا۔ جیسا کہ سرنگ بنا لی ہو وہ واقعہ عجیب تھا اور بعض روایات میں آتا ہے کہ اتخذ کی ضمیر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ یعنی مچھی کا سمندر کے اندر اپنا راستہ اختیار کرلینے کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عجیب سمجھا۔
گویا کہ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ تو بہت عجیب ہے۔
ابن زید کا قول ہے کہ انہوں نے اس واقعہ کا تعجب اس لیے کیا کہ اس کو کچھ زمانہ کھاتے رہے۔ یہاں تک کہ اس کا کچھ حصہ کھایا جاچکا تھا کہ وہ پھر سے زندہ ہوکر اس پانی میں چلی گئی۔
Ayah 18:64(64)” قال “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ” ذلک ماکنا نبغ “ کہ یہی ہماری مطلوب شدہ جگہ تھی۔ ” فارتد علی اثارھما قصصا “ وہ واپس اپنے اپنے قدموں کے نشانات کے بل لوٹے اور اس جگہ کو تلاش کرنے لگے۔ پھر انہوں نے اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ کو پالیا۔
بعض نے کہا کہ وہ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ تھا۔ صحیح وہی ہے جو تاریخ میں آیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس سے مراد حضرت خضر (علیہ السلام) ہیں اور ان کا نام بلیابن ملکان ہے۔ بعض نے کہا کہ یہ بنی اسرائیل میں سے تھے۔ بعض نے کہا کہ یہ شہزادہ تھے جو تارک الدنیا ہوگئے تھے اور خضر (علیہ السلام) لقب تھا۔
حضرت خضر (علیہ السلام) کو خضر کہنے کی وجہ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ خضر کو خضر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ خضر (علیہ السلام) جب خشک زمین پر خشک گھاس پر بیٹھ جاتے تو وہ سرسبز ہو کر لہلہانے لگتی تھی۔ مجاہد کا قول ہے کہ جس جگہ حضرت خضر (علیہ السلام) نماز پڑھتے تھے اس کے گرد اگر د سبزہ ہی سبزہ ہوجاتا تھا۔
ایک روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت خضر (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص کپڑا اوڑھے چت لیٹا ہے، کپڑے کا کچھ حصہ سر کے نیچے دبا ہے اور کچھ ٹانگوں کے نیچے اور ایک روایت میں ہے کہ اس وقت خضر (علیہ السلام) وسط سمندر میں ایک جھالر دار سبزمسند بچھائے نماز پڑے رہے تھے۔
Ayah 18:65تفسیر (65)” فوجد اعبدًا من عبادنا آتیناہ رحمۃ “ رحمت سے مراد نعمت ہے۔ ” من عندنا وعلمناہ من لدنا علماً “ اس سے مراد باطن کا علم ہے جو بطور الہام کے حاصل ہوتا ہے۔ اکثر اہل علم کے نزدیک حضرت خضر (علیہ السلام) نبی نہیں تھے کہا جائے گا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی اتباع کا حکم دیا گیا تھا۔
Ayah 18:66(66) ” قال لہ موسیٰ ھل اتبعک “ کہ آپ کی صحبت اختیار کرسکتا ہوں۔” علی ان تعلمن مما علمت رشدا “ ابو عمرویعقوب نے رشداً راء کے فتحہ اور شین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے راء کے ضمہ اور شین کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس سے مراد صوابًا ہے اور بعض نے کہا کہ ایسا علم جو راہ ہدایت پر لانے والا ہو۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے یہ بات کہی تھی ( ساتھ رہنے کی درخواست کی) تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا کہ علم کے لیے تو رات کافی ہے اور عمل کے لیے نبی اسرائیل کا مشغلہ کافی ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ نے مجھے اس کا حکم دیا ہے۔ ( حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے اس کلام میں ادب و تہذیب کو ملحوظ خاطر رکھا) ۔
Ayah 18:67(67)” قال “ حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا ” انک لن تسطیع معی صبرا “ حضرت خضر (علیہ السلام) نے اس کا سختی سے انکار کیا کیونکہ جب وہ ایسے امور منکرہ کو دیکھیں گے تو ضرور تردید کریں گے اور انبیاء (علیہم السلام) کے لیے جائز نہیں کہ وہ منکرات کو دیکھ کر خاموش رہیں اور اسی پر صبر کریں۔ پھر اپنے عذر کو بیان کریں، صبر کے ترک کرنے کے باعث۔ ان کو کہا۔
Ayah 18:68(68)” وکیف تصبر علی مالم تحط بہ خبراً “ اس سے مراد علم ہے۔
