Ayah 18:19تفسیر 19 ۔ ” وکذلک بعثناھم “ جیسے ہم نے اصحاب کہف کو نیند سلایا اور ان کے جسموں کو سڑنے سے محفوظ رکھا اس طویل مدت میں۔ اسی طرح اس موت نما خواب میں ان کو بیدار کیا۔ ” لیتساء لوابینھم “ تاکہ وہ اس کے متعلق ایک دوسرے سے سوال کریں۔ ” لیتسالوا “ لازم سے لازم عاقبت مراد ہے۔ ان کے اٹھانے کا نتیجہ یہ ہے کہ انہوں نے باہم سوال و جواب کیے اصل غرض یہ نہ تھی۔ ” قال قائل منھم “ ان کے سردار مکسلمینا نے کہا ” کم لبثتم “ اس نیند سے۔ ان کو اس بات میں شک ہوا کہ طول نوم رہے۔ بعض حضرات نے کہا کہ زیادہ دیر سونے سے ان کی کچھ نمازیں فوت ہوگئی تھیں اس لیے انہوں نے بطور تعجب کے یہ بات کہی۔ ” قالوا لبثنا یوماً “ غار میں وہ صبح سے داخل ہوئے اور شام کو بیدار ہوئے۔ اس لیے انہوں نے دن بھر سوتے رہنا ظاہر کیا لیکن آفتاب ڈوبا نہ تھا یہ دیکھ کر کچھ کم ایک دن کہا۔ ” فقالوا “ اور وہ کہنے لگے جب انہوں نے اپنے بالوں اور اپنے ناخنوں کو دیکھا تو خیال کیا کہ ایک دن نہیں بلکہ ہم کو سوتے سوتے کوئی لمبی مدت ہوگئی۔ اس لیے ” قالوا ربکم اعلم بمالبثتم “ بعض نے کہا کہ ان کا سردار مکسلمینا نے ان کے اس اختلاف کو سنا تو کہنے لگا کہ اس اختلاف کو چھوڑو جتنی مدت اللہ کو منظور تھی ہمیں یہاں رکھا۔
” فابعثوا احدکم بورقکم ھذہ “ تملیخا کو چاندی کے کچھ سکے دے کر بھیجے۔ ابوعمر، حمزہ اور ابوبکر نے ” بورقکم “ راء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے راء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ورق چاندی ٹھپہ دار ہو یا سادہ۔ ” الی المدینۃ “ بعض نے کہا کہ طرسوس کے شہر بھیجا۔ اس کا زمانہ جاہلیت میں نام أفسوس تھا، اسلام میں اس کا نام طرسوس رکھا۔
” فلینظر ایھا أزکی طعامًا “ اس شہر کے رہنے والوں میں کون زیادہ حلال کھانا بیچتا ہے جو کسی سے چھینا ہوا نہ ہو اور کسی حرام ذریعہ سے حاصل کیا ہوا بھی نہ ہو یا غیر اللہ کے نام پر ذبح نہ کیا جانے والا ہو۔ یہ ایمان والے لوگ تھے جنہوں نے اپنے ایمان کو مخفی رکھا تھا۔ ضحاک کا قول ہے کہ اس کا معنی پاکیزہ ترین۔ مقاتل بن حیان کا بیان ہے کہ اس سے مراد نہایت عمدہ ہے اور عکرمہ کا قول ہے کہ اس کا معنی مقدار میں زیادہ اور بعض نے کہا کہ بہت سستا۔ ” فلیاتکم برزق منہ “ وہ قوت جو کھانا کھانے سے حاصل ہوتی ہے۔ ” ولیتلطف “ اپنے آپ کو راستے میں پوشیدہ رکھے یا شہر میں۔ ” ولا یشعرن “ اور تم میں سے کوئی تجھے پہچان نہ لے۔ ” بکم احدًا “ لوگوں سے۔
Ayah 18:20تفسیر 20 ۔ ” انھم ان یظھروا علیکم “ وہ تمہاری جگہ کو پہچان گئے۔ ” یرجموکم “ ابن جریج کا قول ہے کہ وہ تمہیں برا بھلا کہیں گے اور تمہیں زبانی ایذاء دیں گے اور بعض نے کہا کہ وہ تمہیں قتل کردیں گے اور بعض نے کہا کہ ان لوگوں کی یہ عادت تھی کہ وہ ایمان والوں کو پتھر مار مار کر بری طرح قتل کرتے تھے اور بعض نے کہا کہ وہ تمہیں مار دیں گے۔ ” او یعیدکم فی ملتھم “ یا وہ تم کو اپنی ملت کی طرف پھیر دیں گے (کفر کی طرف) … ” ولن تفلعوا اذا ابدا “ اگر تم ان کی طرف لوٹ جائو گے تو کبھی فلاح نہیں پائو گے۔
Ayah 18:21تفسیر۔ 21 ۔ ” وکذلک اعثرنا “ اسی طرح ہم نے ان کو مطلع کردیا۔ ” علیھم “ کہا جاتا ہے۔ ” عثرت علی الشیٔ“ جب وہ کسی چیز پر مطلع ہوجائے۔ ” لیعلموا ان وعداللہ حق “ اس سے مراد اصحاب بیدروس جو بعث کا منکر تھا۔ ” وان الساعۃ لاریب فیھا اذ یتنازعون بینھم امرھم “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جنگل میں ان لوگوں کا آپس میں اختلاف ہوگیا۔ مسلمانوں نے کہا کہ اس جگہ مسجد بنادی جائے تاکہ اس میں لوگ نماز پڑھیں کیونکہ وہ ہمارے دین پر تھے اور مشرکین کا قول ہے کہ ہم ان کی جگہ عمارتیں بنائیں گے کیونکہ یہ لوگ ہمارے ہم مذہب تھے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ ان میں بعث بعد الموت کے متعلق اختلاف ہوگیا۔ مسلمان کہنے لگے کہ قیامت کے دن اجسام اور ارواح دونوں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے اور بعض نے کہا کہ جسموں کو نہیں صرف ارواح کو جمع کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دکھا دیا کہ قیامت کے دن اٹھایا جانا جمع مع الروح کے ساتھ ہوگا۔ بعض نے کہا کہ ان کے یہاں ٹھہرنے کی مدت میں اختلاف واقع ہوگیا اور بعض نے کہا کہ ان میں اختلاف اصحاب کہف کی تعداد کے متعلق ہوا۔ ” فقالوا ابنوا علیھم بنیاناً ربھم اعلم بھم قال الذین غلبوا علی امرھم “ بیدروس اور بادشاہ اور ان کے ساتھی۔ ” لنتخذن علیھم مسجدًا “
Ayah 18:22تفسیر 22 ۔ ” سیقولون ثلاثۃ رابعھم کلبھم “ روایت کیا گیا ہے کہ سید اور عاقب بھی ان میں شامل تھے اور نصاریٰ کے چند لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اصحاب کہف کے واقعہ کے متعلق ذکر چل پڑا۔ سید جو یعقوبی فرقہ کا بانی تھا، وہ کہنے لگا کہ اصحاب کہف تین تھے چوتھا ان کا کتا تھا، عاقب نے کہا پانچ تھے چھٹا ان کا کتا تھا۔ مسلمانوں نے کہا کہ وہ سات تھے آٹھواں ان کا کتا تھا۔ نصاریٰ کے قول کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے قول کی تائید کردی اور فرمایا ” ویقولون خمسۃ سادسھم کلبھم رجما بالغیب “ ان کا گمان اور ان کا تخمینہ بغیر یقین کے ہے۔ یہ فرمان ان لوگوں کے بارے میں نہیں فرمایا جنہوں نے سات کا عدد ذکر کیا ہے۔ ” ویقولون “ مسلمان کہتے ہیں ” سبعۃ وثأ منھم کلبھم “ وائو کے بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے۔
عدد کے ساتھ وائو ذکر کرنے کا قاعدہ
عرب کا قاعدہ ہے کہ سات تک کی گنتی بغیر وائو کے ذکر کرتے ہیں اور آٹھویں عدد کو وائو عطف سے شروع کرتے ہیں۔ ایک، دو ، تین، چار، پانچ، چھ، سات۔ (آٹھویں پر وائو ذکر کیا) آپ ﷺ کی ازواج کے متعلق فرمایا۔ ” عسیٰ ربہ ان طلقکن أن یبد لہ ازواجًا خیرًا منکن مسلمات، مؤمنات، قانتات، تائبات، عابدات، سائحات، ثیبات، و ابکارًا “ یہاں پر ابکاراً کے ساتھ وائو کا ذکر کیا گیا۔ ” قل ربی اعلم بعدتھم ‘ ذ ان کے اعداد کے متعلق۔ ” ما یعلمھم الاقلیل “ ان لوگوں میں تھوڑے سے جانتے ہیں۔
ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ قلیل سے مراد سات کا عدد ہے۔ محمد بن اسحاق کا قول ہے کہ اس سے آٹھ مراد ہیں اور یہ پڑھا ” وثامنھم کلبھم “ صحیح قول پہلا ہی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اصحاب کہف کے نام اس طرح ذکر کیے ہیں۔ مکسلمینا، تملیخا، مرطونس، وبینونس، سارینونس، ذونوانس، کشفیططنونس۔ یہ آخری شخص چرواہا تھا اور کتے کا نام قطمیر تھا۔ ” فلا تمارفیھم ‘ ذ ان کے بارے میں نہ جھگڑا کیجئے اور نہ ہی ان کے عدد اور شان کے بارے میں گفتگو کیجئے۔ ” الا مرائً ظاھرًا “ جو ہم نے تمہارے سامنے بیان کیا ہے وہ صاف ظاہر ہے۔ ان کے متعلق مزید غوروخوض اور بحث و مباحثہ میں نہ پڑو، اس سے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں۔ ” ولا تسغت فیھم منھم “ اہل کتاب میں سے ” احدًا “ ہماری اس بیان کردہ تفصیل کے بعد مزید تحقیق کے لیے کسی کی طرف نہ جائو۔
Ayah 18:23تفسیر 23 ۔ ” ولا تقولن لشیٔ انی فاعل ذلک عدًا “
جو کام بعد میں کرنا ہو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ضرور کہنا چاہیے
Ayah 18:24تفسیر 24 ۔ ” الًا ان یشاء اللہ “ جب آپ کل کے دن کسی کام کرنے کا ارادہ فرمائیں تو یہ نہ کہیں کہ میں یہ کام کل کروں گا مگر یہ کہ آپ کہہ دیں کہ ان شاء اللہ یہ اس وجہ سے کہ اہل مکہ نے آپ ﷺ سے روح کے متعلق، اصحاب کہف کے متعلق اور ذی القرنین کے متعلق سوال کیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں اس کے متعلق کل خبر دوں گا اور ان شاء اللہ نہیں فرمایا، وحی کچھ دن نہ آئی۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی ” واذکر ربک اذا نسیت “ ابن عباس ؓ، مجاہد اور حسن کا قول ہے کہ ان شاء اللہ اگر کہنا بھول جائو تو جس وقت بھی یاد آجائے ان شاء اللہ کہہ دو ۔ ابن عباس ؓ نے مستثنیٰ منقطع کو جائز قرار دیا ہے اور کہا کہ ایک سال کے بعد بھی ان شاء اللہ کہنا درست ہے۔ حسن کا قول ہے کہ جب تک مجلس برخاست نہیں ہوئی اس وقت تک اس کو استثناء کا اختیار حاصل ہے اور بعض نے کہا کہ جب زمانہ قریب آجائے اور اگر زمانہ دور ہوجائے تو ” فلا “ پھر درست نہیں اور ایک جماعت نے اس استثناء کو جائز قرار نہیں دیا۔ الایہ کہ کلام متصل ہو اور عکرمہ کا قول ہے کہ آیت کا یہ مطلب ہے کہ جس وقت تم کو غصہ آئے تو اللہ کو یاد کرو۔ وہب کا قول ہے کہ انجیل میں آیا ہے کہ اے ابن آدم ! تجھے غصہ آئے تو مجھے یاد کر، جب مجھے غصہ آئے گا تو میں بھی تیری یاد کروں گا۔
ضحاک اور سدی کا بیان ہے کہ گآیت مذکورہ کا حکم نماز سے متعلق ہے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، اگر کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جس وقت یاد آجائے تو پڑھ لو۔ ” وقل عسیٰ ان یھدین ربی لا قرب من ھذا رشدًا “ آپ کو ایسے راستے پر ثابت قدم رکھے گا جو اس کے زیادہ قریب کرنے والا ہوگا۔
بعض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ جب کوئی چیز بھول جائیں تو اس کو یاد کریں اور یہ کہو کہ امید ہے کہ اللہ مجھے ایسے راستے کی ہدایت کر دے گا۔ جو اس ذکر سے بھی زیادہ اقرب ہوگی۔ یعنی اللہ اپنی ذات تک خود پہنچا دے گا۔
بعض علماء نے کہا کہ جب لوگوں نے آپ ﷺ سے اصحاب کہف کے متعلق پوچھا اور اللہ نے اصحاب کہف کا قصہ بیان کردیا تو آخر میں اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو یہ بات بتادیں کہ اصحاب کہف کے واقعہ سے بڑھ کر روشن دلیل اور برہان نبوت عطا کر دے گا۔ چناچہ یہ وعدہ اللہ نے پورا کیا، تمام انبیاء کے علوم بلکہ ماضی اور مستقبل کے سارے علمی خزانے اللہ نے آپ کو عطا فرما دیئے۔ اصحاب کہف کے واقعہ کے اظہار سے آپ کو نبوت کی سچائی کا اتنا قوی ثبوت نہیں ملتا جتنا تمام انبیاء مرسلین کے علوم و گزشتہ اور آئندہ کے واقعات و حالات کے علم عطا فرمانے سے ملتا ہے اور بعض کا قول ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے کہ جب ان شاء اللہ کہنا بھول جائو اور پھر یاد آجائے تو ان شاء اللہ کہنے کے بعد یہ بھی کہو ” عسیٰ ان یھدین ربی لا قرب من ھذا رشدًا “…
Ayah 18:25تفسیر 25 ۔ ” ولبثوا فی کھفھم “ ان سے اصحاب کہف مراد ہیں۔ بعض نے کہا کہ یہ اہل کتاب ہی کا قول ہے کہ انہوں نے اس طرح کہا تھا۔ اگر یہ خبر اللہ عزوجل کی طرف سے ہے ان کے ٹھہرنے کی مدت کے برابر۔ پھر اس کو اس طرح نہ فرماتے ” قل اللہ اعلم بما لبثوا “ اللہ ہی کو خوب معلوم ہے کہ وہ کتنی مدت وہاں ٹھہرے رہے۔ یہ حضرت قتادہ کا قول ہے اور اس پر عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرأت دلالت کرتی ہے۔ ” وقالوا لبثوا فی کھفھم “ پھر اللہ تعالیٰ گنے اس کی تردید کی اور ارشاد فرمایا ” قل اللہ اعلم بما لبثوا “ اور دوسرے قراء کا قول ہے کہ اس کی خبر اللہ تعالیٰ کی جانب ہی سے ہے کہ اللہ ہی ان کی مدت ٹھہرنے کو جانتا ہے اور یہی قول صحیح ہے۔
باقی رہا وہ فرمان ” قل اللہ اعلم بما لبثوا “ اس کا معنی یہ ہوگا کہ ان کے ٹھہرنے کی مدت کے متعلق آپ نے ذکر کردیا اور آخر میں یہ حکم دے دیا کہ اب اگر یہ لوگ تعیین مدت میں نزاع کرتے ہیں تو ان سے کہہ دو ، اللہ ان کی مدت قیام سے بخوبی واقف ہے اور ان کی مدت لبث میں نے تمہیں بتلا دی ہے۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ اہل کتاب کا ہی یہ قول ہے، غار میں داخل ہونے سے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ تک 309 برس کی مدت اہل کتاب کے خیال میں گزری تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت ” اللہ اعلم بما لبثوا “ میں اس کی تردید فرمائی۔ یعنی ان کی روحیں قبض ہونے کے بعد سے اب تک جس قدر مدت گزری ہے۔ اللہ ہی کو اس کا علم ہے وہی بخوبی واقف ہے۔ ” ثلث مائۃ سنن “ حمزہ اور کسائی کے نزدیک ” ثلثمائۃ “ بغیر تنوین کے پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔
سوال کیا جائے کہ ” ثلث مائۃ سنین “ ذکر فرمایا۔ ” سنۃ “ ذکر کیوں نہیں کیا گیا۔ اس کا جواب دیا گیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ” ولبثوا فی کھفھم ثلثمائۃ “ تو صحابہ کرام ؓ نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ اس سے مراد دن ہیں، مہینے ہیں یا سال ہیں۔ پھر یہ ” سنین “ نازل ہوا۔ فراء کا قول ہے عرب میں مشہور ہے کہ وہ سنین بول کر ایک سال مراد لیتے تھے اور بعض نے کہا کہ اصحاب کہف تین سو سال وہاں ٹھہرے رہے۔ ” وازدادو اتسعًا “ کلبی کا قول ہے کہ نجران کے عیسائیوں نے کہا تھا کہ تین سو برس رہنے کا علم تو ہم کو بھی ہے مزید نو برس رہنے کا علم ہمیں نہیں۔
