Ayah 17:47تفسیر 47۔” نحن اعلم بما یستمعون “ بعض نے کہا کہ یہاں ماصلہ ہے۔ اس کا مطلب ہے جب وہ سننے کو طلب کرتے ہیں ۔ ” اذیستمعون الیک “ جب آپ قرآن کی تلاوت کر رہے ہوتے ہیں ۔ ” واذھم نجوی “ اس کے متعلق سرگوشیاں کرتے ہیں اور بعض نے کہا کہ وہ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں ، ان میں سے بعض یہ کہتے تھے کہ وہ مجنون ہے اور بعض ان کو کاہن کہتے او بعض جادوگر کہتے اور بعض ان کو شاعر کہتے ” اذ یقول الظالمون “ اس سے مراد ولید بن مغیرہ اور ان کے ساتھی ہیں ۔” ان تتبعون الا رجلا ً مسحورا ً “ جادوزدہ ہے ۔ مجاہد کا ہے کہ مسحور کہتے ہیں کہ فریب خوردہ ۔ بعض نے کہا کہ حق سے پھرجانے والا جیسے بولا جاتا ہے۔” ما سحرک عن کذا “ کہ تجھے کس چیز نے پھیر دیا ۔ ابو عبیدہ نے مسحورکا ترجمہ کیا سحر والا اور سحرکا معنی ہے ، پھیپھڑا ، مراد یہ ہے کہ وہ شخص جو تم جیسے پھیپھڑوں والا آدمی ہے کھاتا ہے، پیتا ہے سانس لیتا ہے۔
Ayah 17:4848۔” انظر “ اے محمد ( خطاب آپ ﷺ کو کہے) ” کیف ضربوا لک الامثال “ اس کا مشابہ ہے۔ ان میں سے بعض نے ان کو شاعر و ساحر اور کاہن اور مجنون کہا ۔ ” فضلوا “ کسی نے ان کو سخت سست کہا ۔ ” فلا یستطیعون سبیلا ً “ وہ سیدھے راستے تک پہنچنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
Ayah 17:4949۔” وقالوء اذ کنا عظا ما ً ورفاتا ً “ ان کے مرنے کے بعد مجاہد کا قول ہے کہ ان کی مٹی مٹی ہوجانے کے بعد اور بعض نے کہا کہ جب اس دن سب بوسیدہ ہونے کے بعد زندہ ہوجائیں گے۔” ء انا لمبعوثون خلقا ً جدیدا “۔
Ayah 17:5050۔ ’ ’ قل “ کہہ دیجئے اے محمد (ﷺ) ” کونوا حجارۃ او حدیدا ً “ شدۃ اور قوت میں ۔ یہ بیان پر لازمی حکم نہیں بلکہ یہ امر ان کو عاجز قرار دینے کے لیے ہیں ، یعنی اگر وہ اپنے دلوں میں یہ جان لیں کہ اگر تم پتھر بن جائو یا قوت میں لوہا کی طرح ہو جائو۔
Ayah 17:5151۔” او خلقا مما یکبر فی صدور کم “ کہا گیا کہ وہ آسمان و زمین اور پہاڑ ہوجائیں ۔ مجاہد کا قول ہے اور یہی قول عکرمہ اور اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا ہے کہ اس سے مراد موت ہے۔ ابن آدم کے بارے میں موت سے زیادہ کوئی چیز بڑی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم ان کی موت ان کی آنکھوں کے سامنے دیتے اور ان کو دوبارہ اٹھنے کا حکم کرتے۔ ” فسیقولون من یعیدنا “ تو وہ کہتے ہیں کہ کون ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا ۔” قل الذی فطرکم “ تمہیں کس نے پیدا کیا ۔ ” اول مرۃ “ جو پہلی مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے، دوبارہ جی اٹھانے پر بھی قادر ہے۔” فسینغضون الیک رئوسھم “ جب آپ ان کو یہ کہتے ہو تو یہ وہ آپ کی استہزاء کرتے ہیں ۔ ” ویقولون متی ھو “ جب آپ ان کو یہ کہتے ہو تو وہ آپ کی استہزاء کرتے ہیں ۔ ” ویقولون متی ھو “ بعثت اور قیامت ، کب آئے گی ۔ ” وما یدریک لعل الساعۃ تکون قریبا ً “
Ayah 17:52فتستجیبون بحمدہ کی تفسیر
تفسیر 52۔” یوم یدعو کم “ تمہاری قبروں سے تمہیں اٹھایا جائے گا قیامت کے دن کھڑے ہونے کے لیے ۔ ” فتستجیون بجمدہ “ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس کے حکم کی بناء پر ۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس کی اطاعت میں جواب دیں گے اور بعض نے کہا اس وقت وہ اقرار کرلیں گے پیدا کئے جانے پر اور دوبارہ اٹھائے جانے پر ۔ اس وقت یہ اللہ کی حمد وثناء کریں گے لیکن اس وقت ان کو حمد وثناء کسی کے کام نہیں آئے گی ۔ بعض نے کہا یہ خطاب مؤمنین کے ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی ہے کیونکہ جب ان کو اٹھایا جائے گا تو یہ اللہ کی حمد وثناء کرتے ہوئے اٹھیں گے۔” وتظنون ان لبثتم “ کہ تم اس دنیا میں ہمیشہ ہمیشہ رہو گے یا قبروں میں ہمیشہ ہمیشہ رہو گے ۔ ” الا قلیلا ً “ اگر انسان ایک ہزار سال بھی دنیا میں ٹھہر جائے یا قبروں میں ٹھہر جائیں لیکن وہ قیامت کے دن کے مقابلے میں وہ اس مدت کو کم پائیں گے۔ قتادہ کا قول ہے کہ وہ دنیا کی اس حقیر مدت کو قیامت کے مقابلے میں بہت حقیر سمجھیں گے۔
Ayah 17:5353۔” وقل لعبادی یقولوا التیھی احسن “ کلبی کا بیان ہے کہ جب مشرکوں نے مسلمانوں کو زیادہ دکھ پہنچانے شروع کیے تو مسلمانوں نے حضور ﷺ سے اس کی شکایت کی ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ” وقل لعبادی یقولوا “ بندوں سے مراد کافر لوگ ہیں ۔ ” التیھی احسن “ ہم ان کی مکافات نہیں کرتے ان کی بےوقوفی کی وجہ سے۔ حسن (رح) کا قول ہے کہ ان کو کہہ دو کہ اللہ تمہیں ہدایت دے یہ جہاد سے اجازت سے پہلے کا حکم تھا اور بعض نے کہا کہ حضرت عمر و بن خطاب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ۔ جب کفار نے ان کو برا بھلا کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کرنے کا حکم دیا او بعض نے کہا کہ اللہ نے مؤمنین کو حکم دیا کہ وہ بھی معاف کریں اور جو ان کے ساتھ بھلائی کریں اور بعض نے کہا کہ احسن سے مراد اخلاص و الا کلمہ ہے اور وہ لا الہ الا اللہ ہے ۔ ’ ’ ان الشیطان ینزع بینھم “ وہ ان کے درمیان فساد اور دشمنی ڈالتا ہے۔ ” ان الشیطان کان للانسان عدوا مبینا “ اس کی دشمنی سب کے سامنے ظاہ رہے۔
