12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 12:98

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

انہوں نے کہا میں اپنے پروردگار سے تمہارے لئے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

98۔” قال سوف استغفرلکم ربی “ اکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یعقوب (علیہ السلام) نے دعا کو سحر کے وقت تک مؤخر کردیا کیونکہ یہ ایسا وقت ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبو ل کروں ۔ جب وعدہ کا وقت آیا تو سحر کی نماز کے لیے یعقوب (علیہ السلام) کھڑے ہوئے۔ نماز سے فارغ ہو کر دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی اے اللہ ! میرے یوسف (علیہ السلام) کے فراق پر جزع و فزع کرنے پر میری مغفرت کر دے اور میرے کم صبر کرنے پر مغفرت کردے اور میری اولاد نے جو یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ کیا اس کو بخش دے تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی کہ میں نے آپ (علیہ السلام) اور آپ (علیہ السلام) کی اولاد کی بخشش کردی ۔ عکرمہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ’ ’ سوف استغفر لکم ربی ‘ ‘ سے مراد جمعہ کی رات ہے۔ وہب (رح) فرماتے ہیں کہ جمعہ کی رات کو بیس سال سے زائد عرصہ ان کے لیے مغفرت کرتے رہے۔ طائوس (رح) فرماتے ہیں دعا کو جمعہ کی رات تک مؤخر کیا تھا اس رات عاشورہ کی رات بھی ہوگئی اور شعبی (رح) سے روایت ہے کہ ” سوف استغفرلکم ربی “ کا مطلب یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) سے پوچھوں گا اگر انہوں نے تمہیں معاف کردیا ہے تو تمہارے لیے اپنے رب سے استغفار کروں گا ۔” انہ ھو الغفور الرحیم “ روایت کیا گیا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے بشیر کے ساتھ دو سو سواریاں کثیر سامان کے ساتھ بھیجی تھیں تا کہ وہ یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے گھر والوں اور اولاد کو لے آئیں تو یعقوب (علیہ السلام) مصر کی طرف جانے کے لیے تیار ہوگئے۔ کل بہتر مرد وعورت مصر کی طرف چل پڑے۔ مسروق (رح) فرماتے ہیں کہ تہتر تھے ۔ جب مصر کے قریب گئے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بڑے بادشاہ سے کہا تو یہ دونوں چار ہزار کے لشکر کے ساتھ مصر سے نکلے اور مصر کے لوگ ان دونوں کے ساتھ چل پڑے یعقوب (علیہ السلام) کے استقبال کے لیے ۔ یعقوب (علیہ السلام) یہوذا پر سہارا لگا کر چلتے آرہے تھے۔ دور سے اتنے گھوڑے اور لوگ دیکھے تو پوچھا اے یہوذا یہ مصر کا فرعون ہے ؟ اس نے کہا نہیں آپ (علیہ السلام) کا بیٹا ہے، جب قریب ہوئے تو یوسف (علیہ السلام) سلام کرنے لگے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا نہیں پہلے یعقوب (علیہ السلام) سلام کریں گے۔ تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا السلام علیک یا مذہب الاحزان اے غموں کو دور کرنے والے تجھے سلامتی ہو اور روایت کیا گیا ہے کہ وہ دونوں سواریوں سے اترے اور معانقہ کیا ۔ ثوری (رح) فرماتے ہیں کہ جب یعقوب اور یوسف (علیہما السلام) گلے ملے تو دونوں رو پڑے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے ابا جان ! آپ اتنا روئے کہ نگاہ ختم ہوگئی کیا آپ (علیہ السلام) کو معلوم نہیں کہ قیامت ہمیں جمع کرے گی ؟ تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کیوں نہیں اے میرے بیٹے ! لیکن تو مجھ سے بچپن میں جدا ہوگیا تھا، مجھے یہ ڈر رہا کہ کہیں تیرا دین نہ چھن جائے جو تیرے اور میرے درمیان حائل بن جائے۔
Ayah 12:99

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

جب (یہ سب لوگ) یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہوجائیے۔ خدا نے چاہا تو خاطر جمع سے رہیئے گا۔

