Ayah 17:7979۔” ومن اللیل فتھجدبہ “ اپنی نیند کے بعد کچھ قیام کیجئے کیونکہ تہجد کا وقت رات سونے کے بعد ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سو گیا پھر وہ بیدار ہوگیا ۔ اس آیت سے مراد قیام اللیل ہے۔ تہجد کی نماز ابتداء ً نبی کریم ﷺ پر فرض تھی اور آپ ﷺ کی امت پر بھی فرض تھی ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ ” یایھا المزمل قم اللیل الا قلیلا ً “ پھر اس کے بعد تخفیف نازل ہوئی ۔ پھر اس کا وجوب منسوخ ہوگیا ۔ امت کے حق میں اور پانچ نمازیں فرض ہوگئیں اور استحباب باقی رہا ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” فاقرء واما تیسر من القرآن “ نبی کریم ﷺ کے حق میں وجوب باقی رہا۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تین اشیاء نبی کریم ﷺ پر فرض ہیں اور تمہارے لیے سنت ہیں ۔ وتر ، مسواک اور رات کا قیام ( تہجد)
” نافلۃ لک “ اور وہ تمہارے لیے زائد ہیں۔ اس سے مراد زائد فضلیت ہے۔ تمام فرائض پر کیونکہ آپ پر اللہ نے اس کو فرض کیا ہے۔ بعض حضرات کے نزدیک تہجد کا وجوب منسوخ ہے۔ آپ ﷺ کے حق میں بھی جس طرح امت کے حق میں منسوخ ہوگیا تھا۔ اب یہ آپ ﷺ کے حق میں نفل ہوگیا ۔ یہ قول مجاہد اور قتادہ کا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ” فافلۃ لک “ ارشاد فرمایا اور یہ ارشاد نہیں فرمایا ” علیک “ آپ پر سوال یہ ہوگا کہ پھر اس میں تخصیص کی کیا وجہ ہے جس طرح آپ پر خاص تھا اسی طرح تمام مسلمانوں پر تہجد فرض تھی ۔ تخصیص یہ تھی کہ بندوں کے نوافل ان کے گناہوں کا کفارہ بنتا تھا اور آپ کے نوافل آپ کے درجات کی بلندی کا سبب بنتا تھا اور آپ کے نوافل آپ کے درجات کی بلندی کا سبب بنتا تھا کیونکہ آپ ﷺ کے ” ماتقدم من ذنبہ وما تاخر “ آپ ﷺ کے نوافل گناہوں کا کفارہ جب نہیں بنتے تو رفع درجات کا ذریعہ بنتے ہیں۔
نوافل نماز کے متعلق احادیث
مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ رات کا قیام کرتے تھے حتی ٰکہ آپ ﷺ کے پائوں سوج جاتے تھے ۔ آپ ﷺ کو کہا گیا کہ آپ اتنا تکلیف کیوں کرتے ہیں حالانکہ آپ کے پچھلے اور اگلے تمام گناہ معاف کردیئے گئے ہیں ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” افلا عبدا ً شکوراً “ کہ میں شکر کرنے والا بندہ کیوں نہ بنوں۔
زید بن خالد جن ہی ؓ کا قول ہے کہ میں رات کو رسول اللہ ﷺ کی نماز کو غور سے دیکھنا چاہتا تھا اس لیے میں حضور ﷺ کے دروازے کی دہلیز پر تکیہ لگائے دیکھتا رہا ۔ آپ اٹھے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھیں ، پھر دو طویل رکعتیں پڑھیں ، دو طویل رکعتیں ، دو طویل رکعتیں پھر دو رکعتیں پڑھیں جو اس سے پہلے والی رکعتوں سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں جو ان سے بھی چھوٹی تھیں ، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو ان سے بھی کم تھیں، پھر دو رکعتیں جو ان سے بھی چھوٹی تھیں ، پھر دو رکعتیں جو ان سے بھی کم تھیں ، اس کے بعد وتر پڑھے، یہ کل تیرہ رکعتیں ہوئیں۔
حضرت عبد الرحمن نے حضرت عائشہ ؓ سے حدیث بیان کی کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے آپ ﷺ کی رمضان کی نماز کے متعلق دریافت کیا ۔ فرمایا کہ آپ ﷺ رمضان اور غیر رمضان میں ( رات کی نماز) گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے کہ آپ ﷺ کی پہلی چار رکعتوں کی خوبی اور طول کے حال کے کیا کہنے ۔ پھر چار رکعتوں کی خوبی اور طول بھی ناقابل بیان ہے۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے تھے ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ وتر پڑھنے سے پہلے آپ سو جاتے ہیں۔ فرمایا عائشہ ! ؓ میری آنکھیں سوتی ہیں دل نہیں سوتا ۔
حضرت عمرو بن زبیر ؓ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ؓ ارشاد فرماتی ہیں کہ عشاء کی نماز سے فراغت کے بعد فجر تک رات میں رسول اللہ ﷺ گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے اور آخر میں ایک رکعت پڑھتے تھے اور دو سجدے کرتے تھے جس کی مقدار سر اٹھانے سے پہلے اتنی ہوتی تھی کہ آدمی پچاس آیات پڑھ لے اور مؤذن اذان فجر کہہ کے جب خاموش ہوجاتا اور فجر نمودارہو جاتی تو آپ اٹھ کر دو خفیف رکعتیں پڑھتے ، پھر دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے ، پھر مؤذن آ کر نماز کی اطلاع دیتا اور آپ نماز کے لیے باہر تشریف لے جاتے۔
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب بھی ہم نبی کریم ﷺ کو نماز میں مشغول دیکھتے تو آسانی سے دیکھ سکتے تھے اور جب ہم نبی کریم ﷺ کو سوتے دیکھنا چاہتے تو آسانی سے دیکھ لیتے۔ راوی فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ پورے ماہ کے روزے رکھنے لگتے تو ہم کہنے لگے کہ اب آپ ﷺ کبھی افطار نہیں کریں گے اور جب آپ ﷺ افطار کرنے لگتے تو ہم کہتے کہ آپ ﷺ اب کبھی روزہ نہیں رکھیں گے۔
” عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما ً محموداً “ جب عسیٰ کا لفظ اللہ تعالیٰ کی طرف سے استعمال کیا جائے تو اس کا معنی واجب کا ہوگا کیونکہ وہ کسی بندے کو کوئی چیزدے کر اس کو ترک نہیں کردیتا ۔
مقام محمود سے کیا مراد ہے ؟
مقام محمود سے مراد شفاعت کا مقام ہے جہاں اپنی امت کے لیے شفاعت فرمائیں گے ۔” اولون وآخرون “ تمام محامد فرمائیں گے۔ حضرت عمرو بن العاض ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم مؤذن کی آواز سنو تو تم بھی مؤذن کی طرح الفاظ کہو، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت بھیجے گا ۔ پھر وہ میرے لیے وسیلہ کی دعا کرے کیونکہ وہ جنت میں ایک مقام کا نام ہے، بندوں کے لیے مناسب نہیں کسی ایک کے لیے ہے اور میں امید کرتاہوں کہ وہ میں ہوں جو شخص میرے لیے وسیلہ کی دعاکرے گا اس کے لیے شفاعت ہوگی ۔
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اذان کی آواز سننے کے بعد ارشاد فرمایا ” اللھم رب ھذہ الدعوۃ التامۃ والصلوٰۃ والقائمہ آت محمدن الوسیلۃ والفضیلۃ وابعثہ مقاما ً محموداً الذی وعدتہ “ اس کے لیے شفاعت واجب ہوجائے گا ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر نبی کے لیے اس کی دعا قبول کی جاتی ہے اور مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ میں اپنی امت کے لیے شفاعت کی دعا کروں اور وہ تمہیں پہنچنے والی ہے اگر اللہ چاہے جو شرک پر نہ مرا ہے۔
شفاعت کبری