Ayah 18:26تفسیر 26 ۔ ” قل اللہ اعلم بما لبثوا “ حضرت علی ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ اصحاب کہف شمسی حساب سے تین سو برس تک سوتے رہے اور اللہ نے قمری حساب سے تین سو نو برس رہنے کی صراحت کی ہے۔ ہر سو سال شمسی کے بحساب قمری ایک سو تین سال ہوتے ہیں۔ تین سو سال کے تین سو نو سال ہوگئے۔ اسی وجہ سے اللہ رب العزت نے فرمایا ” وازدادو اتسعا “
” لہ غیب السمٰوٰت والارض “ غیب جو چیز تمہارے ادراک سے پوشیدہ ہو اور اللہ عزوجل کے ادراک سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔ ” ابصربہ واسمع “ اس موجود کل میں جو بھی دیکھنے والا ہے ان سے زیادہ خوب دیکھنے والا اور ان سب سے زیادہ سننے والا ہے۔ اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، نہ دیکھنے میں اور نہ ہی سننے میں۔ ” مالھم “ نہیں ہے اس کے سواء جو زمین و آسمان میں ہے۔ ” من دونہ “ اللہ کے سوا ” من ولی “ کوئی مددگار ” ولایشرک فی حکمہ أحدًا “ ابن عامر و یعقوب ” ولا تشرک “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے خطاب کا صیغہ اور دوسرے قراء نے اس کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی اس کے حکم میں کوئی شریک نہیں۔ بعض نے کہا کہ حکم سے یہاں غیب کا علم مراد ہے۔ اس کے علم غیب میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔
Ayah 18:27تفسیر 27 ۔ ” واتل مااوحی الیک “ اس کو پڑھیے اے محمد ! (ﷺ) ” ما اوحی الیک من کتاب ربک “ اس کتاب سے مراد قرآن ہے اور اس میں جو کچھ ہے اس کی پیروی کیجئے۔ ” لامبدل لکلماتہ “ کلبی کا قول ہے کہ قرآن میں جس کا حکم دیا گیا ہے اس کو کوئی تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور بعض کا قول ہے کہ گناہگاروں کو جو ان کلمات سے وعید سنائی گئی ہے اس کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔ ” ولن تجد “ اور تم ” من دونہ “ اگر آپ قرآن کی اتباع نہیں کریں گے۔ ” ملتحدًا “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد چھپنے کی جگہ۔ حسن کا قول ہے کہ جائے قرار نہیں کریں گے۔ ” ملتحدًا “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد چھپنے کی جگہ۔ حسن کا قول ہے کہ جائے قرار نہیں ملے گا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ٹھکانا نہیں ملے گا۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے مھرب۔
Ayah 18:28واصبر نفسک کا شان نزول
تفسیر 28 ۔ ” واصبر نفسک “ اس آیت مذکورہ کا نزول عیینہ بن حصن فزاری کے حق میں ہوا۔ یہ اسلام لانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت کچھ نادار مسلمان خدمت گرامی میں بیٹھے ہوئے تھے جن میں سلمان فارسی بھی تھے۔ حضرت سلمان ؓ ایک چھوٹی سی چادر اوڑھے ہوئے تھے اور آپ کو پسینہ بھی آ رہا تھا۔ عیینہ بولا محمد (ﷺ) کیا آپ کو ان لوگوں کی بدبو سے دکھ نہیں پہنچتا۔ ہم قبائل مضر کے سردار اور بڑے لوگ ہیں، اگر ہم مسلمان ہوگئے تو سب لوگ مسلمان ہوجائیں گے لیکن ہم کو آپ کی اتباع کرنے سے ایسے لوگوں کی آپ کے پاس موجودگی روکتی ہے ان کو آپ ہٹا دیں تو ہم آپ کا اتباع کرنے لگیں گے یا ہمارے لیے ان سے الگ کوئی بیٹھنے کی جگہ مقرر کردیں اور ن کی مجلس ہم سے جدا کردیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ” واصبر نفسک “ اے محمد ! (ﷺ) آپ اپنے نفس کو ان سے روکے رکھیے۔
” مع الذین یدعون ربھم بالغداۃ والعشی “ اس سے دن کے اطراف مراد ہیں۔ ” یریدون وجھہ “ یہ لوگ جو آپ کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں یہ صرف اللہ کو چاہتے ہیں نہ کہ دنیاوی زندگی میں سے کچھ حصہ۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس کا نزول اصحاب صفہ کے بارے میں ہوا جن کی تعداد سات سو تھی۔ یہ سب نادار لوگ تھے اور رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں فروکش تھے، نہ کسی کی کھیتی تھی اور نہ ہی دودھ کے جانور نہ کوئی تجارت، نمازیں پڑھتے رہتے تھے، ایک وقت کی نماز پڑھ کر دوسری نماز کے انتظار میں رہتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ستائش ہے اس اللہ کے لیے جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا کردیئے جن کی معیت میں مجھے جمے رہنے کا حکم دیا۔ ” ولاتعد “ نہ ان سے پھیریئے اور نہ ہی تجاوز کیجئے۔” عیناک عنھم “ اپنے غیر کی طرف سے۔ ” تردید زینۃ الحیاۃ الدنیا “ دولت مندوں کے ساتھ بیٹھنے اور مال دار دنیا داروں کی مصاحبت اختیار کرنے کے لیے تم ہمہ وقت اللہ کا ذکر کرنے والے (نادار) لوگوں سے آنکھیں پھیر لو، ایسا نہ کرو۔
” ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا “ ہم نے ان کے دلوں کو ذکر کرنے سے غافل کردیا۔ اس سے مراد عیینہ بن حصن ہے۔ بعض نے کہا کہ امیہ بن خلف ہے۔
” واتبع ھواہ “ ان کے مراد صرف اپنی خواہشات کا حصول ہے۔ ” وکان امرہ فرطاً “
فرطاً کی تفسیر
قیادہ اور مجاہد کا قول ہے کہ اس کا معنی ضیاعاً ہے یعنی ضائع شدہ کیا ہے اور بعض نے کہا کہ اس کا امر ضائع ہوگیا اور زندگی کے دن رائیگاں گئے۔ بعض نے فرطاً کا معنی ندامت بیان کیا ہے۔ مقاتل ابن حیان کا قول ہے کہ بیکار چھوڑا ہوا۔
فراء نے ان کا ترجمہ کیا ہے چھوڑا ہوا اور بعض نے اس کا ترجمہ باطل سے کیا ہے اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے مخالف حق۔ اخفش کا قول ہے کہ حد سے آگے بڑھا ہوا۔ بعض نے کہا کہ حد میں تجاوز کرنا، یہ قول عیینہ کا ہے کہ اگر ہم اسلام لے آئے تو ہمارے سب لوگ اسلام لے آئیں گے، اس کو افراط کہتے ہیں۔
Ayah 18:29تفسیر 29 ۔ ” وقل الحق من ربکم “ یعنی جو ہم نے ایمان اور قرآن کے بارے میں ذکر کیا اس کا معنی یہ ہے کہ اے محمد ! (ﷺ) ان لوگوں کو کہہ دیجئے کہ جن لوگوں کے دل ہمارے ذکر سے غافل ہیں کہ اے لوگو ! یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے اور اسی کی طرف توفیق اور رسوائی ہے اسی کے ہاتھ میں ہدایت اور گمراہی ہے۔ اس کے علاوہ کسی کے پاس ہدایت نہیں۔ ” فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بطور تہدید اور وعید کے ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ” اعملوا ماشئتم “ بعض نے اس آیت کا معنی یہ بیان کیا ہے یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے میں مؤمنین کو اپنے پاس سے ہٹانے والا نہیں ہوں، تمہاری خواہشات کی بناء پر اگر تم چاہو تو ایمان لے آئو اور اگر تم چاہو تو کفر اختیار کرو، اگر تم انکار کرو گے تو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناطیں تمہیں گھیر لیں گی اور اگر تم ایمان لائو گے تو تمہیں بھی انہیں صفات کے ساتھ متصف کیا جائے گا جو اطاعت کرنے والوں کو ملیں گی۔
حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس آیت کا معنیٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہیں گے ایمان کو قبول کریں گے اور جس کے لیے کفر چاہیں گے وہ کافر رہے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” وما تشائون الا ان یشاء اللہ “…
” انا اعتدنا للظالمین “ ہم نے ان کے لیے شمار کر کے رکھا ہے۔ ” نارًا أحاط بھم سرادقھا “ سرادق آڑ کو کہتے ہیں جو کسی چیز کو گھیرے ہوئے ہو۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سرادق النار چاردیواریں ہوں گی، ہر دیوار کی موٹائی چالیس سال کی ہوگی۔
حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ سرادق النار سے مراد آگ کی دیوار ہے۔ کلبی (رح) کا قول ہے کہ آگ کی لپیٹ ہوگی جو کافروں کو باڑہ کی طرح گھیرے ہوگی۔ بعض حضرات نے کہا کہ ایک دھواں ہوگا جو کافروں کو محیط ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کا ذکر آیت ” انطلقوا الی ظل ذی ثلث شعب “ میں کیا ہے۔ ” وان یستغیثوا “ اگر شدت پیاس کی وجہ سے وہ پانی مانگیں گے۔ ” دخاوا بماء کالمھل “
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” بماء کالمھل “ کہ تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا منہ کے قریب لایا جائے گا تو چہرے کی کھال اس میں گرپڑے گی۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ وہ سیاہ ہوگیا جیسے زیتون کے تیل کی تلچھٹ یا وہ گاڑھا پانی ہوگا زیتون کے تیل کا گاد کی طرح۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اس کا معنی لہو، پیپ، خون۔ ابن مسعود ؓ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے کچھ سونا چاندی منگوا کر پگھلایا جب پگھل گیا تو فرمایا کہ یہ مھل کی طرح ہے اور اس کے ہم شکل ہے۔
” یشوی الوجوہ “ اس کے گرم ہونے کی وجہ سے وہ چہرے کو بھون ڈالے گا۔ ” بئس الشراب وساء ت “ اس سے مراد آگ ہے۔ ” مرتفقاً “ ابن عباس ؓ نے اس کا ترجمہ منزل (فرودگاہ) سے کیا ہے۔ مجاہد نے اس کا ترجمہ مجتمع سے کیا ہے۔ عطاء نے اس کا معنی قرارگاہ سے کیا ہے۔ قتیمی نے اس کا ترجمہ مجلس سے کیا ہے، مرتفق اصل میں ٹیک لگانے کو کہتے ہیں۔
Ayah 18:30تفسیر 30 ۔ ” ان الذین امنوا… تا…احسن عملاً “ اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس فرمان کا جواب کہاں ہے۔ ” ان الذین امنوا وعملوا الصالحات “ اس کا جواب دیا گیا کہ اس کا جواب اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے۔ ” اولئک لھم جنات عدن تجری “ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ” انا لا نضیع اجر من احسن عملاً “ یہ کلام جملہ معترضہ کے طور پر ہے۔ بعض نے کہا کہ اس میں اضمار ہے۔ ” ان الذین آمنوا وعملوا الصالحات “ ان لوگوں کے اعمال کو ہم ضائع نہیں کرتے بلکہ ہم ان کو اس کا بدلہ دیں گے۔ پھر اس کے بعد جزاء کا ذکر فرمایا۔
Ayah 18:3131 ۔ ” اولئک لھم جنات عدن “ ان کے رہنے کی جگہ۔ اس کو عدن کے ساتھ تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں مؤمنین ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
” تجری… تا … من ذھب “ سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو تین تین کنگن پہنائے جائیں گے۔ ایک سونے کا ایک چاندی کا اور ایک جواہر اور موتیوں کا۔ ” ویلبسون ثیابًا خضر من سندس “ باریک ریشمی کپڑا ” واستبرق “ موٹا ریشمی کپڑا۔ یعنی اس کی بناوٹ میں مضبوطی ہوگی۔ ” متکئین فیھا “ مسہریوں پر ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے۔ ” علی الارائک “ وہ پردے مسہری کے ہوں گے اس کا واحد أریکہ ہے۔
” نعم الثواب “ ان کے لیے اچھا بدلہ ہے۔ ” وحسنت “ ان کی منہری ” مرتفقًا “ بیٹھنے کی جگہ اور قرار کی جگہ مراد ہے۔
Ayah 18:32رجلین سے کون سے دو فرد ہیں
32 ۔ ” واضرب لھم مثلاً رجلین “ کہا گیا ہے کہ مکہ میں قبیلہ بنی مخزوم کے دو بھائی رہتے تھے۔ ایک مؤمن تھا دوسرا کافر، مؤمن کا نام ابو سلمہ عبداللہ (ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ کے سابق شوہر) بن عبدالاسود بن عبدیالیل تھا اور کافر کا نام اسود بن عبدالاسود بن عبدیالیل انہی دونوں کے حق میں اس آیت کا نزول ہوا۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ عیینہ بن حصین اور اس کے ساتھیوں کے احوال اور حضرت سلمان کے حال کو بطور تحقیق بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کے احوال سے تشبیہ دی ہے جن میں سے ایک کا نام برقول ابن عباس یہود اور برقول مجاہد تملیخا تھا اور دوسرے کا نام قطروس اور برقول وہب قطفر تھا۔ اول مسلمان تھا دوسرا کافر، سورة والصافات میں بھی انہی کا قصہ بیان کیا ہے۔ عبداللہ بن مالک نے بروایت معمر عطاء خراسانی کا بیان ان دونوں کے متعلق حسب ذیل نقل کیا ہے۔
ایک شخص کے دو بیٹے تھے، دونوں کو باپ کی وراثت سے آٹھ ہزار دینار ملے۔ دونوں نے تقسیم کر کے اپنا اپنا حصہ لے لیا، ایک بھائی نے ایک ہزار دینار کی زمین خریدی، دوسرے نے ہزار دینار خیرات کردیئے اور کہا اے اللہ ! میرے بھائی نے ہزار دینار کی زمین خریدی ہے، میں تجھ سے جنت میں ایک ہزار کی زمین خریدتا ہوں۔ اول شخص نے ہزار دینار صرف کر کے مکان بنایا، دوسرے نے ہزار دینار غریبوں کو تقسیم کر کے دعا کی، اے اللہ ! اس نے ہزار دینار خر کر کے مکان بنایا ہے، میں تجھ سے جنت کے اندر ہزار دینار کا مکان خریدتا ہوں۔ پھر اول شخص نے ہزار دینار صرف کر کے ایک عورت سے شادی کرلی اور دوسرے نے ہزار دینار راہ خدا میں دے کر کہا کہ اے اللہ ! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ جنت کے اندر کسی جنت کی عورت سے میرا نکاح کر دے۔ پھر اول شخص نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے باندی غلام اور گھر کا سامان خریدا اور دوسرے نے ہزار دینار خیرات کر کے اللہ سے جنت کے اندر خدام اور سامان ملنے کی درخواست کی۔