تفسیر 99۔” فلما دخلوا علی یوسف آویٰ الیہ ابویہ “ اکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ ابو یہ سے یوسف (علیہ السلام) کے والد اور خالہ لیا مراد ہیں ان کی والدہ بنیا مین کے پیدا ہونے کے کچھ دن بعد وفات پا گئی تھیں اور بعض نے کہا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے والد اور حقیقی والد ہ مراد ہیں وہ زندہ تھیں ۔ امور بعض تفاسیر میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلا م کی والدہ کو زندہ کردیا اور وہ یعقوب (علیہ السلام) کے ساتھ مصر آئیں ۔ ” وقال ادخلوا مصر ان شاء اللہ آمنین “ اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اور استثناء اس استغفار کی طرف لوٹ رہا ہے جو یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو کہا تھا ” سوف استغفر لکم ربی ان شاء اللہ “ ۔
Ayah 12:100

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسف (علیہ السلام) کے آگے سجدے میں گرپڑے (اس وقت یوسف نے کہا ابّاجان ! یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا میرے پروردگار نے اسے سچ کردیا۔ اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بیشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے۔

100۔” ورفع ابو یہ علی العرش “ یعنی تخت پر ان دونوں کو بٹھایا۔” وخرو الہ سجدا “ یعنی یعقوب (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) کی خالہ اور ان کے بھائی اور اس زمانے میں لوگوں کا سلام سجدہ کرنا ہے۔ یہاں سجود سے پیشانی زمین پر ٹکانا مراد نہیں ہے بلکہ تواضع کے ساتھ جھکنا مراد ہے اور بعض نے کہا ہے کہ پیشانی زمین پر رکھی تھی سلام اور تعظیم کے لیے نہ کہ عبادت کے طور پر ، یہ گزشتہ امتوں میں تو جائز تھا لیکن اس امت میں منسوخ کردیا گیا ہے اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے سامنے اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کیا اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ ” وقال “ یوسف (علیہ السلام) نے اس وقت ” یا ایت ھذا تاویل رویای من قبل قد جعلھا ربی حقا “ وہ خواب اس کا قول ” انی رایت احد عشر کو کبا والشمس والقمر رایتھم لی ساجدین “ ہے ۔ ” وقد احسن بی اذ اخر جنی من السجن “۔ یہاں کنوں کا ذکر نہیں کیا حالانکہ وہ آزمائش قید کی آز مائش سے زیادہ سخت تھی ایک تو اس لیے کہ بھائی شرمندہ نہ ہوں کیونکہ ان کو پہلے کہہ چکے تھے ۔” لا تثریب علیکم الیوم “ اور اس لیے بھی کہ قید سے نکالنے کی نعمت خداوندی کنویں والی نعمت سے بڑی تھی کیونکہ کنویں سے نکلنے کے بعد یوسف (علیہ السلام) عبدیت اور غلامی کی طرف گئے اور قید سے نکلنے کے بعد بادشاہ ہوگئے اور اس وجہ سے کہ کنویں میں واقع ہونا بھائیوں کے حسد کی وجہ سے تھا اور قید یوسف (علیہ السلام) کی ایک لغزش کا بدلہ تھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔” وجاء بکم من البدو “ بدو کشادہ زمین جہاں جانوروں والے اپنے جانوروں کے ساتھ رہیں۔ یہ لوگ دیہات اور مویشیوں والے تھے۔ ” من بعد ان نزغ الشیطان بینی و بین اخوتی “ حسد اور بغض کے ساتھ ۔ ” ان ربی لطیف لما یشاء “ اور بعض نے کہا ہے کہ من یشاء کے معنی میں ہے اور لطیف کی حقیقت ایسی چیز جو احسان کو نرمی کے ساتھ دوسرے تک پہنچا دے۔” انہ ھو العلیم الحکیم “ مو ‘ رخین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کے پاس مصر میں چوبیس سال قید کیا بڑی قابل رشک اور آسودہ حالت میں ۔ پھر مصر میں وفات پائی ، جب وفات کا وقت آیا تو اپنے بیٹے یوسف علیہ اسلام کو وصیت کی ان کے جسد اطہر کو یہاں سے لے جا کر حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے ساتھ دفن کیا جائے تو یوسف (علیہ السلام) نے ایسا کیا ان کو ملک شام دفنانے گئے اور پھر مصر واپس آگئے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ یعقوب (علیہ السلام) کو ساگوان کی لکڑی کے تابوت میں بیت المقدس لے جایا گیا اور اسی دن عیص کی بھی وفات ہوئی اور ان دونوں کو ایک قبر میں دفن کیا گیا ۔ یہ دونوں ایک ہی بطن سے پیدا ہوئے تھے ، ان دونوں کی عمر ایک سو سینالیس سال تھی ۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمام نعمتیں جمع کردیں تو دنیا کی نعمتیں دائمی نہیں ہیں اس لیے آپ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اچھے انجام کا سوال کیا اور کہا :
Ayah 12:101

