17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 17:7

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا Open ayah 17:7 in the Quran reader

اگر تم نیکو کاری کرو گے تو اپنی جانوں کے لئے کرو گے اور اگر اعمال بد کرو گے تو (ان کا) وبال بھی تمہاری جانوں پر ہوگا، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے پھر اپنے بندے بھیجے) تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد (بیت المقدس) میں داخل ہوگئے تھے اسی طرح پھر اس میں داخل ہوجائیں اور جس چیز پر غلبہ پائیں اسے تباہ کردیں

7۔” ان احسنتم احسنتم لا نفسکم “ ان کے لیے ثواب ہے ” وان اساتم فلھا “ اگر برائی کرو گے تو اس کا وبال تم پر ہی آئے گا ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” فسلام لک “ یعنی تم پر سلام ہو۔ اگر برائی کرو گے تو اس کی جزا و سزا تم خود پائو گے۔ ” فاذا جاء وعد الاخرۃ “ اور ان کا دوسرا فساد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کرنے کا ارادہ کیا جب ان کو آسمان کی طرف اٹھا لیا ۔ انہوں نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو آرے سے چیر لیا ۔ اللہ نے ان پر فارس وروم کو مسلط کردیا ۔ خردوش طیطوس کو یہاں تک کہ انہوں نے ان کو قتل کیا اور بعضوں کو قید کیا اور بعضوں کو اپنے گھروں سے باہر نکالا۔ ” لیسوء اوجوھکم “ کہ تمہارے چہروں کی ایسی حالت کردیں جس سے برائی اور خرابی کے آثار واضح طور پر نمایاں نظر آئیں ۔ کسائی اور یعقوب کے نزدیک ” لنسوائ “ پڑھتے ہیں جبکہ دوسرے قراء کے نزدیک اس کو یاء کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کے چہروں کو غمزہ کر دے گا اور بعض نے کہا کہ اپنے وعدے کے ساتھ ان کے چہروں کو غمزدہ کردے گا جب کہ دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ اور ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ بندوں کی اداسی کا سبب ان کی سخت پکڑ اور ان کے چہروں کے غمزدہ ہونے کے بسبب ہے۔ ” ولید خلوا المسجد “ بیت المقدس اور اس کے آس پاس مراد ہے۔ ” کما دخلوہ اول مرۃ ولیتبروا “ ہم ان کو ہلاک کردیں ۔ ” ماعلوا “ جس شہر پر غلبہ پائیں گے ان کو مکمل طور پر تباہ کردیں گے۔” تتبیرا “۔
Ayah 17:8

عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا Open ayah 17:8 in the Quran reader

امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے، اور اگر تم پھر وہی (حرکتیں) کرو گے تو ہم بھی وہی (پہلا سا سلوک) کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے

تفسیر 8۔” عسیٰ ربکم “ اے بنی اسرائیل ” ان یرحکم “ تمہارے انتقام لینے کے بعد تمہیں تمہاری بادشاہت واپس لوٹا دی جائیگی ۔ ” وان عدتم عدنا “ یعنی اگر تم واپس معصیت کی طرف لوٹو گے تو ہم بھی تمہیں سزا دینے کی طرف رخ کریں گے۔ قتادہ کا قول ہے کہ پھر وہ لوٹ آئے ہم نے ان میں حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا جو ان لوگوں سے جزیہ لیتے تھے ۔ ” وجعلنا جھنم اللکافرین حصیراً “ اس جہنم کو ان کے لیے قید خانہ بنادیا ہے وہ اس سے کبھی نکل نہ سکیں گے ۔ حسن بصری (رح) کا قول ہے کہ ” حصیرا ً “ سے مراد فرش ہے ، ہم کافروں کیلئے جہنم کو بچھونا کردیں گے۔
Ayah 17:9

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ Open ayah 17:9 in the Quran reader

یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے اجر عظیم ہے

9۔” ان ھذ ا القرآن یھدی للتیھی اقوم “ ایسے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو درست ہوتا ہے۔ بعض نے کہا کہ اس سے وہ کلمہ مراد ہے جو تمام کلمات سے زیادہ صحیح ہے۔ اس وقت کلمہ سے مراد ہوگی ” لا الہ الا اللہ “ کی شہادت دینا ۔” ویشر “ اور اس قرآن کے ذریعے خوشخبری دو ۔ ” المومن الذین یعلمون الصالحات ان لھم “ ان کے لیے ہے۔ ” اجر کبیرا ً “ اس سے مراد جنت ہے۔
Ayah 17:10

وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 17:10 in the Quran reader

اور یہ بھی (بتاتا ہے) کہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

10۔” وان الذین لا یومنون بالاخرۃ اعتدنا لھم عذابا ً الیما ً “ اس سے دوزخ کا عذاب مراد ہے۔
Ayah 17:11

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا Open ayah 17:11 in the Quran reader

اور انسان جس طرح (جلدی سے) بھلائی مانگتا ہے اسی طرح برائی مانگتا ہے اور انسان جلد باز (پیدا ہوا) ہے

11۔” ویدع الانسان “ یہاں لفظوں میں وائو کو حذف کردیا گیا ۔ دو ساکن جمع ہوگئے ، وائو ساکن اور لام تو پہلے ساکن کو حذف کردیا ، جیسا کہ اس آیت میں ہے۔” سندع الزبانیۃ “ اور اسی طرح خط سے ہم نے اس کو حذف کردیا ۔” یدعوا الانسان “ سے مراد اپنے مال اپنی اولاد اور اپنے نفس کے لیے دعا کرتا ہے۔ ” بالشر “ اور کبھی انسان غصہ سے یہ بددعائیں اپنی زبان سے نکالنا شروع کردیتا ہے کہ اے اللہ ان پر لعنت کر اور ان کو ہلاک کر اور ان جیسی باتیں۔” دعاء بالخیر “ اپنے رب سے دعا کرتا ہے کہ اللہ نے اس کو نعمت اور عافیت بخشی ہے۔ اگر اس کی اپنی نفس کے لیے جو دعائیں کرتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کو قبول کر دے تو وہ ہلاک ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس دعا کو قبول نہیں کرتا ۔” وکان الانسان عجولا ً “ جو خیال دل میں آتا ہے چاہتا ہے کہ وہ فوراًہو جائے انجام پر غور نہیں کرتا کہ اس کی دعا کو قبول کردیا جائے تو اس کو کتنا نقصان اٹھاناپڑے گا ۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ صبر نہیں کرتا نہ اس کو تکلیف میں قرار آتا ہے اور نہ ہی سکھ میں۔
Ayah 17:12

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا Open ayah 17:12 in the Quran reader

اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا ہے، رات کی نشانی کو تاریک بنایا اور دن کی نشانی کو روشن، تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل (یعنی) روزی تلاش کرو اور برسوں کا شمار اور حساب جانو، اور ہم نے ہر چیز کی (بخوبی) تفصیل کردی ہے

