Ayahs 9:30–37اسرار و معارف
چونکہ ایمان باللہ بھی وہی قابل قبول ہے جو ان اوصاف کے ساتھ ہو جو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائی ہیں ۔ ان سے ہٹ کر اگر کسی نے اللہ کو مانا بھی تو وہ نہ ماننے کے برابر ہے جیسے اہل کتاب کہ اللہ پر اور آخرت پر ایمان تو رکھتے تھے مگر ظالموں نے اللہ کے لئے اولاد تجویز کردی یہود نے کہا حضرت عزیز (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے تھے اسی طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دے دیا اور بغیر کسی دلیل کے محض اپنی رائے سے گپ ہان کی ہے اللہ انھیں تباہ کرے کیسی غلط بات پر جم گئے ہیں ۔ اور یوں اپنے طور پر تو اللہ کا کوئی نہ کوئی تصور ہر قوم کے پاس ہے مگر یہ کوئی ماننا نہ ہوا۔ لہٰذ سب سے جہاد ہوگا یا یہ جزیہ ادا کریں گے ۔ جزیہ سے مراد وہ ٹیکس ہے جو حاکم وقت اپنی صوابدید سے طے کرتا ہے اور اس کے بدلے کفار کو اسلامی ریاست میں بحفاظت رہنا نصیب ہوتا ہے ۔ یہ چونکہ قتل کی جزا کے طور پر لیا گیا ورنہ تو کفر کی سزاقتل تھی مگر ایک جرمانہ مقرر کر کے قتل سے معاف کردیئے گئے ۔ پھر یہ ایسے لوگوں پر عائد نہ ہوگا جن پر تلوار اٹھا نا ویسے ہی منع ہے مثلا بچے بوڑھے خواتین معذور لوگ اور مذہبی پیشوا وغیرہ ذالک۔
اور ان کا جرم صرف یہی نہیں بلکہ انھوں نے اپنے مذہبی پیشواؤں کو ہی اپنا معبود بنارکھا ہے کہ جب اللہ کے حکم کے مقابلہ میں ان کی بات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں تو گویا انھوں نے اللہ کی ذات کی جگہ پر مذہبی پیشواؤں کو اپنارب مان لیا ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تو باقاعدہ عبادت کرتے ہیں ۔ بھلایہ بھی کوئی بات ہوئی جبکہ خود عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ واحد کی عبادت کا حکم دیا تھا اور حق بھی یہ ہے کہ اس ذات واحد کے علاوہ کوئی عبادت کا مستحق ہے بھی نہیں جو شریک بناتے جاتے ہیں وہ ان سے بہت بلند اور ان غلط عقائد سے بہت اعلیٰ اور پاک ہے۔
تقلیدائمہ اور یہ آیہ مبارکہ
بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد تقلید کی ممانعت ہے جو درست نہیں بلکہ اس سے مراد یشہ ورعلماء کی ان باتوں پہ عمل کرنے میں ممانعت ہے جو خلاف شریعت ہوں اہل علم کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق فتویٰ دنیا اور عوام کا اس پر عمل تو یہاں بھی بیان ہوا ہے جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات حقہ کا ذکر کہ انھوں نے تو اللہ واحد کی عبادت کا حکم دیا تھا اب اس حکم کو آگے نقل کرنے والے کی اطاعت دراصل نبی کی اطاعت ہوگی مگر اللہ اور اس کے رسول کے ارشاد کے خلاف بات کو ثواب جان کر کرنا کفر ہے ۔
اور یہ اپنے کفر میں اس قدر بڑھے ہوئے ہیں کہ اپنی غلط روایات سے دین حق کو لوگوں سے اوجھل کردینا چاہتے ہیں جیسے کوئی پھونک مار کر چراغ کو گل کرنا چاہے مگر یہ عام چراغ نہیں یہ تو اللہ کا نور ہے اور یہی وجہ ہے کہ بد کار کتابیں بھی پڑھ لے اسے دین نہیں آتا محض روٹی کمانے کو باتیں کرنا آجاتا ہے ۔
دین کا علم نیکی سے آتا ہے
اور اگر نیک ہو اور اللہ ورسول ﷺ کی اطاعت کرنے والا ہو تو علم دین دل میں جگہ بنالیتا ہے اور حال بن جاتا ہے ۔
فرمایا اللہ تو ذات ہی وہ ہے جس نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہی اس لئے ہے کہ وہ تمام مذاہب پر غلبہ پالے خواہ مشرکین کو یہ بات کتنی ہی ناگوار ہو۔
غلبہ اسلام
یہ آیہ کریمہ غلبہ اسلام کی نہ صرف بشارت دیتی ہے بلکہ اس بات کا دعویٰ کرتی ہے کہ اسلام آیا ہی دنیا میں غالب ہونے اور غالب رہنے کے لئے ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے زندگی کے ہر موضوع پر وہ بات ارشاد فرمائی جو اس کام کے کرنے کا صحیح ترین انداز ہے مثلا سیاسی معاشی اخلاقی امور اور تعلقات کا وہ انداز جو عین مزاج انسانی کے مطابق ہے ارشاد فرمایا اور لطف کی بات یہ ہے کہ یہی دین حق بھی قرار دیا یعنی عملی زندگی سے الگ یا گوشہ نشینی کا حکم نہیں دیا بلکہ میدان عمل میں ہر کام کو حق کے مطابق کرنا ہی دین ہے اور یہی غلبہ دین کا سبب ہے عبادات کا اپنا مقام ہے عبادات دراصل وہ قوت باطن حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں جو سفرحیات میں اور میدان عمل میں اللہ کی اطاعت پہ قائم رکھنے کا سبب ہو۔ لہٰذاہر سلیم البطع انسان اس مذہب حقہ کو قبول کرے گا اور یہ زمین پر چھا گیا آج کا حال کہ مسلم پوری دنیا میں پریشان ہے تو اس کا ذمہ دار آج کا مسلمان ہے جس نے میدان عمل سے دین کو الگ کردیا ہے اور صرف مساجدتک محدود کردیا ہے ۔ مساجد سے باہر سیاسی امور ہوں یامعاشی وہاں کفار کا اتباع کیا جاتا ہے اور ان جیسا طریق کار اپنا یا جاتا ہے جس جا نتیجہ مسلمانوں کی تباہی اور بربادی کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔ آج بھی ہم اپنی عملی زندگی کو اسلام کے تابع کرلیں تو آج بھی روئے زمین پر غلبہ عطا کرنا اللہ کریم کا کام ہے یہ طرح طرح کے ازم اور مغربی جمہوریت یا محض شخصی اور ذاتی پسند کی حکومتیں مسلمانوں کو اسلام سے دورلے جانے کا سبب بن رہی ہیں ۔