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

(جب یہ سب باتیں ہو لیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجئیو۔

تفسیر 101۔” رب قد اتیتنی من الملک “ یعنی ملک مصر اور ملک جس کو سیاست اور تدبیر حاصل ہو اس کی قدرت کا وسیع ہونا ۔ ” وعلمتنی من تاویل الاحادیث “ خواب کی تعبیر ” فاطر السموات والارض “ یعنی ان دونوں کا خالق ہے۔ ” انت ولیی فی الدنیا والآخرۃ توفنی مسلما والحقنی بالصالحین “ میرے انبیاء آباء کے ساتھ ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) میں سے یوسف (علیہ السلام) کے سوا کسی نے موت کا سوال نہیں کیا ۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے والدین بھی پہنچ گئے تو آپ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا شوق ہوا تو اس وقت یہ دعا مانگی تھی ۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ اس دعا کے بعد کئی سال زندہ رہے اور دیگر حضرات فرماتے ہیں کہ جب یہ بات کہی تو اس کے بعد ایک ہفتہ بھی نہ گزارا تھا کہ وفات پا گئے۔ یعقوب (علیہ السلام) کی ملاقات کے بعد تئیس سال زندہ رہے اور ایک سو بیس سال کی عمر میں وفات پائی اور تورات میں ہے کہ ایک سو دس سال کی عمر میں وفات پائی اور عزیز کی بیوی سے یوسف (علیہ السلام) کے تین بچے پیدا ہوئے۔ افرائیم ، میشا اور رحمۃ جن کا نکاح حضرت ایو ب (علیہ السلام) سے ہوا تھا۔ اور بعض نے کہا ہے کہ والد کے بعد یوسف (علیہ السلام) ساٹھ سال زند ہ رہے اور بعض نے کہا ہے اس سے بھی زیادہ اور اسی میں مختلف اقوال ہیں ۔ ایک سو بیس سال کی عمر میں وفات پائی تو یوسف (علیہ السلام) کو ایک صندوق میں رکھ کر نیل میں دفن کیا گیا کیونکہ جب آپ (علیہ السلام) کا انتقال ہوا تو لوگوں میں جھگڑا ہوا ہر محلہ والے چاہتے تھے کہ وہ ان کے محلہ میں دفن کیے جائیں تا کہ برکت ہو۔ جھگڑا اتنا بڑھا کہ قتال کی نوبت آگئی ۔ تو سب کی رائے یہ ہوئی کہ آپ (علیہ السلام) کو دریائے نیل میں دفن کردیا جائے تا کہ پانی آپ (علیہ السلام) سے گزر کر تمام لوگوں تک برکت پہنچا دے۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ نیل کے دائیں جانب دفن کیے گئے تو یہ جانب ہری بھری اور دوسری جانب خشک ہوگئی تو انہوں نے بائیں جانب دفن کیا وہ ٹھیک ہوگئی دائیں جانب خشک ہوگئی تو آپ (علیہ السلام) کو نیل کے درمیان میں دفن کردیا اور وہ زنجیروں کے ساتھ یہ کام کرنے پر قادر ہوئے تو تمام جانبین ہری بھری ہوگئیں ۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو یہاں سے نکال کر ان کے آبائو کے قریب میں شام جا کر دفن کیا ۔
Ayah 12:102

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ اخبار غیب میں سے ہیں۔ جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادارن یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے۔