12۔” وجعلنا اللیل والنھار آیتین “ یعنی دو نشانیاں ایسی بنائی ہیں جو اس کے وجود اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں اور اس کی قدرت پر بھی دال ہیں ۔ ” فمحونا آیۃ اللیل ‘ ‘ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی چمک کے ستر حصے بنائے اور چاند کی روشنی کے بھی اتنے ہی اجزاء قائم کیے ۔ پھر چاند کی روشنی کے 49 حصے سورج کی روشنی کے ساتھ شامل کردیئے۔ یہاں تک کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنا پر چاند کے چہرے پر تین بار پھیر دیا تو اس کی چمک دمک جاتی رہی ، صرف روشنی رہ گئی ۔ ابن الکوا نے حضرت علی ؓ سے اس داغ کے متعلق دریافت کیا جو چاند کے اندر ہے ، یہ روشنی کو مٹانے کا نشان ہے۔ ” وجعلنا آیۃ النھار مبصرۃ “ چمکتا ہوا روشنی والا بنادیا ۔ اس کو تم آسانی کے ساتھ دیکھ سکتے ہوجی سے کہ عرب کا محاورہ ہے کہ دن نظر آگیا جب چاند سامنے آجائے اور نظر آنے لگے۔ ” لتبتغوا فضلا ً من ربکم ولتعلموا عددالسنین والحساب “ اگر اللہ تعالیٰ سورج اور چاند کو اس طرح چھوڑ دیتا جیسے ان کو پیدا کیا تو دن اور رات کو نہ پہچان سکتے اور روزے دار نہ پہچان سکتا کہ وہ روزہ کب افطارکرے اور نہ تمہیں حج کا وقت معلوم ہوتا اور نہ ہی راحت کا اور سکون کے وقت کا پتہ چلتا ۔” وکل شی فصلنا ہ تفصیلا ً “۔
Ayah 17:13

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

اور ہم نے ہر انسان کے اعمال کو (بصورت کتاب) اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے اور قیامت کے روز (وہ) کتاب اسے نکال دکھائیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا

کل انسان الزمناہ طائرہ کی مختلف تفاسیر تفسیر 13۔” وکل انسان الزمناہ طائرہ فی عنقہ “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ انسان کا عمل اور مقدر انسان کے ساتھ رہتا ہے، انسان جہاں کہیں بھی ہوا مر مقدراس سے جدا نہیں ہوسکتا ۔ کلبی اور مقاتل کا بیان ہے کہ خیر ہو یا شر ، اس کے ساتھ ہمیشہ رہے گا تا کہ اس کے ذریعے اس کا محاسبہ کیا جائے۔ حسن کا قول ہے کہ طائر سے مراد برکت و نحوست ۔ مجاہد کا قول ہے کہ جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے اس کے گلے میں ایک پرچہ ڈالا جاتا ہے جس میں سعید یا شقی لکھا ہوتا ہے۔ ابو عبیدہ اور قتیمی کا قول ہے کہ طائر سے اس جگہ نصیب مراد ہے۔ اچھا ہو یا برا جیسا کہ عرب کا قول ہے کہ ” طار سھم فلان بکذا وکذا “ یہاں بھی طار بمعنی نصیب اور حصہ کے ہے۔ یہاں پر گردن کو ذکر خاص کیا کیونکہ تمام اعضاء میں یہ ایسا عضو ہے کہ اس میں پڑے ہوئے یاطوق سے آدمی کی زینت یا بد نمائی کا خصوصی تعلق ہے اور عرب کے لوگ جدا نہ ہونے والی چیز کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ چیز فلاں شخص کے گلے میں پڑگئی ۔ یعنی لازم ہوگئی اس سے جدا نہیں ہوتی۔ ” ونخرج لہ “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم ان کے لیے نکالتے ہیں ” یوم القیامۃ کتابا ً “ حسن مجاہد اور یعقوب کے نزدیک ” یخرج لہ “ پڑھیں گے ۔ قیامت کے دن ان کے لیے اڑتا ہوا کتاب نامہ نکالیں گے۔ ابو جعفر کے نزدیک ” یخرج “ یاء کے ضمہ اور راء کے فتحہ کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ ” یلقاہ “ ابن عامر اور ابو جعفر نے یاء کے ضمہ اور لام کے فتحہ اور قاف مشدد کے ساتھ پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب اس دن اس کے سامنے ڈال دی جائے گی اور دوسرے قراء نے یاء کے فتحہ اور قاف کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ای یراہ ( منثورا ) بعض کے آثار میں آیا ہے کہ جب آدمی کی عمر پوری ہوجاتی ہے تو اللہ فرشتے کو حکم دیتا ہے کہ اس آدمی کا اعمال نامہ روز قیامت سے پہلے نہیں کھولا جائے گا ۔
Ayah 17:14

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ Open ayah 17:14 in the Quran reader

(کہا جائے گا کہ) اپنی کتاب پڑھ لے آج اپنا آپ ہی محاسب کافی ہے،

14۔” اقراء کتابک “ اس کو کہا جائے گا کہ اپنے اعمال نامے کو پڑھ ” کفیٰ بنفسک الیوم علیک حسیا ً “ محاسبا ً کے معنی میں ہے۔ حسن کا قول ہے جس نے تیری ذات کو خود ہی تجھ پر محاسب بنادیا اس نے یقینا تیرے لیے انصاف کیا ۔ قتادہ کا قول ہے کہ جو شخص دنیا میں پڑھا ہوا نہیں ہوگا اس روز بھی پڑھ لے گا ۔
Ayah 17:15

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے لئے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج لیں عذاب نہیں دیا کرتے

15۔” من اھتدی فانما یھتدی لنفسہ “ اس کو اس کی ہدایت کے بدلے میں ثواب ملے گا ۔ ’ ’ ومن ضل فانما یضل علیھا “ جو گمراہ ہوتا ہے اس کی گمراہی کا وبال اسی پر پڑے گا ۔” ولا تزروازرۃ وزرا اخری “ یعنی کوئی شخص دوسرے شخص کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ۔ یعنی کسی کے گناہ کے بسبب دوسرے کو نہیں پکڑا جائے گا ۔” وماکنا معذبین حتی نبعث رسولا ً “ ان پر اوپر دلیل قائم کرنے کی وجہ سے اور ان کے عذر کو ختم کرنے کی وجہ سے ۔ یہ آیت اس بات کی دلالت کرتی ہے کہ جس شخص کو پیغمبر کی دعوت نہ ملی ہو فقط عقل و ہوش ملنے کی وجہ سے اس پر کوئی اعتقادی یا عملی حکم واجب نہیں ہوتا۔
Ayah 17:16

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

اور جب ہمارا ارادہ کسی بستی کے ہلاک کرنے کا ہوا تو وہاں کے آسودہ لوگوں کو (فواحش) پر مامور کردیا، تو وہ نافرمانیاں کرتے رہے، پھر اس پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوگیا اور ہم نے اسے ہلاک کر ڈالا

