9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 9:100–110

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

اور سبقت لے جانے والے ، اولیت رکھنے والے (ایمان لانے میں) مہاجرین اور انصار میں سے بھی اور جنہوں نے خلوص کے ساتھ ان کی پیروی کی۔ اللہ ان سے راضی ہوئے اور وہ اللہ سے خوش ہوئے اور ان کے لئے ایسے باغ بنا رکھے ہیں جن کے تابع نہریں بہتی ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور تمہارے گردونواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں اور بعض مدینہ والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں۔ آپ ان کو نہیں جانتے ، ان کو ہم جانتے ہیں۔ عنقریب ہم ان کو دہری سزا دیں گے پھر یہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

اور کچھ لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا (اور) انہوں نے اچھے اور برے اعمال کو ملا جلا دیا۔ قریب ہے کہ اللہ ان پر (مہربانی سے) توجہ فرمائیں (ان کی توبہ قبول فرمائیں) بیشک اللہ بڑے بخشنے والے رحم والے ہیں

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ (زکوٰۃ) قبول فرمالیں کہ آپ ان کو اس سے ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی پاک کرتے ہیں۔ اور ان کے حق میں دعا فرمائیں کہ بیشک آپ کی دعا ان کے لئے تسکین (اطمینان قلب) کا سبب ہے اور اللہ سنتے ہیں ، جانتے ہیں

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتے ہیں اور (ان کے) صدقات کو قبول فرماتے ہیں اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول فرمانے والے مہربان ہیں

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور فرما دیجئے کہ کام کیے جاؤ تو جلد ہی اللہ اور اس کا پیغمبر اور اہل ایمان تمہارے کاموں کو دیکھ لیں گے اور تم عنقریب غائب و حاضر جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے پس وہ تمہیں تمہارے اعمال کے بارے سب بتادیں گے

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

اور کچھ لوگ ہیں جن کا کام اللہ کے فیصلہ کے آنے پر ملتوی ہے یا ان کو سزا دے گا اور یا ان کی توبہ قبول فرمائے گا اور اللہ جاننے والے حکمت والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے (اس غرض سے) مسجد بنائی کہ (مسلمانوں کو) نقصان پہنچائیں اور کفر کریں اور ایمان والوں میں تفریق ڈالیں اور جو لوگ اللہ اور اسکے پیغمبر سے پہلے جنگ کرچکے ان کے ٹھہرنے کا سامان کریں اور وہ ضرور (اللہ کی) قسمیں کھائیں گے کہ بھلائی کے علاوہ ہماری کوئی نیت نہیں اور اللہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

آپ اس میں کبھی کھڑے بھی نہ ہوں البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس میں (نماز کے لئے) کھڑے ہوں۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند فرماتے ہیں

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

کیا پھر جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھی وہ اچھا ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گرنے والی کھائی کے کنارے پہ رکھی پس وہ اس کو دوزخ کی آگ میں لے گری۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتے

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

ان کی (یہ) عمارت جو انہوں نے بنائی ہمیشہ کانٹا بن کر ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی میر یہ کہ ان کے دل پاش پاش ہوجائیں اور اللہ جاننے والے حکمت والے ہیں