جب یہ دوسرا شخص سب مال خیرات کرچکا تو کچھ مدت کے بعد مال کی کوئی سخت ضرورت پیش آئی اور دل میں خیال کیا مجھے بھائی کے پاس جانا چاہیے شاید اس کی طرف سے مجھے کچھ مل جائے۔ یہ سوچ کر بھائی کے راستہ پر ایک طرف کو جا بیٹھا، اس طرف سے دولت مند بھائی اپنے خادموں کے جھرمٹ میں گزرا اور بھائی کو دیکھ کر پہچان لیا اور پوچھا کیا حال ہے ؟ اس شخص نے کہا مجھے ایک حاجت درپیش ہے اور مفلس ہوگیا ہوں، آپ کے پاس کچھ بھلائی کی امید لے کر آیا ہوں، دولت مند بھائی نے کہا تمہارا مال کیا ہوا، تقسیم کے وقت تم نے اپنا حصہ لے لیا تھا، غریب بھائی نے اپنی سرگزشت بیان کردی، دولت مند بھائی بولا، اچھا تو تم خیرات کرنے والوں میں شامل ہوگئے، چلے جائو، میں کچھ نہیں دوں گا۔ غرض اس ن ے غریب کو دھتکار دیا۔ آخر دونوں مرگئے اور ان ہی کے متعلق آیت ” فاقبل بعضھم علی بعض یتسائلون “ نازل ہوئی۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ مال دار بھائی غریب بھائی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے مال کی سیر کرانے لے گیا اور گھما پھرا کر سب طرح کا مال دکھایا۔
ان دونوں کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ” واضرب لھم مثلاً رجلین “ یاد کیجئے ان دو شخصوں کے متعلق خبر۔ ” جعلنا لا حدھما جنتین “ دو باغ ہیں۔ ” من اعناب وحففناھما بنخل “ انگور کے باغوں کے گرداگرد باڑھ کی طرح کھجور کے درخت تھے۔ انگور کے باغ کھجور کے درختوں کے باڑھ کے اندر تھے۔ والحفاف کنارے کو کہتے ہیں اور اس کی جمع ” احفۃ “ آتی ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے اس کو قوم نے گھیر لیا۔ یعنی اس کو جانبین نے اردگرد سے گھیر لیا۔
” وجعلنا بینھما ذرعًا “ یعنی دونوں باغوں کے درمیان واقع ہونے والی زمین بھی بنجر نہ تھی بلکہ اس میں ایک کھیتی تھی۔ اس طرح ان باغوں میں پھل بھی تھے اور بعض نے کہا کہ ان دونوں باغوں کے درمیان کھیتی تھی اور ان دونوں باغوں کے درمیان بنجر زمین نہیں تھی۔
Ayah 18:3333 ۔ ” کلتا الجنتین آتت “ دونوں باغ اپنے پورے پھل دیتے تھے۔ ” اکلھا “ اس کے پھل تام (مکمل) تھے۔ ” ولم تظلم “ اور وہ پھل کم نہیں ہوئے۔ ” منہ شیئاً وفجرنا “ عام قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور یعقوب نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” خلالھما نھرًا “ ہم نے اس کو پھاڑا اور اس کے درمیان سے نہر کو جاری کیا۔
Ayah 18:34تفسیر 34 ۔ ” وکان لہ “ اور اس کے ساتھی کے پاس باغ تھے۔ (ثمر) عاصم اور ابوجعفر اور یعقوب کے نزدیک ثاء کے فتحہ اور میم کے فتحہ کے ساتھ۔ ابوعمرو نے ثاء کے ضمہ اور میم کے ساکن کے ساتھ اور دوسرے قراء نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
ثمرہ کے مصداق میں ائمہ مفسرین کے اقوال
جمع ثمرۃ ہے اور اس سے مراد وہ پھل ہیں جو کھائے جاتے ہیں اور جن لوگوں نے ثمر پڑھا ہے ان کے نزدیک طرح طرح کا کثیر مال مراد ہوگا اور جنہوں نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ان کے نزدیک مال کثیرہ سے مراد ہر قسم کے اموال ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ ثمر سے مراد سونا چاندی ہے اور بعض نے کہا کہ تمام پھل مراد ہیں۔ ازہری کا قول ہے کہ پھل جو تمام پھلوں کا مجموعہ ہے۔ ” فقال “ اس سے باغ کا مالک ہے۔ ” لصاحبہ “ اس سے مراد مؤمن ہے۔ ” وھو یحاورہ “ اس کے مخاطب ہوتے وقت اور جواب دیتے وقت ” انا اکثر مالاً واعزنفرا “ اس کے نوکر، چاکر اور اس کی جماعت۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس کے خدمت گار اور اس کا جاہ و لشکر۔ مقاتل نے کہا کہ اس سے مراد اس کی اولاد ہے اور اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ” ان ترن أنا اقل منک مالاً وولدًا “
Ayah 18:3535 ۔ ” ودخل جنتہ “ اور وہ اس کے باغ میں داخل ہوا۔ اس سے مراد کافر ہے کہ اس نے اپنے مسلمان بھائی کا ہاتھ پکڑا اور اس کو پورے باغ میں چکر لگوایا اور اس کو پھل دکھائے۔ ” وھو ظالم لنفسہ “ اپنے کفر کے ذریعے ” قال ما اظن أن تبیدًا “ اس کا معنی ہلاکت سے کیا ہے۔ ” ھذا ابدًا “ اہل معانی کا قول ہے کہ اس باغ کی شادمانی اور اس کے پھل پھول کے چمکنے نے اس کو اس گمان میں مبتلا کردیا کہ وہ کبھی بھی فنا ہونے والا نہیں ہے اور اسی سے اس نے بعثت کا انکار کرلیا۔
Ayah 18:3636 ۔ ” وما اظن الساعۃ قائمۃ “ قیامت ہونے والی ہے۔ ” ولئن رددت الی ربی لا جدن خیرًا منھا منقلباً “ اہل حجاز اور اہل شام نے اس کو تنیہ ہی پڑھا ہے۔ اس کے دو باغوں میں سے ملے گا۔ (اور اسی طرح میرے لیے ہی مقدر ہوگا) اور دوسرے قراء نے ” منھا “ سے مراد وہ باغ ہے جس میں وہ ابھی داخل ہوا۔ ” منقلبًا “ اس سے مراد رجوع کرنے والا لوٹنے والا مراد ہے۔
سوال کیا جائے کہ وہ یہ بات کیسے کہتا ہے۔ ” ولئن رددت الٰی ربی “ حالانکہ وہ تو بعثت کا منکر ہے ؟
جواب اس کا معنی یہ ہے کہ اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا جیسا کہ تمہارا گمان ہے تو مجھے اس سے بہتر ملے گا کیونکہ اللہ نے جو کچھ مجھے دنیا میں یہ باغات دیئے تو آخرت میں اس سے بھی اس سے بہتر دے گا۔
Ayah 18:3737 ۔ ” قال لہ صاحبہ “ مسلمان بھائی نے کہا۔ ” وھو یحاورہ أکفرت بالذی خلقک من تراب “ کہ تو نہیں جانتا کہ اس نے ہمیں اصل مٹی سے پیدا کیا۔ ” ثم “ پھر اس نے ہمیں پیدا کیا۔ ” من نطفۃ م سواک رجلاً “ پھر ہر شخص کو اس کے باپ کے نطفہ سے پیدا کیا۔
Ayah 18:3838 ۔ ” لکنا ھواللہ ربی “ ابن عامر اور یعقوب نے ” لکنا “ الف کے ساتھ لکھا ہے اور باقی قراء نے بغیر الف کے لکھا ہے اور اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وقف کی حالت میں یہ الف کے بغیر ہے۔ یہ اصل میں ” لکن ‘ أنا “ تھا۔ ہمزہ کو تخفیف کے لیے حذف کیا، کرت استعمال کی وجہ سے پھر ان دونوں نون کو آپس میں مدغم کردیا۔ کسائی کا بیان ہے کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔
” لکنا اللہ ھو ربی “ … ” ولا اشرک بربی احدًا “