تفسیر 16۔” واذا اردنا ان نھلک قریۃ ً امرنا مترفیھا ‘ ‘ مجاہد کا قول ہے کہ ” امرنا “ تشدید کے ساتھ ہے ۔ یعنی ہم مسلط کردیتے ہیں حاکم بنا دیتے ہیں ۔ حسن قتادہ اور یعقوب کے نزدیک ” امرنا “ مد کے ساتھ ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا ۔ یعنی راحت و نعمت میں پڑے ہوئے لوگوں کو پیغمبر کی زبانی ہم طاعت و فرمانبرداری کا حکم دیتے ہیں اور دوسرے قراء نے اس کو بغیر مد کے پڑھا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے ان کو طاعت کا حکم دیا لیکن انہوں نے نافرمانی کی ۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ اس کا معنی یہ ہو کہ ہم نے تمہیں امراء بنایا بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہو کہ ہم نے آپ کو زیادہ بنایا ہے، اللہ نے ان کو زیادہ کردیا اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ بہترین مال کھجور کے درختوں کی ہموار قطار ہے یعنی وہ کثیر النسل ہے۔ یہاں امر سے مراد فعل نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کبھی بےحیائی کا حکم نہیں دیتا ۔ ابو عبیدہ اور عام قراء نے اس قول کو اختیار کیا ہے کہ اس میں تینوں معنوں کی گنجائش ہے ، تینوں معانی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ امر، امارہ اور کثرۃ ۔” مترفیھا “ وہ عیش و عشرت اور نعمتوں میں ہوں گے۔” ففسقوا فیھا فحق علیھا القول “ ان پر عذاب واجب ہے۔” قد مرنا تھا تدمبراً “ یعنی ہم نے اس کو تباہ ، بوسیدہ اور ہلاک کردیا ۔ زینت بنت حجش کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز گھبرائے ہوئے خوف زدہ میرے پاس تشریف لائے ، آپ فرما رہے تھے ” لا الہ الا اللہ “ شر قریب آگیا عرب کے لیے اس سے تباہی ہے۔ حضور ﷺ نے انگوٹھے اور کلمے والی انگلی کو ملا کر ایک حلقہ بنا کر فرمایا ۔ آج اتنا یاجوج ماجوج نے سوراخ کھول دیا ۔ حضرت زینب ؓ کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ عرب میں تو نیک لوگ بھی ہیں کیا وہ بھی ہلاک ہوجائیں گے ؟ فرمایا ہاں اگر گندگی بڑھ جائے گی۔
Ayah 17:17

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کے بعد بہت سی امتوں کو ہلاک کر ڈالا اور تمہارا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے اور دیکھنے والا کافی ہے

17۔” وکم اھلکنا من القرون “ جنہوں نے تکذیب کی ۔” من بعد نوح “ اس کے ذریعے کفار کو ڈرایا ۔ ” وکفی بربک بذنوب عبادہ خبیراً بصیراً ‘ ‘ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی کا قول ہے کہ قرن ایک سو بیس سال کا ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کو قرن کے پہلے حصہ میں مبعوث کیا گیا اور اس کے آخر میں یزید بن معاویہ آئے اور بعض نے کہا کہ قرن سو سال کا ہوتا ہے۔ محمد بن قاسم عبد اللہ بشر مازنی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ سر کے نیچے رکھا اور کہا کہ یہ غلام ایک قرن زندہ رہے گا ۔ محمد بن قاسم کا قول ہے کہ میں برابر شمار کرتا رہا ۔ یہاں تک کہ سو سال پورے ہوئے ، پھر موت آگئی ۔ کلبی کا قول ہے کہ قرن اسی سال کا ہوتا ہے اور بعض نے کہا کہ چالیس سال کا ایک قرن ہوتا ہے۔
Ayah 17:18

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

جو شخص دنیا (کی آسودگی) کا خواہشمند ہو تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں، پھر اس کے لئے جہنم کو (ٹھکانا) مقرر کر رکھا ہے، جس میں وہ نفرین سن کر اور (درگاہ خدا سے) راندہ ہو کر داخل ہوگا

18۔” من کان یرید العاجلۃ “ جس کا مقصد دنیا کا حصول ہوتا ہے ہم اس کو دنیا سے دے دیتے جتنا ہم چاہتے ہیں ۔ ” عجلنا لہ فیھا ما نشاء “ ہم اس کو کشادہ کردیتے ہیں یا اس کو تنگ کردیتے ہیں ۔ ” لم نرید “ جس کے ہلاک کرنے کا ہم ارادہ کرتے ہیں ۔ ” ثم جعلنا لہ “ آخرت میں ” جھنم یصلاھا “ اس کو دوزخ میں داخل کردیں گے۔” مذموما مدحورا ً “ یعنی دھتکارا ہوا دور کیا ہوا ۔
Ayah 17:19

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

اور جو شخص آخرت کا خواستگار ہو اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی اسے لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے

19۔” ومن ارادہ الاخرۃ وسعی لھا سعیھا “ ان کے عمل جیسا عمل کرے گا ۔” وھو مومن فاولئک کان سعیھم مشکوراً بمعنی مقبول ہے۔
Ayah 17:20

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

ہم ان کو اور ان کو سب کو تمہارے پروردگار کی بخشش سے مدد دیتے ہیں، اور تمہارے پروردگار کی بخشش (کسی سے) رکی ہوئی نہیں

تفسیر 20۔” کلا نمد ھو لاء و ھولاء “ ہم ان دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کو اور اس فریق کو بھی جو دنیا کا اردہ کرتا ہے اور آخرت کا ارادہ کرے۔” من عطاء ربک “ امن دونوں فریقوں کو رزق دیا جاتا ہے ، پھر ان میں سے ہر ایک فی الحال بھی اس کا خلیفہ بنایا ہے۔ ” وما کان عطاء ربک “ تمہارے رب کی طرف سے رزق ” محظوراً “ اپنے بندوں سے روکتے ہیں عطاء سے مراد ہے دنیا کے اندر عطا کرنا اور کفار کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔
Ayah 17:21

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

دیکھو ہم نے کس طرح بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے، اور آخرت درجوں میں (دنیا سے) بہت برتر اور برتری میں کہیں بڑھ کر ہے

21۔” انظر “ اے محمد ! ( ﷺ) ” کیف فضلنا بعضھم علی بعض “ رزق میں عمل صالح میں ، بعض اس میں ہم سے جلدی طلب کرتے ہیں اور بعض آخرت میں طلب کرتے ہیں ۔ ” وللاخرۃ اکبر درجات واکبر تفضیلا ً “
Ayah 17:22

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

(اور) خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ ملامتیں سن کر اور بیکس ہو کر بیٹھے رہ جاؤ گے

22۔” لا تعجل مع اللہ الھا اخر “ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن مراد اس سے دوسرے لوگ ہیں یا مخاطب ہر شخص ہے ۔ اے انسان ! تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔ ” فتقعد مذموما ً مخذولا ً “ مذموما ً بغیر تعریف کے اور محذولا ً امداد سے محروم۔
Ayah 17:23

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سواء کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی (کرتے رہو) ، اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اف تک نہ کہنا اور نہ ہی انھیں جھڑکنا اور ان سے بات ادب کے ساتھ کرنا