Ayah 17:5454۔” ربکم اعلم بکم ان یشائر حمکم “ تم کو اللہ توفق دے کہ تم ان پر ایمان لے آئو ۔” او ان یشایعذبکم “ تمہیں شرک کی حالت میں موت دے دے اور تم کو عذاب دے۔ یہ ابن جریج کا قول ہے ۔ کلبی کا بیان ہے کہ یہ خطاب اللہ کی طرف سے مؤمنوں کو ہے یعنی اگر اللہ چاہے گا تو مکہ والوں کے پنجہ سے تم کو بچالے گا اور چاہے گا تو تم کو اپنے ہاتھوں سے دکھ دے گا ۔” وما ارسلناک علیھم وکیلا ً “ حفاظت کرنے والا کفیل ہے۔ بعض نے کہا یہ آیت قتال سے منسوخ ہے۔
Ayah 17:5555۔” وربک اعلم بمن فی السموات والارض “ یعنی تمہارا رب جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں سے ہے ان کو مختلف صورتوں دے کر اور ہر ایک کو الگ الگ اخلاق سے آراستہ کر کے ان کو مختلف احوال سے اور بادشاہت سے نوازا ۔ ” ولقد فضلنا بعض النبین علی بعض “ بعض نے کہا کہ اس سے مراد آسمان والے اور زمین والے ہیں کہ بعض آسمان والوں کو زمین والوں سے بلند مرتبہ عطا کیا اور بعض زمین والوں کو بعض زمین والوں سے فضلیت بخشی۔
جیسے بعض انبیاء کو بعض پر فضلیت دی ۔ قتادہ کا بیان ہے کہ اس کی مثال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا خلیل اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کلام سے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” کن فیکون “ کے لفظ سے پیدا کر کے ان امور سے سرفراز فرمایا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو عظیم سلطنت عطا فرمائی کہ ان کے بعد ایسی سلطنت کسی کو نہیں ملی اور حضرت دائود علیہ اسلام کو زبور عطافرمائی۔ ” وآتینا دائود زبورا ً “ زبور وہ کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کو سکھائی جو ایک سو پچاس سورتوں پر مشتمل تھی ۔ اس میں سب دعائیں اور اللہ کی حمد وثناء تھی اس میں کوئی حلال و حرام اور کوئی چیز فرض نہیں کی گئی اور نہ ہی اس میں کوئی حدود غیر تھے۔ اس آیت کا معنی یہ ہوگا کہ یہ انبیاء (علیہم السلام) کی اس فضلیت کے منکر نہیں تو پھر نبی کریم ﷺ کی فضلیت کے منکر کیسے ہوگئے اور ان کو جو قرآن دیا گیا اس کے منکر کیسے ہوگئے۔ یہ خطاب ان تمام لوگوں کے ساتھ ہے جو انبیاء علہیم السلام کی فضلیت کے قاتل ہیں ۔ اہل کتاب میں سے ان کے علاوہ اور مذاہب کے لوگوں میں سے۔
Ayah 17:56تفسیر 56۔” قل ادعو الذین زعمتم من دونہ “ مشرکین کو بہت شدید قحط پڑا ۔ یہاں تک کہ وہ کتوں کا گوشت اور مردار کھانے لگے ، وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تا کہ ان سے مدد طلب کریں اور ان سے دعا کروائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ” قل “ کہہ دیجئے مشرکین مکہ سے ” ادعو الذین زعمتم انھا آلۃ من دونہ “۔۔۔۔ ” فلا یملکون کشف الضر “ اس سے مراد قحط اور بھوک ہے۔ ” عنکم ولا تحویلا ً “ تم کو اس حال کے علاوہ دوسرے حال کی طرف پھیر دے گا یا تنگی سے آسانی کی طرف پھیر دے گا ۔
Ayah 17:5757۔” اولئک الذین یدعون یبتغون الی ربھم الوسیلۃ “ وہ معبود ان باطلہ جن کو مشرکین مکہ پکارتے ہیں کہ وہی ” الھۃ “ ہیں ان کی عبادت کرتے ہیں۔ ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ یا اس سے حضرت عزیر (علیہ السلام) اور فرشتے ہیں ۔ سورج ، چاند ، ستارے یہ سب اپنے رب کی قربت کو تلاش کرتے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ یہاں وسیلہ سے مراددرجہ ہے وہ اللہ کے آگے عاجزی اختیار کرتے ہیں ، بلند درجہ حاصل کرنے کی غرض سے۔ بعض نے کہا کہ وسیلہ ہر وہ کام جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بنے۔” ایھم اقرب “ وہ دیکھتے ہیں کہ کون اللہ کے زیادہ قریب ہے جس سے وہ توسل اختیار کرتے ہیں ۔ زجاج کا قول ہے کہ ان میں سے جو اعال صالحہ کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے ، اس سے وسیلہ پکڑتے ہیں۔” ویرجون رحمتہ “ رحمت سے مراد جنت ہے ( کہ وہ اس کی جنت کی امید رکھتے ہیں)
” ویخافون عذابہ ان عذاب ربک کان محذورا ً “ ان سے ڈرنا چاہیے۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ عرب کا ایک گروہ جنوں کے گروہ کے ساتھ عبادت کرتے تھے ، جن اسلام لے آئے ، انسانوں کو ان کے اسلام لانے کا علم نہیں ہوا ، جن کے ساتھ مل کر وہ عبادت کرتے تھے ، وہ ان کی عبادت کرنے سے رک گئے ، اللہ نے ان کو عار دلائی ، ان پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ابن مسعود ؓ نے ” الذین تدعون “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 17:5858۔” وان من قریۃ “ اور کوئی بستی ایسی نہیں ۔” الا نحن مھلکوھا قبل یوم القیامۃ “ اس بستی کو ہم بوسیدہ اور ہلاک نہ کردیں اور اس بستی میں رہنے والوں کو ہلاک نہ کردیں ۔” او معذبوھا عذابا ً شدیدا “ عذاب کی مختلف قسم کے انواع ان کو دیئے جائیں گے ، ان کے کفر کے بسبب یا نافرمانی کے بسبب۔ مقاتل وغیرہ کا قول ہے کہ ہلاک کرنے سے مراد ہے مار ڈالنا، موت کو مسلط کردینا، یعنی بستی والے اگر مؤمن ہوں تو ہم ان پر موت مسلط کردیتے ہیں ، زندگی ختم کردیتے ہیں اور اگر کافر ہوں تو طرح طرح کے عذابوں کو مبتلا کردیں گے۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے کہ جب کسی بستی میں زنا اور سود پھیل جاتا ہے اللہ اس بستی کو تباہ کرنے کا حکم دے دیتا ہے۔
” کان ذلک فی الکتاب “ کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے۔ ” مسطورا ً “ لکھا ہوا ۔ عبادہ بن صامت ؓ روای ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے اول اللہ نے جس کو پیدا کیا وہ قلم تھا ، پھر اس سے فرمایا لکھ ، قلم نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر کو لکھو، حسب الحکم قلم نے ہر اس چیز کو لکھا جو چکی ہے یا ابد تک ہونے والی ہے۔