Ayah 18:69(69)” قال “ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ” ستجدنی ان شاء اللہ صابرا “ یہاں پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے استثاء فرمایا کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم تھا کہ وہ منکربات پر صبر نہیں کرسکتے۔ ” ولا اعصی لک امرا “ اور میں آپ کے حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا جس بات کا آپ حکم دیں گے۔
Ayah 18:70(70)” قال “ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا۔ ” فان اتبعتنی “ اگر آپ ہماری صحبت اختیار کریں گے تو اس کے لیے یہی شرط ہے کہ آپ ” فلا تسالنی “ ابو جعفر، نافع ، ابن عامر کے نزدیک لام کے فتحہ کے ساتھ اور نون کی تشدید کے ساتھ اور دوسرے قراء نے سکون اللام اور نون کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔
” عن شیئ “ میں کوئی ایسا کام کروں جو آپ کو ناگوار گزرے اور آپ کو اس بات پر اعتراض ہو۔” حتی احدث لک منہ ذکراً “ حتیٰ ابتدائیہ ہے۔ جب تک اس کام کی وجہ میں خود آپ کو نہ بتلا دوں۔
Ayah 18:71(71)” فانطلقا “ یہاں تک کہ وہ ساحل کے کنارے کنارے کشتی کی تلاش میں چلے گئے۔ بالآخر کشتی مل گئی اور اس میں دونوں سوار ہوگئے۔ اس کشتی میں جو لوگ سوار تھے وہ کہنے لگے کہ یہ دونوں چور ہیں۔ ان کو کشتی سے نکال دو ، کشتی کے مالک نے کہا یہ لوگ چور نہیں ہیں مجھے ان کے چہرے انبیاء (علیہم السلام) کے چہرے معلوم ہوتے ہیں۔
حضرت ابی ابن کعب ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک کشتی ان کی طرف سے گزری۔ موسیٰ اور خضر (علیہا السلام) نے کشتی والوں سے سوار کرلینے کی درخواست کی۔ کشتی والوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو پہچان لیا اور بلا کر ایہ دونوں کو سوار کرلیا۔
جب کشتی دریا کے درمیان موجوں میں پہنچی تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے بسولے کے ذریعے ایک تختہ کو اکھاڑ دیا۔ یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ” حتیٰ اذا رکبا فی السفینۃ خرقھا قال “ ان کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا۔ ” اخرقتھا لتغرق اھلھا “ حمزہ اور کسائی نے ” لیغرق “ پڑھا ہے یاء اور اء کے فتحہ کے ساتھ۔
” اھلھا “ کو مرفوع پڑھا ہے اور دوسراے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور تاء کے ضمہ کے ساتھ اور راء کے کسرہ کے ساتھ۔ ” اھلھا “ کو منصوب پڑھا ہے۔ ” لقد جئت شیء امرا “ اس سے مراد منکر ہے۔
عربی زبان میں امراً کا معنی ہے بڑی مصیبت ہر بڑی سخت چیز۔ ہر وہ چیز جو بڑی اور کثیر ہو۔ بولا جاتا ہے ” امر القوم “ جب وہ کثرت ہوجائے اور ایک کام پر شدت اختیار کرلے۔
قتیی کا قول ہے کہ ” امرا “ کا معنی ہے تعجب، روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت خضر (علیہ السلام) نے کشتی کو توڑا تو اس میں پانی داخل نہیں ہوا اور ایک روایت میں آتا ہے کہ جب اس جگہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پھٹا ہوا دیکھا تو فوراً اس میں کپڑا ڈال دیا اور ایک روایت میں آتا ہے کہ خضر (علیہ السلام) نے ایک بڑا پیالہ لے کر کشتی کے سوراخ پر ڈھانک دیا۔ پیالہ سوراخ میں اٹک گیا اور پانی اندر نہ آسکا۔
Ayah 18:72تفسیر (72)” قال “ حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا ” الم اقل انک لن تسطیع معی صبرا “
Ayah 18:73(73) ” قال “ موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا۔ ” لاتو اخذنی بما نسیت “ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھولے نہیں تھے۔ نسیان کا تذکرہ ضمنی طور پر آگیا۔
گویا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کچھ اور بھولے تھے اور بعض کا قول ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ جو میں نے آپ کے ساتھ عہد کیا تھا اس عہد کو بھول جانے کا فرمایا۔ ابی بن کعب ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پہلی مرتبہ بھول گئے اور دوسری مرتبہ بطور شرط رکھ لی اور تیسری مرتبہ قصداً کیا۔