حضرت انس ؓ کی روایت سے صحیحین میں آیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن مسلمانوں کو روک دیا جائے گا جس کی وجہ سے ان کو فکر ہوگی اور وہ کہیں گے کاش ! ہم کسی سے اپنے رب کے دربار میں سفارش کرا سکتے ہیں اور اللہ اس مقام سے ہم کو بچا دیتا ، چناچہ لوگ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس جا کر کہیں گے ، آپ سب لوگوں کے باپ ہیں، اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور اپنی جنت میں آپ کو جگہ دی اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور تمام چیزوں کے نام آپ کو سکھا دیئے ، آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئے کہ وہ اس جگہ سے ہم کو رہائی عطا فرما دے ۔ آدم (علیہ السلام) فرمائیں گے میں تمہارے لیے اس مقام پر نہیں ہوں ، آپ کو درخت ممنوعہ کا پھل کھانے کا اپنا قصور یاد ہوگا ۔ فرمائیں گے تم لوگ نوح (علیہ السلام) کے پاس جائو ( طوفان کے بعد) وہ پہلے پیغمبر تھے جن کو اللہ نے زمین والوں کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا تھا۔ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) فرمائیں گے میں اس مقام پر نہیں ہوں ، آپ کو اپنا وہ قصور یاد ہوگا کہ نادانی میں ( اپنے بیٹے کے لیے) نجات کی درخواست کی ۔ پھر آپ فرمائیں گے تم لوگ ابراہیم خلیل الرحمن کے پاس جائو ، لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے ، آپ فرمائیں گے میں اس مقام پر نہیں ہوں آپ کو اپنے وہ تین جھوٹ یاد ہوں گے جو آپ کی زبان سے نکلے تھے ( شاہ مصر کے سامنے، حضرت سارہ کو اپنی بہن قرار دینا اور قوم کے ساتھ میلے میں شرک نہ کرنے کے لیے اپنے کو بیمار کہنا اور بتوں کو خود توڑنے کے بعد قوم کے سامنے یہ کہنا کہ بڑے بت سے پوچھو اس نے ایسا کیا ہے) آپ کہیں گے تم لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جائو ، ان کو اللہ نے تورات عنایت فرمائی تھی ، ان سے کلام کیا تھا، ان کو اپنا مقام بنا کر خطاب کیا تھا۔ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے میں اس مرتبے پر نہیں ہوں ، آپ کو اپنی وہ غلطی یاد ہوگی کہ ایک آدمی کو ( غلطی سے) قتل کردیا تھا۔ فرمائیں گے تم لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جائو ، وہ عبد اللہ تھے، رسول اللہ تھے ، روح اللہ تھے ، کلمۃ اللہ تھے، لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے ، آپ (علیہ السلام) جواب دیں گے میں اس مقام پر نہیں ہوں ، تم لوگ محمد ﷺ کے پاس جائو ، اللہ نے ان کی اگلی پچھلی لغزشیں معاف فرما دی تھیں ۔ لوگ میرے پاس آئیں گے میں اپنے رب سے اس کے مکان میں داخل ہونے کی اجازت کا طلب گارہوں گا اور اجازت ملنے پر اس کے پاس داخل ہوں گا اور جوں ہی میری نگاہ اس پر پڑے گی فوراً سجدے میں گر پڑوں گا اور جتنی دیر اللہ چاہے گا سجدے میں پڑے رہوں گا ۔ پھر اللہ فرمائے گا محمد ﷺ سر اٹھا اور ( جو کچھ کہنا ہے) بیان کر ، تیری بات سنی جائے گی ۔ مانگ ( جو کچھ مانگنا) چاہے) تیرا سوال پور ا کیا جائے گا ۔ میں سجدے سے سر اٹھائوں گا اور اپنے رب کی وہ حمد وثناء کروں گا جو مجھے وہ سکھا دے گا ، پھر شفاعت کروں گا ۔ اللہ تعالیٰ میرے لیے ایک حد مقرر کر دے گا ( یعنی محدود تعداد کی رہائی کا حکم دے دے گا ) میں جا کر ان کو دوزخ سے نکال کر جنت میں پہنچا دوں گا ، پھر لوٹ کر آئوں گا اور دوبارہ بارگاہ الٰہی میں داخلے کی اجازت کا خواستگار ہوں گا اور اجازت مل جائے گی اور اندر داخل ہوں گا اور جونہی میری نظر اس پر پڑے گی فوراً سجدے میں گر پڑوں گا اور جتنی دیر اللہ چاہے گا سجدے میں پڑا رہوں گا ، پھر اللہ فرمائے گا ، محمد سر اٹھائو ( اپنا مقصد) بیان کرو، تمہاری بات سنی جائے گی ، شفاعت کروتمہاری سفارش قبو ل کی جائے گی ، مانگو ، تمہارا سوال پورا کیا جائے گا ، میں سر اٹھائوں گا اور حسب تعلیم الٰہی اپنے رب کی حمد وثناء کروں گا ، پھر شفاعت کروں گا ، اللہ میرے لیے ( دوزخ سے لوگوں کو باہر نکال لانے کی) حد مقرر فرمادے گا ، میں بارگاہ خدا وندی سے باہر آ کر ان کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا ( تیسری مرتبہ بارگاہ خداوندی میں داخل ہونا سجدہ میں گرپڑنا اللہ کی طرف سے خطاب ہونا سجدے سے سر اٹھا کر حمد وثناء کرنا ، قیدیوں کی محدود تعداد کو رہا کرنے کا حکم ملنا اور جا کر ان کو دوزخ سے نکاح کر جنت میں پہنچا دینا بھی انہی الفاظ کے ساتھ اس حدیث میں حضور ﷺ نے بیان فرمایا ہے جو اوپر ذکر کیے گئے ہیں ۔ اس کے آخر میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا) یہاں تک کہ دوزخ کے اندر سوائے ان لوگوں کے جن کو ( ہمیشہ دوزخ میں رکھے جانے کی قرآن نے صراحت کردی ہے اور) قرآن نے ( ہمیشہ کے لیے ان کو) دوزخ میں روک دیا ہے اور کوئی باقی نہیں رہے گا ۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ” عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما ً محمودا ً ‘ ‘ حضور ﷺ نے فرمایا یہ ہی وہ مقام محمود ہوگا جس کا وعدہ اللہ نے تمہارے نبی کے لیے کرلیا ہے۔
صحیحین میں حضرت انس ؓ کی روایت سے بھی یہ حدیث شفاعت ذکر کی گئی ہے۔ اس روایت میں حدیث کے الفاظ اس طرح آئے ہیں ، میں اپنے رب کے پاس داخل ہونے کی اجازت طلب کروں گا ، مجھے اجازت مل جائے گی اور اللہ میرے دل میں کچھ کلمات حمد القاء کر دے گا جن سے میں اپنے رب کی حمد کروں گا ، اس وقت وہ الفاظ میرے سامنے نہیں ( یعنی جو کلمات حمد میں قیامت کے دن مقام شفاعت میں پہنچ کر استعمال کروں گا وہ اس وقت میرے ذہن میں نہیں ) میں انہی الفاظ سے اپنے رب کی حمد کروں گا ، پھر سجدہیں گرپڑوں گا ، اللہ فرمائے گا محمد (ﷺ) سر اٹھائو اور ( جو کچھ گزارش کرنا چاہتے ہو) بیان کرو تمہاری بات سنی جائے گی ، مانگو تم کو دیا جائے گا ۔ شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی ۔ میں عرض کروں گا یا رب امتی امتی ، حکم ہوگا جائو اور جس کے دل میں جو کے برابر ایمان ہو اس کو نکال لائو ، میں جا کر حکم کی تعمیل کروں گا ، پھر واپس آ کر وہ کلمات ثنائیہ ( حسب سابق) عرض کروں گا ۔ پھر سجدے میں گر پڑوں گا حکم ہوگا جا کر اس کو نکال لو جس کے دل میں رائی کے دانے سے بھی کم ایمان ہو، میں جا کر ایسا ہی کروں گا ۔ پھر حضور ﷺ نے تیسری اور چوتھی مرتبہ جانے اور شفاعت کرنے کا ذکر فرمایا اور فرمایا میں عرض کروں گا ، اے میرے رب مجھے ان لوگوں کے نکال لینے کی اجازت دے دے جو لاالٰہ الا اللہ کے قائل تھے، اللہ فرمائے گا قسم ہے اپنی عزت و جلال و کبریا اور عظمت کی جو لاالٰہ الا اللہ کا قائل تھا میں اس کو ضرور ضرور (دوزخ سے) نکال دوں گا ۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن سورج اتنا قریب آجائے گا کہ ہر شخص پسینے کی وجہ سے ڈوبا ہوگا ۔ اسی حالت میں لوگ حضرت آدم (علیہ السلام) سے فریاد کریں گے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) فرمائیں گے مجھے اس کا اختیار نہیں ۔ پھر محمد ﷺ کی باری آجائے گی اور وہ شفاعت کریں گے اور اللہ فیصلہ کرے گا ۔ محمد ﷺ جا کر جنت کا دروازہ پکڑ لیں گے ، اس روز اللہ ان کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا ، یہ مقام ایسا ہوگا کہ میدان قیامت میں جمع ہونے والے سب لوگ اس کی تعریف کریں گے۔