Ayah 17:59وما منعا ان نرسل بالایات کا نشان نزول
تفسیر 59۔” وما منعناان نرسل بالا یات الا ان کذب بھا الاولون “ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ صفا پہاڑی کو ہمارے لیے سونا بنا دے اور یہ کہ ان پہاڑوں کو اپنی جگہ سے دو ہٹا دے تا کہ ہم اس جگہ کھیتی باڑی کرلیں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو وحی کی ، اگر آپ چاہیں تو ان کی اس بات کے مطابق ہم کرلیں ، اگر آپ چاہیں تو ان کے لیے اس بات کو اختیار نہ کریں ( اگر ان کے سوال کے مطابق ہم اگر صفا پہاڑ کو سونے کا بنادیں اور ان پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہٹا دیں تا کہ وہ اسی جگہ کھیتی باڑی کریں ) اگر اس پر وہ ایمان نہ لائیں تو پھر ہم ان کو اس طرح ہلاک کریں گے۔ جیسا کہ پہلی امتوں کو ہلاک کیا ۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہمیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ” وما منعنا ان نرسل بالایات “ وہ نشانیاں یا معجزے جن کا کفار قریش نے مطالبہ کیا ۔ ” الا ان کذب بھا اولون “ ہم نے ان کو ہلاک کردیا تو اگر ہماری نشانیاں آنے کے بعد ان کے ان معجزوں کو طلب کرنے کے بعد ایمان نہ لائے تو پھر ان کو ہلاک کردیا جائے گا کیونکہ ہمارا اس کے متعلق یہ اصول و ضابطہ رہا ہے کہ جو قوم نشانیاں مانگتی ہیں ہم ان کو وہ نشانیاں دے دیتے ہیں پھر ان نشانیوں کے بعد وہ ایمان نہ لائیں تو ہم ان کو مہلت نہیں دیتے بلکہ ان کو ہلاک کردیتے ہیں ۔ ہم اس امت کو تباہ نہیں کرنا چاہتے بلکہ مہلت دینا چاہتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ” بل الساعۃ موعدھم والساعۃ ادھی وامر “ پھر آگے ارشاد فرمایا ” وآتینا ثمود الناقۃ مبصرۃ “ ان کے لیے واضح نشانی بیان کردی ۔ ’ ’ فظلموا بھا ‘ ‘ انہوں نے ان آیات کا انکار کیا کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ” وما کانوا بآتینا یظلمون “ اس کا معنی ہے کہ وہ اس کا انکار کرتے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ان معجزوں کا انکار کر کے اور وہ عذاب جلدی طلب کرتے ہیں ۔ ” ما نرسل بالایات “ عبرت کے لیے اور خوف دلانے کے لیے بھیجتے ہیں ۔ ” الا تخویفا ً “ بندوں کے ڈرانے کے لیے تا کہ وہ اس پر ایمان لے آئیں ۔ قتا دہ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جیسے چاہتا ہے ڈراتا ہے اپنی نشانیوں میں سے تا کہ وہ اس کی طرف لوٹے۔
Ayah 17:6060۔” واذقلنا لک ان ربک احاط بالناس “ وہ ہمارے قبضہ میں ہیں ہم سے بھاگ کر نکلنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ وہ تمہاری محافظ ہے اور تمہارے آنے والے دشمنوں کو تم سے رک دے گی ، لہٰذا تبلیغ کے کام میں کسی کی پرواہ کیے بغیر اپنے کام کو انجام دیجئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” واللہ یعصک من الناس “۔۔۔ ” وما جعلنا الرویا التی اریناک الافتنۃ للناس “ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کے نزدیک اس آیت سے مراد یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے معراج کی رات عجائبات اور آیات نہیں دیکھیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ رئویا سے مراد رئویت یعنی آنکھوں سے دیکھنا ۔ سعید بن جبیر ، حسن بصری ، مسروق ، قتادہ ، مجاہد ، عکرمہ ابن جریج اور اکثر علماء کا قول بھی یہی ہے۔ عرب کا قول ہے ” رایت بعینی رئویۃ ورویا “ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ آپ ﷺ نے جب لوگوں کے سامنے اس کا ذکر کیا تو بعض نے اس کا انکار کردیا اور بعض لوگوں نے نبی کریم ﷺ کو جھٹلایا یہی فتنۃ للناس ہے۔
بعض نے حضرات نے کہا نبی کریم ﷺ کو دو مرتبہ معراج ہوئی ، ایک بار آنکھوں سے دیکھنے کی اور ایک بار دل سے دیکھنے کی اور بعض حضرات کا قول ہے کہ رئویا سے مراد وہ خواب ہے جو حدیبیہ کے سال رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ آپ اور آپ کے ساتھی مکہ میں داخل ہوگئے ہیں ، آپ مقررہ میعاد سے پہلے مکہ کی طرف چل کھڑے ہوئے ، جب مشرکوں نے حدیبیہ کے مقام پر آپ کو روک دیا تو آپ لوٹ آئے۔
پہلے تو آپ نے لوگوں سے بیان کیا تھا کہ ہم مکہ میں داخل ہوجائیں گے اور پھر اسی سال حدیبیہ سے واپس لوٹنا پڑا ، اس سے لوگ فتنہ میں پڑگئے اور بعض لوگوں نے شک پڑگیا ۔ پھر جب دوسرے سال مکہ میں داخل ہوگئے تو یہ آیت نازل ہوئی ۔ ” لقد صدق اللہ رسولہ الرویا بالحق “ ۔۔۔۔ ” والشجرۃ الملعونۃ فی القرآن “ اس سے زقوم ( تھوہر) کا درخت مراد ہے۔” شجرۃ ملعونۃ “ کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔
شجرۃ ملعونۃ کی تفسیر
عرب کے ہاں ہر ناپسندیدہ کام کے لیے ملعون کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ اس کا کھانے والا ملعون ہے ۔ شجرہ منسوب ہے رئویا پر عطف ہونے کی وجہ سے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس خواب کو جو ہم نے آپ کو دکھلایا اور شجرہ ملعونہ ان دونوں کو لوگوں کی آزمائش کے لیے بنایا ۔ خواب میں فتنہ کا ہونا تو پہلے ہم ذ کرچکے ہیں ۔ شجرہ ملعونہ کا فتنہ ہونا دو وجوہ سے ہے۔ ابو جہل نے کہا کہ ابن ابی کبثہ تم کو ایسی آگ سے ڈراتے ہیں جو پتھروں کو بھی جلا دے گی لیکن خود ہی یہ کہتے ہیں کہ وہاں ایک درخت اگے گا تم لوگ جانتے ہو کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔
2۔ عبد اللہ بن زبعری فرماتے ہیں کہ محمد ! (ﷺ) ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں اور ہم تو زقوم کا معنی مکھن اور چھوہارے ہی جانتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ہم کو دوسرا معنی معلوم نہیں ۔ یہ سن کر ابو جہل نے اپنی لونڈی کی آواز دی ” یا جاریۃ تعالیٰ فزقمینا “ جاریہ ہمارے لیے زقوم لا باندی فوراً مکھن اور چھوہارے لے آئی ۔ ابو جہل بولا لوگو ! زقوم کھائو ، محمد ! (ﷺ) تم کو اسی سے ڈراتے ہیں ، زقوم کا ذکر اللہ نے سورة صافات میں کیا ہے ۔ بعض نے کہا کہ شجرہ ملعونہ سے مراد وہ بیل ہے جو درخت کے ساتھ لپٹ جاتی ہے۔ گویا اس نے درخت کے گلے کو گھونٹ دیا اس سے درخت خشک ہوجاتا ہے۔ ” ونخوفھم فما یزیدھم “ اس سے مراد خوف دلانا ہے۔ ” الا طغیانا ً کبیرا ً “ طغیان ، سرکشی اور تمرد میں زیادتی یہ بڑا گناہ ہے۔
Ayah 17:61تفسیر 61۔” واذ قلنا ۔۔۔۔ تا ۔۔۔ خلقت طینا ً “ اس کو مٹی سے بنایا اور میں اس کو دیکھ چکا ہوں ۔ سعید بن جبیر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو بھیجا تا کہ وہ زمین کی مٹی سے ایک مٹھی لے آئے جو شیریں بھی اور نمکین بھی ۔ اس سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پتلا بنایا ۔ پس جس کو میٹھی خاک سے بنایا وہ تو خوش نصیب ہوگیا ، خواہ اس کے ماں باپ کافر ہوں اور جس کی تخلیق نمکین خاک سے بنی وہ بدبخت ہوا، خواہ وہ انبیاء زادہ ہی کیوں نہ ہو۔
Ayah 17:6262۔” قال “ ابلیس نے کہا ” ارایتک “ کہ میں خبر دیتا ہوں کاف مخالف کی تاکید کے لیے ہے۔ ” ھذا الذی کر مت علی “ اس کو مجھ پر فضلیت بخشی ۔ ” لئن اخرتنی “ مجھے مہلت دے دے ۔ ” الی یوم القیامۃ لا حتنکن ذریتہ “ ان کو گمراہی کی طرف کھینچ لوں گا ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” احتناک الجراد الزرع “ جب ٹڈ ی سارے کھیت کو کھاجائے اور بعض نے کہا کہ عرب کا قول ہے ” حنک الدابۃ یحنک ‘ ‘ گھوڑے کا نچلا جبڑا ، رسی سے باندھ دیا تا کہ جس طرف چاہے مالک کھینچ کرلے جائے۔ بعض نے کہا کہ ان کو اغواء کرکے ان کی بیخ کنی کر دوں گا ۔” الا قیلا “ مگر وہ لوگ جن کو اللہ نے اپنی حفاظت میں لے لیا ہے۔ ” ان عبادی لیس لک علیھم سلطان “۔
Ayah 17:6363۔” قال “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اذھب فمن تبعک منھم فان جھنم جزاء کم “ تمہارا بدلہ اور تمہاری اتباع کرنے والوں کا یہی بدلہ ہوگا ۔ ” جزاء موفورا ً “ مکمل بدلہ ، جیسے کہا جاتا ہے ’ ’ وفرتہ او فرہ و فراً “۔
Ayah 17:64تفسیر 64۔” واستفزز “ ان میں سے جس پر تیرا قابول چلے اور جس پر کوشش کر کے ورغلا سکے۔” من استطعت منھم “ آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ” بصوتک “ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک صوت سے مراد گناہ ہے جو بھی اللہ کی نافرمانی کی دعوت دے وہ ابلیس کی جماعت میں شامل ہے۔ ازہری کا بیان ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس کو اپنی طرف بلانا اور اکھاڑ کر اپنی جانب مائل کرلینا ۔ مجاہد کا بیان ہے کہ اس سے مراد ہے گانا بجانا ۔ ” واجلب علیھم بخیلک ورجلک “ اپنے لشکر کو اغواء اور مکر کے تمام ذرائع کو جمع کرلیا ، جیسا کہ کہا جاتا ہے ” اجلبوا وجلبوا اذا صاحوا “ لرزا چیخا۔
مقاتل کا بیان ہے کہ اس کے لیے مدد طلب کی ، اپنے لشکر کے ساتھ ۔ بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ گناہوںے راستہ پر چلنے والا ابلیس کا لشکری ہے۔ سوار ہوکر چلے یا پیادہ چلے ۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ جنات اور انسانوں میں سے کچھ اشخاص ابلیس کے سوار بھی ہیں اور پیادے بھی ہیں جو بھی معصیت کے راستے میں لڑے وہ ابلیس کا لشکری ہے۔ ” والرجل والراجلۃ والرجالۃ “ ان سب کا معنی ایک ہی ہے راجل رجل مثل تاجر تجر کے ہے راکب رکب کے معنی میں ہے ۔ خفص نے ” ورجک “ جیم کے کسرہ کے ساتھ ۔ اس میں دونوں لغات ہیں ۔ ” وشارکھم فی الاموال والاولاد “ شرکت فی الاموال سے مراد یہ ہے کہ حرام کمائی کرنے اور ان کو جمع کر کے رکھنے پر لوگوں کو آمادہ کرنا اور حرام مال خرچ کرنا ۔
عطاء کا قول ہے کہ اس سے مراد سود کا لین دین ہے۔ قتادہ کا بیان ہے کہ اس سے مراد وہ جانور بحیرہ سائبہ وصیلہ حام جو مشرکین نے حرام کر رکھے تھے۔ ضحاک کا قول ہے کہ وہ جانور ہیں جو اپنے بتوں کے نام ذبح کرتے تھے۔ شرکت فی الاولاد سے مراد حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک زندہ دفن کی ہوئی لڑکیاں ہیں ۔ مجاہد اور ضحاک کا قول ہے کہ اس سے مراد اولاد و زنا ہے۔ حسن اور قتادہ نے کہا ہے کہ اولاد کو یہودی اور نصرانی اور مجوسی بنانا مراد ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا دوسرا قول یہ ہے کہ اولاد کا ناجائز نام رکھنا مراد ہے۔ جیسے عبد الحارث ، عبد الشمس ، عبد العزی ، عبد الدار وغیرہ۔
جعفر بن محمد سے روایت ہے کہ جب انسان بیوی سے قربت کا ارادہ کرتا ہے تو شیطان اس کا ذکر پر بیٹھ جاتا ہے۔ اب اگر وہ شخص بسم اللہ کے بغیر کام شروع کردیتا ہے تو اس کے ساتھ شیطان بھی جماع میں مشغول ہوجاتا ہے اور انسانوں کی طرح عورت کے اندام نہانی میں شیطان بھی انزال کرتا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس سے مراد مغربین ہیں ۔ دریافت کیا گیا مغرب لوگ کون ہیں ؟ فرمایا جن میں شیطان ہوتے ہیں ۔ روایت کیا گیا کہ ایک شخص نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ میری بیوی بھاگی اس کی شرم گاہ میں آگ کا شعلہ تھا، فرمایا یہ جن کے وطی کرنے کا ہے۔