علماؤمشائخ کے لئے لمحہ فکر یہ
جن یہود اور نصاری کا طرز عمل اور تہذیب ومعاشرت مسلم شرے اختیار کر رہے ہیں خود ان کا یہ حال ہے کہ ان کے مشائخ اور علماء جو بظاہر بڑے عابد وزرہد نظرآتے ہیں دراصل آخرت کو گم کرچکے ہیں اور محض لوگوں کا مال کھانے کے لئے جببے پہنے ہوئے ہیں ۔ نارواطریقوں سے مال حاصل کرتے ہیں اور دولت لے کر کتاب اللہ کے احکام تک بدل دیتے ہیں اس طرح حصول زر کی طمع میں اللہ کی راہ سے لوگوں کو بھٹکار ہے ہیں ۔ جن اقوام کے نام نہادنیک طبقہ کا یہ حال ہے ان کے دنیا داروں کا حال کیا ہوگا اور جو ان کے پیچھے چلے گا اسے کیا فائدہ مل سکے گا ۔ اگر مسلمان علماء مشائخ بھی لوگوں کو محض چندا اور شیرنیاں جمع کرنے کا سبب بنائے رکھیں گے اور ان کی اصلاح کی فکر نہ کریں گے تو وہ بھی اسی وعید کے مصداق ہوں گے ۔ اعاذنا اللہ مہنا۔
فرمایا ، یہ بات یادرکھو کہ جو لوگ دولت کی ہوس اللہ کو اور آخرت کو بھلا بیٹھتے ہیں اور محض سونا چاندی جمع کرتے رہتے ہیں اسے اللہ کے بتائے ہوئے قاعدے کے مطابق خرچ نہیں کرتے تو انھیں درد ناک عذاب کی خبر سنادیجئے ! یاد رہے اسلام ارتکازدولت کے خلاف ہے یعنی محض کچھ لوگ دولت جمع کرتے رہیں اور دوسرے بھوکے مریں بلکہ امیر پر زکوۃ واجب کردی ۔ علاوہ ازیں جب بات خرچ کرنے کرتا ہے تو یقینا جس آدمی کو اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرنا ہے وہ کمائی کے ناجائز ذرائع اختیار نہیں کرے گا پھر ان کے اختیار کرنے کی اسے ضرورت ہی نہیں رہتی اور یوں جب کسی کا حق مارا نہیں جاتا تو ایک خوبصورت معاشرہ شکل پذیر ہوتا ہے لیکن اگر کوئی محض لوٹ سے مال ہی جمع کرتا رہے تو وہ سن رکھے کہ ایک روزیہی مال جہنم کی آگ پر گرم کیا جائے گا اور جمع کرنے والے کی پیشانی پہلو اور پیٹھ پر اس سے داغ لگائے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ یہ وہ ٹوٹ کی دولت ہے جو تم نے لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر جمع کی تھی اب اس کا مزہ چکھو ۔
یادر ہے اسلام میں مال جمع کرنے سے روکا نہیں گیا کہ حلال کمائے اور جو سال بھر پاس جمع رہے اس پر زکوۃ اداکرے تو یہ جمع کرنا اس میں داخل نہیں ۔ حدیث شریف میں اس کی وضاحت موجود ہے نیز زکٰوۃ کا فرض ہونا اس بات پہ دلیل ہے کہ مال ہوگا تو زکٰوۃ ادا کریں گے ۔ یہ ٹوٹ کھسوٹ سے جمع شدہ مال یا فتویٰ فروشی سے یا کسی بھی ناجائز ذریعہ سے لوگوں کے حقوق مار کر محض سرمایہ جمع کرنے کے جنون میں مبتلا لوگوں سے بات ہورہی ہے ۔
تصرف بیجا
کفار کی رسومات ید اور احکام الٰہی میں اپنی پسند سے تبدیلی کرنے کی ایک واضح مثال ان کا سال کے مہینوں میں تصرف ہے کہ مہینوں کی تعداد عند اللہ بارہ 12 ہے اور جب سے جہان پیدا ہواتب سے اللہ کریم نے یہ اسی طرح معین فرمادی لوح محفوظ میں یہی درج ہے لہٰذاتمام ادیان سابقہ میں بھی یہی تعدادبیان ہوئی اور اس میں چار مہینے محترم ہیں کہ ان میں ممکن حدتک مصروفیات کم کرکے زیادہ عبادات کی جائیں نیزان میں عبادات کا ثواب بھی زیادہ ہے یعنی جس طرح رات دن کا ایک حصہ عبادات کے لئے محصوص ہے اور پانچ نمازیں فرض ہیں تاکہ یہ حاضری باقی وقت کو اللہ کی اطاعت میں خرچ کرنے کی تو فیق کا سبب بنے ۔ اسی طرح سال بھر کا تیسرا حصہ یعنی چار مہینے حرمت والے ہیں ان میں جنگ نہ کی جائے اور عبادت کثرت سے کی جائے ۔ کہ باقی دوتہائی سال بھی اطاعت کی توفیق نصیب ہویہی صاف اور سید ھادین ہے اور یہ حکم تمام شریعتوں میں ایسے ہی رہا ۔ حرمت والے تین مہینے شوال ذیقعدہ اور ذی الحجہ اکٹھے ہیں اور ایک ماہ رجب الگ ہے ۔ پہلی تمام امتوں میں ان مہینوں میں جنگ منع تھی مگر اسلام میں دفاع کے لئے لڑنے کی اجازت دے دی گئی فرمایا کہ نافرمانی ویسے بھی بڑی ہے مگر ان مہینوں میں بطور خاص نافرمانی سے بچنے کی کوشش کرنا چاہیئے اور گناہ کے قریب بھی نہ پھٹکے مگر ہاں ! مشرکین سے جم کر لڑوجی سے وہ تم سے لڑنے کے درپے ہوں مگر زیادتی جنگ میں بھی نہ ہونے پائے کہ خوب جان لو ، اللہ نیکی کرنے والوں اور حقوق کی نگہداشت کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔
مگر ان مشرکین اور ان کے مذہبی پیشواؤں کی زیادتی دیکھو کہ یہ مہینوں کے نام بدل دیتے ہیں یہ رواج تھا کہ اگر لڑتے لڑتے حرمت کا مہینہ آگیا تو کہہ دیتے کہ دیتے کہ یہ وہ مہینہ نہیں ہے بعد والا ہے یا یہ سال دس مہینوں کا ہے ۔ جس مہینے کو چاہتے رمضان یاشوال قرار دیتے اور جس کو چاہتے رجب کہہ دیتے ۔ غرض یہ تھی کہ اپنی اغراض بھی پوری ہوں اور سال کے چار مہینوں کی حرمت بھی رہے ۔