23۔” وقضی ربک “ اور آپ کے رب ین حکم دیا ۔ ابن عباس ؓ ، قتادہ ، حسن کا قول ہے کہ ربیع بن انس نے فرمایا تمہارے رب نے تمہارے اوپر واجب کیا ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ تمہارے رب نے وصیت کی ۔ ضحاک بن مزاحم سے حکایت کی ہے کہ انہوں نے اس کو پڑھا ہے۔” ووصی ربک “ اور انہوں نے کہا کہ وائو کے صاد ذکر کیا ، وائو کو قاف سے بدل دیا ۔ ” الا تعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احسانا ً “ والدین کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ۔ ” اما یبلغن عندک الکبر “ حمزہ اور کسائی نے الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” احدھما اوکلاھما “ یہ جملہ مستأئفہ ہے۔” م عمواو صموا کثیرا ً منھم “ اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا ” واسروا النجوی الذین ظلموا “ اور ” الذین ظلموا “ اور دوسرے قراء نے یبلغن “ واحد کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ” فلا تقل لھا اف “ اس میں تین لغات ہیں ۔ ابن کثیر ، ابن عامر اور یعقوب نے فاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو جعفر ، نافع ، حفص نے کسرہ اور تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے فاء کے کسرہ اور بغیر تنوین کے ذکر کیا ہوگا ۔ ان تمام لغات میں معنی ایک ہی ہے۔ یہ لفظ کراہت اور تندگی پر بولا جاتا ہے ۔ ابو عبیدہ کا قول ہے کہ اصل لغت کے اعتبار سے اف اور تف اس میل کو کہتے ہیں جو انگلیوں پر جم جاتا ہے اور بعض نے کہا کہ اف وہ ناخن جو کاٹ کر پھینک دیا ہو اور تف کہتے ہیں انگلیوں کی میل کو اور بعض نے کہا و سخ کان کی میل اور تف ناخیوں کی میل اور بعض نے کہا کہ اف ناخن کی میل اور تف وہ چیز جو زمین سے حقیر چیز اٹھائی جائے۔ ” ولا تنھر ھما “ اور والدین میں سے کسی کو بھی نہ جھڑکو ۔” و قل لھما قولا ً کریما “ اچھی نرم بات ۔ ابن مسیب کا قول ہے کہ جیسے کوئی قصور وار اپنے بدخو آقا سے نرمی کے ساتھ بات کرتا ہے۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ جب ماں باپ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے گھن نہ کرو اور جس طرح تمہارے بہت چھوٹے ہونے کے زمانے میں تمہارا بول و براز وہ صاف کرتے تھے۔ اسی طرح ان کا بول و براز صاف کرنے سے تم نفرت نہ کرو اور ان کو اف بھی نہ کہو۔
Ayah 17:24

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

اور عجز و نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار ! جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت) سے پرورش کیا ہے تو بھی ان (کے حال) پر رحمت فرما

تفسیر 24۔” واخفض لھا جناح الذل “ اور ان کے لیے عاجزی کے ساتھ اپنے بازو بچھا دو ۔ عروۃ بن زبیر کا قول ہے کہ ان سے نرمی کرو جس چیز کو وہ چاہتے ہیں اس سے ممانعت نہ کرو۔” من الرحمۃ “ اس سے مراد شفقت ہے۔” وقل رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا ً “ جب وہ دونوں مسلمان ہوں ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ اس فرمان سے منسوخ ہے۔” ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا اللمشرکین۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی باپ کی خوشنودی میں ہے حضرت ابو الدرداء ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، باپ جنت کا وسطیٰ دروازہ ہے ۔ اگر تم چاہو تو اس کی نگہداشت کردیا کھودو ۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی باپ کی خوشنودی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی ہے۔ حضر ت ابو سعید خدری ؓ سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں داخل نہ ہوگا احسان جتلانے والا نہ فرمان اور نہ شراب کا پینے والا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہیں پڑھا اور اس شخص کو نا ک خاک آلود ہو جس پر رمضان کا مہینہ آیا ہوا اور اس کی مغفرت نہیں ہوئی اور اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے ماں باپ یا دونوں میں سے ایک بوڑھے ہوگئے اور وہ جنت میں داخل نہ ہوسکا۔
Ayah 17:25

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تمہارا پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے، اگر تم نیک ہو گے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخش دینے والا ہے

25۔” ربکم اعلم بما فی نفوسکم “ والدین کی فرمانبرداری کی نیت اور تعظیم کے اندرونی خیال سے اللہ خوب واقف ہے۔” ان تکونوا صالحین “ والدین کے ساتھ کوئی خطاء ہوجانے کے بعد ان کے ساتھ نیکی کا ارادہ کھے یا توبہ کرلے تو وہ اس آیت کے حکم میں نہیں ہوگا ۔” فانہ کان للاوابین “ اس نافرمانی کے بعد ” غفورا ً “ بخشنے والا ہے۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ اس آیت میں وہ لوگ مراد ہیں جس سے بےسوچے بلا ارادہ اچانک ماں باپ سے کوئی بےادبی ، بد سلوکی ہوجائے اور نیت ان کی نیکی ہو تو اس کی پکڑ نہیں گی۔ سعید بن مسیب کا قول ہے کہ اداب وہ شخص ہے جو گناہ کرنے کے بعد توبہ کرلے ، پھر گناہ کرے اور توبہ کرلے اور پھر گناہ کرے اور گناہ کے پیچھے توبہ کرلے۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ خیر کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والا اداب ہے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہر حال میں مصیبت کے وقت اور حادثے کے وقت ، سعید بن جبیر ؓ کی روایت ہے حضرت ابن عباس ؓ کا قول اس طرح آیا ہے کہ اوابین سے مراد ہے اللہ کی پاکی بیان کرنے والے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں سے فرمایا تھا ” یا جبال اوبی “ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد نمازی ہیں ۔ عون عقیلی کا قول ہے کہ جو چاشت کی نماز پڑھنے والے ہیں۔
Ayah 17:26

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو اور فضول خرچی سے مال نہ اڑاؤ

تفسیر 26۔” وآت ذا القربیٰ حقہ “ اس سے مراد صلہ رحمی ہے اور اس سے مراد قرابت داری ہے ، اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ حضرت علی بن حسین ؓ کا قول ہے کہ قربیٰ سے مراد رسول اللہ ﷺ کی قرابت ہے۔ ” والمسکین وابن السبیل ولا تبذر تبذیرا ً “ یعنی اپنے مال کو نافرمانی کے معاملے میں خرچ نہ کرو۔ مجاہد کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص اپنا سارا مال حق کے راستے میں خرچ کر دے تو اس کو تبذیر نہیں کہا جائے گا ۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے تبذیر کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ حق کے علاوہ راستے میں مال خرچ کرنا ۔ شعبہ کا قول ہے کہ میں محمد اسحاق کے ساتھ کوفہ کے راستے میں جا رہا تھا، سر راہ ایک دیوار چونے اور پختہ اینٹوں سے بنی ہوئی ملی ۔ ابو اسحاق نے کہا کہ حضرت عبد اللہ ؓ کے قول پر یہ تبذیر ہے حق کے راستے کے علاوہ مال کا خرچ کرنا ہے۔
Ayah 17:27

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار (کی نعمتوں) کا کفران کرنے والا (یعنی ناشکرا) ہے

27۔” ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین “ یعنی شیطان کے دوست ہیں ۔ عرب کے قول کہ اگر کوئی شخص کسی قوم کے طریقے کا پابند ہوجائے تو وہ اس کا بھائی ہے۔ 28۔” وکان الشیطان لربہ کفورا ً “ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی نا شکری کرنے کی وجہ سے۔
Ayah 17:28

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

اور اگر تم اپنے پروردگار کی رحمت (یعنی فراخ دستی) کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہو ان (مستحقین) کی طرف توجہ نہ کرسکو تو ان سے نرمی سے بات کہہ دیا کرو