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں سب سے پہلے اٹھنے والا ہوں گا جب قبروں سے اٹھایا جائے گا اور میں سب کے آگے ہوں جب تمام وفود آئیں گے اور میں بولوں گا جس دن سب خاموش ہوجائیں گے اور میں ہی سب کی شفاعت کرنے والا ہوں گا جب سب کو روکا جائے گا اور میں ہی خوشخبری سنانے والا ہوں گا جب سب مایوں ہوجائیں گے ۔ اس دن عزت اور خزانوں کی چابیاں میرے ہاتھ میں ہوں گی اور تعریف کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا اور آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے میں سب سے عزت والا ہوں گا ، میرے ارد گرد ایک ہزارخادم چکر لگائیں گے کہ وہ چمکتے ہوئے موتی ہیں یا جڑے ہوئے موتی ہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور پہلے جس کی قبر کھودی جائے گی وہ میری ہوگی اور میں ہی پہلا شفیع اور مشفع ہوں گا ۔ شفاعت کے متعلق بہت ساری احادیث مروی ہیں ان کا انکار کرنے والا عمرو بن عبید تھا جو اہل سنت والجماعت کی متفقہ رائے کے مطابق بدعتی ہے۔
یزید بن صہیب فقیر نے کہا خوراج کی رائے نے مجھے فتنہ میں ڈال دیا تھا ، ایک بار حج کے ارادے سے ایک جماعت کے ساتھ ہم چلے اور مدینے کی طرف سے گزر ہوا تو وہاں جابر بن عبد اللہ ؓ رسو ل اللہ ﷺ کی حدیث بیان کر رہے تھے اور جہنمیوں کا انہوں نے ذکر کیا تھا۔ میں نے حضرت جابر ؓ سے کہا اے رسول اللہ ﷺ کے صحابی ! آپ یہ کیا بیان کر رہے ہیں ( اللہ نے تو فرمایا ہے ” انک من تدخل النار فقد اخزیتہ ، کلما ارادوا ان یخرجوا منھا اعیدوا فیھا “ بیشک تو جس کو آگ میں داخل کر دے گا اس کو رسوا کر دے گا اور دوزخی جب دوزح سے نکلنا چاہیں گے تو ان کو دوزخ کے اندر ہی لوٹا یا جائے گا ۔
حضرت ابو وائل ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ رب العزت نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دوست بنایا اور تمہارا صاحب بھی اللہ کا دوست ہے ۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی ” عسیٰ انت یبعثک ربک مقاماً محمودا “ مجاہد کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ’ ’ عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما ً محمودا ً “ فرمایا وہ اپنے عرش پر بیٹھے ، عبد اللہ بن سلا م کا قول ہے کہ فرمایا وہ اپنی کرسی پر متمکن ہوا۔
Ayah 17:80تفسیر 80۔” وقل رب ادخلنی مدخل صدق و اخرجنی مخرج صدق “ اس سے مراد دخل ہونا اور خارج ہونا ہے۔
وقل رب ادخلنی مدخل صدق کی تفسیر
اہل تفسیر کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ابن عباس ؓ ، حسن و قتادہ کا بیان ہے کہ ” ادخلنی مدخل صدق “ سے مدینہ مراد ہے ۔ ” واخرجنی مخرج صدق “ سے مراد مکہ ہے۔ یہ اس وقت نازل ہوئی جب نبی کریم ﷺ کو ہجرت کا حکم دیا ۔ ضحاک کا قول ہے کہ مجھے مکہ سے انم کی حالت میں نکال کر مشرک مجھے دکھ نہ پہنچاسکیں اور مدینہ میں اس طرح داخل فرما کر مجھے وہاں اقتدار اعلیٰ حاصل ہوجائے ۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ داخل کرنے سے مراد یہ ہے کہ فریضہ نبوت کی ادائیگی میں داخلہ اور خارج کرنے سے مراد یہ ہے کہ فرض نبوت کی انجام دہی سے فراغت یعنی جو امر نبوت تو نے میرے سپرد کیا ہے اس میں صدق کے ساتھ مجھے داخل فرما اور صدق ہی کے ساتھ مجھے اس فرض کی ادائیگی کی توفیق عطا فرما، جب میں دنیا میں جائوں تو نبوت کے فریضے کو کامل طور پر اداکر چکا ہوں۔
حسن کا قول ہے کہ مدخل صدق سے مراد جنت ہے اور مخرج صدق سے مراد کہ ہے ۔ بعض نے کہا کہ مدخل صدق سے مراد اپنی اطاعت میں داخل فرما اور ممنوعات نے نکال دے۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تو مجھے ایسے داخل فرما جیسے تو نے مجھے سچائی میں داخل فرمایا اور مجھے سچائی ( صدق) کے ساتھ نکالنا ۔ یعنی نہ تو مجھے ان میں سے بنا جو دوزخ اور دوغلے پن والا ہو کیونکہ ایسا شخص اللہ کے نزدیک با عزت نہیں ہوتا ۔ ” واجعل لی من لدنک سلطانا ً نصیرا ً “ مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد واضح حجت ہے۔ حسن رحمۃ اللہ کا قول ہے کہ ایسی طاقت اور حکومت جس سے مخالفوں پر غلبہ حاصل ہوجائے ، ایسی نمایاں طاقت جس سے دین کا قیام و استحکام ہوجائے اس دعا کے نتیجہ میں اللہ نے فارس اور روم وغیرہ کی حکومتیں عطا فرمانے کا وعدہ فرما لیا ۔
قتادہ (رح) کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو معلوم تھا کہ اللہ کی مدد کے بغیر اقامت دین اور احکام قرآنی کا قیام نہیں ہوسکتا اس لیے آپ نے سلطان نصیر کی درخواست کی۔
Ayah 17:8181۔” وقل جاء الحق “ اس سے مراد قرآن ہے۔” وزھق الباطل “ اس سے مراد شیطان ہے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ حق سے مراد اسلام اور باطل سے مراد شرک ہے۔ بعض نے کہا کہ حق سے مراد اللہ کی عبادت ہے اور باطل سے مراد بتوں کی عبادت ہے۔
” ان الباطل کان زھوقاً “ جانے والا ہے ۔ جیسے کہا جاتا ہے ” زھقت نفسہ “ اس کی جان نکل گئی ۔ حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے ۔ بیت اللہ کے قریب تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے اور اپنی لاٹھی کے ساتھ ان کو کچوکا دینے لگے اور فرمانے لگے ” جاء الحق وزھق الباطل ، جاء الحق وما یبدی الباطل ومایعید “۔
Ayah 17:82تفسیر 82۔” وننزل من القرآن ما ھو شفاء ورحمۃ للمومنین “۔۔۔۔۔” من تبعیضیہ “ نہیں ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ قرآن میں جو چیزیں نازل کی ہیں وہ سب کی سب شفاء ہیں یعنی گمراہی اور جہالت اس میں واضح بیان کردیا گیا ہے۔ اس میں مختلف اور مشکل باتیں اور شبہات والی چیزوں سے اس کو شفاء بخشی اور یہ دلوں کے لیے بھی شفا یاب ہے کہ اس کے ذریعے سے جہالت کو زائل کیا گیا اور ان کو رحمۃ للعالمین بنایا۔” ولا یزید الظالمین الا خسارا ً “ ظالم اس سے نفع نہیں اٹھا سکتا اور مومن اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ اس صورت میں یہ اس کے لیے رحمت ہوگی ۔ بعض نے کہا کہ ظالم کے لیے خسارے میں زیادتی اس طور پر ہے کہ ہر نئی آیت کے نزول پردہ اس کو جھٹلاتا ہے۔ اس بناء پر اس کو خسارہ ہوگا ۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس قرآن کے ساتھ جو بیٹھتا ہے وہ کچھ اس سے لے کر اٹھتا ہے یا کچھ نقصان کر کے اللہ فیصلہ کرچکا ہے کہ یہ قرآن مؤمنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے اور کفار کے لیے موجب خسارہ ہے۔
