Ayah 12:2626۔” قالھی راودتنی عن نفسی “ مجھ سے بےحیائی کو طلب کیا تو میں نے انکار کردیا اور بھاگ گیا اور بعض نے کہا ہے یوسف (علیہ السلام) یہ بات کرنے کا ارادہ نہ رکھتے تھے جب اس عورت نے کہا ’ ما جزاء من اراد باھلک سوئ “ تو یوسف (علیہ السلام) نے اس کو ذکر کیا اور کہا ” ھی راودتنی عن نفسی و شھد شاھد “ فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا ” من اھلھا “ اس شاہد میں اختلاف ہے۔
شاہد یوسف اور پن گھوڑے میں بات کرنے والے چار بچے
سعید بن جبیر ؓ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ پن گھوڑے میں ایک بچہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی قوت گویائی دی اور یہی ابن عباس ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ماں کی گود میں چار بچوں نے کلام کی ہے فرعون کی بیٹی کو کنگھی دینے والی کے بچہ نے یوسف (علیہ السلام) کے شاہد نے جریج کے صاحب نے اور عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) نے سیوطی نے لکھا ہے شیر خوارگی میں بولنے والے گیارہ بچے ہوئے جن کو میں نے ان اشعار میں جمع کردیا ہے۔
تکلم فی المجد النبی محمد ویحییٰ و عیسیٰ والخلیل ومریم
ومبری جریج ثم شاھد یوسف وطفل لذی الاخذ ویردیہ مسلم
وطفل علیہ مبریا لامہ التی یقال لھا تزنی ولا تتکلم
وما شطۃ فی عھد فرعون طفلھا وفی زمن الھادی المبارک یختم
بعض نے کہا ہے کہ یہ بچہ اس عورت کے ماموں کا بیٹا تھا۔
اور حسن اور عکرمہ ، قتادہ اور مجاہد رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ کوئی بچہ نہ تھا بلکہ یہ بڑا دانامرد تھا۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ راعیل کے چچا کا بیٹا تھا اس نے یہ فیصلہ کیا ۔ ” ان کان قمیصہ قد من قبل “ اگر یوسف کا کرتہ آگے سے پھٹا ہے تو زلیخا سچی ہے۔ ” فصدقت وھو من الکاذبین “
Ayah 12:27تفسیر : 27۔ وان کان قمیصہ قد من دبر فکذبت وھو من الصدقین۔
Ayah 12:2828۔ ’ ’ فلما رای “ قطفیر نے ” قمیصہ قد من دبر “ اپنی بیوی کی خیانت اور یوسف کی برأت کو پہچان گیا تو ” قال انہ من کید کن ان کید کن عظیم “ بعض نے کہا ہے کہ یہ اس شاہد کا قول ہے۔ پھر قطفیر یوسف (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوا ۔
Ayah 12:2929۔” یوسف “ اے یوسف ( علیہ السلام) ” اعرض عن ھذا “ یعنی اس بات کو بھول جائو ۔ اس کا تذکرہ کسی اور سے نہ کرنا کہیں بات پھیل نہ جائے ۔ اور بعض نے کہا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ آپ اس کی پروا نہ کریں آپ کا عذر اور پاک دامنی ظاہر ہوگئی ہے ۔ پھر اپنی بیوی کو کہا ” واستغفری لذنبک “ اللہ کی طرف توبہ کر ” انک کنت من الخاطنین “ گناہ گاروں میں سے اور بعض نے کہا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور راعیل کو یہ بات اس شاہد نے کہی تھی اور ” استغفری لذنبک ‘ سے اس کی مراد یہ تھی کہ اپنے خاوند سے سوال کر کہ وہ تجھے سزا نہ دے اور تجھ سے درگزر کرے۔
” انک کنت من الخاطبین “ گنا ہ گاروں میں سے ہے، یہاں تک کہ تو نے نوجوان کو پھسلایا اور اپنے خاوند سے خیانت کی ۔ جب وہ بچ گیا تو تو نے اس پر جھوٹ بولا اور ” من الخاطنین “ کہا ہے ” من الخاطنات “ نہیں کہا ۔ اس لیے کہ عورتوں کے بارے میں خبر دینا مقصود نہیں تھا بلکہ ایسا کام کرنے والوں کی خبر دینا مقصود تھا۔ اصل عبارت ” من القوم الخاطنین “ ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” وکانت من القانتین “ کی طرح ، اس کا بیان اللہ تعالیٰ کا قول ” انھا کانت من قوم کافرین “ ہے۔
Ayah 12:30یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامنی کا مصر میں چرچا
30۔” وقال نسوۃ فی المدینۃ “ یوسف (علیہ السلام) اور اس عورت کا واقعہ شہر مصر میں پھیل گیا اور عورتوں میں باتیں ہونے لگیں ۔ یہ کل پانچ عورتیں تھیں ، بادشاہ کے دربان کی بیوی اور جانوروں کے رکھوالے کی بیوی ، نان بائی کی بیوی ، شراب پلانے والی کی بیوی اور قیدی کے درواغہ کی بیوی ۔ یہ بات مقاتل (رح) نے کہی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ مصر کے معزز لوگوں کی بیویاں تھیں ۔ ” امراۃ العزیز تر او دفتاھا “ امراء ۃ عزیز مصر اپنے کنعانی غلام کو پھسلانے لگی ” عن نفسہ “ اس سے زنا کا مطالبہ کرتی ہے۔ ” قد شغفھا حبا ‘ ‘ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کی محبت نے اس کے دل پر پردہ ڈال دیا ہے کہ اس کے سوا کو نہیں سمجھ سکتی ۔
اور بعض نے کہا زلیخا نے یوسف (علیہ السلام) سے محبت کی یہاں تک کہ یوسف (علیہ السلام) کی محبت زلیخا کے دل کے اندر داخل ہوگئی ۔ سدی (رح) فرماتے ہیں الشغاف دل پر نرم جلد ہے۔ کہتے ہیں محبت جلد میں داخل ہوگئی یہاں تک کہ دل تک پہنچ گئی اور شعبی اور اعرج نے ” شغفھا “ عین کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کا معنی اس کی محبت ہر جگہ چلی گئی اور اسی سے شغف الجبال پہاڑ کی چوٹیوں کو کہتے ہیں۔
” انا لنراھا فی ضلال مبین “ یعنی ظاہر خطاء اور بعض نے کہا ہے کہ اس نے وہ عفت اور پردہ چھوڑ دیا ہے جو اس جیسی عورت کا ہونا چاہیے تھا۔
Ayah 12:31تفسیر 31۔” فلما سمعت “ راعیل ” بمکرھن “ ان کی باتیں ، یہ بات قتادہ اور سدی رحمہما اللہ نے کہی ہے اور ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات یوسف (علیہ السلام) کو دیکھنے کے لیے مکر کرتے ہوئے کہی تھی کیونکہ یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال کی شہرت ان تک پہنچ چکی تھی ۔” ارسلت الیھن “ وھب رحمہ فرماتے ہیں کہ اس نے ایک دستر خوان سجایا اور چالیس عورتوں کو دعو ت دی ، ان میں یہ عار دلانے والیاں بھی تھیں ۔ ” واعتدت لھن متکا “ یعنی جس پر وہ سہارا لے سکیں ۔
