12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 12:63

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ (ابّا) جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لیجائیں ہمارے لئے غلے کی بندش کردی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیجئے تاکہ ہم پھر غلہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں۔

تفسیر 63۔” فلما رجعوا الی ابیھم قالوا یا ابانا “ ہم ایک بہت اچھے آدمی کے پاس سے آ رہے ہیں اس نے ہمیں مہمان بنایا اور اتنا اکرام کیا کہ اگر یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے بھی کوئی ہوتا تو ہمارا اتنا اکرام نہ کرتا تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا جب تم مصر جائو تو اس کو میرا اسلام کہنا اور اس کو کہنا کہ ہمارے والد آپ کے لیے دعا کریں گے۔ پھر پوچھا کہ شمعون کہاں ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ شاہ مصر نے اس کو رہن رکھ لیا ہے اور ساری بات بتائی تو یعقوب (علیہ السلام) نے پوچھا تم نے اس کو گیارہویں بھائی کا کیوں بتایا ؟ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے ہمیں جاسوس سمجھ کر پکڑ لیا تھا جب ہم نے عبرانی زبان میں گفتگو کی اور پوری بات بتائی اور کہنے لگے اے ہمارے والد ’ ’ منع منا الکیل “ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر ہم اپنے ساتھ اپنا بھائی نہ لے گئے تو وہ ہمیں غلہ نہ دے گا اور بعض نے کہا ہے کہ صرف ہمارے اونٹوں کا بوجھ دیا گیا بنیا مین کے حصہ کا غلہ روک لیا گیا ۔ یہاں کیل سے غلہ مراد ہے ۔ ” فارسل معنا اخانا “ بنیا مین ” نکتل “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” یکتل “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے یعنی وہ اپنے لیے کیل ( ماپ ) کرے گا جیسے ہم کیل ماپا کریں گے اور دیگر حضرات نے ” نکتل “ نون کے ساتھ پڑھا ہے ، ہم اور وہ غلہ کو ماپیں گے اور بعض نے کہا ہے ” نکتل “ سے ہم اس کے لیے ماپ کریں ۔ ” وانا لہ لحافظون “۔
Ayah 12:64

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

(یعقوب) نے کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا۔ مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

64۔” قال ھل آمنکم علیہ الا کما امنتکم علی اخیہ “ یوسف پر ” من قبل “ یعنی کیسے تم پر مطمئن ہو جائوں حالانکہ تم اس کے بھائی یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ جو کچھ کرنا تھا کرچکے ہو ۔ ” فاللہ خیر حافظا ً “ حمزہ اور کسائی اور حفص رحمہما اللہ نے ” حافظا “ الف کے ساتھ تفسیر کی بناء پر پڑھا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” ھو خیر رجلا ً “ اور دیگر حضرات نے ” حفظا “ بغیر الف کے مصدر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی ” خیر کم حفظا “ فرمایا کہ اس کی حفاظت تمہاری حفاظت سے بہتر ہے۔ ” وھو ارحم الراحمین “۔
Ayah 12:65

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ ان کو واپس کردیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہئے ؟ (دیکھئے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کردی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل عیال کے لئے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کرینگے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ (جو ہم لائے ہیں) تھوڑا ہے۔

65۔” ولما فتحوا متاعھم ‘ ‘ جو وہ مصر سے لائے تھے۔” وجدوا بضاعتھم “ اپنے غلہ میں اپنے سکوں کو موجود پایا جو ان کو واپس لوٹائے گئے تھے۔” ردت الیم قالوا یا ابانا ما نبغی “ کیا ہم اور کون سی چیز ہم تلاش کرتے ہیں ؟ کیونکہ انہوں نے یعقوب (علیہ السلام) کو بادشاہ کا احسان یاددلایا اور بنیا مین کو ان کے ساتھ بھیجنے پر ابھارا ، پھر جب انہوں نے سامان کھولا اور اپنی رقم مل گئی ۔ کہنے لگے ” یا ابانا ما نبغی “ ھذہ بضاعتنا ردت الینا “ یعنی ہم گفتگو سے کیا چیز طلب کررہے تھے، اس کا احسان اور سخاوت ہے کہ تول پورا دیا اور قیمت بھی واپس کردی ۔” و نمیر اھلنا “ ہم ان سے گندم خریدیں گے اور گھر والوں کی طرف لائیں گے۔ ” ما راھلہ یمیر میرا “ اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی دوسرے شہر سے گندم گھر لائے اور اسی کی مثل ” امتار یمتار امتیارا “ ہے ۔ ” و نحفظ اخانا “ بنیا میں اس سے جس کا آپ کو ڈر ہے ” ونزداد “ اپنے کجاودں پر ” کیل بعیر “ اس لیے کہ یوسف (علیہ السلام) ہر شخص کے نام پر ایک اونٹ کا بوجھ دیتے تھے۔” ذلک کیل یسیر “ یعنی جو ہم اب لے کر آئے ہیں ۔ یہ تھوڑا ہے ہماری اور گھر والوں کی ضرورت کے لیے کافی نہیں ہے اور بعض نے کہا ہے کہ معنی یہ ہے کہ ہم ایک اونٹ کا بوجھ زیادہ کریں گے یہ آسان غلہ ہے جس میں نہ کوئی مشقت ہے اور نہ کوئی خرچ۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں بعیر سے یہاں گدھا مراد ہے کہ ایک گدھ کا بوجھ زیادہ لائیں گے اور یہ بھی ایک لغت ہے کہ گدھے کو بعیر کہا جاتا ہے اور ان لوگوں کے پاس گدھے تھے اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے کہ بعیر سے معروف معنی یعنی اونٹ مراد ہے۔
Ayah 12:66

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

(یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا کہ جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کا میرے پاس (صحیح وسالم) لے آؤ گے میں اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لئے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے۔

تفسیر 66۔” قال “ ان کو یعقوب (علیہ السلام) نے ’ لن ارسلہ معکم حتی توتون موثقا “ عہد و پیمان ” من اللہ “ اور عہدو پیمان ” من اللہ “ اور عہد موثق جس کو قسم کے ذریعے مؤکد کیا گیا ہو اور بعض نے کہا ہے اپنے اوپر اللہ کو گواہ بنا کر مؤکد کیا گیا ہو ۔ ” لتاتننی بہ ‘ ‘ اور لام اس میں داخل کیا گیا ہے اس لیے کہ کلام کا معنی قسم ہے۔ ” لتاتنی بہ الا ان یحاط بکم “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ مگر یہ کہ تم سب ہلاک ہو جائو اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ مگر یہ کہ تم مغلوب ہو جائو اور مقابلہ کی طاقت نہ رکھو ، اور واقعہ میں یہ بھی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بہت دل گرفتہ ہوئے اور بہت کوشش کی اور یعقوب (علیہ السلام) کے پاس بنیا مین کو بھیجنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا ” فلما اتوہ موثقھم قال “ یعنی یعقوب (علیہ السلام) ” اللہ علی ما نقول وکیل “ گواہ ہے۔ کعب (رح) فرماتے ہیں کہ جب یعقوب (علیہ السلام) نے ” فالہ خیر حافظا وھو ارحم الراحمین “ کہا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میری عزت کی قسم ! تو نے مجھ پر بھروسہ کیا ہے۔ میں ان دونوں کو ضرور آپ کے پاس واپس لائوں گا ۔
Ayah 12:67

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر تو تم سے روک نہیں سکتا۔ (بیشک) حکم اسی کا ہے۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہل توکل کو اسی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔

67” قال “ جب وہ یعقوب (علیہ السلام) سے روانہ ہونے لگے تو فرمایا ۔” یا بنی لا تدخلوا من باب واحد وادخلوا من ابواب متفرقۃ “ کیونکہ وہ لوگ بڑے خوبصورت دراز قد اور مضبوط جسم والے تھے تو یعقوب (علیہ السلام) کو خوف ہوا کہ ان کو نظر نہ لگ جائے تو ان کو حکم دیا کہ مختلف دروازوں سے داخل ہوں تا کہ نظر لگنے سے بچ جائیں کیونکہ نظر کا لگنا برحق ہے اور اثر میں وارد ہوا ہے کہ نظربندے کو قبر اور اونٹ کو قدر (ہنڈیا) میں داخل ہوں گے تو یوسف (علیہ السلام) کو بھی دیکھ لیں گے اور پہلا قول اصح ہے۔” وما اغنی عنکم من اللہ من شئی “ معنی یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں کوئی فیصلہ کردیا ہے تو وہ تم کو ضرو پہنچے گا چاہے تم اکٹھے ہو جدا کیونکہ مقدر ہو کر رہتا ہے اور تدبیر تقدیر کے آگ نفع نہیں دیتی ۔ ” ان الحکم “ نہیں ہے حکم ’ ’ الا للہ ‘ ‘ یعقوب (علیہ السلام) نے اللہ کی طرف معاملہ سپرد کردیا ہے۔” علیہ توکلت وعلیہ فلیتوکل المتوکلون “۔
Ayah 12:68