Ayah 17:8383۔” واذا اننعمنا علی الانسان اعرض “ اس کے ذکر اور اس کی دعا سے ” ونابجانیہ “ وہ اپنے آپ کو اس سے دور رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے قربت کو دور کرتا ہے عطاء کا قول ہے کہ وہ پہلو موڑ لیتا ہے اور تکبر کرتا ہے۔” ونا ‘ ‘ جاء کی طرح ہے۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے قریبی ہونا ، بعض نے کہا کہ پہلو تہی کرنا اور کھڑے ہوجانا ۔ ” واذا مسہ الشر “ اس سے سختی اور تنگی ہے ۔” کان بوسا “ وہ مایوس اور ناامید ہوجاتا ہے اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ گڑ گڑا کر دعا مانگتا ہے تنگی و شدت کے وقت ۔ جب اس کی دعا کی قبولیت میں تاخیر ہوجاتی ہے تو وہ مایوس ہوجاتا ہے اور مومن کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دعا کی قبولت میں مایوس ہوجائے اور جب دعا کی قبولیت میں تاخیر ہوجائے تو وہ دعا کرنا ہی ترک کر دے۔
Ayah 17:8484۔” قل کل یعمل علی شاکلۃ “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے کنارہ۔ حسن اور قتادہ کا قول ہے اس کی اپنی نیت پر ۔ مقاتل کا بیان ہے کہ اس کا معنی سرشت فراء کا قول ہے کہ خلقی اور سر شتی طریقے پر ہر شخص کا کرتا ہے۔ قتیمی (رح) کا قول ہے طبیعت اور پیدائشی حالت کہا ہے۔ بعض نے کہا کہ سیدھ راستے پر جس کو اس کے نفس نے اختیار کیا۔ بعض نے کہا کہ ” علی شاکلتہ “ کا معنی ہے کہ ہر شخص اسی راستہ پر چلتا ہے جو اس نے اپنے لیے اختیار کرلیا ہوتا ہے۔ ” فربکم اعلم بمن ھو اھدی سبیلا ً “ وہ راضح راستہ۔
Ayah 17:85ویسئلونک عن الروح کی تفسیر
تفسیر 85۔ ویسئلونتک عن الروح قل الروح من امر ربی “ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدینہ کی ایک کھیتی میں چل رہے تھے اور وہ ایک لکڑی کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ آپ کے پاس یہود کی ایک جماعت گزری ۔ ان میں سے بعض نے بعض سے پوچھا کہ ان سے رح کے متعلق سوال کرو اور ان میں سے بعض نے کہا کہ تم اس کے بارے میں سوال نہ کرو کہ تم ایسی چیز کے بارے میں پوچھتے ہو جو ناپسندیدہ ہے۔ ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم ضرور بالضرور ان سے سوال کریں گے۔ ان میں سے ایک شخص نے اس کے متعلق سوال کیا ، اے ابو القاسم ! روح کیا چیز ہے ؟ اس پر آپ خاموش ہوگئے تو میں نے کہا کہ آپ ﷺ کی طرف وحی آرہی ہے تو میں کھڑا ہوگیا، جب ان سے وحی کا اثر ختم ہوگیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” ویسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی وما اوئیتم من العلم الا قلیلا ً “ اور ایک رویات میں کہ یہ آیت نازل ہوئی ” وما اتوا من العلم الا قلیلا ً “۔
حضرت ابن عبا س ؓ کا بیان ہے کہ قریش نے جمع ہو کر باہم مشورہ کیا اور کہا محمد ﷺ ہم میں پلے بڑھے اور ہمیشہ امانت و سچائی کے حامل رہے ہیں ، کبھی ہم نے کسی جھوٹ کا ان پر شبہ بھی نہیں کیا لیکن اب انہوں نے وہ دعویٰ کیا جو تم لوگ جانتے ہو ، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کسی مدینہ کے یہودیوں کے پاس بھیج کر دیافت کرائو ، وہ اہل کتاب ہیں ، دیکھو وہ کیا کہتے ہیں ، چناچہ چند آدمیوں کو یہودیوں کے پاس مدینہ میں بھیجا گیا ، لوگوں نے جا کر یہودیوں سے دریافت کیا ۔ یہودیوں نے جواب دیا محمد ﷺ سے جا کر تین باتیں پوچھو ، اگر وہ تینوں کا جواب دے دیں یا کسی کا جواب نہ دیں تو سمجھ لو وہ نبی نہیں ہیں اور اگر دو باتوں کا جواب دے دیں اور تیسری کا جواب نہ دیں تو سمجھ لو وہ نبی ہیں۔
(1) ۔۔۔۔ ان سے دریافت کرو وہ نوجوان کون تھے جنہوں نے ( بھاگ کر کہیں) پناہ پکڑ ی تھی ان کا کیا واقعہ تھا ؟
(2) ۔۔۔۔ وہ کون شخص تھا جو مشرق اور مغرب تک پہنچ گیا تھا اس کا کیا واقعہ تھا ؟
(3) ۔۔۔ روح کیا ہے ؟ اس کے متعلق بھی جا کر دریافت کرو۔
قریش نے رسول اللہ ﷺ سے یہ تینوں سوال کیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں کل کو تمہارے سوالوں کے جواب دے دوں گا ۔ آپ ﷺ نے ان شاء اللہ نہیں فرمایا ۔ اس لیے وحی آنے میں تاخیر ہوگئی ۔ مجاہد کے قول میں بارہ دن ، بعض اقوال میں پندرہ دن اور عکرمہ کے نزدیک چالیس دن تک تاخیر وحی کی صراحت آئی ہے۔ اہل مکہ کہنے لگے ، محمد ﷺ نے ہم سے کل کا وعدہ کیا تھا لیکن اتنی مدت ہوگئی کچھ بھی نہیں بتایا ۔ ادھر نزول وحی میں تاخیر ہوئی ۔ ادھر اہل مکہ ایسی باتیں کہتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کو اس کا رنج ہوا ( اور سخت رنج ہوا) اسی اثناء میں اچانک ایک روز جبرئیل (علیہ السلام) یہ وحی لے کر آئے۔” لوا تقولن لشیء انی فاعل ذلک غدا الا ان یشاء اللہ “ پھر اول سوال کے متعلق نازل ہوا ۔ ” ام حسبت ان اصحاب الکہف والرقیم کانوا من ایتنا عجبا ً “ دوسرے سوال کے جواب میں نازل ہوا ۔ ” یسئلونک عن ذدی القرنین “ اور روح کے متعلق ارشاد ہوا : ” قال الروح من امر ربی “ ترمذی نے یہ قصہ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے۔
ابن کثیر نے دونوں حدیثوں کا تعارض دور کرنے کے لیے تکرار نزول کا قول اختیار کیا ہے۔ حافظ ابن حجر نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے اور اتنا زائد بھی لکھا ہے یا یہودیوں کے سوال کے وقت رسول اللہ ﷺ خاموش رہے اس امید پر کہ شاید بیان میں کچھ زیادتی کردی جائے ۔ اگر دونوں حدیثوں میں تطبیق کی کوشش نہ کی جائے تو لازمی طور پر کسی روایت کو ترجیح دینی پڑے گی اور ظاہر ہے کہ صحاح کی روایت ہی قابل ترجیح ہے۔ اس کے علاوہ بخاری کی روایت کے راجح ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ( جو راوی ہیں) یہودیوں کے وقت اسی جگہ موجود تھے اور بغوی کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کی دوران قصہ میں موجودگی مذکور نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکا قول ہے کہ جس روح کے متعلق سوال کیا گیا تھا اس سے مراد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) تھے ( یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کے متعلق یہودیوں نے دریافت کیا تھا) حسن اور قتادہ کا بھی یہی منقول ہے۔
میں کہتا ہوں ضحاک کا قول عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے ایک روایت میں حضرت علی ؓ کا قول بغوی نے نقل کیا ہے کہ روح ایک فرشتہ ہے جس کے ستر ہزار چہرے ہیں اور ہر چہرے میں ستر ہزار زبانیں ہیں اور تمام زبانوں سے وہ اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے۔ مجاہد نے کہا روح ایک اور مخلوق ہے جو ہیں تو آدمی کی شکل کے ان کے ہاتھ میں ہیں پائوں بھی ہیں اور وہ کھانا بھی کھاتے ہیں لیکن وہ آدمی نہیں ہیں اور فرشتے بھی نہیں ہیں ۔ سعید بن جبیر ؓ نے کہا کہ عرش کے سوال اللہ نے روح سے بڑی اور کوئی مخلوق پیدا نہیں کی اگر وہ چاہے تو