29۔” واما تعرضن عنھم ‘ ‘ اس آیت کا نزول مھجع ، بلال وصہیب وسالم و خباب کے بارے میں ہوا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو وہ کوئی چیز نہیں پاتے تھے ( کہ اس سے اپنی حاجت پوری کریں) آپ ﷺ کو ان کو دینے کے لیے کوئی چیز نہیں ملی ۔ آپ ﷺ نے ان سے اعراض کیا حیاء کے بسبب اور ان کی بات سے خاموشی اختیار کی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ” واما تعرضن عنھم “ آپ ان سے اعراض نہ کریں بلکہ ان کی حاجت رسائی کریں ۔ ” ابتغاء رحمۃ من ربک ترجوھا “ اللہ کی طرف سے رزق کا انتظار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کہیں سے دے گا تو آپ کو عطا کردیں گے۔” فقل لھم قولا ً میسورا ً “ ان کے ساتھ نرم کلام کرو، ان کے ساتھ وعدہ کر اچھا وعدہ کرنا ، بعض نے کہا کہ ان کے ساتھ کلام کرو ان کو کہو کہ اللہ تمہاری مشکل آسان کر دے گا ۔
Ayah 17:29

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا (یعنی بہت تنگ) کرلو (کہ کسی کو کچھ دو ہی نہیں) اور نہ بالکل ہی کھول دو (کہ سبھی کچھ دے ڈالو اور انجام یہ ہو کہ) ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جاؤ

29۔” ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک “ حضرت جابر ؓ کا قول ہے کہ ایک لڑکے نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ اے اللہ کے رسول (ﷺ) میری ماں آپ سے پہننے کے لیے ایک کرتہ مانگ رہی ہے۔ حضور ﷺ کے پاس سوائے اس کرتے کے جو پہنے ہوئے تھے اور کوئی کرتہ نہ تھا۔ فرمایا امید ہے کہ فلاں وقت سے فلاں وقت کچھ آجائے ، تم کسی اور وقت آنا ، لڑکا لوٹ کر اپنی ماں کے پاس چلا گیا ، پھر لوٹ کر آیا اور عرض کیا میری ماں کہتی ہے جو کرتہ آپ ﷺ پہنے ہوئے ہیں وہی مجھے دے دیجئے ۔ یہ درخواست سن کر رسول اللہ ﷺ گھر کے اندر تشریف لے گئے اور کرتہ اتار کر اس لڑکے کو دے دیا اور برہنہ ہونے کے سبب گھر میں بیٹھے رہے۔ پھر نماز کے لیے حضرت بلال نے اذان دی اور صحابہ کرام ؓ نبی کریم ﷺ کا انتظار کرتے رہے لیکن آپ نہ آئے ۔ صحابہ کرام ؓ کے دلوں میں کوئی بےچینی پیدا ہوئی اور کچھ لوگ حاضر بارگاہ ہوئے تو آپ کو برہنہ پایا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ” ولا تعجل یدک مغلولۃ الی عنقک “ اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ حق کے راستے میں خرچ کرنے سے ہاتھ کونہ روکو جیسے وہ شخص ہوتا ہے جس کے ہاتھ گلے میں بندھے ہوئے ہیں اور وہ ہاتھوں کو پھیلا نہ سکتا ہو۔” ولا تبسطھا “ ان کو عطا کرنے کے ساتھ ۔” کل البسط “ تم سب کچھ ان کو دے دو جو کچھ تمہارے پاس موجود ہے۔ ” فتقعد ملوما ً “ سائل کو ملامت نہ کرو اس سے روک کر کیونکہ جب تم اس کو عطا نہیں کرو گے تو اس کو ملامت ہوگی ۔ ملامت یہ کہ فضول خرچ کرو گے تو اپنے نفس پر ملامت ہوگی اور اگر سائل کو کچھ نہ دو گے تو اس کو ملامت کرو گے۔ ” محسورا ً “ خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ جائو گے جس کے پاس خرچ کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو ۔ جیسے کہ کہا جاتا ہے ” حسرتہ بالمسئلۃ “ تو نے سوال کرنے سے اس کو تنگ کردیا ، تو نے اس سے لٹ چمٹ کر مانگا۔ حسرۃ السفر اس کو سفر نے چور کردیا یا شکستہ کردیا۔ قتادہ کا قول ہے انہوں نے اس کا ترجمہ پشیمان سے کیا ہے اور اس کا تعلق دونوں سے قرار دیا ہے یعنی انتہائی کنجوسی پر پشیمان ہو جائو گے اور برباد کئی پر بھی ۔
Ayah 17:30

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی روزی چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے، وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے اور (ان کو) دیکھ رہا ہے

تفسیر : 30۔” ان ربک یبسط الرزق “ اس کا معنی ہے کہ وہ وسیع کر دے گا ۔” لمن یشاء و بقدر “ اس کو تنگ کر دے گا اور کم کر دے گا ” انہ کان بعبادہ خبیرا ً بصیراً “۔
Ayah 17:31

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف قتل نہ کرنا (کیوں کہ) ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں، کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے

31۔” ولا تقتلوا اولاد کم خشیۃ املاق “ املاق سے فقر مراد ہے۔” نحن نرزقیھم وایاکم “ زمانہ جاہلیت میں لوگ فقر کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کو زندہ در گور کرتے تھے۔ اس آیت میں اس فعل سے نہی کی گئی ہے اور ان کو خبر دی کہ تمہارا رزق اور تمہاری اولاد کا رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔” ان قتلھم کان خطاً کبیراً “ ابن عامر اور جعفر کا قول ہے کہ ” خطائ “ طاء کے فتحہ کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔ ابن کثیر نے خاء کے کسرہ کے ساتھ اور مد کے ساتھ پڑھا ہے ، دوسرے قراء نے خاء کے کسرہ اور طاء کے جزم کے ساتھ پڑھا ہے۔ سب کا معنی ایک ہی ہے یعنی بڑا گناہ۔
Ayah 17:32

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور زنا کے پاس بھی نہ جانا کہ وہ بےحیائی اور بری راہ ہے

32۔” ولا تقربوا الزناء انہ کان فاحشۃ وساء سبیلا ً “
Ayah 17:33

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور جس جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بہ فتوی شریعت) اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا (کہ ظالم قاتل سے بدلا لے) تو اس کو چاہیے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصور و فتحیاب ہے۔

