9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 9:60–66

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

بیشک صدقات تو محتاجوں اور غریبوں اور جو کارکن صدقات پر مقرر ہیں اور جن کی دلجوئی کرنا مقصود ہے اور غلاموں کے آزاد کرانے اور قرض داروں کے قرض ادا کرنے اور اللہ کی راہ میں (جہاد) میں اور مسافروں کے لئے ہیں یہ اللہ کی طرف سے مقرر ہے او اللہ بڑے علم والے بڑی حکمت والے ہیں

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور ان میں کچھ ایسے ہیں جو نبی ﷺ کو ایذا (دکھ) دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ شخص بس صرف کان ہے (ہر بات سن کر مان لیتے ہیں) فرمادیجئے کہ وہ کان سے وہی بات سنتے ہیں جو تمہارے حق میں بھلی ہے کہ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور مومنوں کی بات کا یقین رکھتے ہیں اور جو تم میں ایمان لائے ان کے لئے رحمت ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے پیغمبر کو دکھ دیتے ہیں ان کے لئے درد ناک سزا ہوگی

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

(مومنو ! ) یہ لوگ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں خوش کردیں اور اگر وہ ایمان رکھتے ہیں تو اللہ اور اس کا رسول زیادہ حق رکھتے ہیں کہ انہیں خوش کیا جائے

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا یہ نہیں جانتے کہ جو شخص اللہ اور اس کے پیغمبر کا مقابلہ کرتا ہے سو اس کے لئے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا یہ بڑی رسوائی ہے

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

منافق اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ان (مسلمانوں) پر کوئی ایسی سورت نازل نہ ہوجائے جو ان کے دل کی باتوں کو ان پر ظاہر کردے فرما دیجئے کہ مذاق اڑاتے رہو جس بات سے تم ڈرتے ہو یقینا اللہ اس کو ظاہر کرکے رہیں گے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیں تو ضرور کہہ دیں گے کہ ہم تو بیشک محض مشغلہ اور خوش طبعی کر رہے تھے۔ فرمادیجئے کہ کیا تم اللہ اور اس کی آیات اور اس کے پیغمبر کے ساتھ مذاق کر رہے تھے

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

اب بہانے نہ تراشو یقینا تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے اگر ہم تم میں سے بعضوں کو چھوڑ دیں گے تو بعضوں کو تو سزا بھی دیں گے اس وجہ سے کہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں

آیات 60 تا 66 اسرار و معارف رب جلیل نے صدقات واجبہ کی تقسیم فرما کر واضح فرمادیا کہ یہ محض اندازہ سے تقسیم نہیں ہوتے بلکہ اللہ کریم نے کچھ خاص درجہ کے مسلمانوں کا حق مقرر فرمادیا ہے ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ زکوۃ کی تقسیم رب جلیل نے کسی نبی کے اختیار میں بھی نہیں دی بلکہ خود فرمائی ہے علاوہ ازیں صدقہ نافلہ مومن دکافرپہ عام ہے اور اس کی تقسیم پہ کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا بلکہ دینے والے کی صوابدید پر ہے حتی کہ صدقہ فطر تک کافر کو بھی دیا جاسکتا ہے کہ اسلام انسانیت کی بہتری کا علمبردار ہے اور عالم اسباب میں مال کی تقسیم ہی انسانیت کی آزمائش کا بہت بڑا ذریعہ ہے کچھ لوگوں کو مال زیادہ عطا فرمادیا بعض کو کم دیا اور دونوں کا امتحان یہ ہے کہ اپنے اپنے مال میں کس طرح حق اطاعت ادا کرتے ہیں نیز ایک معاشرتی مصیبت کہ امیر مسلسل امیر تو ہوتا چلا جائے اور غریب مسلسل غریب تر جو دنیا کے ہر معاشرہ میں پائی جاتی ہے وہ شہنشاہیت ہو یا آمریت کمیونزم ہو یا جمہوریت ہر جگہ یہی حال ہے ۔ بادشاہت خاندانوں میں موروثی طور پر عہدے بانٹتی ہے تو آمریت میں بھی کم وبیش یہی کچھ ہوتا ہے ۔ کمیونزم نے پورے پورے ملکوں کو غلام بناکر چند سربراہوں کو وہ عیش کرائے جن کے بارے بادشاہوں نے بھی خواب تک نہ دیکھے تھے رہی جمہوریت تو اس کا سب سے بڑا مدعی تو امریکہ ہے جہاں بادشاہوں نے بھی خواب تک نہ دیکھے تھے رہی جمہوریت تو اس کا سب سے بڑامدعی تو امریکہ ہے جہاں ایک بار جو شخص سینٹ کا ممبربن جائے وہ نسلوں تک رہتا ہے کہ ہر کام اسی کی وساطت سے ہوتا ہے لہٰذ ا وہ انسانوں کی گردنوں پہ مسلسل سوا رہتا ہے مگر اسلام نے معاشی نظام میں بچت کا چالیسواں حصہ غرباء میں تقسیم کرنا فرض قرار دے دیا پھر قدقہ نافلہ کی ترغیب بہت زیادہ دی گناہوں کے کفار ہ کے طور پر غرباء میں رقم بانٹنے کی ترغیب دی اور ہر طرح سے یہ کوشش کی کہ دولت چند ہاتھوں ہی میں نہ جمع ہوجائے اس میں صدقہ واجبہ یعنی زکٰوۃ پر ایک پابندی تو یہ عائد کی گئی کہ وہ صرف مسلمانوں سے وصول کی جائے اور مسلمانوں ہی کو دی جائے پھر ہر مسلمان بھی نہیں لے سکتا مستحقین کی فہرست جاری فرمادی اور صدقہ نافلہ کو انسانیت پر عام کردیا ۔ مصارف زکٰوۃ زکٰوۃ کے آٹھ مصارف ارشاد فرمائے اول فقیر یعنی ایسا انسان جو بالکل تہی دست ہو۔ نہ گھر ہو نہ املاک دوم مسکین ایسا مسلمان جس کا گھر ہو مال ہو مگر ضروریات خانہ کو کافی نہ ہو اور تنگدستی ہو۔ اور تیسرے عاملین ایسے لوگ جنہیں زکوۃ جمع کرنے پر متعین کیا گیا ہو ان کی تنخواہ مال زکوۃ سے دی جاسکتی ہے اس میں مفسرین کرام نے بہت لمبی بحث فرمائی ہے ۔ دراصل مسئلہ یہ ہے کہ عبادت پر اجرت حرام ہے تو پھر ان کو اس میں سے اجرت کیوں دی گئی ؟ اس کا سادہ ساجواب تو یہ دیا گیا ہے کہ چونکہ ان کا ساراوقت اس کے جمع کرنے میں لگ جاتا ہے اس لئے اجرت کام کی نہیں وقت خرچ کرنے کی ہے اور اسی پر قیاس کرکے امام مسجد یا دین پڑھا نے والے مدرس کی تنخواہ کا جواز مانا گیا ہے ۔ اور دوسراجواب یہ ہے کہ یہ ذمہ داری مسلمان امیر کی ہے کہ زکوۃ جمع کرے یہ رواج کہ ہر آدمی خودد سے اپنی زکوۃ دے اسلامی ریاست نہ ہونے کی وجہ سے ہے ورنہ امیر پہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ زکوۃ جمع کرے خذمن اموالھم صدقۃ ۔ سے یہی مراد ہے تو امیر جن لوگوں کو اس کام پہ لگائے گا وہ خود چونکہ ہر غریب وبیکس کا وکیل ہوتا ہے لہٰذ ا اس کے مقررکردہ اشخاص غربا۔ کے وکیل کی حیثیت سے وصول کرتے ہیں ۔ لہٰذ اغرباء کی طرف سے امیر کی معرفت تنخواہ دیئے جاتے ہیں ۔ صاحب معارف القرآن مفتی محمد شفیع (رح) نے مدارس کے سفیروں کو اس میں سے اجرت لینے کی اجازت نہیں دی کہ یہ کسی امیر کے مقررکردہ نہیں ہوتے الہٰذ ا انھیں دوسری مدات سے اجرت دی جائے ۔ تیسرے مولفہ قلوب ایسے لوگ جو قبول اسلام کی وجہ سے مصائب کا شکار ہو رہے ہوں ان کی حوصلہ افزائی ایک دینی فریضے کرانے میں کہ غلامی بھی ایک بہت بڑی مصیبت ہے اور اگر مال دیکر کسی انسان کو اس سے چھٹکا رامل سکتا ہو تو ضرور دلا یا جائے یا ایسے مقروض جو ادائے قرض کی طاقت نہ رکھتے ہوں ان کی مدد کی جائے یا پھر فی سبیل اللہ یہ لفظ اپنے ظاہری معنوں کے اعتبار سے بہت عام ہے اور بہت بڑی غلطی فہمی یہ ہوتی ہے کہ ہر نیک کام پر خرچ فی سبیل اللہ ہے لیکن اگر ایسا ہوتا تو مصارف مقررنہ ہوتے صرف یہی دو الفاظ کافی تھے ۔ فی سبیل کی زززحدودبھی سنت اور سلف کے عمل سے معین ہیں ۔ سنت میں حاجیوں پر خرچ کرنا خوصوصا ایسے لوگ جن پر حج فرض ہوچکا ہو اور پھر مال کی کمی بیشی آجائے یا جو اثنائے سفر میں ہوں یا پھر جہاد کے مقاصدپہ خرچ کی جائے ۔ رفاعی ادارے خیراتی ہسپتال یا مدارس اگرچہ نیک کام ہیں مگر اس مد میں داخل نہیں ہیں اور یا مسافر کو دی جائے گھر میں خواہ غنی ہو دوران سفر مستحق ہے ۔ اور یہ اللہ کریم کی طرف سے فرض ہے ۔ نیز اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا تر ہے۔ تفصیل دیکھنا چاہیں تو معارف القرآن میں یکجا کردی گئی ہے ۔ یہاں تفصیل کا موقع نہ تھا ۔ چونکہ اس کے مصارف ہی معین ہیں لہٰذا اعتراض فضول ہے ہاں ! یہ منافقت کا پھل ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ پہ بھی اعتراض اور نکتہ چینی کرتے ہیں ۔ ایذائے رسول ﷺ فرمایا منافقین میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نبی کریم ﷺ کو ایذادیتے ہیں ۔ اور وہ اس طرح کہ ان کا خیال ہے نبی ﷺ تو بس سنی سنائی پر یقین کرلیتے ہیں لہٰذا باتیں تو اپنی مرضی کی کرو اور ان کے نام اور احکام کی توہین کرتے رہو۔ اگر شکایت ہوگئی تو کہہ دیں گے ہم نے ایسا نہیں کہا اور آپ ﷺ تو ہر ایک کی بات مان لیتے ہیں آج بھی جو شخص عمدا اور ذاتی منافع کے لئے دین کے حوالہ سے غلط بات کہتا ہے وہ ایذائے رسول ﷺ کا مرتکب ہوتا ہے تو فرمایا آپ کا سن لینا اور تمھا رے منہ پر تر دید نہ کرنا ، یہ آپ ﷺ کا حلم اور شان کریمی ہے ورنہ ایسی بات نہیں کہ آپ ﷺ کو خبر نہ ہو ۔ آپ ﷺ اللہ کی بات پورے یقین سے سنتے ہیں اور جب آپ ﷺ کو وحی کی نعمت حاصل ہے تو دھوکہ دینا آسان نہیں تمہارے جھوٹ کا پول تو وحی کھول دیتی ہے یا پھر مومنین مخلصین کی بات پوری توجہ سے سنتے ہیں اور وہ بھی تمہاری حرکتوں سے آپ ﷺ کو باخبر رکھتے ہیں ، ہاں یہ آپ ﷺ کی کریم النفسی ہے کہ محض تمہیں رسوا کرنے کے لئے تمہاری تردید نہیں فرماتے اور خاموش رہتے ہیں ۔ توجہ ترقی درجات کا سبب ہے اور آپ ﷺ کا متوجہ ہونا کوئی عام بات نہیں بلکہ یہ ایک خاص رحمت ہے اور یہ عام آدمی کو نصیب بھی نہیں ہوسکتی یہ مخلصین ہی کا حصہ ہے کہ آپ ﷺ جب غور سے بات سنتے ہیں تو بات کرنے والے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور آپ ﷺ کا متوجہ ہونا رحمت ہے کہ اس سے ترقی درجات نصیب ہوتی ہے جو منافق کو نصیب نہیں تو گویا آپ کی توجہ بھی نصیب نہیں یہی حال شیخ کی توجہ کا ہے کہ منازل میں بلندی کا سبب ہوتی ہے ۔ بلکہ منافقین کو تو عذاب الٰہی کا انتظار کرنا چاہیئے کہ جو شخص بھی ایذائے رسول ﷺ کا مرتکب ہوتا ہے اس کے لئے بہت درد ناک عذاب ہے ۔ اور اے مسلمانو ! یہ تمہیں بھی دھوکہ دینے کی سعی کرتے ہیں کہ تمہیں راضی رکھنے کو قسمیں کھاتے ہیں ہم نے یہ بات نہیں کی یا فلاں کام ایسی ایسی مجبوری کی وجہ سے نہیں کرسکے مگر حق یہ ہے کہ اللہ کو جو عالم الغیب ہے راضی کرنے کی کوشش کی جائے اور اللہ کے رسول ﷺ کو اطاعت سے راضی کرنا اللہ کو راضی کرنا ہے کہ یہی شان ایمان ہے اور اس کے بغیردعوئے ایمان کا ثابت ہونا مشکل ۔ کیا ابھی انھیں یقین نہیں آیا کہ اللہ سے جنگ نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی رسوا کردے گی۔ اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دوزخ کی آگ مقدر بن جائے گی اور اللہ سے جنگ رسول اللہ ﷺ سے جنگ کرنا اور مقابلہ کرنا ہی تو ہے ۔ جن لوگوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی کس طرح ذلیل ہو کر تباہ ہوئے کیا ان کے لئے یہ درس عبرت نہیں بن سکے ۔ یہ صرف اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ وحی آکر ان کا پول نہ کھول دے اور جو ان کے دلوں میں ہے ظاہرنہ ہوجائے ۔ جیسے آجکل لوگ فتوی خرید لیتے ہیں کبھی پیسہ دے کر اور کبھی بیان بدل کر۔ آیات 67 تا 72 حالانکہ خود بھی جانتے ہیں کہ غلط کہہ رہے ہیں صرف لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے۔ یہی منافقت ہے اور یہ اللہ کی عظمت سے مذاق ہے ۔ فرمادیجئے ! تم یہ حرکتیں کئے جاومگر یادرکھو چھت نہ سکیں گی اللہ ظاہر کردیں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں تو ایک جہان تماشا کرے گا۔ احکام دین کا مذاق اڑانا کفر ہے اگر آپ پوچھیں تو کہہ دیں گے ہم محض مذاق کرتے تھے تو کیا اللہ سے اس کے احکام سے اور اس کے رسول ﷺ سے تم مذاق کرتے ہو۔ یہ تو اتنابڑاجرم ہے کہ صریح کفر ہے اور یہ بہانہ تو نہایت ہی بےوزن ہے کہ اگر تم مسلمان تھے بھی تو اس جرم سے کافر ہوگئے جو خود قبول کر رہے ہو کہ ہم مذاق کر رہے تھے ۔ تو جس طرح ذات باری کا مذاق اڑانایارسول اللہ ﷺ کی ذات بابرکات سے مذاق کفر ہے اسی طرح دین کے احکام سے تمسخر کفر ہے اگرچہ بعض کو تو بہ نصیب ہوجائے ۔ یعنی ایسے لوگ جو اس فعل کے مرتکب نہیں ہوئے محض تمہارے گروہ میں ہیں مگر جو مذاق اڑاتے ہیں انھیں تو توبہ بھی نصیب نہ ہوگی اور یقینا عذاب میں مبتلا ہوں گے کہ یہ جرم ہی ایسا ہے جو توبہ بھی سلب کرادیتا ہے ۔
Ayahs 9:67–72

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک طرح کے ہیں برے کام کرنے کو کہتے ہیں اور نیک کاموں سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ بند کیے رہتے ہیں انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو بھولا بسرا کردیا ۔ بیشک منافق بڑے ہی نافرمان ہیں

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں کا کافروں سے دوزخ کی آگ کا وعدہ فرمایا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہی ان کے لئے کافی ہے اور اللہ نے ان پر لعنت کی ہے اور ان کو دائمی عذاب ہوگا

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

ان لوگوں کی طرح جو تم سے پہلے ہوچکے جو قوت میں تم سے شدید اور مال اور اولاد میں زیادہ تھے تو انہوں نے اپنے (دنیا کے) حصے سے خوب فائدہ اٹھایا سو تم بھی اپنے (دنیا کے) حصے سے فائدہ حاصل کرو جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں نے اپنے حصے سے فائدہ حاصل کیا تھا اور تم (برائی میں) ایسے ہی گھسے جیسے وہ گھسے تھے ان ہی لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع گئے اور یہی لوگ بڑے نقصان میں ہیں

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا ان کو اپنے سے پہلے لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جیسے نوح اور عا د اور ثمود کی قوم کی اور ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کی اور مدین والوں کی اور الٹی ہوئی بستیوں کی۔ ان کے پاس ان کے پیغمبر واضح نشانیاں لے کر آئے سو اللہ تو ایسے نہ تھے کہ ان پر زیادتی کرتے و لیکن وہ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کے (دینی) دوست ہیں نیک کاموں کا حکم کرتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے پیغمبر کی اطاعت کرتے ہیں اللہ ان پر ضرور رحم فرمائیں گے۔ بیشک اللہ غالب حکمت والے ہیں