ساتوں آسمانوں اور ساتویں زمینوں اور ان کی ساری موجودات کا ایک لقمہ بنا کر نگل سکتا ہے۔ اس کی جسمانی ساخت تو فرشتوں جیسی ہے اور چہرے کا ڈول آدمیوں کے چہروں کی طرح ہے ، قیامت کے دن وہ عرش کے دائیں جانب کھڑا ہوگا اور تمام مخلوق سے زیادہ اللہ کے قریب ستر حجابوں کے پاس موجود ہوگا اور اہل توحید کی شفاعت کرے گا ۔ اگر اس کے اور ملائکہ کے درمیان نور کا حجاب حائل نہ ہو تو آسمانوں والے اس کے نور سے سوختہ ہوجائیں ۔ عبد بن حمید اور ابن المنذر نے عکرمہ کا قول بیان کیا کہ روح فرشتوں سے بھی بڑی مخلوق ہے اور کوئی فرشتہ نازل نہیں ہوتا مگر اس کے ساتھ روح ضرور ہوتی ہے۔
بعض لوگوں کا قول ہے کہ روح سے مراد قرآن ہے اور ” من امر ربی “ کا معنی ہے ” من وحی اللہ “ یعنی کے نزدیک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہیں ۔ اس قول پر آیت کا مطلب اس طرح ہوگا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ویسے نہیں جیسا یہود ان کو جانتے ہیں اور ان کی والدہ پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں اور نہ ابن اللہ ہیں جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے بلکہ ان کی پیدائش محض اللہ کے حکم سے کلمہ کن سے بغیر باپ کے ہوئی تھی ۔ اور بعض حضرات کا قول ہے کہ اس سے مراد روح مرکب ہے جس کی طرف انسان محتاج ہے اور اس وجہ سے اس کی زندگی وابستہ ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد خوان سے کیا دیکھتے نہیں کہ کسی جانور کی موت واقع نہیں ہوتی مگر خون کے نکلنے کی وجہ سے۔
اور بعض کا قول ہے کہ روح سے مراد نفس ہے کہ کسی جاندار چیز کی نفس ( سانس) کو گھونٹ دینے یا دبا دینے سے اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ بعض نے کہا کہ روح ایک عرض ہے۔ بعض نے کہا کہ روح ایک جسم لطیف ہے اور بعض نے کہا کہ روح چند اشیاء کے مجموعے کا نام ہے۔ نور ، خوشبو، بلندی ، علم اور بقاء ۔ حضرت عبد اللہ بن بریدہ ؓ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روح کے متعلق کسی فرشتے کو مطلع نہیں کیا اور نہ ہی کسی جن کو ۔ یہی قول اہلسنت والجماعت کا ہے۔” قل الروح من امر ربی “ اس سے مراد میرے رب کا علم ہے۔
” وما اوتیتم من العلم الا قلیلا ً “ اللہ تعالیٰ کے علم سے۔ بعض نے کہا کہ یہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور بعض نے کہا کہ یہ خطاب یہود کو ہے کیونکہ وہ کہتے تھے کہ ہمیں تورات عطاکی گئی اور اس میں کثیر علم ہے اور بعض نے کہا کہ نبی کریم ﷺ روح کا معنی جانتے تھے لیکن اس کے متعلق کسی کو خبر نہ دی ۔ آپ ﷺ کا خبر دینے سے ترک کرنا یہ نبوت کے عمل کی وجہ سے ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Ayah 17:8686۔” ولئن شئنا لنذھن بالذی اوحینا الیک “ اس سے مراد قرآن ہے اس کا معنی یہ ہے کہ جیسے ہم نے علم الروح کے متعلق آپ کو منع کردیا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو ہم نے ان کی طرف جو وحی کی اس کو لے جاتے یعنی قرآن کو ” ثم لاتجدلک بہ علینا وکیلا ً “ تو تم کوئی ایسی ہستی نہ پائو جو اس قرآن کو واپس لوٹا دے۔
Ayah 17:8787۔” الا رحمۃ من ربک “ لیکن ہم نے اپنے رب کی رحمت کی وجہ سے ایسا نہیں کیا ۔ ” ان فضلہ کان علیک کبیرا ً “ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ سوال کیا جائے کہ یہ کیسے ہمارے سینوں سے مٹ جاتا حالانکہ یہ تو کلام اللہ ہے۔ اس کا جواب دیا کہ مصاحف سے مٹ جانا اور سینے سے بھول جانا ۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا ، قیامت سے پہلے قرآن کو اٹھا لیا جائے گا ۔ قبل اس کے کہ قرآن اٹھا لیا جائے تم اس کو پڑھا کرو ( یعنی اس کو سمجھ لو اور اس پر عمل کرو) ایک شخص کہنے لگا یہ تحریریں تو اٹھائی جاسکتی ہیں ( کہ نئی نقلیں کرنا لوگ چھوڑ دیں اور پرانی تحریریں بوسیدہ فرسودہ ہو کر مٹ جائیں، مترجم) لیکن جو قرآن سینوں میں ہوگا رہ کیسے اٹھا لیا جائے گا ، فرمایا لوگ رات گزاریں گے سینوں میں قرآن ہوگا ، پھر اٹھا لیا جائے گا ، صبح کو اٹھیں گے تو کچھ بھی یاد نہ ہوگا اور نہ لکھئے ہوئے کاغذوں میں کچھ ملے گا ۔ آخر شاعری میں لگ جائیں گے ( اور قرآن کی جگہ شاعری لے لے گی)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص نے فرمایا قیامت برپا ہونے سے پہلے قرآن لوٹ کر وہیں چلا جائے گا جہاں سے اترا تھا، شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح عرش کی گرد اگر اس کی گن گناہٹ ہوگی ، اللہ فرمائے گا کیوں کیا بات ہے ؟ قرآن کہے گا اے میرے مالک مجھے پڑھا تو جاتا ہے مگر مجھ پر عقل نہیں کیا جاتا۔
Ayah 17:8888۔” لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لایاتون بمثلہ “ اس کے مثل لانے پر قادر نہ ہوتے۔” ولو کان بعضھم لبعض ظھیرا ً “ مدد گار اور اس کو ظاہر کرنے والا ۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے کہا تھا ” لو نشاء لقلنا مثل ھذا “ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسا کلام کہہ سکیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کافروں کے اس قول کو غلط قرار دیا یہ قرآن اس کی طرف سے ایک معجزہ تھا۔ ویسا ہی ہوا جیسا کہ اس آیت میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ایسا کلام ہے جو نظم ، تالیف ، اخبار عن الغیب سے مزین ہے۔ یہ ایسا کلام ہے جو اعلیٰ طبقات پر مشتمل ہے کوئی بشریٰ کلام نہیں ۔ اگر کسی مخلوق یا بشر کا کلام ہوتاتو وہ اس کا مثل لے آتے۔
Ayah 17:89تفسیر 89۔” ولقد صرفنا للناس فی ھذا القرآن من کل مثل “ یعنی ہر مقصد اور معنی ، عبرتیں احکام ، وعدہ وعید غیرہ سب شامل ہیں ۔ ” فابی اکثر الناس الا کفور اً “ انکار کرنا ۔
Ayah 17:9090۔” وقالولن تومن لک “ ہم اس کی تصدیق نہیں کریں گے۔” حتیٰ تفجر لنا من الارض ینبوعا ً ، تفجر تاء کے فتحہ اور جیم کے ضمہ کے ساتھ اور بغیر تشدید کے۔ ” ینبوعا ً “ واحد ہے اور باقی قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور اس پر اتفاق ہے۔ جیسا کہ ایک آیت میں ہے ” فتفجر الانھار خلالھا تفحیرا ً “ انہار جمع ہے تشدید کے ساتھ ہے جو کثرت پر دلالت کرتا ہے اور اس کے بعد ” تفجیر ا “ فرمایا۔
حضرت ابن عباس ؓ کا مندرجہ ذیل بیان نقل کیا ہے کہ عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، ابو سفیان بن حرب اور قبیلہ عبد الدار کا ایک اور آدمی ( بقول بغوی نضر بن حارث ) اور ابو البختری ، اسود بن المطلب ، رمعہ بن اسود ، ولید بن مغیرہ، ابو جہل بن ہشام، عبد اللہ بن ابی امیہ ، امیہ بن خلف ، عاص بن وائل ، نبیہ بن حجاج، منبہ بن حجاج اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ سب کے سب غروب آفتاب کے بعد کعبہ کی پشت کے پاس جمع ہوئے اور باہم مشورہ کیا کہ کسی کو محمد ﷺ کے پاس بھیج کر ان کو بلوائو اور ان سے بات چیت کرو اور جھگڑا طے کرلو تا کہ تمام حجت ہوجائے اور ( پھر تم جو کچھ کرو) تم کو معذور سمجھا جائے ، چناچہ ایک شخص کو بھیج کر یہ پیام کہلوایا کہ تمہاری قوم کے سردار تم سے گفتگو کرنے جمع ہوئے ہیں آ کر بات چیت کرلو۔