بعض آثار میں نقل کیا گیا ہے کہ ابلیس کو جب جنت سے نکال کر زمین پر بھیج دیا گیا تو ابلیس نے عرض کیا اے میرے رب آدم کی وجہ سے تو نے مجھے جنت سے نکال دیا، اب مجھے اس پر اور اس کی اولاد پر قابو عطا فرما دے۔ اللہ نے فرمایا تجھے قابو دے دیا ، فرمایا ابلیس نے کہا مجھے تیرے بغیر تو اس کی طاقت نہیں ، اللہ نے فرمایا ” استفزز من استطعت منھم بصوتک “ آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا ، اے میرے رب ! تو نے ابلیس کو مجھ پر اور میر ی نسل پر مسلط کیا ہے اور تیرے بغیر میں اس سے محفوظ رہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ اللہ نے فرمایا ، تیری جو بھی اولاد ہوگی میں اس کی حفاظت کے لیے حافظ مقررکروں گا ۔ آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا میں اس کلام کی مزید تفصیل چاہتا ہوں ۔ اللہ نے فرمایا ہر نیکی کا بدلہ دس گناہ دیا جائے گا ۔ آدم علیہ السلا م نے عرض کیا اور کیا ہے اللہ نے فرمایا جب تک روح جسم میں رہے گی توبہ کی قبولیت سامنے رہے گی ۔ آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا اور کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ ’ یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسھم “۔
شیطانی کلام
بعض روایات میں آتا ہے کہ ابلیس نے عرض کیا اے رب تو نے انبیاء (علیہم السلام) بھیجے اور کتابیں نازل کیں ، میرے پڑھنے کے لیے کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا شعر، ابلیس نے کہا ک میری تحریر کیا ہوگی ؟ فرمایا جسم کا گودنا ۔ ابلیس نے میرے پیغامبر کون ہیں ؟ فرمایا کاہن اور عرض کیا میرے رہنے کا مقام کون سا ہے ؟ فرمایا حمام ۔ عرض کیا میرے بیٹھنے کا مقام کہا ہے ؟ فرمایا بازاروں میں ۔ عرض کیا میرا کھانا کیا ہے ؟ فرمایا وہ چیز جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ عرض کیا میرے پینے کی کیا چیز ہے ؟ فرمایا ہر نشہ آور چیز ، عرض کیا میرا جال کون سا ہے ؟ فرمایا عورتیں ۔ عرض کیا میرا سامان کیا ہے ؟ فرمایا باجے۔
” وعدھم “ ان میں سے جو تمہاری پیروی کریں ان کو اپنے لیے پسند کرلے۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تم ان کو کہو ان کے لیے جنت ہے اور نہ آگ ہے اور نہ دوبارہ اٹھایا جاتا ہے۔ ” وما یعدھم الشیطان الا غروراً “ غرور کہتے ہیں باطل کو اس طرح مزین کردیتا کہ اس کو حق سمجھا جانے لگے۔ یہ سوال کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا کیسے حکم دیا گیا حالان کہ ” ان اللہ لا یامر بالفحشاء “ اس کا یہ جواب دیا گیا کہ یہ بطور تہدید کے فرمایا ۔ جیسا کہ اس آیت میں ارشاد فرمایا :” اعملوا ماشئنتم “۔
Ayah 17:65تفسیر 65۔” ان عبادی لیس لک علیھم سلطان وکفی بربک وکیلا ً “ وہی تمام امور کا محافظ ہے ۔ اس شخص کے لیے جو اپنے تمام امور اسی کے سپرد کردیتا ہے
Ayah 17:6666۔” ربکم الذی یزجی لکم الفلک “ جو کھینچتا ہے اور چلاتا ہے کشتی کو ۔ ” فی البحر لتبتغوا من فضلۃ “ تا کہ وہ اس کے رزق سے تلاش کریں۔” انہ کان بکم رحیما ً “
Ayah 17:6767۔” واذا مسکم الضر ‘ جب ڈوبنے کا سخت خوف و اندیشہ ہو۔ ” فی البحر ضل “ سمندروں کی موجوں میں چڑھتے ہوئے تو اس وقت یہ بت باطل اور تمہاری نظروں سے ساقط ہوجاتے ہیں ۔ ” من تدعون “ جن معبودوں کو تم پکارتے تھے۔” الاآیہ “ ان بتوں کو چھوڑ کر اللہ کو پکارتے ہو۔ اس کے علاوہ تم کسی کو مدد گار نہیں پاتے۔” فلما نجاکم ‘ ‘ وہ تمہاری پکار سنتا ہے اور تمہیں سمندر کے ہول سے نجات دیتا ہے اور تمہیں اس سے نکالتا ہے۔ ” الی ابراء عرضتم “ تم ایمان سے اعراض کرتے ہو اور اخلاص وطاعت سے منہ موڑنے لگتے ہو اور اس کی اس نعمت کا انکار کرتے ہو۔” وکان الانسان کفوراً “۔
Ayah 17:6868۔” افامنتم “ اس کے بعد ” ان یخسف بکم “ تمہیں اس میں غرق کردیتا ۔ ” جانب البر “ سمندر کے کنارے پر ۔ ” ویرسل علیکم حاصبا ً “ تم پر ایسے پتھر برساتے جس طرح قوم لوط پر پتھر برسائے۔ ابو عبیدہ اور قتیمی رحمہما اللہ کا قو ل ہے حاصب وہ ہوا ہے جو اپنے ساتھ سنگریزے بھی اڑاے۔” ثم لا تجدوا لکم وکیلا ً قتادہ نے اس کا ترجمہ کیا ہے روک دینے والا ۔
Ayah 17:6969۔” ام منتم ان یعید کم فیہ “ کیا وہ تمہیں دوبارہ دریا میں نہیں لوٹائے گا ۔ ” تارۃ “ کبھی کبھار ” اخری فیرسل علیکم فاصفاً من الریح “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ عاصف تیز آندھی طوفان کو کہتے ہیں ۔ ابو عبیدہ کا قول ہے کہ قصف کا معنی ہے کوٹنا توڑ دینا ۔ قاصف وہ ہوا جو اپنی قوت سے ہر چیز کو توڑ پھوڑ ڈالے۔ قتیبی (رح) کا قول ہے کہ وہ ہوا جو درختوں کو توڑڈالے۔
” فیغرقکم بما کفر تم ثم لا تجدورا لکم علینا بہ تبیعا ً “ مدد گار یا انتقام کا طلب گار ۔ تبیع بمعنی تابع کے ہے وہ تابع جو انتقام لینے کا منتظر ہو ۔ بعض نے کہا کہ جو تابع ہونے سے منکرہو جائے۔ ابن کثیر ، ابوعمر نے ( نخسف ، نرل ، نعید کم ، فنرسل ، فنغرقکم) نون کے ساتھ پڑھا ہے دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو جعفر اور یعقوب نے ” فتغرقکم “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے اس سے مراد ریح ہے۔