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کیلئے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی ٹال نہیں سکتی تھی۔ ہاں وہ یعقوب (علیہ السلام) کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بیشک وہ صاحب علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

67۔” ولما دخلوا من حیث امر ھم ابرھم “ یعنی مختلف دروازوں سے اور بعض نے کہا ہے کہ شہر فرماء کے چار دروازے تھے ان سے داخل ہوئے ” ما کان یغنی عنھم من اللہ شیئ “ اللہ تعالیٰ نے یعقوب (علیہ السلام) کی بات کی تصدیق کردی ہے۔” الا حاجۃ فی نفس یعقوب قضاھا “ ان پر ویسی شفقت کی جیسی کوئی بھی باپ اپنی اولاد پر کرتا ہے جب وہ سفر پر جانے لگے۔” وانہ لذو علم “ یعنی جو وہ کچھ کرتے تھے علم کی وجہ سے کرتے تھے نہ کہ جہالت کی وجہ سے۔” لما علمناہ “ یعنی ہماری تعلیم کی وجہ سے اور بعض نے کہا ہے کہ وہ اپنے علم کے مطابق عمل کرتے تھے ۔ سفیان (رح) فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے علم پر عمل نہ کرے وہ عالم نہیں ہے اور بعض نے کہا ہے کہ وہ اس کو محفوظ رکھتے ہیں جو ہم نے ان کو علم دیا ۔ ” ولکن اکثر الناس لا یعلمون “ جو کچھ یعقوب (علیہ السلام) جانتے تھے اس لیے کہ وہ درست علم کے راستے پر نہیں چلے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مشرک نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کو کیا الہام کیا ہے۔
Ayah 12:69

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا۔

اوی الیہ اخاہ کی تفسیر تفسیر : 68۔” ولما دخلوا علی یوسف “ تو کہا یہ ہمارا بھائی ہے جس کے لانے کا آپ (علیہ السلام) نے حکم دیا تھا۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا تم نے اچھا کیا عنقریب تم اس کی جزا پائو گے ۔ پھر ان کو مہمان بنایا اور خواب اکرام کیا اور دستر خوان پر دو دو کو بٹھایا تو بنیا مین اکیلے رہ گئے تو وہ غمزدہ ہو کر کہنے لگے کہ اگر میرا بھائی یوسف (علیہ السلام) آج زندہ ہوتا تو مجھے اپنے ساتھ بٹھاتا تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ اکیلا رہ گیا ہے تو ان کو اپنے ساتھ بٹھا لیا اور رات کو بھی اپنے ساتھ سلایا کیونکہ ہر دو آدمیوں کو ایک بستر دیا تھا ۔ بنیا مین اکیلے رہ گئے تو اپنے ساتھ سلا لیا ۔ پھر صبح کو ان کو کہا کہ اس جیسا کوئی دوسرا نہیں ، میں اس کو اپنے ساتھ رکھوں گا ، پھر ان کو الگ جگہ دی اور بنیا مین کو اپنے ساتھ ٹھہرایا ۔ تو یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” آویٰ الیہ اخاہ “ اور ان سے ساری تفصیل پوچھی کہ آپ کا نام کیا ہے ؟ والدہ کا نام کیا ہے ؟ انہوں نے کہا راحیل بنت لادی ۔ پھر پوچھا کہ آپ کی کوئی اولاد بھی ہے انہوں نے کہا دس بچے ہیں ۔ پھر پوچھا کہ کوئی ماں شریک بھائی بھی ہے ؟ انہوں نے کہا ایک بھائی تھا وہ فوت ہوگیا تو یوسف (علیہ السلام) نے پوچھا کیا تو پسند کرتا ہے کہ میں تیرے اس بھائی کے بدلے بھائی بن جائوں ؟ تو بنیا میں نے کہا کہ آپ (علیہ السلام) جیسا بھائی کس کو ملے گا ؟ لیکن آپ (علیہ السلام) یعقوب اور راحیل کی اولاد نہیں ہیں تو یوسف (علیہ السلام) رو پڑے اور ان کو گلے لگا کر کہا ’ ’ انی انا اخوک فلا تبئس “ یعنی غم نہ کر ” بما کانوا یعلمون “ کچھ بھی ماضی میں ہمارے ساتھ کرچکے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا ہے اور جو بات میں نے تجھے بتائی وہ ان کو نہ بتانا ۔ پھر یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پورا غلہ دیا اور ایک ایک کو ایک اونٹ کا غلہ دیا اور بنیا مین کو بھی ایک اونٹ کا سامان دیا ۔ پھر بادشاہ کا پیالہ بنیا مین کا کجاوہ میں رکھنے کا حکم دیا۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) نے بنیا مین کے کجاوہ میں پیالہ رکھوایا لیکن اس کو معلوم نہ تھا، کعب (رح) فرماتے ہیں کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے کہا میں تیرابھائی ہوں تو بنیا میں نے کہا کہ میں اب آپ کو چھوڑ کر نہ جائوں گا تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تو میری وجہ سے والد کے غم کو جانتا ہے اب میں نے تجھے روک لیا تو ان کا غم اور بڑھ جائے گا ، اب میں تجھے ایک ہی صورت میں روک سکتا ہوں کہ تجھے کسی رسوا کردینے والی چیز سے مشہور کر دوں گا تو انہوں نے کہا مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے آپ کچھ بھی کریں مجھے اپنے سے جدا نہ کریں تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اپنا پیمانہ آپ کے کجاوہ میں چھپا دوں گا پھر آپ کے چوری کرنے کی خبر پھیلا دوں گا تا کہ آپ میرے پاس رہ سکیں تو بنیا میں نے کہا جو آپ چاہیں کریں۔
Ayah 12:70

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

جب ان کا اسباب تیار کردیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے) تو ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو ! تم تو چور ہو۔

السقایۃ کی مختلف تفاسیر تفسیر 70۔” فلما جھزھم بجھازھم جعل السقایۃ فی رحل اخیہ “ یہ پیالا تھا جس میں بادشاہ پانی وغیرہ پیتا تھا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ زمرد کا تھا اور ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ یہ چاندی کا تھا اور بعض نے کہا ہے سونے کا تھا۔ یوسف (علیہ السلام) نے اس کو مکیال بنا لیا تھا تا کہ اس کے علاوہ کسی چیز کے ساتھ کیل نہ کیا جائے۔ یوسف (علیہ السلام) اس سے پانی وغیرہ پیتے تھے اور سقایہ اور صواع ایک ہیں ، اس کو بنیا مین کے غلہ میں رکھ دیا گیا ۔ پھر وہ چل پڑے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو مہلت دی وہ چلتے ہوئے ایک منزل تک سفر کر گئے اور بعض نے کہا ہے آبادی سے نکل گئے ۔ پھر ان کے پیچھے آدمی بھیجے جنہوں نے ان کو روکا ۔ ” ثم اذن موذن “ آواز لگانے والے نے آواز لگائی۔” ایتھا العیر “ وہ قافل جس میں غلہ ہو، مجاہد (رح) فرماتے ہیں یہ تجارتی قافلہ گدھوں پر سوار تھا اور فراء (رح) فرماتے ہیں اونٹوں پر ۔ ” انکم لسارقون “ یہ بات انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کے حکم کے بغیر کہی تھی اور بعض نے کہا ہے کہ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کے حکم سے یہ بات کہی تھی اور بعض نے کہا ہے کہ انہوں نے تاویل کے ساتھ ان کو چور کہا تھا کہ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو ان کے والد سے چرایا تھا۔ جب قاصد ان تک پہنچے تو ان کو کہا کہ کیا ہم نے تمہاری خوب ضیافت نہیں کی ؟ اور تمہیں اچھا ٹھکانہ نہیں دیا ؟ اور تمہارا تول پور انہیں دیا ؟ اور تمہارے ساتھ وہ رویہ اپنا یا جو کسی کے ساتھ نہیں اپنایا ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں تو انہوں نے پوچھا اب کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا کہ بادشاہ کا پیالہ گم ہوگیا ہے اور تمہارے علاوہ ہمیں کوئی مشکوک نہیں لگتا۔
Ayah 12:71