” ولا ترھقنی “ اس پر مجھے مشقت میں نہ ڈالئے۔ ” من امری عسراً “ کہا گیا کہ مجھے تکلف میں نہ ڈالئے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” ارھقہ عسراً “ مشکل کام کا مکلف نہ بنائیے، مطلب یہ ہے کہ میرے اس کام کی وجہ سے مجھ سے تنگ دل نہ ہوجائیے اور میرے ساتھ آسانی والا معاملہ کیجئے اور تنگی والا میرے ساتھ برتائو نہ کیجئے۔
Ayah 18:74(74)” فانطلقا حتی اذا لقیا غلاماً فقتلہ “ جب وہ دونوں سمندر سے باہر نکلے تو پیدل چلنے لگے۔ یہاں تک کہ دو لڑکوں کے پاس سے گزرے جو کھیل میں مصروف تھے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے اس لڑکے کو پکڑ ا جس کا چہرہ بارونق، حسین اور خوش کلام تھا۔ اس کو لٹایا اور ذبح کردیا۔ سدی کا قول ہے کہ وہ سب سے زیادہ حسین تھا۔ اس کا چہرہ چمکیلا تھا۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ اس کو سر سے پکڑ ا اور اپنے ہاتھ کے ساتھ اس کا سر جسم سے جدا کردیا۔
عبدالرزاق کی روایت کے مطابق اس کا سر ہاتھ کی انگلیوں کے اشارے سے جدا کردیا۔ تین انگلیاں ابہام، سبابہ اور وسطی ہیں۔ اس طرح اس کا سر جدا ہوگیا اور ایک روایت میں آتا ہے کہ اس کا سر پتھر سے کچل دیا اور بعض نے کہا کہ اس کا سر دیوار پر مار کر اس کو قتل کردیا۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ وہ لڑکا نابالغ تھا۔
قرآن مجید کے لفظ غلام سے یہی معلوم ہورہا ہے۔ ابن عباس ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ” اقتلت نفسا ذکیۃ “ کہ آپ نے معصوم جان کو قتل کردیا۔ اگر وہ نابالغ بچہ نہ ہوتا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ” نفسا ذکیۃ “ نہ فرماتے۔ حسن کا قول ہے کہ وہ پورا مرد تھا۔ کلبی نے کہا کہ وہ جوان تھا جو راستہ لوٹتا تھا اور پھر اپنے والدین کے پاس پناہ گزین ہوجاتا تھا۔ ضحاک کا قول ہے کہ وہ لڑکا تھا جو بگاڑ کا کام کرتا تھا اور ماں باپ اس سے دکھ پاتے تھے۔
حضرت ابی ابن کعب ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ غلام جس کو حضرت خضر (علیہ السلام) نے قتل کیا تھا وہ سرشتی کافر تھا۔ اگر زندہ رہتا تو ماں باپ کو اللہ کی نافرمانی اور کفر میں مبتلا کردیتا۔” قال “ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ” اقتلت نفسا ذکیۃ “ ابن کثیر، نافع، ابو جعفر اور ابو عمرو کے نزدیک ” ذاکیۃ “ ہے اور دوسرے قراء نے ” ذکیۃ “ پڑھا ہے۔ کسائی اور فراء کا قول ہے کہ یہ دونوں لفظ ہم معنی ہیں۔ ابو عمر بن علاء کا بیان ہے کہ ” ذاکیۃ “ وہ نفس معصوم جس نے گناہ نہ کیا ہو اور ” ذکیۃ “ وہ نفس جس نے گناہ کے بعد توبہ کرلی ہو۔ ( بغیر نفس) اس نے ایسا کوئی فعل سرزد نہیں کیا جو موجب قصاص ہو۔
” لقد جنت شیاً نکراً “ اس سے مراد منکر ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ نکر کی برائی امر سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے پہلی بار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے امراً فرمایا، کشتی کو توڑنے سے صرف لوگوں کو ڈوبنے کا خطرہ تھا اور دوسری مرتبہ نکراً فرمایا کیونکہ اس میں حقیقتاً قتل کا صدور ہوچکا تھا۔
بعض نے کہا کہ امر کا درجہ نکراً سے بڑھ کر ہے کیونکہ کشتی توڑنے سے ایک جماعت کے ڈوبنے کا خطرہ تھا۔ اس لیے وہ امراً فرمایا اور دوسری باری صرف ایک شخص کا قتل تھا اس لیے نکراً کہا۔
Ayah 18:75تفسیر (75)” قال “ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا ” الم اقل لک انک لن تسطیع معی صبرا “ یہاں تاکید میں مزید زیادتی کی ہے کیونکہ نقض عہد دو مرتبہ ہوچکا تھا۔ حضرت یوشع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہر مرتبہ یہی فرماتے تھے کہ اپنے اس وعدہ کو یاد کریں جو آپ نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے کیا تھا۔