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

اللہ نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں سے ایسے باغوں کا وعدہ کررکھا ہے جن کے تابع نہریں چلتی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور نفس گھروں کا جو ہمیشہ رہنے والے باغوں میں ہوں گے اور اللہ کی رضامندی سب (نعمتوں) سے بڑی ہے یہی بہت بڑی کامیابی ہے

آیات 67 تا 72 اسرار و معارف انسان مزاجاجل کر رہنے والا ہے اور مدنی الطبع ہے مگر اس میل کا سب سے مضبوط سبب بھی سوچ اور مزاج کی یک رنگی ہے لہٰذا منافق مرد اور منافق عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اس لئے کہ سب برائی پھیلا تے ہیں اور نیکی کے کاموں کو فضول شمار کرکے ان سے روکتے ہیں اور گویا جہاد اور بقائے دین یا غلبہ اسلام کے لئے تو ان لوگوں نے اپنے ہاتھ کس کر باندھ لئے ہیں اور ان کے دل میں ذرہ برابر اللہ کی یاد نہیں ۔ یہ لوگ اللہ کو بھول ہی چکے ہیں جس کے نتیجے میں اللہ کے ہاں بھی ان کا حال یہ ہے جیسے انھیں بالکل بھلادیا گیا ہو۔ اور اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ یہ نافرمان ہیں اور بدکر داری کی ہی سزا پا رہے ہیں بلکہ منافق مردو عورت اور کفار کے ساتھ تو اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ دوزخ کی آگ میں ڈالے جائیں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے اور یہ ان سب کے لئے بہت کافی ہے اس لئے کہ یہ اللہ کے غضب کا مظہر ہے اور رحمت الٰہی سے قطعی محرومی کی دلیل ہے اور پھر اس کا عذاب کفار ومنافقین کے لئے دائمی اور ابدی ہے کبھی ختم نہ ہوگا۔ باہمی رشتوں کا اہم سبب جیسے تمہارے زمانے سے پہلے لوگوں کا رویہ تھا حالانکہ دنیاوی شان ولوگوں سے بہت بڑھ کر تھے پھر وہ ایسی ہی برائیوں میں مبتلا ہوگئے اور جو مہلت ملی تھی اس میں اپنی پسند کے اعمال کرتے رہے تم بھی انہی حرکات میں مبتلاء ہو رہے ہو اور یہی شیطان کا طریقہ ہے کہ اگر کسی کافر نے ایک بہت ہی ناپسندیدہ جملہ کہا یا بہت ہی براکام کیا جس پر غضب الٰہی نے بھڑک کر اسے دنیا وآخرت میں رسوا کردیا تو بعد والوں کے منہ سے وہی جملہ کہلواتا ہے یا ان لوگوں کو بھی ایسے ہی کرتوتوں مبتلا کردیتا ہے ۔ آج کے دور کے اعتراضات سن کر اندازہ ہوسکتا ہے کہ وہی باتیں دہرائی جارہی ہیں جو ابتدائے اسلام میں کفار ومشرکین نے کہی تھیں لہٰذاتم بھی چندے فائدہ اٹھا لو وقت جو مہلت کاملا ہے اس میں خوش ہو کر دیکھ لو پھر وہی نتیجہ بھی بھگتنا پڑے گا کہ ان کے اعمال دنیا میں بھی کوئی فائدہ نہ دے سکے آخرت کا نقصان تو تھا ہی لہٰذا وہ بہت ہی زیادہ نقصان میں رہے کہ دوعالم کی بھلائی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس میں تنبیہ موجود ہے کہ جو بھی شخص کفار کی حرکات اپنا تا ہے دراصل ہے دراصل اس میں کسی حدتک نفاق کے جراثیم ہوتے ہیں لہٰذا ہر مسلمان کو اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیئے ۔ ان لوگوں نے بھی پہلی قوموں کے حالات یقینا سن رکھے ہوں گے جیسے نوح (علیہ السلام) کی قوم یا غاد اور ثمور کی مشہورقومیں یا ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اور ایسے ہی مدین والوں کی معروف بستیاں جو الٹ کر زمین میں دھنسا دی گئی تھیں ۔ ان سب لوگوں نے یہی جرم کیا تھا کہ جب اللہ کے رسول واضح دلائل لے کر ان کے پاس آئے تو اتباع کرنے کی بجائے انکار بھی کیا اور ان کا راستہ روکنا چاہا ورنہ اللہ کریم تو بندوں پہ زیادتی نہیں کرتے یہ ان کی شان کو سزاوار ہی نہیں ہاں لوگوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا اور ایسے اعمال اختیار کئے جن کا انجام تباہی و بربادی تھا ۔ آیات 73 تا 80 مومنین کی ذہنی ہم آہنگی اسی طرح نور ایمان بھی رشتہ استوار کرنے کا بہت بڑاسبب ہے اور مومن مرد اور خواتین ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں اس لئے کہ ان کی سوچ اور کردار مشترک ہے ۔ سب ہی نیک بات کو پھیلا نے کی کوشش کرتے ہیں اور سب ہی برائی کو مٹانے کے لئے یکساں فکر مندہوتے ہیں سب کا کرداریہ ہے کہ نماز قائم کرتے ہیں یعنی عبادات میں پوری کوشش کرتے ہیں اور مال دنیا کی ہوس میں مبتلا نہیں ہوتے بلکہ اسے اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرتے ہیں ۔ زکٰوۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں پوری پوری محنت کرتے ہیں اور نہایت خلوص سے انجام دیتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگ اللہ کی رحمت کو پائیں گے ۔ یعنی اپنی طرف سے بہترین کوشش کرنے کے باوجود اگر کمی رگئی تو اللہ کی رحمت پوری کردے گی کہ اللہ ہر طرح سے قادر اور حکیم ودانا تر ہے ۔ بلکہ مومن مردو خواتین سے آخرت میں ایک بہت ہی خوبصورت حیات کا وعدہ فرمارکھا ہے ۔ نہایت ہی اعلیٰ باغوں میں جن میں ہر آن نہریں رواں گی ۔ ہر یالی وخو بصورتی سدابہار ہوگی اور یہ لوگ بھی کبھی وہاں سے نکالے نہ جائیں گے ۔ بہت ہی عالیشان گھرانھیں عطا ہوں گے جو نہایت اعلیٰ درجے کے باغوں میں ہوں گے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہر آن رب کریم کی رضا مندی حاصل ہوگی حقیقی دولت تو یہی ہے ۔ جیسے اس کی ناراضگی تمام عذابوں سے بڑھ کر ہے کہ سب عذابوں کا اصلی سبب وہی ہے ۔ ایسے ہی اس کی رضامندی بجائے خود سب سے بڑی کامیابی ہے کہ تمام انعامات کا بنیادی سبب یہی ہے کہ گویا باہمی الفت ثمرہ ایمان ہے جو آج دعوائے اسلام کے باوجود عنقا ہے یہ بات ہر مسلمان کے لئے لمحہ فکر یہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔
Ayahs 9:73–80

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ! کافروں اور منافقوں سے لڑیں اور ان پر سختی کریں اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے (تو کچھ) نہیں کہا اور یقینا انہوں نے کفر کی بات کہی تھی اور (ظاہری) اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے تھے اور انہوں نے ایسی بات کا ارادہ کیا تھا جو ان کے ہاتھ نہ لگی (جس پر قدرت نہ پاسکے) اور یہ انہوں نے اس بات کا بدلہ دیا کہ ان کو اللہ اور اس کے پیغمبر نے رزق الٰہی سے مالدار کردیا سو اگر (اس کے بعد بھی) یہ توبہ کریں تو ان کے لئے بہتر ہوگا اور اگر روگردانی کریں تو اللہ ان کو دنیا اور آخرت میں درد ناک سزا دیں گے اور ان کا دنیا میں کوئی دوست ہوگا اور نہ مددگار

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

اور ان (منافقین) میں بعض تو ایسے ہیں کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنے فضل سے (بہت سا مال) عطا فرمادیں تو ہم ضرور خیرات کریں گے اور ضرور نیکوکاروں میں ہوجائیں گے

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

سو جب اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دیا تو اس میں کنجوسی کرنے لگے اور روگردانی کرنے لگے اور وہ رو گردانی کرنے کے عادی ہیں

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

تو اس (اللہ) نے اس روز تک کے لئے جس روز وہ اس (اللہ) کے روبروہہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لئے کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ خلافی کی اور اس لئے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ان کے (دلوں کے) راز اور ان کی سرگوشیاں سب جانتے ہیں اور یہ کہ اللہ پوشیدہ چیزوں کے جاننے والے ہیں

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

یہ ( منافق) ایسے ہیں کہ جو مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے ہیں ان پر طعن کرتے ہیں اور جو صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں جتنی مزدوری کرتے ہیں (لہٰذا صدقہ ہی دیتے ہیں) تو یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں اللہ نے ان کا مذاب اڑایا ہے اور ان کے لئے بہت دکھ دینے والا عذاب ہے