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

وہ انکی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ تمہاری کیا چیز کھو گئی ہے ؟

71۔” قالوا واقبلوا علیھم “ اعلان کرنے والے اور اسی کے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے ” ماذا تفقدون “ تمہاری کیا چیزگم ہوگئی ہے اور فقدان وجدان کی ضد ہے۔
Ayah 12:72

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

وہ بولے کہ بادشاہ کے پانی پینے کا گلاس کھو گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں۔

72۔” قالوا نفقد صواع الملک ولمن جاء بہ حمل بغیر “ جو اس کو لے آئے گا اس کو انعام کے طور پر ایک اونٹ بوجھ زیادہ دیا جائے گا۔ ” وانا بہ زعیم “ ضامن یہ آواز لگانے والے نے کہا ۔
Ayah 12:73

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لئے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں۔

73۔ ’ ’ قالوا “ یعنی یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کہنے لگے ” تاللہ “ واللہ ۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں صرف اسی اسم کے ساتھ یہ خصوصیت ہے کہ وائو کو تاء کے ساتھ تبدیل کردیا جاتا ہے۔ ” لقد علمتم ماجئنا لفنسد فی الارض ‘ ‘ میں چوری کرنے نہیں آئے ۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ ان کو کیسے کہہ دیا کہ تم جانتے ہو کہ ہم فساد فی الارض والے نہیں ان کو یہ علم کیسے ہوا تھا ؟ جواب یہ ہے کہ جب وہ مصر میں داخل ہوئے تھے تو اپنے جانوروں کے منہ ڈھانپ دیئے تھے کہ یہ کسی کی چیز پر منہ نہ مار سکیں تو ان کے بارے میں معروف ہوگیا کہ جو چیز ان کی نہ ہو یہ اس کو نہیں لیتے ۔” وما کنا سارقین “۔
Ayah 12:74

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا ؟

74۔ ’ ’ قالوا ‘ ‘ آواز لگانے والا اور اس کے ساتھی کہنے لگے ” فما جزاوہ “ چور کی سزا کیا ہے۔” ان کنتم کاذبین “ تمہارے کہنے پر کہ تم چور نہیں ہو۔
Ayah 12:75

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے۔ ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔

تفسیر : 75۔” قالوا “ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کہنے لگے ” جزائوہ من وجد فی رحلہ فھو جزائوہ “ پس چور اس کی جزاء ہے کہ یہ چور کو چوری کے مال کے ساتھ جس کی چوری کی ہے اس کے حوالے کردیا جائے گا وہ اس کو ایک سال غلام بنائے رکھے گا ۔ چور کے بارے میں یہی آل یعقوب (علیہ السلام) کا طریقہ تھا اور ملک مصر کا قانون چور کے بارے میں یہ تھا کہ چور کو مارا رجائے گا کہ وہ چوری کیے ہوئے مال کے دگنے مال کا تاوان دے گا تو یوسف (علیہ السلام) نے ارادہ کیا کہ اپنے بھائی کو اپنے پاس روک لیں تو فیصلہ کا اختیار انہی کو دے دیا تا کہ ان کے قانون کے مطابق اپنے بھائی کو روک سکیں ۔ ” کذالک نجزی الظالمین “ غیر کا مال چوری کرنے والے کے ساتھ اس وقت قاصد نے کہا کہ اب تمہارے سامان کی تفتیش کی ضرورت ہے ۔
Ayah 12:76

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پھر (یوسف (علیہ السلام) نے) بھائی کے شیلتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا۔ پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے تدبیر کی، (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیت خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے۔

76۔” فبدا ً باوعیتھم “ تہمت کو دور کرنے کے لیے ” قبل وعاء اخیہ “ ان سب کے سامان کی باری باری تلاشی لی گی ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ہمیں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ وہ جس کا سامان کھول کر اس میں دیکھتے تو اللہ تعالیٰ سے گناہ کی معافی مانگتے کہ ان پر تہمت لگائی ہے۔ یہاں تک کہ صرف بنیا مین باقی رہ گئے تو کہا میرا خیال نہیں کہ اس نے وہ پیالہ لیا ہوگا تو ان کے بھائیوں نے کہا اللہ کی قسم ! آپ ان کے سامان کو بھی ضرور دیکھیں کیونکہ اس سے تمہارے اور ہمارے دلوں کو اطمینان ہوجائے گا ۔ جب انہوں نے بنیا مین کا سامان کھولا تو اس سے پیالا نکال لیا تو یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے ۔ ثم استخر جھا من وعاء اخیہ “ ” استخرجھا ‘ کی ضمیر کو مؤنث لائے ہیں اور الصوع مذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول میں ” ولمن جاء بہ حمل بغیر “ کی دلیل کی وجہ سے ۔ اس لیے کہ یہاں ضمیر کو ” العقابۃ “ کی طرف لوٹایا ہے اور بعض نے کہا ہے الصواع مذکر و مؤنث استعمال ہوتا ہوے۔ جب انہوں نے پیالہ بنیا مین کے کجاوے سے نکالا تو سارے بھائیوں نے شرم سے سر جھکا لیا اور پھر بنیا مین پر متوجہ ہوئے اور کہنے لگے تو نے کیا کیا ؟ ہمیں رسوا کردیا اور ہمارے چہرے سیاہ کردیئے اے راحیل کے بیٹے !” کذلک کدنا لیوسف “ اس جگہ کید سے مراد ہے کید یہاں کید پہلی کید کی جزاء کے معنی میں ہے۔ یعنی ان لوگوں نے جیسے ابتداء میں یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ تدبیر کی ہم نے بھی ان کے ساتھ ویسے کیا اور یعقوب (علیہ السلام) نے بھی یوسف (علیہ السلام) کو کہا تھا ” فیکیدوا لک کیدا “ کید کی نسبت مخلوق کی طرف ہو تو بمعنی حیلہ اور اللہ کی طرف کی ہو تو بمعنی حق تدبیر ” ما کان لیاخذا اخاہ فی دین الملک “ یعنی اس کے قانون میں ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کی سلطنت ” الا ان یشاء اللہ “ یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو اپنے پاس روکنے پر قادر نہ ہوتے بادشاہ کے قوانین کے مطابق اگر ہم اپنی مہربانی سے ان کو ایک حق نہ بتاتے جس سے ان کو راستہ مل گیا ۔ ” نرفع درجات من نشاء “ علم کے ذریعے جیسے ہم نے یوسف (علیہ السلام) کا درجہ ان کے بھائیوں پر بلند کیا ۔ اور یعقوب (رح) نے ” یرفع “ اور ” یشاء “ دونوں میں یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور درجات کی اضافت اس سورت میں ” من “ کی طرف کی ہے اور وجہ یہ ہے کہ ان دونوں فعل اللہ تعالیٰ کی طرف مسند ہے اور اس کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” الا ان یشاء اللہ “ میں گزر چکا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کرتے ہیں اور باقی حضرات نے ان دونوں میں نون کے ساتھ پڑھا ہے مگر کوفی حضرات نے (درجات) تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اور ان کے علاوہ سے اضافت کے ساتھ ، یعنی ہم اس کو بلند کرتے ہیں اور یہاں بھی واقع اللہ تعالیٰ ہیں ۔ ” وفوق کل ذی علم علیم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہر عالم کے اوپر ایک عالم ہوتا ہے یہاں تک کہ علم کی انتہاء اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر عالم کے اوپر ہیں ۔
Ayah 12:77

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

(برادران یوسف (علیہ السلام) نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے۔