Ayah 18:76(76)” قال “ موسیٰ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا ” ان سالتک عن شیء بعدھا “ اس مرتبہ کے بعد۔ ” فلا تصاحبنی “ آپ مجھے اپنے آپ سے جدا کرلینا۔ یعقوب نے اس کو پڑھا ” فلا تصاحبنی “ بغیر الف کے مصاحبت سے ماخوذ ہے۔ ” قد بغلت من لدنی عذرا “ ابو جعفر، نافع اور ابوبکر نے ” من لدنی “ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے حضرات نے اس کو تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن عباس ؓ کا بیان ہے۔ اگر میں آپ کے سامنے عذر بیان کروں جو میں نے اور تمہارے درمیان عہد کیا ہے۔ کہا گیا کہ میں پھر ڈرتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ میری طرف سے عذر قبول نہ فرمائیے گا۔
حضرت ابن بن کعب ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہم پر اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ کی رحمت ہو۔ اگر وہ عجلت سے کام نہ لیتے تو عجیب واقعات دیکھتے لیکن ان کو اپنے ساتھی سے شرم آئی اور انہوں نے ” ان سالتک عن شیء بعدھا فلا تصاحبنی قد بلغت من لدنی عذرا “ فرمایا۔
Ayah 18:77(77)” فانطلقا حتی اذا اتیا اھل قریۃ “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد انطا کیہ بستی ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ یہ ایک ایکہ بستی تھی، کسی نے اس کا نام برقہ کہا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ اندلس میں ایک شہر تھا وہی مراد ہے۔ ” استطعما اھلھا فابو ا ن یضیفو ھما “ حضرت ابی بن کعب ؓ کی روایت ہے۔ بیان کیا ہے کہ اس بستی والے کنجوس تھے، دونوں حضرات ان کے پاس پہنچے، ان کی مجلسوں میں گشت کیا اور کھانا طلب کیا لیکن انہوں نے نہیں دیا۔ حق مہمانی طلب کی تو کسی نے مہمان بھی نہ بنایا۔ حضرت قتادہ کا بیان ہے کہ وہ بد ترین بستی ہے جو مہمانوں کی میزبانی نہ کرے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے فرماتے ہیں کہ دونوں بزرگوں نے بستی کے مردوں سے کھانا طلب کیا لیکن کسی نے نہیں دیا۔ آخر عورتوں سے مانگا تو ایک عورت نے دے دیا۔ اس پر دونوں نے وہاں مردوں پر لعنت کی۔ یہ عورت بربر والوں میں سے تھی۔ ” فوجدافیھا جداراً یرید ان ینقض “ وہ دیوار گر چکی تھی، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جو چیز کسی کے قرب میں واقع ہو، اس کا وہی حکم لگا دیتے ہیں، وہ دیوار گری نہیں تھی بلکہ گرنے کے قریب تھی۔ عرب بولتے ہیں کہ میرا گھر اس کے گھر کو دیکھتا ہے یعنی دونوں آمنے سامنے ہیں۔ ” فاقامہ “ اس کو سیدھا کردیا۔
حضرت ابی بن کعب ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ خضر (علیہ السلام) نے ہاتھ کے اشارے کے ساتھ دیوار کو سیدھا کردیا۔ سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے کہ دیوار کو ہاتھ لگادیا، فوراً دیوار سیدھی ہوئی۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے اس دیوار کو گرار کر دو بار از سر نو تعمیر کردیا۔ سدی (رح) کا قول ہے کہ انہوں نے پہلے گارا بنایا، پھر دیوار کو بنادیا۔
” قال “ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا۔ ” لو شئت لا تخذت علیہ اجراً “ ابن کثیر، ابو عمرو اور یعقوب نے ” لتخذت “ پڑھا ہے۔ تاء کی تخفیف کے ساتھ اور خاء کے کسرہ کے ساتھ اور دوسرے قراء نے ” لتخذت “ تاء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور خاء کے فتحہ کے ساتھ۔ اس میں دونوں لغات ہیں۔ اس دیوار کی اصلاح میں اگر آپ چاہتے ہیں تو ان سے اجرت لے لیتے۔ ” اجرا “ اس کی بدل قیمت کہ آپ جانتے ہیں کہ اس بستی کے لوگ کنجوس ہیں۔ انہوں نے ہماری مہمانی نہیں کی، اگر آپ چاہتے تو اس کام کے بدلے میں ان سے اجرت لے لیتے۔
Ayah 18:78تفسیر (78)” قال “ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا ” ھذا فراق بینی وبینک “ یہ میری اور آپ کی جدائی کا قوت ہے۔ بعض نے کہا کہ آپ کا یہ تیسرا اعتراض کرنا آپ کی اور میری جدائی کا سبب ہے۔ زجاج کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے کہ یہ ہمارے درمیان جدائی ہے۔ یعنی ہمارے اکھٹے رہنے سے جدائی کا وقت آگیا۔ ” سانبئک “ میں عنقریب آپ کو اس بات کی خبردوں گا ۔ ” ب تاویل مالم تسطیع علیہ صبرا “ بعض تفاسیر کی کتب میں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چلنے سے پہلے حضرت خضر (علیہ السلام) کا دامن پکڑ لیا اور کہا ا ن واقعات کا جو علم اللہ نے آپ کو دیا ہے جدا ہونے سے پہلے مجھے بھی بتائیے۔ اس پر حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا۔