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

آپ ان کے لئے بخشش طلب فرمائیں یا ان کے لئے بخشش طلب نہ فرمائیں اگر آپ ان کے لئے ستر دفعہ بھی بخشش طلب فرمائیں تو بھی اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشیں گے۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے پیغمبر سے کفر کیا اور اللہ ایسے نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں فرمایا کرتے

آیات 73 تا 80 اسرار و معارف جہاد کا حکم ان آیات مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ کو براہ راست کفا ر اور منافقین سے جہاد کا حکم دیا جارہا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان امیریا مسلمان حکومت کبھی بھی فریضہ جہاد سے غافل نہ ہو سکیں کہ جب خود رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے تو اور کون مستثنے ہوسکتا ہے ۔ اسلام نے جنگ کی جگہ جہاد کا حکم دیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جہاں کفار جنگ کریں گے تو مقابلہ میں لڑنا جہاد ہے ۔ جہاں مسلمان کم ہوں اور لڑنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو اس جگہ زبانی اور عملی تبلیغ جہاد ہوگا۔ بعض لوگوں کا یہ خیال کہ اسلام نے تو لڑائی کا حکم دے دیا اب مسلمان کہاں کہاں لڑتے پھریں گے پھر جہاں تعداد میں کم یا گنتی کے ہیں کیسے لڑسکیں گے ؟ تو انھوں نے جہاد کے مفہوم پر توجہ نہیں کی جہاد نیکی کو بھیلانے کی کوشش کا نام ہے اگر سرمیدان مقابلہ کرنا پڑے تو جہاد ہے زبان سے بات کرسکے تو جہاد ہے اور منافق سے تو لڑائی ہو نہیں سکتی کہ وہ ظاہرا تو خود کو مسلمان کہتا ہے اور دکھا نے کے لئے عمل بھی کرتا ہے ۔ لہٰذامنافقین سے جہاد کا مفہوم تو نیکی اور خلوص کی تلقین ہے جس پر کم وبیش سب مفسرین کا اتفاق ہے ۔ اور جہاد میں شدت سے کام لیں کوئی نرمی نہ کریں ۔ ظاہر ہے میدان کار زار کا تو یہ مسلمہ اصول ہے کہ جنگ صرف جنگ ہوتی ہے جو نرمی سے جیتی نہیں جاسکتی ہاں اسلام نے جنگ کے بھی اصول دیئے ہیں اور حدودوقیود مقررفرفرمادی ہیں مگر ان کے اندر رہتے ہوئے کوئی نرمی نہ ہوگی ۔ اسی طرح منافقین سے احکام شریعت پر پوری شدت سے عمل کرایا جائے گا ۔ غلظت جو رافت یعنی نرم دلی کا مقابل ہے اس سے زبان کی تلخی یا قلبی تنگی مراد لینا درست نہیں بلکہ کفار سے جنگ کے اصتونوں کے مطابق پوری پوری سختی ہوگی اور منافقین جو اسلام کے مدعی ہیں ان سے شریعت پر عمل کرانے میں کوئی نرمی نہ ہوگی ۔ امیر کا فریضہ یہاں یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ شریعت پر پوری طرح عمل کرانا اور اس کا اہتمام بھی مسلمان امیر کافریضہ ہے ایسے ہی ہر عالم یا پیرلوگ جس کی بات مانتے ہوں کے ذمہ ہے کہ انھیں شریعت پر عمل کی تلقین پوری شدت سے کرے لیکن اگر کفار اور منافقین نے اپنی اصلاح نہ کی اور اسی حال میں دنیا سے گئے تو ان کا انجام جہنم ہے جو بہت ہی براٹھکانہ ہے ۔ منافقین اگرچہ اپنی برأت کے لئے قسمیں کھاتے ہیں مگر یہ کلمات کفرکہنے سے باز نہیں آتے منافقین کی عادت تھی کبھی ایمانیات پہ اعتراض کرتے تو کبھی اعمال میں نقائص بیان کرے جیسے آجکل احکام شرعی پر تنقید ایک فیشن ہے مگر جب بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچتی یا مسلمان گرفت کرتے تو مکر جاتے اور اللہ کی قسمیں کھاتے ۔ تو فرمایا یہ جھوٹے ہیں بلکہ یہ اپنے کلمات کفر کے باعث کافر ہوچکے ہیں حالا ن کہ قبول اسلام سے اسلام میں داخل ہوئے تھے مگر یہ بدنصیب پھر سے کافر ہوگئے ۔ تو یہ بات ثابت ہوئی کہ محض دعوائے اسلام کوئی حیثیت نہیں رکھتا جب تک قلبی یقین نصیب نہ ہو ایسا انسان لوگوں کے سامنے بیشک مسلمان بنا رہے اللہ کے نزدیک کافر ہی ہے اور یہی جب قلبی بےیقینی ہی منافقت بھی کہلاتی ہے اور زبان پر ایسے جملے لانے کا سبب بھی بنتی ہے ۔ نیز منافق اگرچہ دنیا کی مقصدبراری کے لئے سارا کچھ کرتا ہے مگر انجام کار اپنے اس مقصد میں بھی ناکام ہی رہتا ہے ۔ مفسرین کرام نے اس آیہ کریمہ کے شان نزول میں اس طرح کے خاص واقعات بھی ارشاد فرمائے ہیں مگر آیت حکم کے اعتبار سے تو عام ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے ۔ لہٰذا ارشاد ہو ا کہ دعوائے اسلام سے انھیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے تو سہولتیں بہم پہنچائیں اور مسلمانوں کے برابر حقوق عطافرمائے ! کفران نعمت کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ مگر ہر گروہ کی طرح اس کا علاج بھی توبہ ہے اگر چہ بہت بڑا جرم ہے مگر توبہ کرلیں تو ان کے حق بہت بہتر ہے کہ توبہ ہر جرم کو معاف کر ادیتی ہے اور اگر بازنہ آئے پھر ان کا مقدردرد ناک عذاب ہے یہاں اور آخرت میں بھی ۔ اور روئے زمین پر کوئی متنفس ان کی حمایت اور مددنہ کرسکے گا کہ عذاب الٰہی جب آتا ہے تو انسان از خود تنہا بھی ہوجاتا ہے اور نہتا بھی ۔ ان ہی میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے وعدہ کیا اور دعائیں مانگیں کہ اگر اللہ مجھے غنی کردے تو میں اس کے شکر کے طور پر سب لوگوں کے حقوق بھی ادا کرونگا اور خلق خدا کی بھلائی پہ اپنا مال صرف کروں گا مگر جب مال ہاتھ آیا تو مکرگئے اور ایسے بدلے خرچ تو کیا کرتے اور بھی کنجوسی کرنے لگے اور لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی بجائے غصب کرنے لگ گئے ۔ یہ بھی ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ ہے مگر حکم عام ہے اور آج بھی جو لوگ اللہ کی نعمتیں پاکر اقتدار میں آجاتے ہیں یادولتمند ہوجاتے ہیں تو انھیں چاہیئے کہ اللہ کے بندوں کے حقوق پوری محنت سے ادا کریں مگر لوگ نہ صرف حقوق ادا نہیں کرتے الٹے غصب کرنے لگتے ہیں ۔ بعض گناہ ایسے ہیں جن کی سزا کے طور پر توبہ کی توفیق ہی سلب ہوجاتی ہے یہ اتنا بڑاجرم ہے کہ اس کی پاداش میں توبہ کی توفیق ہی نصیب نہیں ہوتی اور روز حشرتک نفاق کو ان کے دلوں میں دھنسا دیا جاتا ہے اور اسی حال بد میں حساب کے لئے پیش ہوں گے یہ ان کے جھوٹ کی سزا ہے کہ اللہ سے وعدہ کرکے اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں کلمہ طیبہ کا اقرار اور اپنے مسلمان ہونے کا دعوے ہی تو بہت بڑا وعدہ ہے ۔ پھر کردارکفار کا اپنا لینا کہاں کا انصاف ہے اگر اس میں یہ بات بھی شامل ہوجائے کہ ہیں مسلمانوں کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوگیا ہوں تو یہ اتنا بڑا گناہ ہے کہ توبہ کی توفیق بھی سلب ہوجاتی ہے اور یہ فیصلہ اللہ خود کرتے ہیں ۔ کیا انھیں اس بات کی خبر نہیں کہ اللہ چھپی ہوئی بھی اور ظاہر بھی سب ماتیں جانتے ہیں۔ یہ لوگ تو مسلمانوں کا تمسخراڑاتے ہیں ان کا بھی جو دل کھول کر اللہ کی راہ میں صدقہ دیں اور خرچ کریں اور ان کا بھی جو دن بھر کی مزدوری میں جو کماتے ہیں تھوڑا سہی مگر اپنا پیٹ کاٹ کر صدقہ بھی ضروردیتے ہیں۔ کوئی مالدار مسلمان زیادہ کرے تو یہ کہتے ہیں دکھا نے کے لئے دیتا ہے اور تھوڑا دینے والے کو کہتے ہیں بھلا اس ذارسی چیز کی اللہ کو کیا حاجت ؟ مقصد ان کا مذاق اڑانا ہوتا ہے ۔ نیک لوگوں کا مذاق اڑانا بہت بڑا جرم ہے اور یہ اتنا بڑاجرم ہے کہ اس کی پاداش میں یہ خود تقدیر الٰہی کے مذاق کا شکار ہو رہے ہیں یعنی بظاہر تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم بہت فائدے میں ہیں مگر انجام کار سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔ اور یہ آپ ﷺ کے متبعین سے مذاق دراصل توہین رسالت ہے اور اس کی سزا اسقدر یقینی ہے کریں بھی اور بہت زیادہ مرتبہ بھی کریں تو بھی اللہ انھیں معاف نہیں کرے گا کہ انھوں نے اللہ سے اور اس کے رسول ﷺ سے کفر کیا اور ایسے بدکاروں کو اللہ ہدایت بھی نہیں دیتے یہ بھی اس گنا ہ کی سزا کا حصہ ہے ۔ جیسا کہ پہلے گزرچکا کہ توبہ کی توفیق بھی سلب ہوجاتی ہے اور اس پہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے لوگ بھی جو میدان کارزار میں آپ ﷺ کے خلاف لڑے انھیں بھی توبہ نصیب ہوگئی اور وہ بہت چوٹی کے مسلمان جرنیل بھی ثابت ہوئے مثلا حضرت خالدبن دلید ؓ ہی کو دیکھ لیں مگر جن لوگوں نے تمسخر اڑایا اور بدکلامی کرنے کے مرتکب ہوئے وہ کفرہی کی حالت میں موت کے منہ میں چلے گئے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم کا ایند ھن بن گئے۔ ایسے ہی آج جو لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا آپ ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ یا آپ ﷺ کے متبعین کو۔ آیات 81 تا 89 گالیاں دیتے اور مذاق اڑاتے ہیں وہ سب اسی آیہ کریمہ کا مصداق ہیں اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ انھیں توبہ کی توفیق بھی نصیب نہیں ہوتی۔ اور یہ جرم ایسا ہے کہ فرمایا آپ ﷺ اگر شان کریمی کے سبب ان کے لئے دعا بھی کریں تو بھی ان کو معاف نہیں کیا جائے گا ۔ جیسے ابن ابی جو منافقوں کا سردار تھا اس کے مرنے پر آپ ﷺ نے اپنے قمیص مبارک بھی کفن کے لئے عطا فرمایا اور جنازہ کی نماز بھی پڑھا دی کہ اس کا بیٹا مخلص اسلام بھی ہوئے مگر اس کے بعد آپ ﷺ کو منع فرمادیا گیا۔ شیعہ کا جنازہ یاد عائے مغفرت چنانچہ یہ قانون بن گیا کہ کافر کے مرنے پر اس کی نجات کے لئے دعا جائز نہیں یا ایسے منافق جو اپنے مسلمان ہونے کا دعوے کرتے ہیں مگر عملا صحابہ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین اور متقدمین کا مذاق ہی نہیں اڑاتے گالیاں تک دینا اپنے دین کا جزو سمجھتے ہیں ۔ ان کا نہ تو جناز ہ پڑھنا جائز ہے نہ ان کے لئے بعد موت دعا کرنے کی اجازت ہے ۔ آپ ﷺ نے جب ابن ابی کا جناز ہ پڑھا نے کا ارادہ فرمایا تو حضرت عمرؓ نے دامن تھا م کر عرض کیا کہ آپ نہ پڑھائیے مگر آپ ﷺ نے فرمایا اللہ نے مجھے منع نہیں فرمایا یہ فرمایا ہے کہ تم دعا کرونہ کرو ان کی بخشش نہ ہوگی لہٰذا دعا تو کروں گا کہ مجھے اختیار بخشا ہے آگے اس کا اپنا کام ہے ۔ مگر آئندہ اس سے بالکل روک دیا گیا یہ حکم بھی من حمبلہ ان احکام میں سے ہے جو حضرت عمر ؓ کی رائے کے مطابق نازل ہوئے۔
Ayahs 9:81–89