آیات 100 تا 110 اسرار و معارف سابقون الا ولون بلکہ تمام انسانیت پر سبقت لے جانے والے لوگ کہ بجزانبیاسب سے افضل ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمادی کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں لہٰذ افتح مکہ سے قبل جسقدر صحابہ کرام گھر چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکلے اور آپ ﷺ کی اطاعت میں کمربستہ ہوئے سب مہاجر ہیں ۔ انصار مدینہ منورہ کے ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فرمایا گیا جنہوں نے مہاجرین کونہ صرف قبول کیا جگہ دی جائیدادیں ان کے ساتھ بانٹ لیں بلکہ ان کے شانہ بشانہ داد شجاعت دی اور اسلام کو غالب کرنے اور کفر کے مقابلہ میں سربکف رہے ۔ اگر چہ علماء نے مختلف انداز سے تعین کی کوشش فرمائی ہے مگر سید ھا سادا معنی یہی ہے اس کے علاوہ جو صحابہ رضو ان اللہ علیہم اجمعین بھی ہیں اگرچہ شرف صحابیت سے سب مزین ہیں اور سب کے لئے اللہ کی رضا اور جنت کی بشارت قرآن کریم میں موجود ہے مگر اس آیہ کریمہ کے اعتبار سے وہ تیسری جماعت ہیں اور پھر تابعین یا قیامت تک آنے والے مسلمان اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اسی تیسرہ جماعت میں شامل ہیں یعنی مہاجر انصار اور خلوص دل سے ان کے نقوش پاپہ چلنے والے ۔ چوتھا کوئی گروہ ہے نہ جماعت اور نہ اس کا کوئی تصور۔ فنافی الرسول ﷺ کی حقیقی کیفیت یہ پہلی دوجماعتیں اس قدربرکات حاصل کرپائی ہیں کہ باقی سب اہل اسلام کے لئے خلوص قلب سے ان کی پیروی ہی نجات کا واحد راستہ ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ مطاع اور متبوع صرف ہوتا ہے کہ نبی خطا سے پاک یعنی معصوم ہوتا ہے اور صحابی کو یہ درجہ حاصل نہیں مگر آپ ﷺ کے صحابہ میں سے مہاجرین وانصار کو وہ برکات نبوی نصیب ہوئیں کہ انھیں فنافی الرسول ﷺ کا درجہ کامل نصیب ہواجس کی خصوصیت یہ ہے کہ اپنی سوچ اپنا ارادہ ہی نہ رہے اور ساری سوچ ہی یہ ہو کہ نبی ﷺ کا ارشاد کیا ہے ۔ بعض لوگوں نے سابقون الا ولون کے بھی جو امام اور نبی ﷺ کے خلفاء تھے ان کی ذوات پر بھی اعتراض کئے ہیں مگر وہ ان کی حیثیت بھول کر شیعہ مئورخوں کی روایات پہ تکیہ کرکے اعتراض کرتے ہیں جن کی بات کتاب اللہ کے ارشادات کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی نیز تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا جنتی ہونا اور اللہ کی رضا کو پالینا قرآن کریم سے ثابت ہے ۔ لہٰذا ان کی عظمت اور اس درجے کا انکار کتاب اللہ کا انکار ہے جو صریح کفر ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کر ام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی قرآن کے مثالی مسلمان ہیں لہٰذا تینوں جماعتیں جو اللہ کی رضا کو پانے والی ہیں ان میں سابقین مہاجر اور انصار بھی اور ان کا اتباع خلوص دل دے کرنے والے بھی پھر قیامت تک کی انسانیت کے لئے ضروری ہے کہ خودکو تیسرے گروہ میں اپنی حیثیت کے مطابق داخل کرے یعنی عقیدہ ان جیسا ہو عمل انہی جیسا ہو اور خلوص دل سے ہو کہ شرط ہے ۔ والذین اتبعوا ھم باخسان جن لوگوں نے خلوص قلب کے ساتھ کی پیروی کرلی ۔ یہاں کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ بعض صحابہ ؓ سے واقعی قصور بھی ہوئے تو کیا غلطی میں بھی ان کا اتباع کیا جائے گا۔ مگر یہ سوال ہی بیجا ہے کہ صحابہ ؓ سے اگر لغزش ہوئی تو اللہ کی عط اسے وہ کبھی لغزش پر قائم نہیں رہے بلکہ ان کی توبہ بھی مثالی ہے جس کی متعددروایات موجود ہیں لہٰذا ایسے امور میں ان کا طریق توبہ لائق اتباع ہے اور یہی ارشاد کتاب اللہ میں بھی ہے کہ مومن سے خطا ہوجائے تو توبہ کرتا ہے اسے ہمیشہ کے لئے نہیں اپنا تا ۔ چنانچہ ارشاد ہے کہ خلوص سے ان کی پیروی کرنے والوں کو اللہ کی رضا نصیب ہوگی اور اتنے انعامات کہ وہ بھی جس کے نیچے نہریں رواں ہیں اور جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی میدان حیات اور عالم آب وگل سے کا میاب وکامران نکلنے کی دلیل ہے اور یہی بہت بڑی کا میابی ہے۔ آپ ﷺ کے زمانہ میں منافقین کا اظہار کردیا گیا تھا یاد رہے جب جماعتیں ترقی کرتی ہیں اور ان میں دنیاوی منافع حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے تو منافقین کا گروہ بھی بظاہر اپنے کو مخلص ظاہر کرکے ساتھ شامل ہوجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ مکی عہد نبوت میں کوئی منافق ساتھ شامل نہ ہوا کہ وہاں قربانیاں دینے کا معاملہ تھا مگر مدنی عہد میں صورت بدل گئی اور اسلام کی ریاست کی بنیاد پڑی جس سے دنیا کے مفاد کی امیدیں وابستہ کرکے ایک گروہ مسلمان کہلانے لگا۔ ان کی ضرض صرف دنیاوی مفاد کا حصول تھا ورنہ دل سے مسلمان نہ تھے ۔ لہٰذا ارشاد ہوا کہ اکثر منافقین توگنوار اور دیہاتی ہیں جن کے شعور ہی ناپختہ اور عقل ہی نارسا ہے ۔ وہ دین جیسی عظیم نعمت کی قدرہی نہیں جان سکے اور بعض مدینہ کے رہنے والے بھی اپنی سیاہ بختی کے باعث نفاق پر اڑے ہوئے ہیں اگرچہ آپ انھیں نہ جانتے ہوں یا آپ کو دھوکا ینے کتنا بھی سامان کرلیں اللہ کو تو دھوکا نہیں دے سکتے ہم تو انھیں خوب پہچانتے ہیں اور ہم انھیں دو بار عذاب دیں گے کہ دنیا میں ناکام ونامراد بھی رہیں گے اور نفاق بھی ظاہر ہوکرباعث رسوائی ہوگا ۔ چناچہ عہد نبوی میں منافقین کا اظہار اللہ کی طرف سے کردیا گیا تھا کہ آپ ﷺ کو ان کے جنازے پڑھنے سے روک دیا گیا تو یقینا یہ یہ بھی بتادیا ہوگا کہ وہ کون کون لوگ ہیں اور پھر دنیا کا شدید عذاب قلبی بےچینی اور اضطراب باطنی ہے جس سے وہ ساری عمر دوچار رہے جب قبر میں داخل ہوں گے تو اس سے شدید عذاب برزخ کا ان پر مسلط ہوجائے گا اور جب قیامت قائم ہوگی تو پھر جہنم کے بہت بڑے عذاب میں دھکیل دیئے جائیں گے ، لہٰذا یہ ڈھکے چھپے لوگ نہ تھے اور عہد صحابہ رجوان اللہ علیہم اجمعین میں یہ دین ودنیا کے اعتبار سے سوا ہی رہے ۔ اب بھی نفاق کی یہ سزابد ستور ہے کہ نہ اسے قرار نصیب ہوتا ہے نہ وقار خواہ حکومت بھی مل جائے اور یہ حکومت کاملناعام مسلمانوں کی عملی زندگی میں کمزوری کے باعث ہے اگر عامتہ المسلمین خود کو آج بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقش قدم پر چلاسکیں تو کبھی کوئی منافق ان پر مسلط نہ ہوسکے ۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو مخلص تھے مگر عمل منافقوں جیسا سرزد ہوا کہ جہاد پر یا غزوئہ تبوک میں آپ کے ساتھ نہ گئے ۔ چارقسم کے لوگوں کا تذکرہ ہے ایسے جو پہلی آواز پر لبیک کہہ کر تیار ہوگئے دوسرے جو کسی قدر مترددتو ہوئے مگر اللہ نے ہمت دی اور تیار ہوگئے تیسرے جو مسلمان نہ تھے منافق تھے اور بلا جواز عذرمعذرت کرکے گھر بیٹھ رہے چوتھے جو واقعی معذور تھے اور جانہ سکتے تھے ان سب کے علاوہ ایک پانچوں قسم بھی تھی کہ جو جاسکتے تھے جانی اور مالی اعتبار سے کوئی عذرنہ تھا محض سستی کی وجہ سے نہ گئے یا منافقین کے بہکانے سے شامل نہ ہو سکے مگر انھیں فورا اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور نادم ہو کر حاضر خدمت ہوگئے بلکہ بعض نے تو خود کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ دیا کہ جب تک اللہ کریم معاف نہیں کریں گے ہم خود کو نہیں کھولیں گے ۔ جب آپ ﷺ کو خبرہوئی تو فرمایا اب انھیں اللہ ہی کے حکم سے کھولاجائے گا میں بھی نہیں کھولوں گا تین حضرات ایسے بھی تھے جنہوں نے خود کو باندھا تو نہیں مگر اپنے کئے پر سخت نادم تھے ۔ آپ ﷺ نے ان سے مقاطعہ کا حکم دیا چناچہ کوئی ان سے بات تک نہ کرتا تھا ۔ حتی کہ بیویاں تک الگ ہوگئیں کوئی کھانا پکاکر بھی نہ دیتا تو یہ حکم نازل ہوا ۔ چناچہ سب کی توبہ قبول ہوئی ، بندھے ہوئے بھی کھول دیئے گئے اور قطع تعلق بھی ختم کردیا گیا کہ ان لوگوں کی نیکیاں بھی تھیں مثلا اس سے قبل کے تمام امور میں خلوص دل سے حاضر اور شامل رہے اور غلطی بھی تھی کہ تبوک کے سفر میں کوتاہی کی اور حاضری نہ دی مگر انھوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور نادم ہو کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو ارشاد ہوا کہ اللہ کریم ان کی توبہ قبول فرمائیں گے کہ کون ہے جس کے دروازے پہ گناہ گار جائیں ۔ صرف اسی کی شان ہے کہ وہ معاف کرنے اور بخشنے والا بھی ہے اور رحم کرنے والا بھی ۔ آپ ان کے اموال سے صدقہ بھی لیجئے کہ قبول توبہ پر انھوں نے اپناسارامال صدقہ میں حاضر کردیا تھا کہ اسی مال کی مصروفیات نے ہمیں روک لیا تھا مگر جب یہ حکم نازل ہواتو آپ ﷺ نے تیسراحصہ مال قبول فرمایا کہ خذمن اموالھم صدقۃ۔ یعنی مال کا کچھ حصہ قبول فرمائیے ۔ صدقات وصول کرنا مسلمان حاکم کی ذمہ داری ہے تا کہ انھیں درست مصارف پہ خرچ بھی کرسکے علماء کا ارشاد ہے کہ نزول خاص ہونے کے باوجود حکم عام ہے ہمیشہ کے لئے خطاکار مسلمان کے لئے توبہ کا دروازہ بھی کھلا ہے بلکہ اس آیہ کریمہ نے توگنا ہگاروں کو بخشش لوٹنے کا موقع بخشا ہے اور ساتھ یہ حکم بھی مسلمان حکمرانوں کے لئے عام ہے کہ زکٰوۃ وصدقات وصول کرکے انھیں ان کے صحیح مصارف پہ خرچ کرنے کا اہتمام کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ منکرین زکٰوۃ سے جہاد کیا گیا ، اگر چہ ان میں بھی دو طرح لوگ تھے بعض تو انکار کرکے مرتدہوگئے مگر ایک طبقہ ایسا بھی تھا جس نے یہی حیلہ تلاش کیا کہ یہ حکم نبی اکرم ﷺ سے خاص تھا ان کے بعد حکومت یا امیر کو زکٰوۃ نہ دیں گے چناچہ حضرت عمرؓ نے بھی یہی خیال فرمایا اور پیش کیا کہ یہ انکار نہیں کرتے ایک آیت کے مفہوم میں اختلاف کرتے ہیں لہٰذا ان سے کفار کریں گے کہ آپ ﷺ کے عہد میں تھی اب ضرورت نہیں جبکہ اکثر جگہ نماز اور زکوۃ کا حکم یکجا ہے اسلئے جو ان میں فرق کرے گا اس سے جہاد کیا جائے گا لہٰذا خلاف صدیق ؓ پر پہلا اجماع ہے اور منکرین زکوۃ سے جہاد پر دوسرا اجماع امت منعقد ہوا ۔ چناچہ ارشاد ہوا کہ آپ ﷺ کا ان سے صدقات واجبہ ونا فلہ وصول کرنا ان کے لئے تزکیہ اور پاکیزگی مال کا سبب ہوگا یعنی ان کے دل بھی کدورت یا بہام چھٹ جانے سے منور ہوجائیں گے اور مال میں برکت بھی ہوگی اور آپ ان کے حق میں دعا بھی فرمائیے ۔ بزرگوں کی دعا کا اثر اس سے یہ بھی ثابت ہے کہ نیک لوگوں کی خدمت کرنے سے مال بڑھتا ہے اور ان کی دعا کی برکات بھی دوعالم میں فلاح کا سبب ہیں ۔ اگرچہ کسی بزرگ کو زیبا نہیں کہ لوگوں سے کچھ لینے کی امیدپہ رہے بلکہ بلا امتیازسب کی تربیت اس کا فریضہ ہے مگر مال سے خدمت کرنا یہ استفادہ کرنے والوں پہ ہے کہ خود خیالرکھیں نیز ایسا کرنے سے دنیاوآخرت کی بہتری ہاتھ آتی ہے ۔ ایسے ہی شیخ پر بھی اور مسلمان حاکم پر بھی بعض کے نزدیک واجب اور بعض کے نزدیک مستحب ہے کہ رعایا یا مستفید ہونے والے لوگوں کے حق میں دعائے خاص کیا کرے ۔ کہ آپ ﷺ کی دعاہی آپ کے غلاموں کے حق میں سکینہ یا تسکین قلب ہے اور اللہ کریم تو سب کی سنتے بھی ہیں اور جانتے بھی ہیں یعنی دعا سے رب العزت کو یاددلانا مقصود نہیں ہوتا اپنی قلبی رضا مندی کا مظہرہوتی ہے اور آپ ﷺ کی خوشنودی دوعالم کی فلاح کی سند ہے ۔ لوگوں کو یہ یقینا جان لینا چاہیئے کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جو اپنے بدوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور اسی نے یہ قاعدہ مقرر فرمایا ہے کہ مالدار اپنے مال سے صدقہ دے یعنی وہی ہے بندے کے پاس چندروز کے لئے ہے تو اللہ ہی کے حکم مطابق خرچ بھی کرنا ہے لہٰذا اسے تاوان یا بوجھ سمجھنا یا دین پر طعن کہ مسلمانوں پہ بھی جزیہ کی مانند ٹیکس لگ گیا ہرگز درست نہیں ۔ نیز آپ ﷺ کی دعا جو آپ کی اطاعت پہ ہی نصیب ہوسکتی ہے وہ حقیقی تسلی اور تسکین کا باعث ہے ظاہر ابھی اور باطنا بھی اس عالم میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ اور شان باری ہے کہ غلطی یا قصور پر ندامت ہو تو اسے قبول فرماتا ہے کہ یہی اس کی شان کو زیبا ہے ۔ نیز اصل امتحان تو عملی زندگی ہی ہے آپ فرمادیجئے کہ زبانی صفائی دینے پہ زور نہ رکھیں عمل کریں جو دلی کیفیات کے اظہار کا سبب ہے ۔ اللہ کریم تو ہر حال سے واقف ہے ہی اللہ کا رسول ﷺ اور رسول اللہ ﷺ کے تابعدار یعنی ایماندار بندے بھی تو تمہاری عملی زندگی کو دیکھیں ۔ نیک لوگوں کا گمان بھی اپنا اثررکھتا ہے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نیک لوگوں کا کسی کو نیک جاننا بھی اس کی عملی زندگی کی بہت بڑی شہادت ہے اور ان احادیث مبارکہ کی وضاحت ہوجاتی ہے جن کا مفہوم ہے کہ چالیس مومن کسی کے جنازے میں شامل ہوں تو نجات کے لئے کافی ہے یا یہ کہ مرنے والے کے محاسن اور اچھایاں بیان کیا کرو کہ تمہاری بات اس کے حق میں شہادت اور گواہی کا درجہ رکھتی ہے ۔ لہٰذا مسلمانوں کا اکرام اور ان سے بہتر تعلقات بھی عملی زندگی کا بہتاہم حصہ ہیں اور معاملہ تو پلٹ کر اسی ذات کے روبرو جائے گا جو ظاہر باطن حاضر غائب سب جانتا ہے اور اگر کرنے والا بعض کوتاہیوں کو فراموش بھی کرچکا ہوگا تو وہ اسے یاد دلادے گا یعنی اسے کسی کی گواہی کی ضرورت نہیں اس کے بغیر و ہ سب کچھ جانتا ہے مگر ایسا کریم ہے کہ ایماندار لوگ جسے اچھا کہہ دیں ۔ واقعہ میں ایسا نہ بھی ہو تو ان کی بات رکھنے کو بھی اسے معاف کردے گا۔ مسجد ضرار کا قصہ عمل کی بنیادتو نیت پر ہے اگر نیت صاف نہ ہو تو بظاہرنیک نظرآنے والا عمل بھی نہ صرف یہ کہ مقبول نہیں ہوتا بلکہ دنیا میں بھی ذلت ورسوائی کا سبب بنتا ہے اور آخرت میں تو یقینا ہے ۔ جیسے کچھ لوگوں نے مسجد بنائی مگر درحقیقت وہ مسجد کے نام پر ایسا مرکزچاہتے تھے کہ جس میں جمع ہو کر مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بندی کرسکیں یا اسلحہ وغیرہ اس میں رکھ سکیں تاکہ مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں ۔ اس کا واقعہ ایسے پیش آیا کہ مشہور صحابی حنظلہ ؓ جن کو ملائکہ نے غسل دیا تھا لہٰذا غسیل ملائکہ مشہور ہوئے کا والدابو عامرزمانہ جاہلیت میں عیسائی ہوگیا تھا آپ ﷺ کی تشریف آوری پر حاضر خدمت بھی ہوامگر بدنصیب کے دل میں برکات کو جگہ نہ ملی اور یہ کہہ کرچلا گیا کہ میں آپ کی مخالفت ہی کروں گا چناچہ ہر حال میں اور ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف رہا۔ اور فتح مکہ کے بعد بھاگ کر شام چلا گیا اور قیصر کو مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کی ترغیب دینے میں اس کا بھی دخل تھا اسی سلسلہ میں اس نے منافقین مدینہ کو پیغام دیا کہ کوئی منظم گروہ اور مرکزبناؤ جو قیصر کی حملہ آور فوجوں کی اندر سے بھی مددکرے چناچہ انھوں نے قبا ہیں جہاں اسلام کی پہلی مسجد جس میں ہجرت کے وقت آپ ﷺ نے قیام فرمایا تھا موجود تھی ایک اور مکان کی بنیادر کھی جسے مسجد ظاہر کیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے کہ بستی میں صرف ایک مسجد تھی لوگوں کو تکلیف تھی ، بوڑھے اور بیمارپہنچ نہیں پاتے تھے لہٰذاہم نے دوسری مسجد بنائی ہے ۔ آپ اس میں ایک نماز پڑھا دیجئے کہ برکت ہو۔ آپ ﷺ تبوک کی تیاری فرما رہے تھے لیکن فرمایا واپسی پہ دیکھیں گے مگر واپسی سے پہلے یہ آیات نازل ہوئیں تو آپ ﷺ نے اپنے چند خدام کو بھیج کر اسے تباہ کرادیا مکان گراکرسامان نذر آتش کردیا گیا اور یوں وہ نام ہو کر بدنام بھی ہوئے۔ یہ اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ نام کو تو انھوں نے مسجد بنائی مگر نیت کیا تھی ؟ مسلمانوں کو تکلیف دنیا ۔ ان میں تفریق پیدا کرنے کے لئے کوشش کرنا اور اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ان دشمنوں کو جو عملا لڑ رہے ہیں ، اس میں چھپنے کی جگہ دینا اندر تو یہ کچھ ہے مگر قسمیں کھاتے پھر رہے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو دین کی خدمت اور نیکی کرنے کا ہے مگر اللہ گواہ ہے کہ یہ جھوٹ بول رہے لہٰذا آپ کبھی اس میں قدم رنجہ نہ فرمائیے ۔ خلاف اسلام استعمال ہونے والی زمین کی نحوست جہاں اسلام کے خلاف اقدام کرنے کا منصوبہ بنا ، اس مکان کی نحوست سے وہ زمین بی متاثر ہوئی چناچہ آپ ﷺ کی اجازت سے ایک غریب صحابی ؓ نے وہاں مکان بنایا تو اولاد سے محروم رہے یا ہوئی نہیں اگر ہوئی تو زندہ نہ رہی بلکہ کہایہ جاتا ہے کہ وہاں کبھی کسی جانورنے بھی بسنے کی کوشش نہیں کی نہ کسی پرندے نے انڈے بچے دیئے چناچہ مسجد قبا کے مقابل اب تک وہ جگہ خالی ہی پڑی ہے ۔ ایسی منحوس جگہ پر آپ ﷺ کو قدم رکھنے سے روک دیا گیا لہٰذا آپ ﷺ کا کسی جگہ قدم رنجہ فرمانا بھی اس مکان کی مقبولیت کا باعث ہے تو روضہ اطہر کی شان کیا ہوگی جو پہلے سے جنت کی زمین پر ہے پھر کیا مقام ہوگا ان غلاموں کا جو پہلوئے اطہر میں آسودہ ہیں سبحان اللہ وبحمدہ۔ مسجد ضرار کسے کہاجائے گا ؟ چنانچہ آج بھی کوئی مسجد اس نیت سے بنائی جائے جس مذکورہ تین باتیں پائی جائیں اول اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے دوم مسلمانوں میں اختلاف بڑھا نے کے لئے اور تیسرے مسلمانوں کے دشمنوں کو پناہ دینے کے لئے تو وہ اسی مسجد کی رونق کم کرنے کے لئے بنائی جائے تو مسجد ضرارنہ ہوگی ہاں بنانا گناہ عظیم ہے اور حکومت کا کام ہے ایسے امور کا تدارک کرے اور ایسی تعمیرروک دے مگر اسے مسجد ہی کہا جائے گا اور نماز جائز ہوگی یہ بات بات پہ مسجد ضرارکا حکم لگادینا درست نہیں نیز ایسے حضرات کو بھی تنبیہہ ہے جو مسلمانوں میں گروہ بندی کو ہوا دیتے ہیں یہ منافقوں کا کام ہے ۔ اسی کے مقابل جو مسجد پہلے سے موجود ہے اور جو پہلے دن سے تقوی پہ استوار ہوئی وہ اس بات کی بہت زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں قیام فرمائیں اور نمازیں ادا کریں جس کے نمازی ظاہر اوباطنا پاکیزہ رہنے کو پسند کرتے ہیں ۔ اور اللہ بھی پاکیزہ رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔ ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ آپ ﷺ نے قبا کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھا کہ تم کونسی پاکیزگی کا اہتمام کرتے ہو جس کے بارے میں اللہ کا ارشاد نازل ہواتوانھوں نے عرض کیا کہ ہم رفع حاجت کے بعد پانی سے طہارت کرتے ہیں ۔ نیک بندوں کے اثرات لہٰذا جہاں طہارت مطلوب ہو وضو کی بات نہ ہو تو یہ عمل کافی سمجھا جائے گا نیز نیک لوگوں کی نہ صرف صحبت بابرکت ہوتی ہے بلکہ جس مسجد میں نماز ادا کریں اس کے دوسرے نمازیوں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے کہ نماز میں تو ہر شخص کی اپنی کیفیات ہوتی ہیں ۔ ان کے مطابق نزول برکات ہوتا ہے لہٰذاجتنے بلند منصب کا انسان ہوگا اتنی برکات زیادہ ہوں گی اور اسی قدرسب کو فائدہ بھی ہوگا اور یہ اندازہ تو انسان خودبھی کرسکتا ہے کہ بھلا جس عمارت کی بنیادی نیکی اور تقوی پر ہو اور جس سے مقصد ہی اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو اور بہتر ہے یا ایسا مکان جو کنار جہنم بنایا جائے جو اپنے مکینوں سمیت دوزخ جاگرے وہ یقینا پہلاہی بہت بہتر ہے مگر بعض گناہ قلبی استعداد کو تباہ کردیتے ہیں ۔ لہٰذا بدکار اور ظالم ایسی سیدہی بات سمجھنے سے بھی محروم رہتے ہیں ۔ اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کا وبال اور گناہ کا اثریا بعض گنا ہوں کا اثرتو اتنا شدید ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے یہ حرکت کی اس اثران کے دلوں میں ہمیشہ رہے گا حتی کہ قلوب پھٹ جائیں گے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے مگر ان سے شبہ اور شک کی بیماری نہ جائے گی یعنی عملا گناہگار ہونا مگر اسلام کی مخالفت نہ کرنا بلکہ اپنے کو گناہگار سمجھنا الگ بات ہے اور عملا اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کرنا اتناشدید جرم ہے کہ دل میں منافقت گھرکر جاتی ہے جو کبھی وہاں سے نکلنے کا نام نہیں لیتی ٹکڑے ہو کر بکھر جائیں گے تو بھی ان میں منافقت کی بورچی ہوئی ہوگی کہ یہ بات اللہ کریم بتا رہے ہیں جو سب کچھ جانتے ہیں اور حکیم و دانا ہیں ۔
Ayahs 9:111–118