Ayah 18:39تفسیر 39 ۔ ” ولولا اذدخلت جنتک “ داخل ہوتے وقت تم نے کیوں نہیں کہا۔ ” قلت ما شاء اللہ “ جو کام اللہ چاہے اور بعض نے کہا کہ اس کا جواب پوشیدہ ہے کہ جو اللہ چاہے۔ ” لا قوۃ الا باللہ “ یعنی تو نے اپنی عاجزی اور اللہ کی قدرت کا اقرار کیوں نہیں کیا یا اس سے کوئی چیز دور نہیں کی مگر اللہ کے سوا۔
ہشام بن عروہ کی روایت ہے کہ عروہ کو جب اپنا کوئی مال پسند آتا اور عجیب معلوم ہوتا تھا یا اپنے کسی باغ میں داخل ہوتے تھے تو کہتے تھے ” ماشاء اللہ قوۃ الا باللہ “ پھر فرمایا ” ان ترن انا اقل منک مالا وولدا “ اقل کو نصب کے ساتھ پڑھا ہخے یعنی اگرچہ تو دیکھتا ہے کہ میں تجھ سے مال اور اولاد کے اعتبار سے اس وجہ سے تو نے تکبر کیا اور مجھ پر بڑائی کی۔
Ayah 18:40(40)” فعسی ربی “ شاید کہ میرا رب ” ان یوتین “ مجھے آخرت میں عطا کرے۔” خیرامن جنتک ویرسل علیھا “ تیرے باغ پر کوئی عذاب بھیج دے۔ ” حسباناً “ قتادہ کا قول ہے کہ اس کا مطلب ہے عذاب بھیج دے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے آگ مراد ہے۔ قتیی کا قول ہے کہ اس پر پتھریلا طوفان آجائے گا۔” من السمائ “ آسمان سے کڑک اور کوئی اور چیز ہلاکت کا ذریعہ بن رہی ہو۔” حسباناً “ کا واحد ” حسبانہ “ ہے۔
” فتصبح صعیداً زلقا “ یعنی وہ چٹیل چکنا میدان بن جائے۔ یعنی کوئی درخت اس پر باقی نہ رہے، صاف میدان ہوجائے۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس کا ترجمہ ہے ہولناک ریگستان۔
Ayah 18:41(41)” اویصبح مائوھا غوراً “ وہ پانی ہاتھوں سے اتنا دور چلا جائے کہ ہاتھ اس تک نہ پہنچ سکیں اور نہ ہی اس تک ڈول پہنچ سکے۔ غور مصدر ہے اس کو اسم کی جگہ رکھ دیا گیا ہے جیسے زور اور عدل ہے۔ ” فلن تسطیع لہ طلباً “ اگر تم اس کو طلب کروگے تو اس کو نہیں پائوگے۔
Ayah 18:42(42)” واحبط بشمرہ “ عذاب نے اس کے باغ کے پھلوں کو یا ہر طرح کے مال کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے اور خلاف امید تباہ کردیا ہے۔ احاطہ سے مراد ہے غالب آجانا، برباد و تباہ کردینا۔ ” فاصبح “ اس کا ساتھی جو کافر تھا۔ ” یقلب کفیہ “ وہ ایک ہاتھ کے ذریعے سے دوسرے ہاتھ کو پونچھنے گا افسوس و حسرس کے ساتھ۔ ” علی ما انفق فیھا وھی خاویۃ “ اور وہ گرپڑا ہے۔ ” علی عروشھا “ اپنی چھتوں کے ساتھ ۔” ویقول یالیتنی لم اشرک بربی احداً “
Ayah 18:43(43)” ولم تکن لہ فئۃ “ اس سے مراد جماعت ہے۔ ” ینصرونہ من دون اللہ “ وہ اللہ کے عذاب سے روکنے والے ہیں۔ ” وما کان منتصرا “ کوئی شخص نہیں تھا جو اس سے عذاب کو روک سکتا تھا یا اس کا بدلہ لے سکتا اور نہ ہی وہ یہ خود اپنے لیے مدد کرسکتا۔ بعض نے کہا کہ اس کے باغ ضائع ہونے پر کوئی اس کو لوٹانے والا نہیں ہے۔
Ayah 18:44(44)” ھنالک الولایۃ اللہ الحق “ یعنی قیامت کے دن حمزہ اور کسائی نے ” الولایۃ “ دائو کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس سے مراد سلطان ہے اور دوسرے قراء نے وائو کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اس سے مراد موالدۃ اور مددگار ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” اللہ ولی الدین آمنو “ قتیی کا قول ہے کہ اس دن یہی آیت پڑھیں گے اور معبودان باطلہ کی برأت اختیار کریں گے۔
بعض نے کہا کہ ولایۃ وائو کے فتحہ کے ساتھ معنی ربوبیت کا ہے اور کسرہ کے ساتھ اس کا معنی امارۃ آتا ہے۔ (الحق) قاف کے رفع کے ساتھ۔ ابوعمروکسائی نے اس کو ولایۃ کی صفت کہا ہے۔ اس کی تصدیق حضرت ابی بن کعب کی روایت ہے ’ ھنالک الولایۃ للہ الحق “ اور دوسرے قراء نے جر کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں یہ لفظ اللہ کی صفت ہوگی۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” ثم ردوالی اللہ مولاھم الحق “… ” ھو خیر ثواباً “ اہل طاعات کے لیے بہتر بدلہ ہے۔ ’ ’ وخیر عقبا “ اس کی نیکی کا اجر بہتر ہے دوسرے کی اطاعت کے اجر سے۔” عاقبۃ “ سے مراد نیکی ہے۔ ” عقباً “ قاف کے سکون کے ساتھ اور دوسرے قراء نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 18:45تفسیر (45)” واضرب لھم “ اے محمد ! (ﷺ) اپنی قوم کو بیان کیجئے۔ ” مثل الحیوۃ الدنیا کماء انزلنہ من السمائ “ اس سے مراد بارش ہے۔” فاخلتط بہ نبات الارض “ اس سے ہر قسم کے رنگ دار پھول و سبزہ اگایا۔ ” فاصبح “ پھر تھوڑی ہی دیر میں ( ھشیما) وہ سبزہ خشک ہوکر ریزہ ریزہ ہوگیا۔
ابن عباس ؓ اور ضحاک کا بیان ہے کہ اس کا معنی ہے ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ ہشیم کہا جاتا ہے کہ جو خشک ہوجائے اور نباتات سے گرجائے اور یزہ ریزہ ہوجائیں۔ ” تذروہ الرباح “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کو ہوائیں ادھر ادھر لے جائیں۔ ابو عبیدہ نے بھی اسی طرح ذکر کیا ہے۔ ” وکان اللہ علی شیء مقتدارا “ اس کا ترجمہ قادر ہے سے کیا ہے۔
Ayah 18:46(46)” المال والبنون “ یعنی وہ مال و اولاد جن پر عینیہ بن حصین اور اس جیسے دوسرے دولت مندوں کو فخر ہے۔ محض دنیاوی رونق کی چیزیں ہیں۔ آدمی ان پر فخر کرتا ہے، پھر عنقریب یہ چیزیں فنا ہوجاتی ہیں۔ ” زینۃ الحیوۃ الدنیا “ یہ آخرت کے لیے زاد راہ ہے۔
حضرت علی ؓ نے فرمایا مال اور اولاد دنیا کی کھیتی ہے اور اعمال صالحہ آخرت کی کھیتی اور بعض لوگوں کے لیے اللہ دونوں کو جمع کردیتا ہے۔” والباقیات الصالحات “ اس کی تفسیر میں اختلاف ہے۔
باقیات صالحات سے کیا مراد ہے، مختلف اقوال ہیں
ابن عباس ؓ، عکرمہ اور مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبرکہنا مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج نکلتا ہے اور ایک روایت میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ افضل کلام چار ہیں۔ سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ہے۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم باقیات الصالحات کی کثرت رکھو، کہا گیا کہ وہ کیا ہیں، اے اللہ کے رسول ! ( ﷺ) فرمایا کہ ملت ہے۔ کہا گیا وہ کیا ہے اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) فرمایا (ملت سے مراد) تکبیر تہلیل اور تسبیح ہے اور الحمد للہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ہے۔