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

(یہ) پیچھے رہ جانے والے اللہ کے پیغمبر کے (جانے کے) بعد اپنے بیٹھ رہنے پر خوش ہوگئے اور انہیں یہ بات بہت ناگوار ہوئی کہ اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کریں اور کہنے لگے کہ گرمی میں نکلو۔ فرمادیجئے کہ دوزخ کی آگے (اس سے کہیں) زیادہ کرم ہے۔ کاش یہ اس بات کو سمجھتے

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

سو تھوڑے دن (دنیا میں) ہنس لیں اور بہت دنوں تک (آخرت میں) روتے رہیں ان کاموں کے بدلے جو کیا کرتے تھے

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

تو اگر اللہ آپ کو ان کے کسی گروہ کی طرف (خیریت سے) واپس لائے تو آپ سے (جہاد پر) نکلنے کی اجازت مانگیں تو آپ فرمادیجئے کہ تم ہرگز کبھی بھی میرے ہمراہ نہ چلو گے اور نہ ہرگز میرے ساتھ ہو کر دشمن سے لڑائی کرو گے۔ یقینا تم پہلی دفعہ بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے پس اب پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

اور ان میں سے کوئی مرجائے تو اس پر (جنازہ کی) نماز کبھی نہ پڑہیے اور (دفن کے لئے) ان کی قبر پر کھڑے نہ ہوں بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے پیغمبر کے ساتھ کفر کیا اور (اسی پر) مرگئے اور وہ نافرمان تھے

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

اور ان کے اموال اور اولاد پر حیران نہ ہوں یقینا اللہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کو ان (چیزوں) کی وجہ سے دنیا میں (بھی) عذاب میں گرفتار رکھیں اور ان کے دم حالت کفر میں ہی نکل جائیں

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے کہ اللہ کے ساتھ ایمان لاؤ اور اس کے پیغمبر کے ساتھ ہو کر جہاد کرو تو ان کے دولت مند (بھی) آپ سے اجازت چاہتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں اجازت دیں کہ ہم یہاں ٹھہرنے والوں کے ساتھ رہ جائیں

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

یہ اس بات پر خوش ہیں کے گھر میں بیٹھ رہنے والی عورتوں کے ساتھ بیٹھ رہیں اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے سو وہ سمجھتے نہیں

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

لیکن پیغمبر اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں (سب) اپنے مالوں اور جانوں سے لڑے اور انہیں کے لئے بھلائیاں ہیں اور یہی لوگ مراد پانے والے ہیں

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے تابع نہریں جاری ہیں یہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے

آیات 81 تا 89 اسرار و معارف نبی کریم ﷺ کی اطاعت سے محرومی بہت بڑی بدنصیبی ہے خواہ نہ کرنے والا یہ سمجھ رہا ہو کہ وہ آرام سے ہے اور خواہ مخواہ کی مصیبت نماز روزہ جہاد سے بچا ہوا ہے اپنے گھر میں اپنی پسند سے وقت بسر کررہا ہے مگر حقیقت میں وہ ایک بہت بڑی مصیبت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جیسے تبوک پہ حاضرنہ ہونے والے آپ ﷺ کی اطاعت سے جی چراکر خوش بیٹھے تھے کہ ہم مزے میں ہیں مال بھی بچا جان کو بھی تکلیف میں نہیں ڈالا بلکہ انھیں جان ومال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا گواراہی نہیں اور گناہ کا اثرہی یہ ہوتا ہے کہ نیکی کے لئے دل میں جگہ نہیں رہتی بلکہ دوسروں سے بھی کہتے ہیں کیوں گرمی میں ہلاک ہوتے ہو مت جاؤ یہ لمبا سفر اور اس غضب کی گرمی یعنی اطاعت رسول ﷺ میں دنیاوی مشکلات کا تذکرہ کرکے دوسروں کو بھی اس سعادت سے روکنا چاہتے ہیں ۔ جیسا کہ آجکل کا امیر طبقہ دیند ار ہونے کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے تو انھیں بتائیے کہ جہنم کی آگ بہت زیادہ گرم اور تباہ کردینے والی ہے اس کی مشکلات بہت ہیبت ناک ہیں ۔ اطاعت رسول ﷺ ترک کرکے تمہیں خوش نہ ہونا چاہیئے کہ دنیا کی مشکلات سے خود کو بچالیابل کہ تم بہت بڑی مصیبت میں خود کو اپنے ہاتھوں ڈال رہے ہو ، اگر تمہیں سمجھنے کی صلاحیت حاصل ہے تو غور کرکے دیکھو۔ لیکن اگر اسی حال پہ خوش ہو تو بہت تھوڑی دیر کے لئے خوشی بھی منالو ، مگر یادرکھو ! اس فانی اور لمحاتی خوشی کے ساتھ ابدی رنج بھی لگا ہوا ہے اور ان اعمال کے نتیجے میں ہمیشہ کے لئے رونا تمہارا مقدربن جائے ۔ جان بوجھ کر اطاعت رسالت کو حقیر سمجھ کر ترک کرنا ایسا شدید گناہ ہے کہ اگر کبھی آپ ﷺ کی ان سے پھر سے ملاقات ہو اور یہ جہاد میں شرکت کا ارادہ بھی ظاہر کریں تو فرمادیجتے اب تم بیٹھے ہی رہو ہ کہ میری ہمرکابی کے شرف سے ہمیشہ کے لئے محروم کردیئے گئے ہو۔ لہٰذا نہ کبھی میرے ساتھ چلنے کی تمنا کرو اور نہ میرا ہاتھ بٹانے کی آرزو تمہیں اب تو فیق جہاد نہ ہوگی ۔ تمہاری یہ باتیں بھی اوپرے دل سے ہیں کہ خلوص جیسی عظیم نعمت سے تو تم پہلے ہی محروم ہوچکے ہو تم نے اتباع کرکے میرا ساتھ دینے کی بجائے پیچھے رہ کر اطاعت نہ کرنے والوں کا ساتھ دیا لہٰذا اب انہی کے ساتھ رہو اور وہی انجام بھگتو جو ان کو نصیب ہو۔ اعاذنا اللہ منھا کاش ! آج کے ترقی پسند غور فرمالیتے ۔ ارکان دین سے مذاق منافقت کی دلیل ہے ایسے شخص کا جنازہ بڑھنا یا قبر کی تکریم جائز نہیں آپ آئند ہ کبھی ان کا جناز ہ نہ پڑھیں اور نہ ہی ان میں سے کسی کی قبر پر کھڑے ہوں ۔ یہ ایک بہت بڑی محرومی اور سزا تھی جو منافقین پر مسلط کی گئی کہ آپ ﷺ کو ان کا چنازہ پڑھنے سے روک دیا گیا آخرت کی شفاعت سے محرومی کا یہ منظر موت ہی پہ واضح کردیا گیا۔ حالا ن کہ یہ لوگ اپنے مسلمان ہونے کے دعویدار تھے اور بظاہر نماز روزہ بھی کرتے تھے اور اس کو دنیوی اعتبار سے نقصان دہ تبا تے تھے۔ آپ ﷺ نے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد کسی منافق پر نماز جنازہ نہیں پڑھی ۔ آپ ﷺ کے بعد چونکہ وحی نازل ہونا بندہوگئی اور یقینا کوئی نہیں جانتا کون منافق ہے ؟ اس لئے علماء کا ارشاد ہے کہ ہر اس آدمی پر نماز پڑھی جائے گی جو اپنے مسلمان ہونے کا دعوے رکھتا ہے ۔ لیکن ان آیات سے یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہے کہ جو شخص نیک لوگوں کا مذاق اڑائے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے روکے اور دین پر عمل کو دنیا کی تر قی میں رکاوٹ جانتا ہو اس پر نہ تو نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے اور نہ اس کی قبر پر کھڑا ہونا ۔ ہاں ! اگر مجبوری ہو جیسے کوئی رشتہ دار مرجائے جسے کوئی سنبھا لنے والا نہ ہو تو محض گڑھے میں پھینکنے کی اجازت ہوگی ۔ قبریہی ہے جس میں جسم دفن ہوتا ہے بعض جدید مققین کے نزدیک قبر سے یہ گڑھا مراد نہیں جہاں جسم دفن ہوتا ہے بلکہ علیین یا سجین میں ہوتی ہے اس آیہ کریمہ ان کے اس وہم کی تردید بھی کردی کہ آپ ﷺ وقت دفن اسی گڑھے پر کھڑے ہوتے تھے لہٰذایہی قبر ہے اور قبر کا عذاب ثواب یا سوال و جواب اسی گڑھے میں واقع ہوتے ہیں ۔ کسی نیک آدمی کا قبر پر کھڑا ہونا بھی میت کے لئے نفع بخش ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ آپ ﷺ کے قبر پر کھڑا ہونے سے میت کو فائدہ ہوتا تھا اور یہ امر اس کے لئے نہایت نفع بخش تھا اس لئے منافقین کو اس سعادت سے محروم کردیا گیا اور آپ ﷺ کو ان کی قبور میں سے کسی پر کھڑا ہونے سے روک دیا گیا ۔ حدیث پاک اور سیرت میں ایسے بہت سے واقعات بیان ہوئے ہیں جن سے یہ امرثابت ہوتا ہے کہ کسی نیک انسان کا قبر پر کھڑا ہونا بھی بہت نفع بخش ہے اور اس آیہ کریمہ سے بھی صاف ثابت ہورہا ہے ۔ اور اے مخاطب ! یہ بات کہ ان کے پاس مال ہے انھیں اولاد نصیب ہے ۔ تجھے ہرگز حیرت میں نہ ڈالے کہ محض کسی شے کا وجودہی مقصد نہیں ہوتا ۔ جیسے کسی سخت پیاسے کو پانی نہ ملے مگر ڈھیر سونا مل جائے تو اس کو کیا خوشی ہوگی کہ پیاس سے تو مرنے کو ہے لہٰذا اس دولت کو پا کر اور دکھی ہوگی کہ کاش ! یہ میرے کام آسکتی ۔ وہی حال ان منافقین کا ہے کہ مال سے مراد تو آرام ہے جو انھیں نصیب ہی نہیں اور ایک بےکلی اور بےچینی انھیں گھیر ہوئے ہے ۔ اولاد سے مراد بھی عزت وناموس اور آرام ہی ہے ۔ سو ان کی اولاد بھی ان کی رسوائی کا سبب بنتی ہے لہٰذایہ دونوں چیزیں جو نعمت ہی تھیں مگر ان کے لئے عذاب ثابت ہوئیں اور اللہ ایسا ہی قادر ہے کہ جب عذاب کرنا چا ہے تو آرام کے اسباب کو نتائج کے اعتبار سے عذاب کا باعث بنادیتا ہے اور ان پر تو یہ عذاب بھی ہے کہ اسی حال میں کفرہی پہ مرتے ہیں اور توبہ بھی نصیب نہیں ہوتی ۔ اس عذاب کی دلیل ان کا یہ حال ہے کہ جب آپ ﷺ کے ہمرکاب جہاد کرنے کا حکم سنتے ہیں تو مختلف بہانے کرنے لگتے ہیں ۔ حالانکہ حیلوں بہانوں سے رخصت کے طالب ہوتے ہیں اور کہتے ہیں ، ہمیں نہ جانے والوں کا ساتھ ٹھیک ہے وہیں رہنے دیں ۔ دین پر عمل اور دین کی دربلندی کے لئے کوشش کرنا آج بھی آپ ﷺ کا ہاتھ بٹانے کے مترادف ہے اور جن لوگوں کو اس کی توفیق نہیں ، انھیں خوش نہ ہونا چاہیئے بلکہ یہ فکر کرنی چاہیئے کہ آخروہ اس سعادت سے کیوں محروم ہیں ؟ اصل مداردل کے حال پر ہے یہ تو خوش ہیں کہ شاید وہ تکلیف سے بچ گئے اور آرام سے بیٹھے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کے دلوں پر مہر کردی گئی ۔ لہٰذا یہ سود و زیاں کی سمجھ ہی کھو بیٹھے ہیں ۔ یہ آیہ کریمہ بتارہی ہے کہ اصل مدار دل کے حال پر ہے اور جب تک دل زندہ اور روشن نہ ہو توفیق عمل نصیب ہوتی ہے ۔ نہ عمل کرنے کا نفع اور نہ کرنے کا نقصان سمجھ میں آتا ہے ۔ ان کے مقابل روشن ترین دل رسول اللہ ﷺ کا ہے اور ان لوگوں کا جن کو آپ ﷺ کی معیت ایمان کے ساتھ نصیب ہے اور اس کی دلیل واضح ہے کہ وہ اپنی جان اپنا مال اللہ کی راہ میں نچھاور کرتے ہیں اور اپنی بہترین کوشش غلبہ اسلام کے لئے کر رہے ہیں ۔ لہٰذا تمام بھلائیاں خواہ وہ دنیا سے متعلق ہو یا آخرت سے ، انہی کا مقدر ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں اور ایسے ہی لوگوں کے لئے جو اپنا جان و مال اور اپنی بہترین کوشش غلبہ اسلام کی راہ میں صرف کرتے ہیں اللہ نے جنت تیار کی ہے جس کے نیچے نہریں رواں ہیں جو سدا شاداب ہے ، اور یہی حقیقی کامیابی ہے کہ ان لوگوں کے مدارج کو پایا جائے اور ان کے نقوش پا پر چل کر حیات بسر ہو۔
Ayahs 9:90–93