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

بیشک اللہ نے ایمان والوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ہیں کہ بدلے میں ان کو جنت ملے گی۔ یہ لوگ کی راہ میں لڑتے ہیں تو قتل کرتے بھی ہیں۔ اس پر سچاوعدہ ہے تورات اور انجیل اور قرآن میں اور اللہ سے زیادہ کون اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہے۔ لہٰذا جو سودا تم نے اس سے کیا ہے ، اس پر خوشی مناؤ اور یہ بڑی کامیابی ہے

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

توبہ کرنے والے ، عبادت کرنے والے ، حمد کرنے والے ، روزہ رکھنے والے ، رکوع کرنے والے ، سجدہ کرنے والے ، نیک باتوں کا امر کرنے والے ، اور بڑی باتوں سے منع کرنے والے ، اور اللہ کی حدود (احکام) کی حفاظت کرنے والے۔ اور آپ ایمان والوں کو خوشخبری سنادیں

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

پیغمبر اور ایمان والوں کو زیب نہیں دیتا کہ مشرکین کے لئے بخشش کی دعا کریں اور اگرچہ وہ (ان کے) قرابت دار ہی ہوں جب ان پر یہ بات ظاہر ہوگئی کہ یہ دوزخ کے رہنے والے ہیں

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لئے دعا کرنا اس وعدہ کی وجہ سے تھا جو انہوں نے اس سے کیا تھا۔ جو انہوں نے اس سے کیا تھا۔ پھر جب انہیں پتہ چل گیا کہ یہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بےتعلق ہوگئے۔ بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بڑے رحیم المزاج ، حکیم الطبع تھے

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

اور اللہ ایسا نہیں کرتے کہ ہدایت کرنے کے بعد کسی قوم کو گمراہ کردیں یہاں تک کہ ان کو صاف صاف بتادیں وہ چیز کہ جس سے وہ بچتے رہیں ۔ بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی ، وہی زندہ کرتے ہیں اور مارتے ہیں اور تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی دوست اور مددگار نہیں

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

بیشک اللہ نے پیغمبر پر مہربانی فرمائی اور مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے تنگی کی گھڑی میں ان (پیغمبر) کا ساتھ دیا بعد اس کے کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں تزلزل ہوچلا تھا۔ پھر اس (اللہ) نے ان کے حال پر توجہ فرمائی بلا شبہ وہ ان سب پر نہایت شفیق (اور) مہربان ہیں

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 9:118 in the Quran reader

اور ان تین شخصوں (کے حال) پر بھی جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا یہاں تک کہ جب زمین اپنی فراخی کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور ان پر ان کی جانیں تنگ ہوگئیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے خود اس کے سوا کوئی پناہ نہیں ۔ پھر اس نے ان پر مہربانی فرمائی کہ توبہ کریں۔ بیشک اللہ ہی توبہ قبول فرمانے والے مہربان ہیں