سعید بن جبیر ؓ مسروق اور ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ الباقیات الصالحات سے پانچ نمازیں ہیں۔ یہی ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور انہی سے دوسری روایت ہے کہ اس سے اعمال صالحہ ہیں۔ یہی قول حضرت قتادہ کا ہے۔ ” خیر عند ربک ثواباً “ اس سے مراد بدلہ ہے۔ ” وخیرا ملا “ جس کی طرف انسان مائل تھا۔
Ayah 18:47(47)” ویوم تسیر الجبال “ ابن کثیر اور ابو عمرو اور ابن عامر کا قول ہے کہ یہ ( تسیر) ہے تاء کے ساتھ اور یاء فتحہ کیس اتھ اور الجبال مرفوع ہے اس پر دلیل پر آیت مبارکہ ہے ” واذا الجبال سیرت “ اور دوسرے قراء نے نون اور یاء کے کسرہ ( الجبال) یہاں پر منصوب ہے۔ سیرالجبال کا مطلب یہ ہے کہ پہاڑوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا۔ ” وتری الارض بارزۃ “ اس زمین کو صاف چٹیل دیکھو گے۔ اس میں نہ تو کوئی درخت ہوگا اور نہ ہی کوئی پہاڑ اور نہ ہی کوئی گھاس وغیرہ اگے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” فیذرھا قاعاً صفصفا لا تری فیھا عوجاً “ عطاء کا قول ہے کہ ” بارزۃ “ کا مطلب ہے زمین کا اندرونی حصہ اوپر آجائے گا جو مردے وغیرہ اس کے اندر ہوں گے وہ برآمد ہوجائیں گے۔” وحشرناھم “ اور ہم لوگوں کو قبروں سے اٹھائیں گے اور حساب کتاب کے لیے سب کو جمع کریں گے۔ ” فلم نعاذرمنھم “ کسی کو ہم نہیں چھوڑیں گے۔ ” احداً “
Ayah 18:48(48)” وعرضوا علی ربک صفا “ وہ سامنے لائے جائیں گے فوج درفوج اور صف در صف نہ کہ ایک صف میں اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد قیام ہے۔ پھر کفار کو کہاجائے گا اللہ تعالیٰ کا فرمان ” لقد جئتمونا کما خلقنا کم اوّل مرۃ “ یعنی پہلی مرتبہ زندہ کرنے میں اس کو کوئی مشکل نہیں۔ بعض نے اس کا ترجمہ ( فرادی) سے کیا ہے اور بعض نے اس کا ترجمہ غرلاً سے کیا ہے۔” بل زعمتم ان لن نجعل لکم موعداً “ قیامت کے دن یہ وہ لوگ کہیں گے جو قیامت کے دن اٹھنے پر یقین نہیں رکھیں گے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں کو تین طریقوں سے جمع کیا جائے گا۔ کچھ اللہ سے امید کی رغبت رکھتے ہوئے ڈرتے ہوئے اور دو انٹوں پر آئیں گے اور تین وچار اور دس دس اونٹ پر آئیں گے اور باقیوں کو آگ کے ساتھ جمع کیا جائے گا، وہ آگ انہی کے ساتھ دن کو قیلولہ کرے گی جہاں وہ قیلولہ کریں گے اور آگ وہیں رکے گی جہاں رات گزاریں گے اور آگ ان کے ساتھ صبح کرے گی جہاں وہ صبح کریں گے اور ان کے ساتھ وہ شام کرے گی جہاں وہ شا م کریں گے۔
حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم کو قیامت کے دن قبروں سے اٹھا کر اللہ کے سامنے برہنہ بدن برہنہ پا اور بغیر مختون حالت میں لیجایاجائے گا۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی ” کما بدانا اول خلق نعیدہ “ پھر سب مخلوقات میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایاجائے گا اور میرے صحابہ میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم صحابی ہیں صحابی ہیں تو ان کو کہاجائے گا کہ تم برابر پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے یا اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ گئے تھے جب میری وفات ہوگئی تھی۔ جیسا کہ ایک نیک شخص اس بارے میں گواہی دے گا ” وکنت علیھم شیھداً ما دمت فیھم، العزیز الحکیم “ تک۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) کیسے قیامت کے دن سب کو جمع کیا جائے گا ؟ برہنہ پا، برہنہ جسم، غیر مختون۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) عورتیں بھی، فرمایا عورتیں بھی۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) اس وقت حیا ہوگی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ معاملہ اس سے بھی زیادہ سخت ہوگا کہ کوئی دوسرے کو دیکھ بھی نہیں سکے گا۔
Ayah 18:49تفسیر (49)” ووضع الکتاب “ بندوں کے اعمال نامے رکھے جائیں گے ، ان کے دائیں ہاتھ میں اور بائیں ہاتھ میں اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بندوں کے اعمال رکھے جائیں گے۔ ” فتری المجرمین مشفقین “ وہ اس سے ڈر رہے ” ممافیہ “ اعمال سیئہ کی۔ ” ویقولون “ جب وہ ان اعمال کو دیکھیں گے تو کہیں گے ” یا ویلتا “ ہائے ہماری ہلاکت۔ ویل اور ویلہ دونوں کا معنی ہلاکت ہے اور ہر وہ چیز جس پر ہلاکت واقع ہوجائے۔ اس کو ویل کے ذریعے پکارتے ہیں اور یاء ندا کے ذریعے سے مخاطبین کو تنبیہ کرنا مقصود ہے۔
” مال ھذا الکتاب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ “ ہمارے گناہوں میں سے نہ چھوٹے گناہ چھوڑے اور نہ ہی بڑے گناہ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ صغیرہ سے مراد بےجا تبسم اور کبیرہ گناہ قہقہہ ہے۔ سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے کہ صغیرہ کا معنی ہے چھولینا، بوسہ لینا اور کبیرہ زنا ہے۔ ” الا احصاھا “ ان کو شمار کردیا۔ سدی (رح) کا قول ہے کہ ان کو لکھ کر ثابت کردیا ہے۔ مقاتل بن حیان کا قول ہے کہ ان سب کو یاد رکھا ہے۔
سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان گناہوں سے بچو جن کو حقیر سمجھاجاتا ہے۔ حقیر گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے کچھ لوگ کسی وادی کے اندر اترے ہوں، پھر کوئی ایک لکڑی لائے، کوئی دوسری لکڑی اور ان حقیر لکڑیوں کو جمع کرکے لوگ روٹی پکا لیں ، حقیر گناہ ہلاک کرنے والے کبائر ہیں۔
” ووجدواما عملوا حاضرا “ وہ اپنی کتاب میں لکھا ہوا مثبت پائیں گے۔” ولا یظلم ربک احدا “ کسی شخص کے نیک اعمال سے کمی نہیں کرے گا۔
قیامت کے دن لوگوں کو تین پیشیوں کے ساتھ پیش کیا جائیگا
ضحاک کا قول ہے کہ اس سے مواخذہ نہیں کیا جائے گا۔ اس بات سے جو اس نے جرم نہ کیا ہو۔ عبداللہ بن قیس کا قول ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو تین پیشیوں میں لایاجئاے گا وہ پیشیوں میں ان کے جھگڑے اور ان کے اعذار سنے جائیں، تیسری پیشی میں سب کے اعمال نامے اڑکر ان کے ہاتھوں میں آجائیں گے۔ بعض اس کو دائیں ہاتھ سے لیں گے اور بعض اس کو بائیں ہاتھ سے لیں گے۔