رسول اللہ ﷺ کو خیال ہوا کہ لوگوں کی رائے میں کوئی تبدیلی پیدا ہوگئی ہے آپ تو دل سے چاہتے تھے کہ کسی طرح ان کو ہدایت ہوجائے ، پیام ملتے ہی فوراً چلے آئے ، جب آ کر بیٹھ گئے تو حاضرین نے کہا کہ محمد ﷺ ہم نے آدمی بھیج کر تم اس غرض سے بلوایا ہے کہ تمہارے متعلق ہم حجت تمام کردیں ، کوئی عربی شخص آج تک اپنی قوم پر وہ مشکلات نہیں لایا جو تم اپنی قوم پر لائے ہو تم نے اسلاف کو گالیاں دیں ، ان کے مذہب کو برا کہا ، اہل عقل کو سبک سرقرار دیا ، ان کو معبودوں کو برا بھلا کہا ، جماعت میں پھوٹ ڈال دی ، کوئی ایسی قبیح بات نہیں جو تم نے اپنے اور ہمارے درمیان پیدانہ کردی ہو ، اگر اس چیز ( قرآن اور اسلام) کو پیش کرنے سے تمہارا حصول زر ہے تو ہم آپس میں چند کر کے تم کو اتنا مال دینے کو تیار ہیں کہ تم سب سے زیادہ دولت مند ہو جائو اور اگر تم عزت کے طلب گار ہو تو ہم تم کو اپنا سردار بنالیں گے اور حکومت چاہتے ہو تو اپنا حاکم بھی تم کو قرار دے سکتے ہیں اور اگر کوئی جن تم پر مسلط ہوگیا ہے جو یہ کلام تم کو بتاتا ہے اور تم کو اس کو لوٹا نہیں سکتے تو ہم تمہارے علاج کے لیے اپنامال خرچ کرنے کو تیار ہیں ( کسی کاہن یا عامل کو روپیہ دے کر اس کا اتارکر دیں گے)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جتنی باتیں تم نے کہیں ان میں سے کوئی بات بھی صحیح نہیں ہے۔ میں یہ قرآن پیش کر کے نہ زرکا طلب گار ہوں نہ عزت و سیادت کا ، نہ حکومت و اقتدار کا مجھے تو اللہ نے تمہارے پاس پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور مجھے ایک کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھے حکم دیا کہ ( ماننے والوں کی جنت کی) خوشخبری دے دوں اور ( نہ ماننے والوں ک دوزخ سے) ڈرائوں ۔ اب میں اللہ کا پیام پہنچا چکا اور تم کو نصیحت کرچکا ، اگر مان لو گے تو یہ دنیا اور آخرت میں تمہاری خوش نصیبی ہوگی رد کر دو گے تو میں اللہ کے حکم پر صبر کروں گا اور منتظر رہوں گا کہ اللہ میرا اور تمہارا کیا فیصلہ کرتا ہے۔ کہنے لگے محمد جو کچھ ہم نے پیش کیا اگر تم کو وہ قبول نہیں تو ( اپنی پیغمبر کا ثبوت پیش کرو) تم واقف ہو کہ ہماری یہ بستی بہت تنگ ہے ( ہر طرف سے پہاڑ گھیرے ہوئے ہیں ہم اس کو کسی طرف بڑھا نہیں سکتے) اور ہمارے پامس مال بھی سب ( یعنی اہل یمن و شام) سے کم ہے اور ہماری زندگی بھی بہت زیادہ دکھی ہے۔ پس تم اپنے رب سے درخواست کرکے ان پہاڑوں کو جنہوں نے ہماری بستی کو تنگ کر رکھا ہے۔
یہاں سے ہٹوا دو کہ ہمارا یہ شہر پھیل جائے اور شام و عراق کی طرح ( ہمارے ملک میں بھی) ہمارے لیے دریا بہا دو اور یہ بھی اپنے رب سے کرا دو کہ ہمارے آباء و اجداد زندہ ہوجائیں جن میں قصی بن کلاب ( قریش کا مورث اعلیٰ ) بھی ضرور ہو وہ بڑا سچا آدمی تھا۔ پھر ہم ان سب سے دریافت کریں کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو وہ سچ ہے یا جھوٹ، اگر وہ تمہاری تصدیق کردیں گے تو ہم بھی تم کو سچا مان لیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے اس لیے نہیں بھیجا گیا جو پیام مجھے دے کر بھیجا گیا تھا وہ میں نے تم کو پہنچا دیا ، اگر مان لوگے تو دنیا و آخرت میں یہ تمہاری خوش نصیبی ہوگی قبول نہ کرو گے تو میں اللہ کے حکم کے انتظار میں صبر کروں گا ۔ کہنے لگا اچھا اگر تم یہ نہیں کرتے تو اپنے رب سے کہہ کر اتنا ہی کرا دو کہ وہ تمہاری تصدیق کرنے کے لیے ایک فرشتے کو بھیج دے اور تم کو کچھ باغ اور سونے چاندی کے خزانے دے دے کہ جس تکلیف ( اور افلاس) میں ہم تم کو دیکھ رہے ہیں اس سے تم بےغم ہ جائو ، تم بازاروں میں کھڑے ہماری طرح روزی کی جستجو میں لگے رہتے ہو پھر اس کی فکرکو نہ رہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا اللہ نے مجھے اس لیے نہیں بھیجا ، مجھے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے ، کہنے لگے اچھا تو ہمارے اوپر آسمان کو ہی گروا دو کیونکہ تمہارا دعویٰ ہے کہ تمہارا رب اگر چاہے تو ایسا کرسکتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا یہ اختیار اللہ کو ہے اگر وہ تمہارے ساتھ ایسا کرنا چاہے گا تو کردے گا ، ایک شخص بولا ہم تو تمہاری بات اس وقت تک نہیں مانیں گے جب تک اللہ اور فرشتوں کو تم ہمارے سامنے لا کر شہادت نہ دلوا دو یہ بات سن کر رسول اللہ ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ آپ کی پھوپھی عاتکہ بنت عبد المطلب کا لڑکا عبد اللہ بن ابی امیہ بھی اٹھ کھڑا ہوا اور ( راستہ میں ) کہنے لگے محمد ! (ﷺ) تمہاری قوم نے چند باتیں تمہارے سامنے رکھیں اور تم نے کسی بات کو قبول نہیں کیا۔
پھر انہوں نے چند باتیں طلب کیں جن سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ کے ہاں تمہارا مرتبہ خصوصی ہے تم نے ان کو نہ مانا ، پھر انہوں نے تم سے کہا کہ جس عذاب سے تم ڈرا رہے ہو وہ جلد لے آئو تم نے ایسا بھی نہیں کیا اب بخدا میں تمہاری اس بات کا صرف اس وقت ہی یقین کرسکوں گا کہ تم میری نظر کے سامنے سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ جائو ۔ پھر میرے سامنے وہاں سے ایک کھلی ہوئی کتاب لے کر آ جائو اور تمہارے ساتھ چار فرشتے بھی آئیں جو تمہاری تصدیق کریں اور میرا تو خیال ہے کہ اگر تم ایسا کر بھی گزرو گے تب بھی میں تمہاری تصدیق نہیں کرسکوں گا۔ کافروں کی اتنی نفرت دیکھ کر رسول اللہ ﷺ غمگین ہو کر اپنے گھر لوٹ آئے اور آیات ذیل ” بشر ا رسولا ً “ تک نازل ہوئیں۔
Ayah 17:9191۔” اوت کون لک جنۃ “ جنت سے مراد باغ ہے۔” من نخیل وعنب فتفجر الانھار خلالھا تفجیرا ً “ ایسا چشمہ جو کبھی خشک نہ ہو۔
Ayah 17:9292۔” او تسقط السماء کما زعمت علینا کسفا ً “ نافع ابن عامر اور عاصم نے ” کسفا ً “ سبین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس سے مراد ٹکڑا ہے۔ یہ ” کسفۃ “ کی جمع ہے اور دوسرے قراء کے نزدیک سین کے سکون کے ساتھ واحد ذکر کیا اور اس کی جمع اکساف اور کسوف ذکر کی ہے۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس کے جوانب اس پر نہ گرجائیں ۔ بض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ کاٹنا اور یہ جمع تکسیر ہے جیسے سدرۃ اور سدر ہے۔