آیات 111 تا 118 اسرار و معارف رہے مومن تو ان کا اپنا کچھ ہے ہی نہیں وہ تو اپنی جان اپنا مال بیچ چکے اور اللہ نے خرید لیا ہے ان سے اور اس کی قیمت بھی طے ہوگئی ۔ اللہ کی جنت جو اس کی رضا کا مظہر ہے ۔ مفسرین کرام کے مطابق یہ آیہ کریمہ بعیت عقبہ والے صحابہ ؓ اور صحابیات ؓ کے حق میں نازل ہوئی بعیت عقبہ منٰی میں حج کے موقع پر مدینہ منورہ سے آکر ستر 70 کے قریب مردوکواتین نے اس شرط کی تھی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں گے اور رسول اللہ ﷺ کی حفاظت اپنی جانوں اور مال واولاد سے بڑھ کر کریں گے یہ مفصل قصہ سیرت وتاریخ میں بھی تفاسیر میں بھی دسند کے ساتھ موجود ہے مگر معنی عام ہے اور ایمان کی کیفیت و تفصیل نہایت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے ۔ ایمان کی حقیقت اور ایمان کے اثرات عملی زندگی پر ایمان کی حقیقت یہ ہے ایمان لانے ولا شخص اپنی جان اپنا بیچ دیتا ہے اور اللہ سے جنت خرید لیتا ہے جنت جو اللہ کے قرب کا مقام بھی ہے اور اس کی رضا مندی کی سند بھی سیدنا فاروق اعظم ؓ فرمایا کرتے تھے کہ عجیب سودا ہے سب کچھ اپنی طرف عطا فرمایا اور پھر مزید نعمتیں دے کر اسے خرید فرمالیا انسان کے پلے سے تو کچھ بھی نہ گیا کہ اس کا اپنا تھا ہی کچھ نہیں چناچہ اس کیفیت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں کفار سے لڑتے ہیں ان کو مارتے ہیں یا خود مرتے ہیں انھیں اس کی پرواہ نہیں ہوتی کہ مال کا نقصان ہو یا جان جائے وہ سب کچھ پہلے ہی بیچ چکے جس ہستی نے کریدا ہے اس کا حکم ہے کہ یہاں الٹا دوتولٹ جائے ان کا اس میں کیا ہے یہ سود اگر ی پہلی بار نہیں بلکہ پہلی امتوں میں بھی ہوتی رہی جس کا ثبوت پہلی کتابوں سے ہوتا ہے کہ یہ کھراوعدہ تورات وانجیل میں بھی تھا اور قرآن حکیم میں بھی موجود ہے ۔ اب یہ فریق ثابی پر یعنی بندے پر موقوف ہے کہ اللہ سے کئے گئے اس سودے کو کس حدتک پورا کرتا ہے اگر جان ومال اللہ کا ہے تو اس کی نافرمانی کرکے مال بڑھا نے کی ضرورت نہیں رہتی اگر جان اس کے ہاتھ بیچ دی تو حرام کھانے یافعل حرام کرنے یا خواہشات نفس کی تکمیل کے لئے اللہ کی نافرمانی کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ اگر کوئی بندہ ایمان قبول کرنے کے بعد ان باتوں میں ملوث ہوتا ہے تو گو وہ اپنے سودے سے پھر رہا ہے اس کی بات الگ ہے مگر ایسے عالی ہمت لوگ جو اس سودے کو نبا ہتے ہیں اور اپنے قول کا پاس رکھتے ہیں انھیں یہ سودا مبارک ہو کہ اگر وہ اپنے پورے خلوص سے اسے نباہ رہے ہیں تو اللہ کریم اس سے ہرگز نہ پھریں گے بلکہ اللہ کی جنت اب ان کی ہوگئی اور یہ معمولی بات نہیں ، بہت بڑی کا میابی ہے۔ میدان جنگ میں تو بعض اوقات ایسے لوگ بھی کود پڑتے ہیں جو عملی زندگی میں بھلے نہیں ہوتے کہ یہ ایک جذباتی لمحہ ہوتا ہے اور لوگ جذبات سے مغلوب ہوکرٹکراسکتے ہیں مگر جو جذبات میں بہہ کر نہیں کمال ایمان کے سبب جہاد کرتے ہیں ان کی عملی زندگی میدان جہاد سے باہر بھی بدل جاتی ہے وہ ہمیشہ توبہ کرنے والے ہوتے ہیں اور باربار اللہ سے طلب مغفرت اور اپنی دیدہ ونا دیدہ لغزشوں کی معافی طلب کرتے رہتے ہیں اللہ کی عبادت کرنے کر والے ہوتے ہیں اور ہر حال میں اللہ کا شکر بجالا نے والے ہوتے ہیں ۔ یہ دیکھا گیا ہے اکثر بےعمل افراد کو اللہ سے شکایت ہی رہتی ہے اور شعوری یا غیرشعوری طور پر اپنی تکالیف ہی گنواتے رہتے ہیں مگر ایمان مضبوط ہو تو ہر حال میں شکر کی توفیق نصیب ہوتی ہے عبادات کو صرف پوراہی نہیں کرتے رکوع و سجود کی لذتوں سے آشنا ہوتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں غرض اللہ کی قائم کردہ حدود کے پاسبان بن جاتے ہیں نہ صرف یہ کہ خود نہیں توڑتے حتی الا مکان کسی دوسرے کو بھی ان حدود سے متجاوز نہیں ہونے دیتے ان صفات سے متصف ایمان والوں کو بشارت دے دیجئے کہ قبل محشرعرصہ محشر کی کامیابی پہ یہ چیزیں ایک مضبوط دلیل ہیں ۔ آج ہم دنیا وآخرت میں ایسے ہی انعامات کی امیدتو رکھتے ہیں مگر اپنی طرف سے سود انہ صرف بھول چکے ہیں بلکہ ایک طرح سے منسوخ کردیا ہے اللہ کریم ہمیں اس سودے پر قائم رہنے کی توفیق بخشے ، آمین۔ ابو طالب کا انجام اور اس کا سبب جو لوگ یہ سودا کرتے ہی نہیں اور کفر پہ قائم رہتے ہوئے دنیا سے چلے جاتے ہیں ان کا بھلاتو کیا ہوگا ؟ نبی اکرم ﷺ اور مومنین کو ان کی نجات کے لئے دعا کرنا بھی نہ زیب ہی دیتا ہے اور نہ اس کی اجازت ہے ۔ مفسرین کرام کے مطابق آپ ﷺ کے حچا ابو طالب کی وفات ہوگئی ۔ زندگی میں انھوں نے آپ کی بہت حمایت کی اور کسی کا کہا نہ مانا ۔ وقت وفات آپ ﷺ نے کوشش فرمائی کہ اگر میرے کا ن میں بھی کلمہ پڑھ دیں تو میں آپ کی شفاعت کروں گا مگر ابوجہل جو پاس بیٹھا تھا۔ ہر بار کہہ اٹھتا کہ اب مرتے وقت عبدالمطلب کا دین یعنی آبائی مذہب چھوڑدوگے چناچہ اس کا آخری کلمہ یہی تھا کہ میں آبائی مذہب پر جان دے رہا ہوں ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا میں ان کے لئے دعا تو کروں گا یہ الگ بات ہے کہ اللہ کریم ہی روک دیں چناچہ یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے دعا کرنا ترک فرمادیا۔ یہاں ایک بہت بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آپ ﷺ کے چچا ابو طالب نے آپ کی حمایت آخری دم تک کی اور کسی کی ناراضگی خاطر میں نہ لائے تو انھیں توبہ کی توفیق کیوں نہ ملی ؟ یہاں ایک بات کی اصلاح بھی ضروری ہے کہ ابو طالب نے آپ ﷺ کی حمایت ضرور کی مگر یہ غلط مشہور ہے کہ آپ کی پرورش بھی کی سیرت کی کتاب محمد رسول اللہ ﷺ جو مصر کی طبع شدہ ہے میں موجو ہے کہ آپ ﷺ نے ابو طالب کے کنبہ کی پر درش کی کہ جب ان کے ساتھ لگے تو آپ نے بچپن میں ہی مزدوری پر بکریاں چرانا شروع کردیں اور جو ملتا وہ چچاکودیتے جو غریب بھی تھے اور کثیر الا دلاد بھی جب شادی کرکے الگ ہوئے تو ایک بچہ پاس رکھ لیا کہ چچا کی مدد ہوسکے یہی بچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ تھے ۔ لیکن چچانے حمایت اپنی جان کی پرواہ نہ کرکے بھی کی تو اسکا صحیح اور آسان جواب یہ ہے کہ ابو طالب نے محمد رسول اللہ ﷺ کی حمایت نہیں کی بلکہ اپنے بھتیجے محمد بن عبداللہ کی حمایت کرتے رہے اگر نبوت و رسالت کی طرف متوجہ ہوتے تو کبھی خالی نہ رہتے ۔ مومن کی دعا بہرحال یہ قانون بیان کردیا گیا کہ کسی مشرک کے لئے دعا بھی نہ کی جائے ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہے کہ مومنین کے حق میں مومنین کی دعا بھی اللہ کا انعام ہے اور آپ ﷺ کی دعا کی تو بات ہی کیا ہے ۔ ان کا کرم پھر ان کا کرم ہے ان کے کرم کی بات نہ پوچھو۔ اور اس نعمت سے محرومی شرک جیسے ظلم کی سزا کے طور پر ہے بہرحال زندگی میں کافر ومشرک کی نجات کی دعا بھی جائز ہے کہ زندگی میں نجات سے مراد ایسے اعمال کی توفیق ہے جو باعث نجات ہوں جیسے ایمان اور عمل صالح احد میں رخ انور زخمی ہوا تو آپ ﷺ فرماتے تھے ۔ اللھم اغفرقومی فانھم لا یعلمون ۔ اے اللہ ! میری قوم کو بخش دے وہ مجھے جانتے نہیں ۔ وہی بات کہ محمد بن عبداللہ سے لڑ رہے ہیں تیرے رسول کی عظمت سے ناواقف ہیں اور جب کفر پر کسی کا خاتمہ ہواتو واضح ہوگیا کہ یہ ہمیشہ کے لئے جہنم کا ایندھن ہے لہٰذا اس کے لئے دعانہ کی جائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے والد کی بخشش کے لئے دعا کی تھی یہ بات جو مشہور ہے درست ہے کہ مشرکین میں بھی دین ابراہیمی کی عزت بھی تھی اور کچھ باتیں بھی محفوظ تھیں جن میں یہ بات بھی تھی تو اللہ نے تصدیق فرمائی کہ انھوں نے کی تھی کہ دین تو پوری محنت سے اور کھری کھری باتیں کرکے پہنچا یا مگر جب وہ نہ مانے تو جدا ہوتے وقت وعدہ فرمایا تھا کہ ساسستغفرلک ربی میں اپنے رب سے تمہاری بخشش مانگوں گا کہ حضرت ابراھیم بہت ہی نرم خو اور حلیم الطبع تھے لہٰذا اپنے وعدے کا پاس کرتے ہوئے دعاضرورفرمائی مگر جب انھیں یہ یقین ہوگیا کہ وہ تو آخری دم تک کفر پر اور اللہ کی مخالفت پر قائم رہے تو ان سے اپنی برأت کا اعلان کردیا اور یہی ایمان کا اثر ہے کہ جس دل میں نور ایمان نہ ہو اس سے کوئی رشتہ نہیں رہتا۔ اللہ کریم کی شان سے یہ بعید ہے کہ وہ کسی کے گمراہ کافر ہونے کا اعلان فرمادے اور اس کفر کی سزائیں جاری کردے یابندہ ایمان لائے اور وہ اسے محروم کردے ایسا کبھی نہیں ہوتا ۔ ہاں ! قاعدہ یہ ہے کہ ضابطے اور قانون بتادیئے جاتے ہیح ۔ نبی بھیج کر کتاب نازل کرکے حدود متعین فرمادی جاتی ہیں ۔ اب جو ان حدود کو قبول ہی نہیں کرتے یا کرنے کے بعد ان سے نکل جاتے ہیں تو یہ ہلاکت اپنے لئے وہ خود اختیار کرتے ہیں کہ اللہ کریم ان کے ہر حال سے واقف ہے خواہ وہ زبانی کچھ کہیں بھی اجرتو عمل پر مرتب ہوتا ہے اور یہ اختیار اس نے خود بندوں کو بخشا ہے ورنہ وہ مختار کل ہے ساری کائنات اس کی اور صرف اسی کی ہے آسمانوں کی سلطنت ہو یا زمین کی اصل حاکم تو دہی ہے زندگی بھی وہی بخشتا ہے اور موت بھی اسی سے اجازت پاکروارد ہوتی ہے ۔ اور لوگومت بھولو اسے چھوڑکریا اس کی اطاعت سے نکل کر تم تنہارہ جاؤگے نہ کوئی تمھارادوست ہی ہوگا اور نہ کوئی ایسا جو تھوڑی بہت بھی مددہی کرسکے ۔ وہ تو ایسا کریم ہے کہ اپنے نبی پر انعامات کی بارش کردی اور ان مہاجرین وانصار پر بھی جو ہر حال میں نبی ﷺ کی خدمت پہ کمربستہ رہے ۔ درجات ومقامات قرب کی انتہا نہیں توبہ کا مفہوم صرف گناہ سے معافی نہیں جبکہ یہ ذات باری کی طرف منسوب ہو کہ اس نے توبہ قبول فرمائی تو مراد ترقی درجات ہوتی ہے جیسا کہ یہاں ارشاد ہے لقدتاب علی النبی یعنی اپنے نبی اور ان کے خدام مہاجرین وانصار کے درجات مسلسل بلند کرتا ہے اور جس طرح اس کی ذات لامحدود ہے اسی طرح مقامات قرب کی بھی حد نہیں اور سلوک کبھی ختم نہیں ہوتا نہ ہوگا آخرت میں بھی لذات و کیفیات کے اعتبار سے مسلسل ترقی ہوتی رہے گی ، اگرچہ مقامات کی ترقی کا انحصار دنیا کی عملی زندگی پر ہے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اللہ کا خاص سلوک کریمانہ ایسے جان فروش خادم جو ساعت عسرت میں بھی پیچھے نہ ہٹے یعنی انتہائی تنگی کے دنوں میں ، مرادغزوئہ تبوک ہے کہ قحط سخت گرمی لمباسفر اور ایک بہت بڑاطاقتور دشمن ۔ مگر انھوں نے کسی شے کی پرواہ نہ کی بلکہ بعض جو کسی قدر گھبرائے بھی منافقین کی باتوں نے انھیں الجھا بھی دیا اور قریب تھا کہ ان کے قلوب تباہ ہوجاتے بات بدل جاتی مگر اللہ نے ان پر اپنا دامن رحمت پھیلا دیا انھیں قوت بخشی کہ وہ درست فیصلہ کرسکیں کہ ان کے دلوں میں خلوص تھا تو اللہ نے شیطان اور منافقوں کی باتوں سے انھیں بچالیا اور جو لمحہ بھر وہ لڑ کھڑائے تھے اگرچہ یہ بھی انھیں زیبانہ تھا اور ان کی شان کے مطابق تو بہت بڑاجرم تھا دامن عفونے انھیں اس سے پاک کردیا اور اللہ نے یہ سب کچھ بخش دیا کہ وہ بطور خاص ان لوگوں سے تو مہربانی اور رحمت فرماتا ہے ۔ ذرا انہی تین کو دیکھ لوجو اس جہاد میں پیچھے رہ گئے ۔ یہ بات پہلے بھی اشارۃ ہوچکی ہے کہ کچھ مخلصین میں سے بھی سستی کرگئے اور جہاد پہ ہمرکاب نہ ہوسکے مگر آپ ﷺ کی واپسی پر حاضر خدمت ہو کر اقرار کرلیا کہ ہمارے خلوص میں کمی نہیں آئی سستی ہوگئی کچھ نے خود کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ لیا مگر تین حضرات حضرت کعب ابن مالک ، مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے کو ستونوں سے تو نہ باندھا مگر اقرار جرم کرلیا یہ انصاری بزرگ تھے اور بیعت عقبہ سے لے کر پہلے تمام غزوات تک میں شریک رہے تھے مگر اس بار ذرا سستی ہوگئی تو اس قدرناراضگی کا اظہار ہوا کہ اقرار جرم کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا تمہارا معاملہ اللہ کے سپرد ہے لیکن جب تک کوئی حکم نازل نہیں ہوتا ان سے تمام مسلمان قطع تعلق کرلیں حالانکہ یہ شہور مجاہد اور مدینہ منورہ کی مشہور ہستیاں تھیں ۔ دوحضرات تو عمر رسید ہ تھے مگر کعب ابن مالک ؓ ہنوزجوان تھے اور بہت معروف آدمی تھے فرماتے ہیں سب مسلمانوں نے ہم سے رخ پھیرلیا اور سلام کا جواب بھی کوئی نہ دیتا تھا اس پر جب چالیس دن گزر گئے تو راشاد ہو ا کہ ان کی بیویاں بھی ان سے الگ ہوجائیں ۔ پوری دنیا میں تنہا ہوگئے اور زندگی ان کیلئے مصیبت بن گئی ۔ غسانی سردار نے جو کافر تھا اور قیصر کا دست رست تھا ، حضرت کعب بن مالک ؓ کو لکھا کہ میرے پاس آجاؤ تمہاری بہت عزت ہوگی ۔ آپ ؓ نے وہ چٹھی تنور میں جھونک دی کہ یہ اس کا جواب ہے مگر زندگی تلخ ہوگئی کہ کیا اب کافروں کو مجھ سے امیدیں بندھنے لگیں یعنی ان ؓ کی دنیا تاریک ہوگئی ۔ زمین اپنی فراخی مگر زندگی تلخ ہوگئی کہ کیا اب کافروں کو مجھ سے امیدیں بندھنے لگیں یعنی ان کی دنیا تاریک ہوگئی ۔ زمین اپنی فراخی سمیت ان پر تنگ ہوگئی اور انھیں اپنی زندگی بھی بوجھ نظر آنے لگی حتی کہ انھیں یقین ہوگیا کہ اللہ سے کوئی پناہ نہیں دے سکتا نہ اس کی دی ہوئی مصیبت کوئی دوسرا ٹال سکتا ہے ۔ جب وہ خود ہی اپنا رحم نہ فرمائے توا للہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی پچاس روز کے بعد یہ آیت نازل ہوئی جس پر آپ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی خوش ہوئے ۔ حضرت کعب ؓ کو جن کا گھرجبل سلع سے دوسری جانب تھا ، خوشخبری دینے کو دوڑے ۔ سب سے آگے ابوبکر صدیق ؓ اور فاروق اعظم ؓ تھے ۔ حضرت عمر ؓ آگے نکل گئے تو حضرت ابوبکر ؓ نے جبل سلع پر چڑھ کر آوازلگا دی کہ اے کعب ! مبارک ہو۔ ذراہم یہاں اپنا کردار سامنے رکھ کرو دیکھیں کہ ہم آپ ﷺ کے مشن میں کتنا ہاتھ بٹا رہے ہیں ۔ اور کتنے جہاد کر رہے ہیں کہ اللہ سے انعامات کے متمنی ہیں تو شاید اپنی حیثیت کا اندازہ کرسکیں گے ۔ چناچہ رب جلیل تو توبہ قبول کرنے والا ہے اور اتنی بڑی رحمت کا مالک ہے کہ انسان اس کی وسعتوں کا اندازہ کرنے کی سکست نہیں رکھتا ۔
Ayahs 9:119–122