تو فرمایا ان کا یہ حیلہ ان کے کفر میں مزید زیادتی کا باعث ہے یا یہ حیلہ کفر کی بڑھائی بات ہے کہ محض گنتی کرنا ہی ضروری نہیں بلکہ اوقات کا لحاظ عبادات میں ضروری ہے ۔
عبادات میں اوقات مقررہ کی اہمیت
اور جو حکم اللہ کی طرف سے جس مہینہ کے ساتھ مختص ہے اس پر عمل انہی اوقات میں ثواب اور اطاعت کہلائے گا ۔ اسی طرح حج رمضان اور دوسری سب عبادات مہینوں کا نام آگے پیچھے کرنے سے آگے پیچھے نہ ہوں گی۔ ورنہ احکام الٰہی میں خلل واقع ہوگا اور حرام کو حلال اور حلال کو لینے کا جرم سرزدہوگا جو بجائے خود کفر ہے یہ تو ایک سال ایک مہینہ کو حرمت والا قرار دے لیتے ہیں اور دوسرے سال اسے حلال سمجھ لیتے ہیں یعنی محض نام بدل کر جیسے سود کو نفع کہہ کر کھالینے سے حلال نہ ہوگا اور محض گنتی پوری رکھنا کوئی مقصد نہ ہوا۔ یہ الٹی تدبیر جو نہایت بےوقوفی کی بات ہے اسے یہ اپنی عقلمندی سمجھے ہوئے ہیں اس لئے کہ گناہ سے احساسات تبدیل ہوجاتے ہیں اور بھلے کو برا اور برے کو بھلا سمجھ لیا جاتا ہے ۔ یہ دنیا میں گناہ کی بہت بڑی سزا ہے اور ایسے گمراہوں کو اللہ ہدایت عطا نہیں کرتے ۔
عبادات میں قمری مہینے شمار ہوتے ہیں
یہاں یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اگر چہ چاند اور سورج دونوں ہی ماہ وسال کے شمار کا ذریعہ بھی ہیں ، اور شمسی تاریخوں کا شمار بھی جائز ہے مگر عبادات میں صرف قمری مہینوں کا شمار کام دے گا ۔ اللہ کریم نے عبادات کے لئے قمری مہینوں کو مقرر فرمایا ہے ۔
Ayahs 9:38–42آیات 38 تا 42
اسرار و معارف
بات پھر جہاد کی طرف پلٹی کہ بقائے دین کے لئے جہاد سب سے افضل واعلیٰ کام ہے اور ذاتی عبادات کا تحفظ بھی جہاد کا پھل ہے ۔ ورنہ تو کوئی گھر میں بھی سکون سے سجدہ نہ کرسکے ۔
مفسرین کے مطابق ان آیات مبارکہ میں عزوئہ تبوک کا تذکرہ ہے ۔ فتح مکہ کے بعد جب آپ ﷺ مدینہ منورہ پہنچے تو ہرقل روم کی فوجوں کے اجتماع کی خبرملی جو اسلامی ریاست کی سرحد پر جمع ہورہی تھیں جسے عرب کے عیسائی قبائل نے دعوت دی اور یہودیوں نے ابھارا کہ اسلامی ریاست کی اگر خبر نہ لی گئی تو یہ تمہارا گریبان بھی پکڑے گی چناچہ اس نے سال بھر کی پیشگی تنخواہ وغیرہ دے کر ایک لشکر جرار تیار کیا جس کی خبر ان تاجروں نے مدینہ منورہ پہنچائی جو تیل کی تجارت کے سلسلے میں آتے جاتے تھے ۔ چناچہ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ تیاری کی جائے اور بجائے اس کے کہ وہ مدینہ منورہ پر حملہ آورہوں مقابلہ سرحد پر کیا جائے گا۔
یہ موسم گرمی کا تھا قحط سالی بھی تھی اور اگلی فصل پک کر تیار ہورہی تھی گذشتہ آٹھ برس بھی مسلسل حالت جنگ میں گزرے تھے مگر جاں نثاروں نے بلاتا خیرتیاری شروع کردی ۔ اسی غزوہ میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے گھر کا سارامال دیا تھا ۔ جب آپ ﷺ نے پوچھا گھر کیا چھوڑا ہے ؟ تو عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ۔ حضرت عمر ؓ نے آدھا مال اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا خواتین نے زیورتک جمع کرادیئے ساتھ ہی یہ منافقین کے لئے ایک سخت آزمائش ثابت ہوئی چناچہ انھوں نے بھی سخت پر اپیگنڈہ شروع کردیا ۔ مسلمانوں پر تو اس کا کوئی قابل ذکر اثرنہ ہوسکا بلکہ پورے جوش و خروش سے تیاری کی گئی حتی کہ تیس ہزار کا لشکر تیار ہوگیا جواب تک کی اسلامی تاریخ میں سب سے زیادہ تعداد تھی اس کے باوجود کچھ لوگ تو عذر کی ۔ پر شریک نہ ہوسکے چند اعرابی ایمان کی کمزوری کے باعث رہ گئے جن کی تعداد 82 بیاسی کے قریب تھی اور جنہوں نے اجازت چاہی مگر آپ ﷺ نے نہ پیچھے رہنے کی اجازت دی نہ ساتھ چلنے پہ اصرار فرمایا ۔ مخلصین میں سے کل پانچ حضرات شرکت سے رہ گئے حضرت کعب بن مالک حضرت ہلال بن امیہ حضرت مرارہ ابن الربیع حضرت ابو خثیمہ اور حضرت ابوذرغفار ی ؓ ۔ آخر الذکردونوں حضرات تو بعد میں جاکرشامل ہوگئے مگر تین حضرات شامل نہ ہوسکے جن کی توبہ کا تذکرہ کتاب اللہ میں موجود ہے ۔
منافقین کی باتوں سے اگر کچھ افراد میں تھوڑاساتردد بھی ہوا تو محبت رسالت کے طفیل اللہ کریم نے انھیں استقامت بخشی اگر چہ یہ بہت تنگی کا وقت تھا جسے اللہ نے خود ساعۃ العسرۃ فرمایا اور ان کا تذکرہ فرمایا کہ من بعد ما لادیزیغ قلوب فریق منھم کہ اگرچہ چند افراد کے دلوں میں لغزش کا خیال آیا تھا مگر عملا سب ایک ساتھ ہوگئے اور انھوں نے اس خیال کو اہمیت نہ دی ۔
دنیاوی فائدے سے آخرت کا فائدہ زیادہ اہم ہے