Ayah 17:70تفسیر 70۔” ولقد کرمنا بنی آدم “ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ انگلیوں سے کھانا بھی عزت بخشی ہے اور انسان کے علاوہ جو چیزیں ہیں وہ زمین سے اپنے منہ کے ذریعہ کھاتے ہیں ۔ ان سے روایت ہے کہ ان کے نزدیک اس سے مراد عقل ہے۔ ولقد کرمنا بنی آدم کی مختلف تفاسیر
ضحاک نے کہا کہ اس سے مراد گویائی ہے۔ عطاء کا قول ہے کہ قد کا اعتدال ، مزاج میں اعتدال اور دواب وہ ہیں جن پر سوار ہوتے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ اس عزت سے مراد حسن صورت ہے اور بعض نے کہا کہ مردوں کو عزت بخشی ، داڑھی کے بالوں کے ساتھ اور عورتوں کی زلفوں کے ساتھ ۔ بعض نے کہا کہ ” کرمنا “ سے مراد تمام اشیاء ہیں جو انسانوں کے لیے مسخر کردیئے ہیں اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد خیر امت ہے جس کو ” اخرجت للناس “ لوگوں کی بھلائی اور تبلیغ کے لیے حکم دیا گیا ۔ ” وحملنا ھم فی البر والبحر “ خشکی میں سوار ہونے کے لیے چوپائے عطا کئے اور سمندر میں کشتیاں بنائیں ۔ ” ورزقناھم من الطیبات “ کھانے پینے کی لذیز اشیاء اور مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے مراد مکھن ، پنیر ، چھوہارے اور میٹھی اشیاء ۔ ان اشیاء کے علاوہ دوسری چیزوں کا رزق جو اس سے کوئی مخفی نہیں۔
انسان اگر نیک ہے تو فرشتوں سے بھی افضل ہے
” و فضلنا ھم علی کثیر من خلقنا تفضیلاً “ ظاہر آیت یہی ہے کہ ان کو فضلیت دی ہے۔ بعض اشیاء میں نہ کہ تمام چیزوں میں اور بعض نے کہا ہ ان کو تمام مخلوق پر فضلیت دی مگر ملائکہ پر ان کو فضلیت نہیں دی ۔ کلبی نے کہا سوائے چند فرشتوں کے باقی فرشتوں سے بھی انسان کو برسری حاصل ہے۔ جبرئیل ، میکائیل ، اسرافیل (علیہم السلام) اور ملک الموت کے علاوہ سب پر انسان کو فضلیت دی گئی ہے۔ انسان فرشتوں سے افضل ہیں یا فرشتے انسان سے افضل ہیں اس کے متعلق آئمہ کا اختلاف ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ انسان تمام مخلوقات سے افضل ہے یہاں تک کہ تما م ملائکہ سے بھی افضل ہے اور بعض اکثر کو کل کا قائم مقام قرار دیتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔” ھل انبئکم علی من تنزل الشیاطین “ سے لے کر ” واکثرھم کاذبون “ اس سے مراد تمام کے تمام ہیں۔
حضرت جابر ؓ کی مرفوع روایت نقل کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اور ان کی ذریت کو پیدا کردیا تو فرشتوں نے عرض کیا، اے رب تو نے ان کو پیدا کردیا ، وہ کھائیں گے ، پئیں گے ، عورتوں سے قربت کریں گے اور سواریوں پر سوار ہوں گے۔ پس ان کے لیے تو دنیا کر دے اور ہمارے لیے آخرت خاص کر دے۔ اللہ نے فرمایا جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور اس کے اندر اپنی روح کا کچھ حصہ پھونکا ، اس کو میں اس مخلوق کی طرح نہیں کروں گا جس کو پیدا کرنے کے لیے میں نے کن کہا اور وہ ہوگئی ۔ بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے عوام المومنین افضل ہے عوام الملائکہ سے اور خواص المومنین افضل ہیں ۔ خواص الملائکہ سے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :” ان الذین امنوا وعملو الصالحات اولئک ھم خیر البریۃ “ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہ سب مخلوق سے بہتر ہیں ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مؤمن اللہ کے نزدیک ان ملائکہ سے بھی جو اس کے پاس ہیں ، زیادہ عزت والا ہے۔
Ayah 17:7171۔” یوم ندعوا کل اناس بامامھم “ مجاہد اور قتادہ کا بیان ہے کہ امام سے مراد ہے ہر امت کا نبی ۔ ابو صالح اور ضحاک کا قول ہے کہ وہ کتاب الٰہی مراد ہے جو ہر امت کو دی گئی تھی ۔ حسن اور ابو العال کا قول ہے کہ امر سے مراد ہیں وہ اعمال جو زندگی میں انسان ہی بھیج دینا ہے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ امام سے مراد ہے اعمال نامہ ، کتاب کو اماام کہا جاتا ہے ۔ اس آیت کے سیاق کلام سے معلوم ہو رہا ہے۔
” فمن اوتی کتابہ بیمینہ “ اور کتاب کو امام کہا گیا ہے ۔ جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے۔ ” وکل شی احصیناہ فی امام مبین “ سعید بن جبیر اور ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ امام سے مرادہر قوم کا وہ امام وقت جو اپنی قوم کو گمراہ کرنا یا ہدایت کی طرف بلاتا تھا۔ اللہ نے ان دونوں کے متعلق ارشاد فرمایا ” وجعلنا ھم ائمۃ یھدون بامرنا “ یعنی ائمہ ھدی اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا ۔” وجعلنا ھم ائمۃ یدعون الی النار “ ہمیں نے کہا کہ ان کے معبود کی وجہ سے ۔
سعید بن المسیب کا قول ہے کہ ہر قوم اپنے سردار کے پاس جمع ہوگی خیر کا سردار ہو یا شر کا سردار ۔ مجھ بن کعب کا قول ہے ” بامامھم “ امام جمع ہے ام کی جیسے خفاف جمع ہے خف کی ۔ یعنی مائوں کے نام کے ساتھ لوگوں کو پکارا جائے گا ۔ اس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اکرام اور اعزاز اور حضرت حسن اور حسین ؓ کی عظمت کا اظہار مقصود ہے اور اس میں یہ مصلحت بھی ہے کہ اولاد زنا رسوا نہ ہونے پائے۔ ” فمن اوتی کتابہ بیمینہ فائولک یقرء ون کتابھم ولا یظلمون فتیلا فتیل وہ باریک سونتا جو کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں ہوتا ہے۔