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 9:119 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سچوں کا ساتھ دو (کیساتھ رہو)

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 9:120 in the Quran reader

مدینہ کے رہنے والوں اور جو دیہاتی ان کے گردوپیش رہتے ہیں کہ زیبا نہ تو کہ اللہ کے پیغمبر سے پیچھے رہ جائیں (ساتھ نہ دیں) اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے عزیز سمجھیں۔ یہ اس لئے کہ ان کو اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے ، پیاس کی یا محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں کی کوئی خبر لیتے ہیں مگر اس کے بدلے ان کے لئے نیک عمل لکھا جاتا ہے۔ یقینا اللہ خلوص سے نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتے

وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً وَّ لَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:121 in the Quran reader

اور جو خرچ کرتے ہیں تھوڑا یا بہت یا جتنے میدان ان کو طے کرنا پڑے تو یہ سب ان کے لئے (نیک عمل) لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کو سب کاموں کا اچھے سے اچھا بدلہ دیں

وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةً١ؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠ Open ayah 9:122 in the Quran reader

اور مسلمانوں کو یہ نہ چاہیے کہ سب کے سب ہی نکل کھڑے ہوں تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر جماعت سے کچھ نہ کچھ لوگ نکل جاتے تاکہ دین کا علم سیکھتے (اس میں سمجھ پیدا کرتے) اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو ان کو (انجام بد سے) ڈراتے تاکہ وہ (برائی سے) بچتے