Ayah 18:79(79)” اما السفینۃ فکانت لمسا کین یعملون فی البحر “ کعب کا بیان ہے کہ یہ کشتی دس غریبوں کی تھی جو بھائی بھائی تھے، پانچ تو اپاہج تھے اور پانچ کام کرتے تھے۔ آیات سے واضح ہوتا ہے کہ مسکین کا اطلاق اس شخص پر بھی ہوتا ہے جس کے پاس مال تو ہو مگر ناکافی ہو، بقدر ضرورت نہ ہو اصلی ضرورتوں سے زائد نہ ہو۔ وہ دریا میں کشتی کے ذریعے کمائی کرتے تھے۔ ” فاردت ان اعیبھا “ اس کو عیب دار بنادیا۔ ” وکان وراء ھم “ ان کے سامنے۔ ” ملک “ جیسا کہ کہاجاتا ہے ” من وراء ہ جھنم “ ان کے پیچھے اور بعض کے نزدیک اس کا معنی ہے آگے۔ واپسی میں اس ظالم بادشاہ کی حدود سے ان کو گزرنا تھا ۔ اول تفسیر صحیح ہے۔ حضرت ابن عباس ری اللہ عنہا کی قرأت میں ” ورائھم “ کی جگہ ” امامھم “ آیا ہے۔ ” یاخذ کل سفینۃ غصبا “ ہر وہ کشتی جو صحیح سلامت ہو اس کو وہ قبضہ میں لے لیتا تھا۔
ابن عباس ؓ اس کو اس طرح پڑھتے تھے ” فخر قھا وعیبھا الخضر “ تاکہ اس کشتی کو ظالم بادشاہ اپنے قبضہ میں لے نہ لے۔ اس ظالم بادشاہ کا نام جلندی تھا اور وہ کافر تھا۔ محمد بن اسحاق نے متولہ بن جلندی ازدی لکھا ہے اور شعیب جبائی نے ہددبن بدد ذکر کیا ہے۔
روایت میں آتا ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے کشتی توڑنے کی وجہ بطور معذرت کشتی والوں کے سامنے بیان کی اور ظالم بادشاہ کے واقعہ کی اطلاع دی۔ خضر (علیہ السلام) کے بتلانے سے پہلے ان کو کچھ معلوم نہ تھا۔ جب اس بادشاہ کی حدود سے کشتی والے آگے بڑھ گئے تو انہوں نے کشتی کو درست کرلیا، کسی نے کہا کہ روغن قیر کا پالش کرلیا۔ بعض نے کہا کہ سوراخ میں شیشہ لگا لیا۔
Ayah 18:80(80)” واما الغلام فکان ابواہ مومنین فخشینا “ مجھے علم ہوا یا مجھے اندیشہ ہوا۔ ابن عباس ؓ کی قرأت میں ” واما الغلام فکان کافراً و کان ابواہ مومنین فخشینا “ پڑھتے ہیں۔ ” ان یرھقھما “ ان دونوں کو ڈھانپ دے۔ کلبی کا بیان ہے کہ ہم اس کو مکلف بنادیں۔” طغیاناً و کفراً “ سعید بن جبیر ؓ کا بیان ہے مطلب یہ ہے کہ مجھے اس بات کا اندیشہ ہوا کہ وہ لڑکا اپنے ماں باپ کو اپنی محبت میں اپنے دین کا پیروکار بنالے۔
Ayah 18:81(81)” فاردنا ان یبدلھما ‘ ‘ ابو جعفر، نافع اور ابو عمرد نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ اسی طرح سورة تحریم میں اور سور ۃ قلم میں اور دوسراے قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور اس میں دونوں لغات جائز ہیں اور اس میں بعض حضرات نے یہ فرق بیان کیا کہ تبدیل عام ہے۔ نفس شئی کو ہی بدل دینا یا اس کی حالت کو بدل دینا دونوں کو تبدیل کہتے ہیں اور ابدال اصل شئی کو بدلنے کو کہتے ہیں۔ ” ربھما خیراً منہ زکاۃ “ اس کی اصلاح اور اس کا تقویٰ ۔
” واقرب رحما “ ابن عامر، ابو جعفرو یعقوب نے حاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرائے قراء کے نزدیک جزم پڑھا ہے۔ اس صورت میں یہ رحمت پر عطف ہوگا اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد رحم اور قرابت داری ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ بڑا صلہ رحم کرنے والا اور ماں باپ کا بڑا فرمانبردار، خدمت گزار۔ کلبی کا بیان ہے کہ اللہ نے اس لڑکے کے عوض اس کے والدین کو ایک لڑکی عطا فرمائی جس سے ایک پیغمبر نے نکاح کیا اور اس کے بطن سے ایک نبی پیدا ہوئے جس نے ایک امت کو ہدایت یافتہ بنادیا۔ حضرت جعفر بن محمد نے فرمایا کہ اللہ نے والدین کو ایک لڑکی دس جس کی نسل سے ستر پیغمبر پیدا ہوئے۔ ابن جریج نے کہا کہ اس عوض اللہ نے ایک فرمانبردار مسلم لڑکا عنایت کیا۔ مطرف نے کہا کہ جب وہ لڑکا پیدا ہوا تھا تو اس کے ماں باپ خوش ہوئے تھے، پھر جب وہ قتل ہوگیا تو والدین کو غمہوا۔ اگر وہ زندہ رہتا تو ماں باپ کی تباہی یقینی تھی۔ آدمی کو چاہیے کہ اللہ کے حکم پر راضی رہے۔ اللہ مومن کے لیے اگر ناگوار فیصلہ بھی کرتا ہے، تب بھی مومن کے لیے اس بات سے بہتر ہوتا ہے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