سورۃ شعراء اور سورة سباء میں ہے۔” او تائی باللہ والملائکۃ قبیلا ً “ حضرت ابن عباس ؓ نے ’ ’ قبیلا ً “ کا ترجمہ ” کفیلا ً “ سے کیا ہے۔ ضحاک نے اس کا ترجمہ ضامن سے کیا ہے۔ مجاہد نے اس کا ترجمہ قبیلہ سے کیا ہے۔ یعنی قسم قسم کے ملائکہ کو پیش کرو۔ قتادہ کا قول ہے کہ ” قبیلا “ کا ترجمہ کیا ہے ” مقابلا ً “ آمنے سامنے یعنی ہماری آنکھوں کے سامنے لے آئو ۔ فراء کا قول ہے کہ عرب کہتے ہیں ” لقیت فلانا ً قبیلاً “ یعنی فلاں شخص سے دور دور ملاقات کی ۔ اس صورت میں ” قبیلا ً الملائکۃ ‘ ‘ سے حال ہوگا۔
Ayah 17:9393۔” او یکون لک بیت من زخرف “ اس سے مراد سونا ہے۔ اس سے زینت حاصل کرنا مراد ہے۔” او ترقی “ اور وہ اوپر کی جانب چڑھتا ہے۔” فی السمائ “ یہ عبد اللہ بن امیہ کا قول ہے ۔” ولکن تومن لرقیک “ اور وہ یہ کہتے کہ ہم اوپر آسمان پر چڑھنے کا یقین نہیں رکھتے۔” حتی تنزل علینا کتابا ً نصراہ “ ہم آپ کو اس کے ساتھ اتباع کرنے کا حکم دیتے ہیں ۔ ” قل سبحان ربی “ ابن کثیر و ابن عامر نے ” قال “ پڑھا ہے۔ اس سے مراد محمد ﷺ ہوں گے اور دوسرے قراء نے اس کو امر کے صیغہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ کہہ دیجئے اے محمد ! (ﷺ) ” ھل کنت الابشراً رسولا ً “ اس کو حکم دیا کہ ان کی پاکی اور ان کی بزرگی بیان کرے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر آپ اس بات کا ارادہ کرتے ہیں کہ جو کچھ وہ طلب کرتے ہیں وہ اللہ نازل فرما دیں لیکن اللہ تعالیٰ کسی بشر کے معجزہ طلب کرنے پر کوئی آیت یا نشانی پیش نہیں کرتے اور میں بھی ایک بندہ ہی ہوں۔
جان لیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو نشانیاں اور معجزات عطا کیے جو ان کو تمام ماسوا سے مستغنی کرنے والے ہیں ۔ جیسے قرآن کا معجزہ و شق قمر کا معجزہ آپ کے ہاتھوں کی انگلیوں سے چشمے کا جاری ہونا اور ان جیسے معجزات اور قوم عام طور پر ان معجزات و آیات کا انکار کرتی ہیں ۔ اب ان کے لیے یہ نہیں کہ وہ اور کوئی دلیل طلب کریں تا کہ وہ اس پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سوال کو ان پر لوٹا دیا۔
Ayah 17:94تفسیر 94۔” وما منع الناس ان یومنوا ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ الا ان قالوا “ ان کی جہالت کی وجہ سے ۔ ” ابعث اللہ بشراً رسولا ً “ کفار یہ کہتے تھے کہ ہم آپ پر ایمان نہیں لاتے کیونکہ آپ بشر ہیں تو ہم آسمان سے ان کے لیے رسول بنا کر کسی فرشتہ کو اتار دیتے۔
Ayah 17:9595۔” قل لو کان فی الارض ملائکۃ یمشون مطمئنین “ فرشتے تمہاری طرح آباد رہتے اور مقیم رہتے۔” لنزلنا علیھم من السماء ملکا رسولا ً “ انہی کی جنس سے ہم نے نبی بنا کر بھیجا کیونکہ قلب غیر جنس کے علاوہ اپنی ہی جنس کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے۔
Ayah 17:9696۔” قل کفی باللہ شھیدا بینی و بینکم “ میں تمہاری طرف اس کے لئے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔” انہ کان بعبادہ خبیرا ً بصیرا ً “۔
Ayah 17:9797۔” ومن یھد اللہ فھو المھتد ومن یضلل فلن تجدلھم اولیاء من دونہ “ اس کے علاوہ کوئی نہیں جو ان کو ہدایت کا راستہ بتلائے ” ونحشرھم یوم القیامۃ علی وجوھھم “ حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) قیامت کے دن کا فرمنہ کے بل کیسے چلایاجائے گا ، فرمایا جس خدا نے اس کی ٹانگوں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل اس کو چلا نہیں سکتا اور ایک حدیث میں آیا کہ وہ چہروں کے بل چلنے سے ڈرتے ہیں ، اترتے وقت اور جھاڑیوں کے کانٹوں سے۔ ” عمیا وبکما وصما ً “ سوال کیا گیا ان کے ساتھ یہ وصف کیوں ذکر کیا کہ وہ اندھے ، گونگے اور بہرے ہوں گے حالانکہ آیات میں اس کے برعکس ہے۔ دیکھئے ” ورای المجرمون النار “ مجرم دوزخ میں دیکھیں گے۔” دعواھنالک ثبوراً “ وہ ہلاکت کو پکاریں گے اور پھر فرمایا ” سمعوا لھا تغیظا ً و زفیرا ً “ غصے اور جھنجھلاہٹ کو سنیں گے۔ ان آیات میں کافروں کا قیامت کے دن سننا ، پکارنا اور دیکھنا ثابت ہو رہا ہے ۔ بعض نے اس کا جواب دیا کہ پہلے ان کو ایسا بنادیا جائے گا پھر جب جہنم میں داخل کیا جایء گا تو یہ تینوں اشیاء ان کو واپس دی جائیں گی۔
بعض نے کہا کہ حساب کے بعد جب موقف سے دوزخ کی طرف ان کو لے جایا جائے گا تو اس وقت ان کے حواس غائب ہوجائیں گے۔ اس وقت گویائی سلب ہوجائے گی ، بینائی اور شنوائی زائل ہوجائے گی ۔ بعض حضرات نے اس کا یہ جواب دیا کہ جب ان کو خطاب کیا جائے گا تو اس وقت ان کو گویائی اور سماعت دی جائے گی ۔ بعض نے کہا کہ دوزخیوں کو جواب دیا جائے گا ” اخسئوا فیھا ولا تکلمون “ پھر اس کے بعد دوزخیوں کو اندھا ، گونگا اور بہرہ کردیا جائے گا نہ وہ دیکھ سکیں گے اور نہ ہی بات کرسکیں گے اور نہ ہی وہ سن سکتے ہیں ۔” ماواھم جنھم کما خبت ‘ ‘ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جب وہ جل کر راکھ ہوجائیں گے اور مجاہد کا قول ہے کہ جب ان کو ، خوب روندا جائے گا اور قتادہ کا قول ہے کہ جب وہ کمزور ہوجائے گا ۔ بعض نے کہا کہ جب کفار کو جہنم کی سزا میں نقصان کم ہونے لگے گا تو پھر ان کی تکلیف بڑھا دیں گے اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ جب ہم اس کے سمجھانے کا ارادہ کریں گے ۔” زدناھم سعیرا ً “ ہم اس آگ کو ان کے لیے بھڑکا دیں گے۔
بعض نے کہا کہ ” کلما خبت “ کا معنی ہے کہ جب ان کی چمڑیاں جل جائیں گی تو ہم ان کو دوبارہ اپنی حالت میں لوٹا دیں گے تا کہ مزید ان کو جہنم کی آگ کا عذاب دیا جاسکے۔
Ayah 17:98تفسیر 98۔” ذلک جزاء ھم ۔۔ تا ۔۔ خلقاً جدیدا ً “ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔
Ayah 17:9999۔ ’ اولم یروا ان اللہ الذی خلق السموات والارض “ اس کی عظمت اور اس کا زمین و آسمان بنانے میں بہت بڑی طاقت ہے۔ ” قادر علی ان یخلق مثلھم “ اس کے بچپن اور چھوٹے ہونے کی وجہ سے اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان ” لخلق السموات والارض اکبر من خلق الناس “ ۔۔۔” وجعل لھم اجلا ً “ ان کے عذاب کا وقت ۔ ” لاریب فیہ “ ان کی طرف سے آنے والے معجزات میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ۔ بعض نے کہا کہ اجل سے مراد موت ہے۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ ” فابی الظالمون الا کفوراً “ ان کا انکار کرنا محض عناد و دشمنی کی وجہ سے ہے
Ayah 17:100100۔” قل لو انتم تملکون خزائن رحمۃ ربی ‘ ‘ اپنے رب کی نعمت ، بعض نے کہا کہ اس نعمت ۔ بعض نے کہا کہ اس نعمت سے مراد رزق ہے۔ ” اذا لا مسکتم “ ان کے بخل اور ان کے گمان کے مطابق ۔
” خشیۃ الانفاق “ فاقہ کے خوف کی وجہ سے ۔ بعض نے کہا کہ ناداری کے خوف کی وجہ سے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ” انفق الرجل “ اس کا ہاتھ خالی ہوگیا اور اس کا مال ختم ہوگیا ۔ بعض نے کہا کہ وہ خرچ کرنے سے رکتے ہیں ، فقر کے خوف کی وجہ سے ۔” وکان الانسان قتورا ً “ انسان بخیل ہے ، خرچ کرنے سے رکتا ہے۔
Ayah 17:101101۔” ولقد آتینا موسیٰ آیات بینات “ کھلے معجزات اور کھلے دلائل