آیات 119 تا 122 اسرار و معارف صحبت کا اثر یہ لغزش بھی جو مخلصیں سے صادرہوئی اور اللہ کریم نے معاف بھی فرمادی ، مزید انعاواکرام سے بھی نوازا کہ اسقامت بھی بخشی اور اپنی رضامندی کی سند بھی ۔ مگر اس کی وجہ بھی جاننا ضروری ہے لہٰذامومنین کو چاہیئے کہ وہ صحبت صادقین اختیار کریں منافقین سے اگرچہ ولی دوستی نہ تھی ، مگر رسمی ملاقات تو تھی جس کے باعث انھیں ایسی باتیں کرنے کا موقع ہاتھ آیا جس نے مومنیں کے قلوب میں بھی ایک گونہ اضطراب پیدا کردیا ۔ اب یہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کباررضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت کی برکات تھیں کہ ان کے قلوب میں خلوص جاگزیں تھا جو رحمت باری کے نزول کا سبب بنا اور یوں بات بگڑنے سے بچ گئی ۔ اگر نری منافقین سے ہی مجلس ہوتی تو نتیجہ کیا ہوتا ؟ لہٰذا مومن کو یہی زیبا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کریں جنہیں اللہ سے ایسا تعلق ہوا بلکہ صادقین فرمانے سے یہ مراد ہے کو ایسے لوگ جن کی زبانیں یاد الٰہی سے تر اور دل اس کے نور سے روشن ہوں ۔ ان کی مجلس وصحبت نیکی کی طرف بڑھنے کا جذبہ عطا کرتی ہے لیکن اگر بدکاروں کی مجلس اختیار کی جائے تو وہ کیفیات قلب کے لئے زہر قاتل ثابت ہوتی ہے ۔ اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی متاثرہو سکتے ہیں اور انھیں اس بات سے روکا گیا ہے تو ان لوگوں کا حال کیا ہوگا جو ساری عمربے دنیوں اور بدکاروں ہی کی مجالس میں کردیتے ہیں اور کفار کے ممالک اور معاشرے میں جانے کے لئے ہر آن بےقرار رہتے ہیں ۔ اہل مدینہ ہوں یا اہل عرب یہ تو بہت ہی خوش نصیب ہیں کہ انھیں رسول اللہ ﷺ کا زمانہ انکی صحبت اور رکابی کے مواقع نصیب ہوئے جنکی شفقت بےبہاکو ہمیشہ زمانہ تر سے گا اور روئے زمین کے مسلمان دل دجان سے صرف اس کا کلمہ ہی عزیز رکھیں گے اس کی مسجد اور شہر اور ملک کی حاضری اور اس کے روضئہ اطہر پہ اک نگاہ کے لئے ساری ساری عمربے قرار رہیں گے ۔ عظمت رسالت بھلایہ اس کا ایسی بےمثال ہستی کا ساتھ نہ دیں گے یہ تو کسی طرح زیباہی نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ جان سے زیادہ محبوب اس کی ذات کو رکھا جائے ۔ اور حق یہ ہے کہ سب مجتیں چاہتیں ان کے قدموں میں ڈھیر کردی جائیں ، انھیں ٹوٹ کے چاہاجائے ، اس لئے یہ ایک ایسی ذات ہے جس کی طلب میں جس کی اطاعت میں جس کے ہمرکاب ہر حرکت و سکون عبادت بن جاتی ہے ۔ نہ صرف عبادت قرار پاتی ہے بلکہ عبادت مقبول کا درجہ پاکر بیشمار انعامات کے حصول کا سبب بنتی ہے ۔ ان کے ہمرکاب پیاس لگے یا بھوک وقت پیش آئے یامشقت کفار کے خلاف سفراختیار کیا جائے یامورچہ میں قدم رکھیں دشمن کے قبضہ سے اقتدار چھنیا جائے یا کوئی شہر ہر کام بہترین عبادت قرار پاتا ہے ۔ اور ایسادرجہ پاتا ہے کہ جس کا اجر کبھی ضائع نہیں ہوتا ۔ اللہ کریم ان کے خادم لئے ہیں کہ ایسے لوگ ہیں جو خلوص قلب سے اللہ کی طلب رکھتے ہیں ۔ یہ تو وہ ہستی ہے کہ جس کے اتباع میں لٹ جانا بھی بہت بڑی عبادت ہے حتی کہ کوئی بہت معمولی سی شے قربان کرے یا گھرہی لٹادے کوئی ایک قدم چلے یا بہت لمباسفر کرے۔ یہ بات طے ہے کہ اللہ کریم ان کے عمل سے کئی گنا زیادہ اجر عطافرمائیں گے۔ فرضیت جہاد کی صورتیں اب جہاد کی بات ہے تو اس کے لئے یہ تھوڑی ہے کہ سب مسلمان ہی چل دیں بلکہ قاعدہ یہ ہے کہ کچھ لوگ جہاد میں مصروف ہوں اور باقی کے دوسرے خانگی یاقومی امور کی نگہداشت کریں مگر یہاں ان چند حضرات پر بھی اظہار ناراضگی تو ہوا جو پیچھے رہ گئے تھے تو مفسرین کے مطابق قاعدہ یہ ہے کہ جہاد فرض ہے مگر عمومی حالات میں یہ فرض کفایہ ہے یعنی اتنے لوگ جو یہ کام انجام دے سکیں وہ اس میں مصروف ہوجائیں تو باقی لوگ اس فرض سے سبکدوش ہوجائیں گے لیکن اگر وہ کافی نہ ہوں تو قریب کے مسلمانوں پہ اس میں شرکت فرض عین ہوگی اس طرح ان سے بھی کام نہ ہوسکے یا ضرورت بڑھ جائے تو دوسرے قریب والوں پہ فرض عین ہوجائے گا اس طرح پوری دنیا کے مسلمانوں پہ بھی فرض عین ہوسکتا ہے ۔ دوسری صورت اعلان عام کی ہے کہ مسلمانوں کا امیراعلان عام کردے تو بغیرعذر شرعی سب کے لئے نکلنا ضروری ٹھہرے گا ۔ یہی صورت غزوئہ تبوک کی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے اعلان عام فرمادیا تھا لہٰذاپیچھے رہ جانا بہت بڑاجرم قرارپایا۔ علم دین کا حصول دوسرا اہم فریضہ دینی علم کا خاصل کرنا ہے جس کے فضائل تو بیشمار ہیں یہاں گنوانا ضروری نہیں الگ سے اس موضوع پر کتب موجود ہیں ہاں اس کی بھی مختلف صورتیں ہیں بعض میں فرض عین ہے اور بعض صورتوں میں فرض کفایہ ۔ فرض عین کی صورت یہ ہے کہ ضرورت کے مطابق ہر مسلمان مرد اور عورت دین سے واقف ہومثلا عقائد فرائض و عبادات روز مرہ کے معمولات حرام و حلال جس سے روزانہ کی زندگی میں سابقہ پڑتا ہے یہ تو بلا امتیاز ہر مردو عورت کو جاننا ضروری ہے اور فرض عین ہے اب اس کی تفصیل وتشریح احکام ومسائل کی تحقیق یہ ہر فرد کے بس کی بات نہیں لہٰذا یہ فرض کفایہ ہے کہ ضرورت ذمے فرض ہے کہ یا کسی کو عالم بنائیں یا کسی عالم کو لا کر شہر میں رکھیں ۔ دوسری صورت فرض عین کی یہ ہے کہ جب کوئی معاملہ ذاتی طور پر پیش آجائے مثلا کوئی صاحب نصاب ہو تو زکٰوۃ کے احکام جاننا فرض عین ہوگا یا حج پر جانے والے کو احکام حج کا جاننایا تاجر کو تجارت کے قواعد کا علم ہونا نکاح کرنے پر نکاح اور طلاق کے مسائل سے واقفیت یہ فرض عین ہوگا اور آج کے دور کی سب بڑی مصیبت یہ بھی ہے کہ مسلمان اس فرض سے غافل ہو رہے ہیں ۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی مرحوم نے تفسیر مظہری کی جلدجہارم میں یہ لکھا ہے کہ علم تصوف سے مراد تصفیہ قلب جو غیر اللہ سے فارغ کردے اور قلب کو دوام حضور عطاکردے اور تزکیہ نفس جو رذائل سے نجات دلادے جیسے عجب کبر حسدریاء جب دنیا اور عبادات میں تساہل وغیرہ اور اخلاق حسنہ نصیب ہوں جیسے اعلیٰ اخلاق اور توبہ رضا بالقضا اور نعمت پہ شکرجب کہ مصیبت پہ صبر کی توفیق نصیب ہو۔ بلاشک یہ سب رذائل بہت شدت سے حرام ہیں اور ان کو صرف جاننا کافی نہیں بلکہ ان سے نجات جو تصفیہ قلب سے نصیب ہوتی ہے فرائض میں سب سے اہم فریضہ ہے کہ عبادات ظاہری بھی کوئی قیمت نہیں رکھتیں جب تک یہ قلبی کیفیات ساتھ نہ ہوں ۔ یہاں قاضی صاحب (رح) نے احادیث نقل فرمائی ہیں کہ آپ ﷺ کا ارشاد جب تک عمل خالص اللہ کے لئے نہ ہو مقبول نہیں ہوتا یا یہ فرمان کہ اللہ تمہارے اعمال کو نہیں تمہاری نیتوں کو دیکھتا ہے یعنی صورت کو نہیں تمہارے قلوب کو دیکھتا ہے اس پہ دال ہیں اور حق یہ ہے کہ جس طرح ذکر اللہ مسلمان مرد وعورت پر فرض ہے وہی فرضیت اس پہ بہت بڑی دلیل ہے اور تصوف سے مراد بدعات ورسومات ہرگز نہیں واولاد کو تو یہ ہر مسلمان پہ فرض عین ہے کہ جس سے دلوں میں نور اور اللہ سے دوام حضور پیدا ہو جس کا پھل اخلاص ہے۔ لہٰذا علم دین کے لئے محنت کرنا علوم ظاہری کو حاصل کرنا کیفیات باطنی کو پانا اور پھر واپس اپنوں میں آکر اسے پھیلانا یہ عام حالات میں فرض کفایہ ہے جبکہ ضروری علوم کو جاننافرض عین ہے لیکن اگر پورے قبیلے یا بستی یاشہر میں کوئی بھی ایساشخص نہ ہوتوسب گناہگار ہوں گے اور اسی طرح ملک میں نہ ہو تو سارا ملک یا دنیا ان کے وجود سے خالی ہوجائے تو دنیا بھر کے مسلمان ماخود ہوں گے ۔ چونکہ دین کی بقا اور ترویج کا بہت بڑاسبب یہی لوگ ہیں اور ان ہی کی محنت اور تربیت عام مسلمانوں کی اصلاح کا سبب اور انھیں برائی سے بچانے کا ذریعہ بنتی ہے ۔
Ayahs 9:123–129

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:123 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ان کفار سے لڑو جو تمہارے نزدیکرہتے ہیں اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی (محنت اور جنگی قوت سے) پائیں اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہیں

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًا١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 9:124 in the Quran reader

اور جب کوئی سورة نازل کی جاتی ہے تو ان (منافقین) میں سے کچھ لوگ کہتے ہیں (تمسخر کرتے ہوئے) اس (سورت) نے تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کیا سو جو ایمان لائے ہیں ان کا تو ایمان زیادہ کیا اور وہ (اس سے) خوش ہو رہے ہیں

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:125 in the Quran reader

اور جن کے دلوں میں مرض (نفاق) ہے تو ان کی گندگی کے ساتھ اور گندی بڑھا دی اور وہ کافر ہی مرگئے

اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 9:126 in the Quran reader

کیا انہیں دکھائی نہیں دیتا کہ یہ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی مصیبت میں پھنسا دیئے جاتے ہیں پھر بھی توبہ نہیں کرتے اور نہ ہی کچھ نصیحت حاصل کرتے

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ١ؕ هَلْ یَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:127 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں کہ تمہیں کوئی (مسلمان) دیکھ تو نہیں رہا پھر (مجلس نبوی سے) چلے جاتے ہیں اللہ نے ان کے دلوں کو ہی پھیر دیا ہے اس وجہ سے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:128 in the Quran reader

یقینا تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر تشریف لائے ہیں جن کو تمہاری تکلیف بہت گراں گزرتی ہے تمہاری بھلائی کے بہت زیادہ خواہشمند ہیں ایمان والوں کے ساتھ شفقت کرنے والے مہربانی ہیں

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ۖۗ٘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 9:129 in the Quran reader

پھر اگر یہ روگردانی کریں تو فرما دیجئے میرے لئے اللہ کافی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