Ayah 18:82یتیم غلاموں کے نام اور خزانہ کس چیز کا تھا
(82)” واما الجدار فکان لغلامین یتیمین فی المدینۃ “ ان دونوں لڑکوں کا نام اصرم اور صریم تھا۔ ” وکان تحتہ کنزلھما “ کنز کا ترجمہ و تفسیر میں آئمہ کا اختلاف ہے۔ حضرت ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سونے، چاندی کا خزانہ تھا۔ عکرمہ کا قول ہے کہ یہ مال تھا۔ سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے کہ وہ کنز کچھ صحیفوں کی شکل میں تھا جس میں علم تھا۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا وہ کنز سونے چاندی کا نہ تھا بلکہ علمی صحیفے تھے اور ابن عباس ؓ کا دوسرا قول یہ ہے کہ وہ سونے کی ایک تختی تھی جس میں تحریر تھا تعجب ہے کہ جس کا موت پر یقین ہو وہ خوش کیسے ہوتا ہے۔ تعجیب ہے کہ جس کا تقدیر پر یقین ہو وہ رنجیدہ کیونکر ہوتا ہے۔ تعجب ہے کہ جس کو رزق ملنے کا یقین ہو وہ تھکتا کیوں ہے۔ تعجب ہے کہ جس کو حساب پر یقین ہے وہ غافل کیسے رہتا ہے۔ تعجب ہے کہ جو زوال دنیا کا یقین رکھتا ہے وہ دنیا پر مطمئن ہوکر کیسے بیٹھ جاتا ہے۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔ تختی کی دوسری طرف لکھا تھا میں ہی اللہ ہوں، میں اکیلا ہوں، میرا کوئی ساجھی نہیں۔ میں نے خیرو شرکو پیدا کیا، خوشی ہے اس شخص کے لیے جس کو میں نے خیر کے واسطے پیدا کیا اور اس کے ہاتھوں سے خیر کو جاری کرایا اور ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جس کو میں نے شر کے لیے پیدا کیا اور شرکو اس کے ہاتھوں سے جدا کیا۔
زجاج کا قول ہے اگر کنز بےقیدبولا جاتا تو اس سے مالی خزانہ مراد ہوتا ہے اور قید کے ساتھ بولا جاتا ہے تو دوسری چیزوں کا خزانہ بھی مراد ہوتا ہے۔ جیسے کنز العلم علم کا خزانہ اور تختی میں یہ دونوں باتیں موجود تھیں۔
ابوھما صالحاً سے کون مراد ہے
’ ’ وکان ابوھما صالحا “ بعض نے کہا کہ اس کا نام کاشح تھا اور یہ بزرگوں میں سے تھا۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ باپ کی نیکی کی وجہ سے ان دونوں یتیموں کی حفاظت کی گئی۔ بعض نے کہا کہ یہ مرد صالح دونوں یتیموں کا باپ نہیں تھا بلکہ ساتواں دادا تھا۔ محمد بن منکدر کا بیان ہے کہ بنے کے نیک ہونے کے سبب اللہ اس کی اولاد، اولاد کی اولاد، کنبہ، خاندان اور ہمسایوں کی حفاظت فرماتا ہے۔ سعید بن المسیب کا بیان ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور اولاد کا خیال آجاتا ہے تو نماز اور بڑھادیتا ہوں۔
” فارادربک ان یبلغا اشدھما “ کہ وہ دونوں بھرپور جوانی کو پہنچ جائیں اور عقل و شعور حاصل ہوجائے۔ بعض نے کہا کہ وہ کامل قوت اور کمال رشد تک پہنچ جائے۔ بعض نے کہا کہ وہ اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچ جائے۔
” و یستخرجا کنزھما رحمۃ “ اس وقت ان دونوں کے لیے خزانے کی نعمت نکالے۔
” من ربک وما فعلتہ عن امری “ میرے اختیار اور میری رائے سے یہ کام نہیں کیا بلکہ اپنے رب کی طرف سے اختیار کیا۔ ” ذلک تاویل مالم تسطع علیہ صبرا “ جو اس پر طاقت نہ رکھے صبر کرنے کی۔ تستطع اور تسطع دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ روایت میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت خضر (علیہ السلام) سے جدا ہونے لگے تو فرمایا مجھے کچھ نصیحت فرمائیے ؟ حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا علم کی طلب لوگوں سے بیان کرنے کے لیے نہ کرنا بلکہ عمل کرنے کے لیے علم کی طلب کرنا۔
( خضر (علیہ السلام) اب زندہ ہیں یا نہیں ؟ )
اس بارے میں آئمہ کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) و حضرت الیاس (علیہ السلام) دونوں زندہ ہیں۔ ہر سال دونوں حج کرنے کے لیے آتے ہیں اور وہاں دونوں کی ملاقات ہوتی ہے۔ خضر (علیہ السلام) نے آب حیات پی لیا تھا۔ ذوالقرنین جب آب حیات کی تلاش میں ظلمات میں داخل ہوا تو خضر (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ لے گیا۔
خضر (علیہ السلام) ہر اول دستے میں آگے آگے تھے، چلتے چلتے خضر (علیہ السلام) چشمہ پر پہنچ گئے، اُتر کر انہوں نے چشمے کے پانی سے غسل کیا اور کچھ پی لیا اور اللہ کا شکر ادا کیا، ذوالقرنین راستہ بھول گیا اور کام واپس آیا۔