Ayah 17:72تفسیر 72۔” ومن کان فی ھذہ عمی “ اس اشارے میں ائمہ کرام کا اختلاف ہے۔ بعض حضرات نے کہا کہ ھذہ سے مراد اللہ کی وہ نعمتیں جن کا اظہار اللہ نے ” ربکم الذی یزجی لم الفلک سے تفصیلاً “ تک ذکر کیا ہے۔ یعنی اللہ کی ان کھلی ہوئی نعمتوں کو دیکھتے ہوئے جو شخص نابینا رہا وہ آخرت کے مقابلے میں تو بہت ہی زیادہ اندھا ہوگا کیونکہ آخرت کو تو اس نے دیکھا ہی نہیں ۔ ” فھو فی الاخرۃ اعمی و اضل سبیلا ً “ حضرت ابن عباس ؓ سے یہی مروی ہے اور دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہ راجع ہے دنیا کی طرف راجع ہے۔ یعنی جو شخص اس دنیا میں دلائل توحید اور حق کو دیکھنے سے اللہ تعالیٰ کی آیات اور معجزات انبیاء کو دیکھنے سے نابنیا ہے تو وہ آخرت کے معاملے میں اس سے زیادہ نابینا ہوگا ۔ بعض نے کہا کہ اس اعتبار سے جو شخص دنیا میں نابینا رہا وہ آخرت میں بھی عذر پیش کرنے سے نابینا رہے گا ۔ حسن (رح) کا قول ہے کہ جو شخص اس دنیا میں گمراہ اور کافر رہا تو وہ آخرت میں بھی اندھا اور گمراہ رہے گا کیونکہ دنیامیں تو اللہ توبہ قبول کرلیتا ہے، آخرت می (رح) توبہ قبول نہیں کرتا ۔ بعض قراء ان دونوں الفاظ پر امالہ کرتے ہیں اور بعض قراء ان دونوں الفاظ پر فتحہ دیتے ہیں ۔ ابو عمرو پہلے حرف کو کسرہ اور دوسرے کے فتحہ کے قائل ہیں ۔ یعنی وہ آخرت میں دنیا کی بنسبت زیادہ اندھا ہوگا ۔
Ayah 17:73آیت وان کادوا لیفتنونک کے مختلف شان نزول
73۔” وان کادوا لیفتنونک عن الذی اوحیان الیک “ اس کے سبب نزول میں ائمہ مفسرین کا اختلاف ہے۔ سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ جر اسود کو چومتے تھے۔ اس پر مشرکین نے کہا کہ ہم آپ کو سنگ اسود کو چومنے نہ دیں گے تاوقتیکہ آپ ہمارے معبودوں کی طرف نہ جھکیں۔ رسول اللہ ﷺ نے خیال کیا اگر میں ایسا کرلوں تو کیا حرج ہے جب کہ اللہ واقف ہے کہ دل سے اس کے خلاف ہوں۔
بعض نے کہا کہ مشرکین نے ان کو طلب کیا کہ وہ ان کے بتوں کو چھوئیں یہاں تک کہ وہ بھی اسلام لے آئیں اور ہم آپ کی پیروی کرلیں گے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ قبیلہ ثقیف کا وفد رسو ل اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، ہم آپ کے ہاتھ پر تین شرائط کی بناء پر بیعت کرتے ہیں ۔ حضور ﷺ نے پوچھا وہ کیا شرطیں ہیں، وفد والوں نے کہا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم نماز کے اندر نہیں جھکیں گے اور اپنے بتوں کو اپنے ہاتھوں سے نہیں توڑیں گے۔ تیرا یہ کہ ہم بت لات سے ایک سال تک تمتع حاصل کرتے رہیں گے ۔ البتہ اس کی پوجا نہیں کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس دین کے اندر رکوع و سجود نہ ہو اس میں کوئی خیر نہیں ۔ باقی رہی یہ بات کہ تم اپنے ہاتھوں سے بتوں کو نہیں توڑو گے تو اس کا اختیار تم کو ہے باقی لات و عزیٰ سے فائدہ اٹھانے کے لیے اجازت نہیں دے سکتا ۔ کہنے لگے یا رسول اللہ ! ہماری خواہش ہے کہ عرب یہ کہ کچھ خصوصی چیز آپ نے ہم کو عطا فرما دی جو دوسروں کو عطا نہیں فرمائی۔ اب اگر آپ کو یہ اندیشہ ہے کہ لوگ کہیں گے آپ نے ثقیف والوں کو وہ خاص اجازت دے دی جو دوسروں کو نہیں دی تو آپ جواب میں فرما دیں گے کہ اللہ نے یہی حکم دیا تھا۔ حضور ﷺ یہ جواب سن کر خاموش ہوگئے۔ ان لوگوں نے حضور ﷺ کے سکوت کو رضا مندی سمجھ لیا اور خیال کرلیا کہ آپ ایسا کردیں گے۔ اس پر آیت ” کادوا لیفتنونک “ نازل ہوئی ۔ یعنی ان کو ہم آپ سے پھیر دیں گے۔ ” عن الذین اوحینا الیک لتفتری “ تا کہ آپ کی طرف کوئی من گھڑت بات منسوب کردیں ۔” علینا غیرہ واذا “ اگر وہ ایسا کر گزرتے ۔” لا تخذوک خلیلا ً “ تو ہم ان کو اپنا رفیق اور ساتھی بنا لیتے۔
Ayah 17:7474۔” ولو لا ان ثبتناک “ اگر ہم آپ کو حق پر ثابت قدم نہ رکھتے ” لقد کدت ترکن “ تحقیق آپ اس طرف مائل ہوجاتے ۔ ” الیھم شیئا قلیلا ً “ اگر آپ کی فطرت سلیم اگر گناہ کی طرف مائل ہوتی تو بہت کم میلان ہوتا ۔ اس پر سوال یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ معصوم ہیں پھر ان سے گناہ کا صدور کیسے ہوسکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے دل میں گناہ کا آنا ہے ، عزم کرنا مراد نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ حدیث النفس کو معاف کرتا ہے۔ قتادہ ؓ کا قول ہے کہ نبی کریم ﷺ اس واقعہ کے بعد یہ دعا فرمایا کرتے تھے۔” اللھم لا تکلنی الی نفسی طرفۃ عین “ صحیح جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ بنادیا ہوتا تو آپ ان کی طرف کچھ کچھ جھکنے کے قریب جا پہنچتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثابت قدمی عطا فرمائی اور آپ ان کی طرف مائل نہیں ہوئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرح ہے۔” ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لا تبعتم الشیطن الا قلیلا ً “ اللہ تعالیٰ نے آپ پر فضل کیا اور آپ نے اس کی پیروی نہیں کی ۔
Ayah 17:7575۔” اذا لا ذقناک ضعف الحیوۃ وضعف المماۃ “ اگر آپ اس طرح کرلیتے اور ان کی طرف مائل ہوجاتے تو دنیا و آخرت میں ہم دوسروں سے دگنے عذاب کا مزہ آپ کو چکھاتے۔ مطلب یہ ہے کہ اس فعل کے مجرموں کو جتنا عذاب ہوگا اس سے دگنا عذاب آپ پر ہوتا کیونکہ بڑے رتبے والے کی تھوڑی سی فروگزاشت بھی بڑی ہوتی ہے۔ ” ثم لا تجدلک علینا نصیرا ً “ ہم تمہارے مدد گار ہیں تمہیں عذاب سے بچائیں گے۔