33۔” ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق “ اس کے حق سے مراد نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے فرمایا کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں مگر تین وجوہ سے ۔ ایک وہ شخص جو ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرے، یا شادی شدہ ہو کر زنا کرے یا کسی نفس کے قتل کرنے کے بدلے میں اس کو قتل کردیا جائے گا ۔” ومن قتل مظلوما ً فقد جعلنا لولیہ سلطانا ً “ قوت اور ولایت حاصل ہو اس کے قتل کرنے کے ساتھ ، مجاہد کا قول ہے انہوں نے ضحاک کا قول نقل کیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس بات کا اختیار رکھتا ہے اگر چاہے تو وہ اس سے خود مستفید ہو اور اگر چاہے تو اس سے دیت لے اور اگر چاہے تو اسے معاف کردے۔ اسراف فی القتل کی تفسیر ” فلا یسرف فی القتل “ حمزہ اور کسائی نے ( تسرف) پڑھا ہے۔ اسی صورت میں متقول کے ورثاء کی طرف خطاب ہوگا اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں خطاب غائب کو ہوگا ۔ ولی اس کے قتل میں اسراف سے کام نہ لے ، یعنی اس کو مثلہ نہ کرے۔ اس اسراف کے معنی میں مفسرین کا آپس میں اختلاف ہے کہ اس سے کیا مراد ہے۔ ابن عباس ؓ اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ مقتول کا ولی قصاص میں زیادتی نہ کرے۔ یعنی قاتل کے علاوہ دوسرے کو قتل نہ کرے ، جاہلیت کے دور میں صرف قاتل کے قتل پر بس نہیں کرتے تھے بلکہ قاتل کے علاوہ اس سے اونچے درجہ والے کو بھی قتل کرتے تھے۔ سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے کہ قاتل اگر ایک ہو تو اسی کو قتل کیا جاسکتا ہے۔ ایک قتل کے عوض بےقصور جاعت کو قتل نہیں کیا جاسکتا ۔ زمانہ جاہلیت کا طریقہ یہ تھا کہ مقتول اگر کوئی بڑا آدمی ہوتاتو قصاص میں تنہا اس کے قاتل کو ہی نہیں قتل کرتے تھے بلکہ قاتل کے ساتھ اس کے قرابت داروں کی ایک جماعت کو بھی قتل کرتے تھے۔ اس کے رشتہ داروں کو بھی ، قتادہ کا قول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قاتل کو مثلہ نہ کیا جائے۔ انہ کان منصوراً کی ضمیر کا مرجمع ” انہ کان منصورا ً “ ضمیر لوٹ رہی ہے مقتول کی طرف ۔” ومن قتل مظلوما ً “ جو شخص ظلما ً قتل کیا گیا ہو ، اللہ کی طرف سے اس کی مدد نصرت دنیا میں بھی کی جاتی ہے کہ قاتل کو قصاص میں قتل کرنا ضروری ہے اور آخرت میں بھی مقتول منصور ہوگا ۔ اللہ اس کے گناہ ساقط کر دے گا اور اس کے قاتل کے لیے دوزخ لازم کر دے گا ۔ قتادہ کا قول ہے کہ ھا ضمیر ولی مقتول کی طرف لوٹ رہی ہے ۔ اس صورت میں اسی کا معنی یہ ہوگا کہ مقتول کے وارث کو قاتل کے خلاف نصرت دی جاتی ہے ۔ قاتل سے قصاص لینے کا اس کو حق دیا گیا ہے، حکام پر لازم ہے کہ اس کی مدد کریں ۔ بعض حضرات کے نزدیک قاتل کی طرف ضمیر راجع ہے جس کو مقتول کا ولی قصاص میں قتل کرتا ہے۔ اگر قصاص میں اسراف سے کام لے گا تو گناہ کا بوجھ اس پر پڑے گا لہٰذا قاتل کی حمایت کی جائے۔
Ayah 17:34

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکنا مگر ایسے طریق سے کہ بہت بہتر ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے، اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی۔

34۔” ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتیھی احسن حتی یبلغ اشدہ واوفوا بالعھد “ اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام پر عمل کرانے کا تم سے وعدہ لیا ہے اس کو پورا کرو اور لوگوں سے جو تم جائز معاملات کا وعدہ کرو اس کو بھی پورا کرو۔ بعض نے کہا کہ یہاں عہد سے مراد ہے جو انسان اپنے اوپر لازم کرلیتا ہے اس کو بھی پورا کرے۔” العھد کان مسئو لاً “ سدی کا قول ہے تمہیں اس کے بارے میں طلب کیا جائے گا اور بعض نے کہا کہ صاحب عہد سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا اور عہد شکنی پر اس سے پوچھ گچھ کی جائے گی اور بعض نے کہا کہ جنہوں نے عہد کو توڑ دیا ان سے زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ کس لیے اس کو قتل کیا گیا ۔
Ayah 17:35

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور جب (کوئی چیز) ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور (جب تول کردو) تو ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے۔

35۔” وافوا الکیل اذا کلتم وزنوا بالقسطاس “ حمزہ، کسائی اور حفص رحمہم اللہ نے ” بالقسطاس “ قاف کے کسرہ کے ساتھ اور باقی حروف کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس میں دونوں لغتیں ہیں اس سے مراد میزان ہے۔ خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو ۔ حسن نے کہا کہ اس سے مراد گنبد نماچیز ہے مجاہد کا قول ہے کہ رومی لغت میں ترازو کو کہتے ہیں ۔ ان کے علاوہ دوسرے حضرات نے کہا کہ قسطاس عربی ہے قسط سے بنا ہے قسط کا معنی ہے عدل ۔ ” المستقیم ذلک خیر واحسن تاویلا ً “ ان کا انجام۔
Ayah 17:36

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور (اے بندے) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب (جوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی۔

36۔” ولا تفف ما لیس لک بہ علم “ قتادہ نے اس کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ تم بغیر دیکھے یہ نہ کہو کہ میں نے دیکھا اور بغیر سنے یہ نہ کہو میں نے سنا اور یہ نہ کہو کہ میں جانتا ہوں بغیر جاننے کے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ آیت کی مراد یہ ہے کہ جس چیز کا تم کو قطعی علم نہ ہو اس کے بارے میں تم کسی کو متہم نہ کرو۔ قتیبی کا قول ہے کہ اٹکل اور گمان کے پیچھے مت چلو ، جس کو لغت میں کہتے ہیں کہ کسی کے اثر کے پیچھے نہ چلو ۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ ” قفوت فلانا اقفوہ وقفیتہ واقفیتہ “ یہ اس وقت بولا جاتا ہے کہ جب کوئی کسی کے نشان قدم پر چلے ۔ قتیبی کا قول ہے کہ یہ قفو سے ماخوذ اس کا یہ ہے کہ کسی کو کسی کام پر لگانا ۔ اس سب کا حاصل یہ ہے کہ اے انسان کسی پر گمان کرتے ہوئے بات نہ کر۔ ” ان السمع والبصر والفواد کل اولئک کان عنہ مسئو لا “ بعض نے کہا کہ انسان سے پوچھا جائے گا کانوں کے بارے میں ، آنکھوں کے بارے میں اور دل کے بارے میں ( کہ ان کو کس مصرف میں لگایا ہے) بعض نے کہا کہ کان ، آنکھ ، دل سے پوچھا جائے گا کہ بندے نے ان کے ساتھ کیسا کیا ۔ ” کل اولئک “ یہ اعضاء وجوارح مراد ہیں۔ حضرت شکل بن حمید سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میری درخواست پر مجھ سے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہہ اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے ، اپنی آنکھ کے شر سے اور اپنی زبان کے شر سے اور اپنے دل کے شر سے اور اپنی منی کے شر سے ، میں نے یہ دعا یاد کرلی ۔
Ayah 17:37

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور زمین پر اکڑ کر (اور تن کر) مت چل کہ تو زمین کو پھاڑ تو نہیں ڈالے گا اور نہ لمبا ہو کر پہاڑوں کی چوٹی تک پہنچ جائے گا۔