ابن عباس ، سعید بن جبیر ؓ ، حسن ، قتادہ اور مجاہد رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ ” متکا “ بمعنی کھانا ۔ اس کھانے کو ” متکا “ کا نام اس وجہ سے دیا ہے کہ کھانے والوں کی عادت یہ ہے کہ جب بیٹھتے ہیں تو تکیوں پر سہارا لگاتے ہیں تو طعام کا نام ” متکا “ رکھ دیا استعارۃ ۔ کہا جاتا ہے ” اتکارنا عند فلان “ یعنی ہم نے فلاں کے پاس کھانا کھایا اور کہا جاتا ہے ” المتکا “ تاء کے سکون کے ساتھ پڑھا جاتا ہے ، اس کے معنی میں اختلاف ہے۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ لیموں ہے اور مجاہد (رح) سے اسی کی مثل روایت کیا گیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ حبشہ کی زبان میں لیموں کو کہتے ہیں اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو چھری سے کاٹی جائے اور ابو زید انصاری (رح) فرماتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو چھری سے کاٹی جائے وہ عرب کے نزدیک متکا ہے۔ بہر حال اس نے دستر خوان کو انواع و اقسام کے پھلوں اور کھانوں سے سجایا اور تکیے رکھوا دیئے ۔ ” وآنت کل واحدۃ منھن سکینا “ ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھری دے دی ، کیونکہ اس وقت چھری سے گوشت کھاٹ کر کھاتے تھے۔ ” وقالت اخرج علیھن “ کیونکہ اس نے یوسف (علیہ السلام) کو دوسری جگہ بٹھایا ہوا تھا تو یوسف (علیہ السلام) ان پر نکلے۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کی حسن میں تمام لوگوں پر ایسے فضلیت تھی جیسے چودھویں کے چاند کی تمام ستاروں پر ۔ ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اس رات دیکھا جس رات مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا یوسف (علیہ السلام) کو چودھویں رات کے چاند کی طر ح ، اسحاق بن ابی فروۃ (رح) فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) جب مصر کی گلیوں میں چلتے تو ان کے چہرے کی چمک دیواروں پر پڑتی ۔” فلما راینہ اکبر نہ ‘ ‘ اس کو عظیم جانا ۔
ابو العالیہ (رح) فرماتے ہیں وہ مبہوت ہوگئیں اور بعض نے کہا ہے ” اکبر نہ “ یوسف (علیہ السلام) کی خوبصورتی کی وجہ سے ان کے لیے حیض آگیا اور یہ صحیح نہیں ہے۔ ” وقطعن ایدیھن “ اور ان کو خیال تھا کہ وہ لیموں کاٹ رہی ہیں اور یوسف (علیہ السلام) پر ان کے دل ایسے مشغول ہوئے کہ تکلیف ہی محسوس نہ ہوئی ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں کو کاٹ کر جدا کردیا اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ کاٹنا بغیر جدا کرنے کے تھا اور وہب (رح) فرماتے ہیں کہ ان میں سے ایک جماعت مرگئی ۔ ” وقلن حاش للہ ما ھذا بشرا “ یعنی اللہ کی پناہ کہ یہ انسان ہو ۔ حاشاء اللہ دو حرفوں کے درمیان الف کو ثابت رکنے کے ساتھ ، ان دونوں کو ابو عمرو نے وصل کی صورت میں اصل پر پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے دونوں حرفوں میں الف کو حذف کر کے کیونکہ زبان پر اکثر جاری ہوتا ہے ۔ وقول ” ما ھذا بشرا “ حرف صفت کے حذف کی وجہ سے منصوب ہے یعنی ” بشر “ ان ھذا یعنی نہیں ہے یہ ” الا ملک “ فرشتوں میں سے ” کریم “ اللہ پر۔
Ayah 12:32تفسیر : 32۔” قالت “ راعیل نے کہا ” فذا لکن الذی لمتننی فیہ “ یعنی اس کی محبت میں مجھے ملامت نہ کیجئے ، پھر اپنے فعل کی صراحت کی ۔” ولقدراودتہ عن نفسہ فاستعصم “ ان کے سامنے صراحت اس لیے کردی کہ اس کو ان کی ملامت کا خوف نہ تھا کیونکہ ان کی کیفیت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر وہی ہوئی تھی جو اس کی ہوئی تھی ۔ تو ان عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) کو کہا اپنے مولیٰ کی اطاعت کر ، تو راعیل نے کہا ” ولئن لم یفعل ما آمرہ “ اور اگر اس نے میری دعوت میں میری بات نہ مانی ” لیسجنن “ یعنی اس کو قید کی سزا دی جائے گی ۔
” ولیکونا من الصاغرین “ ذلیل لوگوں میں سے اور نون تاکید ثقیل اور خفیف پڑھاجاتا ہے اور وقف باری تعالیٰ کے قول ” لیسجنن “ پر نون کے ساتھ ہے اس لیے کہ یہ مشدد ہے اور باری تعالیٰ کے قول ” ولیکونا “ پر الف کے ساتھ ہے اس لیے کہ یہ مخفف ہے اور یہ اسماء میں نون اعرابی کے مشابہہ ہے۔ جیسے اس کا قول ” رایت رجلا “ ہے اور جب تو وقف کرے گا تو ” رایت رجلا “ الف کے ساتھ کہے گا اور اس کی مثل ” لنسفعا ً بالناصیۃ “ ہے ۔ یوسف (علیہ السلام) نے قید کو معصیت پر ترجیح دی ۔ جب عورت نے یوسف (علیہ السلام) کو دھمکی دی ۔ ” ولئن لم یعفل ما آمرہ لیسجنن و لیکون من الصاغرین “
Ayah 12:3333۔” قال رب “ اے میرے رب ” السجن احب الی مما یدعوننی الیہ ‘ ‘ بعض نے کہا ہے کہ بلا واتو صرف اس عورت کی طرف سے تھا لیکن یوسف (علیہ السلام) نے ان سب کی طرف نسبت کردی ۔ صراحت کی جگہ کنایہ استعمال کرلیا اور بعض نے کہا ہے کہ ان سب نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنی طرف بلایا تھا اور بعض نے کہا ہے کہ اگر یوسف (علیہ السلام) یہ نہ کہتے کہ قید مجھے زیادہ محبوب ہے تو قید میں نہ مبتلا ہوتے اور زیادہ مناسب یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرے۔” والا تصرف عنی کیدھن اصب ایھن “ ان کی طرف مائل ہوں گا اور ان کی اتباع کروں گا ۔ کہا جاتا ہے ” صبا فلان الی کذایصبوا صبواً وصبواً و صبوۃ “ جب کسی کی طرف مائل و مشتاق ہو ۔ ” واکن من الجاھلین “ اس میں دلیل ہے کہ مؤمن جب کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ یہ کام جہالت کی وجہ سے کرتا ہے۔
Ayah 12:3434۔” فاستجاب لہ ربہ فصرف عنہ کیدھن انہ ھو السمیع العلیم “ ان کے بلاوے کو سننے والا اور ان کے مکر کو جاننے والا ہے۔
Ayah 12:3535۔” ثم بدالھم “ یعنی عزیز اور اس کے ساتھیوں کے لیے رائے میں کیونکہ انہوں نے ارادہ کیا تھا کہ یوسف (علیہ السلام) سے اعراض کر کے ان کا قصہ بند کردیں پھر ان کو یہ بات ظاہر ہوئی کہ یوسف (علیہ السلام) کو قید کردیں ۔
” من بعد ما رائو الآیات “ جو یوسف (علیہ السلام) کی برأت پر دلالت کرنے والی نہیں جیسے قمیص کا پیچھے سے چاک ہونا اور بچے کا کلام کرنا اور عورتوں کی عقل مغلوب ہونے کی وجہ سے ہاتھوں کو کاٹنا ” لیسجننہ حتیٰ حین “۔
جیل میں ڈالنے کی میعاد کتنی تھی
عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں تک کہ لوگوں کی باتیں ختم ہوجائیں ۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ سات سال اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ پانچ سال ، سدی (رح) فرماتے ہیں کہ قید کی نوبت اس وجہ سے آئی کہ عزیز کی بیوی نے اس کو کہا کہ یہ عبرانی غلام مجھے لوگوں میں رسوا کرتا پھرتا ہے کہ میں نے اس کو پھسلایا ہے یا تو مجھے اجازت دے کر لوگوں کو اپنی صفائی دیتی پھروں یا اس کو قید کر دے تو اس نے یوسف علیہ السلا م کو قید کردیا اور ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قید کو یوسف (علیہ السلام) کے لیے پاکی کا ذریعہ بنایا ، ان کے عورت کے ارادہ کرنے سے ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) سے تین لغزشیں ہوئیں جب اس عورت کا ارادہ کیا تو قید کیے گئے ۔ جب قید کے ساتھی کو کہا کہ اپنے بادشاہ کے سامنے میرا تذکرہ کرنا تو چند سال قید میں اور رہنا پڑا اور جب بھائیوں کو کہا کہ تم چور ہو تو انہوں نے کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو اس کے بھائی نے بھی اس سے پہلے چوری کی تھی ۔
Ayah 12:36بادشاہ کے ساقی اور خانسامہ کا واقعہ
تفسیر : 36۔” ودخل معہ السحبن فتیان “ یہ مصر کے بڑے بادشاہ ریان بن ولید بن شروان کے دو نوجوان تھے ، ایک اس کی روٹیاں پکانے والا اور خانسامہ تھا اور دوسرا اس کا ساقی تھا۔
بادشاہ کسی بات سے ان دونوں پر غصہ ہوا اور ان کو قید کرا دیا ۔ اس ناراضگی کی وجہ یہ تھی کہ مصر کی ایک جماعت نے بادشاہ کو مارنے کا پروگرام بنایا تو ان دونوں سے مال کا وعدہ کیا کہ یہ بادشاہ کے کھانے اور شراب میں زہر ملا دیں ۔ انہوں نے ابتداء قبول کرلیا ، پھر ساقی نے انکار کردیا اور خانسامہ نے رشوت قبول کر کے کھانے میں زہر ملا دیا ۔ جب کھانا لایا گیا تو ساقی کہنے لگا اے بادشاہ ! کھانا نہ کھانا اس میں زہر ہے اور خانسامہ کہنے لگا کہ شراب نہ پینا اس میں زہر ہے تو بادشاہ نے ساقی کو کہا تو شراب پی اس نے پی لی ۔ اس کو کچھ نہ ہوا ، خانسامہ کو کہا تو کھانا کھا ، اس نے انکار کردیا تو اس کھانے کا تجربہ کسی جانور پر کیا تو جانور فوراً ہلاک ہوگیا تو بادشاہ نے دونوں کو قید کرنے کا حکم دیا۔
ان دونوں قیدیوں کا خواب دیکھنا اور یوسف (علیہ السلام) کا تعبیر دینا
یوسف (علیہ السلام) جب قید میں گئے تو ان پر اپنا علم ظاہر کیا اور کہا کہ میں خواب کی تعبیر بتاتا ہوں تو یہ آپس میں کہنے لگے کہ آئو اس عبرانی کا امتحان لیتے ہیں تو انہوں نے بغیر کچھ دیکھے یوسف (علیہ السلام) سے خواب بیان کیا کہ اس کی تعبیر بتائیں ۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے کچھ بھی نہ دیکھا تھا انہوں نے خواب گھڑ لیا تا کہ یوسف (علیہ السلام) کا امتحان لیں اور ایک قوم نے کہا ہے کہ انہوں نے حقیقتاً خواب دیکھا تھا تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پریشان دیکھا تو وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ ہم بادشاہ کے خادم تھے اس نے ہمیں قید کرا دیا ۔ اب ہم نے خواب دیکھا ہے جس کی وجہ سے پریشان ہیں تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جو کچھ دیکھا ہے مجھے بتائو ” قال احدھما “ یہ ساقی تھا۔
” انی ارانی اعصر خمرا ً “ یعنی انگور ، شراب کا نام انگور کو مایول کے اعتبار سے دیا گیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ عمان کی لغت میں انگور کو خمر کہتے ہیں ۔ ” وقال الآخر انی ارانی احمل فوق راسی خبرا ً تاکل الطیر منہ نبئنا بتاویلہ انا نراک من المحسنین “ یعنی خواب کی تعبیر جاننے والوں میں سے اور احسان علم کے معنی میں ہے۔
اور روایت کیا گیا ہے کہ ضحاک بن مزاحم (رح) سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” انا نراک من المحسنین “ کے بارے میں پوچھا گیا کہ یوسف (علیہ السلام) کا احسان کیا تھا ؟
جیل کے قیدیوں کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا نیک سلوک
تو آپ (رح) نے فرمایا کہ جب کوئی قیدی بیمار ہوجاتا تو آپ (علیہ السلام) اس کی عیادت کرتے اور جب مجلس تنگ ہوتی تو آپ کشادہ کرتے اور جب کسی کو کوئی چیز ضرورت ہوتی تو وہ مہیا کردیتے اور اس کے ساتھ عبادت میں خوب کوشش کرتے اور ساری رات نماز میں قائم کرتے اور بعض نے کہا ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) قید میں داخل ہوئے تو اس میں کچھ لوگوں کو پایا جو بڑی مصیبت میں تھے اور ناامید ہوچکے تھے تویوسف (علیہ السلام) ان کو تسلی دیتے اور کہتے تم خوش ہو جائو صبر کرو اجر دیئے جائو گے تو وہ کہتے اللہ تعالیٰ تجھ میں برکت دیں اے نوجوان ! تیرا چہرہ، تیرا اخلاق اور تیری گفتگو کتنی اچھی ہے ۔ آپ کے پڑوس کی وجہ سے ہم میں برکت آئی ہے ۔ اے نوجوان ! تو کون ہے ؟
تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میں یوسف بن صفی اللہ یعقوب بن ذبیح اللہ اسحاق بن خلیل اللہ ابراہیم علیہم السلام۔ تو جیل کے داروغہ نے کہا اللہ کی قسم ! اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں آپ کو چھوڑ دیتا ، لیکن میں یہاں آپ کے ساتھ اچھا سلوک کروں گا ۔ آپ جس کمرے میں چاہیں رہ لیں اور روایت کیا گیا کہ ان کے دو نوجوانوں نے جب یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا تو کہنے لگے کہ جب سے ہم نے آپ کو دیکھا ہے۔
آپ (علیہ السلام) سے محبت ہوگئی ہے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ مجھ سے محبت نہ کرو ، اللہ کی قسم ! مجھ سے جس نے محبت کی اس کی محبت کی وجہ سے مجھ پر آزمائش آئی ہے۔ میری پھوپھی نے مجھ سے محبت کی تو مجھ پر آزمائش آئی ، میرے والد نے مجھ سے محبت کی تو میں کنویں میں ڈالا گیا اور عزیز کی بیوی نے مجھ سے محبت کی تو میں قید میں ڈالا گیا ۔ جب ان دونوں نے خواب بیان کیا تو یوسف (علیہ السلام) نے اس کی تعبیر بتانے کو مناسب نہ سمجھا ، کیونکہ ان میں سے ایک کے حق میں خواب اچھا نہ تھا تو ان کے سوال سے اعراض کر کے توحید کی طرف بلانے اور معجزہ کرنے پر متوجہ ہوگئے۔
Ayah 12:37حضرت یوسف (علیہ السلام) کا معجزہ
تفسیر : 37۔” قال لا یاتیکما طعام ترزفانہ “ بعض نے کہا ہے کہ نیندمراد ہے کہ نیند میں جو کھانا بھی تمہارے پاس آئے گا ” الا نباتکما بتاویلہ “ بیداری میں ، اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد بیداری میں ہے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد بیداری میں ہے۔ فرماتے ہیں کہ تمہارا گھر سے جو کھانا آئے گا اور تم اس کو کھائو گے تو میں تمہیں اس کے آنے سے پہلے اس کے رنگ اور مقدار اور وقت کا بتادوں گا ۔ ” قبل ان باتیکما “ تم تک پہنچتے سے پہلے کہ کون سا کھانا اور کتنا اور کب کھائو گے۔ یہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ کی طرح ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا ” وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی ببوتکم “ تو ان دونوں نے کہا کہ یہ نجومیوں اور کاہنوں کا فعل ہے۔ آپ کو یہ علم کہاں سے آیا ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں کاہن نہیں ہوں۔