اکثر علماء کا خیال ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) وفات پا گئے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” وما جعلنا لبشرمن قبلک الخلد “ آپ سے پہلے ہم نے کسی انسان کو بقاء دوامی نہیں دی۔ ایک رات عشاء کی نماز کے بعد نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے تمہاری یہ رات دکھا دی گئی آج سے آئندہ سو برس کی انتہاء تک ہر وہ شخص جو اس وقت روئے زمین پر زندہ ہے مرجائے گا زندہ نہیں رہے گا۔ اگر حضرت خضر (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو اس کے بعد وہ وفات پاچکے ہوتے۔
Ayah 18:83تفسیر (83)” ویسالو نک عن ذی القرنین قل ساتلو ا علیکم منہ ذکرا “ اس سے خبر مراد ہے
ذی القرنین کون تھے
ذی القرنین کی نبوت کے متعلق آئمہ مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض حضرات کے نزدیک یہ نبی تھے۔ ابو طفیل کا بیان ہے کہ حضر ت علی ؓ سے ذوالقرنین کے متعلق دریافت کیا گیا کہ وہ نبی تھے یا بادشاہ تھے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ وہ نہ نبی تھے اور نہ ہی بادشاہ تھے، وہ ایک ایسا بندہ تھا جو اللہ سے محبت کرتا تھا اور اللہ اس سے محبت کرتا تھا۔ اس نے اللہ کی فرمانبرداری خلوص سے کی، اللہ نے اس کو خیر عطا فرمائی۔
ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے سنا ایک شخص دوسرے کو ذوالقرنین کہہ کر پکار رہا تھا۔ فرمایا پیغمبروں کے نام پر اپنے نام رکھنے پر تم نے قناعت نہیں کی کہ اب فرشتوں کے نام پر اپنے نام رکھنے لگے ہو اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ وہ فرشتہ عادل و صالح تھا۔
ذی القرنین کی وجہ تسمیہ
ذی القرنین کی وجہ تسمیہ میں آئمہ کرام کے مختلف اقوال ہیں۔ زہری کا قول ہے کہ یہ آفتاب کے دو کنارے ہیں مشرق اور مغرب، ذوالقرنین دونوں کناروں پر جا پہنچا۔
اور بعض نے کہا کہ روم اور فارس دونوں کا بادشاہ تھا۔ بعض نے کہا کہ وہ روشن دنیا میں بھی رہا اور ظلمات میں بھی داخل ہوا۔ انہوں نے خواب دیکھا تھا کہ آفتاب کے دونوں کنارے اس نے پکڑ لیے ہیں۔ یا ان کے دو خوبصورت گیسو تھے۔ اس کی وجہ سے ان کو ذوالقرنین کہا جاتا تھا۔ ان کے دو سینگ تھے جن کو عمامہ سے چھپائے رکھتے تھے۔
ابو الطفیل کا بیان ہے کہ حضرت علی ؓ نے ذوالقرنین کی وجہ تسمیہ یہ بیان فرمائی کہ اس نے اپنی قوم کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کی، قوم نے ان کے سر کے دائیں طرف چوٹ ماری کہ وہ مرگیا اور اللہ نے اس کو زندہ کردیا اور اس نے قوم کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کی، قوم نے پھر اس کے سر کے بائیں جانب ایسی ضرب لگائی کہ وہ مرگیا مگر اللہ نے پھر اس کو زندہ کردیا۔
ان کا نام کیا تھا
ان کے نام میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض حضرات نے کہا کہ ان کا نام مرزبان بن مربۃ یونانی تھا۔ یہ یونان میں یافث بن نوح کی اولاد میں سے تھے۔ بعض نے کہا کہ وہ رومی شخص تھا، سکندر بن قبلیس بن فیلقوس نام تھا۔ بعض نے کہا کہ سکندر بن فیلفوس بن یا ملوس رومی تھا۔
Ayah 18:84(84)” انا مکنا لہ فی الارض “ زمین کو ان کے لیے وطن ٹھہرنے کی جگہ بنایا۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ بادل کو ذوالقرنین کے حکم کے تابع بنادیا گیا تھا۔ ابر پر وہ سوار ہوتا تھا، اس کے ذرائع دراز کردئیے گئے تھے۔ اس کے لیے روشنی پھیلا دی گئی تھی، رات دن اس کے لیے برابر تھے، زمین پر رفتار اس کے لیے آسان کردی گئی تھی اور سارے راستے اس کے لیے کھول دئیے گئے تھے۔ ” وآتینا ہ من کل شئی “ ہر وہ چیز جس کی طرف مخلوق محتاج ہوتی ہے وہ سب کچھ ہم نے اس کو عطا کردیا تھا یا بادشاہوں کو دشمنوں سے لڑنے اور ملک فتح کرنے میں جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب ذوالقرنین کو ہم نے دے دی تھی۔ ” سیا “ جس طرح کا وہ ارادہ رکھتے تھے اس کی طرف اسباب مہیا کردیتے تھے۔ یہاں تک کہ زمین کے تمام کنارے اس کے قریب کردئیے۔ حسن کا قول ہے کہ مقصد تک پہنچنے کے لیے جو اسباب ہم نے ذوالقرنین کو دے دئیے تھے۔