تفسیر 37۔” ولا تمش فی الارض مرحا ً “ غرور، تکبر ، مستانہ چال چلنا ۔ ” انک لن تخرق الارض “ اپنے تکبر کے ساتھ اس کو تم پھاڑ نہ سکو گے۔” ولن تبلغ الجبال طولا ً “ اس سے تم قادر نہیں کہ پہاڑ کی بلندی تک پہنچ جائو اور اپنے تکبر کے ساتھ اس کے برابر ہوجائو۔ تکبر سے چلنے کی ممانعت معنی آیت کا یہ ہوگا کہ انسان اپنے تکبر کے ساتھ اور غرور کے ساتھ کسی چیز کو نہیں پہنچ سکتے۔ جیسا کہ وہ زمین کے پھاڑنے کا ارادہ کریں یا پہاڑ تک پہنچنے کا ارادہ کریں تو ان کو کوئی چیز حاصل نہیں ہوگی ۔ اور بعض نے کہا کہ جو شخص تکبر سے چلتا ہے تو وہ کبھی ایڑیوں کے بل چلتا ہے اور کبھی اپنے پائوں کے پنجوں کے بل چلتا ہے۔ اسی طرح ایڑی پر چلنے والوں کو کہا گیا کہ تم زمین پر ایڑی سے زمین میں سوراخ نہیں کرسکتے۔ اگر پنجوں کے اوپر چلیں تو کہا گیا کہ تم پہاڑوں کی چوٹیوں تک نہیں پہنچ سکتے۔
Ayah 17:38

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

ان سب (عادتوں) کی برائی تیرے پروردگار کے نزدیک بہت ناپسند ہے۔

38۔ جبیر بن مطعم سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ جب چلتے تو جھک کر چلتے جیسے کہ اونچائی سے ڈھلوان کی طرف آ رہے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے چہرے سے زیادہ حسین کسی شخص کو نہیں دیکھا۔ گویا کہ سورج آپ ﷺ کے چہرے میں چلتا ہے اور میں نے نہیں دیکھا، آپ ﷺ سے زیادہ تیز چلنے والا کسی کو ۔ گویا کہ ان کے لیے زمین کو لپیٹ دیا گیا ہو اور ہم اپنے نفسوں کے لیے کوشش کرتے تھے لیکن ان تک پہنچنے کے لیے تھک جاتے تھے۔ ” کل ذلک کان سیئۃ عند ربک مکروھا ً “ ابن عامر اور اہل کوفہ نے ہمزہ کے رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور ھاء کے ضمہ کے ساتھ اضافت ہونے کی وجہ سے۔ یعنی مذکورہ بالا تمام امور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ’ وقضیٰ ربک الا تعبدوا الا ایاہ “۔۔۔۔” کان سیئۃ “ یعنی امور مذکورہ میں سے جو برے ہیں اور ان کے ارتکاب کی ممانعت کی گئی ہے۔” وآت ذالقربی ٰ حقہ “۔۔۔۔” واخفض لھما جناح الذل “ اور دوسرے قراء نے ” سیئۃ “ تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح ” ولا تقتلوا اولاد کم “ اس مقام میں بھی برائی کا ذکر ہے نہ کہ نیکی کا ، یہ سب امور جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے نہ کہ اس کے علاوہ سے ، یہاں پر مکروہ کا ذکر نہیں کیا کیونکہ اس میں کچھ تقدیم و تاخیر ہے یعنی ہر وہ کام جو ناپسندیدہ ہو وہ برا ہے۔ ” مکروھا “ یہ تکریر کے لیے ہے نہ کہ صفت کے لیے ، یعنی ہر وہ چیز جو بری ہوگی وہ مکرو ہ بھی ہوگی ۔ یہاں معنی کا اعتبار کیا گیا نہ کہ لفظ کا اس لیے کہ ” سیئۃ “ سے مراد ذنب ہے اور وہ مذکر ہے۔
Ayah 17:39

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ ان (ہدایتوں) میں سے ہیں جو خدا نے دانائی کی باتیں تمہاری طرف وحی کی ہیں اور خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ (ایسا کرنے سے) ملامت زدہ اور (درگاہ خدا سے) راندہ بنا کر جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے۔

تفسیر 39۔” ذلک “ یہ باتیں اس حکمت میں کی ہیں ۔ ” مما اولی الیک ربک من الحکمۃ “ ہر وہ کام جس کے کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور جس کام سے روکا ہے اس میں کوئی نہ کوئی حکمت ہے۔” ولا تجعل مع اللہ الٰہ آخر “ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن اس سے مراد امت ہے۔” فتلقی فی جھنم ملوما ً مدحورا ً “ ہر خیر سے دھتکارا ہوا۔
Ayah 17:40

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

(مشرکو ! ) کیا تمہار پروردگار نے تم کو تو لڑکے دیئے اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنایا۔ کچھ شک نہیں کہ (یہ) تم بڑی (نامعقول) بات کہتے ہو۔

40۔” افاصفا کم ربکم “ تمہارے اس اختیار کرنے کے باعث کہ تم نے اس کے لیے اس چیز کو پسند کیا ( یعنی لڑکیاں) جو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے ۔ ” بالبنین واتخذ من الملائکۃ اناثا “ کیونکہ وہ یہ کہتے تھے کہ لڑکیاں اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ ( نعوذ باللہ) ۔۔۔۔۔” انکم لتقولون قولا ً عظیما ً “ اس سے مشرکین مکہ کو خطاب ہے۔
Ayah 17:41

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا Open ayah 17:41 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں۔

41۔” ولقد صرفنا فی ھذا القرآن “ اس قرآن میں متعدد مقامات پر چند عبرتیں ، حکمتیں ، احکام ، مثال ، دلائل اور نصیحتیں و عیدات ، تشدیدات بیان کی ہیں ۔ ” لیذکروا ‘ ‘ تا کہ وہ اس سے نصیحت حاصل کریں اور ان امور سے باز رہیں ۔ حمزہ کسائی نے ذال کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور کاف کے ضمہ کے ساتھ ” وما یزیدھم “ یعنی ہمارا ان کو بار بار بیان کرنا نصیحت کرنا ” الانفورا ً “ ان کی دوری اور حق سے نفرت کا سبب بنتی ہے۔
Ayah 17:42

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا Open ayah 17:42 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر خدا کے ساتھ اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ ضرور (خدائے) مالک عرش کی طرف ضرور (لڑنے بھڑنے کے لیے) راستہ نکالتے۔

42۔” قل “ اے محمد ! (ﷺ) ان مشرکین کے لیے کہہ دیجئے ۔” لو کان معہ الھۃ کما یقولون “ حفص اور ابن کثیر نے ” یقولون “ پڑھا ہے اور دوسرا قراء نے تاء کے ساتھ ” تقولون “ پڑھا ہے۔” اذا لا بتغوا “ وہ طلب کرچکے ہوتے یعنی دوسرے خدا ۔” الی ذی العرش سبیلا ً “ بطورمبالغہ کے ارشاد فرمایا کہ اگر یہ ایسا ہوتے یا ایسا کر چکتے ہوتے ابھی تک اللہ کی بادشاہت ختم ہوجاتی ، جیسا کہ ایک بادشاہ کی ملکیت دوسرے بادشاہ کی ملکیت کے زوال کا سبب بنی ۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کے بادشاہوں کے دستور کے مطابق وہ عرش والے خدا سے لڑ پڑتے اور اس پر غالب آنے کی کوشش کرتے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ وہ اللہ کے فضل کو جان لیتے اور اس سے تقرب حاصل ہوجاتا ، پہلا قول اصح ہے۔
Ayah 17:43