’ ’ ذلکما مما علمنی ربی انی ترکت ملۃ قوم لا یؤمنون باللہ وھم بالآخرۃ ھم کافرون “ اور ( ہم ) کا تکرار تاکید کی بناء پر ہے۔
Ayah 12:38تفسیر 38۔” واتبعت ملۃ آبائی ابراھیم و اسحاق و یعقوب “ یہ ظاہر ہے کہ آپ (علیہ السلام) انبیاء (علیہم السلام) کی اولاد میں سے ہیں ۔ ” ما کان لنا ان نشرک باللہ من شیئ “ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں شرک سے بچایا ہے۔” ذلک “ یہ توحید اور علم ۔
” من فضل اللہ علینا و علی الناس “ جو ان کیلئے ہدایت کو بیان کیا ” ولکن اکثر الناس لا یشکرون “ پھر ان کو اسلام کی طرف بلاتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 12:39تفسیر : 39۔” یا صاحبی السجن “ ان دونوں کو قید کا ساتھی بنایاکیون کہ وہ بھی قید میں تھے جیسا کہ جنت کے رہائشیوں کو اصحاب الجنہ اور جہنم کے باشندگان کو اصحاب النار کہا جاتا ہے۔ ” ارباب متفرقون “ یعنی مختلف معبود کوئی سونے کا کوئی چاندی کا کوئی لوہے کا اور کوئی اعلیٰ اور ادنیٰ اور اوسط ۔ جدا جدا نہ نفع دے سکیں نہ نقصان ۔ ” خیر ام اللہ الواحد القھار “ جس کا کوئی ثانی نہیں ۔ ” القھار “ جو ہر چیز پر غالب ہے ، پھر بتوں کے عجز کو بیان کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 12:4040۔” ما تعبلون من دونہ “ اللہ کے علاوہ اور جمع کے لفظ کو ذکر کیا ہے اور خطاب کی ابتداء دو سے کی ہے اس لیے کہ تمام قید والے مرد تھے اور ہر وہ مشرک شخص جو ان دونوں جیسی حالت پر تھا۔ ” الا سماء سمیتموھا “ مبعود اور رب یہ معنی سے خالی ہیں ۔ ان ناموں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ” انتم وابائو کم ما انزل اللہ بھا من سلطن “ حجت و برہانت ان الحکم نہیں ہے قضاء اور امر و نہی الا اللہ امرالا تعبدوا الا ایاہ ذلک الدین القیم مستقم ولکن اکثر الناس لا یعلمون “ پھر ان کے خواب کی تعبیر دیتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 12:4141۔” یا صاحبی السجن اما احد کما “ ایک ان میں سے ساقی تھا۔” فیسقی ربہ خمرا “ اور تین گچھے جو خواب میں دیکھے تھے اس سے مراد یہ تھا کہ تین دن قید میں رہے گا پھر بادشاہ کو بلوالے گا ۔ ” وما الاخر “ یعنی خانسامہ ۔ اس کو بھی تین دن بعد بادشاہ بلوائے گا ۔ پھر اس کے بارے میں حکم دے گا ” فیصلب فتا کل الطیبر من راسہ “ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کی یہ بات سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے کچھ نہیں دیکھا ہم تو وقت گزاری کر رہے تھے تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا ” قضی الامر الذی فیہ تستفتیان “ یعنی اس معاملہ سے فراغت ہوچکی جس کے بارے میں تم سوال کر رہے تھے اور تمہارے بارے میں اللہ کا وہ حکم ثابت ہوچکا ہے جو میں نے تمہیں خبر دی چاہے تم نے خواب دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو۔
Ayah 12:4242۔” وقال “ یوسف (علیہ السلام) نے اس وقت ” للذی ظن “ جان لیں ” انہ ناج منھما “ اور وہ ساقی تھا ” اذکرنی عند ربک “ یعنی بادشاہ کے سامنے ۔ اس کو کہنا کہ جیل میں ایک نوجوان قید ہے جو مظلوم ہے اس کی قید کی مدت لمبی ہوچکی ہے۔
” فانساہ الشیطین ذکر ربہ “ بعض نے کہا ہے کہ ساقی کو شیطان نے یوسف (علیہ السلام) کا بادشاہ کے سامنے تذکرہ کرتا بھلوا دیا تو اس صورت میں تقدیر عبارت ہوگی ۔ ” فانساہ الشیطن ذکرہ لربہ “ اور ابن عباس ؓ اور اکثر فمسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ شیطان نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے رب کی یاد بھلا دی جب انہوں نے آزادی کی کوشش کی کہ مخلوق سے مدد طلب کی یہ غفلت یوسف (علیہ السلام) کو شیطان کی طرف سے آئی ۔
بضع سنین کی تفسیریں
تفسیر :” فلث “ پس ٹھہرے ” فی السجن بضع سنین “ نضع کے معنی میں اختلاف ہے۔
1۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ تنی سے سات تک ۔ 2۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ تین سے نو تک۔
3۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ دس سے کم ۔
4۔ اور اکثر مفسرین رحمہم اللہ کے نزدیک اس آیت میں بضع سے سات سال مراد ہیں ، اس سے پہلے پانچ سال گزر چکے تھے تو کل بارہ سال ہوگئے ۔ 5۔ وھب (رح) فرماتے ہیں کہ ایوب (علیہ السلام) پر آزمائش سات سال رہی اور یوسف (علیہ السلام) قید میں سات سال رہے اور بخت نصر کو عذاب دیا گیا ، درندوں میں سات سال پھرتا رہا۔
6۔ مالک بن دینار نے کہا جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ساقی سے فرمایا کہ اپنے آقا سے میراتذکرہ کردینا تو کہا گیا یوسف مجھے چھوڑ کر تو نے دوسرے کو اپنا وکیل بنایا ۔ اب میں ضرور تیری قید طویل کر دوں گا ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) رونے لگے اور عرض کیا اے میرے رب مصائب کی کثرت نے میرے دل پر فراموشی طاری کردی اور میں نے ( بےسمجھے) ایک بات کہہ دی آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔
7۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ جبرئیل (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کے پاس جیل میں آئے ، جب یوسف (علیہ السلام) نے دیکھا تو پہچان لیا اور کہا اے میرے بھائی ! کیا ہوگیا کہ میں آپ کو ان گناہ گاروں میں دیکھ رہا ہوں ؟ تو جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا اے پاکیزہ ! لوگوں کے پاس تیرا رب تجھ پر سلام پڑھ رہا ہے اور آپ (علیہ السلام) کو کہا ہے کہ جب آدمیوں سے آپ (علیہ السلام) نے شفاعت طلب کی تو مجھ سے حیاء نہ آئی ؟ پس میری عزت اور جلال کی قسم ! میں آپ کو جیل میں چند سال ٹھہرائوں گا تو یوسف (علیہ السلام) نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ اس پر راضی ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں تو یوسف (علیہ السلام) نے کہا پھر مجھے بھی کوئی پرواہ نہیں ہے۔