تو ارشاد ہوتا ہے کہ جب جہاد کے لئے حکم دیا جائے تو باوجود ساری مشکلات کے پیچھے ہٹنے کا کبھی نہ سوچا کرو کہ جس قدرموانعات سامنے ہیں وہ سب دنیا کے نفع ونقصان کے اعتبار سے ہیں ، جیسے اس جہاد میں کہ مقابلہ پر ایک تربیت یافتہ شاہی لشکر ہے پہلی جنگوں میں اپنے جیسے لوگ تھے ۔ دوسرے قحط سالی ہے تیسرے سخت گرمی اور سفربہت لمبا ہے چوتھے فصلیں تیار ہیں ۔ لیکن اگر جہاد سے گریز کیا جائے تو سوائے دنیا کے اور کیا بچے گا ؟ اور دنیا تو خود فانی ہے اگر بچا بھی لے تو چندے بعد ہاتھ سے چلی جائے گی اور جہاد کرنے سے آخرت کی دولت ہاتھ آئے گی جو دائمی ہے کبھی ضائع نہ ہوگی۔
ترک جہاد کا عذاب
اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگر جہاد ترک کروگے تو اس پاداش میں بہت درد ناک عذاب دیاجائے گا جس کی صورت دنیا میں یہ ہوگی کہ اقتدار تمہارے ہاتھ سے نکل کر اغیار کے ہاتھ میں چلاجائے گا اور تم ان کا کچھ بگاڑنہ سکوگے۔
یہ واضح اور صاف بات اگر آج کا عابدوزاہد سمجھ لے تو امت مسلمہ آج بھی اغیار کے تسلط سے آزاد ہوسکتی ہے جو لوگ جہاد پر نہ جاسکے انھوں نے عبادات میں تو کمی نہ آنے دی تھی مگر نوافل اور بیانات جہاد کا بدل نہیں بن سکتے کہ یہاں قانون ارشاد فرمادیا گیا ہے کہ ایسے لوگ خواہ وہ کتنے نیک ذاکر و شاغل عابدوزا ہد بھی ہوں اگر میدان عمل میں جہاد نہیں کریں گے تو ان پر اغیار مسلط کریئے جائیں گے۔ یہ ارشاد ان عبادت گزاروں کے لئے ایک تازیانہ ہے جو یہ کہتے ہیں کہ مجاہدین کی کامیابی کے لئے دعا بھی نہ کرو کہ یہ سیاسی معاملہ ہے یا حکومت کی تبدیلی میں حصہ نہ لو خواہ کوئی مسلط ہوجائے ۔ ان کی ذاتی عبادات مسلمان امت کے سر پر سائبان نہیں بنا سکتیں لہٰذ اعبادات و اذکار کی لذت بھی تلوار کے سائے میں ہے بشرطیکہ تلوار حق کی حفاظت اور باطل کے مقابلہ کے لئے اٹھائی جائے یہ قانون نافذ کردیا گیا ہے کہ اللہ ہر چیز پہ قادر ہے اس نے جہاد سے جی چرانے والوں کی قسمت میں غلامی لکھ دی ہے اب اختیار مسلمان کے پاس ہے کہ وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے ۔
اگر یہ نکتہ ملک عزیز کے دیندار طبقہ کو سمجھا یاجاسکے تو پاکستان میں ہمیشہ سے نیک لوگوں کی اکثریت رہی ہے لہٰذ ا اقتداراعلیٰ بھی انہی کے قبضہ میں ہو۔ مگر یہاں لوگ نوافل اذکارا اور تبلیغی دوروں سے آگے کچھ سوچنے ہے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے حالانکہ نیک قیادت کے لئے عملا کوشش کرنا بہت بڑاجہاد ہے اور یہ عمل میدان جنگ میں تلوار چلانے سے زیادہ مشکل ہے۔
پھر فرمایا اگر تم رسول اللہ ﷺ کی مددنہ بھی کرو تو ان کی مدد کو اللہ کافی ہے ۔ لہٰذادین اسلام تو ہمیشہ رہے گا اگر تم اس کے غلبہ اور بقا کی کوشش میں شرکت کروگے تو خود اپنے لئے سعادت حاصل کرنے کی کوشش کروگے۔
ثانی اثنین
ورنہ تو وہ گھڑی بھی تھی کہ کفار نے انھیں شہر سے نکلنے پہ مجبور کردیا تھا اللہ کی مدد اس وقت بھی ان کے ساتھ تھی جب دو میں کا دوسرا ان کے ہمرکاب تھا کہ غار ثور میں پہنچے تھے اور جب آپ ﷺ اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے کہ میری فکرنہ کریں کہ اللہ ہم دونوں کے ساتھ ہے ۔
یاد رہے کہ سید نا ابوبکر صدیق ؓ کے کچھ انفرادی فضائل ایسے ہیں جن میں کوئی ان کا شریک نہیں مثلا آپ ؓ کی چار پشت میں صحابیت ہے باپ صحابی خود بیٹے اور بٹیاں اور ان کی اولاد شرف صحابیت سے مشرف ہے اور مسلسل چار پشت صحابیت نصیب ہونا یہ صرف ؓ کا نصیب ہے ۔ اسی طرح ثانی اثنین یعنی دو میں سے ثانی ۔ ظاہر ہے اول تو رسول اللہ ﷺ ہیں اور آپ ﷺ کی فضیلت تمام مخلوق پر مسلم ہے مگر دوسرے یعنی ابوبکر صدیق ؓ میں کیا بات ہے کہ وہ ساری کائنات میں ثانی یعنی دوسرے ٹھہرے شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎
آن اٰمن الناس برمولائے ما آن کلیم وادی سینائے ما
دولت او کشت ملت راچوں ابر ثانی اثنین وغاروبدروقبر (اقبال)
تو یہ فضیلت معیت باری ہے جو اسی آیہ کریمہ میں مذکور
ابو بکر صدیق رضی عنہ اور معیت باری جل جلالہ
ہے کہ تمام جہانوں کو اللہ کی ربوبیت سے وجود نصیب ہوا اور ربوبیت ایک شعبہ ہے اور ایک قسم ہے معیت کی جس طرح خود معیت رحمت باری کا شعبہ ہے ۔ معیت کی بہت سی اقسام ہیں ، جیسے تخلیق اور پھر وجود کی بقاء مگر یہ سب سے عام درجہ ہے اور ساری مخلوق کو نصیب ہے اس سے اعلیٰ درجہ انسان کو نصیب ہے کہ اسے معرفت ذات نصیب ہوتی ہے مگر یہاں فیصلہ اور انتخاب انسان کا ہے اگر وہ خلوص سے یہ فیصلہ کرلے تو معیت باری اس کا ہاتھ تھام لیتی ہے ۔ اس سے بلند درجہ نیک لوگوں کا ہے اور اولیاء اللہ کا مقام ہے ولی کو معیت ذاتی نصیب ہوتی ہے مگر اس مدار انسانی صفات پر ہے جیسے ان اللہ مع الصابرین یعنی وصف صبر معیت ذاتی کے حصول کا سبب بن گیا اب اگر صبر نفی ہوجائے تو معیت بھی نصیب نہ ہوگی ۔