تفسیر :۔ 77۔” قالو ان یسرق فقد سر ق اخ لہ من قبل “ اس کے ماں شریک بھائی سے مراد یوسف (علیہ السلام) تھے۔ اس چوری میں اختلاف ہے جس کے ساتھ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو موصوف کیا ۔ سعید بن جبیر اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کے رشتہ دار کا بت تھا جس کی وہ عبادت کرتا تھا تو یوسف (علیہ السلام) نے اس کو چپکے سے اٹھا کر راستے میں ڈال دیا تو ڑ دیا تا کہ اس کی عبادت نہ کی جائے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کے پاس ایک سائل آیا تو گھر سے ایک انڈا اٹھا کر اس کو دے دیا سفیان بن عینیہ (رح) فرماتے ہیں یعقوب (علیہ السلام) کے گھر سے ایک مرغی پکڑ کر سائل کو دے دی تھی ۔ اور وہب (رح) فرماتے ہیں کہ وہ دستر خوان سے فقراء کے لیے کھانا چھپالیتے تھے اور محمد بن اسحاق (رح) نے ذکر کیا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اپنی پھوپھی جو اسحاق (رح) کی بیٹی تھیں کے گھر رہتے تھے ، اپنی والدہ راحیل کی وفات کے بعد تو ان کی پرورش ان کی پھوپھی نے کی اور ان سے بہت زیادہ محبت ہوگئی جب یوسف (علیہ السلام) چلنے لگے تو یعقوب (علیہ السلام) نے کہا اے بہن ! یوسف (علیہ السلام) مجھے واپس کر دے ، مجھ سے وہ ایک گھڑی دور ہوں مجھ سے برداشت نہیں ہوتا ۔ اس نے کہا اللہ کی قسم ! میں اس کو نہ چھوڑوں گی اور کہا کہ کچھ دن اور میرے پاس رہنے دیں ۔ یعقوب (علیہ السلام) نے اجازت دے دی ۔ یوسف (علیہ السلام) کی پھوپھی کے پاس حضرت اسحاق (علیہ السلام) کا ایک پٹکا تھا جو ان کی وراثت میں آیا تھا اور یہ خاتون کیونکہ ان کی بڑی بیٹی تھیں تو یہ ان کو ملا تو انہوں نے وہ پٹکا یوسف (علیہ السلام) کے کپڑوں کے نیچے باندھ دیا ، وہ بچے تھے پھر کہنے لگیں کہ اسحاق (علیہ السلام) کا پٹکا گم ہوگیا ہے ، سب گھر والوں کی تلاشی لو ۔ جب تلاشی لی تو وہ یوسف (علیہ السلام) کے پاس ملا تو انہوں نے کہا کہ اب اس کو میرے حوالے کیا جائے تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اگر یوسف نے ایسا کیا ہے تو آپ کے حوالے ہے تو انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے مرتے دم تک اپنے پاس رکھا تو اس وجہ سے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے کہا تھا ” ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل فاسرھا “ اس کو چھپایا ” یوسف فی نفسہ ولم یبدھا لھم “ اور یہاں ” یبدھا “ کی ضمیر مؤنث لائے ہیں اس لیے کہ اس سے ” الکلمۃ “ مراد ہے اور وہ باری تعالیٰ کا قول ” قال انتم شرمکانا “ ہے اس کو اپنے دل میں ذکر کیا اور اس کی صراحت نہیں کی ۔ مراد یہ ہے کہ ” انتم شر مکانا “ مرتبہ میں اللہ کے ہاں اس سے یوسف (علیہ السلام) جس پر تم نے چوری کی تہمت لگائی ہے اس لیے کہ یوسف (علیہ السلام) نے حقیقت میں چوری نہ کی تھی اور تمہاری خیانت حقیقت میں ہے۔ ” قال انتم شر مکانا “ یہ بات اپنے دل میں کہی ان کو صراحتاً نہ کی تھی ۔ ” واللہ اعلم ما تصفون “۔
Ayah 12:78

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں۔ اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں تو اس کو چھوڑ دیجئے اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں،

78۔” قالوا یا تھا العزیز ان لہ ابا شیخا کبیرا “ ان لوگوں کو اس وقت بڑا سخت غصہ آیا اور یعقوب علیہ السلا م کی اولاد کو جب غصہ آتا تو ان سے مقابلہ کی کسی کو طاقت نہ تھی اور روبیل کو جب غصہ آتا تو اس کے سامنے کوئی چیز نہ ٹھہر سکتی اور جب وہ چیخ مارتا تو جو حاملہ عورت اس کی آواز سن لیتی اس کا حمل گر جاتا لیکن اگر یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے کوئی اس کے غصہ کی حالت میں اس کو ہاتھ لگا دیتا تو اس کا غصہ ختم ہوجاتا اور بعض نے کہا ہے کہ یہ حالت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں میں سے شمعون کی تھی ۔ اور روایت کیا گیا ہے کہ اس نے بھائیوں کو کہا کہ مصر کے بازاروں کی تعداد کتنی ہے ؟ انہوں نے کہا دس ۔ اس نے کا تم لوگ بازاروں کو کافی ہو جائو ۔ اور میں تمہیں بادشاہ کی طرف سے کافی ہوجاتا ہوں یا میں بازار والوں کو کافی ہوجاتا ہوں اور تم بادشاہ کو کافی ہو جائو تو یہ یوسف (علیہ السلام) پر داخل ہوئے اور وبیل نے کہا کہ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دو ورنہ میں ایسی چیخ ماروں گا کہ مصر میں کوئی عورت حاملہ نہ رہے گی سب کے حمل گرجائیں گے اور غصہ سے اس کے جسم کے بال کھڑے ہو کر کپڑوں سے نکل آئے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے چھوٹے بیٹے کو کہا کہ روبیل کے پہلو میں ٹھہر کر اس کو ہاتھ لگا دو اور روایت کیا گیا ہے کہ اس کو کہا کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر میرے پاس لے آئو ۔ وہ بچہ گیا اور ہاتھ لگایا تو روبیل کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا تو روبیل کہنے لگا کہ یہاں یعقوب (علیہ السلام) کی نسل میں سے کوئی ہے تو یوسف (علیہ السلام) نے پوچھا کہ یعقوب (علیہ السلام) کون ہیں ؟ روایت کیا گیا کہ اس کو دوبارہ غصہ آگیا تو یوسف (علیہ السلام) کھڑے ہوئے اور اس کو ٹانگ مار کر نیچے گرا دیا اور کہا اے عبرانیو ! تم سمجھتے ہو کہ تم سے طاقتور کوئی نہیں ہے ؟ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ اب یہاں چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں ہے تو کہنے لگے اے عزیز ! اس کا بوڑھا والد ہے جو اس سے محبت کرتا ہے۔ ” فخذ احدنا “ اس کے بدلے ’ ’ مکانہ انا نراک من المحسنین “۔ تفسیر :۔ آپ (علیہ السلام) کے ان افعال میں جو ہم سے کیے کہ ماپ پورا کیا اور اچھی مہمان نوازی کی اور قیمت بھی واپس کردی اور بعض نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ مراد لیا تھا کہ اگر آپ نے یہ کیا تو آپ نیکی کرنے والوں میں ہوں گے۔
Ayah 12:79

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اسکے سوا کسی اور کو پکڑ لیں۔ ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں۔

79۔” قال “ یوسف نے ” ماذ اللہ “ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔ ” ان ناخذالا من وجدنا متاعنا عندہ “ یہ نہیں کہا کہ جس نے ماری چور ی کی جھوٹ سے بچنے کے لیے ۔ ” انا اذا لظالمون “ اگر ہم مجرم کی جگہ بےگناہ کو پکڑ لیں۔
Ayah 12:80

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے ؟ اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کرچکے ہو۔ تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لئے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر کرنیوالا ہے۔

80۔” فلما استیئسوا منہ “ ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ ان کو یقین ہوگیا کہ ان کا بھائی ان کے ساتھ نہ بھیجا جائے گا ۔” خلصوا نجیا “ آپس میں سرگوشیاں اور مشورے کرنے لگے۔” النجی “ جماعت کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے اور ایک کے لیے بھی جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” وقربناہ نجیا “ یہ ایک اور جمع کے لیے اس لیے جائز ہے کہ یہ مصدر ہے۔ صف بنایا جاتا ہے ، عدل اور زور کی طرح اور اسی کی مثال نجویٰ کا لفط استعم اور مصدر دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” واذھم نجوی “ یعنی متناجون اور فرمایا ” ما یکون من نجوی ثلاثہ “ اور مصدر استعمال کر کے فرمایا ” انما النجوی من الشیطان “ ۔۔۔ ” قال کبیرھم “ یعنی عقل اور علم میں نہ کہ عمر میں ۔ ابن عباس ؓ اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ یہوذا تھا جو ان میں زیادہ سمجھدار تھا۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ شمعون تھا۔ اس کے لیے بھائیوں پرس داری تھی اور قتادہ ، سدی اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روبیل تھا یہ ان میں عمر میں بڑا تھا اور ابتداء میں یوسف (علیہ السلام) کو قتل کرنے سے بھی اس نے منع کیا تھا۔” الم تعلموا ان اباکم قد اخذ علیکم موثقا من اللہ ومن قبل ما فرطتم “ تم نے کوتاہی کی ” فی یوسف “ اور ” ما “ کے محل میں اختلاف ہے۔ کہا گیا ہے اس کا محل نصب ہے اس پر علم واقع کرنے کے ساتھ ، یعنی کیا تم نہیں جانتے ۔ اس سے پہلے تمہاری یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کوتاہی اور بعض نے کہا ہے یہ محل رفع میں ہے ابتداء کی بناء پر اور کلام اس کے قول ” من اللہ “ پر مکمل ہوگئی ہے۔ پھر فرمایا ” ومن قیل “ یہ تمہاری یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں زیادتی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ” ما “ صلہ یعنی اس سے پہلے تم نے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں زیادتی کی ۔ ” فلن ابرح الارض “ جس میں میں ہوں یعنی مصر ۔ ” حتیٰ باذن لی ربی “ اس سے نکلنے کی اور مجھے گھر بلائے ۔ ” فلن ابرح الارض حتی باذن لی ابی “ واپس بلا لے۔ ” او یحکم اللہ لی “ میرے بھائی کو لوٹا دے یا میرے نکلنے کا بھائی کو چھوڑ کر اور بعض نے کہا ہے کہ یا اللہ ! میرے بارے میں تلوار کا فیصلہ کر دے کہ میں ان سے قتال کر کے بھائی کو لے جائوں ۔” وھو خیر الحاکمین “۔
Ayah 12:81