تفسیر 102۔” ذلک “ جو میں نے ذکر کیا ” من انباء الغیب نوحیہ الیک وما کنت لدیھم “ اے محمد ﷺ آپ اولاد یعقوب کے پاس نہ تھے۔ ” اذا جمعوا امرھم “ یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں ڈالنے کا پختہ ارادہ کرلیا ۔ ” وھم یمکرون “ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ۔
Ayah 12:103

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے ہیں۔

103۔” وما اکثر الناس “ اے محمد !” ولوحرصت بمؤمنین “ ان کے ایمان پر حریص ہیں ۔ روایت کیا گیا ہے کہ یہود اور قریش نے رسول اللہ ﷺ سے یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ پوچھا تھا جب نبی کریم ﷺ نے ان کو توریت کے موافق واقعہ بتایا تو پھر بھی ایمان نہ لائے تو اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ بہت غمگین ہوئے۔ اس لیے اس آیت میں آپ (علیہ السلام) کو کہا گیا ہے کہ اگرچہ آپ (علیہ السلام) ان کے ایمان پر حریص ہیں لیکن وہ ایمان نہ لائیں گے۔
Ayah 12:104

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلہ بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ (قرآن) اور کچھ نہیں ' تمام عالم کے لئے نصیحت ہے۔

104۔” وما تسالھم علیہ “ تبلیغ رسالت اور اللہ کی طرف بلانے پر ” من اجر ان ھو “ نہیں ہے وہ قرآن ” الا ذکر اللعالمین ‘۔
Ayah 12:105

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں۔ اور ان سے اعراض کرتے ہیں۔

105۔” وکابن “ اور کتنی ” من ایۃ “ عبرت اور دلالت ” فی السموات والارض یمرون علیھا وھم عنھا معرضون “ نہ ان میں غور کرتے ہیں اور نہ ان سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔
Ayah 12:106

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں۔

106۔” وما یومن اکثر ھم باللہ الا وھم مشرکون “ ان کا ایمان یہ ہے کہ جب ان سے پوچھا جائے کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اور جب ان سے سوال کیا جائے کہ بارش کون برساتا ہے ؟ تو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ پھر اس کے ساتھ بتوں کی عبادت بھی کرتے ہیں۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت مشرکین کے تلبیہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ اپنے تلبیہ میں کہتے تھے ” اللھم لبیک لبیک لا شریک لک الا شریک ھو لک تملکہ وما ملک “ اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ خوشحالی میں اپنے رب کو بھول جاتے تھے جب مصیبت ہوتی تو خالص اللہ کے لیے دعا کرتے ، جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ ” وظنوا انھم احیط بھم دعواللہ مخلصلین لہ الدین “ اور دوسری جگہ فرمایا ” فاذا رکبوا فی الفلک دعو اللہ مخلصین لہ الدین “ فلما لجاھم الی البر اذا ھم یشرکون “ اور اس کے علاوہ آیات۔
Ayah 12:107

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے اور انھیں خبر بھی نہ ہو ؟

تفسیر 107۔” افامنوا ان تاتیھم غاشیۃ من عذاب اللہ “ یعنی جلدی سزا ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ایسا عذاب جو ان کو ہانپ لے۔ قتادہ نے عاشیہ ترجمہ کیا پڑنے والی آفت ضحاک نے کہا کہ اس سے مراد ہیں آسمانی بجلیاں اور غیبی حوادث اور ” تاتیھم الساعۃ بغتہ “ اچانک جس کی پہلی سے کوئی علامت نہ ہو نہ وقت معین ہو۔ ” وھم لا یشعرون “ اس کے قیام کو ، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ لوگ بازاروں میں مشغول ہوں گے اور ایک سخت چیخ لوگوں کو ہیجان میں ڈالے دے گی ۔
Ayah 12:108

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

کہہ دو میرا راستہ تو یہ ہے۔ میں خدا کی طرف بلاتا ہوں (ازروئے یقین وبرہان) سمجھ بوجھ کر۔ میں بھی (لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