اس سے بلند تو معیت انبیاء (علیہم السلام) کو نصیب ہوتی ہے کہ نبوت ان کا ذاتی وصف بن جاتی ہے جیسے موسیٰ وہارون (علیہم السلام) سے فرمایا انی معکما اسمع واری ۔ میں تمہارے ساتھ ہوں دیکھ اور سن رہا ہوں یہاں اوصاف نبوت دائمی ہیں تو معیت بھی ابدی ہے مگر معیت صفاتی ہے مگر ثور میں جھانکویہاں معیت ذاتی کی تجلیا ت ہیں جن کا تعلق ذات رسول اللہ ﷺ سے ذات ابوبکر صدیق ؓ سے فرمایا ان اللہ معنا اللہ ہم دونوں کے ساتھ ہے نہ ذات باری کی طرف کوئی صفاتی نام ہے بلکہ اسم ذات ہے اور نہ ایں جانب کوئی صفت بیان ہوئی بلکہ ارشاد ہے معنا ہم دونوں کے ساتھ ہے گویا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں یہ شان صرف نبی کریم ﷺ کو نصیب ہے اور غیر انبیاء میں ابوبکر صدیق ؓ کا حصہ ہے ۔ لہٰذ پوری کائنات میں صرف دو مقدس وجود ایسے ہیں جن کی ذاتوں کو اللہ کی ذاتی معیت نصیب ہے۔
لاتحزن
لہٰذا فرمایا میرافکر نہ کریں حزن وہ ڈرجو دوسرے کے متعلق ہے جیسے یعقوب (علیہ السلام) کو غم یوسف (علیہ السلام) نے نڈھال کردیا تو فرمایا وابیضت عینا ہ من الحذن ۔ کہ دکھ سے ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں ۔ ایسے ہی یہاں ارشاد ہے میری فکرنہ کرو کہ غار میں بیٹھے ہوئے مشرکین مکہ کے گھٹنوں سے نیچے جسم نظر آرہے تھے اگر وہ جھک کر جھانکتے تو دیکھ لیتے اور پھر کیا ہوتا اس کا اندازہ وہ کرسکتا ہے جس کی محبت صدیق آساہو ، محبوب محمد رسول اللہ ﷺ جیسا اور دشمن ابو جہل ساہو ۔ جنگل کی تنہائی اور غار کی تنگی میں محبوب دامن میں ہو اور دشمن دروازے پر۔
تو اللہ نے اپنے حبیب ﷺ پر سکینہ نازل فرمائی ۔ ایسی کیفیت نازل فرمادی کہ ذات باری میں اس کے قرب اور مشاہدہ میں دل کو تسکین ملی اور دنیا ومافیہاکا غم قریب نہ رہا ۔ یہی نزول لذات صدیق ؓ کی گود میں تھا اور مدد کو ایسی فوجیں نازل فرمائیں جو انسانی آنکھ کی عام نگا ہوں کی گرفت میں نہیں آتیں ۔ صحرا کے یہ دومسافر ایک بدوی کی راستے کی نشاندھی میں چلتے ہوئے نظرآتے تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے ہمرکاب فرشتوں کے لشکر تھے جنود جمع کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی متعدولشکر اور یوں کافروں کی ساری منصوبہ بندیاں غارت ہوئیں اور ان کے بلند وبانگ دعوے ذلیل ورسوا ہوئے یادرکھو ! ہمیشہ سرفرازی اور سر بلندی اللہ ہی کی بات کو ہے اور اللہ بہت زبردست ہے اور یہ کی اس کی حکمت ہے کہ انسان کو موقع بخشتا ہے۔
لہٰذا جہاد کے لئے نکلو کہ اللہ کی بات تو غالب ہو کر رہے گی ۔ اگر نہ نکلوگے تو تم محروم رہ جاؤ گے اور جو اسباب مہیا ہیں انہی کو لے کر چل دو تھوڑا اسلحہ یا کم راشن ہے یا سواری نہیں ہے نہ سہی جو ہے وہ لے کر چل د و اور جن کو اللہ نے زیادہ دیا ہے وہ زیادہ راشن اسلحہ یا سواری لے کرنکلو اور اللہ کی راہ میں جانیں نچھاور کردو مال بھی لگا دو کہ تمہارے لئے یہی بہتر ہے اگر تم بات کو پاسکوتو تقاضائے ایمان زیادہ ہوتا اور سفرکم ہوتا تو منافق بھی پیچھے نہ رہتے کہ کم تکلیف اٹھا کر زیادہ دنیا کا مال حاصل کرنے میں تو وہ بھی آگے بڑھتے انھیں تو پلے سے کچھ دینے میں موت نظرآتی ہے اور اس لمبی مسافت اور مقابلے میں طاقتور فوج کے خطرے نے ان کے حوصلے پست کردیئے ۔ اب وہ الہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہوسکتا یا ہمارے بس میں ہوتا تو یقینا ہمرکاب ہوتے اور ساتھ رہتے مگر یہ بات ہمارے بس میں نہیں ۔ فرمایا یہ اپنے لئے مزید تباہی کا سامان کر رہے ہیں کہ جہاد میں شریک نہ ہو کر جرم کیا اب قسمیں کھاکر بہانے کرتے ہیں حالا ن کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ سراسرجھوٹے ہیں ۔
Ayahs 9:43–59آیات 43 تا 59
اللہ نے آپ کو معاف تو کردیا مگر آپ ﷺ نے انھیں جہاد سے رہ جانے کی اجازت ہی کیوں دی ؟ اگر آپ ایسانہ کرتے تو بھی یہ جہاد میں شامل ہونے سے تو رہے ہاں سب لوگوں پہ ان کی اصلیت کھل جاتی اور نفاق واضح ہوجاتا ۔
رشتہ قلبی کے انداز
یہاں اگر چہ بات ایک مشورے کے انداز میں ارشاد ہے کہ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو ان کے پاس بہانہ نہ ہوتا مگر نبی اکرم ﷺ کے قلب اطہر کو جو تعلق ذات باری سے تھا وہ اس قدربات بھی برداشت نہ کرپاتا ۔ لہٰذ اسوالیہ انداز میں بات ارشاد فرمانے سے پہلے فرمایا عفا اللہ عنک اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا کوئی نارزضگی یا خفگی کی بات نہیں مگر آپ نے ایسا کیوں کیا یہ معافی گناہ کی نہیں کہ عصمت نبوت کے خلاف ہو بلکہ نیکی کے اس معیار کی ہے جو آپ ﷺ کی شان کے مطابق تھا ہوا پھر بھی درست مگر معیار وہ نہ رہا اور یہی کمال ہوتا ہے ذکر الٰہی اور صحبت شیخ کا کہ قلب کو ذات باری سے ایسا تعلق نصیب ہوجائے کہ اس کی نافرمانی برداشت نہ کرسکے ۔ لہٰذا آپ ﷺ اجازت نہ دیتے تو یہ بہانہ نہ بناسکتے اور ان کا جھوٹ کھل جاتا ۔
مومن ومنافق کے اوصاف میں فرق