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

اور صحرانشینوں سے کچھ لوگ عذر کرتے ہوئے (آپ کے پاس) آئے کہ ان کو بھی اجازت دی جائے اور جنہوں نے اللہ اور اس کے پیغمبر کے ساتھ جھوٹ بولا وہ (گھروں میں) بیٹھ رہے ان میں سے جو (آخر تک) کافر رہیں گے جلد ہی ان کو درد ناک عذاب ہوگا

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

کمزور لوگوں پر کوئی گناہ نہیں اور نہ بیماروں پر اور نہ ان لوگوں پر جن کو خرچ کرنے کو میسر نہیں جب اللہ اور اس کے پیغمبر کے ساتھ خلوص رکھیں۔ نیکوکاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں اور اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں پر (کوئی گناہ) ہے جب وہ آپ کے پاس آئے کہ آپ ان کو کوئی سواری دے دیں آپ نے فرمایا کہ میرے پاس تو کوئی چیز نہیں جس پر میں تم کو سوار کردوں تو وہ اس حال میں واپس گئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اس دکھ میں کہ ان کو خرچ کرنے کے لئے کچھ میسر نہیں

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

بیشک ان لوگوں مواخذہ ہے جو سامان (فراخی) ہونے کے باوجود آپ سے اجازت مانگتے ہیں وہ خانہ نشین عورتوں کے ساتھ بیٹھ رہنے پہ خوش ہیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی سو وہ جانتے ہی نہیں

آیات 90 تا 93 اسرار و معارف کفار ومنافقین میں بھی درجے ہیں جیسے کچھ گنوار اور دیہاتی تو ایسے تھے جو جانا ہرگز نہ چاہتے تھے ، مگر سے متعلق ہوں یا آخرت سے انہی کا مقدر ہیں اور یہی لوگ کا میا ب ہیں ۔ اور ایسے ہی لوگوں کے لئے جو اپنا جان ومال اور اپنی بہترین کوشش غلبہ اسلام کی راہ میں صرف کرتے ہیں ، اللہ نے جنت تیار کی ہے جس کے نیچے نہریں رواں ہیں جو سداشاداب ہے ۔ اور یہی حقیقی کامیابی ہے کہ ان لوگوں کے مدارج کو پایا جائے اور ان کے نقوش پاپر چل کر حیات بسرہو۔ آیات 90 تا 93 دنیا داری کے لئے اجازت حاصل کرنے آگئے مگر کچھ اسقدر شدید تھے کہ گھر ہی بیٹھ رہے اور جھوٹے منہ اجازت لینا بھی گوارانہ کیا کہ باوجود دعوئے اسلام کے ان کے دلوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے کفر بھرا ہوا ہے مگر یہ سب کچھ تو وہ اپنی ہی تباہی کے لئے کر رہے ہیں کہ اس کا نتیجہ درد ناک عذاب ہے ۔ یہاں ان لوگوں کو بھی غور کرنا چاہیئے جو دین کے فرائض کو نہایت بےدروی سے چھوڑے ہوئے ہیں جہاد تو دور کی بات ہے اب تو لوگوں نے نماز تک ترک کردی ہے اور اس کے لئے کوئی جھوٹے منہ بہانہ بنانا بھی ضروری خیال نہیں کرتے حالا ن کہ نماز تو منافق بھی پڑھا کرتے تھے خواہ دکھا نے کو سہی ہاں جہاد کے حکم پہ بہانے کرنے لگے ۔ لیکن اگر کوئی واقعی معذور ہے یا بیماری کے باعث نہیں جاسکتا یا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو اس کے پاس کچھ ہے ہی نہیں توا ی سے لوگوں پر کوئی گرفت نہیں مگر خلوص شرط ہے یہ ضروری ہے کہ وہ دل کی گہرائیوں سے طلب رکھتا ہو کہ کاش وسائل ہوتے یا صحت ہوتی تو آپ ﷺ کی غلامی کا حق ادا کرتا ۔ تودرد دل رکھنے والوں کا ہاتھ تو اللہ کی مغفرت بڑہ کر تھام لیتی ہے اور ایسے ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے ۔ نہ ہی ان لوگوں سے گلہ ہے جو آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے مگر ان کے پاس وسائل نہ تھے اور آپ ﷺ نے بھی بتایا کہ کوئی سواری دستیاب نہیں تو روتے ہوئے واپس جا رہے تھے اور جگر کا خون ان کی آنکھوں سے ٹپک رہا تھا کہ کاش کچھ تو ہاتھ میں ہو جو آج نچھا ور کرتے ۔ ایسے بھی کچھ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے جو تہی دست تھے مگر تبوک جانے کو بےقرار تھے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو کوئی سواری دستیاب نہ تھی ۔ وہ پلٹے تو بہت دکھی تھے ۔ آخر اللہ جل شانہ نے عجیب انتظام فرمایا کہ چھ 6 اونٹ کسی طرف سے آپ ﷺ کی خدمت میں آگئے تو ان لوگوں کے دیئے گئے ۔ تین کا اہتمام حضرت عثمان ؓ نے کردیا اگرچہ پہلے بہت کافی کر بھی چکے تھے مگر پھر کچھ لوگ بچ رہے یہ انہی کا تذکرہ ہے اور یہ لوگ تو اللہ کی رحمت کو پانے والے ہیں بدنصیب تو وہ ہیں جن کے پاس اسباب بھی ہیں ، بیماروغیرہ بھی نہیں ہیں مگر محض جان بچانے کے لئے بہانے کر رہے ہیں اور اجازت لینا چاہتے ہیں ۔ دراصل ان کی منافقت اور برائی کی سزا کے طور پر ان کے دلوں پر مہر کردی گئی ہے لہٰذا وہ آپ ﷺ کی ذات یا آپ ﷺ کی برکات یا اللہ سے تعلق کا لطف یا نیکی کا ثمر کچھ بھی محسوس ہی نہیں کرسکتے دل ہی مردہ ہوگئے توبرکات نبوت ﷺ کی لذت کون چکھے گا ؟ کہ یہ نعمت ایسی ہے جس کی لذتوں سے قلوب سیراب ہوتے ہیں اور یہ محروم القسمت لوگ دل کی موت کے بعد اب ان نعمتوں کو پہچان بھی سکتے ۔
Ayahs 9:94–99

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

جب آپ ان کے پاس واپس جائیں گے تو وہ آپ سے عذر کریں گے۔ فرما دیجئے کہ عذر مت کرو ہم تمہاری بات ہرگز نہ مانیں گے یقینا اللہ نے ہم کو تمہارے سب حالات بتادیئے ہیں۔ اور ابھی اللہ اور اس کا پیغمبر تمہارے اعمال کو دیکھیں گے پھر تم غائب اور حاضر کو جاننے والے کے پاس لوٹائے جاؤ گے (اور) جو تم کرتے رہے ہو سو وہ سب تمہیں بتائے گا

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

جب آپ ان کے پاس واپس جائیں گے تو یہ آپ کے روبرو اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ آپ ان سے درگزر کریں۔ سو آپ ان سے رخ انور پھیر لیں کہ بیشک یہ ناپاک ہیں اور جو کام یہ کرتے رہے ہیں ، ان کے بدلے ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

یہ آپ کے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ آپ ان سے راضی ہوجائیں سو اگر آپ ان سے راضی ہو بھی جائیں تو یقینا اللہ ان نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتے

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

دیہاتی لوگ کفر اور نفاق میں سخت ہیں اور وہ اس قابل ہیں کہ جو احکام اللہ نے اپنے پیغمبر پر نازل فرمائے وہ ان سے واقف ہی نہ ہوں۔ اور اللہ جاننے والے حکمت والے ہیں

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور کچھ دیہاتی ایسے ہیں کہ جو (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اس کو تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے (مسلمانوں کے) حق میں مصیبتوں کا انتظار کرتے ہیں۔ انہیں پر برا وقت پڑے۔ اور اللہ سننے والے جاننے والے ہیں

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور کچھ دیہاتی ایسے ہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ پ ر اور آخرت کے دن پر اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو اللہ کے قرب اور پیغمبر کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ دیکھو ! بلا شبہ یہ ان کے لئے قربت (کا سبب) ہے۔ عنقریب اللہ ان کو اپنی رحمت میں داخل فرمائیں گے۔ بیشک اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