کعب کا بیان ہے کہ حضرت جبرائیل نے حضرت یوسف سے کہا : اللہ فرماتا ہے کہ تجھے کس نے پیدا کیا ؟ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جواب دیا : اللہ نے ۔ حضرت جبرائل نے کہا ( اللہ فرماتا ہے) تجھے باپ کا چہتا کس نے بنایا ؟ حضرت یوسف نے جواب دیا : اللہ نے ۔ حضرت جبرائیل نے کہا ( اللہ فرماتا ہے) تجھے خواب کی تعبیر کس نے سکھائی ؟ حضرت یوسف نے جواب دیا : اللہ نے ۔ حضرت جبرائیل نے کہا ( اللہ فرماتا ہے ) چھوٹے بڑے گناہ کا رخ کس نے تیری طرف سے پھیر دیا ؟ حضرت یوسف نے جواب دیا ۔ اللہ نے ۔ حضرت جبرائیل نے کہا ( اللہ فرماتا ہے) پھر تو نے اپنے جیسے آدمی سے کیسے سفارش کی درخواست کی ؟
غرض جب سات سال گزرے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی کشائش کا وقت قریب آگیا تو مصر کے بادشاہ اعظم یعنی زبان بن ولید نے ایک عجیب خواب دیکھا جس سے وہ دہشت زدہ ہوگیا ۔ اس نے دیکھا کہ سات موٹی گائیوں دریا سے برآمد ہوئیں اور ان کے پیچھے سات گائیں اور دریا سے نکلیں جو نہایت دبلی تھیں ۔ پھر دبلی گائیں موٹی گائیوں کو نگل گئیں اور موٹی گائیں دبلی گائیوں کے پیٹ میں گھس گئیں ۔ ان کا کوئی نشان بھی نہیں رہا ۔ پھر ( غلہ کی) سات سبز بالیاں دیکھیں جن میں دانہ پڑچکا تھا اور سات خشک بالیاں دیکھیں جو کاٹنے کے قابل ہوگئی تھیں ۔ خشک بالیاں سبز بالیوں سے لپٹیں اور ان پر غالب آگئیں۔ یہاں تک کہ ان کی سبزی بالکل جاتی رہی ۔ بادشاہ نے جادوگروں کو ، کاہنوں کو ، اہل دانش و فہم کو اور خواب کی تعبیر دینے والوں کو جمع کیا اور ان سے اپنا خواب بیان کیا ۔
Ayahs 12:43–44تفسیر : 43۔” قالوا ضغاث احلام “ ملا جلا خواب ہے۔ ضغث کی مختلف قسم کیگھاس پھوس اور احلام حلم کی جمع بمعنی خواب اور اس کا فعل حلمت احلم لام کے زبر کے ساتھ ماضی میں اور لام کے پیش کے ساتھ غابر میں ۔ حلما و حلما مشدد اور مخفف ۔” وما نحن ب تاویل الا حلام بعالمین “
Ayah 12:4545۔” وقال الذی نجا “ قتل سے ” منھما “ ان دو نوجوانوں میں سے یعنی ساقی ” وادکر “ یوسف (علیہ السلام) کی بات کو کہ اپنے آقا کے سامنے میرا تذکرہ کرنا ۔ ” بعد امۃ “ ایک زمانے کے بعد یعنی سات سال ۔ ” انا نبئکم بتاویلہ “ یہ نوجوان گھٹنوں کے بل بادشاہ کے سامنے بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ قید میں ایک شخص ہے جو خواب کی تعبیر بیان کرتا ہے۔ ” فارسلون “ اس میں اختصار ہے۔ اصل عبارت یہ ہے کہ اے بادشاہ ! مجھے اس کے پاس بھیج ، اس نے بھیج دیا ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ جیل شہر میں نہ تھی۔
Ayah 12:4646۔” یوسف ایھا الصدیق “ صدیق بمعنی کثرت سے سچ بولنے والا ” افتنا فی سبع بقرات سمان یاکلھن سبمع عجاف وسبع سنبلت خضروا اخریا بسات “ کیونکہ بادشاہ نے یہ خواب دیکھا ہے۔۔۔۔۔ ” لعلی ارجع الی الناس “ مصر والوں کی طرف ” لعلم یعلمون “ خواب کی تعبیر اور بعض نے کہا ہے کہ آپ کا علم میں مرتبہ تو یوسف (علیہ السلام) نے تعبیر دیتے ہوئے فرمایا کہ موٹی تازی گائیں اور سرسبز خوشے تو سات سال خوشحالی کے ہیں اور کمزور گائیں اور خوشے خشک سالی کے سال ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کی خبر دیتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 12:4747۔” قال تزرعون سبع سنین دایا “ یہ خبر امر کے معنی میں ہے یعنی سات سال اپنی عادت کے موافق کا شتکاری کرو۔” داب “ بمعنی عادت ہے اور بعض نے کہا ہے کہ خوب محنت اور کوشش سے ، اور عاصم نے حفص کی روایت میں ” دابا “ ہمزہ کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دو لغتیں ہیں ۔ کہا جاتا ہے ” رایت فی الدمر اداب دابا ودابا “ جب اس میں کوشش کرے۔” فما حصدتم فذروہ فی سنبلہ “ گندم کو خوشے میں رکھنے کا حکم دیا تا کہ لمبی مدت پڑی رہے خراب نہ ہو ۔ ” الا قلیلا مما تاکلون “ تم کھانے کے لیے تھوڑا چھوڑو، ان کو حکم دیا کہ وہ زیادہ محفوظ کریں اور تھوڑا بقدر ضرورت کھائیں۔
Ayah 12:4848۔” ثم یات یمن بعد ذلک سبع شداد “ قحط کے سالوں کا نام شداد رکھا ہے کیونکہ وہ لوگوں پر صحت ہوتے ہیں ۔ ” یاکلن “ یعنی فنا کردیں گے۔ ” ما قدمتم “ ان سالوں میں وہ غلہ کھایا جائے گا جو تم نے پہلے سے تیار کر رکھا تھا۔ کھانے کی نسبت السنین کی طرف کی ہے بطور توشع کے۔” الا قیلا مما تحصنون “ جو تم بیج کے لیے ذخیرہ کرلو۔
Ayah 12:49تفسیر : 49۔” ثم یاتی من بعد ذلک عام فیہ بغاث الناس “ یعنی بارش برسائے جائیں گے۔ غیث سے ہے بمعنی بارش اور بعض نے کہا ہے کہ بچائے جائیں گے۔ یہ عرب کے قول ” استغثت فلانا فاغاثنی “ سے مشتق ہے۔ ” وفیہ یعصرون “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” تعصرون “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے اس لیے کہ ساری کلام خطاب پر ہے اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے، لوگوں کی طرف لوٹاتے ہوئے ۔ مطلب یہ ہے کہ انگور کو نچوڑ کر شراب اور زیتون سے زیتون کا تیل کو نچوڑ کو ان کاتیل نکالیں گے۔ مراد یہ ہے کہ خیر اور نعمتیں زیادہ ہوں گی اور ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ ” یعصرون “ یعنی خشک سالی اور تکلیف سے نجات دیئے جائیں گے۔
Ayah 12:5050۔” وقال الملک ائتونی بہ “ جب ساقی نے ساری تعبیر بادشاہ کو جا کر بتائی تو بادشاہ کو یقین ہوگیا کہ ایسا ہوگیا تو اس نے یہ بات کہی ۔” فلما جاء الرسول “ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کا جواب دیا کہ بادشاہ کو یہ کہہ دینا کہ اسنے میرے ساتھ آنے سے انکار کردیا جب تک کہ وہ میری برأت کو ظاہر نہ کر دے۔ ” قال ارجمع الی ربک “ یعنی اپنے بادشاہ کے پاس جائو ۔ ” فاسالہ ما بال النسوۃ اللاتی فطعن ایدھن “ عزیز کی بیوی کا نام نہیں لیا ، ادب اور احترام کی وجہ سے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں قید میں اتنی لمبی مدت رہتا جو یوسف (علیہ السلام) رہے تو میں بادشاہ کے بلانے والے کی دعوت کو قبول کرلیتا ۔” ان ربی بکیدھن علیم “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی کارستانیاں جاننے والے ہیں ۔ اتنی مدت کے بعد بھی یوسف (علیہ السلام) نے ان کا تذکرہ کیا تا کہ آئندہ بادشاہ آپ کی طرف تہمت اور خیانت کی نگاہ سے نہ دیکھے تو وہ بندہ یہ پیغام لے کر بادشاہ کے پاس گیا تو اس نے عورتوں کو بلوایا اور عزیز کی بیوی کو بھی ۔