108۔” قال ھذہ سبیلی “ میری سنت اور میراطریقہ ۔” ادعوا الی اللہ علی بصیرہ “ یقین پر ۔ بصیرت ایسی معرفت جس کے ذریعے حق اور باطل کی تمیز ہوجائے۔ ” انا ومن اتبغی “ جو مجھ پر ایمان لایا اور میری تصدیق کی وہ بھی اللہ کی طرف بلاتا ہے۔ یہ کلبی اور ابن زید رحمہما اللہ کا قول ہے۔ فرمایا کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کی اتباع کرتا ہے اس پر حق ہے کہ اس کی طرف بلائے جس طرف نبی کریم ﷺ نے بلایا اور بعض نے کہا ہے کہ ” کلام ادعوا الی اللہ “ پر مکمل ہوچکی ہے۔” علی بصیرۃ انا ومن اتبعنی “ یہ نئی کلام ہے۔ میں اپنے رب کی طرف سے بصیرت پر ہوں اور میرے متبعین بھی ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین وہ اچھے طریقہ اور سیدھی ہدایت پر تھے۔ علم کے معدن اور ایمان کے خزانے اور رحمن کے لشکر تھے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص کوئی طریقہ اپنانا چاہتا ہے تو وہ ان کا طریقہ اپنائے جو مرچکے ہیں کیونکہ زندہ پر فتنہ سے مطمئن نہیں ہوا جاسکتا ۔ یہ محمد ﷺ کے ساتھی ہیں اس امت کے افضل لوگ ہیں امت میں سب سے زیادہ پاکیزہ دل اور گہرے علم اور کم تکلیف کرنے والے ہیں ۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی رفاقت اور اپنے دین کو قائم کرنے کے لیے چن لیا ہے۔ پس تم ان کی فضلیت سمجھو اور ان کے نشان قدم پر چلو اور جتنا ہو سکے ان کے اخلاق اور سیرت کو مضبوطی سے تھا مو کیونکہ وہ لوگ سیدھی راہ پر تھے۔” و سبحان اللہ “ اور آپ کہہ دیں سبحان اللہ ، اللہ کو ان چیزوں سے پاک کرنے کے لیے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں ۔ ” وما انا من المشرکین “۔
Ayah 12:109

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا ؟ اور متقیوں کے لئے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں۔

109۔” وما ارسلنا من قبلک “ اے محمد ” الا رجالا ً “ فرشتے ” نو حی الیھم “ ابو جعفر اور حفص نے ( نوحی) نون اور حاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے یاء اور حاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” من اھل القری “ شہر والوں میں سے نہ کہ بستی والوں میں سے ۔ اس لیے کہ شہر والے دیہات والوں سے زیادہ عقل مند ہوتے ہیں کیونکہ دیہات کے لوگ سخت مزاج ہوتے ہیں ۔ ” افلم یسیروا فی الارض “ یہ تکذیب کرنے والے مشرکین ” فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم “ یعنی وہ امتیں جنہوں نے تکذیب کی تو وہ عبرت حاصل کریں۔” ولدار الآخرۃ خیر للذین اتقوا “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو ہماری اطاعت کرتے ہیں ان سے ہمار معاملہ یہ ہے کہ ہم ان کو نجات دیتے ہیں عذاب آنے کے وقت اور جو آخرت کے گھر میں ہے وہ ان کے لیے بہتر ہے۔ پس جو ہم نے ذکر کیا وہ آیت میں چھوڑ دیا گیا ہے کلام کے اس پر دلالت کرنے کی وجہ سے اس کا قول ( ولدار الآخرۃ) بعض نے کہا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ آخرت کے گھر کا حال بہتر ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ شی کی اضافت اپنی ذات کی طرف ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ( ان ھذا لھو حق الیقین) اور جیسے ان کا قول یوم الخمیس اور ربیع الآخر ( افلا تعلقون) کہ تم ایمان لے آئو۔
Ayah 12:110

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ (اپنی نصرت) کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی اس میں وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آپہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگاروں سے پھرا نہیں کرتا۔