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:43 in the Quran reader

وہ پاک ہے اور جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس سے (اسکا رتبہ) بلند ہے۔

43۔” سبحانہ و تعالیٰ عما یقولون “ بعض قراءت قولون پڑھتے ہیں اور دو سے قراء یاء کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ ” علوا کبیرا ً “۔
Ayah 17:44

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 17:44 in the Quran reader

ساتوں آسمان اور زمین اور جو لوگ ان میں ہیں سب اسی کی تسبیح کرتے ہیں اور (مخلوقات میں سے) کوئی چیز نہیں مگر اسکی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے بیشک وہ بردبار (اور) غفار ہے۔

44۔” تسبح لہ السموات السبع والارض من فیھن “ ابو عمرو، حمزہ ، کسائی ، حفص اور یعقوب کے نزدیک تاء کے ساتھ ( تسبح) ہے اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ ” یسبح “ پڑھا ہے۔ ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے ” وان من شیء الا یسبح بحمدہ “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو چیز بھی زندہ ہے وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ تمام حیوانات اور نباتات تسبیح کا اقرار کرتے ہیں ۔ عکرمہ (رح) کا قول ہے کہ درخت اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہے اور اس لکڑی سے بنا ہوا ستون تسبیح نہیں پڑھتا ۔ مقدام بن معدی کرب کا قول ہے کہ مٹی تسبیح کرتی ہے جب تک کہ وہ سڑ نہ جائے ، جب سڑ جاتی ہے تو وہ تسبیح نہیں کرتے۔ پتہ بھی اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہے جب تک وہ درخت پر لگا ہوا ہو جب وہ سوکھ کر گر جاتا ہے تو تسبیح نہیں کرتا اور کپڑے اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں جب تک کہ وہ نئے ہوتے ہیں جب وہ پرانے اور پھٹ جائیں تو تسبیح کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور پانی بھی اللہ کی تسبیح کرتا ہے جب کہ وہ جاری ہو ، جب وہ رک جاتا ہے تو تسبیح کرنا چھوڑ دیتا ہے ، وحشی جانور اور پرندے بھی تسبیح کرتے ہیں جب وہ بولتے یا چیختے ہیں جب وہ چپ ہوتے ہیں تسبیح رک جاتی ہے۔ ابراہیم نخعی کا بیان ہے کہ ہر چیزخواہ جماد ہو، اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے یہاں تک کہ گھر کے دروازے کی چرچراہٹ اور چھت کی شہتیر اور ٹوٹ کر گرنے کی آواز بھی تسبیح ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ تمام اشیاء اللہ کی تسبیح کرتی ہے ، خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ پتھر ہوں ان کی تسبیح سبحان اللہ وبحمدہ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے کہ ہم آیات کو معجزات جانتے ہیں اور تم لوگ ان کو خوف انگریز کا سبب خیال کرتے ہو۔ ہم رسو ل اللہ ﷺ کے ساتھ ہمرکاب تھے کہ پانی کی کمی پڑگئی ۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پانی جو کچھ بچا ہوا ہے میرے پاس لے آئو ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ایک برتن لا کر حاضر کردیا جس میں قدرے پانی تھا، آپ ﷺ نے دست مبارک اس میں ڈال دیا اور فرمایا برکت والے پاک پانی کی طرف آئو اور برکت اللہ کی طرف سے ہے۔ میں نے خود دیکھا کہ آپ ﷺ کی انگلیوں کے بیچ میں سے پانی پھوٹ کر نکل رہا تھا اور کھانا کھایا جاتا تھا اور کھانے کے اندر سے ہم سبحان اللہ کی آواز سنا کرتے تھ۔ بعض اہل معافی کا قول ہے کہ آسمان و زمین جمادات اور تمام حیوانات سوائے عقلا ً ، یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی لطیف ترکیب اور اس کے عجائبات اور اس کی مختلف پیدا شدہ چیزوں پر دلالت کرتی ہے۔ ان سب کا مختلف ہیئت پر پیدا کرنا دراصل ان کی تسبیح کرنے کے مترادف ہے۔ پہلا قول سلف سے منقول ہے۔ ” ولکن لا نفقھون تسبیحھم “ ان کی تسبیح کو کوئی نہیں جانتا ان کی لغات اور ان کی زبان کوئی نہیں جانتا ۔ ’ ’ انہ کان حلیما ً غفورا “۔
Ayah 17:45

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

اور جب تم قرآن پڑھا کرتے ہو تو ہم تم میں اور ان لوگوں میں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے حجاب پر حجاب کردیتے ہیں

تفسیر 45۔” واذا قرأت القرآن جعلنا بینک وبین الذین لا یومنون بالاخرۃ حجابا ً مستورا ً “ ان کے دلوں پر پردہ ہے کہ وہ ان کے قرآن کو نہیں سمجھ سکتے اور اس سے نفع حاصل نہیں کرسکتے۔ قتادہ نے کہا کہ اس پردے سے مراد کنتہ ہے ۔ وہ پردہ جو مشرکوں کے بارے میں فرمایا کہ ” قلوبنا غلف ۔۔۔۔ فی اکنۃ “ مستور یعنی ساتر کے ہے وہ پردہ حسی نہیں ہوتا جو اس سے چھپا ہوا ہے۔” وکان وعدہ ماتیا “ یہاں مفعول بمعنی فاعل کے ہے۔ بعض نے کہا کہ وہ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے پردہ ہے، لوگ اس کو دیکھ نہیں سکتے اور بعض نے اس کی تفسیر حجاب سے کی ہے۔ جیسا کہ سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ،” تبت یدا ابی لھب و تب “ تو ابو لہب کی بیوی ایک پتھر لے کر آئی آپ ﷺ اس وقت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے لیکن عورت کو رسول اللہ ﷺ نظر نہیں آئے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کہنے لگی تمہارا ساتھی کہاں ہے مجھے اطلاع ملی ہے کہ اس نے میری ہجو کی ہے۔ حضرت ابو بکرصدیق ؓ نے فرمایا خدا کی قسم ! وہ تو شعر نہیں پڑھتے نہ شعر کہتے ہیں ، عورت یہ کہتی ہوئی لوٹ گئی ، میں تو اس پتھر سے اس کا سر پڑھانے آئی تھی ۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا ، یا رسول اللہ (ﷺ) وہ آپ ﷺ کو دیکھ نہیں پائی ، فرمایا ایک فرشتہ میرے اور اس کے درمیان آڑ کئے رہا ۔
Ayah 17:46

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور انکے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے پروردگار یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں۔

46۔” وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ “ اس کا معنی پردے کے ہیں ۔ ” ان یفھوہ “ اس بات کی ناپسندیدگی کی وجہ سے کہ وہ ان کو سمجھ نہ سکیں ۔ بعض نے کہا تا کہ وہ اس کو سمجھ نہ سکیں۔ ” وفی آذا انھم و قراً “ ان کے کانوں میں بوجھ پڑے ہوئے تا کہ وہ اس کو سمجھ نہ سکیں ۔ ” واذا ذکرت ربک فی القرآن وحدہ “ یعنی جب آپ یہ کہہ دیں لاالہ الا اللہ قرآن سے پڑھ لیں ۔ ” ولو اعلی ادبارھم نفوراً “ نافر کی جمع ہے جیسے قاعد جمع ہے قعود اور جالس جلوس کی جمع ہے۔