آیات 123 تا 127 اسرار و معارف کسی عمل کے نیک ہونے کی شرط اور جہاں تک کفار سے معاملات کا تعلق ہے تو ان سے جہاد کرو کہ مومنین کو جس قدر محبت و خلوص سے اہل اللہ کی صحبت اختیار کرنے کی ضرورت ہے اس قدرشدت اور سختی سے جہاد بھی کریں کہ کسی عمل کے درست یا نیک ہونے کی شرط اس کی صورت نہیں بلکہ اس کا اللہ کے حکم کے تابع ہونا ہے ایک طرف محبت و خلوص نیکی ہے تو دوسری جانب شدت و سختی نیکی ہے لہٰذاکفار سے محبت جائز نہیں ۔ شدت اور جہاد میں پوری قوت سے ٹکرانا ضروری ہے اور جہاد اپنے قریب والوں سے شروع ہوگا بلحاظ مقام اور فاصلہ کے بھی اور رشتہ اور نسب کے اعتبار سے بھی ۔ ظاہر ا یہ جنگ کی صحیح صورت نہیں کہ کفار کو درمیان میں رکھ کر دور والوں سے لڑاجائے اور رشتہ کے لحاظ سے قریبی زیادہ مستحق ہیں کہ جہاد تو انہی کی بہتری کے لئے ہے اور مومن کے لئے نیکی کو پانے کا راستہ بھی صرف یہی ہے کہ نیکوں سے محبت اور بدکاروں سے سختی کرے کہ اللہ کی معیت جو دوعالم میں سب سے بڑا انعام ہے وہ تقوی اور نیکی پہ مرتب ہوتی ہے۔ کلام باری کی عظمت اگر مذکورہ طریق پر سے عمل ہٹ جائے اور ایسانہ کیا جائے تونفاق پیدا ہوتا ہے یعنی نیک اور صادق بندوں سے محبت نہ رہے یا کفار سے نفرت نہ رہے تو دل میں نفاق آجاتا ہے جس کا اثریہ ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی ہے تو یہ بعض مسلمانوں سے پوچھتے ہیں کہ بھئی ! تم میں سے کس کا ایمان زیادہ ہوا ہے یا اس نے ترقی کی ہے۔ یہ اس لئے ارشاد ہوا کہ کلام باری کی اپنی ایک عظمت ہے جو دلوں میں خاص کیفیت پیدا کرتی ہے کہ ہر کلام میں کلام کرنے والے کی ذات کا اثرہوتا ہے۔ آپ کسی شعبہ زندگی سے متعلق انسان کی باتیں سنناشروع کردیں تو اس شعبے سے نہ صرف واقفیت نصیب ہوگی بلکہ ایک دلی تعلق پیدا ہوجائے گا جیسے شاعریا ادیب یاتا جرہویا پتنگ باز اسی طرح کلام باری میں بھی ایک خاص اثر ہے کہ جنت کی نعمتوں میں سب سے اعلی نعمت اللہ کا کلام ہی ہوگا اور اہل دوزخ پر سب سے بڑا عذاب یہ بھی ہوگا کہ اللہ ان سے کلام نہ فرمائیں گے۔ ایمان کا بڑھنا گھٹنا لہٰذا قرآن کا سمجھنا تو بیشک بنیادی بات ہے لیکن اگر معنی نہ بھی آتے ہوں تو بھی تلاوت اپنا اثرر کھتی ہے اور ایمان کی زیادتی کا باعث ہے ۔ ایمان کی زیادتی سے مراد میں اس قوت کا زیادہ ہونا ہے جو نیکی پر کاربند کردیتی ہے اور اس کے برعکس گھٹنے کی دلیل ہے منافق اگرچہ مذاق اڑائیں مگر حق یہ ہے کہ ہر آیہ کریمہ مومنین کے ایمان میں مزید نورانیت اور قوت کا باعث بنتی ہے جس کا اثرران کے چہروں کی تمتماہٹ میں بھی ظاہر ہونے لگتا ہے لیکن یہ تو بارش کی مثال رکھتا ہے ، کہ اگر زمین دل ہی خراب ہورہی ہو اور اس میں نفاق کی گندگی ہو تو اس بارش سے وہ اور بدپھیلا نے کا سبب بنتی ہے اور ایسے دلوں کے حامل لوگ اتنے بدنصیب ہوتے ہیں کہ اسی مرض میں گرفتار اور آگے بڑھتے ہوئے بالآخر کفر پہ ہی جان دے دیتے ہیں ۔ اعاذنا اللہ منہا۔ اے مخاطب ! کیا یہ بات سامنے اور ظاہر نہیں کہ ان پر مسلسل امتحان اور مصائب آتے ہیں کبھی ان کے دوستوں کو شکست ہوتی ہے تو کبھی ان کا نفاق ظاہر کردیا جاتا ہے مگر انھیں نہ تو توبہ نصیب ہوتی ہے اور نہ یہ سبق حاصل کرتے ہیں بلکہ جب ایسی آیات نازل ہوتی ہیں جن میں کبھی کفار کی خدمت یا ان کی منافقت کا ذکر ہو تو کن انکھیوں سے ایک دوسرے کو تاڑتے ہیں اور اشاروں میں ایک دوسرے کو سمجھا کرمجلس سے نکل جاتے ہیں کہ مباداچہروں کی رنگت حال دل کی غمازی نہ کردے ۔ حق تو یہ تھا کہ یہ نصیحت حاصل کرتے اور جان لیتے کہ اللہ قادر بھی ہے اور عالم الغیب بھی کہ کفار کی تباہی کی خبر بھی دے رہا ہے اور ہمارے حال دل کو بھی بیان کررہا ہے لہٰذاتوبہ کرکے خلوص اختیار کرتے مگر یہ الٹا وہاں سے نکل بھاگنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ اس لئے کہ ان کے نفاق کی وجہ سے اللہ نے ان کے قلوب الٹ دئیے ہیں اور حقیقی علم اور سمجھ ہے جب وہی الٹ گیا تو ساری سمجھ الٹ گئی لہٰذا ان نادانوں کو ایسا ہی سوجھ سکتا ہے۔ شان رسالت لوگو ! تمہارے پاس میرا رسول تشریف لاچکا اب اپنی اصلاح کے لئے کسی آنیوالے کا انتظار کرو نہ کسی حادثے کا کہ دین کے معاملہ میں اللہ کی ذات کے ساتھ تعلقات کے بارہ میں وہ آخری ہستی جو سب سے آخر ہے بعث میں اور جو سب سے اول ہے مقام و مرتبہ پانے میں بھی اور اپنی شان رسالت میں بھی تشریف لاچکی جو اس کی برکات سے بھی محروم رہاوہ ہمیشہ محروم ہی رہے گا اور اللہ کا یہ احسان دیکھوں کہ اس نے اس کی ذات سے عالم بشریت کو نوازا ہے اور انسانیت کے لئے انھیں باعث صدفخربنایا ہے اگر یہ ہستی کسی اور مخلوق میں پیدا ہوتی مثلا فرشتوں میں تو انسان اشرف المخلوقات بھی نہ ہوتانہ ان سے برکات حاصل کرنا آسان ہوتا ۔ لہٰذایہ رحمت مجسم باعث سرفرازی اولاد آدم (علیہ السلام) ہے اور تمہارے لئے ان سے برکات کا حاصل کرنا بہت آسان ہے ۔ دوسری بہت بڑی بات یہ ہے کہ ساری انسانیت کا سب سے بڑا غمگسا بھی میرارسول اور یہی ہستی ہے کہ ٹھوکر انسانیت کو لگتی ہے درد یہ ہستی محسوس فرماتی ہے کافر کو کفرپہ مرتے دیکھ کر اس کا دل لرزاٹھتا ہے کہ میری بعت کے بعد بھلا کوئی انسان کیوں عذاب میں گرفتار ہو۔ تم سوتے ہو یہ تمہارے لئے جاگتا ہے ۔ تم بھاگتے ہو یہ پیچھے سے پکڑتا ہے تم پتھر پھینکتے ہو یہ دعا کرتا ہے ۔ تم کانوں میں انگلیاں ٹھونستے ہو یہ نغمہ تو حید سناتا ہے ۔ دوعالم سے بےنیاز اور صرف میری ذات کا طالب میرارسول اے انسانو ! تمہاری بخشش اور نجات کے لئے حریص ہے یعنی کبھی سیر نہیں ہوتا تم میں جس قدر لوگوں کو ہدایت نصیب ہوجائے بس نہیں کرتا کہ یہ کافی ہیں دوسروں کے لئے پھر ویسی ہی محنت جاری رکھتا ہے ۔ یہ بات تو سب انسانوں سے ہے اور جہاں تک مومنین کا تعلق ہے اسے بغیر ایمان لائے بھلا کوئی کیا جانے ۔ ہاں ! میں بتاتا ہوں کہ وہ ان سے اتنا شفیق ہے کہ اس کی شفقت کا سمندر ناپیداکنار نظر آتا ہے انسانی عقل اس کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے اور حددرجہ رحیم ہے۔ اے میرے حبیب ! تری اس ذرہ پروری سے بھی جو محروم رہے اور پیٹھ پھیر کر چل دے تو تو بھی اسکی پرواہ مت کر اور یہ فرمادے کہ میرے لئے میرا اللہ کافی ہے میرامطلوب میرا مقصود تو وہ ذات ہے یقینا اس جیسا کوئی دوسرا نہیں نہ اس کے سوا کسی کے لئے زیبا ہے کہ اس کے دروازے پہ سررکھ دیاجائے یا اسے اپنا مقصود بنایاجائے اور وہی اکیلا عرش عظیم کا سلطان ہے ۔ وہ عرش جو کائنات کو محیط ہے جہاں سے ساری کائنات کا نظام چلایا جاتا ہے وہ ہستی اور صرف وہی ہستی اس عرش کی مالک ہے۔ اکثر مفسرین کے نزدیک یہ دونوں آخری آیات کتاب اللہ کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیات ہیں ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے چشم عالم سے پردہ فرمایا اس میں دلیل ہے کہ برکات آپ ﷺ کے متبعین کی وساطت تقسیم ہوتی رہیں گی ۔ لہٰذاساری انسانیت کو دعوت عام دی جارہی ہے ۔ اللہ کریم ہمیشہ ہمیشہ ان برکات سے ہمارے دلوں کو منور فرماتا رہے اور اسی ذات کی پیروی کی توفیق ارزاں فرمائے آمین۔ الحمد اللہ ! سورة توبہ مکمل ہوئی ۔ حرم نبوی علیٰ صاجھا الصلوۃ والسلام میں سے شروع ہوکردار العرفان میں 25 رجب المرجب 1410 ھ 22 فروری 1990 ء کو تمام ہوئی ۔ اے رب جلیل ! اپنے خاص کرم سے یہ تفسیر مکمل کرنے کی توفیق عطافرما اور اسے عالم انسانیت کیلئے رہنمائی کا باعث بنا ، آمین دعاگوئے عالم فقیر محمد اکرم عفی عنہ