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم سب والد صاحب کے پاس جاؤ اور کہو کہ ابّا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے تو اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اسکے لے آنیکا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب (کی باتوں) کے (جاننے اور) یاد رکھنے والے نہیں تھے۔

تفسیر 81۔” ارجعوا الی ابیکم “ جو بھائی مصر میں رک گیا اس نے اپنے بھائیوں کو یہ کہا ” فقولو ا یا ابانا ان ابنک سر ق و ما شھدنا الا بما علمنا “ ہم نے وہی بات کی جس کا ہم نے مشاہدہ کیا کہ وہ پیالہ اس کے سامان سے برآمد ہوا تھا اور بعض نے کہا ہے کہ ان کو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس آدمی ( بادشاہ) کو یہ بات تمہاری وجہ سے معلوم ہوئی کہ چوری کے مال کے بدلے میں بندہ کو قید کیا جاتا ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے اس کے سامنے وہی گواہی دے جو ہم جانتے تھے کہ چور کو غلام بنایا جاتا ہے اور یہ قانون یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے بیٹوں کے ہاں تھا۔” وما کنا للغیب حافظین “ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ (علیہ السلام) کا بیٹا چوری کرے گا اور یہ قانون ہماری ہی طرف لوٹے گا ۔ اور ہم نے جو تحفظ بھائی کے بارے میں کہا تھا مطلب یہ تھا کہ جو اس کی حفاظت میں ہم سے ہو سکے گی کریں گے۔ اور ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہم اس کے دن اور رات اور آنے اور جانے کے حافظ نہ تھے اور عکرمہ فرماتے ہیں کہ ” وما کنا للغیب حافظین “ شاید اس نے رات کو اپنے کجاوہ میں وہ چھپالیا ہو۔
Ayah 12:82

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے تھے) وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کرلیجئے۔ اور ہم (اس بیان میں) بالکل سّچے ہیں۔

82۔” واسال القریۃ التی کنا فیھا “ یعنی بستی والوں سے اور وہ مصر کے لوگ ہیں ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ مصر کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے انہوں نے اس سے مصر کی طرف کوچ کیا تھا۔” والعیر التی اقبلنا فیھا “ یعنی وہ قابلہ جس میں ہم تھے کیونکہ ان کے ساتھ یعقوب (علیہ السلام) کے پڑوس میں کنعان کی ایک اور قوم بھی سفر میں تھیں۔” وانا لصادقون “ اگر یہ اعتراض ہو کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد کو اطلاع دیئے بغیر اپنے بھائی کو اپنے پاس کیسے روک لیا حالانکہ وہ جانتے تھے کہ والد کو اس سے شدید محبت ہے اور اس کے نہ جانے کی وجہ سے ان کو تکلیف ہوگی تو یوسف (علیہ السلام) کے لیے والد کو تکلیف دینا کیسے جائز ہوگیا ؟ تو جواب یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے یہ کام اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا ، اللہ تعالیٰ نے یہ حکم اس لیے دیا کہ یعقوب (علیہ السلام) کی آزمائش زیادہ کر کے ان کے اجر میں اضافہ کریں اور ان کو ان کے گزشتہ آباء کے درجہ میں پہنچا دیں۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں پر اپنا آپ ظاہر نہیں کیا اس لیے کہ وہ ان سے مطمئن نہ تھے کہ وہ اب بھی ان کے بارے میں کوئی تدبیر کر کے ان کو والد سے چھپا دیں ، اور پہلا قو ل اصح ہے۔
Ayah 12:83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا (کہ حقیقت یوں نہیں) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بیشک وہ دانا (اور) حکم والا ہے۔

83۔” قال بل سولت کم “ مزین کردیا ہے ” افنسکم امرا “ اور اس میں اختصارے اس کا معنی پس وہ لوٹے اپنے والد کی طرف اور ان کے بڑے بھائی نے جو کچھ کہا تھا وہ والد کو بتایا تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا ” بل سولت لکم انفسکم امرا “ تمہارا اپنے بھائی کو جلدی نفع کو لینے کے لیے مصر لے جانا ۔” فصبر جمیل عسیٰ اللہ ان یاتینی بھم جمعیا “ یوسف (علیہ السلام) ، بنیا مین اور ان کا بھائی جو مصر میں رہ گیا ۔ ” انہ ھو العلیم “ میرے غم کو ان کے گم ہونے پر ” الحکیم “ اپنی مخلوق کی تدبیر میں ۔
Ayah 12:84

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

پھر انکے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) انکی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا۔

تفسیر 84۔” وتولی عنھم “ جب یعقوب (علیہ السلام) کو بنیا مین کی خبر پہنچی تو غم انتہاء کو پہنچ گیا اور اس کے غم نے یوسف (علیہ السلام) کا غم بھی تازہ کردیا تو ان بیٹوں سے اعراض کیا اور کہا ” وقال یا اسفا “ ہائے غم ” علی یوسف “ اور اسف سخت ترین غم ” وابیضت عیناہ من الحزن “ یعنی نابنیا ہوگئے تھے۔ مقاتل فرماتے ہیں چھ سال سے کچھ نہ دیکھ سکے تھے۔ ’ ’ فھو کظیم “ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کے اپنے والد سے جانے اور دوبارہ ملاقات کے درمیان اسی (80) سال کا عرصہ لگ گیا لیکن اس عرصہ میں یعقوب (علیہ السلام) کی آنکھیں خشک نہیں ہوئیں اور روئے زمین پر یعقوب (علیہ السلام) سے زیادہ معزز اللہ تعالیٰ کے ہاں اس وقت کوئی نہ تھا۔
Ayah 12:85

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

(بیٹے) کہنے لگے کہ واللہ اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دیدیں گے۔

85۔” قالوا “ یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد ” تاللہ تفتو تذکر یوسف حتیٰ تکون حرضا “ یعنی ہمیشہ یوسف (علیہ السلام) کا تذکر ہ کرتے ہیں ۔ حرضا ً کا معنی ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ دفن ہوجائیں گے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ الحرض موت سے کم حالت یعنی موت کے قریب ہوجانا ۔ ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ فاسد جس میں عقل نہ ہو اور الحرض جس کا جسم اور عقل خراب ہوچکی ہو اور بعض نے کہا غم میں پگھل رہے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ حرض کا معنی ہے غم یا عشف پیرا نہ سالی کی وجہ سے بدن کا یا مذہب کا ، یا عقل کی بگاڑ ہوگئی اور آیت کا معنی یہ ہے کہ حتیٰ کہ آپ کمزور جسم مخبول العقل ہوجائیں گے ۔ ” او تکون من الھالکین “ یعنی مردہ لوگوں میں سے۔
Ayah 12:86