تسع آیات کی تفسیر
آیات تسع سے مراد ابن عباس اور ضحاک کا قول ہے کہ نو معجزات ہیں ۔ عصا ، ید بیضا ، زبان کی گرہ کھل جانا ، سمندر کا لاٹھی کی ضرب سے کھل جانا ، طوفان ، ٹڈیاں ، مینڈک ، خون۔
عکرمہ، مجاہد ، قتادہ اور عطاء کا قول ہے کہ اس سے مراد نو معجزات ہیں وہ یہ ہیں طوفان ، ٹڈیاں ، جوئیں ، مینڈک ، خون ، عصا ، ید بیضاء ، قحط ، پھلوں کی کمی ، محمد بن کعب قرظی کا بیان ہے کہ طمس ( صورتوں کا بدل جانا) اور بحر ( سمندر کو پھاڑنا) اور پھلوں کی کمی کا ہونا ہے اور فرمایا کہ قبطیوں میں سے ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ سو رہا تھا، وہ دونوں پتھر بن گئے اور ایک عورت کھڑی روٹی پکار ہی تھی وہ پتھربن گئی اور بعض نے کہا کہ یہ سب کتاب کی نشانیاں ہیں۔
صفوان بن عسال مرادی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ یہودیوں میں سے ایک یہودی نے دوسرے سے کہا کہ چلو اس نبی کے پاس ، اس نے کہا ارے اس کو نبی نہ کہو اگر اس نے یہ لفظ سن لیا تو اس کی چا ر آنکھیں ہوجائیں گی ، وہ دونوں آپ ﷺ کے پاس آئے اور نو واضح آیات دریافت کیں ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا نو واضح آیات یہ ہیں :
1۔ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ بنائیں 2۔ چوری نہ کریں 3۔ زنا نہ کرو 4۔ ناحق کسی کو قتل نہ کرو 5۔ کسی بےقصورکو حاکم کے پاس نہ لے جائو کہ وہ ظلما ً اس کو قتل کردے 6۔ جادو نہ کرو 7۔ سو د نہ کھائو 8۔ کسی پاکدامن عورت پر زنا کی تہمت نہ لگائو 9۔ جہاد میں پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو۔
اے یہودیو ! خاص کر تمہارے لیے یہ حکم ہے کہ ہفتہ کے دن کی حرمت میں تجاوز نہ کرو اور دونوں نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے نبی ہیں ۔ یہ سن کر ان دونوں یہودیوں نے آپ ﷺ کے ہاتھ پائوں چوم لیے اور بول اٹھے ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ ﷺ نبی ہیں ۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمہیں میرا اتباع کرنے سے کون سی چیز مانع بن رہی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں خوف ہے کہ میں یہودی قتل کردیں گے۔” فسئل “ اے محمد ! ( ﷺ) آپ ان سے پوچھئے ’ ’ بنی اسرائیل اذجاء ھم “ کہ جب ان کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) آئے۔ خطاب یا تو موسیٰ (علیہ السلام) کو ہے مراد اس سے موسیٰ (علیہ السلام) کے علاوہ لوگ ہیں اور یہ بھی قول ہے کہ یہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے تو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اے محمد ! (ﷺ) آپ بنی اسرائیل سے وہ واقعات دریافت کیجئے جو فرعون و موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ہوئے تھے اور آیات بینات کے متعلق پوچھئے تا کہ ان یہودیوں کا جھوٹ واضح ہوجائے۔
” فقال لہ فرعون انی لاظنک یا موسیٰ مسحوراً “ آپ پر جادو کیا گیا ہے ( موسیٰ (علیہ السلام) پر ) ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ دھوکہ دیا ہوا ترجمہ کیا ۔ بعض نے کہا کیا کہ حق سے پھیرنے والا ۔ فراء اور ابو عبیدہ کا قول ہے کہ اس کا ترجمہ جادوگر کیا ہے۔ محمد بن جریر ؓ نے اس کا ترجمہ کیوں کیا سحر کی تعلیم دیا ہوا یعنی تجھے جادو سکھا دیا ہے۔ یہ تمام باتیں جو ظاہر کر رہا ہے یہ سحر کا کرشمہ ہے۔
Ayah 17:102تفسیر 102۔” قال “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا ” لقد علمت “ تاء کے فتحہ کے ساتھ ۔ اس صورت میں یہ خطاب فرعون کو ہوگا ۔ کسائی کے نزدیک تاء پر ضمہ ہے۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو برحق مانتا تھا۔ اگر وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو حق جان لیتا تو وہ مامون ہوجاتا لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے بارے میں جانتے تھے۔
حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حق جانتا تھا لیکن عناد کی وجہ سے انکار کرتا تھا۔ جیسا کہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا :” وجحدوابھا واستیقنتھا انفسھم ظلما ً وعلواً “ اس صورت میں تاء پر فتحہ زیادہ صحیح ہے ۔ اسی پر اکثر قراء کا اتفاق ہے کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے لیے دلیل قائم کرنے کی حجت نہیں رکھتے۔ حضرت علی ؓ کے نزدیک اس کو موفوع پڑھنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ رفع والی روایت کو حضرت علی ؓ کی طرمنسوب کرنے والا ایک شخص تھا ، وہ شخص مجہول ہے اور قراء میں سے کوئی بھی شخص اس سے دلیل نہیں پکڑتا ۔” ما انزل علی ھولائ “ یہ نو آیات ہیں ۔ ” الا رب السموات والارض بصائر “ یہ بصیرت کی جمع ہے وہ ان تمام معجزات کو تمہارے سامنے دیکھ رہے ہیں ۔ پھر اس کا انکار کر رہے ہیں ۔ ” وانی لاظنک یا فرعون مثبورا ً “ ابن عباس ؓ نے اس کا ترجمہ ملعون سے کیا ہے اور مجاہد نے اس کا ترجمہ ہلاک ہونے سے کیا ہے۔ فراء نے کہام کہ عرب کا محاورہ ہے ۔ ” ما ثبرک عن ھذا “ اس سے تجھے کس چیز نے روک دیا۔
Ayah 17:103103۔” فار اد ان یستفزھم “ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو اس ملک سے اکھاڑ دے۔ ” من الارض “ مصر کی سر زمین سے ۔” فاغرقناہ ومن معہ جمعیاً “ ہم نے موسیٰ علیہ السلا م اور اس کی قوم کو نجات دے دی۔
Ayah 17:104104۔” وقلنا من بعدہ “ فرعون کی ہلاکت کے بعد ” لبنی اسرائیل اسکنوا الارض “ یعنی مصر اور شام کی زمین سے ۔ ” فاذا جاء وعدالاخرۃ “ قیامت کے دن ” جتنابکم لفیفا “ یعنی تم اور وہ دونوں قیامت کے دن مخلوط ہو کر آئو گے۔ لفیف مختلف قبائل کا مجموعہ مخلوط قیامت کے دن ایسا ہی ہوگا ۔ شروع میں مؤمن کافر نیک بد مخلوط ہوں گے۔ کلبی کا بیان ہے وعدہ آخرت آنے سے مراد ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان سے آنا اور ’ جئنا بکم لفیفاکا یہ مطلب ہے کہ ادھر ادھر ہر طرف سے مختلف قومیں آئیں گی۔
Ayah 17:105تفسیر 105۔” وبا الحق انزلناہ و بالحق نزل “ اس سے مراد قرآن ہے۔” وما ارسلناک الامبشراً “ اطاعت کرنے والوں کو خوشخبری دیں۔” ونذیراً “ اور نافرمانوں کو ڈرانے والے۔
Ayah 17:106106۔” قرآنا فرقناہ “ ہم نے اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا ، یکدم نہیں اتارا ۔ حضرت ابن عباس ؓ کی قرأت میں ۔ ” وقرآنا فرقناہ “ تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ دوسرے عام قراء نے اس کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی ہم نے اس کو کھول کھول کر بیان کیا ۔ حسن کا بیان ہے کہ اس سے مراد حق باطل کے درمیان فرق کرنے والا ۔ ” لتقراء ہ علی الناس عل مکث “ اس کو ہم نے تئیس سالوں میں آپ پر نازل کیا ۔” ونزلناہ تنزیلا “۔