Ayah 18:85(85)” فاتبع سیا “ میں برابر اس کے پیچھے چلتا رہا۔ یہاں تک کہ اس کو پہنچ گیا۔ اہل حجاز اور بصرہ نے ” فاتبع ثم اتبع “ موصولاً اور تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے الف کے بغیر ” فتبع “ پڑھا ہے۔ بعض نے کہا کہ دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ بعض نے ان دونوں سورتوں میں معنی کے اندر فرق بیان کیا ہے جو حضرات بغیر الف کے پڑھتے ہیں ان کے نزدیک اس کا معنی ہے پانا ملنا اور جن حضرات کے نزدیک تشدید کے ساتھ ہے، ان کے ساتھ اس کا معنی ہے سار جیسا کہ کہا جاتا ہے ” مازلت اتبعۃ حتی اتبعتہ “ میں نے برابر اس کا پیچھا کیا یہاں تک کہ اس تک پہنچ گیا۔ بعض نے کہا کہ ” سیا “ سے مراد طریقہ ہے۔ ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ اس سے مراد منزل ہے۔
Ayah 18:86(86)” حتیٰ اذا بلغ مغرب الشمس وجدھا تغرب فی عین حمٔتہ “ ابو جعفر، ابو عامر، حمزہ اور کسائی نے اور ابوبکر نے ” حامیۃ “ پڑھا ہے۔ الف کے ساتھ بغیر ہمہ کے۔ اس سے مراد گرمی ہے اور دوسرے قراء نے ” حمئۃ “ پڑھا ہے۔ ہمزہ کے ساتھ بغیر الف کے ساتھ ( ذات حماۃ) اس سے مراد کالا گارا۔
حضرت معاویہ ؓ نے کعب احبار سے پوچھا سورج کیسے غروب ہوتا ہے ؟ تورات میں تم نے اس کے متعلق کیا پڑھا ہے۔ کعب نے کہا کہ ہم نے تورات میں پایا ہے کہ سورج، پانی اور کیچڑ میں غروب ہوتا ہے۔ قتیی کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب ” فی عین حمۃ “ کہ سورج کو دلدل میں ڈوبتا محسوس کیا۔ ” ووجد عندھا قوما “ اس چشمے کے پاس ایک قوم کو پایا۔ ابن جریج کا بیان ہے کہ وہ ایک شہر تھا جس کے بارہ دروازے تھے۔” قلنا یا ذوالقرنین “ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ ذوالقرنین نبی تھے ورنہ اللہ تعالیٰ اس طرح خطاب نہ کرتے۔ اصح یہی ہے کہ وہ نبی نہیں تھے۔ یہاں اس سے مراد الہام ہے۔ ” اما ان تعذب “ اگر تم چاہوتو اسلام نہ لانے کی صورت میں تم ان کو قتل کردو۔ ” واما ان تتخذ فیھم حسنا “ ان کو تم معاف کردو یا سزا دو یا تم ان کو ہدایت کی طرف دعوت دو جو تمہارے لیے بہتر ہو وہی اختیار ہے۔
Ayah 18:87قال اما من ظلم : ظلم سے مراد کفر ہے ” فسوف نعذبہ “ ہم اس کو قتل کردیں گے ۔ ” ثم یرد الی ربہ “ آخرت میں ” فیعذبہ عذابا نکرا “ آگ کا عذاب دے گا۔ دنیا میں اس کو قتل کرکے سزا دی جائے گی اور آخرت میں آگ کا عذاب۔
Ayah 18:88تفسیر (88)” واما من امن وعمل صالحاً فلہ جزاء الحسنیٰ “ حمزہ ، کسائی، ابو جعفر، یعقوب نے ” جزائ “ منصوب پڑھا ہے۔ ” ای فلہ الحسنی “ ان کو اچھا بدلہ دیاجائے گا۔ جزاء منصوب ہے مصدر ہونے کی وجہ سے۔ دوسرے حضرات نے مرفوع پڑھا ہے اضافت کی وجہ سے۔ حسنی سے مراد جنت ہے۔ حسنی کی اضافت اس طرح ہے جیسے فرمایا ” ولدار الاخرۃ خیر “ دار سے مراد آخرت کا گھر ہے۔ بعض نے کہا کہ حسنی سے مراد اعمال صالحہ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے اعمال صالحہ کا بدلہ ہے۔ ” و سنقول لہ من امرنا یسرا “ ان کی بات نرم اور ان کے ساتھ ہم نرمی والا معاملہ کریں گے۔ مجاہد کا بیان ہے کہ اس سے مراد ” یسرا “ آسانی ہے۔
Ayah 18:89(89) ثم اتبع سیا “ پھر اس کے راستے پر چلا اور منزل مقصود تک پہنچا۔
Ayah 18:90(90)” حتی اذا بلغ مطلع الشمس “ اس کے طلوع کی جگہ۔ ” وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل من دونھا سترا “ قتادہ اور حسن کا قول ہے کہ ان کے درمیان اور سورج کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں تھا کیونکہ وہ ایسی جگہ رہتے تھے کہ اس جگہ پر کوئی مکان کی عمارت ٹھہر نہیں سکتی۔ وہ سورج کی اوٹ میں رہتے تھے۔ جب سورج غروب ہوجاتا یا زوال ہوجاتاتو پھر اپنے کسب و معاش کے لیے نکلتے۔ حسن کا قول ہے کہ جب سورج طلوع ہوجاتا تو وہ پانی میں چلے جاتے اور جب وہ ان سے دور ہوجاتاتو پھر وہ نکلتے۔ کلبی کا بیان ہے کہ وہ قوم ننگی تھی وہ ایک کان کو بچھاتی تھی اور دوسرے کان کو اپنے اوپر اوڑھتی تھی۔