کہ مومن تو کبھی جہاد سے جی نہیں چراتا اور جان مال کو اللہ کی راہ میں لگا نے کے لئے ہمہ وقت نہ صرف تیار بلکہ موقع کی تلاش میں رہتا ہے یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ یہاں جس جہاد کا ذکر ہے یہ میدان جنگ میں عملا کفر اور ظلم کے خلاف لڑنے کا نام ہے اور جو لوگ اس سے جی چڑاتے ہیں اور بہانے کرتے ہیں درحقیقت انھیں نہ اللہ پر ایمان نصیب ہے نہ ہی آخرت پہ یقین حاصل ہے ۔ ان دلوں کو وہ رشتہ الفت تو کیا نصیب ہوتا وہ تو ابھی ذات باری میں ہی شک میں مبتلا ہیں اور اسی گڑھے میں عمر عزیز کو برباد کر رہے ہیں جبکہ محبت کرنے کے لئے نہ صرف یقین بلکہ ایک خاص نسبت اور تعلق بھی چاہیئے جس سے یہ لوگ یکسرمحروم ہیں اور اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ اگر یہ جانا بھی چاہتے یا جہاد میں شریک ہونے کے متمنی ہوتے تو تیاری تو کرتے ۔
اپنے اسباب کو بروئے کار لا کر کام نہ کرسکنا عذر ہے نہ یہ کہ کچھ کیا ہی نہ جائے
پھر کوئی عذر پیش آجاتا تو حاضر خدمت ہو کر اجازت چاہتے انھوں نے سرے سے کوئی تیاری ہی نہیں کی جو اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا شامل ہونے کا کوئی جو اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا شامل ہونے کا کوئی ارادہ ہی نہ تھا ۔ یہی حال تمام امور میں ہے کہ انسان اپنے اسباب کو بروئے کار لائے پھر کوئی عذرمانع ہو تو وہ ثواب پائے گا اور جو سرے سے کچھ کرنا ہی نہ چاہے پھر خواہ عذر شرعی بھی درمیان آجائے اسے کوئی اجرنہ ملے گا
اطاعت رسول ﷺ کی توفیق بھی اللہ کی پسند سے ملتی ہے
فرمایا جب انھوں نے آپ سے محبت نہیں کی تو ہم نے بھی ان کا آپ کے ساتھ جہاد پہ نکلنا پسند نہیں کیا کہ اطاعت رسالت کی توفیق تو اللہ کی پسند پر ہے اور یہی اللہ کی رضا مندی کی سند ہے جن دلوں میں آپ ﷺ کی عظمت ہی نہیں بھلا اللہ انھیں آپ کی رفاقت کے لئے پسند فرمائے گا ؟ کبھی نہیں ! لہٰذ اللہ نے ان کا نکلنا ہی پسند نہیں فرمایا اور ان کے دل میں بات ڈال دی کہ جمے رہو اور پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہ جاؤ ۔
شیخین کی عظمت
روضئہ اطہر میں دفن ہو کر ظاہر ا بھی ہمیشہ ہمیشہ کی رفاقت سے مشرف ہونا شیخین کے اس قلبی تعلق کی دلیل ہے جو ساری کائنات میں انھیں رسول اللہ ﷺ سے نصیب تھا یعنی عشق رسول ﷺ کا وہ درجہ کسی تیسر ی ہستی کو نہیں ملا۔
اگر یہ لوگ نکلتے بھی تو مسلمان سپاہ میں بددلی پھیلا نے کی کوشش ہی کرتے اور افواہیں پھیلاتے بلکہ ان میں بعض تو دشمن کے باقاعدہ جاسوس ہیں اور وہ مسلمانوں کی مدد کرنے کی بجائے ان کے حالات اور ارادوں سے دشمن کو با خبر کرنے کی کوشش کرتے یا پھر بعض سادہ لوح مسلمان ان کی بات سن کر پریشان ہوجاتے اور ان کی افواہوں پہ کسی حدتک کان دھرنا شروع کردیتے ۔ تو اللہ نے مخلص اور سادہ مسلمانوں کو بھی خصوصا ، اور لشکر اسلام کو عموما ان کے شر سے محفوظ رکھا اس لئے کہ وہ غلط کارلوگوں کے حال سے خوب واقف ہے ۔
نیکی کو پانے کی شرط
یہاں یہ بات واضح ہوگئی کہ نیکی کو پانے کی بنیادی شرط قلبی تعلق ہے ورنہ بظاہر نیکی کو نکلنے والا انسان بھی دنیا کی محبت یا عہدے کی طلب کا اسیر ہو کر برائی میں مبتلا ہوجاتا ہے خواہ بظاہر نیک دکھائی دیتا رہے جیسا کہ یہ لوگ بظاہر تو مجاہد نظر آتے مگر کام مسلمانوں کے خلاف کرتے اور یہ پہلے بھی ایسا کرچکے ہیں جیسے غزوہ احد میں الگ ہوگئے یا خندق میں مشرکین سے سازباز کی اور یہود کو ان کا ساتھ دینے پہ آمادہ کیا بلکہ انھوں نے تو آپ ﷺ کو زبردست نقصان پہنچا نے کی کوشش کی اور وہ یہ کہ انھوں نے آپ ﷺ کا کام ہی الٹ دینا چاہا یعنی آپ غلبہ اسلام کے لئے جان لڑا رہے تھے اور یہ اسلام کی شکست کے درپے تھے ۔ گویا غلبہ اسلام کے لئے جہاد رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ ٹبانا ہے اس کے خلاف کرنا آپ ﷺ کی مخالفت کرنے کے برابر ہے لیکن اللہ کا حکم نافذہوا اور حق غالب ہوا اگر چہ یہ اس بات پہ بہت ناخوش ہوئے۔
احدکی فتح
یہ آیہ کریمہ اس بات پہ دلالت کرتی ہے کہ احد میں فتح مسلمانوں ہی کو ہوئی اگر چہ مسلمان شہید ہوئے آپ ﷺ کا رخ انورزخمی ہوامگر میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا اہل مکہ بھاگے اور اسلامی لشکر نے تعاقب بھی کیا ۔ پھر و ہیں فروکش رہ کر آپ ﷺ نے شہداء کی تدفین فرمائی پتہ نہیں یہ بڑکس نے ہان کی کہ مسلمانوں کو احد میں شکست ہوئی ۔ یقینا یہ پر اپیگنڈہ بھی منافقین ہی کا ہے جس سے بعض سادہ لوح مسلمان بھی متاثر ہوئے ۔
ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ میراوہاں جانا میرے لئے سخت آزمائش کا سبب بن جائے گا جیسے ایک خاص منافق جدبن قیس نے عرض کیا کہ رومیوں کی عورتیں بڑی خوبصورت ہوتی ہیں اور مجھ میں کمزوری ہے کہ عورتوں کے حسن میں مبتلا ہوجاتا ہوں لہٰذ امجھے رخصت دی جائے کہ وہاں جاکر گناہ نہ کر بیٹھوں تو ارشاد ہوا کہ گناہ تو تم کر ہی بیٹھے ہو کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے بہانے گھڑنا اور آپ کی رفاقت سے گریز اس سے بڑا گناہ کونسا ہوگا ؟