Ayah 12:5151۔” قال “ ان سب عورتوں کو کہا ” ما خطبکن “ کیا ہے تمہاری شان اور تمہارا معاملہ ۔” اذ راو دتن یوسف عن نفسہ “ ان عورتوں کو خطاب کیا اور مراد عزیز کی بیوی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ عزیز کی بیو ی نے یوسف (علیہ السلام) کو پھسلایا تھا اور باقی تمام عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) کو اس کی بات ماننے کا کہا تھا اس لیے ان سب کو خطاب کیا ہے۔ ” لن حاشاء اللہ ‘ ‘ اللہ کی پناہ ” ما علمنا علیہ من سوء “ ہم نے نہیں دیکھی اس میں خیانت ” قالت امراۃ العزیز الان حصص الحق “ اب حق ظاہرہو گیا ۔ بعض نے کہا ہے کہ عورتیں عزیز کی بیوی کی طرف متوجہ ہو کر اس سے اقرار کرانے لگیں تو اس نے اقرار کیا اور بعض نے کہا ہے کہ اس کو خوف ہوا کہ یہ عورتیں میرے خلاف گواہی نہ دے دیں تو اس نے کہا ” انا راودتہ عن نفسہ وانہ لمن الصادقین “ اپنے اس قول میں ” ھی راودتنی عن نفسی “ جب یوسف (علیہ السلام) کو اس بات کی اطلاع پہنچی تو فرمایا۔
Ayah 12:5252” ذلک “ یعنی یہ جو میں نے بادشاہ کے قاصد کو واپس بھیج کر کیا ” لیعلم “ تا کہ عزیز مصر جان لے ” انی لم اخنہ “ اس کی بیوی کے بارے میں میں نے کبھی اس کی موجودگی یا عدم موجودگی میں خیانت نہیں کی۔
” بالغیب وان اللہ لا یھدی کید الخائنین “ یہ کلام یوسف (علیہ السلام) تھا جو عزیز کی بیوی کے کلام ” انا راوتہ عن نفسہ “ سے متصل ہے اس میں کوئی تمیز نہیں کی گئی کیونکہ سامعین پہنچانتے ہیں کہ کون سی کلام کس کی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل عبارت ہے ” ارجع الی ربک فاسالہ ما بال النسوۃ اللائی قطعن ایدیھن ان ربی بکیلھن علیم ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب “ کہا گیا ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے یہ بات کہی تو جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا جب اس کا ارادہ کیا تھا اس وقت بھی خیانت نہ تھی ؟ تو یوسف (علیہ السلام) نے کہا ” وما ابری نفسی “ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ عزیز کی بیوی نے کہا اس وقت بھی خیانت نہ کی جب آپ نے شلوار کھولی اے یوسف ( علیہ السلام) تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا۔
Ayah 12:53تفسیر : 53۔” وما ابری نفسی ‘ اور میں اپنے نفس کو خطاء اور پھسلنے سے بری نہیں کہتا ” ان النفس لا مارۃ بالسوء نفس تو نافرمانی پر ہی ابھارتا ہے۔” الا ما رحم ربی “ مگر جس پر میرا رب رحم کرے اور اس کو بچالے ۔ یہاں مامن کے معنی میں ہے جیسے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” فانکحوا ما طاب لکم “ میں ہے یعنی ” من طاب لکم “ یہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے شہوت سے بچایا ہوا ہے۔” ان ربی غفور رحیم “ جب بادشاہ کے سامنے یوسف (علیہ السلام) کی بےگناہی واضح ہوگئی اور ان کی امانت کو پہچان لیا تو ملاقات کا شوق ہوا تو کہنے لگا ۔
Ayah 12:5454۔” وقال الملک ائتونی بہ استخلصہ لنفسی “ میں برائے راست اس کو اپنے لئے رکھنا چاہتا ہوں ۔ ” فلما کلمہ “ اس میں اختصار ہے۔ اصل عبارت یہ ہے کہ قاصد آیا اور یوسف (علیہ السلام) کو کہا ، اب بادشاہ کے پاس چلیں ، روایت کیا گیا ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) وہاں سے کھڑے ہوئے تو قیدیوں کے لیے دعا کی اے اللہ ! ان پر نیک لوگوں کے دل نرم کردیں اور ان پر خبریں مخفی نہ رکھنا تو وہ لوگ ہر شہر میں لوگوں سے زیادہ خبریں جاننے والے ہوئے ۔ جب جیل سے نکلے تو اس کے دروازہ پر لکھا کہ یہ زندوں کی قبر ہے اور غموں کا گھر ہے اور سچوں کی تجربہ کار ہے اور دشمنوں کی خوشی کی جگہ ہے، پھر غسل کیا اور صاف ستھرے ہوئے اور اچھے کپڑے پہنے اور بادشاہ کی طرف چل پڑے۔
وہب (رح) فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ کے دروازے پر ٹھہر کر کہا ” حسبی ربی من دنیای و حسبی ربی من خلقہ عزجارہ و جل ثناوہ ولا الہ غیرہ “ پھر بادشاہ پر داخل ہو کر کہا ” اللھم ان اسالک بخیرک من خیرہ واعوذبک من شرہ و شر غیرہ “ یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ کو عربی میں سلا م کیا ۔ بادشاہ نے پوچھا یہ کون سی زبان ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میرے چچا اسماعیل (علیہ السلام) کی زبان ہے پھر اس کی عبرانی میں دعا دی ۔ اس نے پوچھا یہ کون سی زبان ہے ؟ تو فرمایا یہ میرے آباء کی زبان ہے۔ بادشاہ ان دونوں زبانوں کو نہ جانتا تھا۔ وہب (رح) فرماتے ہیں کہ بادشاہ ستر زبانوں میں گفتگو کرتا تھا وہ جس زبان میں گفتگو کرتا یوسف (علیہ السلام) اسی زبان میں جواب دیتے اور عربی اور عبرانی زبان میں اس پر اضافہ کردیتے تو بادشاہ اتنی کم عمری میں یہ کمالات دیکھ کر حیران رہ گیا تو یوسف (علیہ السلام) کو بٹھایا ۔
” قال انک الیوم لدینا مکین امین “ یعنی سچا ۔ روایت کیا گیا ہے کہ بادشاہ نے کہا کہ میں اپنا خواب آپ کے منہ سے سننا چاہتا ہوں تو یوسف (علیہ السلام) نے پورا خواب سنایا اے بادشاہ ! تو نے سات موٹی تازی سفید خوبصورت گائیں دیکھی ہیں جو تیرے سامنے دریائے نیل کے کنارے سے آئی تھیں ، ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے اور بچے پیچھے آ رہے تھے تو ان کو دیکھ رہا تھا اور ان کی خوبصورتی تجھے بھلی معلوم ہو رہی تھی کہ اچانک دریائے نیل خشک ہوگیا اور اس کے کیچڑ سے سات لاغر کیچڑ میں لت پت گائیں نکلیں جن کے پیٹ سکڑے ہوئے تھے نہ ان کے تھن تھے اور نہ دودھ پینے والے بچے ۔ ان کے دانت ( کچلیاں) اور داڑھیں تھیں اور ہتھیلیاں کتوں کی ہتھیلیوں جیسی تھیں اور ناک درندوں کی ناک کی طرح تھیں ۔ انہوں نے موٹی گائیوں کو درندوں کی طرح چیر پھاڑ ڈالا اور ان کا گوشت کھالیا ، ان کے چمڑے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے اور ان کی ہڈیاں ریزہ ریزہ کردیں اور ان کا گودہ صاف کردیا ۔ پس آپ یہ دیکھ کر تعجب کر رہے تھے کہ اچانک سات سرسبز بالیاں اور سات سیاہ بالیاں ایک تنا میں تھیں ان کی جڑیں پانی اور نمناک مٹی میں تھیں تو اپنے دل میں کہہ رہا تھا یہ کیا چیز ہے ؟ سرسبز پھل آور اور یہ سیاہ خشک اور ان کا تنا اور جڑ ایک ہے تو ہوا چلی اور خشک بالیوں کے پتے سرسبز بالیوں پر ڈال دیئے تو ان میں آگ بھڑک اٹھی وہ جل کر سیاہ ہوگئیں یہ تو نے دیکھا ہے تو تو گھبرا کر بیدار ہوگیا تو بادشاہ نے کہا اللہ کی قسم ! یہ خواب اس سے بھی عجیب تھا جو میں نے آپ سے سنا۔ اے دوست ! آپ میرے خواب کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں ؟ تو بعد میں یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میری رائے یہ ہے کہ آپ غلہ جمع کریں اور خوب کاشتکاری کرائیں ، ان خوشحالی کے سالوں میں اور غلہ گوداموں میں رکھوا دیں بالیوں اور سیٹوں میں تا کہ سٹے اور بالیاں جانوروں کی خوراک بن جائیں گی اور دانے لوگوں کی خوراک بن جائیں اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے غلہ کا خمس نکالیں تو جو غلہ آپ نے جمع کیا ہوگا وہ مصر والوں کے لیے کافی ہوجائے گا اور دیگر علاقوں سے لوگ غلہ کے لیے آئیں گے تو آپ ان کو غلہ بیچنا تو آپ کے پاس اتناخزانہ بھی جمع ہوجائے گا جو کسی کے پاس نہ ہوگا تو بادشاہ کہنے لگا یہ سارا انتظام کون کرے گا کون بیچے گا ؟
Ayah 12:55تفسیر :۔ 55۔ ’ ’ قال “ یوسف (علیہ السلام) نے ” اجعلنی علی خزائن الارض “ خزائن خزانہ کی جمع ہے اس سے مراد غلہ اور مال کے گودام ہیں اور ارض سے مراد مصر کی زمین ہے۔” انی حفیظ علیم “ یعنی ان گوداموں پر حفیظ اور اس کے مصالح کو جاننے والا ہوں ۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ میرے بھائی یوسف (علیہ السلام) پر رحم کرے۔ اگر وہ یہ کہتے ’ اجعلنی علی خزائن الارض “ تو وہ اسی وقت ان کو امیر بنا دیتا لیکن ان کے یہ کہنے کی وجہ ایک سال مؤخر کردیا ۔ آپ (علیہ السلام) ایک سال بادشاہ کے ساتھ اس کے گھر میں رہے اور اسی سند سے ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب وہ سال مکمل ہوگیا جس میں یوسف (علیہ السلام) نے امارۃ کا سوال کیا تھا تو بادشاہ نے آپ (علیہ السلام) کو بلوایا اور آپ (علیہ السلام) کو تلوار پہنچائی اور آپ (علیہ السلام) کے لیے سونے کا تخت بچھوایا ۔
جس پر یاقوت اور موتی لگے ہوئے تھے اور ریشم کا استر اس پر چڑھوایا اور تخت کی لمبائی تیس گز اور چوڑھائی دس گز تھی ۔ اس پر تیس بچھونے تھے اور ساتھ تکیے تو یوسف (علیہ السلام) کو آنے کا کہا جب آپ (علیہ السلام) تاج پہنے نکلے تو آپ کا رنگ برف کی طرف اور چہرہ چاند کی طرح تھا ، کوئی بھی آپ (علیہ السلام) کے چہرے میں اپنی صورت دیکھ سکتا تھا۔ آپ (علیہ السلام) تخت پر آ کر بیٹھ گئے۔ بادشاہ نے قطفیر کو معزول کر کے سارے معاملات آپ (علیہ السلام) کے سپرد کردیئے۔ ابن اسحاق (رح) کہتے ہیں کہ ابن زید (رح) نے فرمایا کہ مصر کے بادشاہ کے بہت خزانے تھے سب کا انتظام آپ (علیہ السلام) کے سپرد کردیا۔ کہتے ہیں کہ پھر کچھ دن بعد قطفیر مرگیا تو بادشاہ نے اس کی بیوی راعیل کا نکاح یوسف (علیہ السلام) سے کردیا تو یوسف (علیہ السلام) جب اس کے پاس گئے تو کہا کہ کیا یہ اس سے بہتر نہیں جس کی طرف تو مجھے بہلائی گئی ؟ تو اس نے کہا اے صدیق مجھے ملامت نہ کیجئے میں خوبصورت اور نازو نعم میں پلی ہوئی عورت تھی میرا خال عورتوں کے پاس نہ آیا تھا اور آپ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ایسا حسن و جمال دے رکھا تھا تو میرا نفس مغلوم ہوگیا اور شہوت قوی ہوگئی اور آپ کی محبت میں عقل کھو بیٹھی تو یوسف (علیہ السلام) نے اس کو کنواری پایا ، اس سے دو بیٹے پیدا ہوئے۔ افراثیم بن یوسف (علیہ السلام) اور میثا بن یوسف (علیہ السلام) اور مصر کا نظام بڑے احسن انداز میں چلایا کہ مرد و عورت سب آپ سے محبت کرنے لگے ۔ پس یہ مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان۔
Ayah 12:56تفسیر : 56۔” وکذالک مکنا لیوسف فی الارض “ یعنی مصر کی زمین کا ان کو مالک بنایا اور جو چاہے اس میں کرتے ہیں ۔ صرف ابن کثیر نے (نشائ) نون کے ساتھ پڑھایا ہے اللہ تعالیٰ کے قول یتبوا پر لوٹاتے ہوئے ( نصیب برحمتا) اپنی نعمت کے ساتھ ، یتبواء ٹھہرتے ہیں جہاں منھا حیث یشاء نصیب برحمتنا من نشاء ولا نضیع اجر المحسنین “ ابن عباس ؓ اور وہب (رح) فرماتے ہیں کہ صبر کرنے مرد مراد ہیں ۔ مجاہد اور ان کے علاوہ لوگ فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) بادشاہ کو برابر اسلام کی دعوت دیتے رے یہاں تک کہ وہ اور بہت سے لوگ اسلام لے آئے ، تو دنیا کے معاملہ میں ہوا۔
Ayah 12:5757 ۔” ولا جرالآخرۃ “ اجر سے مراد آخرت کا ثواب ” خیر للذین امنوا وکانوا یتقون “ جب یوسف (علیہ السلام) نے اچھی تدبیر کے ساتھ غلہ جمع کرلیا اور بہت سے محل اور قلعے بنوا لیے اور ان میں غلہ بھروا دیا تو خوشحالی کے سال چلے گئے اور پھر ایسے قحط کے سال آئے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہ ہوا تھا تو پہلے سال میں لوگوں کا سارا غلہ ختم ہوگیا جو انہوں نے خوشحالی کے سالوں میں جمع کیا تھا۔
تو اہل مصر یوسف (علیہ السلام) سے غلہ خریدنے آئے تو پہلے سال یوسف (علیہ السلام) نے ان کو نقد کے بدلے غلہ دیا یہاں تک کہ مصر میں کوئی دینار اور درہم نہ بچا جو یوسف (علیہ السلام) نے نہ لے لیا ہو اور دوسرے سال زیورات اور موتیوں کے بدلے غلہ فروخت کیا حتیٰ کہ لوگوں کے زیور وغیرہ بھی باقی نہ بچے اور تیسرے سال جانور اور مویشی دے کر غلہ لیا ، وہ بھی ختم ہوگئے اور چوتھے سال غلام اور لونڈیا دے کر غلہ خریدار یہاں تک کہ کسی کے پاس کوئی غلام اور لونڈی نہ رہی اور پانچویں سال زمین اور گھر اور گھریلو سامان کے بدلے غلہ لیا اور چھٹے سال اپنی اولاد کو غلام بنا کر غلہ لیا اور ساتویں سال خود اپنے آپ کو غلام بن کر غلہ خریدا۔