آیات 94 تا 99 اسرار و معارف منافقین کا قاعدہ ہی یہی ہے کہ جب آپ واپس جائیں گے تو معذرت کرنے حاضر ہوجائیں گے اور مختلف بہانے کریں گے حضور ! ہم تو خادم ہیں بس فلاں مجبوری درمیان آگئی اور جب ایمان کمزور ہو یہی حال ہوتا ہے جیسے آج بھی کوئی مصروفیت یا تھوڑی بہت بیماری ہی آجائے تو لوگ سب سے پہلے نماز کو خیر یاد کہتے ہیں یعنی مصر وفیات کا سب سے کمزور حصہ دین ہی ہے۔ مگر لوگوں کے سامنے یہ بات قبول کرنا پسند نہیں کرتے اور حیلے بہانے تراشتے رہتے ہیں تو آپ فرمادیجئے ! کہ ہمیں تو اللہ نے تمہاری سب باتیں بتاوی ہیں ۔ یہ صورت یقنی طور پر تو صرف وحی کے سبب تھی مگر دک کی بات دل کو پہنچ ضرور جاتی ہے ۔ اگر چہ آپ ﷺ کے بعد کسی پر اپنے قیاس سے منافق ہونے کا فتوی نہیں دیا جاسکتا ۔ ہاں ! یہ ضرور ہے کہ ہر شخص کو خود اپنے کردار سے اندازہ کرکے اپنی اصلاح کی فکر ضرور کرنا چاہیئے ۔ تو فرمادیجئے ! قسمیں کھانے کی ضرورت نہیں ۔ تمہارا کردار اللہ جل جلانہ اور اس کے رسول ﷺ کے سامنے ہے جسے تم خود بھی جان رہے ہو اور اسی کے مطابق فیصلے صادر ہوں گے اگر تمہیں توبہ نصیب ہو اور تم اپنی اصلاح کرلوتو کوئی منع نہیں کرتا نہ کروگے تو قسمیں فائدہ نہیں دیں گی کہ اگر دنیا میں زیادہ باتیں بناکر اپنی پردہ پوشی کر بھی لی تو آخرتمھیں اس عظیم ذات کے روبرو کھڑے ہونا ہے جو ظاہر وفائب سب جانتا ہے جو تمہیں تمہاری ایک ایک بات اور ایک ایک عمل یاد دلائے گا جس کا علم اتنا مکمل ہے کہ تم خود کرکے بھول سکتے ہو مگر اس کی نگاہ سے چھپ سکتا ہے نہ اسے بھول سکتا ہے ۔ آپ کی واپسی پہ تو یہ اللہ کی قسمیں بھی کھائیں گے مگر مقصد صرف اپنی پردہ پوشی ہوگا کہ آپ ان سے درگزرفرمائیں اور یہ سر عام رسوائی سے بچ سکیں ۔ آپ بیشک ان سے درگزر فرمائیں اس لئے کہ جب یہ قسمیں اٹھا رہے ہیں تو آپ کی شان سے بعید ہے کہ انکار فرمائیں مگر ان کا بھلا نہ ہوگا کہ یہ نحبس اور ناپاک لوگ ہیں ان کے دلوں میں نجاست بھری ہے لہٰذا ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور یہی ان کے کردار کی پاداش ہے۔ شیخ کے ساتھ خلوص نہ ہو تو بظاہر خوش کرنے سے ترقی نصیب نہیں ہوتی یہی حال شیخ کی برکات کا ہے کہ اگر کسی طالب میں خلوص اور اطاعت مفقودہوتو بظاہر خوش رکھنے کے حیلے کرکے دھوکہ تو دے سکتا ہے مگر اسے ترقی نصیب نہیں ہوتی اگر وقتی طور پر کچھ مراقبات نصیب بھی ہوں تو شیخ سے الگ ہوتے ہی ختم ہوجاتے ہیں اور انجام کار خالی ہاتھ ہی رہتا ہے۔ کہ ظاہری باتیں حیلے اور قسمیں کھاتے ہیں کہ آپ ان سے خوش ہوجائیں ۔ اگر چرب زبانی سے اور قسمیں کھاکھا کر آپ کو راضی بھی کرلیں تو بھی ایسے بدکار لوگوں سے اللہ راضی نہ ہوگا ۔ حالانکہ رضائے رسول ﷺ بہت بڑا انعام ہے اور اسی پر اللہ کی رضا بھی مرتب ہوتی ہے مگر خلوص وہ بنیاد ہے جو اس ساری عمارت کو مضبوطی سے کھڑا کرتا ہے ۔ اگر خلوص نہ ہو تو یہ رسول اللہ ﷺ کو دھوکا دینے والی بات بن جاتی ہے جو ایک بہت بڑا جرم ہے لہٰذا انھیں اللہ کی رضا نصیب نہ ہوگی کہ یہ اس کام کو کر کے بھی بدکار ہی ثابت ہو رہے ہیں ۔ حدود اللہ سے واقف ہونا بھی خوش بختی کی علامت ہے اور یہ حال تو اس طبقے کا ہے جو خود کو شہری یاپڑھالکھا اور مہذب سمجھتا ہے ۔ اس مزاج کے جو لوگ دیہات میں تعلیم سے محروم اور لوگوں سے دور بستے ہیں وہ کفر نفاق میں اور بھی سخت ہیں کہ پہلے طبقے نے اپنا پردہ رکھنے کو ہی سہی کسی حدتک اسلام تو سیکھ رکھا ہے کہ نماز روزہ کیسے کیا جاتا ہے وہ اس سے بھی محروم ہیں اور انھیں اللہ کی حدود یعنی حلال و حرام کی بھی تمیز نہیں وہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب کتنی بڑی نعمت ہے اور اس میں کیا احکام درج ہیں ۔ وہ اسی قابل ہیں کہ علم کی دولت سے محروم ہی رہیں تو یہ بات ثابت ہوئی کہ حدود اللہ کو جاننا بھی اللہ کریم کا بہت بڑا انعام ہے اور ان سے بیخبر ہونا بدبختی علامت ہے ہر مسلمان کو کم ازکم روزمرہ کے معمولات سے باخبر ہونا ضروری ہے ۔ اللہ بہت بڑا جاننے والا ہے ہر متنفس کے ہر حال سے آگاہ ہے بس اس کی اپنی حکمت ہے کہ نظام کائنات چل رہا ہے اور لوگ ونفاق کے باوجود بھی مہلت پا رہے ہیں ۔ یہ دیہاتی تو ایسے بد نصیب ہیں کہ جو زکٰوۃ ادا کرتے ہیں اسے اپنے دل میں تو تاوان ہی سمجھ رکھا ہے اور کبھی خوشی سے نہیں دیتے ۔ ملک میں رہنا ہے لہٰذا مجبوری ہے کہ حکومت کا ٹیکس جان کر ادا کرتے ہیں ورنہ یہ مسلمانوں پہ برے وقت اور زوال کے آنے کا انتظار کرتے ہیں یعنی دل سے چاہتے ہیں کہ اسلام کی حکومت نہ رہے اور یہی قانون آج کے اس مدعی اسلام کا ہے جو نفاذ اسلام کی راہ روکتا ہے ۔ لیکن ان کا اپنا برا وقت تو ہے ہی یعنی اسلام قبول بھی نہیں چھوڑ بھی نہیں سکتے اور خود تو مصیبت میں گرفتار ہیں ۔ آئندہ اللہ کریم سننے اور جاننے والا ہے کہ کیا ہوگا مگر یہ توفی الحال بھگت رہے ہیں ۔ دعائے رسول ﷺ کی عظمت یہ بھی ضروری نہیں کہ دیہات میں رہنے والے سب ہی محروم ہوں بات تو نیت کے کھرے پن خلوص کی ہے اگر صدق دل سے تمنا کی جائے تو جنگل کے ویرانوں میں بھی رہنمائی نصیب ہوسکتی ہے لہٰذا دیہات میں بھی ایسے لوگ یقینا ہیں جو اللہ کی ذات پر اس کی صفات پر اور آخرت پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور اپنا مال اپنی ساری کوشش اللہ کی راہ میں جرمانہ سمجھ کر نہیں بلکہ اللہ کے قریب کی تمنا میں صرف کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ سے دعا کی تمنا رکھتے ہیں ۔ فرمایا اے مخاطب ! اچھی طرح سن لے جو لوگ صدق دل سے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرکے آپ کی خوشی اور دعا کے طالب ہیں اللہ کی قربت انہی کا حصہ ہے ۔ دعا ہو تو بھی اور اگر دعا نہ بھی فرمائی جائے رسول اللہ ﷺ کو کسی کے حال کی خبرنہ بھی ہو تو بھی اسے مقصو د نصیب ہوکررہتا ہے چہ جائیکہ آپ اس کے لئے ہاتھ بھی اٹھائیں ۔ سبحان اللہ ! کتنی واضح بات ہے کہ خلوص نہ ہو پاس بیٹھ کر قسمیں کھاکر راضی کر بھی لوتو اللہ کی رضا نصیب نہ ہوگی الٹے دھوکہ دہی میں پکڑے جاؤ گے ۔ لیکن دوررہ کر بھی خواہ یہ دوری زمانے کی ہو یا مکان کی خلوص دل سے اپنے حبیب ﷺ کی دعا کے طالب ہو تو منزل تمہارا مقدر ہے ۔ ایسے لوگوں سے تو لغزش بھی ہوجائے تو اللہ کی رحمت انھیں تھام لے گی اور اس کی بخشش انھیں اپنی آغوش میں لے لیگی کہ بلاشبہ وہ بخشنے والا بھی ہے اور رحم کرنے والا بھی ۔