جہنم کا محیط ہونا
لہٰذا تم گناہ میں مبتلا تو ہوگئے مگر یہ یاد رکھو تم پیچھے رہ کر بھی آرام سے نہ رہ سکو گے کہ جہنم کا فروں کو گھیرے ہوئے ہے ۔ آخرت میں تو جہنم ہی میں رہیں گے لیکن کفر کی وجہ سے جہنم سے ایسا رشتہ قائم ہوجاتا ہے کہ اس کا اثر دنیا کی زندگی میں بھی باطنی بیقراری اور دلی پریشانی کی صورت میں سامنے رہتا ہے اور دنیا کی لذتیں بھی بےمزہ لگنے لگتی ہیں ۔ اس کی مشاہدہ اللہ سے بیزار مغربی معاشرے میں کھلی آنکھوں کیا جاسکتا ہے کہ مادی آسائشوں کے ڈھیر لگے ہیں مگر سب ہی لوگ ذہنی دباؤ اور قلبی اور اندرونی خلفشار کے مریض ہیں ، انھیں کسی کل چین نصیب نہیں ازواجی زندگی بدترین صورت سے دوچار ہے اخلاقیات نام کی کوئی شے نہیں ۔ پورامعاشرہ بالکل برہنہ ہوچکا ہے حلال و حرام کی تمیز نصیب نہیں اور اس سب کے ساتھ آج کے مغرب کا سب سے بڑا مرض انجانا خوف ہے ہر آدمی ڈرتا ہے کس سے ؟ یہ اسے معلوم نہیں اور اس سے گلوں خلاصی کے لئے سب سے زیادہ خرچ کرتے ہیں مگر یہ ڈاکٹروں کے بس کی بات نہیں کہ وہ خود اس مرض کے اسیر ہیں داصل یہی جہنم کے محیط ہونے کا اثر ہے جو حیات دنیا میں بھی ظاہر ہے۔
ان کا حال یہ ہے کہ آپ کو فتح نصیب ہو تو انھیں دکھ ہوتا ہے اور اگر مسلمانوں کو شدت پیش آئے اور مقابلے میں تکلیف پہنچے تو یہ اپنی دانائی کا ڈھنڈورا پٹیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں خبر تھی ایسا ہی ہوگا تب ہی تو ہم پہلے سے الگ ہوگئے تھے اور محتاط رہنے کو ترجیح دی ۔
تقدیر ورتبدیر
آپ فرمادیجئے کہ اس میں تمہاری ہوشیاری کی کوئی بات نہیں بلکہ جو بات وقوع پذیر ہوتی ہے وہ اس قادر مطلق کی طرف سے ہوتی ہے جس کی اطاعت میں ہم کمربستہ ہیں کی تعمیل ہے اور نتائج پیدا کرنا یہ اس کا کام اس کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو اپنا فیصلہ نافذ کرسکے لہٰذا بظاہر میں مومن اس کی آرزو کرتا ہے اور یہی مسئلہ تقدیر کی صورت حال ہے جو آپ ﷺ نے واضح فرمادی مومن اس کی آرزو کرتا ہے اور یہی مسئلہ تقدیر کی صورت حال ہے جو آپ ﷺ نے واضح فرمادی کہ بندہ کے ذمہ پورے خلوص کے ساتھ اطاعت کرنا ہے اور پوری محنت سے اپنے وسائل حق کے غلبہ کے لئے استعمال کرنا ہے اب نتیجہ کیا ہوگا یہ اللہ کریم کا کام ہے جو بھی ہوگا وہی منظور ہے ۔ کام نہ کرکے کہنا کہ تو کل کر رہے ہیں محض کم ہمتی کا بہانہ ہے چونکہ وہی ذات ہماری کارساز اور مالک ہے لہٰذا ہمیں اسی پہ پورا بھر وسہ ہے اور یہی مومن کو زیب بھی دیتا ہے یعنی جس کام کے کرنے کا حکم ہے اس کے لئے بھر پورکوشش کرنا اپنے اختیاری وسائل پوری طرح آزمانا یہ ہماری ذمہ داری ہے نتیجہ اس کے دست قدرت میں ہے نیز مومن کی ہر طرح جیت ہے کہ فتح یاشہادت دو میں سے ایک مراد یقینا پالے گا اور شہادت مومن کو فتح سے کم عزیز نہیں لہٰذ اہم تو کسی طرح نقصان میں نہ رہے مگر جہاد سے منہ موڑ نے والو ! تمہارے لئے تو اللہ کا عذاب ہی ہے اور اسی کی امید کی جاسکتی ہے خواہ وہ تمہیں مسلمانوں کے ہاتھوں ذ(رح) لیل کرے یا اپنے پاس سے کوئی اور عذاب نازل کردے بہرحال دونوں صورتیں تمہارے لئے پریشان کن ہیں ۔ لہٰذ اتم بھی انتظار کرو اور ہم تمہارے انجام کے لئے منتظر ہیں۔
نفاق کفر کی بدترین قسم ہے اور اس کے اثرات وہی ہیں اگرچہ منافق بظاہرعبادت بھی کرتا ہے
جو لوگ منافقت کے اسیر ہیں اور جہاد سے جی چراتے ہیں اگر اپنی برائے نام مسلمانی کا بھر م رکھنے کو اللہ کی راہ میں خرچ بھی کریں خواہ بےدلی سے کریں یا دخواہش دپسند سے کریں اللہ کریم ان کی اس کا وش کو قبول نہیں فرمائیں گے کہ اپنی اصل میں تو یہ نافرمان ہیں چند عبادات اگر دکھاوے کے لئے بھی تو کیا حاصل ۔ ان کے صاقات یا مل کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی قبولیت میں رکاوٹ ان کا دلی کھوٹ ہے جن دل ہی مطمن نہیں تو ظاہر عبادات صرف دنیا کے سامنے ان کو مسلمان ظاہر کرتی ہیں اللہ تو جانتے ہیں کہ یہ کافر ہیں نہ ہی اللہ کی عظمت کی مانتے ہیں اور نہ ہی انھیں نبوت و رسالت پہ اعتماد ہے ذرا ان کی نمازیں ہی دیکھ لیں یہ کس قدرسستی اور بےدلی سے ادا کرتے ہیں ۔ ایسے ہی مال بھی خرچ کریں تو بمجبوری کرتے ہیں ورنہ خرچ کرنے کو ان کا دل نہیں چاہتا ۔ بات تو منافقین کی ہورہی ہے مگر مسلمان بھی اپنی عبادات اور صدقات کی کیفیت سے اندازہ کرسکتا ہے کہ کہیں تھوڑی ہی سہی مگر نفاق کی پر چھائیں تو نہیں پڑرہی اور یہ فکر ان لوگوں کو کرنا ہے جو نمازیں ادا کرتے ہیں ۔ اب جن لوگوں نے سرے سے پڑھنا ہی چھوڑدی ہیں ان کا اسلام کیسا ہے یہ انھیں ضرورسوچنا چاہیئے ۔
