Ayah 17:107107۔” قل آمنوا بلہ اولا تومنوا “ یہ وعید اور بطور تہدید کے فرمایا ۔” ان الذین اوتا العلم من قبلہ “ بعض لوگوں نے کہا کہ اس سے مراد اہل کتاب کے مؤمنین ہیں جو آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے حق کی تلاش میں تھے۔ جب آپ ﷺ مبعوث ہوئے تو یہ لوگ ان پر اسلام لے آئے۔ ان میں سے زید بن عمر بن نفیل ، سلمان فارسی ، ابی ذر وغیرہ ہیں ۔ ’ ’ اذ یتلی علیھم “ اس سے مراد قرآن ہے۔ ” یخرون للاذقان “ وہ ٹھوڑی کے بل گریں گے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے اس سے مراد چہرے ہیں کہ وہ چہروں کے بل گریں گے۔” سجدا “
Ayah 17:108108۔” ویقولون۔۔ تا۔۔ لمفعولا “ یعنی یہ واقعہ ہونے والا ہے۔
Ayah 17:109109۔” ویخرون للادفان یبکون “ وہ چہروں کے بل گرتے ہوئے روتے ہیں ۔ بکاء مستحب ہے قرأۃ قرآن کے وقت ۔ ” ویزیدھم “ قرآن کے نزول کے وقت ” خشوعا ً “ اپنے رب سے عاجزی کرتے ہوئے ، اس کی مثال اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ” اذا تتلی علیھم آیات الرحمن خروا سجدا ً وب کیا “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کے خوف سے رویا وہ دوخ میں داخل نہیں ہوگا ۔ یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں لوٹ جائے اور اللہ کی راہ میں پڑنے والا غبار اور جہنم کا دھواں مسلمانوں کے نتھنوں میں جمع نہیں ہوگا ۔ بہزبن حکیم کی روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ تین قسم کی آنکھوں پر جہنم کی آگ حرام ہے۔ ایک وہ آنکھ جو اللہ کے خوف میں روئی ہو اور دوسری وہ آنکھ جو جہاد میں پہر کرتے ہوئے جاگی ہو اور تیسری وہ آنکھ جو بد نظری سے بچی ہو۔
Ayah 17:110تفسیر 110۔” قل ادعوا اللہ او ادعوا الرحمن “ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مکہ میں ایک رات کو سجد میں رسو ل اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، اللہ ! یا رحمن ، ابو جہل نے کہا محمد (ﷺ) ہم کو تو ہمارے معبودوں سے منع کرتا ہے اور خود دو معبودوں کو پکارتا ہے۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی ذات کے دونوں نام ہیں ، بولنے میں تعدد ہے مگر یہ تعدد وحذت ذات سے مانع نہیں ، وہی ذات مستحق عبادت ہے۔
” ایا ما تدعوا “ ماصلۃ ہے یعنی تم میں کوئی ان دو ناموں سے پکاریں یا تمام اسماء میں کسی نام سے پکاریں۔” فلہ الاسماء الحسنیٰ ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بھا “ حضرت ابن عباس ؓ اس آیت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس زمانے میں مکہ میں چھپے ہوئے تھے اس دور میں جب صحابہ کو نماز پڑھاتے تھے توقرأت اونچی آواز سے کرتے تھے۔ جب مشرک قرآن کو سنتے تھے تو قرآن کو اور قرآن اتارنے والے کو اور جس پر اتار گیا تھا اس کو سب کو برا کہتے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ” ولا تجھر بصلاتک “ کہ آپ قرأت اونچی آواز سے نہ کرو کہ مشرک سن کر قرآن کو گالیاں دینے لگیں اور اتنے آہستہ بھی نہ پڑھو کہ اپنے ساتھی بھی سن نہ سکیں۔” وابتغ ذلک سبیلا ً “ درمیانی راہ اختیار کرو کہ صحابہ کرام ؓ سن لیں اور مشرکوں تک قرأت کی آواز نہ پہنچے ۔ بعض نے کہا کہ اس آیت کا نزول دعا کے بارے میں ہوا ۔ یہ قول حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ، امام نخعی ، مجاہد اور مکحول کا ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا قول ہے کہ ” ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بھا “ اس آیت کا نزول دعا کے متعلق ہوا ۔ حضرت عبد اللہ بن شداد کی روایت سے بیان کیا ہے کہ قبیلہ بنی تمیم کے اعرابی رسول اللہ ﷺ کے سلام کے جواب میں بلند آواز سے کہتے تھے ۔” اللھم ارزقنا مالاو ولدا “ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ یہ دونوں روایات قابل قبول نہیں۔
حضرت عبد اللہ بن رباح انصاری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے فرمایا تم پست آواز سے قرأت کر رہے تھے، میں تمہاری طرف سے گزرا تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا میں جس سے خطاب کر رہا تھا اس کو سنا دیا تھا، فرمایا ذرا آواز اونچی رکھا کرو اور حضرت عمر ؓ سے فرمایا میں تمہاری طرف سے گزرا تھا تو تم ( قرآن پڑھنے میں) آواز بلند کر رہے تھے ( یعنی بہت اونچی آواز سے پڑھ رہے تھے) حضرت عمر ؓ نے عرض کیا ، میں ( اپنی قرأت سے) سوتے کو جگا رہا تھا اور شیطان کو بھگا رہا تھا، فرمایا ذرا آواز نیچی رکھا کرو۔
Ayah 17:111111۔” وقل الحمد للہ الذی لم یتخذ ولدا ً “ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو فرمایا کہ وہ اللہ کی وحدانیت کی تعریف بیان کریں ۔ حمدکا معنی ہے تعریف و بزرگی کرنا اس ذات کی جو اس کی اہل ہے۔ حسین بن فضل کا قول ہے کہ الحمد للہ سے معلوم ہوتا ہوے کہ اس کی کوئی اولاد نہیں ۔” ولم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل و کبرہ تکبیرا ً “ وہ تعظیم عظمت والا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ ہی کوئی ولی۔
حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، قیامت کے دن جن کو جنت کی طرف سب سے پہلے بلایا جائے گا وہ وہی لوگ ہوں گے جو دکھ سکھ ہر حالت میں اللہ کی بہت زیادہ حمد کرتے ہیں۔ ( رواہ الطبر انی والبیقہی والحاکم)
حضر ت عبد اللہ بن عمرو و ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، حمد شکر کی چوٹی ( یعنی مدار ) ہے جو بندہ اللہ کی حمد نہیں کرتا وہ شکر نہیں کرتاے ( رواہ البیہقی و عبد الرزاق فی الجامع)
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، سب سے اچھی دعا الحمد للہ ہے اور سب سے اعلیٰ ذکر لاالہ الا اللہ ہے۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ)
حضرت سمرہ جندب کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، اللہ کو سب سے زیادہ پیارے چار جملے ہیں ۔ لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ اور اللہ اکبر اور الحمد للہ جس سے شروع کرو، کوئی حرج نہیں ( یعنی ترتیب ضروری نہیں) ( رواہ مسلم و احمد بسند صحیح)