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

انہوں نے کہا کے میں تو اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

86۔” قال “ یعقوب (علیہ السلام) نے اس وقت جب ان کی سختی دیکھی ۔ ” انما اشکوا بشی و حزنی الی اللہ “ بت شدید غم۔ انما اشکوا بثی و حزنی الی اللہ کا شان نزول روایت کیا گیا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کا ایک پڑوسی آپ (علیہ السلام) کے پاس آیا اور کہنے لگا اے یعقوب (علیہ السلام) آپ کی حالت کس چیز نے تبدیل کردی ہے آپ تو بالکل کمزور اور فنا ہوچکے ہیں حالانکہ اس عمر کو نہیں پہنچے جس کو آپ (علیہ السلام) کے والد پہنچے تھے تو یعقوب (علیہ السلام) نے کہا مجھے اس آزمائش نے کمزور اور فناء کردیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کا غم دے کر مجھ سے لی ہے تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی کہ اے یعقوب کیا آپ میری مخلوق کے سامنے میری شکایت کر رہے ہیں ؟ تو یعقوب (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب ! مجھ سے غلطی ہوگئی مجھے معاف کردیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، میں نے آپ کو معاف کردیا ، پھر جب بھی یعقوب (علیہ السلام) سے ایسا سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے ” انما اشکوا بشی و حزنی الی اللہ “ اور روایت کیا گیا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) سے سوال کیا گیا کہ کون سی چیز نے آپ (علیہ السلام) کی نگاہ ختم کردی اور آپ (علیہ السلام) کی کمر جھکا دی ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرے یوسف (علیہ السلام) پر رونے نے میری نگاہ ختم کردی اور اس کے بھائی کے غم نے میری کمر جھکا دی تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی کیا آپ (علیہ السلام) میری شکایت کر رہے ہیں ؟ پس میری عزت اور جلال کی قسم ! میں آپ (علیہ السلام) کی مصیبت دور نہ کروں گا جب تک آپ مجھے نہ پکاریں تو اس وقت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا ” انما اشکوا بثی و حزنی الی اللہ “۔ تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی میری عزت اور جلال کی قسم ! اگر وہ دونوں مر بھی ہوئے تو میں ان کو آپ کے لیے زندہ کردیتا اور میں نے تم پر یہ آزمائش اس وجہ سے ڈالی کہ تم نے ایک بکری ذبح کی تھی ۔ تمہارے دروازے پر ایک مسکین کھڑا تھا تم نے اس کو کھانے کے لیے کچھ نہ دیا اور مجھے اپنی مخلوق میں سب سے محبوب انبیاء (علیہم السلام) ہیں پھر مساکین تو آپ (علیہ السلام) کھانا تیار کرا کے مساکین کو دعوت دیں تو آپ (علیہ السلام) نے کھانا تیار کرا کے اعلان کرایا کہ جو روزہ دار ہو آج آل یعقوب (علیہم السلام) کے پاس افطار کرے اور روایت کیا گیا ہے کہ اس کے بعد جب بھی صبح دوپہر کا کھانا کھاتے تو کسی کو آ واز لگانے کا کہتے کہ جس نے کھانا کھانا ہو تو یعقوب (علیہ السلام) کے پاس آجائے اور جب افطار کرنا ہوتا تو آواز لگواتے کہ جس نے افطار کرنا ہو یعقوب (علیہ السلام) کے پاس آجائے اور صبح و شام کا کھانا مساکین کے ساتھ کھاتے۔ وہب بن منبہ (رح) سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یعقوب (علیہ السلام) کو وحی کی کہ کیا آپ (علیہ السلام) جانتے ہیں کہ میں نے آپ کو یہ عتاب کیوں کیا اور آپ (علیہ السلام) کے بیٹے کو آپ (علیہ السلام) سے اسی (80) سال کیوں جدا کیا ؟ یعقوب (علیہ السلام) نے کہا نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس لیے کہ آپ (علیہ السلام) نے ایک بکر ی کا بچہ بھونا تھا اور اپنے پڑوسی پر بخل کیا تھا، خود کھایا اس کو نہ کھلایا۔ وہب اور سدی وغیرہ کا بیان ہے کہ حضرت جبرئیل جیل خانہ کے اندر حضرت یوسف کے پاس پہنچے اور پوچھا : صدیق ! کیا آپ نے مجھے پہچانا ؟ حضرت یوسف نے فرمایا : میں ایک پاک صورت دیکھ رہا ہوں اور پاکیزہ خوشبو محسوس کر رہا ہوں ۔ حضرت جبرئیل نے فرمایا میں روح الامین ہوں ، رب العالمین کا قاصد ہوں ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : آپ تو سب سے بڑھ کر پاکیزہ ، مقربین کے سردار اور رب العالمین کے امین ہیں اور یہ گناہ گاروں کے داخل ہونے کی جگہ ہے۔ یہاں آپ کے آنے کا کیا سبب ہے ؟ حضرت جبرئیل نے فرمایا : یوسف ! کیا آپ واقف نہیں کہ انبیاء کی پاکی کی وجہ سے اللہ ( نا پاک) گھروں کو پاک کردیتا ہے اور جس زمین میں پیغمبر داخل ہوتے ہیں ، وہ ہر زمین سے زیادہ پاک ہوجاتی ہے۔ اے اطہر الطاہرین اور اے منتخب نیک بندوں کی اولاد ! آپ کی وجہ سے اللہ نے قید خانہ کو اور اس کے ماحول کو پاک کردیا ۔ حضرت یوسف نے فرمایا : آپ نے مجھے صدیق کے نام سے کیوں پکارا اور منتخب پاک لوگوں میں میرا شمار کیوں کیا ؟ مجھے تو گناہ گاروں کے مقام میں داخل کیا گیا ہے اور بد چلن لوگوں کے ناموں میں میرا نام بھی شامل کردیا گیا ہے۔ حضرت جبرئیل نے فرمایا : اللہ نے آپ کا نام صدیقوں میں شامل کیا ، مخلص منتخب بندوں میں آپ کا شمار کیا اور آپ کے صالح اسلاف کی فہرست میں آپ کو داخل کردیا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے دل کو فتنہ میں نہ پڑنے دیا اور اپنی مالک کے کہے کو نہیں مانا ۔ حضرت یوسف نے پوچھا : روح الامین ! کیا آپ کو حضر ت یعقوب کی بھی کوئی اطلاع ہے ؟ حضرت جبرئیل نے فرمایا : جی ہاں ، اللہ نے ان کو صبر جمیل عطا فرمایا ۔ وہ آپ کے غم میں مبتلا ہوئے اور غم سے جی ہی جی میں گھٹتے رہے۔ حضرت یوسف نے پوچھا : ان کے غم کا کچھ اندازہ بھی ہے ؟ حضرت جبرئیل نے فرمایا : ان ستر عورتوں کے غم کے برابر جن کے بچے مرگئے ہوں ۔ حضرت یوسف نے فرمایا : جبرئیل ! پھر ان کو اس کا اجر کس قدر ملے گا ؟ حضرت جبرئیل نے فرمایا : سو شہیدوں کے برابر ۔ حضرت یوسف نے فرمایا : کیا آپ کو کچھ معلوم ہے کہ میری ان سے ملاقات بھی ( کبھی) ہوگی ۔ حضرت جبرئیل نے جواب دیا : جی ہاں ۔ یہ سن کر حصرت یوسف کا دل خوش ہوگیا اور فرمایا : جو کچھ مجھے پیش آیا اس کی مجھے کوئی پرواہ نہیں اگر میں حضرت یعقوب کو دیکھ لوں۔ ” واعلم من اللہ مالا تعلمون “ یعنی میں یوسف (علیہ السلام) کی زندگی کے بارے میں جو بات جانتاہوں وہ تم نہیں جانتے۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت عزرائیل ، حضرت یعقوب کی ملاقات کو گئے تو حضرت یعقوب نے پوچھا : اے پاکیزہ خوشبو اور حسین صورت والے فرشتے ! کیا آپ نے میرے بچہ کی روح قبض کی ہے ؟ حضرت عزرائیل نے جواب دیا : نہیں ، یہ سن کر حضرت یعقوب کو کچھ سکون ہوگیا اور آپ کو حضرت یوسف کے دیکھنے کی تمنا ہوئی۔ بعض علماء نے آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے : میں جانتا ہوں کہ یوسف کا خواب سچا ہے ، میں اور تم سب آئندہ اس کو ضرور سجدہ کریں گے ۔ سدی نے بیان کیا : جب بیٹوں نے باپ کو بادشاہ کے حسن سلوک کی اطلاع دی تو آپ کو حضر ت یوسف کے زندہ ہونے کا خیال پیدا ہوگیا اور ( ملنے کی) خواہش بھی اور فرمایا : شاید وہ یوسف ہو۔ یعقوب اسرائیل اللہ ( عبد اللہ) بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ کی طرف سے شام مصر کے نام ! حمد و ستائش کے بعد واضح ہو کہ ہم اسے گھرانے والے ہیں جو ہمیشہ سپرد مصائب رہے ہیں ۔ میرے دادا حضرت ابراہیم کو ہاتھ پائوں باندھ کر ان کو آگ میں ڈالا گیا ۔ پھر اللہ نے اس آگ کو ان کیلئے ٹھنڈا اور سلامتی بنادیا ۔ میرے باپ کے ہاتھ پائوں باندھ کر ان کی گردن پر چھری رکھ دی گئی ۔ تا کہ ان کو ذبح کردیا جائے مگر اللہ نے کا فدیہ ( جنت سے مینڈھے کی شکل میں) بھیج دیا ( اور ان کو محفوظ رکھا) اب رہا میں تو میرا ایک بیٹا تھا جو سب اولاد سے مجھے پیارا تھا۔ اس کے بھائی اس کو جنگل میں لے گئے۔ پھر ( شام کو) اس کا خون آلودہ کر تالا کر مجھے دے دیا اور کہا : اس کو بھیڑیے نے کھالیا ، اس روتے روتے میری آنکھیں جاتی رہیں ، پھر میرا ایک بیٹا اور تھا جو مرحوم کا ماں جایا بھائی تھا۔ میں اس کو دیکھ کر تسلی حاصل کرلیا تھا۔ اب آپ نے اس کو روک لیا اور یہ خیال کیا کہ اس نے چوری کی ہے۔ ہم ایسے خاندان والے ہیں جو چوری نہیں کرتے نہ چور ہمارے ہاں پیدا ہوتا ہے ۔ اگر آپ میرے بیٹے کو مجھے واپس کردیں تو بہتر ہے ورنہ آپ کو ایسی بد دعا دوں گا کہ اس کا اثر آپ کی ساتویں نسل تک پڑے گا ۔ حضرت یوسف نے خط پڑھا تو آنسوئوں کو روک نہ سکے اور سامنے آ کر فرمایا ” ھل علمتم ما فعلتم بیوسف و اخیہ اذ انتم جاھلون “ یعنی جبکہ تم کو معلوم نہ تھا کہ یوسف آخر میں کس مرتبہ تک پہنچے گا ۔ اس وقت تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا ، کچھ معلوم بھی ہے، بعض لوگوں نے جاہلون کا ترجمہ کیا ہے ۔ قصور وار گناہ گار ، حسن بصری نے ترجمہ کیا : جبکہ تم جوان تھے اور جوانی کی جہالت میں مبتلا تھے اور اس وقت تم نے کیا کیا تھا۔
Ayah 12:87