تو مصر میں کوئی آزاد مردیا عورت نہ رہی تو لوگوں نے کہا کہ یوسف (علیہ السلام) کی بادشاہت جیسی بادشاہت ہم نے کبھی نہیں دیکھی تو یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ سے مشورہ مانگا ۔ اس نے کہا کہ آپ (علیہ السلام) کی رائے چلے گی ہم آپ (علیہ السلام) کے تابع ہیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ اور آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے تمام اہل مصر کو آزاد کردیا اور ان کو املاک ان کو واپس کردیں اور روایت کیا گیا ہے کہ ان ایام میں یوسف (علیہ السلام) نے پیٹ بھر کر کھانا نہ کھایا تو ان سے عرض کیا گیا کہ آپ (علیہ السلام) بھوکے رہتے ہیں حالانکہ آپ (علیہ السلام) کے قبضہ میں زمین کے خزانے ہیں تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے پیٹ بھرا تو بھوکے لوگوں کو بھول جائوں گا اور یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ کے خانسامہ کو کہا کہ بادشاہ کو آدھا دن گزرنے کے بعد کھانا دیا کرو تا کہ وہ بھوکے لوگوں کو نہ بھول جائے۔ یہ قحط اطراف کے علاقوں تک بھی پہنچا اور لوگ یوسف (علیہ السلام) کے پاس آنے لگے اور یہ قحط کنعان اور شام بھی پہنچا ۔ یوسف (علیہ السلام) کو بھی ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ نہ دیتے تھے۔ یعقوب (علیہ السلام) کو بھی قحط کی آزمائش پہنچی تو اپنے بیٹوں کو غلہ کے لیے مصر بھیجا اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بنیا مین کو اپنے پاس روک لیا ۔
Ayah 12:58تفسیر : 58:۔” وجاء اخوۃ یوسف “ یہ دس تھے ان کے گھر فلسطین کی زمین کے قریب تھے۔ غور الشام پر یہ دیہات کے رہنے والے اونٹوں اور بکریوں والے تھے تو یعقوب (علیہ السلام) نے ان کو بلا کر فرمایا ۔ یعقوب (علیہ السلام) نے کہا تھا کہ اے میرے بیٹو ! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ مصر کا بادشاہ نیک ہے غلہ بیچتا ہے ۔ تم تیاری کر کے اس سے غلہ خریدنے جائو ، وہ مصر آئے۔ ” قد خلوا علیہ فعرفھم وھم لہ منکرون “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کیونکہ اس زمانے اور کنویں میں ڈالنے کے درمیان چالیس سال کا وقفہ تھا۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ اس لیے نہ پہچانا کہ یوسف (علیہ السلام) تخت شاہی پر تاج پہنے بیٹھے تھے تو یوسف (علیہ السلام) کو اپنا تعارف کرایا اور یعقوب (علیہ السلام) کے بارے میں بتایا کہ ہم جاسوس نہیں ہیں ہم ضرور ت مند ہیں ایک باپ کی اولاد ہیں ۔ یوسف (علیہ السلام) نے پوچھا کہ کتنے بھائی ہو ؟ انہوں نے کہا بارہ تھے ، ایک بھائی جنگل میں ہلاک ہوگیا ۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اب تم دس ہو ، گیارہواں کہاں ہے ؟ انہوں نے کہا ہمارے باپ کے پاس اس کے لیے کہ وہ اس ہلاک ہونے والے کا ماں شریک بھائی ہے۔
ہمارے والد اس کے ذریعے دل کی تسلی کرتے ہیں تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کون جانتا ہے کہ تم سچے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ اس شہر میں ہم اجنبی ہیں ہمیں یہاں کوئی نہیں جانتا تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اپنے اس بھائی کو لائو جو تمہارے والد کے پاس ہے اگر تم سچے ہو تو میں راضی ہو جائوں گا تو وہ کہنے لگا ہمارے والد اس کی جدائی پر غمگین ہوں گے لیکن ہم ان کو منائیں گے تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اپنے میں سے کسی کو میرے پاس رہن رکھ جائو اور اپنے بھائی کو لے آئو تو انہوں نے قرعہ ڈالا جو شمعون کے حق میں نکلا ، یہ ان سب میں یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں اچھی رائے رکھتا تھا تو اس کو پیچھے چھوڑ دیا ۔
Ayah 12:59تفسیر :۔ 59” ولما جھزھم بجھازھم “ ان سے کئے ہوئے وعدہ کے مطابق ہر ایک کو اونٹ جتنا سامان دیا ۔ قال انتونی باخ لکم من ابیکم “ بنیا مین کو لے آئو ” الا ترون انی او فی الکیل “ پورا تول دیتا ہوں کچھ کمی نہیں کرتا تو تمہیں ایک اونٹ کا غلہ زیادہ دوں گا تمہارے بھائی کی وجہ سے اور تمہاری اچھی مہمانی کروں گا ۔ ” وانا خیر المنزلین “ مجاہد (رح) فرماتے اچھا مہمان نواز کیونکہ یوسف (علیہ السلام) نے ان کے خوب طرف داری کی تھی۔
Ayah 12:6060۔” فان لم تاتونی بہ فلا کیل لکم عندی ‘ ‘ تمہارے لئے میرے پاس کوئی غلہ نہ ہوگا جس کو کیل کر کے دوں ” ولا تقربون “ میرے گھر اور اس شہر میں داخل نہ ہونا ” لا تقربون “ یا نہی کا صیغہ ہے یا نفی کا ۔ معنی یہ ہے کہ میرے پاس یا میرے قریب بھی نہ آ ئو۔
Ayah 12:6161۔” قالوا سنر اودعنہ اباہ “ ان سے یہ مطالبہ کریں گے کہ وہ اس کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔
” وانا لفاعلون “ جو آپ نے ہمیں حکم دیا۔
Ayah 12:6262۔” وقال لفتیانہ “ حمزہ ، کسائی اور حفص رحمہما اللہ نے ” لفتیانہ “ الف اور نون کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے ” لفتیتہ “ تاء کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا ہے۔ مراد ان کے خدمت گار ہیں اور یہ دو لغتیں ہیں الصبیان اور الصبیۃ کی طرح۔ ” اجعلوا بضاعتھم “ ان کے غلہ کی قیمت ، یہ چند دراہم تھے۔ اور ضحاک (رح) نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ وہ جوتے اور چمڑے تھے اور بعض نے کہا ہے کہ وہ گندم کے ستو کے آٹھ توشے دان تھے اور پہلا قول اصح ہے۔” فی رحالھم “ ان کے ظروف میں ۔ یہ رحل کی جمع ہے۔” لعلم یعرفو تھا اذا انقلبوا الی اھلھم لعلھم یرجعون “ اس سبب میں اختلاف ہے جس کی وجہ سے یوسف (علیہ السلام) نے یہ کام کیا تھا۔
بعض علماء نے کہا حضرت یوسف نے تکمیل احسان اور اتمام نوازش کے جذبہ کے زیر اثر بھائیوں کا سامان واپس رکھوا دیا تا وہ جانیں کہ بادشاہ کی ہم پر بڑی عنایت ہے کہ اس نے سامان بھی واپس کردیا اور اسی خیال ک تحت دوبارہ مصر کو لوٹ آئیں ۔ بعض نے کہا : حضرت یوسف نے باپ اور بھائیوں سے غلہ کی قیمت وصول کرنا اچھا نہ سمجھا اور ایسی حالت میں کہ باپ بھائی محتاجت ہے۔ قیمت لینے کو کمینہ پن خیال کیا ۔ کلبی نے کہا : حضر ت یوسف کو اندیشہ ہوا کہ کہیں باپ کے پاس اور روپیہ نہ ہوا ورروپیہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ لوٹ کر نہ آئیں۔ بعض نے کہا : حضرت یوسف کو معلوم تھا کہ یہ امانت دار لوگ ہیں ، ان کی دیانت ان کو آمادہ کرے گی کہ یہ سرمایہ لوٹا کر لائیں ، یہ اس پونجی کو اپنے لئے حلال نہ سمجھیں گے۔