Ayah 18:50(50)” واذقلنا للملائکۃ اسجدو الادم “ یاد کریں اے محمد ! (ﷺ) اس وقت کو جب ہم نے فرشتوں کو کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔” فسجدوا الاً ابلیس کان من الجن “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ابلیس ملائکہ کے ہی ایک گرو ہ میں تھا۔ اس گروہ کو جن کہاجاتا تھا اور اس کی تخلیق لپٹ والی آگ سے ہوئی تھی۔ حسن کا قول ہے کہ وہ جنوں میں سے تھا نہ کہ فرشتوں میں سے اور اس کی اصل جن تھا جیسا کہ انسانوں کی اصل حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ ” ففسق “ وہ نکل گیا۔ ” عن امر ربہ “ اپنے رب کی اطاعت سے۔ ” افتسخذونہ “ اے نبی آدم !” وذریتہ اولیاء من دونی وھم لکم عدو “ اور وہ سب تمہارے دشمن تھے۔
کیا شیطان کی ذریت ہے
مجاہد سے شعبی کے حوالے سے روایت ہے کہ میں ایک روز بیٹھا ہوا تھا ایک قلی آیا اور اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا ابلیس کی بیوی ہے، میں نے جواب دیا مجھے معلوم نہیں لیکن پھر مجھے یاد آیا کہ اللہ نے فرمایا ہے ” افتتخذونہ وذریتہ اولیاء من دونی “ کہ اولاد بغیر بیوی کے نہیں ہوسکتی۔ میں نے کہا جی ہاں۔ قتادہ نے کہا شیاطین میں آدمیوں کی طرح توالد و تناسل ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے بیان کیا کہ ابلیس خود اپنی دُم اپنے دبر میں داخل کرلیتا ہے اس سے انڈا پیدا ہوجاتا ہے اور ایک انڈا پھٹ کر شیطان کی ایک جماعت نکل پڑتی ہے۔
شیطان کی کنیت اور اس کی قسمیں
مجاہد نے کہا ابلیس کی اولاد میں سے مندرجہ ذیل شیطان ہیں۔ لاقین، ولہان، ہفاف، مرہ، ذلنبور، اعور، مطوس، یثور، داسم، ولہان، وضو، غسل اور نماز میں وسوسہ پیدا کرتا ہے۔ مرہ ہی کے نام سے ابلیس کی کنیت ابومرہ مشہور ہے۔ ذلنبور بازاروں میں جھوٹی قسمیں کھلواتا اور صاحب مال سے مال کی جھوٹی تعریف کراتا ہے۔ اعور زنا پر آمادہ کرنے والا شیطان ہے۔ مرد کے عضو تناسل اور عورت کے سرینوں میں پھونک مار دیتا ہے۔ مطوس جھوٹی بےاصل افواہیں لوگوں میں پھیلاتا ہے۔ یثور مردہ کے وارثوں کے منہ پیٹنے اور گریبان پھاڑنے پر آمادہ کرتا ہے۔ واسم وہ شیطان ہے کہ آدمی جب گھر میں جاتا ہے اور کسی کو سلام نہیں کرتا اور اللہ کا ذکر بھی نہیں کرتا تو یہ شیطان اس آدمی کو گھر کی ہر چیز بےمحل رکھی ہوئی دکھاتا ہے ( جس سے آدمی کو غصہ آجاتا ہے اور وہ گھر والوں کو سخت سست کہنے لگتا ہے) اور بغیر بسم اللہ کیے آدمی کھانے لگتا ہے تو واسم بھی اس کے کھانے میں شریک ہوجاتا ہے۔ اعمیش نے کہا بعض اوقات میں بغیر بسم اللہ کے گھر میں داخل ہوا اور اندر جا کر کسی کو سلام بھی نہیں کیا تو مجھے ( بےجگہ رکھا ہوا) لوٹا نظر آیا، میں نے کہا اس کو یہاں سے اٹھائو، پھر گھر والوں سے جھگڑا کرنے لگا لیکن مجھے یاد آگیا اور میں نے کہا یہ واسم ہے واسم ہے۔
حضرت ابی بن کعب راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وضو ( میں بہکانے والا) ایک شیطان ہے جس کو ولہان کہا جاتا ہے تم لوگ پانی ( کے استعمال) کے وسوسے سے بچتے رہو۔ (رواہ الترمذی وابن ماجہ) ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے، اہل حدیث کی نظر میں اس کی سند قوی نہیں ہے۔ خارجہ بن مصعب راوی ضعیف ہے۔
حضرت ابو سعیدخدری ؓ راوی ہیں کہ حضرت عثمان بن ابی العاص نے خدمت گرامی میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! (ﷺ) شیطان میرے اور میری نماز و قرأت کے درمیان دخل انداز ہوجاتا ہے اور نماز کو مشتبہ بنا دیتا ہے۔ ( مجھے یاد نہیں رہتا کہ میں نے کتنی رکعتیں پڑھیں) فرمایا یہ شیطان ہے جس کو خزب کہاجاتا ہے، جب تم ایسا محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگو ( یعنی ” اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم “ پڑھو) اور بائیں طرف کو تین بار تھتکاردو۔ حضرت عثمان ؓ کا بیان ہے میں نے اس کے بعد ایسا ہی کیا اور اللہ نے اس کو مجھ سے دور کردیا۔ (رواہ مسلم)
حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے، پھر وہاں سے اپنے دوستوں کو ( اطراف عالم میں) روانہ کرتا ہے۔ ابلیس کا سب سے بڑا مقرب وہی ہوتا ہے جو سب سے زیادہ فتنہ انگیز ہو۔ کوئی آکر کہتا ہے میں نے یہ یہ کام کیے۔ ابلیت کہتا ہے تو نے کچھ نہیں کیا، پھر ایک شیطان آتا ہے اور کہتاں ہے میں نے میاں بیوی میں علیحدگی کرادی۔ ابلیت کہتا ہے تونے اچھا کام کیا، پھر اس کو اپنا مقرب بنا لیتا ہے۔ اعمش کا بیان ہے میرا خیال ہے راوی نے یہ بھی کہا، پھر ابلیس اس کو چمٹا لیتا ہے۔ (رواہ مسلم)
” بئس للظالمین بدلا “ قتادہ کا قول ہے کہ جنہوں نے ابلیس و اس کے پیروکاروں کا اتباع کیا، ان کا بُرا انجام ہے۔
Ayah 18:51(51)” ما اشد تھم “ جو انہوں نے حاضر کیا۔ ابو جعفر نے پڑھا ہے ” ما اشھد نا ھم “ نون و الف کے ساتھ اس صورت میں یہ تعظیم کے لیے ہوگا۔ ہم ابلیس اور ان کی ذریت کو حاضر کریں گے۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد کفار ہیں۔ کلبی کا قول ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں۔ ” خلق السموات والارض والا حلق انفسھم “ ان سے کہاجائے گا کہ تم ان کو حاضر کرو جن کو تم نے پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے پر ان سے مدد مانگو اور ان سے مشورہ طلب کرو۔ ” وما کنت متخذ ا المضلین عضدا “ وہ شیطان جس نے تمہیں گمراہ کیا وہ ہی تمہارا مددگار و حامی ہوگا۔
Ayah 18:52تفسیر (52)” ویوم یقول “ حمزہ اور دوسرے قراء نے (نقول ) پڑھا ہے۔ اللہ قیامت کے دن ان سے کہیں گے ” نادواشرکائی “ اپنے معبودوں کو پکارو ” الذین زعمتم “ کہ یہ تمہارے شرکاء ہیں۔” فدعوھم “ ان سے مدد طلب کرو۔ ” فلم یستجیبو الھم “ یہ نہ تمہاری اس پکار کو سنیں گے اور نہ ہی وہ تمہاری مدد کرسکیں گے۔” وجعلنا بینھم “ ان کے اور بتوں کے درمیان اور بعض نے کہا کہ ان کے درمیان اور اہل ہدایت کے درمیان۔ ” موبقا “ ہلاکت کا مقام بنادیں گے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ موبق دوزخ کی ایک وادی کا نام ہے۔ مجاہد کا قول ہے گرم پانی کی ایک وادی ہے۔ عکرمہ نے کہا کہ موبق ایک آگ کا دریا ہے جس میں آگ بہتی ہے اس کے کناروں پر سیاہ خچروں کے برابر سانپ ہیں۔
ابن الاعرابی کا قول ہے دونوں چیزوں کے درمیان جو چیز آڑ اور حاجب ہو اس کو موبق کہتے ہیں۔ فراء کا قول ہے کہ ہم دنیا میں ان کے ساتھ جوڑ پیدا کر ا کے آخرت میں ہلاک کردیں گے۔ ( یعنی دنیا میں جو کافروں اور ان کے معبودوں کے درمیان ملاپ اور جوڑ تھا قیامت کے دن ہم اس کو ہلاکت بنادیں گے) یہی مضمون دوسری آیت ” لقد تقطع بینکم “ تمہارا باہمی اتصال پارہ پارہ ہوگیا۔