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو۔ اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں۔

تفسیر : 87۔” یا بنی اذھبوا فتحسسوا “ اس کی خبر لائو اور اچھی طرح اس کو ڈھونڈو ” من یوسف واخیہ “۔۔۔۔۔ ” تحسس “ حاء اور جیم کے ساتھ معنی میں ایک دوسرے سے دور نہیں ہیں مگر تحسس حاء کے ساتھ خیر میں اور جیم کے ساتھ شر میں بولا جاتا ہے اور تحسس کا معنی کسی چیز کو اپنے حواس سے تلاش کرنا ۔ ” ولا تیاسوا من روح اللہ “ اللہ کی رحمت سے اور بعض نے کہا ہے کہ اللہ کی کشادگی سے۔” انہ لا یباس من روح اللہ الا القوم الکافرون “۔
Ayah 12:88

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں۔ آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلہ دیجئے اور خیرات کیجئے کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے۔

88۔” فلما دخلوا علیہ قالوا یایھا العزیز مسنا واھلنا الضر “ شدت اور بھوک۔” وجئنا ببضاعۃ مزجۃ “ یعنی تھوڑے ردی پیسے جو غلہ کی قیمت نہیں بن سکتے مگر بائع کے چشم پوشی کرنے سے ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ دراہم کھوٹے اور ردی تھے اور بعض نے کہا ہے کہ دیہاتیوں کے سامان اون پنیر وغیرہ تھی اور بعض نے کہا ہے کہ دیہاتیوں کے سامان اون پنیر وغیرہ تھی اور بعض نے کہا ہے کہ گندم کا ستو تھا اور بعض نے کہا ہے کہ چمڑا اور جوتے تھے۔” فاوف لنا الکیل “ جو آپ عمدہ پیسوں کے بدلے میں دیتے ہیں وہ میں ان پیسوں کے بدلے میں دیدیں۔” و تصدق علینا “ عمدہ اور ردی قیمت کے درمیان جو فرق ہے اس کا ہم پر احسان کریں اور غلہ میں کمی نہ کریں ، یہ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے اور ابن جریج اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج کر ہم پر احسان کریں ۔ ” ان اللہ یجزی المتصدقین “ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ یوں نہیں کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جزاء دیں گے کیونکہ ان کو عزیز کے مؤمن ہونے کا علم نہ تھا۔ سفیان بن عینیہ سے سوال کیا گیا کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی طرح کسی اور نبی ﷺ پر بھی صدقہ حرام تھا ﷺ تو سفیان (رح) نے فرمایا کہ کیا تونے اللہ تعالیٰ کا فرمان ” و تصدق علینا ان اللہ یجزی المتصدقین ‘ ‘ نہیں سنا۔ سفیان (رح) کی مراد یہ تھی کہ صدقہ ان کے لیے حلال تھا اور روایت کیا گیا کہ ہے حسن (رح) نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا ” اللھم تصدق علی “ تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صدقہ نہیں کرتا صدقہ تو وہ کرتا ہے جو ثواب کو طلب کرتا ہے تو یوں کہہ ” اللھم اعطنی یا تفضل علی “۔
Ayah 12:89

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

(یو سف نے) کہا تمہیں معلوم ہے کہ جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا ؟

89۔” قال ھل علمتم ما فعلتم بیوسف واخیہ اذانتم جاھلون “ عطاء (رح) کا اختلاف ہے کہ کس بات نے یوسف (علیہ السلام) کو یہ کلام کرنے پر ابھارا ۔ ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ جب انہوں نے یہ کلام کی تو یوسف (علیہ السلام) کا دل نرم ہوا اور آنسو بہنے لگے اور جو چیز وہ چھپا رہے تھے وہ ظاہر ہوگئی۔ اور بعض نے کہا ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے یعقوب (علیہ السلام) کا وہ خط پڑھا جو بھائی لائے تھے تو آنسوئوں پر ضبط نہ کرسکے اور یہ بات کہی ۔ ” ھل علمتم ما فعلتم بیوسف الخ۔۔۔۔ ” اذانتم جاھلون “ کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ کا انجام کیا ہوگا ؟ اور بعض نے کہا ہے کہ ” جاھلون مذنبون و عاصون “ کے معنی میں ہے کہ جب تم گناہ کرنے والے تھے اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ جب تم نوجوان تھے اور تمہارے ساتھ جوانی کی جہالت تھی ۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کو تو کچھ نہ کہا تھا پھر یوسف (علیہ السلام) نے ” ما فعلتم بیوسف واخیہ “ کیسے کہہ دیا ؟ تو جواب یہ ہے کہ جب پیالہ بنیا مین کے کجاوہ سے ملا تو انہوں نے بنیا مین کو کہا اے راحیل کے بیٹے ہم نے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی اور بعض نے جواب دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کے گم ہوجانے کے بعد وہ بنیا مین کو تکلیف دیتے تھے کیونکہ وہ یوسف (علیہ السلام) کے ماں شریک بھائی تھے۔
Ayah 12:90

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے۔ خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

90۔” قالوء انک لانت یوسف “ ابن کثیر اور ابو جعفر نے ( انک) خبر کی بناء پر پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے استفہام کی بناء پر ۔ ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) پردہ کے پیچھے سے گفتگو کر رہے تھے جب یوسف (علیہ السلام) نے ” ھل علمتم مافعلتم بیوسف “ کہا تو پردہ ہٹا دیا تو انہوں نے پہچان لایا اور ضحاک (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے یہ بات کہی تو مسکرائے تو انہوں نے پروئے ہوئے موتیوں کی طرح چمکدار دانت دیکھ کر آپ کو یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ تشبیہ دی اور استفہاما ًکہا ” ائنک لانت یوسف ؟ “ عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے نہ پہچانا تھا تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنا ناج نیچے رکھ دیا تو ان کے سر پر ایک علامت تھی جو یعقوب (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور ان کی والدہ سارہ (علیہا السلام) کے پر بھی تھی تو اس وجہ سے پہچان لیا اور بعض نے کہا ہے کہ اندازہ کے طور پر کہا تھا ” قال انا یوسف وھدا اخی “ بنیا مین ” قد من اللہ علینا “ ہم پر احسان کیا کہ ہمیں جمع کردیا ۔ ” انہ من یتق “ فرائض کی ادائیگی اور معاصی سے اجتناب کے ساتھ ۔” ویصبر “ ان سے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر حرام کی ہیں ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ زنا سے بچے گا اور کنوارہ ہونے پر صبر کرے گا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ معصیت سے بچے گا اور قید پر صبر کرے گا ۔ ” فان اللہ لا یضیع اجر المحسنین “
Ayah 12:91