بغیر ایمان الٰہی کی ایک قسم بھی عذاب الٰہی کی ایک قسم ہے
رہی یہ بات کہ ایسے لوگوں کے پاس دولت دنیا بھی بہت ہے اور اولاد بھی ہے بظاہر تو دنیا میں یہی دونعمتیں ہیں اور جس کسی کو حاصل ہوں وہ اپنے کو بڑاخوش نصیب شمار کرتا ہے تو اے مخاطب ! اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں اس لئے کہ ہر شے اپنے نتیجے کے اعتبار سے نعمت یا عذاب ثابت ہوتی ہے ۔ بظاہر تو یہ دونوں نعمتیں ہیں مگر اپنے نتیجے کے اعتبار سے کفار ومنافقین کے لئے عذاب کی شدید ترین صورت کہ اللہ انھیں ان چیزوں سے ہی عذاب دینا چاہتا ہے کہ حیات دنیا میں یہ عذاب بہت دکھ دینے والا ہے ۔ اولا دہو اور نافرمان ہو ۔ مغرب میں دیکھیں ، جب جوان بچیاں اپنے دوست لڑکوں کو ساتھ گھر لاتی ہیں یا کئی کئی دن لڑکوں کے ساتھ غائب رہتی ہیں تو والدین پہ کیا گزرتی ہے یہی حال ان کے لڑکوں کا ہے کہ والدین کی عزت وناموس کی دھجیاں ان کی نظروں کے سامنے بکھرتی ہیں ۔ رہا مال ! تو جب تک قلبی اطمینا ن نصیب نہ ہو ، مال بھی کھانے کو آتا ہے اس کی صرف ایک مثال کافی ہے بستر اور جدید آسائشی سامان چھوڑ کر ویر انوں میں نپاہ لے رہے ہیں کہ شاید کچھ سکون ملے مگر ناممکن ہر صورت ہی عذاب کی ایک صورت بن رہی ہے یہی حال اندرون ملک بھی بشیتربڑے گھروں کا ہے صرف باہر کا پردہ ہے ورنہ جہاں بھی دین نہیں وہاں مال اور اولاد کا عذاب پوری شدت سے مسلط ہے ۔
پھر اس کے بکھیڑے انھیں فرصت ہی نہیں دیتے تا آنکہ موت آجاتی ہے اور یونہی نفاق کا داغ ماتھے پہ لئے دنیا چھوڑ جاتے ہیں اور یہ بہت بڑا عذاب ہے کہ خاتمہ بھی صحیح نصیب نہ ہو ، ان لوگوں کو مال واولاد کے دوسرے عذابوں کے ساتھ یہ کتنا حسرتناک منظر ہے کہ آخرت کے بارے سوچنے اور توبہ کرنے یا اپنی اصلاح کرنے کی فرصت بھی نہیں ملتی اور ان کے بکھیڑوں میں الجھے الجھے موت آجاتی ہے ۔
عملی جہاد سے جی چرانے والے کیسے لوگ ہیں ؟
اگر چہ قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم تم ہی میں سے ہیں مگر حق یہ ہے کہ یہ تم میں سے یعنی مسلمانوں میں سے نہیں ہیں ۔ یاد رہے بات جہاد میں شامل نہ ہونے سے چلی اور اب تک وہی موضوع جارہا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ میدان عمل میں جہاد سے گھبراتے ہیں ۔ دراصل ان کا ایمان ہی مضبوط نہیں گھر بیٹھ کر وہ عبادت بھی کرتے رہیں تو منظور نہ ہوگی۔
یہاں یہ حدیث پاک پیش کرنا کہ میدان جنگ میں جہاد ، جہاد اصغر ہے اور نمازروزہ ذکر اذکار جہاد اکبر ہے درست نہیں اس لئے کہ نماز روزہ تب جہاداکبر کا درجہ پاتا ہے جب میدان جنگ میں جہاد کی ضرورت نہ رہے اگر کفر ملک پر مسلط ہورہا ہو اور مسلمان اس کا دفاع نہ کریں صرف نماز روزہ پہ خوش رہیں تو یہ جائز نہیں بلکہ غزہ وہ خندق میں نبی رحمت ﷺ کی چار نمازیں فوت ہوئی تھیں مگر آپ نے میدان جنگ کو نہیں چھوڑا تھا یعنی ذاتی عبادات یا اذکار فوت بھی ہوجائیں تو بھی غلبہ اسلام کی کوشش میں سستی دکھانے کا کوئی جواز نہیں او ایسا کرنے والے قسمیں بھی کھائیں کہ ہم مسلمان ہیں تو وہ مسلمان نہین صرف ڈرپوک لوگ ہیں جو دنیا کا۔
آیات 60 تا 66
فائدہ کمانے کے لئے اسلام سے چمٹے ہوئے ہیں یا اعلانیہ کافر ہونے کی جرأت بھی نہیں رکھتے ۔
اگر انھیں کفر کے دامن میں ہی سہی کوئی جائے پناہ مل جائے تو یہ رسے تڑاکر بھاگ جائیں جیسے آج کا مسلمان ، اگر اسے کافر معاشرہ بھی پناہ دے اور چند سکے مل سکیں تو ذرادیر نہیں کرتا خواہ سارادین ہی چھوڑناپڑے بلکہ اکثرنے تو پہلے ہی چھوڑرکھا ہوتا ہے اور منافقت کی نشانیوں میں یہ بھی بہت بڑی نشانی ہے کہ دنیا کا مال ملتا نظر آئے تو دین کو چھوڑ کر بھی لپک پڑے۔
صدقہ اور منافق
پھر ان کا حال یہ ہے کہ جو صدقات آپ ﷺ انھیں عطافرماتے ہیں اس پہ مطمئن نہیں ہوتے بلکہ نارواتنقید کرتے ہیں ۔ صدقہ نافلہ اگر کافر اگر کو بھی دیا جائے تو جائز ہے لیکن غنیمت یازکٰوۃ وغیرہ صرف مومن کو دی جاسکتی ہے منافق بھی بظاہر تو ایمان ہی کا دعوے رکھتے تھے الہٰذ اس میں سے جو ملتا اس پر بھی خوش نہ ہوتے اکثر اظہارناراضگی ہی کرتے اور جس کو زیادہ مل جاتا وہ خوشی کرتا دوسروں کو بھی دکھاتا پھر تا یہ حرکت ان لوگوں میں غصہ بھڑکاتی جنہیں نہیں مل سکا ہوتا لیکن رسول اللہ ﷺ کی تقسیم تو اللہ کے حکم سے تھی حق یہ تھا کہ جو ملتا اس پر ہی خوش ہوتے کہ ما اتھم اللہ ورسولہ فرما کر بتایا گیا کہ آپ ﷺ کی عطا دراصل اللہ کی عطا ہے اور آپ ﷺ اللہ کے حکم کے مطابق تقسیم فرماتے ہیں ۔ سو انھیں کہنا یہ چاہیئے تھا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور اللہ ہی اپنے کرم سے عطا فرمائے گا اور اللہ کا رسول ﷺ اللہ کی عطا کو ہم تک پہنچا نے والا ہے یعنی یہ ہی بہت بڑی نعمت اور عظیم دولت ہے کہ اس کا رسول ﷺ ہمارے ساتھ ہے لہٰذ اسی کی خوشی ہمارا مقصود ہے ۔