تفسیر 110۔” حتیٰ اذا استیاس الرسل و ظنوا انھم قد کذبوا جاء ھم نصرنا “ قراء کا ” کذبوا “ میں اختلاف ہے۔ اہل کوفہ اور ابو جعفر نے تخفیف کے ساتھ ” کذبوا “ پڑھا ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اس قرأت کا انکار کیا کرتی تھیں۔ اور دیگر حضرات نے شد کے ساتھ پڑھا ہے جنہوں نے شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں ظن یقین کے معنی میں ہوگا اور اس کی ضمیر رسولوں کی طرف راجع ہوگی تو معنی یہ ہے کہ حتی ٰکہ جب رسول اپنی قوم کے ایمان سے ناامید ہوگئے۔ ” ظنوا “ اور یقین ہوگیا رسولوں کو کہ امتوں نے ان کی تکذیب کی ان کے ایمان کی امید نہیں کی جاسکتی ۔ یہاں ظن بمعنی یقین ہے، یہ تفسیر قتادہ (رح) کے قول کا معنی ہے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہاں کذبوا کی ضمیر کفار کی طرف راجع ہوگی اور ظن اپنے معنی میں ہے۔ معنی یہ ہے کہ حتیٰ کہ جب رسول ناامید ہوگئے ان سے جنہوں نے ان کی قوم میں ان کی تکذیب کی ، اس سے ناامید ہوئے کہ وہ ان کی تصدیق کریں گے اور گمان کیا کہ جو لوگ ان پر ایمان لائے ہیں وہ بھی سخت امتحان اور مصائب کی وجہ سے ان کی تکذیب کر کے دین سے مرتد ہوجائیں گے مدد کو مؤخر سمجھنے کی وجہ سے۔ اور جنہوں نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے انہوں نے کہا ہے کہ معنی یہ ہے کہ حتیٰ کہ جب رسول اپنی قوم کے ایمان سے ناامید ہوگئے ” وظنوا “ اور قوم نے گمان کیا کہ رسولوں نے عذاب کی وعید کے بارے میں ان سے جھوٹ کہا تھا اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے کہ ان کے دل کمزور ہوگئے ۔ اور رسولوں نے گمان کیا کہ ان سے مدد کے وعدوں میں کذب اختیار کیا گیا تو وہ بشر تھے ان کا دل کمزور ہوگیا اور ناامید ہوگئے کہ ان سے وعدہ کا خلاف کیا گیا ہے۔ پھر تلاوت کی ( حتیٰ یقول الرسول والذین امنوا معہ متی نصر اللہ جاء ھم) یعنی رسولوں کے پاس ہماری مدد آئی ( فنجی من نشائ) اکثر حضرات نے دونونوں کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ہم نجات دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں اور ابن عامر اور حمزہ اور عاصم اور یعقوب نے ایک نون مضموم اور جیم کے شد اور یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ مجہول ہے ۔ اس لئے کہ مصحف میں ایک نون مضمو ن کے ساتھ لکھا ہوا ہے تو اس قرأت میں ( من) کا محل رفع ہوگا اور پہلی قرأت میں ہوگا پس ہم نجات دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں عذاب کے نزول کے وقت اور وہ فرمانبردار مومن ہیں ۔ ” ولا یرد باسنا “ ہمارا عذاب ” عن القوم المجرمین “ قوم سے مراد مشرکین ہیں۔
Ayah 12:111

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

ان کے قصے میں عقلمندوں کے لئے عبرت ہے۔ یہ (قرآن) ایسی بات نہیں ہے۔ جو (اپنے دل سے) بنائی گئی ہو بلکہ جو (کتابیں) اس سے پہلے (نازل ہوئی) ہیں ان کی تصدیق (کرنے والا) ہے اور ہر چیز کی تفصیل (کرنے والا) اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

111۔” لقد کان فی قصصھم “ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں ” عبرۃ “ نصیحت ہے ۔ ” لا ولی الالباب “ ما کان یعنی قرآن میں ہے ” حدیثا ً یفتریٰ من دون اللہ ولکن تصدیق الذی یبین یدیہ “ یعنی توریت اور انجیل ” و تفصیل کل شی “ ہر اس چیز کی تفصیل جس کے بندے محتاج ہیں یعنی حلال و حرام اور امر و نہی و ھدی ورحمۃ بیان اور نعمت ہے ” لقوم یومنون “۔