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بیشک ہم خطاکار تھے۔

91۔” قالوا “ معذرت کرتے ہوئے ” تا اللہ لقد آثرک اللہ علینا “ اللہ نے تجھے اختیار کیا اور ہم پر فضلیت دی ” وان کنا لخاطنین “ جو کچھ تیرے ساتھ ہم نے کیا نہ یہ کیا کہ گناہ گار تھے ۔ کہا جاتا ہے خطئی خطاء جب جان بوجھ کرے اور اخطاء کہا جاتا ہے جب بغیر عمد کے کرے۔
Ayah 12:92

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

(یوسف (علیہ السلام) نے) کہا کہ آج کے دن (سے) تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے۔

92۔” قال “ یوسف (علیہ السلام) نے اور وہ برباد تھے ” لا تثریب علیکم الیوم “ تم پر کوئی عار نہیں ہے اور آج کے بعد میں تمہارے گناہ کا تذکرہ نہ کروں گا ۔ ” یغفر اللہ لکم و ھو ارحم الراحمین “ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنا تعارف کرادیا تو والد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رو رو کر ان کی نگاہ ختم ہوگئی ہے تو اپنی قمیص ان کو دی اور کہا :
Ayah 12:93

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو ۔ وہ بینا ہوجائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ۔

تفسیر 93۔” اذھبوا بقمیصی ھذا فالقوہ علی وجہ ابی یات بصیرا “ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا تھا کہ اس طرح کرنے سے نگاہ ٹھیک ہوجائے گی ۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ قمیص جنت کی بنی ہوئی تھی ۔ مجاہد (رح) سے روایت ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے حکم دیا تھا کہ اپنی قمیص بھیج دیں یہ قمیص ابراہیم (علیہ السلام) کی تھی کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے کپڑے اتار کر ان کو عریان آگ میں ڈالا گیا تھا تو جبرئی (علیہ السلام) ان کے پاس جنت کے ریشم کی قمیص لائے تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) کو پہنچا دی تھی۔ یہ قمیص ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس رہ گئی پھر آپ (علیہ السلام) کے بعد وراثت میں اسحاق اعلیہ السلام کو ملی ۔ پھر ان کے بعد یعقوب (علیہ السلام) کو ملی جب یوسف (علیہ السلام) جوان ہوئے تو یعقوب (علیہ السلام) نے ایک سرکنڈے میں یہ قمیص ڈال کر اس کا منہ بند کر یا اور اس سرکنڈ کو یوسف (علیہ السلام) کے گلے میں لٹکا دیا کیونکہ ان کو نظر لگ جانے کا خوف تھا تو وہ ہر وقت ان کے گلے میں رہتا ۔ جب بھائیوں نے قمیص اتار کر آپ (علیہ السلام) کو کنویں میں ڈالا تو جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور اس تعویذ سے قمیص نکال کر آپ (علیہ السلام) کو پہنا دی اور اس وقت بھی جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور یوسف (علیہ السلام) کو کہا کہ یہ قمیص اپنے والد کے پاس بھیج دیں کیونکہ اس میں جنت کی خوشبو ہے جس بیمار یا مصیبت زدہ پڑے گی ، اس کو عافیت ملے گی تو یوسف (علیہ السلام) نے یہ قمیص بھائیوں کو دے دی ۔ اور کہا ( القوہ علی وجہ ابی یات بصیرا) ” واتونی بااھلکم اجمعین “ ۔
Ayah 12:94

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آرہی ہے۔

94۔” ولما فصلت العیر “ جب وہ قافلہ مصر کی جھونپڑیوں سے نکل کر کنعان کی طرف متوجہ ہوئے۔ ” قال ابوھم “ یعقو ب (علیہ السلام) نے اپنے پوتوں کو کہا ’ ’ انی لا جدریح یوسف “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یعقوب (علیہ السلام) کو یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو تین دن کی مسافت سے آگئی اور ابن عباس ؓ سے نقل کیا گیا کہ آٹھ راتوں کی مسافت سے اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان اسی فرسخ کا فاصلہ تھا۔ اور کہا گیا ہے کہ باد صبا چلی اور قمیص کو پھڑ پھڑایا تو اس قمیص کی خوشبو یعقوب (علیہ السلام) تک آئی تو انہوں نے جنت کی خوشبو محسوس کی تو جان لیا کہ زمین میں جنت کی خوشبو اس قمیص کے علاوہ نہیں ہے اس وجہ سے فرمایا ” انی لا جدریح یوسف “ اس قافلہ کے آنے سے پہلے ” لولا ان تفندون “ تم مجھے کم عقل سمجھو گے اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ تم مجھے جاہل سمجھو گے امور فند کی اصل فساد ہے۔
Ayah 12:95

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

وہ بولے کہ واللہ آپ اسی قدیم غلطی میں مبتلا ہیں۔

95۔” قالوا “ یعنی یعقوب (علیہ السلام) کے پوتے کہنے لگے ” تا اللہ انک لفی ضلالک القدیم “ اپنی پرانی غلطی میں ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کی یاد نہیں بھولتے ۔ ضلال سے مراد ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی محبت اس کی یاد کی کثرت اور امید ووصال رکھنے کی وجہ سے آپ کی عقل صحیح راستے سے ہٹ گئی ہے، کیونکہ ان کے نزدیک یوسف (علیہ السلام) مرچکے تھے۔
Ayah 12:96

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

جب خوشخبری دینے والا آپہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہوگئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ؟

تفسیر 96۔” فلما ان جاء البشیر ‘ ‘ یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے خوشخبری لانے والا ۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں بشر قالہ کے آگے آیا ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ یہودا تھا۔ اس نے کہا میں خون میں لت پت قمیص یعقوب (علیہ السلام) کے پاس لے گیا تھا اور میں نے ان کو خبر دی تھی کہ یوسف (علیہ السلام) کو بھیڑیا کھا گیا ہے ۔ آج میں یہ قمیص لے کر جائوں گا اور ان کو خبر دوں گا کہ ان کا بیٹا زندہ ہے تو جیسے میں نے ان کو غمگین کیا تھا آج خوش کروں گا ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہودا نے قمیص اٹھائی اور ننگے پائوں سر دوڑتا ہوا چل پڑا اور اس کے پاس سات روٹیاں تھیں ، اپنے والد تک پہنچنے تک ان کو ختم نہیں کرسکا اور مسافت اسی (80) فرسخ کی تھی اور بعض نے کہا ہے کہ بشر مالک بن ذعر تھا۔ ” القاہ علی وجھہ “ یعنی خوشخبری لے کر آنے والے یوسف (علیہ السلام) کی قمیص یعقوب (علیہ السلام) کے چہرے پر ڈال دی۔” فار تدبصیرا ‘ ‘ یعنی نگاہ ٹھیک ہوگئی اور کمزوری کے بعد قوت لوٹ آئی اور بڑھاپے کے بعد جوانی لوٹ آئی اور غم کے بعد خوشی ۔ ” قال الم اقل لکم انی اعلم من اللہ مالا تعلمون “ یوسف (علیہ السلام) کی زندگی کے بارے میں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں جمع کریں گے اور روایت کیا گیا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے خوشخبری دینے والے سے پوچھاتو یوسف (علیہ السلام) کو کس حال پر چھوڑ آیا ہے ؟ اس نے کہا وہ مصر کے بادشاہ ہیں ۔ یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں بادشاہ کا کیا کروں تو اس کو کس دین پر چھوڑ آیا ہے ؟ تو اس نے کہا دین اسلام پر تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اب نعمت مکمل ہوگئی۔
Ayah 12:97

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

بیٹوں نے کہا کہ ابّا ہمارے لئے ہمارے گناہوں کی مغفرت مانگیے بیشک ہم خطاکار تھے۔

97۔” قالوا یا ابانا استغفر لنا ذنوبنا انا کنا خاطئین “ گناہ گار تھے۔