Ayah 17:7676۔” وان کادوا لیستفزونک من الارض لیخر جوک منھا “
وان کا دو الیستفزونک کا تفسیر میں ائمہ کے مختلف اقوال
اس آیت کی تفسیر میں علماء کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض نے کہا یہ آیت مدنی ہے۔ کلبی کا قول ہے کہ جب آپ ﷺ مدینہ پہنچے تو وہاں کے یہود نے آپ ﷺ کی موجودگی کو ناپسند کیا ، ان سے حسد کرنے کی وجہ سے ۔ وہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے۔ اے ابو القاسم ! آپ جانتے ہیں کہ یہ سر زمین انبیاء کی نہیں ہے بلکہ انبیاء (علیہم السلام) کی سر زمین شام میں ہے اور وہ ارض مقدسہ ہے اور وہی زمین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کی رہنے کی جگہ ہے ۔ اگر آپ ان کی طرح نبی ہیں تو پھر شام چلے جائیے۔ آپ جو شام کی سکونت پسند نہیں کرتے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ آپ کو رومیوں سے ڈر لگتا ہے لیکن اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو اللہ رومیوں سے آپ کی ضرورحفاظت کرے گا ۔
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ سے نکل کر تین میل کے فاصلے پر اور بقول بعض ذی الحلیفہ میں لشکر گاہ قائم کی تا کہ آپ کے صحابی وہاں جمع ہوجائیں تا کہ اس کی طرف سب روانہ ہوجائیں ۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ” والارض “ اس سے مراد مدینہ کی سر زمین ہے۔ مجاہد اور قتادہ کا بیان ہے کہ زمین سے مراد مکہ کی سر زمین ہے۔ آیت مکی ہے۔ مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ کو مکہ سے نکال دینے کا ارادہ کرلیا تھا مگر اللہ نے اپنی قدرت سے ان کو روک لیا تھا، آخر کار خود ہی ہجرت کا حکم نازل فرما دیا اور آپ نے مدینہ کو ہجرت کرلی ۔ یہی اس آیت کی تفسیر کے زیادہ لائق ہے کیونکہ اس سے ما قبل بھی اہل مکہ کی خیر کا ذکر ہے اور سورة بھی مکی ہے اور بعض کا قول ہے کہ عرب کے تمام کفار آپ ﷺ کو عرب کی سر زمین سے نکالنا چاہتے تھے مگر اللہ نے ان کو ناکام کردیا اور اپنے رسول کو محفوظ رکھا۔
” واذا لا یلبثون خلافک “ اس کے بعد وہ آپ کے پیچھے تھوڑی مدت ٹھہرتے۔ ابن عامر ، حمزہ ، کسائی ، حفص اور یعقوب نے ” خلافک “ اس آیت کے اعتبار سے ذکر کیا ۔ فرح المخلفون بمقعدھم خلاف رسول اللہ ‘ ان دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔” الا قلیلا ً “ اگر یہ آپ کو مکہ ( یا مدینہ) سے نکال دیتے تو پھر آپ کے بعد یہ زیادہ دیر نہ ٹھہر سکتے بلکہ ان کو ہلاک کردیا جاتا ۔ پہلے قول کے مطابق ان کو حیات دی گئی اور دوسرے قول کے مطابق کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو مدینہ کی طرف نکالا تو بدر کے مقام پر ان کا بدلہ لیا گیا ۔
Ayah 17:77تفسیر 77۔” سنہ من قد ارسلنا قبلک من رسلنا “ ہمارا یہ طریقہ چلا آ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب امتیں ان کو جھٹلاتیں ہیں اور ان پر اس وقت تک عذاب نہیں آتا جب تک ان کے اندر نبی موجود ہوتا ہے اور جب نبی ان کے درمیان سے نکل جاتا ہے تو پھر ہم ان کو عذاب میں مبتلا کردیں گے۔” ولا تجدلسنتنا تحویلا ً “ ہم اس کو تبدیل کردیتے ہیں۔
Ayah 17:78اقم الصلوٰۃ للدلوک الشمس کی تفسیر میں ائمہ کے اقوال
78۔ ” اقم الصلاۃ لدلوک الشمس “ دلوک کی تفسیر میں ائمہ کرام کے مختلف اقوال ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے کہ دلوک سے مراد غروب شمس ہے۔ یہی قول ابراہیم نخفی ، مقاتل بن حیان اور ضحاک و سدی کا قول ہے۔ ابن عباس ابن عمر اور جابر ؓ کا قول ہے کہ اس سے زوال شمس مراد ہے۔ یہ قول عطاء قتادہ ، مجاہد ، حسن اور اکثر تابعین کا قول ہے ۔ اس لفظ کا معنی دونوں کا جمع کرنا کیونکہ دلوک کا اصل معنی ہے زائل ہونا اور سورج مائل ہوتا ہے کبھی زوال شمس ہوتا ہے اور کبھی غروب شمس ہوتا ہے۔ زوال پر اس کو محمول کرنا دونوں قولوں میں سے زیادہ راجح قول یہی ہے۔ اس لفظ کو معنی مذکور کی طرف محمول کرنے سے یہ آیت مواقیت نماز کے بارے میں جا مع ہوجائے گی ۔ دلوک شمس ظہر وعصر کو بھی شامل ہوجائے گا اور ” غسق اللیل “ مغرب و عشاء کو شامل ہوجائے گا ۔ وقرآن الفجر فجر کی نماز کو شامل ہوجائے گا ۔ ” الی اغسق اللیل “ اس کو اندھیرے کو ظاہر ہونے کے وقت ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے رات کے ظاہر ہونے کے وقت ۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد مرب کی نماز کا وقت ہے اور مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد غروب شمس ہے۔ ” وقرآن الفجر “ اس سے مراد فجر کی نمازہ ہے۔ فجر کی قرآن سے تعبیر اس لیے کیا کہ فجر کی نماز میں اور کوئی چیز جائز نہیں مگر صرف تلاوت ۔ قرآن پر نصب دو وجہوں سے کی گئی ۔ اس کا عطف نماز پر ہ۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا قائم کیجئے فجر کے وقت قرآن کا پڑھنا ۔ فراء اہل بصر ہ کا قول ہے کہ اغراء کی بناء پر منصوب ہے۔ لازم پکڑ و فجر کے وقت قرآن کا پڑھنا ۔ ” ان قرآن الفجر کان مشھودا ً “ رات کے اور دن کے فرشتے جمع ہونے کا وقت ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا جماعت کی نماز تنہا نماز پڑھنے سے بچیں گنا فضلیت رکھتی ہے اور نمازفجر میں رات کے ملائکہ اور دن کے ملائکہ جمع ہوتے ہیں ۔ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد حضرت ابوہریرہ ؓ نے ارشاد فرمایا کہ اگر چاہو تو یہ پڑھو ” ان قرآن الفجر کان مشھوداً “۔